اس صفحہ میں سورہ Aal-i-Imraan کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ آل عمران کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
۞ وَسَارِعُوٓا۟ إِلَىٰ مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا ٱلسَّمَٰوَٰتُ وَٱلْأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ
ٱلَّذِينَ يُنفِقُونَ فِى ٱلسَّرَّآءِ وَٱلضَّرَّآءِ وَٱلْكَٰظِمِينَ ٱلْغَيْظَ وَٱلْعَافِينَ عَنِ ٱلنَّاسِ ۗ وَٱللَّهُ يُحِبُّ ٱلْمُحْسِنِينَ
وَٱلَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا۟ فَٰحِشَةً أَوْ ظَلَمُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ ذَكَرُوا۟ ٱللَّهَ فَٱسْتَغْفَرُوا۟ لِذُنُوبِهِمْ وَمَن يَغْفِرُ ٱلذُّنُوبَ إِلَّا ٱللَّهُ وَلَمْ يُصِرُّوا۟ عَلَىٰ مَا فَعَلُوا۟ وَهُمْ يَعْلَمُونَ
أُو۟لَٰٓئِكَ جَزَآؤُهُم مَّغْفِرَةٌ مِّن رَّبِّهِمْ وَجَنَّٰتٌ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَا ۚ وَنِعْمَ أَجْرُ ٱلْعَٰمِلِينَ
قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِكُمْ سُنَنٌ فَسِيرُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ فَٱنظُرُوا۟ كَيْفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلْمُكَذِّبِينَ
هَٰذَا بَيَانٌ لِّلنَّاسِ وَهُدًى وَمَوْعِظَةٌ لِّلْمُتَّقِينَ
وَلَا تَهِنُوا۟ وَلَا تَحْزَنُوا۟ وَأَنتُمُ ٱلْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ
إِن يَمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ ٱلْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُهُۥ ۚ وَتِلْكَ ٱلْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ ٱلنَّاسِ وَلِيَعْلَمَ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَيَتَّخِذَ مِنكُمْ شُهَدَآءَ ۗ وَٱللَّهُ لَا يُحِبُّ ٱلظَّٰلِمِينَ
اس آیت کا انداز تعبیر ایسا ہے کہ اس میں ان عبادات کو بالکل محسوس طور پر بیان کیا گیا ہے ۔ گویا کچھ لوگ ہیں جو کسی انعامی مقابلے میں ایک مقررہ ہدف کی طرف بڑھ رہے ہیں ۔ وَسَارِعُوا إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ……………” دوڑ کر چلو اس راہ پر جو تمہارے رب کی مغفرت کی طرف جاتی ہے ‘ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالأرْضُ……………” دوڑ کر چلو اس جنت کی طرف جس کی وسعت زمین اور آسمانوں جیسی ہے ۔ “ دوڑو ! وہ ہے جنت وہاں ہے مغفرت ! أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ……………” جو ان لوگوں کے لئے تیار کی گئی ہے جو اللہ سے ڈرتے ہیں۔ “
اس کے بعد متقین کی صفات بیان کی جاتی ہیں الَّذِينَ يُنْفِقُونَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ……………” وہ لوگ جو بدحالی اور خوشحالی دونوں میں خرچ کرتے ہیں ۔ “
یعنی وہ انفاق پر ہر وقت ثابت قدمی سے عمل پیرا ہیں ‘ وہ اپنی روش پر رواں دواں ہیں ‘ نہ خوشحالی میں آپے سے باہر ہوتے ہیں اور نہ بدحالی میں نہج سے پیچھے ہٹتے ہیں ۔ خوشحالی انہیں مغرور کرکے غافل نہیں بنادیتی اور بدحالی ان کی گوشمالی کرکے انہیں ان کا نصب العین بھلا نہیں دیتی ۔ انہیں اپنی ذمہ داریوں کا شعور ہر وقت دامن گیر رہتا ہے۔ وہ حرص وہ آذ سے آزاد ہوچکے ہوتے ہیں ۔ وہ ہر وقت اللہ تعالیٰ کی نگرانی کا شعور رکھتے ہیں اور ان کے دل میں اللہ کا خوف ہر وقت زندہ رہتا ہے ۔ نفس انسانی جو اپنے مزاج کے اعتبار سے بخیل ہوتا ہے اور جس کے اندر دولت کی طبعی محبت ہوتی ہے ‘ اسے ہر وقت انفاق فی سبیل اللہ پر قائم رکھنے کے لئے ایک قوی تر جذبے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ یہ جذبہ مال کی محبت سے قوی تر ہونا چاہئے ۔ تاکہ وہ حرص وآز کے فطری بندھن کو توڑ سکے ۔ اور یہ جذبہ صرف اللہ خوف کا جذبہ ہی ہوسکتا ہے ۔ اور یہ کیا ہوتا ہے ؟ یہ ایک نہایت ہی لطیف اور گہرا شعور ہوتا جس کے ساتھ روح اونچی پرواز کرتی ہے ۔ وہ خالص ہوجاتی ہے اور قید وبند سے آزاد ہوجاتی ہے ۔
معرکہ حق و باطل کی اس فضا میں اس صفت کی طرف یہاں اشارہ ایک خاص مناسبت سے کیا گیا ہے ۔ اس معرکے کے دوران بار بار انفاق فی سبیل اللہ کی تاکید کی جاتی ہے ۔ اور اس کے ساتھ ساتھ ان سرمایہ داروں پر بھی تنقید کی جاتی ہے جو انفاق فی سبیل اللہ سے کنی کتراتے ہیں ۔ اس نکتہ کی تفصیلات نصوص کی تفسیر کے دوران بیان ہوں گی۔ معرکہ حق و باطل کی اس فضا میں انفاق کی ایک خاص اہمیت ہے ۔ اور یہاں اس کا بار بار ذکر اس لئے ہوا کہ انفاق فی سبیل اللہ کے سلسلے میں دعوت اسلامی کے بعض کارکنوں کا موقف اس کا متقاضی تھا۔
وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ……………” جو غصے کو پی جاتے ہیں اور دوسروں کے قصور معاف کردیتے ہیں۔ “ غرض اللہ خوفی اس میدان میں بھی اپنے ثرات دکھاتی ہے۔ بعینہ وہی اسباب اور وہی اثرات جو انفاق کے لئے تھے ‘ غصہ ایک ایسا بطعی انفعال ہے جس کے انسانی خون میں گرمی پیدا ہوجاتی ہے ۔ گویا وہ انسان کے عام فطری رد عمل کی ایک قسم ہے بلکہ وہ انسان کی ایک طبعی ضرورت ہے ۔ اور اس فطری ردعمل کو انسان صرف اس روحانی قوت کے ذریعہ ہی قابو میں لاسکتا ہے جو نور تقویٰ کے نتیجے میں انسان کو حاصل ہوتی ہے ۔ یہ قوت غضبی اس وقت رام ہوتی ہے جب انسان روحانی قوت سے مسلح ہو اور اس کی نظریں ذاتی ضروریات اور ذاتی دفاع سے بلند ہوکر ایک اعلیٰ انسانی افق پر مرکوز ہوں۔
ہاں غصہ پی جانا تو پہلا مرحلہ ہے اور یہ کافی نہیں ہے ۔ بلکہ بعض اوقات انسان غصہ تو پی جاتا ہے لیکن اس کے بعد اس کے دل میں کینہ پیدا ہوجاتا ہے اور اس کے دل میں جوش انتقام ولولہ پیدا کرتا ہے ۔ ظاہری غصہ ٹھنڈ اہو کر خفیہ حسد کو جنم لیتا ہے ۔ اور گہری دشمنی پیدا ہوجاتی ہے اور اس صورت میں یہ غیض وغضب جو ظاہری ردعمل ہوتے ہیں ‘ بمقابلہ کینہ اور بغض نسبتاً زیادہ اچھے ہوتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بعد میں فرماتے ہیں کہ غیظ وغضب کے نتیجے میں حس اور بغض پیدا نہ ہونا چاہئے بلکہ اس کے بعد عفو و درگزر سے کام لینا چاہئے اور غلطیوں کو معاف کردینا چاہئے ۔ غصہ کو اگر دل میں چھپالیا جائے تو اس سے دلوں میں پردے پڑجاتے ہیں بلکہ دلوں کے اندرکینہ کی آگ سلگنے لگتی ہے ۔ انسانی ضمیر دخان آلود ہوجاتا ہے ۔ جب انسان دل وجان سے معاف کردیتا ہے اور درگزر کردیتا ہے تو یہ پردہ دلوں سے ہٹ جاتا ہے اور انسان کی روح نور کی فضاؤں میں پرواز کرتی ہے ۔ دل ٹھنڈک محسوس کرتے ہیں اور انسانی ضمیر کو امن و سکون نصیب ہوتا ہے ۔
وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ……………” ایسے نیک لوگ اللہ کو بہت پسند ہیں ۔ “ کیسے نیک لوگ ‘ وہ جو بدحالی اور خوشحالی میں اپنی دولت اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ‘ وہ نیک ہیں ۔ جو لوگ غصہ پی جانے کے بعد لوگوں کو معف کردیتے اور درگزر کرتے ہیں وہ نیک لوگ ہیں ۔ ایسے لوگوں کو اللہ محبوب رکھتے ہیں ۔ ایسے لوگوں کے لئے لفظ محبت کا استعمال نہایت ہی خوبصورت ‘ دل لگتا اور ضوپاش ہے ۔ اور اس شریفانہ اور منور ماحول کے ساتھ خوب ہم آہنگ ہے ۔
نیکی اور نیکوکاروں کے ساتھ اس اعلان محبت سے ‘ اہل ایمان کے دلوں میں نیکی سے سرچشمے پھوٹتے ہیں ‘ اور یہ سوتے مومن سے مومن تک منتقل ہوتے چلے جاتے ہیں اور ان دلوں میں نیکی کے لئے جوش و خروش پیدا ہوجاتا ہے ۔ غرض یہ صرف پرتاثیر ادا ہی نہیں ہے بلکہ یہ زور دار انداز تعبیر اپنے پیچھے ایک عظیم حقیقت بھی رکھتی ہے ۔
وہ جماعت جسے اللہ محبوب رکھتا ہے اور وہ اللہ کو محبوب رکھتی ہے جس کے اندر عفو و درگزر عام ہے۔ جس کے اندر کینہ اور حسد نہیں ہے ۔ یہ ایک ایسی جماعت ہے جو دوسرے سے پیوستہ اور وابستہ ہے۔ اس کے افراد بھائی بھائی ہیں ۔ یہ قوی اور متین جماعت ہے ۔ اس لئے وہ اپنی اندرونی زندگی میں بھی متحد اور یکجا ہے اور میدان کارزار میں بھی بنیان مرصوص ہے ۔ اس لئے عفو و درگزر کا یہ مضمون بعنوان کارزار سے بھی ہم آہنگ ہوجاتا ہے۔
اسی مناسبت سے اہل ایمان کی ایک دوسری صفت کو بھی لیا جاتا ہے۔
وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللَّهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِهِمْ وَمَنْ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلا اللَّهُ وَلَمْ يُصِرُّوا عَلَى مَا فَعَلُوا وَهُمْ يَعْلَمُونَ
” جن کا حال یہ ہے کہ اگر کوئی فحش کام ان سے سرزد ہوجاتا ہے یا گناہ کا ارتکاب کرکے وہ اپنے اوپر ظلم کر بیٹھتے ہیں تو معاً اللہ انہیں یاد آجاتا ہے اور اس سے وہ اپنے قصوروں کی معافی چاہتے ہیں …………کیونکہ اللہ کے سوا اور کون ہے جو گناہ معاف کرسکتا ہو………اور دیدہ و دانستہ اپنے کئے پر اصرار نہیں کرتے ۔ “
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی شریعت کس قدر کشادہ دل ہے ‘ اللہ لوگوں کو صرف اس وقت کشادہ دلی اور باہم برداشت کی دعوت دیتا ہے جب وہ خود ان کے ساتھ نہایت ہی فیاضی کا سلوک کرتا ہے اور اس کی انہیں اطلاع بھی دے دیتا ہے ‘ تاکہ وہ اپنے اندر فیاضی کا ذوق پیدا کریں اور نور خدا سے شمع روشن کریں اور اونچے اخلاق سیکھیں ۔ متقین اہل ایمان میں سے بلند مرتبت لوگ ہوتے ہیں ۔ لیکن دین اسلام کی بےمثال فیاضی ہے یہ دین ان لوگوں کو بھی متقین شمار کرتا ہے ” جن کا حال یہ ہے کہ اگر ان سے کوئی فحش کام سرزد ہوجاتا ہے یا گناہ کا ارتکاب کرکے وہ اپنے اوپر ظلم کربیٹھتے ہیں تو معاً انہیں اللہ یاد آجاتا ہے اور اس سے وہ اپنے قصوروں کی معافی چاہتے ہیں ۔ “ اور گناہوں سے ” فحش “ کام اسلامی نقطہ نظر سے بدترین گناہ اور بڑے گناہوں میں سے ہے لیکن یہ اس دین کی کشادہ دلی اور فیاضی ہے کہ وہ فحاشی جیسے گھناؤنے گناہ کے ارتکاب کرنے والے کو بھی راندہ درگاہ نہیں بناتا ۔ اور اس پر رحمت کے دروازے بند نہیں کئے جاتے ۔ نہ یہ دین ایسے لوگوں کو دوسرے درجے کے مسلمان قرار دیتا ہے ‘ بلکہ ان کو بھی متقین کے اعلیٰ مرتبے پر فائز کرتا ہے ۔ ہاں اس مرتبے پر فائز کرنے کے لئے صرف ایک شرط ان پر عائد کی جاتی ہے اور اس شرط سے بھی اس دین کا مزاج اور اس کا رجحان اچھی طرح معلوم ہوتا ہے ۔ وہ شرط یہ ہے کہ ارتکاب معصیت کے بعد معاً وہ اللہ کو یاد کرلیں اور اپنے گناہوں کی مغفرت مانگ لیں اور یہ کہ وہ اس گاہ پر اصرار نہ کریں حالانکہ وہ جانتے ہوں کہ وہ جو چھ کررہے ہیں وہ ایک معصیت ہے ۔ اور یہ کہ وہ معصیت میں بےشرمی اور بےباکی کے ساتھ غرق نہ ہوجائیں بالفاظ دیگر وہ اللہ کی بندگی کے دائرے کے اندر رہیں اور آخر کار اس کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہوں ۔ یوں وہ اللہ کی پناہ میں رہیں ۔ وہ اس کے عفو و درگزر اور فضل وکرم کے دائرے کے اندر ہی رہیں ۔
دین اسلام کو معلوم تھا کہ انسان کمزوریوں کا پتلا ہے ‘ بعض اوقات ان بشری کمزوریوں کی وجہ اس سے فحاشی کا ارتکاب بھی ہوجاتا ہے ۔ بعض اوقات گوشت و پوست کے جسمانی میلانات جوش میں آتے ہیں اور وہ حیوانی تقاضوں کے تحت جسمانی خواہشات اور میلانات کی سطح تک اتر آتا ہے اور اس سے بھی آگے بڑھ کر وہ جسمانی میلانات ‘ خواہشات اور رجحانات کی گرمی اور دباؤ میں اللہ جل شانہ کے احکامات کی خلاف ورزی پر بھی مجبور ہوجاتا ہے ۔ دین اسلام انسان کی اس فطری کمزوری کو مدنظر رکھتا ہے ‘ اس لئے اس کے ساتھ سخت رویہ اختیار نہیں کرتا ۔ اور جب انسان ان خطاؤں کا ارتکاب کرکے اپنے اوپر ظلم کا ارتکاب کرے تو یہ دین اسے فوراً ہی رحمت خداوندی سے مار نہیں بھگاتا ‘ خصوصاً جبکہ وہ فحاشی کا ارتکاب کرے یا کسی گناہ کبیرہ میں پڑجائے ۔ اس کے دل میں شمع ایمان روشن ہے تو وہ اس کی دستگیری کے لئے کافی ہے ۔ اگر اس کے دل میں ایمان کے سوتے خشک نہیں ہوئے اور اس کا رشتہ تعلق باللہ بالکل کٹ نہیں گیا تو اس کے دل میں یہ احساس زندہ رہتا ہے کہ وہ انسان ہے غلطی کا پتلا ہے اور اس کا رب غفور ورحیم ہے ۔ اس لئے یہ انسان ضعیف اور خطاکار پرامید رہتا ہے اور بخیر و عافیت رہتا ہے اور اس دنیا میں اس کا سفر بند نہیں ہوتا۔ وہ ایک مضبوط رسی تھامے ہوئے ہوتا ہے اور اس کا سرا اس کے ہاتھ سے چھوٹ نہیں جاتا ۔ اس کی انسانی کمزوریاں اسے چاہے کس قدر گرائیں ‘ جب تک شمع ایمان اس کے دل میں روشن ہے ‘ وہ منزل مقصود پالے گا ۔ جب تک وہ اس مضبوط رسی کو تھامے ہوئے ہے وہ راہ راست پر آہی جائے گا ۔ جب تک وہ اللہ کو یاد رکھتا ہے اور اس کے دل میں خوف اللہ پایا جاتا ہے ‘ جب تک وہ اپنے گناہوں کی معافی مانگتا ہے اور اللہ کی بندگی کا اقرار کرتا ہے اور اس کی نافرمانی اکڑ کر نہیں کرتا تو وہ راہ راست پر آسکتا ہے۔
یہ دین اس مخلوق کے لئے توبہ کا دروازہ بند نہیں کرتا اگرچہ یہ ضعیف مخلوق وقتی طور پر گمراہی کے گڑھے میں کیوں نہ گرجائے ۔ یہ دین اس خطاؤں کے پتلے انسان کو کسی غیر آباد صحراء میں بےیارومددگار نہیں چھوڑتا ۔ وہ اسے اپنے انجام کے بارے میں مایوس وپریشان بھی نہیں چھوڑتا ۔ اسے ہر وقت مغفرت کی امید دلائی جاتی ہے ۔ اس کی راہنمائی کی جاتی ہے ۔ اس کے کانپتے ہاتھوں کو ہاتھ میں لیا جاتا ہے ۔ اس کے ڈگمگاتے قدم مستحکم اور ثابت ہوجاتے ہیں ۔ اسے شمع امید عطا کی جاتی جس میں وہ اپنی راہ پالیتا ہے اور یوں وہ محفوظ اور ماموں جائے قرار تک پہنچ جاتا ہے ۔ اور پر امن سرحد میں داخل ہوجاتا ہے۔
اس دین کا مطالبہ انسان سے صرف ایک ہے ۔ وہ یہ کہ اس کے قلب سے ایمان کے سوتے خشک نہ ہوگئے ہوں۔ اس کی روحانی دنیا تاریک نہ ہوگئی ہو اور اس نے اپنے خالق حقیقی کو بھلانہ دیا ہو ۔ وہ اللہ کو یاد کررہا ہو اور اس کی روح میں وہ راہنما مینار نور موجود ہو اور اس کے دل میں اس کے ضمیر کی آواز حدی خواں ہو اور اس کی زمین میں ایمان کا نم باقی ہو تو امید کی جاسکتی ہے کہ اس کے دل میں شمع ایمان دوبارہ روشن ہو ‘ امید کی جاسکتی ہے کہ وہ دوبارہ امن و سکون کے خطیرہ میں لوٹ آئے اور امید کی جاسکتی ہے کہ اس کے کشت زار دل میں دوبارہ ایمان کی تخم ریزی ہوسکے۔
ایک واضح مثال آپ کو بھی درپیش ہوگی ۔ تمہارا خطاکار بچہ اگر یہ یقین رکھتا ہو کہ جس غلطی کا ارتکاب اس سے ہوچکا ہے اس پر اب گھر میں ڈنڈے کے سوا اور کچھ نہیں ہے تو وہ پیچھے نہیں دیکھے گا اور بھاگتا ہی رہے گا اور مزید بےراہ روی اختیار کرے گا ۔ اور کبھی گھر کو واپس نہ آئے گا ۔ لیکن اگر ڈنڈے کے ساتھ ساتھ گھر میں اس کے سر پر ہاتھ پھیرنے والاپر شفقت ہاتھ بھی ہو جو معذرت پر اس کی اس کمزوری سے صرف نظر کرتاہو اور اسے تھپکی دیتا ہو اور جب وہ معافی مانگے تو اس کی معافی قبول ہوتی ہو تو اس صورت میں اس بات کا امکان ہے کہ وہ واپس گھرآجائے۔
اسلام اس ضعیف اور خطاکار انسان کے ساتھ ایسا ہی رویہ اختیار کرتا ہے ۔ خالق کو معلوم ہے کہ انسان کی شخصیت میں اگر ایک طرف ضعف اور کمزوری ہے تو دوسری جانب اس میں کچھ صلاحیت بھی ہے۔ ایک جانب اگر اس پر مادیت کا بوجھ لدا ہوا ہے تو دوسری جانب کے اس کے اندر روحانیت کی سبک رفتاری بھی ہے ۔ ایک طرف اس کی ذات میں اگر نفوس حیوانی کے میلانات ہیں تو دوسری جانب اس کے اندر ربانی رجحانات بھی ودیعت کئے گئے ہیں ۔ اس جب بھی وہ حیوانی گندگیوں میں مبتلا ہوکر نیچے گرتا ہے تو دست قدرت اس کی دستگیری کرتا ہے اور اسے اوپر کی جانب اٹھاتا ہے اور پھسلنے پر اس کو تھپکی دے کر دوبارہ اسے کھڑا کرتا ہے کہ وہ راہ راست پر رواں ہو ‘ بشرطیکہ اس کے دل میں اللہ کی یاد ہو اور وہ اپنے خالق کو بالکل بھول نہ چکا ہو ۔ اور وہ جان بوجھ کر غلطی پر نہ اڑجائے ۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ ” جو شخص استغفار کرے تو یہ سمجھا جائے گا کہ وہ غلطی پر مصر نہیں ہے اگرچہ وہ دن میں ستر مرتبہ ایسا کرے۔ (روایت ابوداؤد ‘ ترمذی اور بزار ۔ اس نے اپنی سند میں عثمان ابن واقد کی روایت سے نقل کیا ہے ۔ اگرچہ اس کی سند میں ایک نامعلوم صحابی ہیں لیکن ابن کثیر نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور کہا ہے ” حدیث حسن “ )
ہاں توبہ کو دروازہ کھلا رکھ کر اسلام بہرحال بےراہ روی میں لوگوں کو آزاد نہیں چھوڑتا ۔ اور نہ غلط کار اور گمراہیوں کے گڑھے میں گرنے والوں کو قابل تعریف سمجھتا ہے ۔ اور نہ اس گندگی کو حسن سے تعبیر کرتا ہے ‘ جس طرح نام نہاد ” واقعیت پسندی “ کے پیروکار کرتے ہیں ‘ ہاں اسلام صرف لغزش اور انسان کی فطری کمزوریوں کو تسلیم کرتا ہے تاکہ انسان کے اندر مایوسی پیدا نہ ہو اور شمع امید روشن رہے ۔ اس طرح اسلام شرم وحیاء کے انفعالات کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور انسانی کوتاہیوں پر اللہ کی جانب سے مغفرت ہوتی ہے ۔ اس لئے کہ اللہ کے سوا اور کن ہے جو مغفرت کرسکے ۔ اسلام گناہ کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا البتہ اگر کوئی شرمندہ ہوتا ہے تو اس کی حوصلہ افزائی کرتا ہے ۔ وہ استغفار کے لئے آمادہ تو کرتا ہے لیکن وہ گناہوں کے ارتکاب میں لاپرواہی کی اجازت بھی نہیں دیتا ۔ نہ مسلسل خطاکاری کرنے اور اسے شعار بنانے کی اجازت دیتا ہے ‘ اس لئے کہ جو لوگ ارتکاب جرم کو اہمیت ہی نہیں دیتے اور مسلسل گناہ پر گناہ کئے جارہے ہیں تو وہ حدود سے نکل گئے ہیں ۔ اس کے سامنے دیواریں حائل ہوگئی ہیں۔
یوں اسلام ‘ اس انسانیت کو پکارتا ہے کہ وہ بلند افق کو نصب العین بنائے ‘ لیکن اس دعوت کی پکار کے ساتھ اس پر رحمت اور شفقت کے لئے بھی ہر وقت تیار رہتا ہے ۔ اس لئے کہ اسلام کو یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ انسان کی طاقت حدود کیا ہیں ۔ اس لئے اسلام ‘ انسان کے لئے ‘ امید کا دروازہ ہمیشہ کھلا رکھتا ہے ۔ اور انسان کی طاقت جہاں تک ساتھ دیتی ہے وہ اسے آگے بڑھاتا ہے۔ (تفصیلات کے لئے دیکھئے میری کتاب ” اسلام اور عالمی سلامتی “ کی فصل ” ضمیر کی سلامتی “ )
ارتکاب معصیت سے استغفار کرکے وہ محض منفی کام نہیں کررہے ‘ اور نہ وہ خوشحالی اور بدحالی میں انفاق کرکے محض منفی کام کررہے ہیں یا غصہ پی کر اور لوگوں سے عفو و درگزر کرکے وہ محض منفی کام کررہے ہیں ‘ بلکہ وہ مثبت کام بھی کرتے ہیں اور نیک عمل کرنے والے ہیں ‘ اس لئے ان کے لئے ان کے رب کی طرف سے مغفرت ہے اور وہ ایسے باغات میں رہیں گے جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی اور مغفرت کے بعد ان کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے محبت کا اعزاز بھی حاصل ہوگا ۔ یہاں ان کے نفس کی گہرائیوں میں بھی عمل ہے اور ظاہری زندگی میں بھی عمل ہے ۔ دونوں عمل ہیں ‘ دونوں میں حرکت ہے اور دونوں میں ترقی ہے ۔
یہ تمام صفات جن کا یہاں ذکر ہورہا ہے اور سیاق کلام میں آگے جس معرکہ کارزار کا ذکر ہونے والا ہے ‘ ان دونوں کے درمیان ایک خاص مناسبت ہے ۔ جس طرح سودی معیشت یا باہمی تعاون کے اسلامی نظام معیشت کا تعلق میدان جہاد کے معرکے سے تھا اور اسلامی جماعت کے شب وروز اس سے متاثر ہوئے تھے ‘ اسی طرح ان نفسیاتی خصوصیات اور اجتماعی اوصاف کے اثرات بھی جماعت مسلمہ پر پڑتے تھے ۔ ہم نے اس موضوع پر بات کا آغاز کرتے وقت اس طرف اشارہ کیا ہے ۔ مثلاً کنجوسی پر فتح یاب ہونا ‘ غصے پر قابوپانا ‘ ارتکاب معصیت کے مقابلے میں ضبط کرنا ‘ اللہ کی طرف رجوع کرنا ‘ اس کی جانب مغفرت کا طلب گار ہونا اور اس کی رضامندی کو نصب العین بنالینا ایسی فتوحات ہیں جو معرکہ کارزار میں دشمن پر فتح حاصل کرنے کے لئے اشد ضروری ہیں ۔ یہ لوگ دشمنان اسلام اس لئے تو تھے کیونکہ وہ بخل کے نمائندے تھے ۔ وہ اپنی خواہشات نفس کے پیروکار تھے ‘ وہ خطاکار اور بےحیا تھے اور وہ اسلام کے دشمن اس لئے تو تھے کہ وہ بخل کے نمائندے تھے ۔ وہ اپنی خواہشات نفس کے پیروکار تھے ‘ وہ خطاکار اور بےحیاء تھے اور وہ اسلام کے دشمن اس لئے تھے کہ وہ اپنی ذات ‘ اپنی خواہشات اور اپنے نظام زندگی میں اللہ تعالیٰ کے احکام ‘ اس کی شریعت اور اس کے پسندیدہ نظام زندگی کے تابع نہ تھے ۔ یہی تو ان کے ساتھ عداوت کی وجہ تھی اور یہی تو میدان کشمکش تھا ۔ اور اسی وجہ سے ان کے خلاف جہاد شروع کیا گیا تھا ۔ ان اسباب کے علاوہ مسلمانوں کی معرکہ آرائی اور عمل جہاد کے کوئی اسباب نہ تھے اور نہ اب ہیں ۔ ایک مسلم کی عداوت بھی اللہ کے لئے ہے ‘ اس کی معرکہ آرائی بھی فی سبیل اللہ ہے ‘ اس کا جہاد بھی اللہ کے لئے ہے ‘ اس کی درج بالا تمام ہدایات اور ان کے بعد آنے والے معرکہ کارزار کے بیان کے درمیان مکمل مناسبت ہے ۔ نیز ان باتوں کا ان حالات سے بھی تعلق تھا جن میں یہ معرکہ درپیش پوا۔ مثلاً یہ کہ رسول اللہ ﷺ کی حکم عدولی ‘ مال غنیمت جمع کرنے کا لالچ ‘ اور اس کی وجہ سے رسول ﷺ کی واضح ہدایات کو نظر انداز کرنا ۔ عبداللہ ابن ابی اور اس کے ساتھیوں کی جانب سے محض انا کی خاطر لشکر اسلام سے علیحدہ ہوجانا ۔ اور جیسا کہ سیاق کلام میں یہ بات واضح ہوگی کہ بعض لوگوں نے بڑی بری غلطیوں کا ارتکاب کیا ۔ نیز ان لوگوں کے نظریات اور تصورات میں بھی جھول اس لئے تھی کہ وہ ہر امر کو اللہ اور رسول کی طرف نہ لوٹاتے تھے اور بعض لوگ مایوس ہوکر یہ سوالات کرتے تھے کہ آیا ہماری اس تحریک کا کوئی نتیجہ برآمد ہوگا ؟ اور بعض لوگوں کے یہ خیالات تھے کہ ہماری کوئی حیثیت ہوتی تو یہاں یوں نہ مارے جاتے وغیرہ۔
قرآن کریم ان تمام حالات سے بحث کرتا ہے ۔ ایک ایک کرکے ‘ بعض امور کی وضاحت کی جاتی ہے ‘ بعض امور کے بارے میں وہ آخری فیصلے کردیتا ہے ۔ ان حقائق کے بارے میں وہ نفس انسانی کو چٹکی بھر کر جگاتا ہے ‘ اس کے اندر جوش پیدا کرتا ہے اور ان حقائق کو حیات انسانی کے اندر زندہ کردیتا ہے ۔ اور یہ کام قرآن کریم اپنے منفرد طریقہ کار کے مطابق کرتا ہے جس کے نمونے سیاق کلام کے اندر جابجا ملیں گے ۔
غرض اس مضمون کے تیسرے فقرے مین اب معرکہ کے واقعات کا آغاز ہوجاتا ہے لیکن ان واقعات کے اندر بھی اسلامی تصور حیات کے بنیادی حقائق ذہن نشین کرائے گئے ہیں ۔ رہے واقعات معرکہ تو انہیں محض محور اور مدار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور یہ حقائق ان واقعات کے اردگرد گھومتے ہیں ۔
اس پیراگراف کے آغاز میں اس طرف اشارہ کیا جاتا ہے کہ اس کائنات میں اللہ تعالیٰ کی ایک سنت جاریہ ہے اور اس سنت کا تعلق ان اقوام سے ہے جو حق کو جھٹلاتی ہیں ۔ اس اصول اور سنت کے ذکر کا مقصد یہ بات مسلمانوں کے گوش گزار کرنا ہے کہ اس معرکے میں انہیں جو شکست ہوگی یہ ایک عارضی بات ہے اور یہ اس کائنات میں اللہ کی مستقل سنت نہیں ہے ۔ یہ عارضی شکست بھی ایک خاص حکمت پر مبنی تھی ۔ اس کے بعد انہیں تلقین کی جاتی ہے کہ وہ صبر سے کام لیں اور اس سرزمین پر بذریعہ قوت ایمان اپنے آپ کو سربلند رکھیں ۔ اگر اس معرکے میں انہیں شکست ہوئی ہے اور انہوں نے زخم کھائے ہیں تو اس سے قبل ایسے معرکے میں اہل شرک نے زخم کھائے تھے اور انہیں شکست ہوئی تھی لیکن اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی گہری حکمت کارفرماتھی اور جس کا بیان ان کے سامنے کھل کر آجائے گا ۔ یہ حکمت کہ اہل اسلام کی صفوں میں سے کھوٹے لوگوں کو علیحدہ کردیاجائے ‘ ان کے دلوں سے کھوٹ نکال دیا جائے ‘ اور شہداء اسلام کی ایک ایسی مثال تیار کی جائے جو اپنے نظریہ حیات کے لئے جان دینے والے ہوں اور مسلمان موت کا مقابلہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کریں ۔ جبکہ اس سے قبل وہ راہ حق میں تمنائے موت اپنے دلوں میں لئے ہوئے تھے تاکہ وہ اپنے وعدوں اور اپنی آرزوؤں کو حقیقت کے ترازو میں تول کر دیکھیں ۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ کفر کو صفحہ ہستی سے مٹادیں اور کافروں کے مقابلے میں ایک منظم اسلامی جماعت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کریں ۔ چناچہ ان پورے واقعات کی تہہ میں ایک بلند حکمت پوشیدہ تھی چاہے یہ واقعات فتح ہوں یا حادثات شکست ہوں ۔ فرماتے ہیں
اس غزوہ میں مسلمانوں نے سخت چوٹ کھائی تھی ۔ وہ ایک بڑی تعداد میں قتل ہوئے تھے اور انہیں ہزیمت اٹھانی پڑی تھی ۔ انہیں عظیم روحانی اور جسمانی اذیت سے دوچار ہونا پڑا تھا۔ ان میں سے ستر صحابی قتل ہوگئے تھے ‘ رسول کریم ﷺ کے دانت مبارک شہید ہوگئے تھے ۔ آپ ﷺ کا چہرہ مبارک زخمی ہوا تھا۔ آپ ﷺ کو مشرکین نے گھیرے میں لے کر تنگ کیا اور صحابہ کرام کو گہرے زخم آئے ۔ اس شکت کی وجہ سے اہل اسلام سخت جھنجھوڑ دیئے گئے ۔ اس لئے یہ ایک ایسا صدمہ تھا جو جنگ بدر کی عجیب فتح کے بعد شاید بالکل ہی غیر متوقع تھا ۔ یہاں تک کہ جب اہل اسلام کو یہ حادثہ پیش آیا تو وہ بےساختہ کہنے لگے ‘ یہ سب کچھ کیسے ہوا ‘ ہم مسلمان ہوتے ہوئے بھی ایسے حالات سے دوچار ہوسکتے ہیں ؟
یہاں قرآن کریم اہل ایمان کو اس کرہ ارض پر سنت الٰہی کی طرف متوجہ کرتا ہے ‘ یہاں انہیں وہ اصول یاد دلایا جاتا ہے جس کے مطابق اس کرہ ارض پر واقعات کے فیصلے ہوتے ہیں ۔ یہ واقعات بالکل انوکھے نہیں ہیں ۔ اس لئے کہ اس کائنات میں انسانی زندگی کے لئے جو نوامیس فطرت وضع کئے گئے ہیں ‘ یہاں زندگی ان کے مطابق چل رہی ہے ۔ ان سے تخلف بالکل ممکن نہیں ہے اور نہ یہاں واقعات اتفاقیہ بغیر کسی اصول کے وقوع پذیر ہوتے ہیں جبکہ یہ واقعات نوامیس فطرت کے عین مطابق ہوتے ہیں ‘ اگر وہ ان نوامیس فطرت کو پڑھیں ‘ ان کے مغز تک پہنچیں تو انہیں بآسانی وہ حکمت معلوم ہوجائے گی جو ان واقعات کی پش پر تھی ‘ اور پھر انہیں وہ مقاصد بھی واشگاف طور پر نظر آجائیں جو ان واقعات کی تہہ میں پنہاں تھے ۔ انہیں اچھی طرح معلوم ہوجائے کہ وہ نظام کس قدر پختہ ہے جس کے مطابق یہ واقعات واحداث ظہور پذیر ہوتے ہیں ۔ نیز ان کی تہہ میں جو حکمت پوشیدہ تھی اس کے بارے میں بھی انہیں اچھی طرح اطمینان ہوجائے اور وہ اچھی طرح معلوم کرلیں کہ گزشتہ واقعات کی روشنی میں ان کے لئے آئندہ لائن کیا ہے ۔ اب اس روشنی کے آجانے کے بعد وہ یہ توقع کریں گے کہ چونکہ وہ مسلمان ہیں اس لئے ایسے واقعات ہونے چاہئیں اور انہیں فتح اور نصرت حاصل ہونی چاہئے ۔ بغیر اس کے کہ وہ فتح ونصرت کا سامان مہیا کریں ‘ جن میں سے پہلا سبب اللہ اور رسول اللہ اطاعت امر ہے۔
وہ سنت الٰہیہ کیا ہے جس کی طرف سیاق کلام انہیں یہاں متوجہ کررہا ہے ؟ وہ ان لوگوں کا انجام ہے جنہوں نے پوری انسانی تاریخ میں حق کو جھٹلایا ہے اور یہ کہ دنیا میں لوگوں کے شب وروز بدلتے رہتے ہیں ۔ لوگوں کو آزمائش میں ڈالا جاتا ہے تاکہ ان کی روح خالص ہوجائے ۔ ان کی قوت صبر کو آزمایا جاتا ہے اور یہ آزمائش مصائب وشدائد کے پہاڑ توڑ کر کی جاتی ہے ۔ اور یہ کہ جو لوگ صبر سے کام لیتے ہیں آخر کار انہیں فتح نصیب ہوتی ہے اور جو لوگ کفر کا رویہ اختیار کرتے ہیں انہیں صفحہ ہستی سے مٹادیا جاتا ہے۔
ان آیات میں سنن الٰہیہ کے بیان کے درمیان اہل ایمان کو آمادہ کیا جاتا ہے کہ وہ مشکلات کو انگیز کریں ‘ شدید حالات میں ایک دوسرے کے غم خوار ہوں اور انہیں جو چوٹ لگی ہے ‘ اس پر صبر کریں ‘ اس لئے کہ چوٹ صرف انہیں نہیں آئی بلکہ ان کے دشمنوں نے بھی تو ان کے برابر چوٹ کھائی حالانکہ مومنین ان کے مقابلے میں بلند نظریات کے حاملین ہیں ۔ وہ ان کے مقابلے میں راہ ہدایت پر ہیں اور ان کے مقابلے میں ان کا نظام زندگی زیادہ بہتر ہے ۔ اور ان مشکلات کے بعد انجام کار فتح و کامرانی بھی اہل ایمان کو نصیب ہونے والی ہے ۔
قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ سُنَنٌ فَسِيرُوا فِي الأرْضِ فَانْظُروا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ (137) هَذَا بَيَانٌ لِلنَّاسِ وَهُدًى وَمَوْعِظَةٌ لِلْمُتَّقِينَ
” تم سے پہلے بہت سے دور گزرچکے ہیں ‘ زمین میں چل پھر کر دیکھ لو ان لوگوں کا کیا انجام ہوا جنہوں نے (اللہ کے احکام وہدایات کو) جھٹلایا ۔ یہ لوگوں کے لئے ایک صاف اور صریح تنبیہ ہے اور جو اللہ سے ڈرتے ہوں ان کے لئے ہدایت ونصیحت ۔ “
قرآن کریم کا انداز یہ ہے کہ وہ انسانیت کے حاضر کو اس کے ماضی کے ساتھ جو ڑدیتا ہے ۔ اور ماضی اور حال کو باہم مربوط کرکے انسانیت کے مستقبل کی فکر کرتا ہے ۔ عرب معاشرہ جو قرآن کے مخاطبین اول تھے ان کی زندگی کوئی زندگی نہ تھی ‘ ان کے ہاں کوئی علمی ذخیرہ نہ تھا اور اسلام سے پہلے ان کے ہاں سرمایہ تجربات بھی نہ تھا ‘ تاکہ تحریک اسلامی ان کے سامنے خود ان کے ذخیرہ ثقافت سے کوئی مکمل نمونہ پیش کرتا ۔ یہ تو اسلام اور اسلام کی کتاب قرآن تھی جس نے یہ کارنامہ انجام دیا کہ اس نے عربوں کو حیات جدید سے نوازا اور ان کو ایک ایسی امت کی شکل دی جس نے ادوار مابعد میں پوری دنیا کی قیادت کی۔
وہ قبائلی نظام معاشرت جس کے سایہ میں عرب زندگی گزار رہے تھے ‘ یہ اس قابل ہی نہ تھا کہ وہ ان کی فکر کو اس قدر وسعت دے دیتا کہ وہ جزیرۃ العرب کی زندگی کے واقعات کو کوئی منطقی ربط دے دیتے چہ جائیکہ وہ اس کرہ ارض میں بسنے والی تمام انسانیت اور اس کے حادثات اور واقعات کے درمیان کوئی منطقی ربط تلاش کرتے اور پورے کرہ ارض کے اندر پیش آنے والے عالمی واقعات اور اس کائنات کے اندر جاری نوامیس فطرت اور ان کے مطابق جاری وساری انسانی زندگی کے اندر ربط کی تلاش کی بارے میں تو وہ سوچ بھی نہ سکتے تھے ۔
قرآن کریم اور اسلام کے نتیجے میں عربوں کے اندر جو علمی اور ثقافتی انقلاب رونماہوا ‘ وہ ایک دور رس انقلاب ہے ‘ یہ کوئی ایسا انقلاب نہ تھا کہ کسی معاشرے کے اندر تدریج کے ساتھ علمی وثقافتی ترقی کی وجہ سے رونما ہوا اور نہ یہ انقلاب اس وقت کی رائج اور چلتی ہوئی زندگی کے تقاضوں اور صلاحیتوں کی وجہ سے رونما ہوا۔ بلکہ یہ عظیم انقلاب خالص اسلامی نظریہ حیات کے نتیجے میں رونماہوا بلکہ یہ عقیدہ ان کے لئے یہ تحفہ لایا اور انہیں اٹھاکر اسلامی نظریہ حیات کی سطح تک بلند کیا ۔ اور یہ سب کام اس نظریہ حیات نے صرف ربع صدی کے قلیل عرصہ میں سر انجام دیا ۔ جبکہ عربوں کے ارد گرد بسنے والی ترقی یافتہ اور علمی سرمایہ سے مسلح اقوام افکار عالیہ کے اس مقام تک صدیوں بعد پہنچ پائیں اور کئی نسلیں گزرنے کے بعد ان اقوام نے معلوم کیا کہ اس کائنات کے اندر کچھ قوانین فطرت عمل پیرا ہیں اور یہ ان اٹل فطری نوامیس کے تحت چل رہی ہیں اور جب انہوں نے ان قوانین قدرت اور نوامیس فطرت کو دریافت کرلیا تو وہ اس حقیقت تک پھر بھی نہ پہنچ سکیں کہ ان اٹل قوانین کے اوپر ایک اٹل مشیئت الٰہیہ بھی ہے جو ان قوانین فطرت کی قید میں بھی مقید نہیں ہے ۔ اور قوانین فطرت کے بعد بھی تمام امور کے اندر اختیار اللہ تعالیٰ کا ہے ۔ رہی امت مسلمہ تو اس نے روز اول سے اس کا یقین حاصل کرلیا تھا۔ اس کائنات کے بارے میں اس کا تصور بہت وسیع ہوگیا تھا ‘ اور اس کے احساس اور شعور کے اندر قوانین فطرت کے ثبات اور اللہ تعالیٰ کی بےقید مشیئت کے اندر ایک توازن قائم ہوچکا تھا۔ اس لئے کہ اس کی عملی زندگی تو قوانین فطرت کے اٹل اصولوں پر قائم تھی لیکن اس کے بعد اسے یہ اطمینان بھی حاصل تھا کہ اللہ تعالیٰ کی مشیئت بھی بےقید ہے ۔ فرماتے ہیں :
قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ سُنَنٌ……………” تم سے پہلے بہت سے دور گزرچکے ہیں “ ان ادوار میں نوامیس فطرت کے مطابق رونما ہوئے تو تمہارے دور میں بھی ایسے ہی واقعات رونما ہوں گے ۔ اس لئے امم سابقہ کی تاریخ میں تمہاری جیسی صورتحال سے جو اقوام دوچار تھیں اور ان کے سامنے کچھ حقائق رونما ہوئے تو ایسے ہی نتائج کے لئے تم بھی تیار رہو۔
فَسِيرُوا فِي الأرْضِ……………” زمین میں چل پھر کر دیکھ لو “ اس لئے کہ پورا کرہ ارض ایک سیارہ ہے ۔ اس سیارے میں انسانی زندگی رواں دواں ہے ۔ یہ کرہ ارض اور اس کے اندر زندگی ایک کھلی کتاب ہے ۔ بصارت اور بصیرت دونوں کے لئے اس میں وافر سامان موجود ہے ۔
فَانْظُروا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ……………” دیکھ لو کہ ان لوگوں کا انجام کیا ہوا جنہوں نے (اللہ کے احکام وہدایات کو ) جھٹلایا۔ “ یہ وہ انجام ہے جس کے آثار کرہ ارض پر ہر جگہ قابل مشاہد ہیں ۔ نیز ان کی تاریخ میں وہ آثار و شواہد بعد میں آنے والوں نے ریکارڈ کردیئے ہیں ۔ قرآن کریم نے ان سنن وسیر کی ایک بڑی تعداد کو اپنے ہاں نقل کیا ہے ۔ قرآن کریم کے متعدد مقامات پر ان کا ذکر ہے اور بعض جگہ واقعات کی جگہ ‘ ان کا زمانہ اور واقعات کے اشخاص اور کرداروں کا تذکرہ بھی تفصیل سے کیا ہے ۔ جبکہ بعض جگہ صرف اشارات سے کام لیا گیا ہے اور زمان ومکان کو چھوڑ دیا گیا ہے ۔ مجملاً واقعہ بیان ہوا ہے ۔ یہاں بھی ایک اجمالی اشارہ اس انسانی تاریخ کی طرف کیا گیا ہے اور اس سے ایک مجمل اور مجرد طریقہ نکالا گیا ہے ‘ وہ یہ کہ پیغمبروں کی تکذیب کرنے والوں کا جو انجام کل ہوا تھا وہی انجام آج بھی مکذبین کے لئے طے ہوچکا ہے ۔ اور کل بھی ان کا یہی انجام ہوگا۔ یہ اشارہ اس لئے کیا گیا ہے کہ جماعت مسلمہ اپنے انجام کے بارے میں مطمئن اور یکسو ہوجائے اور اس بات سے متنبہ ہوجائے کہ وہ مکذبین کے ساتھ پھسل نہ جائے ۔ اس لئے کہ اس وقت ایسے حالات موجود تھے جن میں اس یقین دہانی کی ضرورت تھی نیز ایسے حالات بھی موجود تھے جن میں مسلمانوں کو لغزش کھانے سے ہوشیار کرنے کی ضرورت تھی ۔ اور آنے والے سیاق کلام میں ان حالات پر تفصیلاً روشنی ڈالی گئی ہے ۔
نوامیس فطرت اور انسانی تاریخ میں سنت الٰہیہ کی طرف اشارے کے بعد لوگوں کو پکارا جاتا ہے کہ وہ انسانی تاریخ کے ان واقعات سے عبرت اور نصیحت حاصل کریں۔ هَذَا بَيَانٌ لِلنَّاسِ وَهُدًى وَمَوْعِظَةٌ لِلْمُتَّقِينَ……………” یہ لوگوں کے لئے ایک صرف اور صریح تنبیہ ہے ۔ جو اللہ سے ڈرتے ہوں ان کے لئے ہدایت ونصیحت ۔ “ یہ تمام انسانوں کے لئے ایک بیان ہے ۔ پس یہ انسانیت کے لئے ایک دور رس انقلاب ہے اور لوگ اس انقلاب سے اس وقت تک بہرہ ور نہیں ہوسکتے جب تک یہ بیان نہ کیا جائے ۔ لیکن اس بیان سے استفادہ صرف ایک خاص گروہ ہی کرسکے گا ۔ صرف یہی لوگ عبرت ونصیحت حاصل کرسکیں گے ۔ صرف یہی لوگ بہرہ ور ہوں گے ۔ کون المتقون۔
یہ حقیقت ہے کہ کلمہ ہدایت کو شرف قبولیت صرف دل مومن بخشتا ہے ۔ اس لئے کہ وہ ہدایت کے لئے ہر وقت کھلا ہوتا ہے اور فصیح وبلیغ نصیحت سے استفادہ متقی دل ہی کرسکتا ہے ‘ جو ہر وقت کلمہ ہدایت سنتے ہی دھڑکنے لگتا ہے اور قبولیت کے لئے آمادہ ہوتا ہے ۔ کم ہی ایسا ہوتا ہے کہ صرف حق و باطل کا علم کسی کو فائدہ دے یا ہدایت وضلالت کا صرف علم مفید ہو۔ سچائی اپنی فطرت کے اعتبار سے اس قدر واضح ہوتی ہے کہ اس کے لئے وہ کسی طویل کلام وبیان کی محتاج ہی نہیں ہوتی ۔ دراصل جس چیز کی کمی ہوتی ہے وہ قبول حق کا داعیہ ہوتا ہے اور لوگوں کو حق کے قبول کرنے کا راستہ معلوم نہیں ہوتا۔ سچائی کی رغبت اور اس کے قبول کرنے کے راستے صرف اس صورت میں مل سکتے ہیں جب کوئی دل ایمان ویقین سے بھرجائے اور ایمان اس وقت محفوظ رہتا ہے جب اس کی پشت پر تقویٰ اور اللہ خوفی موجود ہو۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں بار بار اس قسم کی تاکیدیں کی گئی ہیں کہ اس کتاب میں جو سچائی ‘ جو ہدایت ‘ جو روشنی ‘ جو وعظ اور جو عبرت آموز باتیں بیان کی گئی ہیں وہ مومنین اور متقین ہی کے مفید مطلب ہیں ۔ اس لئے کہ ایمان اور تقویٰ دل کے دریچے ہدایت ‘ روشنی اور عبرت ونصیحت کے لئے کھول دیتے ہیں ۔ صرف ایمان وتقویٰ کے بل بوتے پر ہی ایک انسان راہ حق کی تکالیف برداشت کرسکتا ہے ۔ یہ اصلی بات ہے اور اس مسئلے کی یہی حقیقت ہے ۔ صرف علم اور معلومات کے ساتھ مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ کئی ایسے لوگ دیکھے جاسکتے ہیں کہ وہ حق کے علم ومعرفت کی ایک بڑی تعداد رکھتے ہوئے بھی باطل کے پرستار ہوتے ہیں اور اس میں گم گشتہ ہوتے ہیں ۔ محض اس لئے کہ ان کی نفسانی خواہشات ان پر قابو پائے ہوئے ہوتی ہیں جن کے مقابلے میں علم ومعرفت بےبس ہوتی ہے اور یا اس لئے کہ وہ ان مشکلات کو دیکھ کر گھبراجاتے ہیں جو حاملین حق اور داعیان حق کا ہمیشہ استقبال کرتی ہیں۔
اس کے بعد روئے سخن مسلمانون کی طرف پھرجاتا ہے ۔ ان کی دلجوئی کی جاتی ہے ‘ تسلی دی جاتی ہے اور ثابت قدمی کی تلقین کی جاتی ہے۔ وَلا تَهِنُوا وَلا تَحْزَنُوا وَأَنْتُمُ الأعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ…………… ” دل شکستہ نہ ہو ‘ غم نہ کرو ‘ تم ہی غالب رہوگے ‘ اگر تم مومن ہو۔ “ وَلا تَهِنُوا………… یہ لفظ وہن سے نکلا ہے ‘ جس کے معنی ضعیفی کے ہیں اور غم نہ کرو ‘ یعنی ان مصائب پر جو تمہیں پیش آرہے ہیں یا ان مفادات کے لئے جو تم سے چھوٹ گئے ۔ تم غالب اور برتر ہو ‘ اس لئے کہ تمہارا نظریہ حیات برتر ہے ۔ تم صرف اللہ وحدہ کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہو اور وہ لوگ اللہ کی مخلوقات میں سے کسی مخلوق کے سامنے جھکتے ہیں یا کسی چیز کو اللہ کے ساتھ شریک کرکے اس کے سامنے جھکتے ہیں ۔ اور تمہارا نظام حیات ان کے نظام حیات کے مقابلے میں افضل و برتر ہے ۔ تم اس نظام کے مطابق زندگی بسر کررہے ہو جسے اللہ نے بنایا ہے ۔ اور وہ اس نظام زندگی کے پیروکار ہیں جو انسانوں نے بنایا ہے ۔ تمہارا رول ان کے مقابلے میں برتر ہے ۔ تم پوری انسانیت کے لئے حاملین وصیت ہو ‘ اس پوری انسانیت کے لئے ہادی اور راہبر ہو جبکہ وہ اللہ کے اس نظام سے دھتکارے ہوئے ہیں ‘ گمراہ ہوچکے ہیں ۔ اس کرہ ارض پر تمہارا مقام بلند مقام ہے ۔ تم اس وراثت کے حاملین میں سے ہو جس کا تمہارے ساتھ اللہ نے عہد کررکھا ہے ۔ اور ان لوگوں کی حالت یہ ہے کہ وہ عدم اور فنا کی طرف بڑھ رہے ہیں ۔ اس لئے اگر تم سچے مومن بن جاؤ تو تم ہی اس دنیا میں اعلیٰ اور سربلند رہوگے ۔ اور اگر تم سچے مومن ہو تو نہ ڈرو اور نہ غم کرو اور نہ دل شکستہ ہو ‘ اس لئے کہ یہ اللہ کی سنت ہے کہ کبھی تم پر مصیبت آئے گی اور کبھی تم کامران ہوگے اور جہاد ‘ ابتلا اور کھرے کھوٹے کے درمیان تمیز ہوجانے کے بعد تمہاری عاقبت اچھی ہوگی ۔
” اس وقت اگر تمہیں چوٹ لگی ہے تو اس سے پہلے ایسی ہی چوٹ تمہارے مخالف فریق کو بھی لگ چکی ہے ۔ تو زمانہ کے نشیب و فراز ہیں جنہیں ہم لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں ۔ تم پر یہ وقت اس لئے لایا گیا ہے کہ اللہ دیکھنا چاہتا تھا کہ تم میں سچے مومن کون ہیں اور لوگوں کو چھانٹ لینا چاہتا تھا جو واقعی (راستی کے ) کے گواہ ہیں ۔ کیونکہ ظالم لوگ اللہ کو پسند نہیں ہیں ۔ اور وہ اس آزمائش کے ذریعہ سے مومنوں کو الگ چھانٹ کر کافروں کو سرکوبی کردینا چاہتا تھا۔ “
یہاں اس چوٹ کا ذکر کیا گیا جو اہل اسلام کو لگی اور اس کا بھی ذکر کیا جو جھٹلانے والوں کو لگی تھی ۔ مکذبین کے چوٹ سے مراد غزوہ بدر ہے ۔ اس لئے کہ اس موقعہ پر مشرکین کو چوٹ لگی تھی اور اہل اسلام صحیح وسالم بچ گئے تھے لیکن جھٹلانے والوں کی چوٹ سے مراد غزوہ احد بھی ہوسکتا ہے جس میں ابتداءً گو مسلمانوں کو فتح ہوئی تھی ۔ اہل کفر کو شکست ہوئی تھی اور ان میں سے ستر آدمی قتل ہوگئے تھے ۔ اس کے بعد مشرکین بھاگ نکلے اور مسلمان ان کے تعاقب میں نکلے اور کھوپڑیوں پر ضربات لگاتے رہے ۔ مشرکین کا علم تک گر گیا اور کوئی ایساشخص نہ رہا جو آگے بڑھ کر علم اٹھاتا ۔ آخر کار ایک عورت نے علم اٹھایا۔ اس پر انہیں جرات ہوئی اور اس کے اردگرد جمع ہوگئے ۔ اس کے بعد مشرکین کی باری آئی جب تیراندزوں سے رسول ﷺ کے احکام کی خلاف ورزی کی ۔ آپس میں اختلاف کیا اور اس معرکے کے آخری دور میں مسلمانوں پر وہ مصیبت آئی جس کا یہاں ذکر ہورہا ہے اور یہ پوری پوری سزا تھی اس بات کی کہ انہوں نے رسول ﷺ کے احکام کی خلاف ورزی کی اور آپس میں اختلاف کیا۔ یوں اللہ تعالیٰ کی وہ سنت ظاہر ہوئی جسے اس نے اس کائنات کے لئے مقدر فرمایا ہے ۔ اس لئے تیر اندازوں کی جانب سے رسول ﷺ کے احکام کی خلاف ورزی اور مشورہ کے باوجود آپس میں اختلاف اس وجہ سے پیدا ہوئے تھے کہ ان کے دلوں میں مال غنیمت کا لالچ پیدا ہوگیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے جہاد و قتال میں مسلمانوں کے لئے نصرت تو بہرحال لکھ دی ہے لیکن ان لوگوں کے لئے جو صرف جہاد فی سبیل اللہ کرتے ہیں ۔ اور ان کا مطمح نظر اس دنیائے دنی کو کوئی بےوقعت فائدہ نہیں ہوتا۔ اس واقعہ کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی ایک دوسری سنت کا ظہور بھی ہوا۔ وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ فتح ونصرت کو لوگوں کے درمیان پھرتے رہتے ہیں ۔ کبھی اہل حق کو فتح ہوتی ہے تو کبھی کبھار اہل باطل کو فتح ہوتی ہے ۔ ان کے اعمال اور ان کی نیتوں کے مطابق ۔ ان ایام کی وجہ سے اہل ایمان اور اہل نفاق کو چھانٹ کر رکھ دیا جاتا ہے۔ نیز غلطیوں کا ارتکاب ہوتا ہے اور لوگوں کے دلوں سے نظریاتی کھوٹ نکل جاتا ہے۔
إِنْ يَمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِثْلُهُ وَتِلْكَ الأيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ وَلِيَعْلَمَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا
” اس وقت اگر تمہیں چوٹ لگی ہے تو اس سے پہلے ایسی ہی چوٹ تمہارے مخالف فریق کو بھی لگ چکی ہے ۔ یہ تو زمانہ کے نشیب و فراز ہیں جنہیں لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں ۔ تم پر یہ وقت اس لئے لایا گیا تھا کہ اللہ دیکھنا چاہتا تھا کہ تم میں سے سچے مومن کون ہیں۔ “
کشادگی کے بعد سختی اور سختی کے بعد کشادگی ‘ وہ حالات ہیں جو نفس انسانی کی خفیہ صلاحیتوں کو ابھارتے ہیں ‘ اس سے لوگوں کے مزاج معلوم ہوجاتے ہیں اور یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ کون نظریاتی لحاظ سے پاک ہوچکا ہے اور کس میں نظریاتی میل کچیل موجود ہے ۔ کون ہے جو جلد باز ہے اور کون ہے جو ثابت قدم ہے ۔ کون ہے جو مایوسی کا شکار ہوتا ہے اور کون ہے جسے اللہ پر مکمل بھروسہ ہے ۔ کون ہے جو تن بتقدیر سپرد کرتا ہے اور کون ہے جو راضی برضا ہوتا ہے ‘ یا خود سری اختیار کرتا ہے ؟
یہاں آکر اسلامی جماعت کی تطہیر ہوجاتی ہے اور ظاہر ہوجاتا ہے کہ کون مومن ہے اور کون مناق ہے ۔ دونوں فریقوں کی حقیقت واضح ہوکر سامنے آتی ہے ۔ اور لوگوں کی دلی کیفیات اس دنیا کے لوگوں پر بھی منکشف ہوجاتی ہیں ۔ اس طرح اسلامی صفوں سے ہر قسم کی وہ کمزوریاں دور ہوجاتی ہیں جو لوگوں کے درمیان اخلاقی اور نظریاتی ہم آہنگی نہ ہونے کی وجہ سے پیدا ہوجاتی ہیں جبکہ جمعیت میں مختلف الخیال اور مبہم قسم کے لوگ ہوں۔
اللہ تعالیٰ مومنین کو بھی جانتے ہیں اور منافقین کو بھی جانتے ہیں ۔ اللہ علیم بذات الصدور ہیں ۔ لیکن واقعات زندگی ‘ فتح وشکست کے نتیجے میں چھپے لوگ سامنے آجاتے ہیں ‘ چھپے لوگ سامنے آجاتے ہیں ‘ چھپے ہوئے اوصاف واقعات زندگی کی صورت میں برملا ہوجاتے ہیں ۔ اب ایمان ایک ظاہری عمل کی صورت میں سامنے آجاتا ہے ۔ اور نفاق بھی متشکل اور متجسم ہوجاتا ہے ۔ اس لئے ان امور پر حساب و کتاب ہوگا اور ان پر انعام وسزا بھی ہوگی ۔ اللہ ان امور پر حساب و کتاب نہیں لیتے جنہیں وہ جانتے ہیں بلکہ جزاوسزاکا دارومدار ان امور پر ہوتا ہے جو عمل میں آجاتے ہیں۔
اور زندگی کے نشیب و فراز اور سختی ونرمی کا یکے بعد دیگرے آنا ایک ایسی کسوٹی ہے جس کا نتیجہ غلط نہیں ہوتا ‘ یہ ایک ایسا ترازو ہے جس میں کوئی کمی بیشی نہیں رہتی ۔ اس میزان میں مشکلات اور امن دونوں برابر ہیں ۔ کئی ایسی شخصیات ہوتی ہیں جو مشکلات کا مقابلہ کرتی ہیں ‘ صبر اور مصابرت کرتی ہیں لیکن جب سہولت آتی ہے تو تن آسان ہوجاتی ہیں لیکن اہل ایمان کی حالت یہ ہوتی ہے کہ وہ مشکلات میں جم جاتے ہیں اور صبر کرتے ہیں لیکن جب عیش و آرام کا وقت آتا ہے تو پھر بھی آپے سے باہر نہیں ہوتے ۔ ان دونوں حالتوں میں ان کی توبہ اللہ کی طرف ہوتی ہے ۔ ان کا یقین اس بات پر پختہ ہوتا ہے ۔ خوشحالی اور بدحالی دونوں میں عمل دخل ذات باری کا ہوتا ہے ۔
اللہ تعالیٰ جماعت مسلمہ کی تربیت فرما رہے تھے اور یہ تربیت اس دور میں ہورہی تھی جب جماعت مسلمہ پوری دنیا کی قیادت کا چارج لینے ہی والی تھی تو اللہ تعالیٰ نے بدر کی کامیابی اور خوشحالی کے بعد احد کی ناکامی اور برے حالات سے دوچار کرکے اسے آزمایا اور اس کی تربیت کی ۔ حیرت انگیز کامیابی اور فتح و کامرانی کے بعد اسے اچانک غیر متوقع شکست سے دوچار کرکے اسے آزمایا اور اس کی تربیت کی ۔ حیرت انگیز کامیابی اور فتح و کامرانی کے بعد اسے اچانک غیر متوقع شکست سے دوچار کردیا ۔ اگرچہ یہ دونوں واقعات بےسبب نہ تھے اور دونوں ‘ اس کائنات میں اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ کے عین مطابق تحت الاسباب تھے ‘ جو فتح وہزیمت کے اسباب کیا ہوتے ہیں ؟ تاکہ وہ اللہ اور رسول کی اطاعت میں اور پختہ ہوجائے ۔ اللہ پر اس کا توکل اور بھروسہ اور زیادہ ہوجائے ۔ وہ ذات باری کے ساتھ مزید جڑجائے اور اسلامی نظام زندگی کے مزاج اور اس کے فرائض سے حق الیقین کی طرح واقف ہوجائے۔
اب بات ذرا اور آگے بڑھتی ہے ۔ امت مسلمہ کو حکمت الٰہیہ کے کچھ اور پہلو دکھائے جاتے ہیں ۔ یہ حکمتیں اس معرکے کے واقعات کے بیان کے دوران اور زندگی کے نشیب و فراز کے آئینہ میں دکھائی جاتی ہیں یعنی مسلمانوں کی صفوں کی تطہیر اور اہل ایمان کو اہل نفاق سے چھانٹ دینے کے بعد بعض دوسری حکمتیں ؟ وَيَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَاءَ ” اور تم میں سے بعض کو شہید کردے۔ “
یہ عجیب طرز ادا ہے جس میں گہرے معانی پوشیدہ ہیں ۔ گویا اللہ تعالیٰ خود شہداء کا انتخاب فرماتے ہیں ۔ مجاہدین میں سے مقام شہادت کے لئے انتخاب ہوتا ہے اور یہ انتخاب اللہ تعالیٰ خود اپنے لئے کرتے ہیں ۔ پس یہ گویا کوئی مصیبت اور خسارہ نہیں ہے کہ کوئی اللہ کے راستے میں شہید ہوجائے بلکہ اسے اللہ تعالیٰ اپنے لئے اختیار کرلیتے ہیں ‘ چھانٹ لیتے ہیں ۔ یہ گویا ان کے لئے خاص اعزاز ہوتا ہے ۔ ان کو اللہ نے چھانٹ لیا اور ان کو مقام شہادت اور مرتبہ شہادت حق پر فائز کردیا تاکہ وہ خالصتاً اللہ کے ہوجائیں اور اس کی مقرب کابینہ میں شامل ہوجائیں۔ وَیَتَّخِذَ مِنھُم…………” اللہ ان سے چن لے گا۔ “
پھر ایک مفہوم کے مطابق یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے گواہ ہیں اور یہ اپنی جان دے کر اس سچائی پر شہادت دیتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے رسول ﷺ پر اتارا ہے ۔ یہ لوگ گواہی دیتے ہیں کہ یہ پیغام ‘ پیغام حق ہے اور یہ شہادت وہ اس انداز میں اور اس اسلوب میں دیتے ہیں کہ پھر اس میں کوئی شبہ نہیں رہتا اور جرح کی ضرورت نہیں رہتی ۔ اور اس کے بعد بات کا فیصلہ ہوجاتا ہے ۔ اس لئے کہ وہ یہ شہادت اس مسلسل جدوجہد کے ساتھ دیتے ہیں جس کا انجام جان کا نذرانہ پیش کرنے پر ہوتا ہے اس طرح وہ اپنے خون سے اس سچائی کو تسلیم کرتے ہیں اور دنیا کے سامنے اسے فیصلہ کن شکل میں پیش کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان مختار لوگوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ یہ شہادت دیں کہ اللہ کی جانب سے جو نظریہ حیات نازل ہوا ہے وہ حق ہے ۔ وہ اس پر ایمان لاچکے ہیں ۔ وہ اس کے لئے خالص ہوگئے ہیں ۔ وہ ان کو اس قدر عزیز ہوگیا ہے کہ عزیز تراز جان ہے اور یہ کہ لوگوں کی زندگی اس وقت تک درست نہیں ہوسکتی جب تک وہ اس سچائی کے مطابق نہ ہوجائے ۔ یہ کہ وہ اس پر پختہ یقین کرچکے ہیں ۔ اس لئے وہ اس امر میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے کہ وہ لوگوں کی زندگیوں سے باطل کو ختم کردیں ‘ نکال دیں اور یہ حق پوری دنیا میں استوار ہوجائے اور لوگوں کے نظام حکومت میں بھی وہ رائج ہوجائے ۔ غرض یہ شہداء ان سب امور کے شہداء ہیں اور ان کی شہادت عبارت ہے جہاد اور موت فی سبیل اللہ سے اور یہ ایک ایسی شہادت ہے جس میں کسی قیل وقال کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔
اب ذرا دوسرا پہلو دیکھیں ‘ جب کوئی اپنی زبان سے لاالٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی شہادت ادا کرتا ہے ‘ یہ شہادت اس وقت تک شہادت نہیں ہوتی جب تک یہ مقر اس شہادت کے مفہوم اور تقاضوں کو پورا نہیں کرتا ۔ اور مفہوم یہ ہے کہ وہ اللہ کے سوا کسی کو الٰہ نہ سمجھے ‘ باہمی مفہوم کو وہ اللہ کے سوا کسی اور مأخذ شریعت اور مأخذ قانون نہ بنائے ، اس لئے کہ الٰہ کی خصوصیات میں یہ سے مخصوص ترین خصوصیت یہ ہے کہ وہ لوگوں کے لئے قانون سازی کرے ۔ اور بندوں کے حوالے سے مخصوص ترین بندگی یہ ہے کہ بندہ اپنانظام حیات اور نظام قانون اللہ تعالیٰ سے اخذ کرے ۔ اور جس کی عملی شکل یہ ہے کہ وہ قانون رسول اللہ ﷺ سے اخذکرے جو اللہ کے رسول اور اس کی جانب سے شارع ہیں ۔ اور ان دومصادر کے علاوہ ان کے نزدیک قانون کا کوئی اور مصدر ماخذ نہ ہو۔
پھر اس کلمہ شہادت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان وہ جدوجہد شروع کردے جس کے نتیجے میں اس کرہ ارض پر الوہیت اور حاکمیت صرف اللہ کی ہوجائے ۔ جس طرح اس کی تبلیغ حضرت محمد ﷺ نے فرمائی ۔ اور یہ شریعت اسلامی نظام حیات بن جائے ۔ یہ نظام غالب ہو اور اس کی پیروی ہونے لگے اور یہ نظام لوگوں کی پوری زندگی میں متصرف ہو اور اس کے تصرف سے زندگی کا کوئی پہلو مستثنیٰ نہ ہو۔
اس مفہوم کے اعتبار سے ‘ اس نظریہ حیات نے یہ تقاضا کیا کہ یہ شخص اس کی راہ میں جان دے دے تو شہید نے جان دے دی ۔ اس لئے وہ ایک ایسا گواہ بن گیا جس سے اللہ نے یہ مطالبہ کیا کہ وہ یہ شہادت ادا کرے ۔ اس لئے کہ اسے اللہ نے گواہی کے مقام پر فائز کیا ہے ۔ اس وجہ سے وہ شہید بن گیا ہے ۔
یہ ہے اس عجیب انداز کلام کا گہرافہم یعنی وَيَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَاءَ……………اور یہ لاالٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی شہادت کا مفہوم اور مقتضاء ہے ۔ اس شہادت کا وہ مفہوم نہیں ہے ۔ جس کے مطابق یہ شہادت ایک مذاق بن جائے ‘ محض وقت کا ضیاع ہو اور اس سے رخصتیں برآمد ہوتی ہوں۔
وَاللَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ……………” بےشرک ایک عظیم ظلم ہے ۔ “ صحیحین میں حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت ہے ۔ فرماتے ہیں ۔ میں نے سوال کیا کیا رسول اللہ ﷺ کون سا گناہ سب سے بڑا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا یہ کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک بناؤ حالانکہ صرف اللہ ہی نے تمہیں پیدا کیا ہے ۔ “
اس سے پہلے سیاق کلام میں جھٹلانے والوں کے بارے میں اللہ کی سنت کی طرف اشارہ کیا گیا تھا۔ اور اب یہ فیصلہ سنایا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ظالموں سے محبت نہیں رکھتا ۔ اس لئے بالواسطہ اس بات کی تاکید ہے کہ جھٹلانے والے اپنے منطقی انجام کو ضرور پہنچیں گے ‘ اس لئے اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ محبت نہیں کرتا۔ اس انداز تعبیر کے یہ اثرات بھی سامنے آتے ہیں کہ ایک مومن ظلم اور ظالم سے نفرت کرنے لگتا ہے ۔ اور ظلم اور ظالمین کے خلاف یہ فضا پیدا کرنا حدیث جہاد اور حصول شہادت کے لئے آمادہ کرنے کے اس موقعہ کے ساتھ گہرا ربط رکھتی ہے ۔ اس لئے مومن اس بات کے خلاف جہاد کرتا ہے جسے اللہ مٹانا چاہتا ہے اور ان لوگوں کے خلاف جہاد کرتا ہے جو اللہ کو سخت ناپسند ہیں ۔ اور یہ شہادت گاہ مومن ہے ۔ اس جگہ وہ نذرانہ جان پیش کرتا ہے اور ایسے ہی لوگوں سے اللہ شہداء کا انتخاب فرماتے ہیں ۔