سورة آل عمران (3): آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں۔ - اردو ترجمہ

اس صفحہ میں سورہ Aal-i-Imraan کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ آل عمران کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔

سورة آل عمران کے بارے میں معلومات

Surah Aal-i-Imraan
سُورَةُ آلِ عِمۡرَانَ
صفحہ 72 (آیات 166 سے 173 تک)

وَمَآ أَصَٰبَكُمْ يَوْمَ ٱلْتَقَى ٱلْجَمْعَانِ فَبِإِذْنِ ٱللَّهِ وَلِيَعْلَمَ ٱلْمُؤْمِنِينَ وَلِيَعْلَمَ ٱلَّذِينَ نَافَقُوا۟ ۚ وَقِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا۟ قَٰتِلُوا۟ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ أَوِ ٱدْفَعُوا۟ ۖ قَالُوا۟ لَوْ نَعْلَمُ قِتَالًا لَّٱتَّبَعْنَٰكُمْ ۗ هُمْ لِلْكُفْرِ يَوْمَئِذٍ أَقْرَبُ مِنْهُمْ لِلْإِيمَٰنِ ۚ يَقُولُونَ بِأَفْوَٰهِهِم مَّا لَيْسَ فِى قُلُوبِهِمْ ۗ وَٱللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا يَكْتُمُونَ ٱلَّذِينَ قَالُوا۟ لِإِخْوَٰنِهِمْ وَقَعَدُوا۟ لَوْ أَطَاعُونَا مَا قُتِلُوا۟ ۗ قُلْ فَٱدْرَءُوا۟ عَنْ أَنفُسِكُمُ ٱلْمَوْتَ إِن كُنتُمْ صَٰدِقِينَ وَلَا تَحْسَبَنَّ ٱلَّذِينَ قُتِلُوا۟ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ أَمْوَٰتًۢا ۚ بَلْ أَحْيَآءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ فَرِحِينَ بِمَآ ءَاتَىٰهُمُ ٱللَّهُ مِن فَضْلِهِۦ وَيَسْتَبْشِرُونَ بِٱلَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا۟ بِهِم مِّنْ خَلْفِهِمْ أَلَّا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ۞ يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِّنَ ٱللَّهِ وَفَضْلٍ وَأَنَّ ٱللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ ٱلْمُؤْمِنِينَ ٱلَّذِينَ ٱسْتَجَابُوا۟ لِلَّهِ وَٱلرَّسُولِ مِنۢ بَعْدِ مَآ أَصَابَهُمُ ٱلْقَرْحُ ۚ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا۟ مِنْهُمْ وَٱتَّقَوْا۟ أَجْرٌ عَظِيمٌ ٱلَّذِينَ قَالَ لَهُمُ ٱلنَّاسُ إِنَّ ٱلنَّاسَ قَدْ جَمَعُوا۟ لَكُمْ فَٱخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَٰنًا وَقَالُوا۟ حَسْبُنَا ٱللَّهُ وَنِعْمَ ٱلْوَكِيلُ
72

سورة آل عمران کو سنیں (عربی اور اردو ترجمہ)

سورة آل عمران کی تفسیر (فی ظلال القرآن: سید ابراہیم قطب)

اردو ترجمہ

جو نقصان لڑائی کے دن تمہیں پہنچا وہ اللہ کے اذن سے تھا اور اس لیے تھا کہ اللہ دیکھ لے تم میں سے مومن کون ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wama asabakum yawma iltaqa aljamAAani fabiithni Allahi waliyaAAlama almumineena

اس کے ساتھ ساتھ یہ بات پیش نظر رہے کہ تمام واقعات کی پشت پر اللہ کی تقدیر ہوتی ہے اور اس میں کوئی حکمت پوشیدہ ہوتی ہے ‘ جس کا علم صرف اللہ کو ہوتا ہے ۔ ہر معاملہ جو پیش آتا اور ہر حادثہ جو واقعہ ہوتا ہے اس کی پشت پر اللہ کی تقدیر ہوتی ہے ۔ ہر حرکت اور ہر سکوں کے پیچھے دست تقدیر ہوتا ہے اور اس کائنات میں جو وقوعہ بھی پیش آتا ہوتا ہے اس کی پشت پر تقدیر ہوتی ہے ۔

وَمَا أَصَابَكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ فَبِإِذْنِ اللَّهِ……………” جو نقصان لڑائی کے دن جب دو گروہ متقابل ہوئے ‘ تمہیں پہنچا وہ اللہ کے اذن سے تھا ۔ “ یہ نقصان محض اتفاق سے یا سوئے اتفاق سے ازخود پیش نہیں آیا۔ نہ وہ خوامخواہ بطور عبث پیش آیا۔ اس لئے کہ اس کائنات کے اندر ہونے والی ہر حرکت منصوبے اور دست قدرت کے مطابق ہوتی ہے اور مجموعی لحاظ سے ان واقعات کے پیچھے حکمت پوشیدہ ہوتی ہے اور مجموعی لحاظ سے یہ واقعات اس پوری کائنات کی اسکیم کے مطابق ہوتے ہیں ۔ اور اس کے باوجود وہ اس کائنات کے اندر جاری سنن الٰہیہ اور ان اٹل قوانین کے مطابق ہوتے ہیں جن کا کبھی بھی نہ تخلف ہوتا ‘ نہ ان میں کوئی تعطل ہوتا ہے اور نہ ہی وہ قوانین کسی کے ساتھ رورعایت کرتے ہیں۔

تقدیر کے مسئلے میں اسلامی تصور حیات اس قدر کامل ‘ شامل اور متوازن ہے ‘ جس کا مقابلہ آغاز انسانیت سے لے کر آج تک کوئی تصور حیات نہیں کرسکتا۔

اسلامی تصور حیات کے مطابق اس کائنات کا ایک اٹل قانون ہے اور بعض ناقابل تعطل سنن الٰہیہ ہیں ۔ ان اٹل قوانین فطرت اور ناقابل انحراف سنن الٰہیہ کے پیچھے اللہ کا ارادہ کام کرتا ہے اور اللہ کی آزاد مشیئت ہے ‘ جو کسی قید میں مقید نہیں ہے ۔ اور ان سب یعنی سنن الٰہیہ اور مشیئت الٰہیہ کی پشت پر پھر اللہ کی حکمت مدبرہ ہے ۔ اور یہ تمام پھر اللہ کی حکمت مدبرہ کے موافق چلتے ہیں ۔ ناموس کی حکمرانی ہے اور سنن الٰہیہ میں ہر چیز جاری ہیں ، انسان بھی ان ان کا تابع و محکوم ہے ۔ انسان ان سنن الٰہیہ کے دائرے میں اپنے فعل ارادی کے ساتھ اپنے دائرہ اختیار کے اندر کام کرتا ہے ۔ اور وہ اپنی سوچ اور اپنی تدابیر کے مطابق جو کام کرتا ہے ‘ یہ سنن ان افعال پر بھی منطبق ہوتی ہیں اور اس پر اثر انداز ہوتی ہیں ۔ لیکن یہ سب کچھ اللہ کی تقدیر اور مشیئت کے مطابق ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اس میں اللہ کی کوئی حکمت اور تدبیر بھی کام کرتی ہے ۔ اس نظام میں انسان کا ارادہ ‘ اس کی حرکت ‘ اس کی سوچ ‘ اس کی قوت عمل یہ سب کچھ سنن الٰہیہ کا ایک حصہ ہیں ۔ وہ ناموس کائنات کا حصہ ہیں ۔ ان انسانی افعال کے ساتھ بھی اللہ اپنا کام کرتے ہیں ‘ ان کو بھی وہ موثر بناتے ہیں اور یہ سب کچھ پھر بھی اس کے دائرہ قدرت کے اندرہوتا ہے ۔ ان میں سے کوئی چیز نوامیس فطرت اور سنن الٰہیہ کے دائرے سے خارج نہیں ہوتی ۔ اور نہ انسان کی کوئی حرکت اور سوچ ان سنن کے ساتھ متضاد ہوتی ہے یا ان کے بالمقابل ہوتی ہے۔ بعض لوگوں کی سوچ یہ ہے کہ وہ ترازو کے ایک پلڑے میں اللہ کے ارادے کے بالمقابل ہو۔ یہ صورت حال بالکل ممکن نہیں ہے ۔ اسلامی تصورحیات ایسا نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ انسان اس کا شریک بالمقابل نہیں ہے۔ نہ انسان اللہ کا دشمن ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے جب انسان کو اس کا وجود ‘ اس کی فکر ‘ اس کا ارادہ بخشا تھا ‘ اس کی تقدیر ‘ اس کی تدبیر اور زمین کے اندر اس کی فاعلیت اسے عطاکی تھی تو اس نے اس وقت ان انسانی قوتوں اور سنن الٰہیہ کے درمیان کوئی تضاد نہ رکھا تھا اور نہ ان کے درمیان کوئی مقابلہ رکھا تھا۔ نہ یہ چیزیں مشیئت الٰہیہ کے خلاف تھیں ۔ نہ اللہ کے نزدیک یہ سب امور اللہ کی گہری حکمت سے باہر تھے ۔ جو اللہ کی تقدیر کی پشت پر کارفرما ہے۔ اللہ کی سنت اور اللہ کی تقدیر کے اندر یہ بات رکھی گئی تھی کہ انسان اپنی تدبیر سے کام لے ۔ وہ متحرک ہو اور اس کائنات میں مؤثر ہو ۔ وہ سنن الٰہیہ کے بالمقابل کھڑا ہو اور وہ اس پر منطبق ہوں اور اللہ کی سنن کے تحت اس دنیا میں اسے لذت والم ‘ آرام وبے آرامی ‘ سعادت و شقاوت سے دوچار ہونا پڑے اور پھر اس کی ان تمام سرگرمیوں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر کام کرے جس کے احاطے میں یہ پوری کائنات ہے ‘ نہایت ہی توازن اور تناسق کے ساتھ ۔

یہ واقعات جو احد میں وقوع پذیر ہوئے ‘ وہ اسلامی تصور حیات کی مثال تھے ‘ یعنی تقدیر کے حوالے سے جو ہم بات کر آئے ہیں ۔ ان واقعات کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو سکھایا کہ فتح وشکست کے بارے میں اس کی سنت کیا ہے ۔ انہوں نے اللہ کی سنت اور اس شرط کی خلاف ورزی کی جو اس نے فتح کے لئے رکھی ہوئی تھی تو اس نے انہیں ان آلام اور ان مصائب سے دوچار کیا جو احد میں انہیں پیش آئے۔ لیکن بات یہاں آکر ختم نہیں ہوگئی ۔ اس مخالفت اور رنج والم کے پیچھے یہ تقدیر کام کررہی تھی کہ ان کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ اسلامی صفوں میں منافقین کو چھانٹ کر علیحدہ کردے۔ اہل ایمان کے دلوں کو صاف کردے اور ان کے تصورات کے اندر جو ملاوٹ اور میل تھی اسے دور کردے یا ان کے کردار میں جو ضعف اور کمزوری تھی وہ دورہوجائے۔

بظاہر وہ رنج والم سے دوچار ہوئے ‘ لیکن اپنی جگہ اہل ایمان کے حق میں مستقبل کے اعتبار سے یہ خیر تھا ۔ اگرچہ یہ رنج والم بھی سنت الٰہی کے عین مطابق تھا ‘ اللہ کے سنن میں سے ایک سنت یہ بھی ہے جو مسلمان اسلامی نظام حیات کو قبول کرکے اس کے آگے سرتسلیم خم کریں گے اور عموماً اسلامی نظام کی اطاعت کریں گے ‘ اللہ ان کی حمایت ورعایت کرے گا اور ان کی غلطیاں بھی ‘ اپنی انتہاء پر جاکر وسیلہ ظفر اور ذریعہ خیر ہوں گی ۔ اگرچہ وہ رنج والم سے دوچار ہوں ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ رنج والم اور مصائب وشدائد کے ذریعہ تربیت ہوتی ہے ‘ اسلامی صفوں سے کھوٹ دور ہوتا ہے اور آئندہ مرحلے کی خوب تیاری ہوتی ہے ۔

اس مضبوط اور کھلے موقف پر مسلمانوں کے قدم جم جائیں گے ‘ ان کے دل مطمئن ہوں گے ‘ ان میں کوئی تزلزل نہ ہوگا ‘ کوئی حیرانی نہ ہوگی اور کوئی پریشانی نہ ہوگی ۔ اس طرح وہ اللہ کی تقدیر کو انگیز کریں گے ‘ اس کائنات میں سنن الٰہیہ کے مطابق اپنے معاملات سر انجام دیں گے ۔ انہیں یقین ہوگا کہ اللہ ان کی ذات اور ان کے ماحول میں فعال لمایرید ہے اور یہ کہ وہ تقدیر الٰہی کے آلات اور ذریعہ کا رہیں ۔ اللہ جس طرح چاہے اپنے آلات کار کو استعمال کرسکتا ہے ‘ یہ کہ ان کے درست فیصلے ‘ ان کے صائب فیصلے اور درست فیصلوں کے اثرات اور غلط فیصلوں کے نتائج سب کے سب اللہ کی تقدیر کے پردے سے ظاہر ہوتے ہیں ۔ ان میں اس کی کوئی نہ کوئی حکمت ہوتی ہے اور جب تک وہ اس راہ انقلاب پر گامزن رہیں گے ‘ ان کے لئے ہر مرحلہ خیر ہی خیر ہوگا۔

اردو ترجمہ

اور منافق کون، وہ منافق کہ جب اُن سے کہا گیا آؤ، اللہ کی راہ میں جنگ کرو یا کم از کم (اپنے شہر کی) مدافعت ہی کرو، تو کہنے لگے اگر ہمیں علم ہوتا کہ آج جنگ ہوگی تو ہم ضرور ساتھ چلتے یہ بات جب وہ کہہ رہے تھے اُس وقت وہ ایمان کی نسبت کفر سے زیادہ قریب تھے وہ اپنی زبانوں سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہوتیں، اور جو کچھ وہ دلوں میں چھپاتے ہیں اللہ اسے خوب جانتا ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

WaliyaAAlama allatheena nafaqoo waqeela lahum taAAalaw qatiloo fee sabeeli Allahi awi idfaAAoo qaloo law naAAlamu qitalan laittabaAAnakum hum lilkufri yawmaithin aqrabu minhum lileemani yaqooloona biafwahihim ma laysa fee quloobihim waAllahu aAAlamu bima yaktumoona

اس آیت میں عبداللہ ابن ابی ابن السلول اور اس کے ساتھیوں کے موقف کی طرف اشارہ ہے ۔ انہیں جو خطاب دیا گیا ہے وہ الَّذِينَ نَافَقُوا ………(وہ لوگ جنہوں نے نفاق کیا ) کا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس موقعہ پر ان کا پردہ فاش کردیا۔ اور اسلامی صفوں سے انہیں جدا کردیا ۔ اور ان کے اس دن کے موقف پر یہ تبصرہ کیا هُمْ لِلْكُفْرِ يَوْمَئِذٍ أَقْرَبُ مِنْهُمْ لِلإيمَانِ …………… (اس وقت وہ ایمان کی بہ نسبت کفر سے زیادہ قریب تھے ) یہ کہ وہ اپنے اس احتجاج میں سچے نہ تھے کہ آج مسلمانوں اور کافروں کے درمیان جنگ نہیں ہورہی ہے ۔ اس لئے وہ واپس ہورہے ہیں ۔ اس لئے کہ ان کی واپسی کا فی الحقیقت یہ سبب نہ تھا۔ بلکہ وہ ” جو کچھ اپنے منہ سے کہہ رہے تھے وہ بات ان کے دل میں نہ تھی ۔ “ ان کے دلوں میں تو نفاق کی بیماری تھی ۔ اور یہ نفاق انہیں نظریہ ٔ حیات کے تابع نہ کرتا تھا بلکہ وہ ان کی شخصیات اور ان کی ذاتی حیثیات کو نظریہ حیات سے زیادہ اہمیت دیتا تھا۔ ان لوگوں کے رئیس عبداللہ ابن ابی ابن السلول نے یہ اعتراض بھی کیا تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے احد کی دن اس کی رائے کو قبول نہیں کیا ۔ اور اس واقعہ سے پہلے کے اسباب یہ تھے کہ جب رسول اکرم ﷺ اپنی رسالت کے پیغام کو لے کر مدینہ طیبہ پہنچے تو اس وقت عبداللہ ابن ابی کی سربراہی میں ایک ریاست کی تشکیل کی تیاریاں ہورہی تھیں ۔ اس کے لئے تاج بن رہا تھا ۔ آپ ﷺ کی آمد کے نتیجے میں ریاست کا مقام حاملین اسلام نے حاصل کرلیا ۔ یہ بات ان کے دل میں تیر کی طرح پیوست تھی ۔ اور یہی وجہ تھی کہ وہ احد کے دن واپس ہوگئے تھے ۔ چونکہ دشمن مدینہ کے دروازے پر تھے ‘ اس لئے یہ لوگ واپس ہوگئے اور مومن صادق کی یہ بات انہوں نے رد کردی ۔ یہ مومن صادق عبداللہ بن عمرو ابن حزام تھے ۔ وہ انہیں پکار رہے تھے تَعَالَوْا قَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوِ ادْفَعُوا……………”(آؤ اللہ کی راہ میں جنگ کرو یا دفاع ہی کرو) اس کے جواب ان کا احتجاج و استدلال یہ تھا کہ ان کے خیال میں کوئی جنگ نہیں ہے ۔ اگر کوئی بات ہوتی وہ ضرور جاتے ۔ اور ان کے موقف کی تردید یوں کی گئی وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا يَكْتُمُونَ……………” اور جو کچھ وہ دلوں میں چھپاتے ہیں اللہ اسے خوب جانتا ہے ۔ “

یوں وہ اپنے تخلف اور پلٹنے کو حکمت اور مفید قرار دیتے ہیں اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کو نقصان اور ضرر رساں قرار دیتے ہیں ۔ اور اس سے بڑی بات یہ ہے کہ وہ اسلام کے صاف اور ستھرے تصور حیات کو خراب کرتے ہیں ‘ کیونکہ اسلامی تصور حیات کے مطابق ہر شخص کی موت کا وقت مقرر ہوتا ہے ۔ موت وحیات کی حقیقت یہ ہے کہ ان کا تعلق تقدیر الٰہی کے ساتھ ہے ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ یہاں ان کے ان غلط تصورات کی تردید ضروری سمجھتے ہیں ۔ فوراً ان کے اس تصور کی واضح تردید کردی جاتی ہے ‘ جس سے ایک طرف ان کی تیار کی ہوئی سازش کے تار وپور بکھر جاتے ہیں اور دوسری جانب سے اسلامی تصور حیات ہر قسم کے اجمال اور دھندلے پن سے پاک وصاف ہوجاتا ہے ۔ فرماتے ہیں قُلْ فَادْرَءُوا عَنْ أَنْفُسِكُمُ الْمَوْتَ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ……………” ان سے کہو اگر تم اپنے اس قول میں سچے ہو تو خود تمہاری موت جب آئے تو اسے ٹال کر دکھادینا ۔ “

موت تو جس طرح مجاہد کو آتی ہے اسی طرح جو لوگ گھر میں بیٹھے رہتے ہیں ‘ انہیں بھی آتی ہے ‘ بہادر کو بھی آتی ہے اور بزدل کو بھی آتی ہے۔ نہ کوئی محافظ اسے ٹال سکتا ہے اور نہ کوئی احتیاطی تدبیر ۔ نہ بزدلی اور جہاد سے غیر حاضری سے وہ ٹل سکتی ہے۔ اور یہ صورت حال ایسی ہے ‘ جو خود اپنی دلیل آپ ہے اور اس میں کسی شک کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ یہی حقیقی صورت حال ہے جس کو قرآن مجید خود ان کے خلاف پیش کرتا ہے ۔ یوں ان کی مکروہ سازش کو رد کردیا جاتا ہے ۔ سچائی کو اپنی جگہ رکھ کر مستحکم کردیا جاتا ہے ۔ مسلمانوں کے دل مطمئن اور مضبوط ہوجاتے ہیں ۔ انہیں اطمینان ‘ آرام اور ذوق یقین سے سیراب کردیا جاتا ہے۔

واقعات احد کے بیان کے اس انداز کی طرف ذہن انسانی ملتفت ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اس بیان میں اس واقعہ یعنی عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کی روگردانی کو بہت ہی موخر کرکے لایا گیا ہے ۔ حالانکہ یہ واقعہ اس معرکے کے ابتدائی دور میں ہوا تھا اور معرکے کے آغاز ہی سے وہ واپس ہوگیا تھا۔ اسے اول میں بیان کرنے کے بجائے آخر میں لایا گیا یہ کیوں ؟

یہ تاخیر اس لئے کی گئی کہ اس میں بھی قرآن کریم کے انداز تربیت میں سے ایک خاص انداز کا اظہار کیا گیا ہے۔ مقصد یہ تھا کہ اس حادثہ پر تبصرے سے قبل وہ تمام اساسی تصورات بیان کردئیے جو اسلامی نظام زندگی کے بنیادی قواعد میں شمار ہوتے ہیں اور جب مسلمانوں کے ذہن میں وہ تمام احساسات جاگزیں ہوگئے ‘ اور مسلمانوں کی اقدار کے لئے حقیقی پیمانے وضع ہوگئے تو آخر میں ان لوگوں کی طرف اشارہ کردیا گیا جنہوں نے نفاق اختیار کیا تھا۔ ان کے کردار اور ان کی سرگرمیوں کو بےنقاب کیا گیا۔ ایسے موقعہ پر ان لوگوں کے خلاف تنقید آئی جب مسلمانوں کے ذہن اس کے لئے تیار تھے اور اس قابل ہوگئے تھے کہ معلوم کرسکیں کہ ان کے افکار و تصورات کے اندر کیا کیا انحراف ہے اور کیا کیا کمزوریاں ہیں ؟ اور یہ کہ ان کے پیمانے کس قدر غلط ہیں ؟ اور یہ کہ ایک مومن کے دل و دماغ کے اندر افکار اور تصورات اور حسن وقبح کے پیمانے ایسے ہونے چاہئیں اور کسی فرد اور قوم کے اعمال کا جائزہ ان پیمانوں کے مطابق ہونا چاہئے اور اس کے بعد جب مومن پر اعمال اور افراد کو پیش کیا جاتا ہے تو وہ ایک روشن مزاج اور ایمانی احساس اور ایمانی سرمایہ حکمت کی روشنی میں ان پر فوراً حکم لگاتا ہے کہ کیا کمتر ہے اور کیا بہتر ہے ۔ کون صالح ہے اور کون برا ہے۔

یہ قرآنی انداز بیان کا ایک خاص رنگ ہے ۔ عبداللہ ابن ابی اس وقت تک اپنی قوم کا سرکردہ لیڈر تھا جیسا کہ ہم نے اوپر بیان کیا ہے ۔ وہ اس لئے سوج گیا کہ رسول اکرم ﷺ نے اس کی رائے کو قبول نہ کیا تھا۔ اس لئے کہ نبی ﷺ نے اصول مشورہ کو رائج کرنا تھا۔ پھر جو بات طے ہوجائے اس کو نافذ کرنا تھا ‘ چاہے وہ غلط ہی کیوں نہ ہو کیونکہ دوسری رائے کے سلسلے میں لوگوں کو رجحان ظاہرہوگیا تھا ۔ اس شخص کی اس روگردانی کی وجہ سے اسلامی صفوں کے اندر بڑی افراتفری پیدا ہوگئی تھی ۔ ان کے افکار میں تزلزل پیدا ہوگیا تھا۔ پھر اس کی رائے کی اہمیت اور بھی واضح ہوگئی جب شکست ہوئی اور لوگوں کو حسرت اور افسوس ہونے لگا۔ اور دلوں میں یہ بات آئی کہ اسی کے کہنے پر عمل کرلیا ہوتا ۔ اسلامی منہاج کے لئے یہ ضروری تھا کہ اس کی رائے اور اس کے اس فعل کو قدرے نظر انداز کرکے اور غیر اہم کرکے پیش کیا جائے اور جنگ کے واقعات کا آغاز اس واقعہ سے نہ کیا جائے ۔ حالانکہ یہ حادثہ پہلے درپیش ہوا تھا۔ اس واقعہ کو اس قدر موخر کرنے اور پھر اسے بیان کرکے اس گروہ پر نفاق کا لیبل چسپاں کردینے اور پھر ان کے لئے غائب اور مجہول صیغے کا استعمال اور اس گروہ کے سرغنے کا ذکر نہ کرنے سے اور انہیں الَّذِينَ نَافَقُوا……………کہہ کر پکارنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ ان کی اہمیت کو کم کیا جائے اور یہ بات اصولاًان تمام لوگوں پر چسپاں ہو ‘ جو ایسی حرکات کرتے ہیں اور بات اس طرح اصولی رنگ اختیار کرے جس طرح آغاز کلام میں اسے اصولی رکھا گیا تھا۔

اردو ترجمہ

یہ وہی لوگ ہیں جو خود تو بیٹھے رہے او ران کے جو بھائی بند لڑنے گئے اور مارے گئے ان کے متعلق انہوں نے کہہ دیا کہ ا گروہ ہماری بات مان لیتے تو نہ مارے جاتے ان سے کہو اگر تم اپنے قول میں سچے ہو تو خود تمہاری موت جب آئے اُسے ٹال کر دکھا دینا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Allatheena qaloo liikhwanihim waqaAAadoo law ataAAoona ma qutiloo qul faidraoo AAan anfusikumu almawta in kuntum sadiqeena

اہل اسلام کے دلوں کے اندر سکون پیدا کرنے ‘ ان کے دلوں اور ان کے ضمیر کو ‘ ان سنن الٰہیہ پر مطمئن کرنے کے بعد جو اس کائنات میں جاری اور ساری ہیں ‘ انہیں یہ بتانے کے بعد کہ تمام کام اللہ کی تقدیر کے مطابق ہوتے ہیں ‘ اور یہ سمجھانے کے بعد کہ اللہ کی تقدیر کے پیچھے اللہ کی حکمت اور تدبیر کام کررہی ہوتی ہے ۔ اور یہ بات ذہن نشین کرنے کے بعد کہ موت کے لئے وقت مقرر ہے ‘ اس کا وقت پہلے سے طے شدہ ہے اور جنگ میں شریک نہ ہونا اسے موخر نہیں کرسکتا اور جنگ میں شرکت سے موت پہلے نہیں آسکتی اور یہ سمجھانے کے بعد کوئی محافظ موت سے حفاظت نہیں دے سکتا اور کوئی تدبیر موت کو روک نہیں سکتی ‘ غرض ان تمام امور کے بعد اب سیاق کلام میں ایک دوسری حقیقت کو لیا جاتا ہے۔ یہ حقیقت اپنی ذات میں بھی عظیم ہے اور اس کے اثرات بھی نہایت ہی عظیم ہیں۔

یہ حقیقت کیا ہے ؟ یہ کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں وہ مردہ نہیں ہوتے ‘ وہ تو زندہ ہوتے ہیں ۔ وہ اپنے رب کے ہاں مہمان خصوصی ہوتے ہیں ۔ ان کی زندگی ‘ مرنے کے بعد ‘ اسلامی جماعت کی زندگی سے منقطع نہیں ہوتی ‘ وہ بعد کے واقعات سے لاتعلق نہیں ہوتے ‘ وہ ان واقعات سے خود بھی متاثر ہوتے ہیں اور واقعات میں ایک موثر فیکٹر بھی ہوتے ہیں اور زندگی عبارت کس چیز سے ہے ؟ تاثیر اور تاثر ہی تو زندگی ہے ۔

یہاں معرکہ احد کے شہداء کی زندگی اور ان واقعات اور حادثات کے درمیان رابطہ قائم کردیا جاتا ہے جو ان کی شہادت کے بعد پیش آئے ۔ اس کے بعد گروہ مومن کی بات متصلاً بیان کردی جاتی ہے ‘ جس نے اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی پکار پر لبیک کہا۔ درآنحالیکہ وہ زخموں سے چور چور تھے ۔ وہ نکلے ‘ انہوں نے قریش کا تعاقب کیا ‘ یہ قریش اگرچہ جاچکے تھے لیکن یہ خطرہ موجود تھا کہ وہ دوبارہ مدینہ پر حملہ آور ہوجائیں ۔ اس گروہ نے لوگوں کے اس ڈرامے کی کوئی پرواہ نہ کی کہ قریش پھر سے جمع ہورہے ہیں ۔ ذات باری پر توکل کی اور انہوں نے اس کارنامے کی وجہ سے اپنے ایمان کو حقیقت کا روپ دیا۔

اردو ترجمہ

جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوئے ہیں انہیں مردہ نہ سمجھو، وہ تو حقیقت میں زندہ ہیں، اپنے رب کے پاس رزق پا رہے ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wala tahsabanna allatheena qutiloo fee sabeeli Allahi amwatan bal ahyaon AAinda rabbihim yurzaqoona

مومنین کے دل و دماغ میں تقدیر اور موت کے مقررہ وقت کے بارے میں صحیح تصورات بٹھانے کے بعد اور منافقین اسلامی صفوں کے اندر جو بےچینی ‘ شکوک اور حسرتیں پیدا کرتے تھے ان کی تردید کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ مناسب سمجھا کہ اہل ایمان کے دلوں کے اندر مزید سکون اور پورا اطمینان پیدا کیا جائے ۔ اس لئے منافقین مسلسل یہ پروپیگنڈا کررہے تھے کہ اگر تم اتنے ہی باتدبیر ہو تو خود اپنی موت کو روک لینا جب وہ آئے ۔ لیکن سابقہ آیات میں پیدا کردہ ایمان وایقان اور اس مسکت جواب کے بعد اللہ نے چاہا کہ ان کے دلوں میں شہداء کے مستقبل کے بارے میں مزید اطمینان پیدا کردیاجائے ۔ وہ شہداء جو اللہ کی راہ میں قتل ہوئے (اور شہداء ہوتے ہی وہ ہیں جو اللہ کی راہ میں قتل ہوں) اور ان کے پیش نظر یہی مقاصد ہوں ۔ اور ان مقاصد کے ساتھ کوئی اور مقصد شریک نہ ہو۔ تو ایسے شہداء جو فی سبیل اللہ قتل ہوئے وہ فی الحقیقت زندہ جاوید ہیں ۔ ان کو ایسے خصائص حاصل ہیں جو زندہ لوگوں کو حاصل ہوتے ہیں ۔ مثلاً یہ کہ انہیں ان کے رب کے ہاں کھانے دیے جاتے ہیں اور کھانے کے علاوہ ان پر فضل خداوندی ہے اور اس فضل پر وہ بہت خوش ہیں ‘ اور ان کو پھر اہل ایمان کے معاملات کی رپورٹ دی جاتی ہے جن معاملات کے لئے انہوں نے اپنی جان دی ۔ وہ پورے واقعات ان کو سنائے جاتے ہیں۔ ان کے بعد بھائیوں کے ساتھ جو واقعات پیش آتے ہیں وہ اس کے سامنے پیش ہوتے ہیں ۔ اور یہ سب خواص وہ ہیں جو زندہ لوگوں کو حاصل ہوتے ہیں مثلاً سازوسامان ‘ خوشخبری ‘ اہتمام اور تاثر اور تاثیر ۔ یہ سب زندہ لوگوں کی صفات ہیں ۔ لہٰذا ان کی جدائی وفات حسرت آیات نہیں ہے ۔ وہ زندہ ہیں ‘ ان کا رابطہ زندوں کے ساتھ قائم ہے اور اس کے علاوہ مزید فضل یہ کہ وہ فضل الٰہی میں ڈوبے ہوئے ہیں ۔ یہ فضل ان کے رزق اور مرتبے ومقام سے علیحدہ ہے ۔ اس لئے لوگ شہداء اور ان کے بعد رہنے والے بھائیوں کے درمیان جو فرق کرتے ہیں وہ درحقیقت کچھ حقیقت نہیں رکھتا۔ اس لئے لوگوں کے ذہنوں میں عالم الحیاۃ اور عالم مابعد الممات کے اندر جو فرق ہے وہ شہداء کے حوالے سے کچھ نہیں ہے ۔ مومنین کے نقطہ نظر سے کوئی فرق نہیں ہے ‘ اس لئے کہ ان کا معاملہ یہاں بھی اللہ سے ہے اور وہاں بھی اللہ سے ہے۔

اس حقیقت کو ذہن میں بٹھانے کے بعد اس دنیا کے واقعات پر سوچنے کے انداز بدل جاتے ہیں ۔ یہ حقیقت انسان کی سوچ بدل دیتی ہے ۔ اس کائنات کے بارے میں ایک مومن کے اندر ایک بالکل نئی سوچ پیدا ہوجاتی ہے ۔ کائنات کی یہ حرکت ایک مومن کے نقطہ نظر سے اپنے اندر تسلسل رکھتی ہے۔ وہ کبھی منقطع نہیں ہوتی ۔ یوں ایک انسان جب مرجاتا ہے تو اس کی زندگی کا خاتمہ نہیں ہوتا بلکہ موت وجہ سے قبل الممات اور بعد الممات زندگی میں ایک پردہ ساحائل ہوجاتا ہے۔

یہ موت وحیات کے لئے ایک نیا نقطہ نظر ہے ۔ اس سے ایک مسلمان کے شعور میں عظیم انقلاب برپا ہوتا ہے ۔ مسلمان کی زندگی اور موت دو کا استقبال ایک مخصوص نقطہ نظر کے ساتھ کرتے ہیں۔

وَلا ﺗَﺤۡﺴَﺒَﻦَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ……………” اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوئے ہیں انہیں مردہ نہ سمجھو ‘ وہ تو حقیقت میں زندہ ہیں ‘ اپنے رب کے پاس رزق پا رہے ہیں ۔ “

یہ آیت اس بارے میں نص قطعی ہے کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے گئے ‘ جنہوں نے زندگی قربان کردی ‘ اور لوگوں کی نظروں سے غائب ہوگئے انہیں مردہ کہنا یا سمجھنا ممنوع ہے ۔ اور یہ آیت اس امر میں بھی قطعی ہے کہ وہ زندہ ہیں ۔ اپنے رب کے ہاں رزق پا رہے ہیں ۔ اور اس نہی اور اثبات کے بعد ‘ اس آیت میں ان خصائص حیات کا ذکر ہوتا ہے اور ان کے رزق دئیے جانے کا ذکر ہے۔

ہم اس جہاں فانی میں ‘ شہداء کی زندگی سے صحیح معرفت نہیں پاتے ۔ ہاں ان شہداء کی زندگی کے بعض اوصاف بعض احادیث میں ذکر ہوئے ہیں ‘ لیکن اللہ جل شانہ کی طرف سے بذریعہ وحی آئی ہوئی یہ آیت ہمارے لئے اس ضمن میں کافی وشافی ہے ۔ اس لئے کہ اللہ علیم وخبیر ہے اور صرف اللہ ہی اس بات کا ضامن ہے کہ وہ موت وحیات کے بارے میں تصورات کو بدل دے ۔ یہ کہ ان کے درمیان کس حد تک دوئی اور جدائی ہے اور کس قدر اتحاد واتصال ہے ۔ اور یہ بات اللہ ہی بتاسکتا ہے کہ معاملات بعینہ ایسے نہیں ہیں جس طرح بظاہر ہمیں ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں یا جس طرح ہم ان کا ادراک کرسکتے ہیں ۔ اور ہم جب بےقید اور مطلق حقائق کے معانی اپنے اذہان میں مقرر کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ یہ مفاہیم آخری مفہومات ہیں اور یہ کہ ہم نے حقائق بعد الممات کا کماحقہ ادراک کرلیا ہے ۔ لہٰذا ہمارے لئے یہ بہتر ہے کہ ہم صرف ذات باری تعالیٰ کے بیان کا انتظار کریں کہ اللہ نے کیا کہا ہے ‘ اور اس پر اکتفاء کریں۔

شہداء وہ لوگ ہیں جو بظاہر قتل ہوجاتے ہیں ۔ بظاہر ان کی زندگی ان سے جدا ہوجاتی ہے اور وہ بھی زندگی سے جدا ہوجاتے ہیں ‘ جس طرح ہمیں نظرآتا ہے لیکن چونکہ وہ اللہ کی راہ میں قتل ہوتے ہیں ‘ اور تمام دنیاوی اغراض کو ترک کرکے قتل ہوتے ہیں ‘ دنیا کی چھوٹی چھوٹی اغراض کو وہ چھوڑ دیتے ہیں ۔ ان کی روحیں اللہ سے مل جاتی ہیں ‘ اس لئے وہ اپنی روحوں کو اللہ کی راہ میں قربان کردیتے ہیں۔ اور وہ اسی طرح بظاہر قتل ہوتے نظر آتے ہیں ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ جو مخبر صادق ہے ہمیں اطلاع دیتے ہیں کہ وہ مردہ نہیں اور ہمیں منع کرتے ہیں کہ انہیں زبان سے بھی مردہ نہ کہو ۔ اور بتاکید مزید فرماتے ہیں کہ وہ زندہ ہیں ۔ انہیں باقاعدہ رزق دیا جاتا ہے اور وہ اللہ کا رزق اس طرح حاصل کرتے ہیں جس طرح زندہ لوگ حاصل کرتے ہیں ۔ اور اسی طرح اللہ تعالیٰ ہمیں ان کی بعض دوسری خصوصیات کی بھی اطلاع دیتے ہیں ‘ مثلاً

اردو ترجمہ

جو کچھ اللہ نے اپنے فضل سے انہیں دیا ہے اُس پر خوش و خرم ہیں، اور مطمئن ہیں کہ جو اہل ایمان انکے پیچھے دنیا میں رہ گئے ہیں اور ابھی وہاں نہیں پہنچے ہیں ان کے لیے بھی کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Fariheena bima atahumu Allahu min fadlihi wayastabshiroona biallatheena lam yalhaqoo bihim min khalfihim alla khawfun AAalayhim wala hum yahzanoona

فَرِحِينَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ……………” جو کچھ اللہ نے اپنے فضل سے انہیں دیا ہے اس پر خوش اور خرم ہیں ۔ “ یعنی وہ اللہ کے ہاں سے آیا ہوا رزق بڑی فرحت کے ساتھ حاصل کرتے ہیں ۔ اس لئے کہ انہیں اچھی طرح ادراک ہوچکا ہوتا ہے کہ یہ تو اللہ کا فضل خاص ہے ۔ یہ فضل خاص ان کے لئے ثبوت ہے اللہ کی رضامندی کا ‘ اس لئے کہ وہ اس کی راہ میں قتل ہوئے ۔ پس اس سے زیادہ ان کے لئے اور کیا چیز سامان فرحت ہوسکتی ہے کہ انہیں اللہ کا رزق اس احساس کے ساتھ ملے کہ وہ ان سے راضی بھی ہوچکا ہے۔

اردو ترجمہ

وہ اللہ کے انعام اور اس کے فضل پر شاداں و فرحاں ہیں اور ان کو معلوم ہو چکا ہے کہ اللہ مومنوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Yastabshiroona biniAAmatin mina Allahi wafadlin waanna Allaha la yudeeAAu ajra almumineena

اس کے بعد یہ خصوصیت کہ ان کے دل ان لوگوں کے حالات کے اندر مشغول ہیں اور دلچسپی لے رہے ہیں جو اس دنیا میں زندہ رہ رہے ہیں اور ان کے زندہ رہنے والوں کے انجام کے بارے میں بہت ہی مطمئن ہیں ۔ اس لئے کہ انہیں معلوم ہوگیا ہے کہ ان سے بھی اللہ تعالیٰ راضی ہے ۔

يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ وَأَنَّ اللَّهَ لا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُؤْمِنِينَ

” اور مطمئن ہیں کہ جو اہل ایمان ان کے پیچھے دنیا میں رہ گئے ہیں اور ابھی وہاں نہیں پہنچے ‘ ان کے لئے بھی کسی رنج وخوف کا موقعہ نہیں ہے ۔ وہ اللہ کے انعام اور اس کے فضل پر شاداں اور فرحاں ہیں اور ان کو معلوم ہوچکا ہے کہ اللہ مومنوں کا اجر ضائع نہیں کرتا ۔ “

وہ اپنے بھائیوں سے منقطع نہیں ہوگئے ‘ جو ابھی وہاں نہیں پہنچے اور ان سے جدا ہوگئے ہیں ۔ وہ زندہ ہیں ‘ ان کے ساتھ ہیں اور دنیا اور آخرت میں پیچھے آنے والوں سے جو کچھ ملنے والا ہے ‘ اس پر وہ بہت ہی خوش ہیں اور وہ اس لئے شاداں وفرحاں ہیں کہ ان آنے والوں کے لئے بھی کسی رنج اور خوف کا موقعہ نہیں ہے ۔ وہ اپنے رب کے ہاں جو اعلیٰ درجے کی زندگی گزار رہے ہیں ۔ اس سے انہیں معلوم ہوگیا ہے کہ آنے والوں کے بھی مزے ہیں ۔ اس لئے کہ ان پر بےبہا فضل وکرم ہورہا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا مومنین صادقین کے ساتھ یہی تعلق ہوتا ہے کہ وہ ان کا اجر ضائع نہیں کرتا۔

سوال یہ ہے کہ زندگی کے خصائص میں سے کون ساوہ خاصہ ہے جو ان شہداء فی سبیل اللہ کو حاصل نہیں ہے ؟ اور وہ کیا چیز ہے جو آنے والے مومنین سے ان کو ممتاز کرتی ہے اور یہ کہ ان کے اس انتقال کی وجہ سے پھر حسرت ‘ فقدان اور وحشت اور افسوس کا کیا موقعہ ہے ؟ یعنی پسماندگان کے لئے افسوس کا کیا موقع ہے کہ وہ افسوس کرتے ہیں ۔ یہ تو نہایت خوشی کا موقعہ ہے ۔ یہ تو رضامندی اور محبت کا موقعہ ہے کہ ایک شخص ہم سے جدا ہوکر اللہ کے ہاں پہنچ گیا۔ اور اس انتقال کے ساتھ ساتھ ہم سے ملحق بھی ہے ۔

اگر موت فی سبیل اللہ ہے ‘ تو وہ موت نہیں ہے اور خود مجاہدین کے اپنے شعور کے مطابق بھی وہ موت نہیں ہے ۔ ان لوگوں کے لئے بھی موت نہیں ہے جو پیچھے رہ گئے ہیں بلکہ یہ زندگی کے میدان کی وسعت ہے ۔ اس کے شعور کی وسعت ہے ‘ اس کی صورتوں کی وسعت ہے ۔ یہ حیات ‘ شہید کی حیات ‘ زندگی کی سرحدوں کے آگے چلی جاتی ہے ۔ اسی طرح اس زندگی کے مظاہر بدل جاتے ہیں۔ یہ زندگی دنیا کی تنگ دامانی سے نکل کر ایک وسیع میدان میں داخل ہوجاتی ہے ۔ اس کے سامنے وہ پردے اور رکاوٹیں نہیں ہوتیں جو ہمارے ذہن میں ہوتی ہیں ۔ گویا زندگی اپنی شکل و صورت سے منتقل ہوکر دوسری شکل و صورت میں داخل ہوجاتی ہے ۔ ایک زندگی ختم ہوتی اور دوسری شروع ہوتی ہے ۔

اس آیت نے زندگی کو جو نیا مفہوم دیا ہے ‘ یا قرآن کریم کی اس جیسی دوسری آیات شہداء کی زندگی کو جو مفہوم عطا کرتی ہیں ‘ اس کے اثرات یہ ہوئے کہ مجاہدین کرام کے قدم طلب شہادت میں ہر وقت رواں دواں رہے ۔ اور ان کی ایک مثال وہ نمونے ہیں جو ہم نے جنگ احد کے بیان کے آغاز میں دئیے ہیں ۔

اس حقیقت اور عظیم حقیقت کے بیان کے بعد کہ اہل ایمان کے لئے جو کچھ اللہ کے ہاں تیار کیا ہوا ہے ‘ اس پر شہداء خوشیاں منا رہے ہیں ‘ تو اللہ تعالیٰ یہاں وضاحت فرماتے ہیں کہ وہ اہل ایمان ہیں ‘ کون ہیں اور ان کا ان کے رب کے ساتھ کیا تعلق ہے ؟

اردو ترجمہ

جن لوگوں نے زخم کھانے کے بعد بھی اللہ اور رسول کی پکار پر لبیک کہا اُن میں جو اشخاص نیکوکار اور پرہیز گار ہیں اُن کے لیے بڑا اجر ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Allatheena istajaboo lillahi waalrrasooli min baAAdi ma asabahumu alqarhu lillatheena ahsanoo minhum waittaqaw ajrun AAatheemun

یہ وہ لوگ تھے جنہیں جنگ احد کی دوسری صبح رسول اللہ ﷺ نے پکارا نکلو کہ ابھی تلخ معرکہ ختم نہیں ہے اور ان کی حالت یہ تھی کہ ان کے زخموں سے ابھی تک خون جاری ہے ۔ اور وہ کل ہی جان لڑا کر موت کے منہ سے نکلے تھے ۔ اور ابھی تک انہوں نے کل کے معرکہ کی ہولناکیوں کو بھولانہ تھا۔ ہزیمت کی تلخی ان کے منہ میں باقی تھی ‘ درد کی شدت میں ابھی تک کمی نہ آئی تھی ۔ مزید یہ کہ انہوں نے اعزہ و اقارب کی قیمتی جانوں کا نذرانہ کل ہی تو پیش کیا تھا اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ان کی اکثریت بری طرح زخمی تھی ۔

رسول اللہ ﷺ نے انہیں پکارا تھا اور صرف انہیں پکارا تھا اور یہ دعوت اور اس کے نتیجے میں لوگوں کی طرف سے لبیک کہنا ‘ ایک ایسافعل تھا جس کے اندر گہرے اشارات پائے جاتے ہیں ۔ اور یہ بڑے حقائق پر مشتمل ہے ۔ اور اس میں گہری حکمت پوشیدہ تھی ۔

ممکن ہے رسول اللہ ﷺ یہ چاہتے ہوں کہ اس معرکے میں اہل ایمان کی آخری بات اور ان کا آخری شعور یہ نہ ہو کہ انہیں ہزیمت ہوئی ہے ۔ اور وہ شکست کھاچکے ہیں اور اس زخموں کی حالت میں کراہ رہے ہیں ۔ اس لئے رسول اللہ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ کپڑے جھاڑیں اور قریش کا تعاقب کریں ۔ ان کا پیچھا کریں تاکہ ان کے ذہن میں یہ بات بیٹھ جائے کہ یہ تو ایک ابتلاتھی ‘ ایک تجربہ تھا اور یہ اس معرکے کا کوئی آخری فیصلہ نہ تھا ۔ اور اس کے بعد بھی مسلمانوں کی قوت اپنی جگہ موجود ہے ۔ اور یہ کہ دشمن ابھی تک ضعیف ہیں ۔ یہ تو ایک بار تھی جس میں اچانک شکست ہوگئی ۔ اور ہم اس کا بدلہ لیں گے ۔ اگر ہم نے کمزوری اور بےاتفاقی کو دور کردیا اور اللہ اور رسول کے حکم کو تسلیم کیا۔

یہ بھی ممکن تھا کہ رسول اللہ قریش کے ذہنوں سے یہ بات نکالنا چاہتے ہوں کہ وہ فتح کے پھریرے اڑاتے ہوئے مکہ میں داخل ہورہے ہیں۔ اس لئے آپ نے اس معرکے میں شریک ہونے والوں کی معیت میں ان کا تعاقب کیا۔ اور اس سے قریش کو یہ جتلانا مقصود تھا کہ انہوں نے ابھی تک مسلمانوں کی قوت کو توڑا نہیں ہے ۔ اور یہ کہ ابھی تک ان میں تعاقب یا دوسری جنگ کی قوت باقی ہے ۔ جس طرح سیرت کی روایات میں آتا ہے اس تعاقب سے یہ دونوں مقاصد پورے ہوگئے۔

شاید رسول اکرم ﷺ مسلمانوں اور پوری دنیا کو یہ احساس دلانا چاہتے تھے کہ اس دنیا میں ایک نئی حقیقت کا ظہور ہوچکا ہے اور وہ نئی حقیقت جو اپنے ظہور کے بعد اب قائم ہوچکی ہے وہ یہ ہے کہ اس نئی تحریک کا اصل سرمایہ اس کا عقیدہ ہے ۔ یہی اس کا نصب العین ہے اور اس کے سوا اس کا کوئی مقصد حیات نہیں ہے اور اس کے سوا اس کو زندگی میں کوئی اور ترجیح نہیں ہے ۔ مسلمان اس نظریہ حیات ہی کے لئے زندہ ہیں ‘ اس لئے اس نظریہ حیات کے بعد ان کے نفوس کی کوئی اور تمنا نہیں ہے ۔ اور وہ اس کے لئے اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لئے تیار ہیں ۔

اس وقت اس کرہ ارض پر یہ ایک بالکل نئی بات تھی ۔ لہٰذا یہ بات ضروری تھی کہ پوری دنیا کو معلوم ہوجائے اور خود مسلمانوں کو بھی اس کا شعور ہوجائے ‘ کہ یہ جدید نظریہ اب قائم ہوچکا ہے اور اب یہ اس کرہ ارض پر ایک انمٹ حقیقت ہے ۔ اور اس حقیقت کا اس سے بڑا اظہار نہ ہوسکتا تھا کہ احد میں اس قدر زخم کھانے کے بعد فدایان اسلام اپنے رستے زخموں کے ساتھ ایک غالب قوت کے تعاقب میں نکل کھڑے ہوں ۔ ان کی جانب سے یہ اقدام ایک واضح روشن اور بالکل ایک خوفناک اقدام تھا ۔ اس میں توکل علی اللہ کی روشن مثال پائی جاتی تھی ۔ اور لوگ ان جانبازوں کو جو ڈرا رہے تھے کہ قریش پھر سے جمع ہورہے ہیں ‘ جس طرح ابوسفیان کے نمائندوں نے انہیں یہ بات پہنچائی تھی اور منافقین نے بھی قریش کے اس منصوبے کو خوفناک انداز میں پیش کیا کہ وہ ایسا کرنے والے ہیں ۔

الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا مِنْهُمْ وَاتَّقَوْا أَجْرٌ عَظِيمٌ……………” جن سے لوگوں نے کہا کہ تمہارے خلاف بڑی فوجیں جمع ہوئی ہیں ان سے ڈرو ‘ تو یہ سن کر ان کا ایمان اور بڑھ گیا۔ اور انہوں نے جواب دیا ‘ ہمارے لئے اللہ کافی ہے اور وہی بہتر کارساز ہے ۔ “

اس خوفناک صورت حال میں یہ تعاقب دراصل یہ اعلان تھا کہ اس کرہ ارض پر اب انقلاب اور یہ عظیم انقلاب اب حقیقت بن چکا ہے ۔ غرض یہ تھے وہ بعض پہلو جو رسول ﷺ کے اس حکیمانہ اقدام سے واضح طور پر نظر آتے ہیں ۔ سیرت کی بعض روایات سے ان لوگوں کے حالات کا پتہ چلتا ہے جنہوں نے زخموں کے اندر چکنا چور ہونے کے باوجود رسول ﷺ کی کال (پکار) پر لبیک کہا۔

اردو ترجمہ

اور وہ جن سے لوگوں نے کہا کہ، "تماررے خلاف بڑی فوجیں جمع ہوئی ہیں، اُن سے ڈرو"، تو یہ سن کر ان کا ایمان اور بڑھ گیا اور اُنہوں نے جواب دیا کہ ہمارے لیے اللہ کافی ہے اور وہی بہترین کارسا ز ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Allatheena qala lahumu alnnasu inna alnnasa qad jamaAAoo lakum faikhshawhum fazadahum eemanan waqaloo hasbuna Allahu waniAAma alwakeelu

محمد بن اسحاق نے عبداللہ ابن جارحہ ‘ ابوالسائب سے روایت کی ہے کہ رسول ﷺ کے ساتھیوں میں سے ایک صاحب جو بنو عبدالاشہل سے تعلق رکھتے تھے ‘ وہ احد میں شریک تھے ۔ اس نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ احد میں شریک ہوئے تھے ۔ میں تھا ‘ میرا بھائی تھا ‘ ہم لوٹے دونوں زخمی تھے ۔ رسول اللہ ﷺ کے موذن نے اعلان کیا کہ نکلو ‘ دشمن کا تعاقب کرنا ہے۔ میں نے اپنے بھائی سے کہا یا بھائی نے مجھ سے کہا کیا اب ہم سے رسول اللہ ﷺ کی یہ جنگ رہ جائے گی ۔ ہمارے پاس کوئی سواری نہیں ہے اور ہم دونوں شدید زخمی بھی ہیں ۔ ہم دونوں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکل پڑے ۔ میرا زخم بھائی سے ذرا کم تھا۔ جب اس کی طبیعت خراب ہوتی تو میں اسے پیچھے سے تھامتا ‘ یہاں تک کہ ہم مسلمانوں کے ساتھ منزل مقصود تک پہنچ گئے ۔

محمد بن اسحاق کہتے ہیں کہ احد کی جنگ بروز ہفتہ 15 شوال کو ہوئی تھی ۔ دوسرے دن 16 شوال کو رسول ﷺ کے موذن نے اذان دی ۔ اور حکم دیا کہ دشمن کا تعاقب کرنا ہے ۔ اور موذن نے یہ اعلان بھی کیا کہ ہمارے ساتھ صرف وہ لوگ جائیں گے جو کل کے معرکے میں شریک ہوئے تھے ۔ آپ کے ساتھی جابر ابن عبدللہ ابن عمرو ابن حرام نے کہا کہ میرے باپ نے مجھے اپنی بہنوں کی نگرانی کے لئے چھوڑدیا تھا۔ میری سات بہنیں تھیں ۔ میرے باپ نے مجھ سے کہا کہ ” برخوردار نہ یہ میرے لئے مناسب ہے اور نہ آپ کے لئے مناسب ہے کہ آپ ان سات عورتوں کو چھوڑ کر جہاد کے لئے نکلیں ۔ “ اور میرے لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جہاد کا شرف تمہیں دے دوں۔ اس لئے تم بہنوں کے پاس رہو ۔ صرف ان کو رسول ﷺ نے اجازت دے دی اور وہ آپ کے ساتھ نکلے ۔

جب اس عظیم حقیقت کا اعلان ہوا ‘ تو اس قسم کے عظیم اور بےمثال واقعات ظہور پذیر ہوئے ۔ لوگوں کی ذہنی دنیا میں انقلاب آیا۔ ایسے تربیت یافتہ نفوس قدسیہ تیار ہوئے جو صرف اللہ کو اپنا وکیل و مددگار سمجھتے تھے۔ وہ صرف ذات باری پر راضی تھے ‘ ذات باری ہی کو کافی سمجھتے تھے ۔ وہ ذات باری ہی کو یاد کرتے تھے اور جب سخت سے سخت حالات پیش آتے تو ان کا ایمان اور پختہ ہوجاتا اور جب لوگ انہیں مشکلات سے ڈراتے تو ان کا جواب یہ ہوتا حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ ” ہمارے لئے اللہ کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے ۔ “

72