وذکر ........ المومنین (15 : 55) ” البتہ نصیحت کرتے رہو کیونکہ نصیحت ایمان لانے والوں کے لئے نافع ہے۔ “
اور دوسروں کے لئے نافع نہیں ہے کیونکہ انہوں نے انکار کا فیصلہ کرلیا ہے۔ تذکیر اور دعوت رسول کے فرائض میں سے ہے اور ایمان لانا نہ لانا رسول کے فرائض سے باہر ہے۔ یہ اللہ کا کام ہے جو آسمان اور زمین اور انسانوں کا خالق ہے۔ اب اس سورة میں عقل وخرد کے تاروں پر آخری ضرب لگائی جاتی ہے اور اس میں فرار الی اللہ کے معنی کی وضاحت کی جاتی ہے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ زمین کے بوجھوں اور گرادنوں سے نجات کس طرح مل سکتی ہے۔ وہ یوں کہ انسان اور جن جس مقصد کے لئے پیدا کئے گئے ہیں وہ فریضہ ادا کریں۔
آیت 55{ وَّذَکِّرْ فَاِنَّ الذِّکْرٰی تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِیْنَ۔ } ”اور آپ تذکیر کرتے رہیے ‘ کیونکہ یہ تذکیر اہل ایمان کے لیے بہت فائدہ مند ہے۔“ آپ تعلیم و تبلیغ کی صورت میں تذکیر و یاد دہانی کا سلسلہ جاری رکھیں۔ یہ سرکش لوگ اگر اس تذکیر کو نظرانداز کر رہے ہیں تو کچھ مضائقہ نہیں ‘ اہل ایمان کے لیے تو یہ بہت مفید ہے۔ آپ سے قرآن سن سن کر اہل ِ ایمان کے ایمان میں برابر اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔