سورہ ذاریات (51): آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں۔ - اردو ترجمہ

اس صفحہ میں سورہ Adh-Dhaariyat کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الذاريات کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔

سورہ ذاریات کے بارے میں معلومات

Surah Adh-Dhaariyat
سُورَةُ الذَّارِيَاتِ
صفحہ 523 (آیات 52 سے 60 تک)

سورہ ذاریات کو سنیں (عربی اور اردو ترجمہ)

سورہ ذاریات کی تفسیر (تفسیر بیان القرآن: ڈاکٹر اسرار احمد)

اردو ترجمہ

یونہی ہوتا رہا ہے، اِن سے پہلے کی قوموں کے پاس بھی کوئی رسول ایسا نہیں آیا جسے انہوں نے یہ نہ کہا ہو کہ یہ ساحر ہے یا مجنون

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Kathalika ma ata allatheena min qablihim min rasoolin illa qaloo sahirun aw majnoonun

آیت 52{ کَذٰلِکَ مَآ اَتَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ۔ } ”اسی طرح ہوتا آیا ہے کہ نہیں آیا تھا ان سے پہلے لوگوں کے پاس کوئی رسول مگر انہوں نے یہی کہا تھا کہ یہ ساحر ہے یا مجنون ہے۔“

اردو ترجمہ

کیا اِن سب نے آپس میں اِس پر کوئی سمجھوتہ کر لیا ہے؟ نہیں، بکہ یہ سب سرکش لوگ ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Atawasaw bihi bal hum qawmun taghoona

آیت 53{ اَتَوَاصَوْا بِہٖ ج } ”کیا وہ ایک دوسرے کو وصیت کر گئے تھے اس کی ؟“ یعنی جو باتیں آج سے صدیوں پہلے کے لوگ اپنے پیغمبروں سے کہتے تھے ‘ عین وہی باتیں قریش مکہ آج ہمارے آخری رسول ﷺ سے کہہ رہے ہیں۔ کیا ان کی ہر نسل دوسری نسل کو یہ باتیں وصیت میں بتا کر جاتی رہی ہے ؟ { بَلْ ہُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَ۔ } ”بلکہ یہ ہیں ہی سرکش لوگ !“ ان کے رویے کی یکسانی اور ایک ہی طرز جواب کی مسلسل تکرار کی وجہ یہ ہے کہ طغیان و سرکشی ان سب کا مشترک وصف ہے۔ چناچہ اپنے اپنے پیغمبروں کے خلاف ان کے اعتراضات بھی ایک جیسے ہیں۔

اردو ترجمہ

پس اے نبیؐ، ان سے رخ پھیر لو، تم پر کچھ ملامت نہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Fatawalla AAanhum fama anta bimaloomin

آیت 54{ فَتَوَلَّ عَنْہُمْ فَمَآ اَنْتَ بِمَلُوْمٍ۔ } ”پس اے نبی ﷺ ! آپ ان سے رُخ پھیر لیں ‘ آپ پر کوئی ملامت نہیں ہے۔“ یعنی اگر وہ آپ ﷺ کی مخالفت میں یہاں تک آگئے ہیں کہ آپ ﷺ کو شاعر ‘ ساحر ‘ مجنون اور معُلَّم سکھایا ہوا تک کہہ رہے ہیں اور آپ ﷺ کی دعوت سے مسلسل اعراض کر رہے ہیں تو اب آپ بھی اپنی توجہ ان کی طرف سے ہٹالیجیے۔ آپ محکم دلائل کے ساتھ ان پر اتمامِ حجت کرچکے ہیں۔ اگر یہ لوگ راہ راست پر نہ آئے تو اس کی جواب دہی آپ سے نہیں ہوگی۔ لہٰذا آپ انہیں چھوڑ کر ان لوگوں کی طرف اپنی توجہ مرکوز کریں جو آپ ﷺ کی بات کو سننا اور سمجھنا چاہتے ہیں۔

اردو ترجمہ

البتہ نصیحت کرتے رہو، کیونکہ نصیحت ایمان لانے والوں کے لیے نافع ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wathakkir fainna alththikra tanfaAAu almumineena

آیت 55{ وَّذَکِّرْ فَاِنَّ الذِّکْرٰی تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِیْنَ۔ } ”اور آپ تذکیر کرتے رہیے ‘ کیونکہ یہ تذکیر اہل ایمان کے لیے بہت فائدہ مند ہے۔“ آپ تعلیم و تبلیغ کی صورت میں تذکیر و یاد دہانی کا سلسلہ جاری رکھیں۔ یہ سرکش لوگ اگر اس تذکیر کو نظرانداز کر رہے ہیں تو کچھ مضائقہ نہیں ‘ اہل ایمان کے لیے تو یہ بہت مفید ہے۔ آپ سے قرآن سن سن کر اہل ِ ایمان کے ایمان میں برابر اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔

اردو ترجمہ

میں نے جن اور انسانوں کو اِس کے سوا کسی کام کے لیے پیدا نہیں کیا ہے کہ وہ میری بندگی کریں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wama khalaqtu aljinna waalinsa illa liyaAAbudooni

آیت 56{ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ۔ } ”اور میں نے نہیں پیدا کیا جنوں اور انسانوں کو مگر صرف اس لیے کہ وہ میری بندگی کریں۔“ شیخ سعدی رح نے اس مفہوم کی ترجمانی اس طرح کی ہے : ؎زندگی آمد برائے بندگی زندگی بےبندگی شرمندگی !یہ آیت اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ اس میں تخلیق انسانی کی غایت بیان کی گئی ہے۔ کائنات کی تخلیق کے حوالے سے عام طور پر ایک سوال یہ کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس تخلیق کا سبب کیا ہے ؟ یہ ایک مشکل اور پیچیدہ سوال ہے جس کے جواب میں ہر زمانے کے فلاسفر اور حکماء نے اپنی اپنی آراء دی ہیں۔ یہ ان تفاصیل میں جانے کا موقع نہیں۔ ایک عام شخص کے لیے تخلیق کائنات کے سبب کے بارے میں آگاہی حاصل کرنا ضروری نہیں اور اس لاعلمی کی وجہ سے اسے کوئی نقصان پہنچنے کا اندیشہ بھی نہیں۔ البتہ اپنی تخلیق کی غرض وغایت کے بارے میں جاننا ہر انسان کے لیے ضروری ہے۔ اگر انسان کو اپنی غایت تخلیق ہی کا علم نہیں ہوگا تو گویا اس کی ساری زندگی رائیگاں جائے گی۔ چناچہ اس آیت میں بنی نوع انسان کو ان کی غایت تخلیق واضح طور پر بتادی گئی ہے کہ تمہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی ”بندگی“ کے لیے پیدا کیا ہے۔ بندگی یا عبادت کے بارے میں قبل ازیں بھی میں نے کئی مرتبہ وضاحت کی ہے کہ اس کے تین حصے ہیں : اوّلاً ہمہ تن اطاعت ‘ ثانیاً اطاعت کی روح یعنی اللہ تعالیٰ کی غایت درجے کی محبت۔ عبادت اصلاً ان دو چیزوں کے مجموعے کا نام ہے اَلْعِبَادَۃُ تَجْمَعُ اَصْلَیْنِ : غَایَۃَ الْحُبِّ مَعَ غَایَۃِ الذُّلِّ وَالْخُضُوْعِ ۔ جبکہ تیسری چیز مراسم ِعبودیت ہے ‘ جس کی حیثیت عبادت کے ظاہر یا جسم کی ہے۔ مثلاً اللہ کے سامنے عاجزی کی حالت قنوت میں کھڑے ہونا قیام ‘ رکوع ‘ سجدہ ‘ حمدیہ کلمات ادا کرنا ‘ نماز وغیرہ مراسم عبودیت ہیں اور ان کی اپنی اہمیت ہے۔ اگر ہم عبادت کی اس تعریف اللہ تعالیٰ کی ہمہ تن اطاعت کی روشنی میں آج اپنی حالت کا جائزہ لیں تو یہ تلخ حقیقت واضح ہوگی کہ ہم میں سے جو لوگ اپنے زعم میں شب و روز پابندی کے ساتھ اللہ کی عبادت پر کمر بستہ ہیں وہ بھی زیادہ سے زیادہ دس یا پندرہ فیصد تک اللہ تعالیٰ کی اطاعت کر رہے ہیں۔ اس کا واضح تر مطلب یہ ہے کہ ہماری زندگیوں کا غالب حصہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی اطاعت سے نکلا ہوا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم جس معاشرے میں رہ رہے ہیں اس پر کافرانہ نظام کا غلبہ ہے اور اس نظام کے تحت رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی ہمہ تن اطاعت ممکن ہی نہیں۔ ان حالات میں ہم اللہ تعالیٰ کی اطاعت یا عبادت کے تقاضوں سے کیسے عہدہ برآ ہوسکتے ہیں ؟ اس سوال کا جواب جاننے کے خواہش مند حضرات اس موضوع پر میری کتب اور تقاریر سے استفادہ کرسکتے ہیں۔ آیت زیر مطالعہ کے حوالے سے یہاں پر مختصراً یہ سمجھ لیں کہ مادی وعلمی لحاظ سے انسان جس قدر چاہے ترقی کرلے اگر وہ اپنی زندگی کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت یا بندگی کے قالب میں ڈھالنے سے قاصر رہا تو انسانی سطح پر اس کی ساری زندگی بیکار اور رائیگاں ہے۔ علامہ اقبالؔ نے اپنے ان اشعار میں انسان کی اسی ناکامی کی طرف اشارہ کیا ہے : ؎ڈھونڈنے والا ستاروں کی گزر گاہوں کا اپنے افکار کی دنیا میں سفر کر نہ سکا جس نے سورج کی شعاعوں کو گرفتار کیا زندگی کی شب ِتاریک سحر کر نہ سکا !

اردو ترجمہ

میں اُن سے کوئی رزق نہیں چاہتا اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Ma oreedu minhum min rizqin wama oreedu an yutAAimooni

آیت 57{ مَــآ اُرِیْدُ مِنْہُمْ مِّنْ رِّزْقٍ } ”میں ان سے کوئی رزق نہیں چاہتا“ { وَّمَــآ اُرِیْدُ اَنْ یُّطْعِمُوْنِ۔ } ”اور نہ میں یہ چاہتا ہوں کہ یہ مجھے کھلائیں ‘ پلائیں۔“

اردو ترجمہ

اللہ تو خود ہی رزاق ہے، بڑی قوت والا اور زبردست

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Inna Allaha huwa alrrazzaqu thoo alquwwati almateenu

آیت 58{ اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْـقُوَّۃِ الْمَتِیْنُ۔ } ”یقینا اللہ ہی سب کو رزق دینے والا ‘ قوت والا ‘ زبردست ہے۔“

اردو ترجمہ

پس جن لوگوں نے ظلم کیا ہے ان کے حصے کا بھی ویسا ہی عذاب تیار ہے جیسا اِنہی جیسے لوگوں کو اُن کے حصے کا مل چکا ہے، اس کے لیے یہ لوگ جلدی نہ مچائیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Fainna lillatheena thalamoo thanooban mithla thanoobi ashabihim fala yastaAAjiloona

آیت 59{ فَاِنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذَنُوْبًا مِّثْلَ ذَنُوْبِ اَصْحٰبِہِمْ فَلَا یَسْتَعْجِلُوْنِ۔ } ”پس ان ظالموں کا پیمانہ بھی لبریز ہوچکا ہے جس طرح ان کے ساتھیوں کا پیمانہ لبریز ہوا تھا ‘ سو یہ مجھ سے جلدی نہ مچائیں۔“ ”ذَنُوب“ ایسے ڈول کو کہتے ہیں جو پانی وغیرہ سے لبالب بھرا ہوا ہو۔ مراد یہ کہ زمانہ ماضی میں عذاب کا شکار ہونے والی اقوام کی طرح ان کفار و مشرکین کی بداعمالیوں کا ڈول بھی لبریزہو چکا ہے اور یہ ڈول اب کسی وقت بھی کھینچا جاسکتا ہے۔ لہٰذا اگر فوری طور پر ان کی پکڑ نہیں بھی ہو رہی تو اس سے وہ یہ نہ سمجھیں کہ انہیں یونہی چھوڑ دیا جائے گا۔

اردو ترجمہ

آخر کو تباہی ہے کفر کرنے والوں کے لیے اُس روز جس کا انہیں خوف دلایا جا رہا ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Fawaylun lillatheena kafaroo min yawmihimu allathee yooAAadoona

آیت 60{ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ یَّوْمِہِمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَ۔ } ”تو ہلاکت اور بربادی ہے ان کافروں کے لیے اس دن سے جس کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے۔“

523