سورہ احقاف: آیت 29 - وإذ صرفنا إليك نفرا من... - اردو

آیت 29 کی تفسیر, سورہ احقاف

وَإِذْ صَرَفْنَآ إِلَيْكَ نَفَرًا مِّنَ ٱلْجِنِّ يَسْتَمِعُونَ ٱلْقُرْءَانَ فَلَمَّا حَضَرُوهُ قَالُوٓا۟ أَنصِتُوا۟ ۖ فَلَمَّا قُضِىَ وَلَّوْا۟ إِلَىٰ قَوْمِهِم مُّنذِرِينَ

اردو ترجمہ

(اور وہ واقعہ بھی قابل ذکر ہے) جب ہم جنوں کے ایک گروہ کو تمہاری طرف لے آئے تھے تاکہ قرآن سنیں جب وہ اُس جگہ پہنچے (جہاں تم قرآن پڑھ رہے تھے) تو انہوں نے آپس میں کہا خاموش ہو جاؤ پھر جب وہ پڑھا جا چکا تو وہ خبردار کرنے والے بن کر اپنی قوم کی طرف پلٹے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waith sarafna ilayka nafaran mina aljinni yastamiAAoona alqurana falamma hadaroohu qaloo ansitoo falamma qudiya wallaw ila qawmihim munthireena

آیت 29 کی تفسیر

درس نمبر 240 ایک نظر میں

اس سورت کا یہ آخری سبق ہے اس سورت کے موضوع کی وضاحت کے لئے یہ ایک نئی وادی میں سفر ہے۔ ایک واقعہ کہ جنوں نے قرآن کی دعوت کو سنا۔ تو انہوں نے ایک دوسرے سے کہا کہ خاموشی سے سنو۔ اور سن کر یہ طے کیا کہ ہم ایمان لاتے ہیں۔ وہ ایمان لائے اور اپنی قوم میں جا کر انہوں نے دعوت دین کے کام کا آغاز کردیا۔ اپنی قوم کو عذاب جہنم سے ڈرانا اور جنت کی خوشخبری دینا شروع کردیا۔ اور انہوں نے اپنی قوم کو متنبہ کیا کہ اگر تم نے منہ موڑا اور گمراہی اختیار کی تو نتائج اچھے نہیں ہوں گے

جنوں کی خبر کو یہاں اس انداز سے پیش کرنا اور یہ دکھانا کہ قرآن مجید کا ان کے دلوں پر کس طرح اثر ہوا اور انہوں نے ایک دوسرے سے کہا خاموش ہو کر سنو ، پھر جس گہرے تاثر کے ساتھ انہوں نے قرآن مجید کی تعلیمات کو اپنی قوم کے سامنے پیش کیا۔ یہ سب امور انسانی دلوں کو متاثر کرنے والے ہیں کیونکہ اصل میں تو قرآن انسانوں کی ہدایت کے لئے آیا ہے ۔ اس میں شک نہیں کہ جنوں کے تاثرات جس طرح قرآن نے قلم بند کئے ہیں ، وہ بہت ہی پر تاثیر انداز ہے۔ خصوصاً جبکہ جن بھی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ٹھیک موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد یہ تعلیمات آرہی ہیں۔ قرآن کا اشارہ یہ ہے کہ اس حقیقت کو جنوں نے تو پالیا مگر انسان اس سے غافل ہیں کہ قرآن جو دعوت دے رہا ہے وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد پہلی دعوت ہے۔ چناچہ یہ بات پوری سورت کے مضمون کے ساتھ گہرا ربط اور مناسبت رکھتی ہے۔ پھر جنوں نے بھی اس کائنات کی کھلی کتاب کی نشانیوں کی طرف اشارہ کیا ہے کہ تعلیمات قرآن کی تصدیق خلق سموات وارض سے ہو سکتی ہے۔ اور یہی تخلیق کائنات دوبارہ تخلیق پر بھی شاہد عادل ہے۔ یہی وہ مسئلہ ہے جس پر انسانوں نے ہمیشہ بحث اور جدال کیا ہے۔

ویوم یعرض الذین کفروا علی النار (46 : 34) “ جس روز یہ کافر آگ کے سامنے لائے جائیں گے ”۔ آخر میں نبی ﷺ کو وصیت کی جاتی ہے کہ ان کی ایذا رسانیوں پر صبر کریں اور ان پر عذاب لانے کے لئے جلدی نہ فرمائیں اور ان کو چھوڑ دیں۔ قیامت کی گھڑی قریب ہے۔ اور جس دن برپا ہوگی تو وہ کہیں گے ہم تو دنیا میں ایک گھڑی بھر ہی رہے ، بس ہلاکت سے قبل تبلیغ ہی کی گئی۔

جنوں نے نہایت خشوع اور خضوع کے ساتھ قرآن کو سنا اور اس کے بعد انہوں نے جو تبصرہ کیا اور قرآن نے یہاں اسے نقل کیا ، اس میں اسلامی نظریہ حیات کی تمام بنیادی باتیں آگئی ہیں۔ یعنی وحی الٰہی کی تصدیق ، تو رات اور قرآن کے تصورات میں وحدت ، یہ اعتراف کہ ہم ایمان لاتے ہیں اور تصدیق کرتے ہیں ، اور آخرت پر ایمان اور ان اعمال کی تصدیق جو جنت کو لے جانے والے ہیں اور ان اعمال کی تصدیق جو جہنم کو لے جانے والے ہیں اور ان اعمال کی تصدیق جو جہنم کو لے جانے والے ہیں۔ یہ اعتراف کہ اللہ پوری کائنات کا خالق ہے ، وہی مخلوقات کا ولی ہے۔ اور یہ کہ تخلیق کائنات سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تمام انسانوں کو دوبارہ زندہ کرے گا۔ یہی وہ مضامین ہیں جو اس پوری سورت میں لیے گئے ہیں اور سورت کے تمام اسباق کا موضوع ہیں۔ اور یہی موضوعات جنوں کی زبانی ، جو انسانوں کے مقابلے میں ایک الگ مخلوق ہے ، دوبارہ لائے گئے۔

ان آیات کی تشریح سے پہلے دو باتوں کی وضاحت ضروری ہے ، یہ کہ جن کیا ہیں اور یہ کہ یہ واقعہ کہاں اور کب ہوا۔ قرآن مجید کی طرف سے یہ ذکر کرنا کہ جنوں کے کچھ لوگوں نے قرآن کو سنا اور اس کے بعد یہ کہا اور یہ کیا ، جنوں کے وجود کے لئے بس یہی کافی شافی دلیل ہے۔ اور نہ اس واقعہ کے بارے میں کچھ مزید کہنے کی ضرورت ہے۔ یہ بات ثابت ہونے کے بعد کہ جن اس قابل ہیں کہ رسول خدا کی زبانی عربی قرآن کو سنیں اور عربی زبان کو سمجھیں۔ اور یہ کہ وہ ایک مخلوق ہیں جو ایمان اور کفر کے قابل ہیں ، ہدایت اور ضلالت کے قابل ہیں ، جنوں کی حقیقت اور انہیں ایک مخلوق ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ جب اللہ ایک حقیقت کی تصدیق کردے تو اس کے بعد اس مخلوق کی حقیقت کو مزید ثابت کرنا ایک بےمعنی حرکت ہے۔ لیکن یہاں کلام کرنے کا ہمارا مقصد یہ ہے کہ انسانی تصور میں اس کی وضاحت ہوجائے۔

ہمارے اردگرد پھیلی ہوئی اس کائنات میں ، رازوں کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں۔ اس کے اندر ایسی مخلوقات موجود ہیں جن کی حقیقت ، صفات اور اثرات سے ہم بالکل واقف نہیں ۔ اور ہم جن قوتوں اور رازوں کے اندر رہتے ہیں۔ ان میں سے صرف چند رازوں اور بھیدوں سے ابھی تک ہم واقف ہوئے ہیں۔ بہرحال آئے دن ہم ان بھیدوں کے انکشافات کرتے رہتے ہیں۔ اور اللہ کی مخلوقات میں سے بعض مخلوق کے بارے میں دریافت کرلیتے ہیں۔ بعض کی ذات معلوم کرلیتے ہیں۔ بعض کی صفات ہمیں معلوم ہوجاتی ہے۔ اور بعض چیزوں کے تو صرف ہمارے اردگرد آثار ہی پائے جاتے ہیں۔

ابھی تک ہم نے اس کائنات کی شاہراہ پر ، جس کے اندر ہم رہتے ہیں ، اس کے رازوں کو معلوم کرنے کے سلسلے میں چند قدم ہی لئے ہیں۔ اس کائنات میں ہمارے آباء و اجداد رہ کر چلے گئے اور ہماری اولاد ان کی اولاد آنے والی ہے۔ ان سب لوگوں کو اس کائنات کے ایک چھوٹے سے ڈرے کے اوپر رہنا ہے۔ اگر اس پوری کائنات کے حجم اور وزن کا تصور کیا جائے تو اس حجم اور وزن میں اس زمین کی حیثیت ایک ذرے کے برابر بھی نہیں ہے۔

آج تک جو معلومات ہم فراہم کرسکے ہیں ، اگر ان معلومات کو آج سے صرف پانچ سو سال پہلے کی حالت کے مقابلے میں دیکھا جائے تو ہم جنوں سے بھی زیادہ بڑے بڑے عجائبات دریافت کرسکے ہیں۔ آج ہم ایٹم کے بارے میں جو کچھ جانتے ہیں۔ اگر آج سے پانچ سو سال پہلے کوئی ایسی باتیں کرتا تو لوگ کہتے کہ یہ مجنون ہے۔ یا کم از کم اسے جنات کے مقابلے میں زیادہ عجیب و غریب بات سمجھا جاتا۔

ہمارا علم و ادراک ہمارے انسانی حدود ادراک کے محدود دائرے کے اندر ہے اور ادراک کی یہ قوت ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس زمین پر وہ مقاصد پورے کرنے کے لئے دی گئی ہے جن کو ہم نے زمین کے اوپر منصب خلافت کے فرائض کی ادائیگی کے سلسلے میں یہاں حاصل کرنا تھا۔ صرف اس محدود دائرے میں کہ زمین کی قوتیں ہمارے لیے مسخر ہوں ، ہمارے تابع ہوں تا کہ وہ فرائض ہم بحسن و خوبی ادا کرسکیں۔ ہمارے جس قدر انکشافات ہیں وہ اس دائرہ فرائض کے اندر ہیں اور ہم جس قدر بھی آگے بڑھ جائیں ہم اسی دائرے کے اندر ہی رہیں گے۔ یعنی اس دائرے کے اندر ہی رہیں گے جو اللہ نے ہمارے یہاں قیام اور خلافت ارضی کے لئے مقرر اور مقدر کردیا ہے۔ نہ اس سے ہم آگے بڑھ سکتے ہیں اور نہ ہمیں اس کی کوئی ضرورت ہے۔

مستقبل میں ہم مزید انکشافات کریں گے۔ ہم بہت کچھ جانیں گے ، اس قدر ہمارے علوم میں اضافہ ہوگا کہ ایٹم کے راز ہمارے لیے بچوں کا کھیل بن جائے گا۔ لیکن ان انکشافات کے باوجود ہم اس محدود دائرے کے اندر ہی رہیں گے جو اللہ نے ہمارے لئے مقدر کردیا ہے۔ انسانی دائرے کے اندر رہیں گے۔ جس کے بارے میں اللہ نے فرمایا :

وما اوتیتم من العلم الا قلیلاً “ اور تمہیں جو علم دیا گیا ہے وہ بہت ہی قلیل ہے ”۔ یعنی ان اسرار اور محقیات کے مقابلے میں جو تمہارے علم سے باہر ہیں۔ صرف خالق کائنات ہی ان غائب باتوں کو جانتا ہے۔ کیونکہ اللہ کا علم غیر محدود ہے۔ اور انسانوں کا علم اور اس کے ذرائع علم محدود ہیں۔

ولو ان ما فی الارض ۔۔۔۔۔۔ کلمات اللہ “ اگر زمین میں جس قدر درخت ہیں وہ قلم بن جائیں اور سمندر کو سات اور سمندر سیاہی بن کر مدد کے لئے آپہنچیں تو اللہ کے کلمات ختم نہ ہوں ”۔

اگر بمقابلہ علم الٰہی ہماری حالت یہ ہے تو ہم صرف اپنی لا علمی کی بنا پر بالجزم نہ کسی بات کی نفی کرسکتے ہیں اور ۔۔۔۔ نہ ان کا تصور کرسکتے ہیں اور نہ عدم تصور۔ یہ بہرحال اللہ کی کائنات کے غائب علاقوں کی باتیں ہیں اور کائنات کی ان قوتوں اور ان اسرار میں سے ہیں جن کا ہمیں علم نہیں ہے۔ اس بنا پر ایسی کسی شے کے بارے میں ہم کوئی فیصلہ نہیں کرسکتے ہیں جو ہمارے علم سے باہر ہے۔ جبکہ ابھی تک ہمیں خود اپنی ذات سے متعلق مکمل اسرار و رموز کا پتہ نہیں ہے کہ ہماری روح اور ہماری قوت مدرکہ کے حالات کیا ہیں۔ حقیقت جن تو بڑی بات ہے۔ بعض ایسے راز بھی ہو سکتے ہیں جن کا ہمارے لیے انکشاف مقدر ہی نہ کیا گیا ہو۔ مثلاً وہ تمام حقائق جن کے وجود کی قرآن نے اطلاع دی ہے ، یا آثار بتائے ہیں کیونکہ ان حقائق کا جاننا ہمارے لیے ضروری نہیں ہے اس لیے کہ اس زمین پر انسان نے جو فریضہ ادا کرنا ہے اس کے لئے اس کی کوئی افادیت نہیں ہے۔

اگر اللہ نے اپنے کلام کے ذریعہ ہمیں کچھ اسرار بتا دئیے ہیں ، اور ان تک ہم اپنے تجربات کے ذریعے نہیں پہنچے تو ہمارا فرض یہ ہے کہ جس قدر علم اللہ نے دے دیا ہے (بذریعہ اطلاع) ہم شکر اور تسلیم و رضا کے ساتھ اسے قبول کرلیں۔ ہم اس کے بارے میں اسی قدر عقیدہ رکھیں جس قدر اللہ نے بتا دیا ہے۔ نہ اس میں کمی کریں اور نہ اس میں اضافہ کریں۔ اور یہ کہیں کہ اس سلسلے میں حقیقت جاننے والے نے ہمیں اسی قدر بتایا ہے ، اس سے زیادہ کچھ نہیں بتایا۔ دوسرا کوئی ذریعہ علم بھی نہیں ہے اور اس میدان میں ہمارا تجربہ بھی نہیں ہے۔

قرآن کریم کی ان آیات سے اور سورت جن کی آیات سے (اور راجح بات یہ ہے کہ سورت جن بھی اسی واقعہ کے بارے میں ہے) اور ان نصوص سے جو قرآن کریم میں جگہ جگہ جنوں کے بارے میں وارد ہیں اور ان احادیث سے جو جنوں کے بارے میں وارد ہیں اور صحیح ہیں۔ ہمیں جو حقائق معلوم ہوتے ہیں وہ یہ ہیں۔

ان سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مخلوق ہے جسے جن کہا جاتا ہے۔ یہ مخلوق آگ سے پیدا شدہ ہے۔ کیونکہ قرآن نے ابلیس کے بارے میں یہ کہا ہے۔

انا خیر منہ خلقتنی من نار و خلقتہ من طین “ میں اس سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے اور اسے مٹی سے پیدا کیا ہے ”۔ اور یہ بھی قرآن بتاتا ہے کہ ابلیس جنوں میں سے تھا۔

الا ابلیس کان من الجن ففسق عن امر ربہ “ ماسوائے ابلیس کے یہ جنوں سے تھا۔ تو اس نے اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کی ”۔ غرض ابلیس کی ماہیت جنوں سے ہے۔

اس مخلوق کی خصوصیات انسانوں سے مختلف ہیں۔ ایک تو یہ کہ وہ آگ سے ہی ہے۔ یہ کہ وہ لوگ کو دیکھتے ہیں اور لوگ انہیں نہیں دیکھ سکتے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔

انہ یراکم ھو و قبیلہ من حیث لا ترونھم “ بیشک وہ اور اس کا قبیلہ تمہیں دیکھتا ہے ، جبکہ تم ان کو نہیں دیکھ رہے ”۔ اور یہ کہ انسانوں کی طرح ان کی بھی سوسائٹیاں اور قبیلے ہیں۔ جس طرح آیت سابقہ میں قبیلے کا ذکر ہوا۔ اور یہ کہ یہ جن اسی زمین پر بستے ہیں اور بس سکتے ہیں۔ لیکن ان کی آبادیاں کہاں ہیں۔ اس کا ہمیں علم نہیں ہے۔ اس لیے کہ اللہ نے جب آدم اور ابلیس سے کہا کہ تم جنت سے نکلو اور زمین پر جاؤ تو الفاظ یہ تھے :

اھبطوا بعضکم لبعض۔۔۔۔۔۔ الی حین “ اترو ، تم میں سے بعض ، بعض دوسروں کے دشمن ہیں اور تمہیں حق ہوگا کہ زمین میں ٹھہرو اور ایک وقت تک متاع حیات کا بھی ”۔

وہ جن جو سلیمان (علیہ السلام) کے لئے مسخر کر دئیے گئے تھے ، وہ آپ کے لئے کام بھی کرتے تھے ، یہاں ان کو زندہ رہنے کی قدرت بھی دی گئی ہوگی تب ہی وہ کام کرتے ہوں گے۔ یہ کہ جن اس کرۂ ارض سے باہر بھی رہ سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جنوں کی یہ بات نقل کی ہے۔

وانا لمسنا ۔۔۔۔ شدیداً وشھبا (8) وانا کنا نقعد ۔۔۔۔۔ شھابا رصدا (9) (72 : 8- 9) “ اور یہ کہ ہم نے آسمان کو ٹٹولا تو دیکھا کہ وہ پہریداروں سے پٹا پڑا ہے اور شہابوں کی بارش ہو رہی ہے ، اور یہ کہ پہلے ہم سن گن لینے کے لئے آسمانوں میں بیٹھنے کی جگہ پا لیتے تھے مگر اب جو چوری چھپے سننے کی کوشش کرتا ہے وہ اپنے لیے ایک شہاب ثاقب لگا ہوا پاتا ہے ”۔

یہ کہ یہ جن انسانوں کو متاثر کر کے گمراہ کرسکتے ہیں اور مسلمانوں میں سے اللہ کے بندوں پر تو ان کا اثر نہیں ہوتا۔ البتہ گمراہ لوگوں پر وہ اثرات ڈال سکتے ہیں کیونکہ :

قال فبعزتک ۔۔۔۔۔ منھم المخلصین “ اس نے کہا بس تیری عزت کی قسم میں ان سب کو گمراہ کر کے چھوڑوں گا ، ماسوائے ان میں ، تیرے مخلص بندوں کے ”۔ اس قسم کی تمام دوسری آیات سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ انسان پر اثر انداز ہوتے ہیں ، البتہ یہ معلوم نہیں ہے کہ شیطانوں اور جنوں کی وسوسہ اندازہ کس طرح ہوتی ہے ۔ اور یہ کہ یہ جن انسانوں کی آواز سنتے ہیں۔ ان کی زبان کو سمجھتے ہیں کیونکہ جنوں کے ایک گروہ نے قرآن سنا ، اس کو سمجھا اور اس سے متاثر ہوئے۔

اور یہ کہ انسانوں کی طرح جن بھی ہدایت اور گمراہی کے قابل ہیں۔ کیونکہ جنوں نے خود یہ اعتراف کیا۔

وانا منا المسلمون ۔۔۔۔۔ تحروا رشدا (14) واما القسطون فکانوا لجھنم حطبا (14) (72 : 14- 15) “ اور یہ کہ ہم میں سے کچھ مسلم ہیں اور کچھ حق سے منحرف تو جنہوں نے اسلام اختیار کرلیا۔ انہوں نے نجات کی راہ ڈھونڈ لی اور جو حق سے منحرف ہیں وہ جہنم کا ایندھن بننے والے ہیں ”۔ اور یہ کہ پھر وہ اپنی قوم کی طرف گئے اور ان کو ڈرانے لگے اور ان کو دعوت ایمان دینے لگے۔ جبکہ انہوں نے خود ایمان قبول کرلیا۔ اور ان کو معلوم ہوگیا کہ ان کی قوم دولت ایماں سے محروم ہے۔

یہ باتیں تو جنوں کے بارے میں یقینی ہیں۔ اور یہی ان کی حقیقت معلوم کرنے کے لئے کافی ہیں۔ اور اس پر ہم جو اضافہ کریں گے اس پر ہمارے پاس کوئی دلیل نہ ہوگی۔ رہا وہ واقعہ جس کی طرف ان آیات میں اشارہ کیا گیا ہے۔ جس کی طرف راجح روایات کے مطابق سورت جن بھی اشارہ کر رہی ہے۔ تو اس بارے میں متعدد روایات وارد ہیں۔

امام بخاری نے مسدد سے ، مسلم نے شیبان ابن فرح سے انہوں نے ابو عوانہ سے اور امام احمد نے اپنی سند میں کہا : عفان سے انہوں نے ابو عوانہ سے ، ابوبکر بیہقی نے اپنی کتاب دلائل النبوۃ میں ابو الحسن علی ابن احمد ابن عیدان سے انہوں نے احمد ابن عبید الصفار سے انہوں نے اسماعیل قاضی سے ، انہوں نے مسدد سے انہوں نے ابو عوانہ سے انہوں نے ابو بشر سے انہوں نے سعید ابن جبیر سے کہ ابن عباس سے فرماتے ہیں : “ رسول اللہ ﷺ نے جنوں پر کلام الٰہی نہیں پڑھا۔ اور نہ ان کو دیکھا ہے۔ حضور ﷺ اپنے ساتھیوں کی ایک جماعت کے ساتھ عکاظ کی طرف جا رہے تھے۔ اس وقت شیاطین اور آسمانوں کی خبروں کے درمیان رکاوٹ ڈال دی گئی اور ان پر شہاب ثاقب کی بارش کردی گئی۔ تو شیاطین اپنی قوم کی طرف واپس آگئے قوم نے کہا تمہیں کیا ہوگیا ہے۔ تو انہوں نے کہا ، ہمارے اور آسمانوں کی خبروں کے درمیان رکاوٹ ڈال دی گئی ہے۔ اور ہم پر شہاب ثاقب چھوڑے گئے ۔ تو انہوں نے کہا کہ تمہارے اور آسمانوں کی خبروں کے درمیان جو رکاوٹ ڈال دی گئی ہے اس کی کوئی وجہ ہوگی تو چاہئے کہ زمین کے مشرق و مغرب میں پھیل گئے یعنی اطراف عالم میں ، وہ معلوم کرنے لگے کہ وہ کیا سبب ہے جس کی وجہ سے ہمارے اور آسمانوں کی خبروں کے درمیان پابندی لگ گئی۔ تو وہ گروہ جو تہامہ کی طرف جا رہا تھا ، وہ لوگ رسول اللہ ﷺ کی طرف متوجہ ہوگئے اور اس وقت آپ نخلہ میں تھے اور عکاظ کے بازار کی طرف جا رہے تھے۔ حضور ﷺ اس وقت اپنے ساتھیوں کے ساتھ نماز فجر پڑھ رہے تھے۔ جب ان جنوں نے قرآن سنا تو متوجہ ہو کر سننے لگے۔ تو انہوں نے کہا خدا کی قسم یہ ہے وہ حقیقی سبب جس کی وجہ سے تم پر آسمانوں کی خبریں لینے پر پابندی لگ گئی ہے۔ جب یہ لوگ اپنی قوم کی طرف لوٹے تو انہوں نے یہ رپورٹ دی۔ فقالوا انا سمعنا قرانا عجبا (1) یھدی الی الرشد فامنا بہ ولن نشرک بربنا احدا (2) (72 : 1- 2) “ اے ہماری قوم کے لوگو ، ہم نے ایک بڑا عجیب قرآن سنا ہے جو راہ راست کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ اس لیے ہم اس پر ایمان لائے ہیں اور اب ہم ہرگز اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے ”۔ رسول اللہ ﷺ کو اطلاع دی گئی۔

قل اوحی الی انہ استمع نفر من الجن (72 : 1) “ اے نبی ﷺ کہو میری طرف وحی بھیجی گئی کہ جنوں کے ایک گروہ نے قرآن کو غور سے سنا ”۔ حضور ﷺ کی طرف دراصل جنوں کے اقوال وحی کئے گئے۔

امام مسلم ، ابو داؤد اور ترمذی نے علقمہ سے روایت کی ہے۔ انہوں نے کہا میں نے حضرت ابن مسعود سے پوچھا کہ جنوں کی رات تم میں سے کوئی حضور ﷺ کے ساتھ تھا۔ انہوں نے کہا : رات ہم میں سے کوئی بھی حضور ﷺ کے ساتھ نہ تھا۔ ہوا یوں کہ ایک رات ہم حضور ﷺ کے ساتھ تھے کہ حضور ﷺ غائب ہوگئے۔ تو ہم نے پہاڑیوں اور وادیوں میں آپ ﷺ کو تلاش کرنا شروع کیا۔ ہم نے کہا کہ حضور ﷺ کو کوئی چیز لے اڑی یا آپ ﷺ کو اچک لیا گیا۔ ہم نے یہ رات بہت ہی بری طرح گزاری۔ جب صبح ہوئی تو کیا دیکھتے ہیں کہ حضور ﷺ حرا کی طرف سے چلے آرہے ہیں۔ ہم نے کہا حضور ﷺ ہم نے رات کو آپ ﷺ کو تلاش اور آپ ﷺ کو نہ پایا ۔ اس وجہ سے ہم نے یہ رات اس قدر تکلیف میں گزاری جس قدر کوئی تکلیف سے کوئی رات گزار سکتا ہے۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا : میرے پاس جنوں کا ایک شخص دعوت لے کر آیا تھا۔ میں اس کے ساتھ چلا گیا۔ میں نے ان پر قرآن پڑھا تو یہ سن کر ہم نے کہا حضور ﷺ ہمارے ساتھ تشریف لے چلیں اور ہمیں ان کے آثار بتائیں اور ان کی آگ کے آثار بتائیں۔ اور جنوں نے آپ ﷺ سے اپنی خوراک کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا : “ ہر وہ ہڈی جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو جو تمہارے ہاتھ آئے اور جس پر زیادہ گوشت ہو وہ تمہاری خوراک ہے۔ اور ہر مینگنی یا لید تمہارے جانوروں کے لئے ہے ”۔ اس کے حضور ﷺ نے فرمایا “ لہٰذا ان دونوں چیزوں کے ساتھ استنجا نہ کرو ، کہ یہ تمہارے بھائیوں کی خوراک ہے ”۔

ابن اسحاق اور ابن ہشام نے جنوں کے واقعہ کو حضور ﷺ کے سفر طائف کے بعد نقل کیا ہے۔ حضور ﷺ نے طائف جا کر بنی ثقیف سے مدد چاہی۔ یہ آپ کے چچا ابو طالب کی موت کے بعد کا واقعہ ہے۔ اس وقت آپ ﷺ پر اور مسلمانوں پر مکہ میں بہت ہی تشدد ہو رہا تھا۔ بنی ثقیف نے آپ ﷺ کی دعوت کو برے انداز میں رد کردیا اور جب آپ ﷺ واپس ہونے لگے تو بچوں اور نادانوں کو آپ ﷺ کے پیچھے لگا دیا۔ یہاں تک کہ آپ ﷺ کے دونوں پاؤں مبارک پتھروں سے لہولہان ہوگئے۔ اور آپ ﷺ نے اس موقعہ پر یہ گہری اور موثر دعا فرمائی۔ “ اے اللہ میں تجھ ہی سے اپنی قوت کی کمزوری کی شکایت کرتا ہوں ، اپنی قلت تدبیر کی شکایت کرتا ہوں ، اور لوگوں پر اپنی کمزوری کی شکایت کرتا ہوں ، اے ارحم الراحمین ، تو کمزوروں کا رب ہے ، اور میرا رب ہے ، تو مجھے کس کے حوالے کر رہا ہے ؟ کسی ایسے شخص کے جو مجھ پر حملہ آور ہو ؟ تو نے میرا معاملہ کسی دشمن کے حوالے کردیا ہے ؟ لیکن اے اللہ ، اگر تو ناراض نہیں ہے تو مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے۔ لیکن تیرا دامن تو میرے لیے بہت وسیع ہے۔ میں تیرے چہرے کی روشنی میں پناہ لیتا ہوں جس نے تمام تاریکیوں کو روشن کردیا ہے۔ اور اس نور کی وجہ سے دنیا وآخرت اچھی ہوجاتی ہے۔ اس بات سے کہ مجھ پر تیرا غصب ہو یا مجھ پر تیرا عذاب آجائے۔ تجھے اختیار ہے کہ تو مجھے مشقت میں ڈالے جب تک تو راضی نہ ہو۔ تیرے سوا کوئی قوت اور جائے پناہ نہیں ہے۔

کہتے ہیں اس کے بعد رسول اللہ ﷺ مکہ کی طرف لوٹنے لگے۔ جب آپ بنی ثقیف کی طرف سے کسی بھلائی سے مایوس ہوگئے۔ جب رات آپ ﷺ نخہ میں آئے تو رات کو آپ نماز کے لئے اٹھے تو اس وقت جنوں کا ایک گروہ آپ ﷺ کے پاس سے گزرا جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ حضور ﷺ نے ان کی تعداد سات بتائی جو دوحصوں میں بٹے ہوئے تھے۔ انہوں نے حضور ﷺ کی بات توجہ سے سنی۔ جب حضور ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو یہ جن اپنی قوم کی طرف چلے گئے اور ان کو ڈرانے لگے۔ یہ خود ایمان لائے تھے اور جو کچھ انہوں نے سنا ، اسے قبول کرچکے تھے۔ اللہ نے یہ کہانی حضور ﷺ پر نازل فرمائی۔

واذ صرفنا الیک نفرا من الجن یستمعون القران (46 : 29) “ اور جب ہم جنوں کے ایک گروہ کو تمہاری طرف لے آئے تھے تا کہ قرآن سنیں ”۔

ویجرکم من عذاب الیم (46 : 31) “ اور تمہیں عذاب الیم سے بچائے گا ”۔ اور سورة جن میں فرمایا قل اوحی الی انہ ۔۔۔۔ الی اخرہ (72 : 1) علامہ ابن کثیر نے روایت ابن اسحاق پر یوں تبصرہ کیا ہے “ یہ تو صحیح ہے لیکن ان کا کہنا کہ جنوں کے ساتھ خطاب بھی اسی رات کو ہوا۔ یہ بات قابل بحث ہے کیونکہ جنوں کا قرآن مجید سننا آغاز وحی کے زمانے میں تھا جس طرح حضرت ابن عباس کی روایت میں ہے۔ اور حضور ﷺ کا سفر طائف تو اس وقت ہوا جب آپ کے چچا محترم حضرت ابو طالب فوت ہوگئے تھے۔ اور یہ وفات ہجرت سے ایک یا دو سال قبل ہوئی تھی۔ واللہ اعلم !

ان کے علاوہ اور بھی بہت سی روایات ہیں ، ہم سمجھتے ہیں کہ حضرت ابن عباس کی روایت سب سے زیادہ قابل اعتماد ہے۔ کیونکہ یہ روایت پوری طرح نصوص قرآن کے ساتھ متفق ہے۔

قل اوحی الی انہ استمع نفر من الجن (72 : 1) “ اے پیغمبر ﷺ کہہ دے کہ میری طرف یہ وحی آئی ہے کہ جنوں میں سے کچھ لوگوں نے قرآن کو غور سے سنا ”۔ یہ آیت قطعاً بتاتی ہے کہ اس واقعہ کا علم حضور اکرم ﷺ کو اس طرح ہوا کہ آپ ﷺ پر وحی نازل فرمائی۔ اور یہ کہ آپ ﷺ نے جنوں کو دیکھا نہ تھا۔ اور نہ آپ ﷺ کو یہ احساس ہوا کہ جن سن رہے ہیں۔ پھر اسناد کے اعتبار سے بھی یہ روایت سب سے قوی ہے۔ اور ابن اسحاق کی روایت بھی اس کے ساتھ متفق ہے۔ جس طرح قرآن مجید نے ہمیں جنوں کی صفات میں بتایا کہ انہ یراکم ھو وقبیلہ من حیث لا ترونھم “ یہ اور اس کا قبیلہ تو تمہیں دیکھ رہا ہے جبکہ تم انہیں نہیں دیکھ رہے ”۔ میں سمجھتا ہوں اس حادثہ کی تحقیق میں اس قدر بات کافی ہے۔

واذ صرفنا الیک نفرا ۔۔۔۔۔ قومھم منذرین (46 : 29) “ اور وہ واقعہ قابل ذکر ہے کہ جب ہم جنوں کے ایک گروہ کو تمہاری طرف لے آئے تھے تا کہ قرآن سنیں۔ جب وہ اس جگہ پہنچے تو انہوں نے آپس میں کہا خاموش ہوجاؤ۔ پھر جب وہ پڑھا جا چکا تو وہ خبردار کرنے والے بن کر اپنی قوم کی طرف پلٹے ”۔ یہ اللہ کی ایک خاص تدبیر تھی کہ اس نے جنوں کو قرآن کی طرف موڑ دیا۔ محض کوئی انفاقی بات نہ تھی۔ ان کی تقدیر میں یہ تھا کہ جن بھی نبی آخر الزمان کی رسالت سے اسی طرح خبردار ہوجائیں جس طرح وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی رسالت سے خبردار تھے اور ان میں سے ایک فریق آگ سے بچ جائے جسے شیطان اور جنوں کے لئے تیار کیا گیا ہے اور انسانی شیاطین کے لئے بھی۔

قرآن کریم نے ان کی تعداد کی طرف بھی اشارہ کردیا ہے ، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن سننے والے جنوں کی تعداد تین سے دس تک تھی اور قرآن نے یہ بھی بتا دیا کہ ان کے پردہ احساس پر قرآن کے کیا اثرات بیٹھے یعنی خوشی ، اچھا تاثر ، خضوع اور خشوع۔

فلما حضروہ قالوا نصتوا (46 : 29) “ اب وہ اس جگہ پہنچے ( جہاں تم پڑھ رہے تھے) تو انہوں نے آپس میں کہا خاموش ہوجاؤ ”۔ یوں اس پورے عرصے میں وہ بڑی خاموشی سے سنتے رہے۔

فلما قضی ولوا الی قومھم منذرین (46 : 29) “ پھر جب وہ پڑھا جا چکا تو وہ خبردار کرنے والے بن کر اپنی قوم کی طرف پلٹے ”۔ یہ اثر بھی ان پر اس لیے ہوا کہ انہوں نے قرآن کو نہایت غور سے سنا تھا۔ خاموش ہو کر سنا اور آخر تک سنتے رہے۔ جب تلاوت ختم ہوئی تو وہ فوراً اپنی قوم کے پاس گئے اور ان کے شعور نے وہ بات اپنا لی تھی جو اگر کسی کے شعور میں داخل ہوجائے تو وہ خاموش نہیں ہو سکتا۔ اور نہ اس کی تبلیغ اور لوگوں کے ڈرانے کے کام میں شف شف کرسکتا ہے۔ یہ ایک ایسی حالت ہے کہ جب کسی شخص کے احساس میں ایک نئی بات بیٹھ گئی ہو۔ اور اس کے احساسات کو ایک نہایت ہی موثر ، غالب اور چھا جانے والے نظریہ نے اپنی گرفت میں لے لیا ہو ، تو وہ فوراً حرکت میں آجاتا ہے ، ہر جگہ اسی کی بات کرتا ہے اور بڑے اہتمام کے ساتھ دوسروں تک پہنچانا چاہتا ہے۔

آیت 29 { وَاِذْ صَرَفْنَآ اِلَیْکَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ یَسْتَمِعُوْنَ الْقُرْاٰنَ } ”اور اے نبی ﷺ ! جب ہم نے آپ کی طرف متوجہ کردیا جنات کی ایک جماعت کو کہ وہ قرآن سننے لگے۔“ { فَلَمَّا حَضَرُوْہُ قَالُوْٓا اَنْصِتُوْا } ”تو جب وہ وہاں پہنچے تو انہوں نے کہا : چپ ہو جائو !“ تلاوتِ قرآن کی سماعت کے بارے میں خود قرآن کا بھی یہی حکم ہے : { وَاِذَا قُرِیَٔ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَہٗ وَاَنْصِتُوْا لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ } الاعراف ”اور جب قرآن پڑھا جار ہا ہو تو اسے پوری توجہ کے ساتھ سنا کرو اور خاموش رہا کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے“۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ طبعاً نیک اور شریف قسم کے ِجنات ّ تھے۔ اگلی آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ماننے والے اہل کتاب جن تھے۔ چناچہ وہ فوراً ہی اللہ کے کلام کو پہچان گئے اور اس کو پورے ادب و احترم سے سننے لگے۔ { فَلَمَّا قُضِیَ وَلَّــوْا اِلٰی قَوْمِہِمْ مُّنْذِرِیْنَ } ”پھر جب قراءت ختم ہوئی تو وہ پلٹے اپنی قوم کی طرف خبردار کرنے والے بن کر۔“

طائف سے واپسی پر جنات نے کلام الہٰی سنا، شیطان بوکھلایا مسند امام احمد میں حضرت زبیر سے اس آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ یہ واقعہ نخلہ کا ہے رسول اللہ ﷺ اس وقت نماز عشاء ادا کر رہے تھے، یہ سب جنات سمٹ کر آپ کے اردگرد بھیڑ کی شکل میں کھڑے ہوگئے ابن عباس کی روایت میں ہے کہ یہ جنات (نصیبین) کے تھے تعداد میں سات تھے کتاب دلائل النبوۃ میں بروایت ابن عباس مروی ہے کہ نہ تو حضور ﷺ نے جنات کو سنانے کی غرض سے قرآن پڑھا تھا نہ آپ نے انہیں دیکھا آپ تو اپنے صحابہ کے ساتھ عکاظ کے بازار جا رہے تھے ادھر یہ ہوا تھا شیاطین کے اور آسمانوں کی خبروں کے درمیان روک ہوگئی تھی اور ان پر شعلے برسنے شروع ہوگئے تھے۔ شیاطین نے آکر اپنی قوم کو یہ خبر دی تو انہوں نے کہا کوئی نہ کوئی نئی بات پیدا ہوئی ہے جاؤ تلاش کرو پس یہ نکل کھڑے ہوئے ان میں کی جو جماعت عرب کی طرف متوجہ ہوئی تھی وہ جب یہاں پہنچی تب رسول اللہ ﷺ سوق عکاظ کی طرف جاتے ہوئے نخلہ میں اپنے اصحاب کی نماز پڑھا رہے تھے ان کے کانوں میں جب آپ کی تلاوت کی آواز پہنچی تو یہ ٹھہر گئے اور کان لگا کر بغور سننے لگے اسکے بعد انہوں نے فیصلہ کرلیا کہ بس یہی وہ چیز ہے جس کی وجہ سے تمہارا آسمانوں تک پہنچنا موقوف کردیا گیا ہے یہاں سے فورا ہی واپس لوٹ کر اپنی قوم کے پاس پہنچے اور ان سے کہنے لگے ہم نے عجیب قرآن سنا جو نیکی کا رہبر ہے ہم تو اس پر ایمان لاچکے اور اقرار کرتے ہیں کہ اب ناممکن ہے کہ اللہ کے ساتھ ہم کسی اور کو شریک کریں۔ اس واقعہ کی خبر اللہ تعالیٰ نے اپنی نبی کو سورة جن میں دی، یہ حدیث بخاری و مسلم وغیرہ میں بھی ہے۔ مسند میں ہے حضرت ابن عباس فرماتے ہیں جنات وحی الہٰی سنا کرتے تھے ایک کلمہ جب ان کے کان میں پڑجاتا تو وہ اس میں دس ملا لیا کرتے پس وہ ایک تو حق نکلتا باقی سب باطل نکلتے اور اس سے پہلے ان پر تارے پھینکے نہیں جاتے تھے۔ پس جب حضور ﷺ مبعوث ہوئے تو ان پر شعلہ باری ہونے لگی یہ اپنے بیٹھنے کی جگہ پہنچتے اور ان پر شعلہ گرتا اور یہ ٹھہر نہ سکتے انہوں نے آکر ابلیس سے یہ شکایت کی تو انہوں نے نبی ﷺ کو نخلہ کی دونوں پہاڑیوں کے درمیان نماز پڑھتے ہوئے پایا اور جا کر اسے خبر دی اس نے کہا بس یہی وجہ ہے جو آسمان محفوظ کردیا گیا اور تمہارا جانا بند ہوا۔ یہ روایت ترمذی اور نسائی میں بھی ہے۔ حسن بصری کا قول بھی یہی ہے کہ اس واقعہ کی خبر تک رسول اللہ ﷺ کو نہ تھی جب آپ پر وحی آئی تب آپ نے یہ معلوم کیا۔ سیرت ابن اسحاق میں محمد بن کعب کا ایک لمبا بیان منقول ہے جس میں حضور ﷺ کا طائف جانا انہیں اسلام کی دعوت دینا ان کا انکار کرنا وغیرہ پورا واقعہ بیان ہے۔ حضرت حسن نے اس دعا کا بھی ذکر کیا ہے جو آپ نے اس تنگی کے وقت کی تھی جو یہ ہے (اللھم الیک اشکوا ضعف قوتی وقلتہ حیلتی وھوانی علی الناس یا ارحم الراحمین انت الرحم الراحمین وانت رب المستضعفین وانت ربی الی من تکلنی الی عدو بعید یتجھمنی ام الی صدیق قریب ملکتہ امری ان لم یکن بک غضب علی فلا ابالی غیر ان عافیتک اوسع لی اعوذ بنور وجھک الذی اشرقت لہ الظلمات وصلح علیہ امر الدنیا والاخرۃ ان ینزل بی غضبک او یحل بی سخطک ولک العتبیٰ حتی ترضیٰ ولا حول ولا قوۃ الا بک) یعنی اپنی کمزوری اور بےسروسامانی اور کسمپرسی کی شکایت صرف تیرے سامنے کرتا ہوں۔ اے ارحم الراحمین تو دراصل سب سے زیادہ رحم و کرم کرنے والا ہے اور کمزوروں کا رب تو ہی ہے میرا پالنہار بھی تو ہی ہے تو مجھے کس کو سونپ رہا ہے کسی دوری والے دشمن کو جو مجھے عاجز کر دے یا کسی قرب والے دوست کو جسے تو نے میرے بارے اختیار دے رکھا ہو اگر تیری کوئی خفگی مجھ پر نہ ہو تو مجھے اس درد دکھ کی کوئی پرواہ نہیں لیکن تاہم اگر تو مجھے عافیت کے ساتھ ہی رکھ تو وہ میرے لئے بہت ہی راحت رساں ہے میں تیرے چہرے کے اس نور کے باعث جس کی وجہ سے تمام اندھیریاں جگمگا اٹھی ہیں اور دین و دنیا کے تمام امور کی اصلاح کا مدار اسی پر ہے تجھ سے اس بات کی پناہ طلب کرتا ہوں کہ مجھ پر تیرا عتاب اور تیرا غصہ نازل ہو یا تیری ناراضگی مجھ پر آجائے، مجھے تیری ہی رضامندی اور خوشنودی درکار ہے اور نیکی کرنے اور بدی سے بچنے کی طاقت تیری ہی مدد سے ہے۔ اسی سفر کی واپسی میں آپ نے نخلہ میں رات گذاری اور اسی رات قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے (نصیبین) کے جنوں نے آپ کو سنا یہ ہے تو صحیح لیکن اس میں قول تامل طلب ہے اس لئے کہ جنات کا کلام اللہ شریف سننے کا واقعہ وحی شروع ہونے کے زمانے کا ہے جیسے کہ ابن عباس کی اوپر بیان کردہ حدیث سے ثابت ہو رہا ہے اور آپ کا طائف جانا اپنے چچا ابو طالب کے انتقال کے بعد ہوا ہے جو ہجرت کے ایک یا زیادہ سے زیادہ دو سال پہلے کا واقعہ ہے جیسے کہ سیرت ابن اسحاق وغیرہ میں ہے واللہ اعلم۔ ابن ابی شیبہ میں ان جنات کی گنتی نو کی ہے جن میں سے ایک کا نام زویعہ ہے۔ انہی کے بارے میں یہ آیتیں نازل ہوئی ہیں پس یہ روایت اور اس سے پہلے کی حضرت ابن عباس کی روایت کا اقتضاء یہ ہے کہ اس مرتبہ جو جن آئے تھے ان کی موجودگی کا حضور ﷺ کو علم نہ تھا یہ تو آپ کی بیخبر ی میں ہی آپ کی زبانی قرآن سن کر واپس لوٹ گئے اس کے بعد بطور وفد فوجیں کی فوجیں اور جتھے کے جتھے ان کے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے جیسے کہ اس ذکر کے احادیث و آثار اپنی جگہ آرہے ہیں انشاء اللہ، بخاری و مسلم میں ہے حضرت عبدالرحمن نے حضرت مسروق سے پوچھا کہ جس رات جنات نے حضور ﷺ سے قرآن سنا تھا اس رات کس نے حضور ﷺ سے ان کا ذکر کیا تھا ؟ تو فرمایا مجھ سے تیرے والد حضرت ابن مسعود نے کہا ہے ان کی آگاہی حضور ﷺ کو ایک درخت نے دی تھی تو ممکن ہے کہ یہ خبر پہلی دفعہ کی ہو اور اثبات کو ہم نفی پر مقدم مان لیں۔ اور یہ بھی احتمال ہے کہ جب وہ سن رہے تھے آپ کو تو کوئی خبر نہ تھی یہاں تک کہ اس درخت نے آپ کو ان کے اجتماع کی خبر دی واللہ اعلم۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ واقعہ اس کے بعد والے کئی واقعات میں سے ایک ہو واللہ اعلم۔ امام حافظ بیہقی فرماتے ہیں کہ پہلی مرتبہ تو نہ رسول اللہ ﷺ نے جنوں کو دیکھا نہ خاص ان کے سنانے کے لئے قرآن پڑھا ہاں البتہ اس کے بعد جن آپ کے پاس آئے اور آپ نے انہیں قرآن پڑھ کر سنایا اور اللہ عزوجل کی طرف بلایا جیسے کہ حضرت ابن مسعود سے مروی ہے۔ اس کی روایتیں سنئے۔ حضرت علقمہ حضرت ابن مسعود سے پوچھتے ہیں کہ کیا تم میں سے کوئی اس رات حضور ﷺ کے ساتھ موجود تھا ؟ تو آپ نے جواب دیا کہ کوئی نہ تھا آپ رات بھر ہم سے غائب رہے اور ہمیں رہ رہ کر بار بار یہی خیال گذرا کرتا تھا کہ شاید کسی دشمن نے آپ کو دھوکا دے دیا اللہ نہ کرے آپ کے ساتھ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا ہو وہ رات ہماری بڑی بری طرح کٹی صبح صادق سے کچھ ہی پہلے ہم نے دیکھا کہ آپ غار حرا سے واپس آرہے ہیں پس ہم نے رات کی اپنی ساری کیفیت بیان کردی ہے۔ تو آپ نے فرمایا میرے پاس جنات کا قاصد آیا تھا جس کے ساتھ جا کر میں نے انہیں قرآن سنایا چناچہ آپ ہمیں لے کر گئے اور ان کے نشانات اور ان کی آگ کے نشانات ہمیں دکھائے۔ شعبی کہتے ہیں انہوں نے آپ سے توشہ طلب کیا تو عامر کہتے ہیں یعنی مکہ میں اور یہ جن جزیرے کے تھے تو آپ نے فرمایا ہر وہ ہڈی جس پر اللہ کا نام ذکر کیا گیا ہو وہ تمہارے ہاتھوں میں پہلے سے زیادہ گوشت والی ہو کر پڑے گی، اور لید اور گوبر تمہارے جانوروں کا چارہ بنے گا پس اے مسلمانو ! ان دونوں چیزوں سے استنجا نہ کرو یہ تمہارے جن بھائیوں کی خوراک ہیں دوسری روایت میں ہے کہ اس رات حضور ﷺ کو نہ پا کر ہم بہت ہی گھبرائے تھے اور تمام وادیوں اور گھاٹیوں میں تلاش کر آئے تھے اور حدیث میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا آج رات میں جنات کو قرآن سناتا رہا اور جنوں میں ہی اسی شغل میں رات گذاری۔ ابن جریر میں حضرت عبداللہ بن مسعود کی روایت ہے کہ آپ نے فرمایا تم میں سے جو چاہے آج کی رات جنات سے دلچسپی لینے والا میرے ساتھ رہے۔ پس میں موجود ہوگیا آپ مجھے لے کر چلے جب مکہ شریف کے اونچے حصے میں پہنچے تو آپ نے اپنے پاؤں سے ایک خط کھینچ دیا اور مجھ سے فرمایا بس یہیں بیٹھے رہو پھر آپ چلے اور ایک جگہ پر کھڑے ہو کر آپ نے قرأت شروع کی پھر تو اس قدر جماعت آپ کے اردگرد ٹھٹ لگا کر کھڑی ہوگئی کہ میں تو آپ کی قرأت سننے سے بھی رہ گیا۔ پھر میں نے دیکھا کہ جس طرح ابر کے ٹکڑے پھٹتے ہیں اس طرح وہ ادھر ادھر جانے لگے اور یہاں تک کہ اب بہت تھوڑے باقی رہ گئے پس حضور ﷺ صبح کے وقت فارغ ہوئے اور آپ وہاں سے دور نکل گئے اور حاجت سے فارغ ہو کر میرے پاس تشریف لائے اور پوچھنے لگے وہ باقی کے کہاں ہیں ؟ میں نے کہا وہ یہ ہیں پس آپ نے انہیں ہڈی اور لید دی۔ پھر آپ نے مسلمانوں کو ان دونوں چیزوں سے استنجا کرنے سے منع فرما دیا اس روایت کی دوسری سند میں ہے کہ جہاں حضور ﷺ نے حضرت عبداللہ بن مسعود کو بٹھایا تھا وہاں بٹھا کر فرما دیا تھا کہ خبردار یہاں سے نکلنا نہیں ورنہ ہلاک ہوجاؤ گے۔ اور روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے صبح کے وقت آکر ان سے دریافت کیا کہ کیا تم سو گئے تھے ؟ آپ نے فرمایا نہیں نہیں اللہ کی قسم میں نے تو کئی مرتبہ چاہا کہ لوگوں سے فریاد کروں لیکن میں نے سن لیا کہ آپ انہیں اپنی لکڑی سے دھمکا رہے تھے اور فرماتے جاتے تھے کہ بیٹھ جاؤ حضور ﷺ نے فرمایا اگر تم یہاں سے باہر نکلتے تو مجھے خوف تھا کہ ان میں کے بعض تمہیں اچک نہ لے جائیں، پھر آپ نے دریافت فرمایا کہ اچھا تم نے کچھ دیکھا بھی ؟ میں نے کہا ہاں لوگ تھے سیاہ انجان خوفناک سفید کپڑے پہنے ہوئے آپ نے فرمایا یہ (نصیبین) کے جن تھے انہوں نے مجھ سے توشہ طلب کیا تھا پس میں نے ہڈی اور لید گوبر دیا میں نے پوچھا حضور ﷺ اس سے انہیں کیا فائدہ ؟ آپ نے فرمایا ہر ہڈی ان کے ہاتھ لگتے ہی ایسی ہوجائے گی جیسی اس وقت تھی جب کھائی گئی تھی یعنی گوشت والی ہو کر انہیں ملے گی اور لید میں بھی وہی دانے پائیں گے جو اس روز تھے جب وہ دانے کھائے گئے تھے پس ہم میں سے کوئی شخص بیت الخلا سے نکل کر ہڈی لید اور گوبر سے استنجا نہ کرے اس روایت کی دوسری سند میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا پندرہ جنات جو آپس میں چچازاد اور پھوپھی زاد بھائی ہیں آج رات مجھ سے قرآن سننے کیلئے آنے والے ہیں۔ اس میں ہڈی اور لید کے ساتھ کوئلے کا لفظ بھی ہے۔ ابن مسعود فرماتے ہیں دن نکلے میں اسی جگہ گیا تو دیکھا کہ وہ کوئی ساٹھ اونٹ بیٹھنے کی جگہ ہے اور روایت میں ہے کہ جب جنات کا اژدھام ہوگیا تو ان کے سرداران نے کہا یارسول اللہ ﷺ میں انہیں ادھر ادھر کر کے آپ کو اس تکلیف سے بچا لیتا ہوں تو آپ نے فرمایا اللہ سے زیادہ مجھے کوئی بچانے والا نہیں۔ آپ فرماتے ہیں جنات والی رات میں مجھ سے حضور ﷺ نے دریافت فرمایا کہ کیا تمہارے پاس پانی ہے ؟ میں نے کہا حضور ﷺ پانی تو نہیں البتہ ایک ڈولچی نبیذ ہے تو حضور ﷺ نے فرمایا عمدہ کھجوریں اور پاکیزہ پانی (ابو داؤد، ترمذی، ابن ماجہ) مسند احمد کی اس حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا مجھے اس سے وضو کراؤ چناچہ اپنے وضو کیا اور فرمایا یہ تو پینے کی اور پاک چیز ہے، جب آپ لوٹ کر آئے تو سانس چڑھ رہا تھا میں نے پوچھا حضور ﷺ کیا بات ہے ؟ آپ نے فرمایا میرے پاس میرے انتقال کی خبر آئی ہے۔ یہی حدیث قدرے زیادتی کے ساتھ حافظ ابو نعیم کی کتاب دلائل النبوۃ میں بھی ہے اس میں ہے کہ میں نے یہ سن کر کہا پھر یا رسول اللہ ﷺ اپنے بعد کسی کو خلیفہ نامزد کر جائیے آپ نے کہا کس کو ؟ میں نے کہا ابوبکر کو۔ اس پر آپ خاموش ہوگئے چلتے چلتے پھر کچھ دیر بعد یہی حالت طاری ہوئی۔ میں نے وہی سوال کیا آپ نے وہی جواب دیا۔ میں نے خلیفہ مقرر کرنے کو کہا آپ نے پوچھا کسے ؟ میں نے کہا عمر کو ؓ اس پر آپ خاموش ہوگئے کچھ دور چلنے کے بعد پھر چلنے کے بعد پھر یہی حالت اور یہی سوال جواب ہوئے اب کی مرتبہ میں نے حضرت علی بن ابی طالب کا نام پیش کیا تو آپ فرمانے لگے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر یہ لوگ ان کی اطاعت کریں تو سب جنت میں چلے جائیں گے لیکن یہ حدیث بالکل ہی غریب ہے اور بہت ممکن ہے کہ یہ محفوظ نہ ہو اور اگر صحت تسلیم کرلی جائے تو اس واقعہ کو مدینہ کا واقعہ ماننا پڑے گا۔ وہاں بھی آپ کے پاس جنوں کے وفود آئے تھے جیسے کہ ہم عنقریب انشاء اللہ تعالیٰ بیان کریں گے اس لئے کہ آپ کا آخری وقت فتح مکہ کے بعد تھا جب کہ دین الٰہی میں انسانوں اور جنوں کی فوجیں داخل ہوگئیں اور سورة (اذا جاء) الخ، اتر چکی جس میں آپ کو خبر انتقال دی گئی تھی۔ جیسے کہ حضرت ابن عباس کا قول ہے اور امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب کی اس پر موافقت ہے جو حدیثیں ہم اسی سورت کی تفسیر میں لائیں گے انشاء اللہ واللہ اعلم۔ مندرجہ بالا حدیث دوسری سند سے بھی مروی ہے لیکن اس کی سند بھی غریب ہے اور سیاق بھی غریب ہے۔ حضرت عکرمہ فرماتے ہیں یہ جنات جزیرہ موصل کے تھے ان کی تعداد بارہ ہزار کی تھی ابن مسعود اس خط کشیدہ کی جگہ میں بیٹھے ہوئے تھے لیکن جنات کے کھجوروں کے درختوں کے برابر کے قد و قامت وغیرہ دیکھ کر ڈر گئے اور بھاگ جانا چاہا لیکن فرمان رسول ﷺ یاد آگیا کہ اس حد سے باہر نہ نکلنا۔ جب حضور ﷺ سے یہ ذکر کیا تو آپ نے فرمایا اگر تم اس حد سے باہر آجاتے تو قیامت تک ہماری تمہاری ملاقات نہ ہوسکتی اور روایت میں ہے کہ جنات کی یہ جماعت جن کا ذکر آیت (وَاِذْ صَرَفْنَآ اِلَيْكَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ يَسْتَمِعُوْنَ الْقُرْاٰنَ ۚ فَلَمَّا حَضَرُوْهُ قَالُوْٓا اَنْصِتُوْا ۚ فَلَمَّا قُضِيَ وَلَّوْا اِلٰى قَوْمِهِمْ مُّنْذِرِيْنَ 29؀) 46۔ الأحقاف :29) ، میں ہے نینویٰ کی تھی آپ نے فرمایا تھا کہ مجھے حکم دیا گیا کہ انہیں قرآن سناؤں تم میں سے میرے ساتھ کون چلے گا ؟ اس پر سب خاموش ہوگئے دوبارہ پوچھا پھر خاموشی رہی تیسری مرتبہ دریافت کیا تو قبیلہ ہذیل کے شخص حضرت ابن مسعود تیار ہوئے حضور ﷺ انہیں ساتھ لے کر حجون کی گھاٹی میں گئے۔ ایک لکیر کھینچ کر انہیں یہاں بٹھا دیا اور آپ آگے بڑھ گئے۔ یہ دیکھنے لگے کہ گدھوں کی طرح کے زمین کے قریب اڑتے ہوئے کچھ جانور آرہے ہیں تھوڑی دیر بعد بڑا غل غپاڑہ سنائی دینے لگا یہاں تک کہ مجھے حضور ﷺ کی ذات پر ڈر لگنے لگا۔ جب آنحضرت ﷺ آئے تو میں نے کہا کہ حضور ﷺ یہ شوروغل کیا تھا ؟ آپ نے فرمایا ان کے ایک مقتول کا قصہ تھا جس میں یہ مختلف تھے ان کے درمیان صحیح فیصلہ کردیا گیا یہ واقعات صاف ہیں کہ حضور ﷺ نے قصدًا جا کر جنات کو قرآن سنایا انہیں اسلام کی دعوت دی اور جن مسائل کی اس وقت انہیں ضرورت تھی وہ سب بتا دئیے۔ ہاں پہلی مرتبہ جب جنات نے آپ کی زبانی قرآن سنا اس وقت آپ کو نہ معلوم تھا نہ آپ نے انہیں سنانے کی غرض سے قرآن پڑھا تھا جیسے کہ ابن عباس فرماتے ہیں اس کے بعد وہ وفود کی صورت میں آئے اور حضور ﷺ عمدًا تشریف لے گئے اور انہیں قرآن سنایا۔ حضرت ابن مسعود رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اس وقت نہ تھے جبکہ آپ نے ان سے بات چیت کی انہیں اسلام کی دعوت دی البتہ کچھ فاصلہ پر دور بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ کے ساتھ اس واقعہ میں سوائے حضرت ابن مسعود کے اور کوئی نہ تھا اور دوسری تطبیق ان روایات میں جن میں ہے کہ آپ کے ساتھ ابن مسعود اور جن میں ہے کہ نہ تھے یہ بھی ہوسکتی ہے کہ پہلی دفعہ نہ تھے دوسری مرتبہ تھے۔ واللہ اعلم، یہ بھی مروی ہے کہ نخلہ میں جن جنوں نے آپ سے ملاقات کی تھی وہ نینویٰ کے تھے اور مکہ شریف میں جو آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے وہ (نصیبین) کے تھے۔ اور یہ جو روایتوں میں آیا ہے کہ ہم نے وہ رات بہت بری بسر کی اس سے مراد ابن مسعود کے سوا اور صحابہ ہیں جنہیں اس بات کا علم نہ تھا کہ حضور ﷺ جنات کو قرآن سنانے گئے ہیں۔ لیکن یہ تاویل ہے ذرا دور کی واللہ اعلم۔ بیہقی میں ہے کہ حضور ﷺ کی حاجت اور وضو کے لئے آپ کے ساتھ حضرت ابوہریرہ پانی کی ڈولچی لئے ہوئے جایا کرتے تھے ایک دن یہ پیچھے پیچھے پہنچے آپ نے پوچھا کون ہے ؟ جواب دیا کہ میں ابوہریرہ ہوں فرمایا میرے استنجے کے لئے پتھر لاؤ لیکن ہڈی اور لید نہ لانا میں اپنی جھولی میں پتھر بھر لایا اور آپ کے پاس رکھ دئیے جب آپ فارغ ہوچکے اور چلنے لگے میں بھی آپ کے پیچھے چلا اور پوچھا حضور کیا وجہ ہے جو آپ نے ہڈی اور لید سے منع فرما دیا ؟ آپ نے جواب دیا میرے پاس (نصیبین) کے جنوں کا وفد آیا تھا اور انہوں نے مجھ سے توشہ طلب کیا تھا تو میں نے اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعا کی کہ وہ جس لید اور ہڈی پر گذریں اسے طعام پائیں۔ صحیح بخاری میں بھی اسی کے قریب قریب مروی ہے پس یہ حدیث اور اس سے پہلے کی حدیثیں دلالت کرتی ہیں کہ جنات کا وفد آپ کے پاس اس کے بعد بھی آیا تھا اب ہم ان احادیث کو بیان کرتے ہیں جو دلالت کرتی ہیں کہ جنات آپکے پاس کئی دفعہ حاضر ہوئے۔ ابن عباس سے جو روایت اس سے پہلے بیان ہوچکی ہے اس کے سوا بھی آپ سے دوسری سند سے مروی ہے ابن جریر میں ہے آپ فرماتے ہیں یہ سات جن تھے (نصیبین) کے رہنے والے انہیں اللہ کے رسول ﷺ نے اپنی طرف سے قاصد بنا کر جنات کی طرف بھیجا تھا مجاہد کہتے ہیں یہ جنات تعداد میں سات تھے (نصیبین) کے تھے ان میں سے رسول اللہ ﷺ نے تین کو اہل حران سے کہا اور چار کو اہل (نصیبین) سے ان کے نام یہ ہیں۔ حسی، حسا، منسی، ساحر، ناصر، الاردوبیان، الاحتم۔ ابو حمزہ شمالی فرماتے ہیں انہیں بنو شیصیان کہتے ہیں یہ قبیلہ جنات کے اور قبیلوں سے تعداد میں بہت زیادہ تھا اور یہ ان میں نصب کے بھی شریف مانے جاتے تھے اور عموماً یہ ابلیس کے لشکروں میں سے تھے ابن مسعود فرماتے ہیں یہ نو تھے ان میں سے ایک کا نام ردیعہ تھا اصل نخلہ سے آئے تھے۔ بعض حضرات سے مروی ہے کہ یہ پندرہ تھے اور ایک روایت میں ہے کہ ساٹھ اونٹوں پر آئے تھے اور ان کے سردار کا نام وردان تھا اور کہا گیا ہے کہ تین سو تھے اور یہ بھی مروی ہے کہ بارہ ہزار تھے ان سب میں تطبیق یہ ہے کہ چونکہ وفود کئی ایک آئے تھے ممکن ہے کہ کسی میں چھ سات نو ہی ہوں کسی میں زیادہ کسی میں اس سے بھی زیادہ۔ اس پر دلیل صحیح بخاری شریف کی یہ روایت بھی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب جس چیز کی نسبت جب کبھی کہتے کہ میرے خیال میں یہ اس طرح ہوگی تو وہ عمومًا اسی طرح نکلتی ایک مرتبہ آپ بیٹھے ہوئے تھے تو ایک حسین شخص گذرا آپ نے اسے دیکھ کر فرمایا اگر میرا گمان غلط نہ ہو تو یہ شخص اپنے جاہلیت کے زمانہ میں ان لوگوں کا کاہن تھا جانا ذرا اسے لے آنا جب وہ آگیا تو آپ نے اپنا یہ خیال اس پر ظاہر فرمایا وہ کہنے لگا مسلمانوں میں اس ذہانت و فطانت کا کوئی شخص آج تک میری نظر سے نہیں گذرا۔ حضرت عمر نے فرمایا اب میں تجھ سے کہتا ہوں کہ تو اپنی کوئی صحیح اور سچی خبر سنا، اس نے کہا بہت اچھا سنئے میں جاہلیت کے زمانہ میں ان کا کاہن تھا میرے پاس میرا جن جو سب سے زیادہ تعجب خیز خبر لایا وہ سنئے۔ میں ایک مرتبہ بازار جا رہا تھا تو وہ آگیا اور سخت گھبراہٹ میں تھا اور کہنے لگا کیا تو نے جنوں کی بربادی مایوسی اور انکے پھیلنے کے بعد سمٹ جانا اور ان کی درگت نہیں دیکھی ؟ حضرت عمر فرمانے لگے یہ سچا ہے میں ایک مرتبہ ان کے بتوں کے پاس سویا ہوا تھا ایک شخص نے وہاں ایک بچھڑا چڑھایا کہ ناگہاں ایک سخت پُر زور آواز آئی ایسی کہ اتنی بلند اور کرخت آواز میں نے کبھی نہیں سنی اس نے کہا اے جلیح نجات دینے والا امر آچکا ایک شخص ہے جو فصیح زبان سے آیت (لا الہ الا اللہ) کی منادی کر رہا ہے۔ سب لوگ تو مارے ڈر کے بھاگ گئے لیکن میں وہیں بیٹھا رہا کہ دیکھوں آخر یہ کیا ہے ؟ کہ دوبارہ پھر اسی طرح وہی آواز سنائی دی اور اس نے وہی کہا پس کچھ ہی دن گذرے تھے جو نبی ﷺ کی نبوت کی آوازیں ہمارے کانوں میں پڑنے لگیں۔ اس روایت سے ظاہر الفاظ سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ خود حضرت فاروق نے یہ آوازیں اس ذبح شدہ بچھڑے سے سنیں اور ایک ضعیف روایت میں صریح طور پر یہ آبھی گیا ہے لیکن باقی اور روایتیں یہ بتلا رہی ہیں کہ اسی کاہن نے اپنے دیکھنے سننے کا ایک واقعہ یہ بھی بیان کیا واللہ اعلم، امام بیہقی نے یہی کہا ہے اور یہی کچھ اچھا معلوم ہوتا ہے اس شخص کا نام سواد بن قارب تھا جو شخص اس واقعہ کی پوری تفصیل دیکھنا چاہتا ہو وہ میری کتاب سیرۃ عمر دیکھ لے، (وللہ الحمد المنہ)۔ امام بیہقی فرماتے ہیں ممکن ہے یہی وہ کاہن ہو جس کا ذکر بغیر نام کے صحیح حدیث میں ہے حضرت عمر بن خطاب منبر نبوی ﷺ پر ایک مرتبہ خطبہ سنا رہے تھے اسی میں پوچھا کیا سواد بن قارب یہاں موجود ہیں لیکن اس پورے سال تک کسی نے ہاں نہیں کہی اگلے سال آپ نے پھر پوچھا تو حضرت براء نے کہا سواد بن قارب کون ہے ؟ اس سے کیا مطلب ہے ؟ آپ نے فرمایا اس کے اسلام لانے کا قصہ عجیب و غریب ہے ابھی یہ باتیں ہو ہی رہیں تھیں جو حضرت سواد بن قارب آگئے حضرت عمر نے ان سے کہا سواد اپنے اسلام کا ابتدائی قصہ سناؤ آپ نے فرمایا سنئے میں ہند گیا ہوا تھا میرا ساتھی جن ایک رات میرے پاس آیا میں اس وقت سویا ہوا تھا مجھے اس نے جگا دیا اور کہنے لگا اٹھ اور اگر کچھ عقل و ہوش ہیں تو سن لے سمجھ لے اور سوچ لے قبیلہ لوی بن غالب میں سے اللہ کے رسول ﷺ مبعوث ہوچکے ہیں میں جنات کی حس اور ان کے بوریہ بستر باندھنے پر تعجب کر رہا ہوں اگر تو طالب ہدایت ہے تو فورا مکہ کی طرف کوچ کر۔ سمجھ لے کہ بہتر اور بدتر جن یکساں نہیں جا جلدی جا اور بنو ہاشم کے اس دلارے کے منور مکھڑے پر نظریں تو ڈال لے مجھے پھر غنودگی سی آگئی تو اس نے دوبارہ جگایا اور کہنے لگا اے سواد بن قارب اللہ عزوجل نے اپنا رسول بھیج دیا ہے تم ان کی خدمت میں پہنچو اور ہدایت اور بھلائی سمیٹ لو دوسری رات پھر آیا اور مجھے جگا کر کہنے لگا مجھے جنات کے جستجو کرنے اور جلد جلد پالان اور جھولیں کسنے پر تعجب معلوم ہوتا ہے اگر تو بھی ہدایت کا طالب ہے تو مکہ کا قصد کر۔ سمجھ لے کہ اس کے دونوں قدم اس کی دموں کی طرح نہیں تو اٹھ اور جلدی جلدی بنو ہاشم کے اس پسندیدہ شخص کی خدمت میں پہنچ اور اپنی آنکھیں اس کے دیدار سے منور کر۔ تیسری رات پھر آیا اور کہنے لگا مجھے جنات کے باخبر ہوجانے اور ان کے قافلوں کے فورا تیار ہوجانے پر تعجب آرہا ہے وہ سب طلب ہدایت کے لئے مکہ کی طرف دوڑے جا رہے ہیں ان میں کے برے بھلوں کی برابری نہیں کرسکتے تو بھی اٹھ اور اس بنو ہاشم کے چیدہ شخص کی طرف چل کھڑا ہو۔ مومن جنات کافروں کی طرح نہیں تین راتوں تک برابر یہی سنتے رہنے کے بعد میرے دل میں بھی دفعتًہ اسلام کا ولولہ اٹھا اور حضور ﷺ کی وقعت اور محبت سے دل پر ہوگیا میں نے اپنی سانڈنی پر کجاوہ کسا اور بغیر کسی جگہ قیام کئے سیدھا رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ اس وقت شہر مکہ میں تھے اور لوگ آپ کے آس پاس ایسے تھے جیسے گھوڑے پر ایال۔ مجھے دیکھتے ہی یکبارگی اللہ کے پیغمبر ﷺ نے فرمایا سواد بن قارب کو مرحبا ہو آؤ ہمیں معلوم ہے کہ کیسے اور کس لئے اور کس کے کہنے سننے سے آرہے ہو، میں نے کہا حضور ﷺ میں نے کچھ اشعار کہے ہیں اگر اجازت ہو تو پیش کروں ؟ آپ نے فرمایا سواد شوق سے کہو تو حضرت سواد نے وہ اشعار پڑھے جن کا مضمون یہ ہے کہ میرے پاس میرا جن میرے سو جانے کے بعد رات کو آیا اور اس نے مجھے ایک سچی خبر پہنچائی تین راتیں برابر وہ میرے پاس آتا رہا اور ہر رات کہتا رہا کہ لوی بن غالب میں اللہ کے رسول مبعوث ہوچکے ہیں، میں نے بھی سفر کی تیاری کرلی اور جلد جلد راہ طے کرتا یہاں پہنچ ہی گیا اب میری گواہی ہے کہ بجز اللہ کے اور کوئی رب نہیں اور آپ اللہ کے امانتدار رسول ہیں آپ سے شفاعت کا آسرا سب سے زیادہ ہے اے بہترین بزرگوں اور پاک لوگوں کی اولاد اے تمام رسولوں سے بہتر رسول جو حکم آسمانی آپ ہمیں پہنچائیں گے وہ کتنا ہی مشکل اور طبیعت کے خلاف کیوں نہ ہو ناممکن کہ ہم اسے ٹال دیں آپ قیامت کے دن ضرور میرے سفارشی بننا کیونکہ وہاں بجز آپ کے سواد بن قارب کا سفارشی اور کون ہوگا ؟ اس پر حضور ﷺ بہت ہنسے اور فرمانے لگے سواد تم نے فلاح پالی۔ حضرت عمر نے یہ واقعہ سن کر پوچھا کیا وہ جن اب بھی تیرے پاس آتا ہے اس نے کہا جب سے میں نے قرآن پڑھا وہ نہیں آتا اور اللہ کا بڑا شکر ہے کہ اسکے عوض میں نے رب کی پاک کتاب پائی۔ اور اب جس حدیث کو ہم حافظ ابو نعیم کی کتاب دلائل النبوۃ سے نقل کرتے ہیں اس میں بھی اس کا بیان ہے کہ مدینہ شریف میں بھی جنات کا وفد حضور ﷺ کی خدمت میں باریاب ہوا تھا۔ حضرت عمرو بن غیلان ثقفی، حضرت عبداللہ بن مسعود کے پاس جا کر ان سے دریافت کرتے ہیں کہ مجھے یہ معلوم ہوا کہ جس رات جنات کا وفد حاضر حضور ﷺ ہوا تھا اس رات حضور ﷺ کے ساتھ آپ بھی تھے ؟ جواب دیا کہ ہاں ٹھیک ہے میں نے کہا ذرا واقعہ تو سنائیے۔ فرمایا صفہ والے مساکین صحابہ کو لوگ اپنے اپنے ساتھ شام کا کھانا کھلانے لے گئے اور میں یونہی رہ گیا میرے پاس حضور ﷺ کا گزر ہوا پوچھا کون ہے ؟ میں نے کہا ابن مسعود فرمایا تمہیں کوئی نہیں لے گیا کہ تم بھی کھالیتے ؟ میں نے جواب دیا نہیں کوئی نہیں لے گیا فرمایا اچھا میرے ساتھ چلو شاہد کچھ مل جائے تو دے دوں گا میں ساتھ ہو لیا آپ حضرت ام سلمہ کے حجرے میں گئے میں باہر ہی ٹھہر گیا تھوڑی دیر میں اندر سے ایک لونڈی آئی اور کہنے لگی حضور ﷺ فرماتے ہیں ہم نے اپنے گھر میں کوئی چیز نہیں پائی تم اپنی خواب گاہ میں چلے جاؤ۔ میں واپس مسجد میں آگیا اور مسجد میں کنکریوں کا ایک چھوٹا سا ڈھیر کر کے اس پر سر رکھ کر اپنا کپڑا لپیٹ کر سو گیا تھوڑی ہی دیر گذری ہوگی تو وہی لونڈی پھر آئیں اور کہا رسول اللہ ﷺ آپ کو یاد فرما رہے ہیں ساتھ ہو لیا اور مجھے امید پیدا ہوگئی کہ اب تو کھانا ضرور ملے گا جب میں اپنی جگہ پہنچا تو حضور ﷺ گھر سے باہر تشریف لائے آپ کے ہاتھ میں کھجور کے درخت کی ایک چھڑی تھی جسے میرے سینے پر رکھ کر فرمانے لگے جہاں میں جا رہا ہوں کیا تم بھی میرے ساتھ چلو گے ؟ میں نے کہا جو اللہ نے چاہا ہو تین مرتبہ یہی سوال جواب ہوئے پھر آپ چلے اور میں بھی آپ کے ساتھ چلنے لگا تھوڑی دیر میں بقیع غرقد چا پہنچے پھر قریب قریب وہی بیان ہے جو اوپر کی روایتوں میں گذر چکا ہے اس کی سند غریب ہے اور اس کی سند میں ایک مبہم راوی ہے جس کا نام ذکر نہیں کیا گیا۔ دلائل نبوت میں حافظ ابو نعیم فرماتے ہیں کہ مدینہ کی مسجد میں رسول مقبول ﷺ نے صبح کی نماز ادا کی اور لوٹ کر لوگوں سے کہا آج رات کو جنات کے وفد کی طرف تم میں سے کون میرے ساتھ چلے گا ؟ کسی نے جواب نہ دیا تین مرتبہ فرمان پر بھی کوئی نہ بولا۔ حضور ﷺ میرے پاس سے گذرے اور میرا ہاتھ تھام کر اپنے ساتھ لے چلے مدینہ کی پہاڑوں سے بہت آگے نکل کر صاف چٹیل میدان میں پہنچ گئے اب نیزوں کے برابر لانبے لانبے قد کے آدمی نیچے نیچے کپڑے ہوئے آنے شروع ہوئے ہیں۔ میں تو انہیں دیکھ کر مارے ڈر کے کانپنے لگا پھر اور واقعہ مثل حدیث ابن مسعود کے بیان کیا۔ یہ حدیث بھی غریب ہے واللہ اعلم۔ اسی کتاب میں ایک غریب حدیث میں ہے کہ حضرت عبداللہ کے ساتھی حج کو جا رہے تھے راستے میں ہم نے دیکھا کہ ایک سفید رنگ سانپ راستے میں لوٹ رہا ہے اور اس میں سے مشک کی خوشبو اڑ رہی ہے، ابراہیم کہتے ہیں میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا تم تو سب جاؤ میں یہاں ٹھہر جاتا ہوں دیکھوں تو اس سانپ کا کیا ہوتا ہے ؟ چناچہ وہ چل دئیے اور میں ٹھہر گیا تھوڑی ہی دیر گذری ہوگی جو وہ سانپ مرگیا میں نے ایک سفید کپڑا لے کر اس میں لپیٹ کر راستے کے ایک طرف دفن کردیا اور رات کے کھانے کے وقت اپنے قافلے میں پہنچ گیا اللہ کی قسم میں بیٹھا ہوا تھا جو چار عورتیں مغرب کی طرف آئیں ان میں سے ایک نے پوچھا عمرو کو کس نے دفن کیا ؟ ہم نے کہا کون عمرو ؟ اس نے کہا تم میں سے کسی نے ایک سانپ کو دفن کیا ہے ؟ میں نے کہا ہاں میں نے دفن کیا ہے کہنے لگی قسم ہے اللہ کی تم نے بڑے روزے دار بڑے پختہ نمازی کو دفن کیا ہے جو تمہارے نبی کو مانتا تھا اور جس نے آپ کے نبی ہونے سے چار سو سال پیشتر آسمان سے آپ کی صفت سنی تھی ابراہیم کہتے ہیں اس پر ہم نے اللہ تبارک وتعالیٰ کی حمد و ثنا کی پھر حج سے فارغ ہو کر جب ہم فاروق اعظم کی خدمت میں پہنچے اور میں نے آپ کو یہ سارا واقعہ سنایا تو آپ نے فرمایا اس عورت نے سچ کہا۔ میں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ مجھ پر ایمان لایا تھا میری نبوت کے چار سو سال پہلے۔ یہ حدیث بھی غریب ہے واللہ اعلم۔ ایک روایت میں ہے کہ دفن کفن کرنے والے حضرت صفوان بن معطل تھے کہتے ہیں کہ یہ صاحب جو یہاں دفن کئے گئے یہ ان نو جنات میں سے ایک ہیں جو حضور ﷺ کے پاس قرآن سننے کے لئے وفد بن کر آئے تھے ان کا انتقال ان سب سے اخیر میں ہوا۔ ابو نعیم میں ایک روایت ہے کہ ایک شخص حضرت عثمان ذوالنورین کی خدمت میں آئے اور کہنے لگے امیرا لمومنین میں ایک جنگل میں تھا میں نے دیکھا کہ دو سانپ آپس میں خوب لڑ رہے ہیں یہاں تک کہ ایک نے دوسرے کو مار ڈالا۔ اب میں انہیں چھوڑ کر جہاں معرکہ ہوا تھا وہاں گیا تو بہت سے سانپ قتل کئے ہوئے پڑے ہیں اور بعض سے اسلام کی خوشبو آرہی ہے پس میں نے ایک ایک کو سونگھنا شروع کیا یہاں تک کہ ایک زرد رنگ کے دبلے پتلے سانپ سے مجھے اسلام کی خوشبو آنے لگی، میں نے اپنے عمامے میں لپیٹ کر اسے دفنا دیا اب میں چلا جا رہا تھا جو میں نے ایک آواز سنی کہ اے اللہ کے بندے تجھے اللہ کی طرف سے ہدایت دی گئی۔ یہ دونوں سانپ جنات کے قبیلہ بنو شیعبان اور بنو قیس میں سے تھے۔ ان دونوں میں جنگ ہوئی اور پھر جس قدر قتل ہوئے وہ تم نے خود دیکھ لئے انہی میں ایک شہید جنہیں تم نے دفن کیا وہ تھے جنہوں نے خود رسول اللہ ﷺ کی زبانی وحی الہٰی سنی تھی۔ حضرت عثمان اس قصے کو سن کر فرمانے لگے اے شخص اگر تو سچا ہے تو اس میں شک نہیں کہ تو نے عجب واقعہ دیکھا اور اگر تو جھوٹا ہے تو جھوٹ کا بوجھ تجھ پر ہے۔ اب آیت کی تفسیر سنئے ارشاد ہے کہ جب ہم نے تیری طرف جنات کے ایک گروہ کو پھیرا جو قرآن سن رہا تھا جب وہ حاضر ہوگئے اور تلاوت شروع ہونے کو تھی تو انہوں نے آپس میں ایک دوسرے کو یہ ادب سکھایا کہ خاموشی سے سنو۔ ان کا ایک اور ادب بھی حدیث میں آیا ہے ترمذی وغیرہ میں ہے کہ ایک مرتبہ حضور ﷺ نے صحابہ کرام کے سامنے سورة رحمٰن کی تلاوت کی پھر فرمایا کیا بات ہے ؟ جو تم سب خاموش ہی رہے تم سے تو بہت اچھے جواب دینے والے جنات ثابت ہوئے جب بھی میرے منہ سے انہوں نے آیت (فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ 13 ؀) 55۔ الرحمن :13) سنی انہوں نے جواب میں کہا (ولا بشیءٍ من الائک او نعمک ربنا نکذب فلک الحمد) پھر فرماتا ہے جب فراغت حاصل کی گئی (قضی) کے معنی ان آیتوں میں بھی یہی ہیں آیت (فَاِذَا قُضِيَتِ الصَّلٰوةُ فَانْتَشِرُوْا فِي الْاَرْضِ وَابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِيْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ 10؀) 62۔ الجمعة :10) اور آیت (فَقَضٰهُنَّ سَبْعَ سَمٰوَاتٍ فِيْ يَوْمَيْنِ وَاَوْحٰى فِيْ كُلِّ سَمَاۗءٍ اَمْرَهَا ۭ وَزَيَّنَّا السَّمَاۗءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيْحَ ڰ وَحِفْظًا ۭ ذٰلِكَ تَقْدِيْرُ الْعَزِيْزِ الْعَلِيْمِ 12؀) 41۔ فصلت :12) اور آیت (فَاِذَا قَضَيْتُمْ مَّنَاسِكَكُمْ02000) 2۔ البقرة :200) وہ اپنی قوم کو دھمکانے اور انہیں آگاہ کرنے کے لئے واپس ان کی طرف چلے جیسے اللہ عزوجل و علا کا فرمان ہے آیت (فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَــةٍ مِّنْھُمْ طَاۗىِٕفَةٌ لِّيَتَفَقَّهُوْا فِي الدِّيْنِ وَلِيُنْذِرُوْا قَوْمَھُمْ اِذَا رَجَعُوْٓا اِلَيْهِمْ لَعَلَّھُمْ يَحْذَرُوْنَ01202) 9۔ التوبہ :122) ، یعنی وہ دین کی سمجھ حاصل کریں اور جب واپس اپنی قوم کے پاس پہنچیں تو انہیں بھی ہوشیار کردیں بہت ممکن ہے کہ وہ بچاؤ اختیار کرلیں۔ اس آیت سے استدلال کیا گیا ہے کہ جنات میں بھی اللہ کی باتوں کو پہنچانے والے اور ڈر سنانے والے ہیں لیکن ان میں سے رسول نہیں بنائے گئے یہ بات بلاشک ثابت ہے کہ جنوں میں پیغمبر نہیں ہیں۔ فرمان باری ہے آیت (وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِيْٓ اِلَيْهِمْ فَسْــَٔـلُوْٓا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ) 21۔ الأنبیاء :7) ، یعنی ہم نے تجھ سے پہلے بھی جتنے رسول بھیجے وہ سب بستیوں کے رہنے والے انسان ہی تھے جن کی طرف ہم نے اپنی وحی بھیجا کرتے تھے اور آیت میں ہے آیت (وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ اِلَّآ اِنَّهُمْ لَيَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَيَمْشُوْنَ فِي الْاَسْوَاقِ ۭ وَجَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً ۭ اَتَصْبِرُوْنَ ۚ وَكَانَ رَبُّكَ بَصِيْرًا 20؀) 25۔ الفرقان :20) یعنی تجھ سے پہلے ہم نے جتنے رسول بھیجے وہ سب کھانا کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے۔ ابراہیم خلیل اللہ کی نسبت قرآن میں ہے آیت (وَجَعَلْنَا فِيْ ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَالْكِتٰبَ وَاٰتَيْنٰهُ اَجْرَهٗ فِي الدُّنْيَا ۚ وَاِنَّهٗ فِي الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِيْنَ 27؀) 29۔ العنکبوت :27) یعنی ہم نے ان کی اولاد میں نبوۃ اور کتاب رکھ دی پس آپ کے بعد جتنے بھی نبی آئے وہ آپ ہی کے خاندان اور آپ ہی کی نسل میں سے ہوئے ہیں۔ لیکن سورة انعام کی آیت (يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اَلَمْ يَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَقُصُّوْنَ عَلَيْكُمْ اٰيٰتِيْ وَيُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَاۗءَ يَوْمِكُمْ ھٰذَ01300) 6۔ الانعام :130) یعنی اے جنوں اور انسانوں کے گروہ کیا تمہارے پاس تم میں سے رسول نہیں آئے تھے ؟ اس کا مطلب اور اس سے مراد یہ دونوں جنس ہیں پس اس کا مصداق ایک جنس ہی ہوسکتی ہے جیسے فرمان (يَخْرُجُ مِنْهُمَا اللُّؤْلُؤُ وَالْمَرْجَانُ 22ۚ) 55۔ الرحمن :22) یعنی ان دونوں سمندروں میں سے موتی اور مونگا نکلتا ہے حالانکہ دراصل ایک میں سے ہی نکلتا ہے۔

آیت 29 - سورہ احقاف: (وإذ صرفنا إليك نفرا من الجن يستمعون القرآن فلما حضروه قالوا أنصتوا ۖ فلما قضي ولوا إلى قومهم منذرين...) - اردو