سورہ احقاف (46): آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں۔ - اردو ترجمہ

اس صفحہ میں سورہ Al-Ahqaf کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر ابن کثیر (حافظ ابن کثیر) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الأحقاف کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔

سورہ احقاف کے بارے میں معلومات

Surah Al-Ahqaf
سُورَةُ الأَحۡقَافِ
صفحہ 506 (آیات 29 سے 35 تک)

وَإِذْ صَرَفْنَآ إِلَيْكَ نَفَرًا مِّنَ ٱلْجِنِّ يَسْتَمِعُونَ ٱلْقُرْءَانَ فَلَمَّا حَضَرُوهُ قَالُوٓا۟ أَنصِتُوا۟ ۖ فَلَمَّا قُضِىَ وَلَّوْا۟ إِلَىٰ قَوْمِهِم مُّنذِرِينَ قَالُوا۟ يَٰقَوْمَنَآ إِنَّا سَمِعْنَا كِتَٰبًا أُنزِلَ مِنۢ بَعْدِ مُوسَىٰ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ يَهْدِىٓ إِلَى ٱلْحَقِّ وَإِلَىٰ طَرِيقٍ مُّسْتَقِيمٍ يَٰقَوْمَنَآ أَجِيبُوا۟ دَاعِىَ ٱللَّهِ وَءَامِنُوا۟ بِهِۦ يَغْفِرْ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمْ وَيُجِرْكُم مِّنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ وَمَن لَّا يُجِبْ دَاعِىَ ٱللَّهِ فَلَيْسَ بِمُعْجِزٍ فِى ٱلْأَرْضِ وَلَيْسَ لَهُۥ مِن دُونِهِۦٓ أَوْلِيَآءُ ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ فِى ضَلَٰلٍ مُّبِينٍ أَوَلَمْ يَرَوْا۟ أَنَّ ٱللَّهَ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ وَلَمْ يَعْىَ بِخَلْقِهِنَّ بِقَٰدِرٍ عَلَىٰٓ أَن يُحْۦِىَ ٱلْمَوْتَىٰ ۚ بَلَىٰٓ إِنَّهُۥ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ وَيَوْمَ يُعْرَضُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ عَلَى ٱلنَّارِ أَلَيْسَ هَٰذَا بِٱلْحَقِّ ۖ قَالُوا۟ بَلَىٰ وَرَبِّنَا ۚ قَالَ فَذُوقُوا۟ ٱلْعَذَابَ بِمَا كُنتُمْ تَكْفُرُونَ فَٱصْبِرْ كَمَا صَبَرَ أُو۟لُوا۟ ٱلْعَزْمِ مِنَ ٱلرُّسُلِ وَلَا تَسْتَعْجِل لَّهُمْ ۚ كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَ مَا يُوعَدُونَ لَمْ يَلْبَثُوٓا۟ إِلَّا سَاعَةً مِّن نَّهَارٍۭ ۚ بَلَٰغٌ ۚ فَهَلْ يُهْلَكُ إِلَّا ٱلْقَوْمُ ٱلْفَٰسِقُونَ
506

سورہ احقاف کو سنیں (عربی اور اردو ترجمہ)

سورہ احقاف کی تفسیر (تفسیر ابن کثیر: حافظ ابن کثیر)

اردو ترجمہ

(اور وہ واقعہ بھی قابل ذکر ہے) جب ہم جنوں کے ایک گروہ کو تمہاری طرف لے آئے تھے تاکہ قرآن سنیں جب وہ اُس جگہ پہنچے (جہاں تم قرآن پڑھ رہے تھے) تو انہوں نے آپس میں کہا خاموش ہو جاؤ پھر جب وہ پڑھا جا چکا تو وہ خبردار کرنے والے بن کر اپنی قوم کی طرف پلٹے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waith sarafna ilayka nafaran mina aljinni yastamiAAoona alqurana falamma hadaroohu qaloo ansitoo falamma qudiya wallaw ila qawmihim munthireena

طائف سے واپسی پر جنات نے کلام الہٰی سنا، شیطان بوکھلایا مسند امام احمد میں حضرت زبیر سے اس آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ یہ واقعہ نخلہ کا ہے رسول اللہ ﷺ اس وقت نماز عشاء ادا کر رہے تھے، یہ سب جنات سمٹ کر آپ کے اردگرد بھیڑ کی شکل میں کھڑے ہوگئے ابن عباس کی روایت میں ہے کہ یہ جنات (نصیبین) کے تھے تعداد میں سات تھے کتاب دلائل النبوۃ میں بروایت ابن عباس مروی ہے کہ نہ تو حضور ﷺ نے جنات کو سنانے کی غرض سے قرآن پڑھا تھا نہ آپ نے انہیں دیکھا آپ تو اپنے صحابہ کے ساتھ عکاظ کے بازار جا رہے تھے ادھر یہ ہوا تھا شیاطین کے اور آسمانوں کی خبروں کے درمیان روک ہوگئی تھی اور ان پر شعلے برسنے شروع ہوگئے تھے۔ شیاطین نے آکر اپنی قوم کو یہ خبر دی تو انہوں نے کہا کوئی نہ کوئی نئی بات پیدا ہوئی ہے جاؤ تلاش کرو پس یہ نکل کھڑے ہوئے ان میں کی جو جماعت عرب کی طرف متوجہ ہوئی تھی وہ جب یہاں پہنچی تب رسول اللہ ﷺ سوق عکاظ کی طرف جاتے ہوئے نخلہ میں اپنے اصحاب کی نماز پڑھا رہے تھے ان کے کانوں میں جب آپ کی تلاوت کی آواز پہنچی تو یہ ٹھہر گئے اور کان لگا کر بغور سننے لگے اسکے بعد انہوں نے فیصلہ کرلیا کہ بس یہی وہ چیز ہے جس کی وجہ سے تمہارا آسمانوں تک پہنچنا موقوف کردیا گیا ہے یہاں سے فورا ہی واپس لوٹ کر اپنی قوم کے پاس پہنچے اور ان سے کہنے لگے ہم نے عجیب قرآن سنا جو نیکی کا رہبر ہے ہم تو اس پر ایمان لاچکے اور اقرار کرتے ہیں کہ اب ناممکن ہے کہ اللہ کے ساتھ ہم کسی اور کو شریک کریں۔ اس واقعہ کی خبر اللہ تعالیٰ نے اپنی نبی کو سورة جن میں دی، یہ حدیث بخاری و مسلم وغیرہ میں بھی ہے۔ مسند میں ہے حضرت ابن عباس فرماتے ہیں جنات وحی الہٰی سنا کرتے تھے ایک کلمہ جب ان کے کان میں پڑجاتا تو وہ اس میں دس ملا لیا کرتے پس وہ ایک تو حق نکلتا باقی سب باطل نکلتے اور اس سے پہلے ان پر تارے پھینکے نہیں جاتے تھے۔ پس جب حضور ﷺ مبعوث ہوئے تو ان پر شعلہ باری ہونے لگی یہ اپنے بیٹھنے کی جگہ پہنچتے اور ان پر شعلہ گرتا اور یہ ٹھہر نہ سکتے انہوں نے آکر ابلیس سے یہ شکایت کی تو انہوں نے نبی ﷺ کو نخلہ کی دونوں پہاڑیوں کے درمیان نماز پڑھتے ہوئے پایا اور جا کر اسے خبر دی اس نے کہا بس یہی وجہ ہے جو آسمان محفوظ کردیا گیا اور تمہارا جانا بند ہوا۔ یہ روایت ترمذی اور نسائی میں بھی ہے۔ حسن بصری کا قول بھی یہی ہے کہ اس واقعہ کی خبر تک رسول اللہ ﷺ کو نہ تھی جب آپ پر وحی آئی تب آپ نے یہ معلوم کیا۔ سیرت ابن اسحاق میں محمد بن کعب کا ایک لمبا بیان منقول ہے جس میں حضور ﷺ کا طائف جانا انہیں اسلام کی دعوت دینا ان کا انکار کرنا وغیرہ پورا واقعہ بیان ہے۔ حضرت حسن نے اس دعا کا بھی ذکر کیا ہے جو آپ نے اس تنگی کے وقت کی تھی جو یہ ہے (اللھم الیک اشکوا ضعف قوتی وقلتہ حیلتی وھوانی علی الناس یا ارحم الراحمین انت الرحم الراحمین وانت رب المستضعفین وانت ربی الی من تکلنی الی عدو بعید یتجھمنی ام الی صدیق قریب ملکتہ امری ان لم یکن بک غضب علی فلا ابالی غیر ان عافیتک اوسع لی اعوذ بنور وجھک الذی اشرقت لہ الظلمات وصلح علیہ امر الدنیا والاخرۃ ان ینزل بی غضبک او یحل بی سخطک ولک العتبیٰ حتی ترضیٰ ولا حول ولا قوۃ الا بک) یعنی اپنی کمزوری اور بےسروسامانی اور کسمپرسی کی شکایت صرف تیرے سامنے کرتا ہوں۔ اے ارحم الراحمین تو دراصل سب سے زیادہ رحم و کرم کرنے والا ہے اور کمزوروں کا رب تو ہی ہے میرا پالنہار بھی تو ہی ہے تو مجھے کس کو سونپ رہا ہے کسی دوری والے دشمن کو جو مجھے عاجز کر دے یا کسی قرب والے دوست کو جسے تو نے میرے بارے اختیار دے رکھا ہو اگر تیری کوئی خفگی مجھ پر نہ ہو تو مجھے اس درد دکھ کی کوئی پرواہ نہیں لیکن تاہم اگر تو مجھے عافیت کے ساتھ ہی رکھ تو وہ میرے لئے بہت ہی راحت رساں ہے میں تیرے چہرے کے اس نور کے باعث جس کی وجہ سے تمام اندھیریاں جگمگا اٹھی ہیں اور دین و دنیا کے تمام امور کی اصلاح کا مدار اسی پر ہے تجھ سے اس بات کی پناہ طلب کرتا ہوں کہ مجھ پر تیرا عتاب اور تیرا غصہ نازل ہو یا تیری ناراضگی مجھ پر آجائے، مجھے تیری ہی رضامندی اور خوشنودی درکار ہے اور نیکی کرنے اور بدی سے بچنے کی طاقت تیری ہی مدد سے ہے۔ اسی سفر کی واپسی میں آپ نے نخلہ میں رات گذاری اور اسی رات قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے (نصیبین) کے جنوں نے آپ کو سنا یہ ہے تو صحیح لیکن اس میں قول تامل طلب ہے اس لئے کہ جنات کا کلام اللہ شریف سننے کا واقعہ وحی شروع ہونے کے زمانے کا ہے جیسے کہ ابن عباس کی اوپر بیان کردہ حدیث سے ثابت ہو رہا ہے اور آپ کا طائف جانا اپنے چچا ابو طالب کے انتقال کے بعد ہوا ہے جو ہجرت کے ایک یا زیادہ سے زیادہ دو سال پہلے کا واقعہ ہے جیسے کہ سیرت ابن اسحاق وغیرہ میں ہے واللہ اعلم۔ ابن ابی شیبہ میں ان جنات کی گنتی نو کی ہے جن میں سے ایک کا نام زویعہ ہے۔ انہی کے بارے میں یہ آیتیں نازل ہوئی ہیں پس یہ روایت اور اس سے پہلے کی حضرت ابن عباس کی روایت کا اقتضاء یہ ہے کہ اس مرتبہ جو جن آئے تھے ان کی موجودگی کا حضور ﷺ کو علم نہ تھا یہ تو آپ کی بیخبر ی میں ہی آپ کی زبانی قرآن سن کر واپس لوٹ گئے اس کے بعد بطور وفد فوجیں کی فوجیں اور جتھے کے جتھے ان کے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے جیسے کہ اس ذکر کے احادیث و آثار اپنی جگہ آرہے ہیں انشاء اللہ، بخاری و مسلم میں ہے حضرت عبدالرحمن نے حضرت مسروق سے پوچھا کہ جس رات جنات نے حضور ﷺ سے قرآن سنا تھا اس رات کس نے حضور ﷺ سے ان کا ذکر کیا تھا ؟ تو فرمایا مجھ سے تیرے والد حضرت ابن مسعود نے کہا ہے ان کی آگاہی حضور ﷺ کو ایک درخت نے دی تھی تو ممکن ہے کہ یہ خبر پہلی دفعہ کی ہو اور اثبات کو ہم نفی پر مقدم مان لیں۔ اور یہ بھی احتمال ہے کہ جب وہ سن رہے تھے آپ کو تو کوئی خبر نہ تھی یہاں تک کہ اس درخت نے آپ کو ان کے اجتماع کی خبر دی واللہ اعلم۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ واقعہ اس کے بعد والے کئی واقعات میں سے ایک ہو واللہ اعلم۔ امام حافظ بیہقی فرماتے ہیں کہ پہلی مرتبہ تو نہ رسول اللہ ﷺ نے جنوں کو دیکھا نہ خاص ان کے سنانے کے لئے قرآن پڑھا ہاں البتہ اس کے بعد جن آپ کے پاس آئے اور آپ نے انہیں قرآن پڑھ کر سنایا اور اللہ عزوجل کی طرف بلایا جیسے کہ حضرت ابن مسعود سے مروی ہے۔ اس کی روایتیں سنئے۔ حضرت علقمہ حضرت ابن مسعود سے پوچھتے ہیں کہ کیا تم میں سے کوئی اس رات حضور ﷺ کے ساتھ موجود تھا ؟ تو آپ نے جواب دیا کہ کوئی نہ تھا آپ رات بھر ہم سے غائب رہے اور ہمیں رہ رہ کر بار بار یہی خیال گذرا کرتا تھا کہ شاید کسی دشمن نے آپ کو دھوکا دے دیا اللہ نہ کرے آپ کے ساتھ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا ہو وہ رات ہماری بڑی بری طرح کٹی صبح صادق سے کچھ ہی پہلے ہم نے دیکھا کہ آپ غار حرا سے واپس آرہے ہیں پس ہم نے رات کی اپنی ساری کیفیت بیان کردی ہے۔ تو آپ نے فرمایا میرے پاس جنات کا قاصد آیا تھا جس کے ساتھ جا کر میں نے انہیں قرآن سنایا چناچہ آپ ہمیں لے کر گئے اور ان کے نشانات اور ان کی آگ کے نشانات ہمیں دکھائے۔ شعبی کہتے ہیں انہوں نے آپ سے توشہ طلب کیا تو عامر کہتے ہیں یعنی مکہ میں اور یہ جن جزیرے کے تھے تو آپ نے فرمایا ہر وہ ہڈی جس پر اللہ کا نام ذکر کیا گیا ہو وہ تمہارے ہاتھوں میں پہلے سے زیادہ گوشت والی ہو کر پڑے گی، اور لید اور گوبر تمہارے جانوروں کا چارہ بنے گا پس اے مسلمانو ! ان دونوں چیزوں سے استنجا نہ کرو یہ تمہارے جن بھائیوں کی خوراک ہیں دوسری روایت میں ہے کہ اس رات حضور ﷺ کو نہ پا کر ہم بہت ہی گھبرائے تھے اور تمام وادیوں اور گھاٹیوں میں تلاش کر آئے تھے اور حدیث میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا آج رات میں جنات کو قرآن سناتا رہا اور جنوں میں ہی اسی شغل میں رات گذاری۔ ابن جریر میں حضرت عبداللہ بن مسعود کی روایت ہے کہ آپ نے فرمایا تم میں سے جو چاہے آج کی رات جنات سے دلچسپی لینے والا میرے ساتھ رہے۔ پس میں موجود ہوگیا آپ مجھے لے کر چلے جب مکہ شریف کے اونچے حصے میں پہنچے تو آپ نے اپنے پاؤں سے ایک خط کھینچ دیا اور مجھ سے فرمایا بس یہیں بیٹھے رہو پھر آپ چلے اور ایک جگہ پر کھڑے ہو کر آپ نے قرأت شروع کی پھر تو اس قدر جماعت آپ کے اردگرد ٹھٹ لگا کر کھڑی ہوگئی کہ میں تو آپ کی قرأت سننے سے بھی رہ گیا۔ پھر میں نے دیکھا کہ جس طرح ابر کے ٹکڑے پھٹتے ہیں اس طرح وہ ادھر ادھر جانے لگے اور یہاں تک کہ اب بہت تھوڑے باقی رہ گئے پس حضور ﷺ صبح کے وقت فارغ ہوئے اور آپ وہاں سے دور نکل گئے اور حاجت سے فارغ ہو کر میرے پاس تشریف لائے اور پوچھنے لگے وہ باقی کے کہاں ہیں ؟ میں نے کہا وہ یہ ہیں پس آپ نے انہیں ہڈی اور لید دی۔ پھر آپ نے مسلمانوں کو ان دونوں چیزوں سے استنجا کرنے سے منع فرما دیا اس روایت کی دوسری سند میں ہے کہ جہاں حضور ﷺ نے حضرت عبداللہ بن مسعود کو بٹھایا تھا وہاں بٹھا کر فرما دیا تھا کہ خبردار یہاں سے نکلنا نہیں ورنہ ہلاک ہوجاؤ گے۔ اور روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے صبح کے وقت آکر ان سے دریافت کیا کہ کیا تم سو گئے تھے ؟ آپ نے فرمایا نہیں نہیں اللہ کی قسم میں نے تو کئی مرتبہ چاہا کہ لوگوں سے فریاد کروں لیکن میں نے سن لیا کہ آپ انہیں اپنی لکڑی سے دھمکا رہے تھے اور فرماتے جاتے تھے کہ بیٹھ جاؤ حضور ﷺ نے فرمایا اگر تم یہاں سے باہر نکلتے تو مجھے خوف تھا کہ ان میں کے بعض تمہیں اچک نہ لے جائیں، پھر آپ نے دریافت فرمایا کہ اچھا تم نے کچھ دیکھا بھی ؟ میں نے کہا ہاں لوگ تھے سیاہ انجان خوفناک سفید کپڑے پہنے ہوئے آپ نے فرمایا یہ (نصیبین) کے جن تھے انہوں نے مجھ سے توشہ طلب کیا تھا پس میں نے ہڈی اور لید گوبر دیا میں نے پوچھا حضور ﷺ اس سے انہیں کیا فائدہ ؟ آپ نے فرمایا ہر ہڈی ان کے ہاتھ لگتے ہی ایسی ہوجائے گی جیسی اس وقت تھی جب کھائی گئی تھی یعنی گوشت والی ہو کر انہیں ملے گی اور لید میں بھی وہی دانے پائیں گے جو اس روز تھے جب وہ دانے کھائے گئے تھے پس ہم میں سے کوئی شخص بیت الخلا سے نکل کر ہڈی لید اور گوبر سے استنجا نہ کرے اس روایت کی دوسری سند میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا پندرہ جنات جو آپس میں چچازاد اور پھوپھی زاد بھائی ہیں آج رات مجھ سے قرآن سننے کیلئے آنے والے ہیں۔ اس میں ہڈی اور لید کے ساتھ کوئلے کا لفظ بھی ہے۔ ابن مسعود فرماتے ہیں دن نکلے میں اسی جگہ گیا تو دیکھا کہ وہ کوئی ساٹھ اونٹ بیٹھنے کی جگہ ہے اور روایت میں ہے کہ جب جنات کا اژدھام ہوگیا تو ان کے سرداران نے کہا یارسول اللہ ﷺ میں انہیں ادھر ادھر کر کے آپ کو اس تکلیف سے بچا لیتا ہوں تو آپ نے فرمایا اللہ سے زیادہ مجھے کوئی بچانے والا نہیں۔ آپ فرماتے ہیں جنات والی رات میں مجھ سے حضور ﷺ نے دریافت فرمایا کہ کیا تمہارے پاس پانی ہے ؟ میں نے کہا حضور ﷺ پانی تو نہیں البتہ ایک ڈولچی نبیذ ہے تو حضور ﷺ نے فرمایا عمدہ کھجوریں اور پاکیزہ پانی (ابو داؤد، ترمذی، ابن ماجہ) مسند احمد کی اس حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا مجھے اس سے وضو کراؤ چناچہ اپنے وضو کیا اور فرمایا یہ تو پینے کی اور پاک چیز ہے، جب آپ لوٹ کر آئے تو سانس چڑھ رہا تھا میں نے پوچھا حضور ﷺ کیا بات ہے ؟ آپ نے فرمایا میرے پاس میرے انتقال کی خبر آئی ہے۔ یہی حدیث قدرے زیادتی کے ساتھ حافظ ابو نعیم کی کتاب دلائل النبوۃ میں بھی ہے اس میں ہے کہ میں نے یہ سن کر کہا پھر یا رسول اللہ ﷺ اپنے بعد کسی کو خلیفہ نامزد کر جائیے آپ نے کہا کس کو ؟ میں نے کہا ابوبکر کو۔ اس پر آپ خاموش ہوگئے چلتے چلتے پھر کچھ دیر بعد یہی حالت طاری ہوئی۔ میں نے وہی سوال کیا آپ نے وہی جواب دیا۔ میں نے خلیفہ مقرر کرنے کو کہا آپ نے پوچھا کسے ؟ میں نے کہا عمر کو ؓ اس پر آپ خاموش ہوگئے کچھ دور چلنے کے بعد پھر چلنے کے بعد پھر یہی حالت اور یہی سوال جواب ہوئے اب کی مرتبہ میں نے حضرت علی بن ابی طالب کا نام پیش کیا تو آپ فرمانے لگے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر یہ لوگ ان کی اطاعت کریں تو سب جنت میں چلے جائیں گے لیکن یہ حدیث بالکل ہی غریب ہے اور بہت ممکن ہے کہ یہ محفوظ نہ ہو اور اگر صحت تسلیم کرلی جائے تو اس واقعہ کو مدینہ کا واقعہ ماننا پڑے گا۔ وہاں بھی آپ کے پاس جنوں کے وفود آئے تھے جیسے کہ ہم عنقریب انشاء اللہ تعالیٰ بیان کریں گے اس لئے کہ آپ کا آخری وقت فتح مکہ کے بعد تھا جب کہ دین الٰہی میں انسانوں اور جنوں کی فوجیں داخل ہوگئیں اور سورة (اذا جاء) الخ، اتر چکی جس میں آپ کو خبر انتقال دی گئی تھی۔ جیسے کہ حضرت ابن عباس کا قول ہے اور امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب کی اس پر موافقت ہے جو حدیثیں ہم اسی سورت کی تفسیر میں لائیں گے انشاء اللہ واللہ اعلم۔ مندرجہ بالا حدیث دوسری سند سے بھی مروی ہے لیکن اس کی سند بھی غریب ہے اور سیاق بھی غریب ہے۔ حضرت عکرمہ فرماتے ہیں یہ جنات جزیرہ موصل کے تھے ان کی تعداد بارہ ہزار کی تھی ابن مسعود اس خط کشیدہ کی جگہ میں بیٹھے ہوئے تھے لیکن جنات کے کھجوروں کے درختوں کے برابر کے قد و قامت وغیرہ دیکھ کر ڈر گئے اور بھاگ جانا چاہا لیکن فرمان رسول ﷺ یاد آگیا کہ اس حد سے باہر نہ نکلنا۔ جب حضور ﷺ سے یہ ذکر کیا تو آپ نے فرمایا اگر تم اس حد سے باہر آجاتے تو قیامت تک ہماری تمہاری ملاقات نہ ہوسکتی اور روایت میں ہے کہ جنات کی یہ جماعت جن کا ذکر آیت (وَاِذْ صَرَفْنَآ اِلَيْكَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ يَسْتَمِعُوْنَ الْقُرْاٰنَ ۚ فَلَمَّا حَضَرُوْهُ قَالُوْٓا اَنْصِتُوْا ۚ فَلَمَّا قُضِيَ وَلَّوْا اِلٰى قَوْمِهِمْ مُّنْذِرِيْنَ 29؀) 46۔ الأحقاف :29) ، میں ہے نینویٰ کی تھی آپ نے فرمایا تھا کہ مجھے حکم دیا گیا کہ انہیں قرآن سناؤں تم میں سے میرے ساتھ کون چلے گا ؟ اس پر سب خاموش ہوگئے دوبارہ پوچھا پھر خاموشی رہی تیسری مرتبہ دریافت کیا تو قبیلہ ہذیل کے شخص حضرت ابن مسعود تیار ہوئے حضور ﷺ انہیں ساتھ لے کر حجون کی گھاٹی میں گئے۔ ایک لکیر کھینچ کر انہیں یہاں بٹھا دیا اور آپ آگے بڑھ گئے۔ یہ دیکھنے لگے کہ گدھوں کی طرح کے زمین کے قریب اڑتے ہوئے کچھ جانور آرہے ہیں تھوڑی دیر بعد بڑا غل غپاڑہ سنائی دینے لگا یہاں تک کہ مجھے حضور ﷺ کی ذات پر ڈر لگنے لگا۔ جب آنحضرت ﷺ آئے تو میں نے کہا کہ حضور ﷺ یہ شوروغل کیا تھا ؟ آپ نے فرمایا ان کے ایک مقتول کا قصہ تھا جس میں یہ مختلف تھے ان کے درمیان صحیح فیصلہ کردیا گیا یہ واقعات صاف ہیں کہ حضور ﷺ نے قصدًا جا کر جنات کو قرآن سنایا انہیں اسلام کی دعوت دی اور جن مسائل کی اس وقت انہیں ضرورت تھی وہ سب بتا دئیے۔ ہاں پہلی مرتبہ جب جنات نے آپ کی زبانی قرآن سنا اس وقت آپ کو نہ معلوم تھا نہ آپ نے انہیں سنانے کی غرض سے قرآن پڑھا تھا جیسے کہ ابن عباس فرماتے ہیں اس کے بعد وہ وفود کی صورت میں آئے اور حضور ﷺ عمدًا تشریف لے گئے اور انہیں قرآن سنایا۔ حضرت ابن مسعود رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اس وقت نہ تھے جبکہ آپ نے ان سے بات چیت کی انہیں اسلام کی دعوت دی البتہ کچھ فاصلہ پر دور بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ کے ساتھ اس واقعہ میں سوائے حضرت ابن مسعود کے اور کوئی نہ تھا اور دوسری تطبیق ان روایات میں جن میں ہے کہ آپ کے ساتھ ابن مسعود اور جن میں ہے کہ نہ تھے یہ بھی ہوسکتی ہے کہ پہلی دفعہ نہ تھے دوسری مرتبہ تھے۔ واللہ اعلم، یہ بھی مروی ہے کہ نخلہ میں جن جنوں نے آپ سے ملاقات کی تھی وہ نینویٰ کے تھے اور مکہ شریف میں جو آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے وہ (نصیبین) کے تھے۔ اور یہ جو روایتوں میں آیا ہے کہ ہم نے وہ رات بہت بری بسر کی اس سے مراد ابن مسعود کے سوا اور صحابہ ہیں جنہیں اس بات کا علم نہ تھا کہ حضور ﷺ جنات کو قرآن سنانے گئے ہیں۔ لیکن یہ تاویل ہے ذرا دور کی واللہ اعلم۔ بیہقی میں ہے کہ حضور ﷺ کی حاجت اور وضو کے لئے آپ کے ساتھ حضرت ابوہریرہ پانی کی ڈولچی لئے ہوئے جایا کرتے تھے ایک دن یہ پیچھے پیچھے پہنچے آپ نے پوچھا کون ہے ؟ جواب دیا کہ میں ابوہریرہ ہوں فرمایا میرے استنجے کے لئے پتھر لاؤ لیکن ہڈی اور لید نہ لانا میں اپنی جھولی میں پتھر بھر لایا اور آپ کے پاس رکھ دئیے جب آپ فارغ ہوچکے اور چلنے لگے میں بھی آپ کے پیچھے چلا اور پوچھا حضور کیا وجہ ہے جو آپ نے ہڈی اور لید سے منع فرما دیا ؟ آپ نے جواب دیا میرے پاس (نصیبین) کے جنوں کا وفد آیا تھا اور انہوں نے مجھ سے توشہ طلب کیا تھا تو میں نے اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعا کی کہ وہ جس لید اور ہڈی پر گذریں اسے طعام پائیں۔ صحیح بخاری میں بھی اسی کے قریب قریب مروی ہے پس یہ حدیث اور اس سے پہلے کی حدیثیں دلالت کرتی ہیں کہ جنات کا وفد آپ کے پاس اس کے بعد بھی آیا تھا اب ہم ان احادیث کو بیان کرتے ہیں جو دلالت کرتی ہیں کہ جنات آپکے پاس کئی دفعہ حاضر ہوئے۔ ابن عباس سے جو روایت اس سے پہلے بیان ہوچکی ہے اس کے سوا بھی آپ سے دوسری سند سے مروی ہے ابن جریر میں ہے آپ فرماتے ہیں یہ سات جن تھے (نصیبین) کے رہنے والے انہیں اللہ کے رسول ﷺ نے اپنی طرف سے قاصد بنا کر جنات کی طرف بھیجا تھا مجاہد کہتے ہیں یہ جنات تعداد میں سات تھے (نصیبین) کے تھے ان میں سے رسول اللہ ﷺ نے تین کو اہل حران سے کہا اور چار کو اہل (نصیبین) سے ان کے نام یہ ہیں۔ حسی، حسا، منسی، ساحر، ناصر، الاردوبیان، الاحتم۔ ابو حمزہ شمالی فرماتے ہیں انہیں بنو شیصیان کہتے ہیں یہ قبیلہ جنات کے اور قبیلوں سے تعداد میں بہت زیادہ تھا اور یہ ان میں نصب کے بھی شریف مانے جاتے تھے اور عموماً یہ ابلیس کے لشکروں میں سے تھے ابن مسعود فرماتے ہیں یہ نو تھے ان میں سے ایک کا نام ردیعہ تھا اصل نخلہ سے آئے تھے۔ بعض حضرات سے مروی ہے کہ یہ پندرہ تھے اور ایک روایت میں ہے کہ ساٹھ اونٹوں پر آئے تھے اور ان کے سردار کا نام وردان تھا اور کہا گیا ہے کہ تین سو تھے اور یہ بھی مروی ہے کہ بارہ ہزار تھے ان سب میں تطبیق یہ ہے کہ چونکہ وفود کئی ایک آئے تھے ممکن ہے کہ کسی میں چھ سات نو ہی ہوں کسی میں زیادہ کسی میں اس سے بھی زیادہ۔ اس پر دلیل صحیح بخاری شریف کی یہ روایت بھی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب جس چیز کی نسبت جب کبھی کہتے کہ میرے خیال میں یہ اس طرح ہوگی تو وہ عمومًا اسی طرح نکلتی ایک مرتبہ آپ بیٹھے ہوئے تھے تو ایک حسین شخص گذرا آپ نے اسے دیکھ کر فرمایا اگر میرا گمان غلط نہ ہو تو یہ شخص اپنے جاہلیت کے زمانہ میں ان لوگوں کا کاہن تھا جانا ذرا اسے لے آنا جب وہ آگیا تو آپ نے اپنا یہ خیال اس پر ظاہر فرمایا وہ کہنے لگا مسلمانوں میں اس ذہانت و فطانت کا کوئی شخص آج تک میری نظر سے نہیں گذرا۔ حضرت عمر نے فرمایا اب میں تجھ سے کہتا ہوں کہ تو اپنی کوئی صحیح اور سچی خبر سنا، اس نے کہا بہت اچھا سنئے میں جاہلیت کے زمانہ میں ان کا کاہن تھا میرے پاس میرا جن جو سب سے زیادہ تعجب خیز خبر لایا وہ سنئے۔ میں ایک مرتبہ بازار جا رہا تھا تو وہ آگیا اور سخت گھبراہٹ میں تھا اور کہنے لگا کیا تو نے جنوں کی بربادی مایوسی اور انکے پھیلنے کے بعد سمٹ جانا اور ان کی درگت نہیں دیکھی ؟ حضرت عمر فرمانے لگے یہ سچا ہے میں ایک مرتبہ ان کے بتوں کے پاس سویا ہوا تھا ایک شخص نے وہاں ایک بچھڑا چڑھایا کہ ناگہاں ایک سخت پُر زور آواز آئی ایسی کہ اتنی بلند اور کرخت آواز میں نے کبھی نہیں سنی اس نے کہا اے جلیح نجات دینے والا امر آچکا ایک شخص ہے جو فصیح زبان سے آیت (لا الہ الا اللہ) کی منادی کر رہا ہے۔ سب لوگ تو مارے ڈر کے بھاگ گئے لیکن میں وہیں بیٹھا رہا کہ دیکھوں آخر یہ کیا ہے ؟ کہ دوبارہ پھر اسی طرح وہی آواز سنائی دی اور اس نے وہی کہا پس کچھ ہی دن گذرے تھے جو نبی ﷺ کی نبوت کی آوازیں ہمارے کانوں میں پڑنے لگیں۔ اس روایت سے ظاہر الفاظ سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ خود حضرت فاروق نے یہ آوازیں اس ذبح شدہ بچھڑے سے سنیں اور ایک ضعیف روایت میں صریح طور پر یہ آبھی گیا ہے لیکن باقی اور روایتیں یہ بتلا رہی ہیں کہ اسی کاہن نے اپنے دیکھنے سننے کا ایک واقعہ یہ بھی بیان کیا واللہ اعلم، امام بیہقی نے یہی کہا ہے اور یہی کچھ اچھا معلوم ہوتا ہے اس شخص کا نام سواد بن قارب تھا جو شخص اس واقعہ کی پوری تفصیل دیکھنا چاہتا ہو وہ میری کتاب سیرۃ عمر دیکھ لے، (وللہ الحمد المنہ)۔ امام بیہقی فرماتے ہیں ممکن ہے یہی وہ کاہن ہو جس کا ذکر بغیر نام کے صحیح حدیث میں ہے حضرت عمر بن خطاب منبر نبوی ﷺ پر ایک مرتبہ خطبہ سنا رہے تھے اسی میں پوچھا کیا سواد بن قارب یہاں موجود ہیں لیکن اس پورے سال تک کسی نے ہاں نہیں کہی اگلے سال آپ نے پھر پوچھا تو حضرت براء نے کہا سواد بن قارب کون ہے ؟ اس سے کیا مطلب ہے ؟ آپ نے فرمایا اس کے اسلام لانے کا قصہ عجیب و غریب ہے ابھی یہ باتیں ہو ہی رہیں تھیں جو حضرت سواد بن قارب آگئے حضرت عمر نے ان سے کہا سواد اپنے اسلام کا ابتدائی قصہ سناؤ آپ نے فرمایا سنئے میں ہند گیا ہوا تھا میرا ساتھی جن ایک رات میرے پاس آیا میں اس وقت سویا ہوا تھا مجھے اس نے جگا دیا اور کہنے لگا اٹھ اور اگر کچھ عقل و ہوش ہیں تو سن لے سمجھ لے اور سوچ لے قبیلہ لوی بن غالب میں سے اللہ کے رسول ﷺ مبعوث ہوچکے ہیں میں جنات کی حس اور ان کے بوریہ بستر باندھنے پر تعجب کر رہا ہوں اگر تو طالب ہدایت ہے تو فورا مکہ کی طرف کوچ کر۔ سمجھ لے کہ بہتر اور بدتر جن یکساں نہیں جا جلدی جا اور بنو ہاشم کے اس دلارے کے منور مکھڑے پر نظریں تو ڈال لے مجھے پھر غنودگی سی آگئی تو اس نے دوبارہ جگایا اور کہنے لگا اے سواد بن قارب اللہ عزوجل نے اپنا رسول بھیج دیا ہے تم ان کی خدمت میں پہنچو اور ہدایت اور بھلائی سمیٹ لو دوسری رات پھر آیا اور مجھے جگا کر کہنے لگا مجھے جنات کے جستجو کرنے اور جلد جلد پالان اور جھولیں کسنے پر تعجب معلوم ہوتا ہے اگر تو بھی ہدایت کا طالب ہے تو مکہ کا قصد کر۔ سمجھ لے کہ اس کے دونوں قدم اس کی دموں کی طرح نہیں تو اٹھ اور جلدی جلدی بنو ہاشم کے اس پسندیدہ شخص کی خدمت میں پہنچ اور اپنی آنکھیں اس کے دیدار سے منور کر۔ تیسری رات پھر آیا اور کہنے لگا مجھے جنات کے باخبر ہوجانے اور ان کے قافلوں کے فورا تیار ہوجانے پر تعجب آرہا ہے وہ سب طلب ہدایت کے لئے مکہ کی طرف دوڑے جا رہے ہیں ان میں کے برے بھلوں کی برابری نہیں کرسکتے تو بھی اٹھ اور اس بنو ہاشم کے چیدہ شخص کی طرف چل کھڑا ہو۔ مومن جنات کافروں کی طرح نہیں تین راتوں تک برابر یہی سنتے رہنے کے بعد میرے دل میں بھی دفعتًہ اسلام کا ولولہ اٹھا اور حضور ﷺ کی وقعت اور محبت سے دل پر ہوگیا میں نے اپنی سانڈنی پر کجاوہ کسا اور بغیر کسی جگہ قیام کئے سیدھا رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ اس وقت شہر مکہ میں تھے اور لوگ آپ کے آس پاس ایسے تھے جیسے گھوڑے پر ایال۔ مجھے دیکھتے ہی یکبارگی اللہ کے پیغمبر ﷺ نے فرمایا سواد بن قارب کو مرحبا ہو آؤ ہمیں معلوم ہے کہ کیسے اور کس لئے اور کس کے کہنے سننے سے آرہے ہو، میں نے کہا حضور ﷺ میں نے کچھ اشعار کہے ہیں اگر اجازت ہو تو پیش کروں ؟ آپ نے فرمایا سواد شوق سے کہو تو حضرت سواد نے وہ اشعار پڑھے جن کا مضمون یہ ہے کہ میرے پاس میرا جن میرے سو جانے کے بعد رات کو آیا اور اس نے مجھے ایک سچی خبر پہنچائی تین راتیں برابر وہ میرے پاس آتا رہا اور ہر رات کہتا رہا کہ لوی بن غالب میں اللہ کے رسول مبعوث ہوچکے ہیں، میں نے بھی سفر کی تیاری کرلی اور جلد جلد راہ طے کرتا یہاں پہنچ ہی گیا اب میری گواہی ہے کہ بجز اللہ کے اور کوئی رب نہیں اور آپ اللہ کے امانتدار رسول ہیں آپ سے شفاعت کا آسرا سب سے زیادہ ہے اے بہترین بزرگوں اور پاک لوگوں کی اولاد اے تمام رسولوں سے بہتر رسول جو حکم آسمانی آپ ہمیں پہنچائیں گے وہ کتنا ہی مشکل اور طبیعت کے خلاف کیوں نہ ہو ناممکن کہ ہم اسے ٹال دیں آپ قیامت کے دن ضرور میرے سفارشی بننا کیونکہ وہاں بجز آپ کے سواد بن قارب کا سفارشی اور کون ہوگا ؟ اس پر حضور ﷺ بہت ہنسے اور فرمانے لگے سواد تم نے فلاح پالی۔ حضرت عمر نے یہ واقعہ سن کر پوچھا کیا وہ جن اب بھی تیرے پاس آتا ہے اس نے کہا جب سے میں نے قرآن پڑھا وہ نہیں آتا اور اللہ کا بڑا شکر ہے کہ اسکے عوض میں نے رب کی پاک کتاب پائی۔ اور اب جس حدیث کو ہم حافظ ابو نعیم کی کتاب دلائل النبوۃ سے نقل کرتے ہیں اس میں بھی اس کا بیان ہے کہ مدینہ شریف میں بھی جنات کا وفد حضور ﷺ کی خدمت میں باریاب ہوا تھا۔ حضرت عمرو بن غیلان ثقفی، حضرت عبداللہ بن مسعود کے پاس جا کر ان سے دریافت کرتے ہیں کہ مجھے یہ معلوم ہوا کہ جس رات جنات کا وفد حاضر حضور ﷺ ہوا تھا اس رات حضور ﷺ کے ساتھ آپ بھی تھے ؟ جواب دیا کہ ہاں ٹھیک ہے میں نے کہا ذرا واقعہ تو سنائیے۔ فرمایا صفہ والے مساکین صحابہ کو لوگ اپنے اپنے ساتھ شام کا کھانا کھلانے لے گئے اور میں یونہی رہ گیا میرے پاس حضور ﷺ کا گزر ہوا پوچھا کون ہے ؟ میں نے کہا ابن مسعود فرمایا تمہیں کوئی نہیں لے گیا کہ تم بھی کھالیتے ؟ میں نے جواب دیا نہیں کوئی نہیں لے گیا فرمایا اچھا میرے ساتھ چلو شاہد کچھ مل جائے تو دے دوں گا میں ساتھ ہو لیا آپ حضرت ام سلمہ کے حجرے میں گئے میں باہر ہی ٹھہر گیا تھوڑی دیر میں اندر سے ایک لونڈی آئی اور کہنے لگی حضور ﷺ فرماتے ہیں ہم نے اپنے گھر میں کوئی چیز نہیں پائی تم اپنی خواب گاہ میں چلے جاؤ۔ میں واپس مسجد میں آگیا اور مسجد میں کنکریوں کا ایک چھوٹا سا ڈھیر کر کے اس پر سر رکھ کر اپنا کپڑا لپیٹ کر سو گیا تھوڑی ہی دیر گذری ہوگی تو وہی لونڈی پھر آئیں اور کہا رسول اللہ ﷺ آپ کو یاد فرما رہے ہیں ساتھ ہو لیا اور مجھے امید پیدا ہوگئی کہ اب تو کھانا ضرور ملے گا جب میں اپنی جگہ پہنچا تو حضور ﷺ گھر سے باہر تشریف لائے آپ کے ہاتھ میں کھجور کے درخت کی ایک چھڑی تھی جسے میرے سینے پر رکھ کر فرمانے لگے جہاں میں جا رہا ہوں کیا تم بھی میرے ساتھ چلو گے ؟ میں نے کہا جو اللہ نے چاہا ہو تین مرتبہ یہی سوال جواب ہوئے پھر آپ چلے اور میں بھی آپ کے ساتھ چلنے لگا تھوڑی دیر میں بقیع غرقد چا پہنچے پھر قریب قریب وہی بیان ہے جو اوپر کی روایتوں میں گذر چکا ہے اس کی سند غریب ہے اور اس کی سند میں ایک مبہم راوی ہے جس کا نام ذکر نہیں کیا گیا۔ دلائل نبوت میں حافظ ابو نعیم فرماتے ہیں کہ مدینہ کی مسجد میں رسول مقبول ﷺ نے صبح کی نماز ادا کی اور لوٹ کر لوگوں سے کہا آج رات کو جنات کے وفد کی طرف تم میں سے کون میرے ساتھ چلے گا ؟ کسی نے جواب نہ دیا تین مرتبہ فرمان پر بھی کوئی نہ بولا۔ حضور ﷺ میرے پاس سے گذرے اور میرا ہاتھ تھام کر اپنے ساتھ لے چلے مدینہ کی پہاڑوں سے بہت آگے نکل کر صاف چٹیل میدان میں پہنچ گئے اب نیزوں کے برابر لانبے لانبے قد کے آدمی نیچے نیچے کپڑے ہوئے آنے شروع ہوئے ہیں۔ میں تو انہیں دیکھ کر مارے ڈر کے کانپنے لگا پھر اور واقعہ مثل حدیث ابن مسعود کے بیان کیا۔ یہ حدیث بھی غریب ہے واللہ اعلم۔ اسی کتاب میں ایک غریب حدیث میں ہے کہ حضرت عبداللہ کے ساتھی حج کو جا رہے تھے راستے میں ہم نے دیکھا کہ ایک سفید رنگ سانپ راستے میں لوٹ رہا ہے اور اس میں سے مشک کی خوشبو اڑ رہی ہے، ابراہیم کہتے ہیں میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا تم تو سب جاؤ میں یہاں ٹھہر جاتا ہوں دیکھوں تو اس سانپ کا کیا ہوتا ہے ؟ چناچہ وہ چل دئیے اور میں ٹھہر گیا تھوڑی ہی دیر گذری ہوگی جو وہ سانپ مرگیا میں نے ایک سفید کپڑا لے کر اس میں لپیٹ کر راستے کے ایک طرف دفن کردیا اور رات کے کھانے کے وقت اپنے قافلے میں پہنچ گیا اللہ کی قسم میں بیٹھا ہوا تھا جو چار عورتیں مغرب کی طرف آئیں ان میں سے ایک نے پوچھا عمرو کو کس نے دفن کیا ؟ ہم نے کہا کون عمرو ؟ اس نے کہا تم میں سے کسی نے ایک سانپ کو دفن کیا ہے ؟ میں نے کہا ہاں میں نے دفن کیا ہے کہنے لگی قسم ہے اللہ کی تم نے بڑے روزے دار بڑے پختہ نمازی کو دفن کیا ہے جو تمہارے نبی کو مانتا تھا اور جس نے آپ کے نبی ہونے سے چار سو سال پیشتر آسمان سے آپ کی صفت سنی تھی ابراہیم کہتے ہیں اس پر ہم نے اللہ تبارک وتعالیٰ کی حمد و ثنا کی پھر حج سے فارغ ہو کر جب ہم فاروق اعظم کی خدمت میں پہنچے اور میں نے آپ کو یہ سارا واقعہ سنایا تو آپ نے فرمایا اس عورت نے سچ کہا۔ میں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ مجھ پر ایمان لایا تھا میری نبوت کے چار سو سال پہلے۔ یہ حدیث بھی غریب ہے واللہ اعلم۔ ایک روایت میں ہے کہ دفن کفن کرنے والے حضرت صفوان بن معطل تھے کہتے ہیں کہ یہ صاحب جو یہاں دفن کئے گئے یہ ان نو جنات میں سے ایک ہیں جو حضور ﷺ کے پاس قرآن سننے کے لئے وفد بن کر آئے تھے ان کا انتقال ان سب سے اخیر میں ہوا۔ ابو نعیم میں ایک روایت ہے کہ ایک شخص حضرت عثمان ذوالنورین کی خدمت میں آئے اور کہنے لگے امیرا لمومنین میں ایک جنگل میں تھا میں نے دیکھا کہ دو سانپ آپس میں خوب لڑ رہے ہیں یہاں تک کہ ایک نے دوسرے کو مار ڈالا۔ اب میں انہیں چھوڑ کر جہاں معرکہ ہوا تھا وہاں گیا تو بہت سے سانپ قتل کئے ہوئے پڑے ہیں اور بعض سے اسلام کی خوشبو آرہی ہے پس میں نے ایک ایک کو سونگھنا شروع کیا یہاں تک کہ ایک زرد رنگ کے دبلے پتلے سانپ سے مجھے اسلام کی خوشبو آنے لگی، میں نے اپنے عمامے میں لپیٹ کر اسے دفنا دیا اب میں چلا جا رہا تھا جو میں نے ایک آواز سنی کہ اے اللہ کے بندے تجھے اللہ کی طرف سے ہدایت دی گئی۔ یہ دونوں سانپ جنات کے قبیلہ بنو شیعبان اور بنو قیس میں سے تھے۔ ان دونوں میں جنگ ہوئی اور پھر جس قدر قتل ہوئے وہ تم نے خود دیکھ لئے انہی میں ایک شہید جنہیں تم نے دفن کیا وہ تھے جنہوں نے خود رسول اللہ ﷺ کی زبانی وحی الہٰی سنی تھی۔ حضرت عثمان اس قصے کو سن کر فرمانے لگے اے شخص اگر تو سچا ہے تو اس میں شک نہیں کہ تو نے عجب واقعہ دیکھا اور اگر تو جھوٹا ہے تو جھوٹ کا بوجھ تجھ پر ہے۔ اب آیت کی تفسیر سنئے ارشاد ہے کہ جب ہم نے تیری طرف جنات کے ایک گروہ کو پھیرا جو قرآن سن رہا تھا جب وہ حاضر ہوگئے اور تلاوت شروع ہونے کو تھی تو انہوں نے آپس میں ایک دوسرے کو یہ ادب سکھایا کہ خاموشی سے سنو۔ ان کا ایک اور ادب بھی حدیث میں آیا ہے ترمذی وغیرہ میں ہے کہ ایک مرتبہ حضور ﷺ نے صحابہ کرام کے سامنے سورة رحمٰن کی تلاوت کی پھر فرمایا کیا بات ہے ؟ جو تم سب خاموش ہی رہے تم سے تو بہت اچھے جواب دینے والے جنات ثابت ہوئے جب بھی میرے منہ سے انہوں نے آیت (فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ 13 ؀) 55۔ الرحمن :13) سنی انہوں نے جواب میں کہا (ولا بشیءٍ من الائک او نعمک ربنا نکذب فلک الحمد) پھر فرماتا ہے جب فراغت حاصل کی گئی (قضی) کے معنی ان آیتوں میں بھی یہی ہیں آیت (فَاِذَا قُضِيَتِ الصَّلٰوةُ فَانْتَشِرُوْا فِي الْاَرْضِ وَابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِيْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ 10؀) 62۔ الجمعة :10) اور آیت (فَقَضٰهُنَّ سَبْعَ سَمٰوَاتٍ فِيْ يَوْمَيْنِ وَاَوْحٰى فِيْ كُلِّ سَمَاۗءٍ اَمْرَهَا ۭ وَزَيَّنَّا السَّمَاۗءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيْحَ ڰ وَحِفْظًا ۭ ذٰلِكَ تَقْدِيْرُ الْعَزِيْزِ الْعَلِيْمِ 12؀) 41۔ فصلت :12) اور آیت (فَاِذَا قَضَيْتُمْ مَّنَاسِكَكُمْ02000) 2۔ البقرة :200) وہ اپنی قوم کو دھمکانے اور انہیں آگاہ کرنے کے لئے واپس ان کی طرف چلے جیسے اللہ عزوجل و علا کا فرمان ہے آیت (فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَــةٍ مِّنْھُمْ طَاۗىِٕفَةٌ لِّيَتَفَقَّهُوْا فِي الدِّيْنِ وَلِيُنْذِرُوْا قَوْمَھُمْ اِذَا رَجَعُوْٓا اِلَيْهِمْ لَعَلَّھُمْ يَحْذَرُوْنَ01202) 9۔ التوبہ :122) ، یعنی وہ دین کی سمجھ حاصل کریں اور جب واپس اپنی قوم کے پاس پہنچیں تو انہیں بھی ہوشیار کردیں بہت ممکن ہے کہ وہ بچاؤ اختیار کرلیں۔ اس آیت سے استدلال کیا گیا ہے کہ جنات میں بھی اللہ کی باتوں کو پہنچانے والے اور ڈر سنانے والے ہیں لیکن ان میں سے رسول نہیں بنائے گئے یہ بات بلاشک ثابت ہے کہ جنوں میں پیغمبر نہیں ہیں۔ فرمان باری ہے آیت (وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِيْٓ اِلَيْهِمْ فَسْــَٔـلُوْٓا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ) 21۔ الأنبیاء :7) ، یعنی ہم نے تجھ سے پہلے بھی جتنے رسول بھیجے وہ سب بستیوں کے رہنے والے انسان ہی تھے جن کی طرف ہم نے اپنی وحی بھیجا کرتے تھے اور آیت میں ہے آیت (وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ اِلَّآ اِنَّهُمْ لَيَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَيَمْشُوْنَ فِي الْاَسْوَاقِ ۭ وَجَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً ۭ اَتَصْبِرُوْنَ ۚ وَكَانَ رَبُّكَ بَصِيْرًا 20؀) 25۔ الفرقان :20) یعنی تجھ سے پہلے ہم نے جتنے رسول بھیجے وہ سب کھانا کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے۔ ابراہیم خلیل اللہ کی نسبت قرآن میں ہے آیت (وَجَعَلْنَا فِيْ ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَالْكِتٰبَ وَاٰتَيْنٰهُ اَجْرَهٗ فِي الدُّنْيَا ۚ وَاِنَّهٗ فِي الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِيْنَ 27؀) 29۔ العنکبوت :27) یعنی ہم نے ان کی اولاد میں نبوۃ اور کتاب رکھ دی پس آپ کے بعد جتنے بھی نبی آئے وہ آپ ہی کے خاندان اور آپ ہی کی نسل میں سے ہوئے ہیں۔ لیکن سورة انعام کی آیت (يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اَلَمْ يَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَقُصُّوْنَ عَلَيْكُمْ اٰيٰتِيْ وَيُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَاۗءَ يَوْمِكُمْ ھٰذَ01300) 6۔ الانعام :130) یعنی اے جنوں اور انسانوں کے گروہ کیا تمہارے پاس تم میں سے رسول نہیں آئے تھے ؟ اس کا مطلب اور اس سے مراد یہ دونوں جنس ہیں پس اس کا مصداق ایک جنس ہی ہوسکتی ہے جیسے فرمان (يَخْرُجُ مِنْهُمَا اللُّؤْلُؤُ وَالْمَرْجَانُ 22ۚ) 55۔ الرحمن :22) یعنی ان دونوں سمندروں میں سے موتی اور مونگا نکلتا ہے حالانکہ دراصل ایک میں سے ہی نکلتا ہے۔

اردو ترجمہ

انہوں نے جا کر کہا، "اے ہماری قوم کے لوگو، ہم نے ایک کتاب سنی ہے جو موسیٰؑ کے بعد نازل کی گئی ہے، تصدیق کرنے والی ہے اپنے سے پہلے آئی ہوئی کتابوں کی، رہنمائی کرتی ہے حق اور راہ راست کی طرف

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qaloo ya qawmana inna samiAAna kitaban onzila min baAAdi moosa musaddiqan lima bayna yadayhi yahdee ila alhaqqi waila tareeqin mustaqeemin

ایمان دار جنوں کی آخری منزل اب بیان ہو رہا ہے جنات کے اس وعظ کا جو انہوں نے اپنی قوم میں کیا۔ فرمایا کہ ہم نے اس کتاب کو سنا ہے جو حضرت موسیٰ کے بعد نازل ہوئی ہے حضرت عیسیٰ کی کتاب انجیل کا ذکر اس لئے چھوڑ دیا کہ وہ دراصل توراۃ پوری کرنے والی تھی۔ اس میں زیادہ تر وعظ کے اور دل کو نرم کرنے کے بیانات تھے حرام حلال کے مسائل بہت کم تھے پس اصل چیز توراۃ ہی رہی اسی لئے ان مسلم جنات نے اسی کا ذکر کیا اور اسی بات کو پیش نظر رکھ کر حضرت ورقہ بن نوفل نے جس وقت حضور ﷺ کی زبانی حضرت جبرائیل کے اول دفعہ آنے کا حال سنا تو کہا تھا کہ واہ واہ یہی تو وہ مبارک وجود اللہ کے بھیدی کا ہے جو حضرت موسیٰ کے پاس آیا کرتے تھے کاش کہ میں اور کچھ زمانہ زندہ رہتا، الخ، پھر قرآن کی اور صف بیان کرتے ہیں کہ وہ اپنے سے پہلے تمام آسمانی کتابوں کو سچا بتلاتا ہے وہ اعتقادی مسائل اور اخباری مسائل میں حق کی جانب رہبری کرتا ہے اور اعمال میں راہ راست دکھاتا ہے۔ قرآن میں دو چیزیں ہیں یا خبر یا طلب پس اس کی خبر سچی اور اس کی طلب عدل والی۔ جیسے فرمان ہے آیت (وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّعَدْلًا ۭلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ ۚ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ01105) 6۔ الانعام :115) یعنی تیرے رب کا کلمہ سچائی اور عدل کے لحاظ سے بالکل پورا ہی ہے اور آیت میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے آیت (ھوالذی ارسل رسولہ بالھدی ودین الحق) وہ اللہ جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور حق دین کے ساتھ بھیجا ہے پس ہدایت نفع دینے والا علم ہے اور دین حق نیک عمل ہے یہی مقصد جنات کا تھا۔ پھر کہتے ہیں اے ہماری قوم اللہ کے داعی کی دعوت پر لبیک کہو۔ اس میں دلالت ہے اس امر کی کہ رسول اللہ ﷺ جن و انس کی دونوں جماعتوں کی طرف اللہ کی طرف سے رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں اس لئے کہ آپ نے جنات کو اللہ کی طرف دعوت دی اور ان کے سامنے قرآن کریم کی وہ سورت پڑھی جس میں ان دونوں جماعتوں کو مخاطب کیا گیا ہے اور ان کے نام احکام جاری فرمائے ہیں اور وعدہ وعید بیان کیا ہے یعنی سورة الرحمن۔ پھر فرماتے ہیں ایسا کرنے سے وہ تمہارے بعض گناہ بخش دے گا۔ لیکن یہ اس صورت میں ہوسکتا ہے جب لفظ من کو زائدہ نہ مانیں، چناچہ ایک قول مفسرین کا یہ بھی ہے اور قاعدے کے مطابق اثبات کے موقعہ پر لفظ من بہت ہی کم زائد آتا ہے اور اگر زائد مان لیا جائے تو مطلب یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ معاف فرمائے گا اور تمہیں اپنے المناک عذاب سے وہ چھٹکارا پالیں گے یہی ان کی نیک اعمالیوں کا بدلہ ہے اور اگر اس سے زیادہ مرتبہ بھی انہیں ملنے والا ہوتا تو اس مقام پر یہ مومن جن اسے ضرور بیان کردیتے۔ حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ مومن جن جنت میں نہیں جائیں گے اس لئے کہ وہ ابلیس کی اولاد سے ہیں اور اولاد ابلیس جنت میں نہیں جائے گی۔ لیکن حق یہ ہے کہ مومن جن مثل ایماندار انسانوں کے ہیں اور وہ جنت میں جگہ پائیں گے جیسا کہ سلف کی ایک جماعت کا مذہب ہے بعض لوگوں نے اس پر اس آیت سے استدلال کیا ہے۔ آیت (لَمْ يَطْمِثْهُنَّ اِنْسٌ قَبْلَهُمْ وَلَا جَاۗنٌّ 56ۚ) 55۔ الرحمن :56) یعنی حوران بہشتی کو اہل جنت سے پہلے نہ کسی انسان کا ہاتھ لگا نہ کسی جن کا۔ لیکن اس استدلال میں نظر ہے اس سے بہت بہتر استدلال تو اللہ عزوجل کے اس فرمان سے ہے آیت (وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ 46ۚ) 55۔ الرحمن :46) یعنی جو کوئی اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا اس کے لئے دو دو جنتیں ہیں پھر اے جنو اور انسانو تم اپنے پروردگار کی کونسی نعمت کو جھٹلاتے ہو ؟ اس آیت میں اللہ تعالیٰ انسانوں اور جنوں پر اپنا احسان جتاتا ہے کہ ان کے نیک کار کا بدلہ جنت ہے اور اس آیت کو سن کر مسلمان انسانوں سے بہت زیادہ شکر گذار ہیں ایسا تو نہیں ہوسکتا کہ ان کے سامنے ان پر وہ احسان جتایا جائے جو اصل انہیں ملنے کا نہیں اور بھی ہماری ایک دلیل سنئے جب کافر جنات کو جہنم میں ڈالا جائے گا جو مقام عدل ہے تو مومن جنات کو جنت میں کیوں نہ لے جایا جائے جو مقام فضل ہے بلکہ یہ بہت زیادہ لائق اور بطور اولیٰ ہونے کے قابل ہے اور اس پر وہ آیتیں بھی دلیل ہیں جن میں عام طور پر ایمانداروں کو جنت کو خوشخبری دی گئی ہے مثلا آیت (اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنّٰتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًا01007ۙ) 18۔ الكهف :107) وغیرہ وغیرہ یعنی ایمان داروں کا مہمان خانہ یقینًا جنت فردوس ہے۔ الحمد اللہ میں نے اس مسئلہ کو بہت کچھ وضاحت کے ساتھ اپنی ایک مستقل تصنیف میں بیان کردیا ہے اور سنئے جنت کا تو یہ حال ہے کہ ایمانداروں کے کل کے داخل ہوجانے کے بعد بھی اس میں بیحد و حساب جگہ بچ رہے گی۔ اور پھر ایک نئی مخلوق پیدا کر کے انہیں اس میں آباد کیا جائے گا۔ پھر کوئی وجہ نہیں کہ ایماندار اور نیک عمل والے جنات جنت میں نہ بھیجے جائیں اور سنئے یہاں دو باتیں بیان کی گئی ہیں گناہوں کی بخشش اور عذابوں سے رہائی اور جب یہ دونوں چیزیں ہیں تو یقینا یہ مستلزم ہیں دخول جنت کو۔ اس لئے کہ آخرت میں یا جنت ہے یا جہنم پس جو شخص جہنم سے بچا لیا گیا وہ قطعًا جنت میں جانا چاہیے اور کوئی نص صریح یا ظاہر اس بات کے بیان میں وارد نہیں ہوئی کہ مومن جن باوجود دوزخ سے بچ جانے کے جنت میں نہیں جائیں گے اگر کوئی اس قسم کی صاف دلیل ہو تو بیشک ہم اس کے ماننے کے لئے تیار ہیں واللہ اعلم۔ نوح ؑ کو دیکھئے اپنی قوم سے فرماتے ہیں اللہ تمہارے گناہوں کو (بوجہ ایمان لانے کے) بخش دے گا اور ایک وقت مقرر تک تمہیں مہلت دے گا۔ تو یہاں بھی دخول جنت کا ذکر نہ ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ حضرت نوح کی قوم کے مسلمان جنت میں نہیں جائیں گے بلکہ بالاتفاق وہ سب جنتی ہیں پس اسی طرح یہاں بھی سمجھ لیجئے اب چند اوراقوال بھی اس مسئلہ میں سن لیجئے حضرت عمر بن عبدالعزیز سے مروی ہے کہ بیچ جنت میں تو یہ پہنچیں گے نہیں البتہ کناروں پر ادھر ادھر رہیں گے بعض لوگ کہتے ہیں جنت میں تو وہ ہوں گے لیکن دنیا کے بالکل برعکس انسان انہیں دیکھیں گے اور یہ انسانوں کو دیکھ نہیں سکیں گے بعض لوگوں کا قول ہے کہ وہ جنت میں کھائیں پئیں گے نہیں صرف تسبیح وتحمید و تقدیس کا طعام ہوگا جیسے فرشتے اس لئے کہ یہ بھی انہی کی جنس سے ہیں۔ لیکن ان تمام اقوال میں نظر ہے اور سب بےدلیل ہیں پھر مومن واعظ فرماتے ہیں کہ جو اللہ کے داعی کی دعوت کو قبول نہ کرے گا وہ زمین میں اللہ تعالیٰ کو ہرا نہیں سکتا بلکہ قدرت اللہ اس پر شامل اور اسے گھیرے ہوئے ہے اس کے عذابوں سے انہیں کوئی بچا نہیں سکتا یہ کھلے بہکاوے میں ہیں خیال فرمائیے کہ تبلیغ کا یہ طریقہ کتنا پیارا اور کس قدر موثر ہے، رغبت بھی دلائی اور دھمکایا بھی اسی لئے ان میں سے اکثر ٹھیک ہوگئے اور قافلے کے قافلے اور فوجیں بن کر کئی کئی بار اللہ کے رسول ﷺ کی خدمت میں باریاب ہوئے اور اسلام قبول کیا جیسے کہ پہلے مفصلًا ہم نے بیان کردیا ہے جس پر ہم جناب باری کے احسان کے شکر گذار ہیں، واللہ اعلم۔

اردو ترجمہ

اے ہماری قوم کے لوگو، اللہ کی طرف بلانے والے کی دعوت قبول کر لو اور اس پر ایمان لے آؤ، اللہ تمہارے گناہوں سے درگزر فرمائے گا اور تمہیں عذاب الیم سے بچا دے گا"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Ya qawmana ajeeboo daAAiya Allahi waaminoo bihi yaghfir lakum min thunoobikum wayujirkum min AAathabin aleemin

اردو ترجمہ

اور جو کوئی اللہ کے داعی کی بات نہ مانے وہ نہ زمین میں خود کوئی بل بوتا رکھتا ہے کہ اللہ کو زچ کر دے، اور نہ اس کے کوئی ایسے حامی و سرپرست ہیں کہ اللہ سے اس کو بچا لیں ایسے لوگ کھلی گمراہی میں پڑ ے ہوئے ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waman la yujib daAAiya Allahi falaysa bimuAAjizin fee alardi walaysa lahu min doonihi awliyaa olaika fee dalalin mubeenin

اردو ترجمہ

اور کیا اِن لوگوں کو یہ سجھائی نہیں دیتا کہ جس خدا نے یہ زمین اور آسمان پیدا کیے ہیں اور ان کو بناتے ہوئے جو نہ تھکا، وہ ضرور اس پر قادر ہے کہ مُردوں کو جلا اٹھائے؟ کیوں نہیں، یقیناً وہ ہر چیز کی قدرت رکھتا ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Awalam yaraw anna Allaha allathee khalaqa alssamawati waalarda walam yaAAya bikhalqihinna biqadirin AAala an yuhyiya almawta bala innahu AAala kulli shayin qadeerun

اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے کہ کیا ان لوگوں نے جو مرنے کے بعد جینے کے منکر ہیں اور قیامت کے دن جسموں سمیت جی اٹھنے کو محال جانتے ہیں یہ نہیں دیکھا کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے کل آسمانوں اور تمام زمینوں کو پیدا کیا اور ان کی پیدائش نے اسے کچھ نہ تھکایا بلکہ صرف ہوجا کے کہنے سے ہی ہوگئیں کون تھا جو اس کے حکم کی خلاف ورزی کرتا یا مخالفت کرتا بلکہ حکم برداری سے راضی خوشی ڈرے دبتے سب موجود ہوگئے، کیا اتنی کامل قدرت و قوت والا مردوں کے زندہ کردینے کی سکت نہیں رکھتا ؟ چناچہ دوسری آیت میں ہے آیت (لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ 57؀) 40۔ غافر :57) یعنی انسانوں کی پیدائش سے تو بہت بھاری اور مشکل اور بہت بڑی اہم پیدائش آسمان و زمین کی ہے لیکن اکثر لوگ بےسمجھ ہیں۔ جب زمین و آسمان کو اس نے پیدا کردیا تو انسان کا پیدا کردینا خواہ ابتدًا ہو خواہ دوبارہ ہو اس پر کیا مشکل ہے ؟ اسی لئے یہاں بھی فرمایا کہ ہاں وہ ہر شے پر قادر ہے اور انہی میں سے موت کے بعد زندہ کرتا ہے کہ اس پر بھی وہ صحیح طور پر قادر ہے پھر اللہ جل و علا کافروں کو دھمکاتا ہے کہ قیامت والے دن جہنم میں ڈالے جائیں گے اس سے پہلے جہنم کے کنارے پر انہیں کھڑا کر کے ایک مرتبہ پھر لاجواب اور بےحجت کیا جائے گا اور کہا جائے گا کیوں جی ہمارے وعدے اور یہ دوزخ کے عذاب اب تو صحیح نکلے یا اب بھی شک و شبہ اور انکار و تکذیب ہے ؟ یہ جادو تو نہیں تمہاری آنکھیں تو اندھی نہیں ہوگئیں ؟ جو دیکھ رہے ہو صحیح دیکھ رہے ہو یا درحقیقت صحیح نہیں ؟ اب سوائے اقرار کے کچھ نہ بن پڑے گا جواب دیں گے کہ ہاں ہاں سب حق ہے جو کہا گیا تھا وہی نکلا قسم اللہ کی اب ہمیں رتی برابر بھی شک نہیں اللہ فرمائے گا اب دو گھڑی پہلے کے کفر کا مزہ چکھو پھر اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو تسلی دے رہا ہے کہ آپ کی قوم نے اگر آپ کو جھٹلایا آپ کی قدر نہ کی آپ کی مخالفت کی ایذاء رسانی کے درپے ہوئے تو یہ کوئی نئی بات تھوڑی ہی ہے ؟ اگلے اولوالعزم پیغمبروں کو یاد کرو کہ کیسی کیسی ایذائیں، مصیبتیں اور تکلیفیں برداشت کیں اور کن کن زبردست مخالفوں کی مخالفت کو صبر سے برداشت کیا ان رسولوں کے نام یہ ہیں نوح، ابراہیم، موسیٰ ، عیسیٰ ، اور خاتم الانبیاء اللھم صلی علیھم اجمعین۔ انبیاء کے بیان میں ان کے نام خصوصیت سے سورة احزاب اور سورة شوریٰ میں مذکور ہیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اولوالعزم رسول سے مراد سب پیغمبر ہوں تو (من الرسل) کا (من) بیان جنس کے لئے ہوگا واللہ اعلم، ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ ﷺ نے روزہ رکھا پھر بھوکے ہی رہے پھر روزہ رکھا پھر بھوکے ہی رہے اور پھر روزہ رکھا پھر فرمانے لگے عائشہ محمد ﷺ اور آل محمد ﷺ کے لائق تو دنیا ہے ہی نہیں۔ عائشہ دنیا کی بلاؤں اور مصیبتوں پر صبر کرنے اور دنیا کی خواہش کی چیزوں سے اپنے تئیں بچائے رکھنے کا حکم اولوالعزم رسول کئے گئے اور وہی تکلیف مجھے بھی دی گئی ہے جو ان عالی ہمت رسولوں کو دی گئی تھی۔ قسم اللہ کی میں بھی انہی کی طرح اپنی طاقت بھر صبر و سہار سے ہی کام لوں گا اللہ کی قوت کے بھروسے سے پر یہ بات زبان سے نکال رہا ہوں۔ پھر فرمایا اے نبی ﷺ یہ لوگ عذابوں میں مبتلا کئے جائیں اس کی جلدی نہ کرو۔ جیسے اور آیت میں ہے آیت (فَذَرْنِيْ وَمَنْ يُّكَذِّبُ بِهٰذَا الْحَدِيْثِ ۭ سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُوْنَ 44؀ۙ) 68۔ القلم :44) ، یعنی کافروں کو مہلت دو ، انہیں تھوڑی دیر چھوڑ دو پھر فرماتا ہے جس دن یہ ان چیزوں کا مشاہدہ کرلیں گے جن کے وعدے آج دئیے جاتے ہیں اس دن انہیں معلوم ہونے لگے گا کہ دنیا میں صرف دن کا کچھ ہی حصہ گذارا ہے اور آیت میں ہے آیت (كَاَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا لَمْ يَلْبَثُوْٓا اِلَّا عَشِـيَّةً اَوْ ضُحٰىهَا 46؀) 79۔ النازعات :46) یعنی جس دن یہ قیامت کو دیکھ لیں گے تو ایسا معلوم ہوگا کہ گویا دنیا میں صرف ایک صبح یا ایک شام ہی گذاری تھی (وَيَوْمَ يَحْشُرُھُمْ كَاَنْ لَّمْ يَلْبَثُوْٓا اِلَّا سَاعَةً مِّنَ النَّهَارِ يَتَعَارَفُوْنَ بَيْنَھُمْ ۭ قَدْ خَسِرَ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَاۗءِ اللّٰهِ وَمَا كَانُوْا مُهْتَدِيْنَ 45؀) 10۔ یونس :45) یعنی جس دن ہم انہیں جمع کریں گے تو یہ محسوس کرنے لگیں گے کہ گویا دن کی ایک ساعت ہی دنیا میں رہے تھے پھر فرمایا پہنچا دینا ہے۔ اس کے دو معنی ہوسکتے ہیں ایک تو یہ کہ دنیا کا ٹھہرنا صرف ہماری طرف سے ہماری باتوں کے پہنچا دینے کے لئے تھا دوسرے یہ کہ یہ قرآن صرف پہنچا دینے کیلئے ہے یہ کھلی تبلیغ ہے پھر فرماتا ہے سوائے فاسقوں کے اور کسی کو ہلاکی نہیں۔ یہ اللہ جل و علا کا عدل ہے کہ جو خود ہلاک ہوا اسے ہی وہ ہلاک کرتا ہے عذاب اسی کو ہوتے ہیں جو خود اپنے ہاتھوں اپنے لئے عذاب مہیا کرے اور اپنے آپ کو مستحق عذاب کر دے واللہ اعلم۔

اردو ترجمہ

جس روز یہ کافر آگ کے سامنے لائے جائیں گے، اُس وقت اِن سے پوچھا جائے گا "کیا یہ حق نہیں ہے؟" یہ کہیں گے "ہاں، ہمارے رب کی قسم (یہ واقعی حق ہے)" اللہ فرمائے گا، "اچھا تو اب عذاب کا مزا چکھو اپنے اُس انکار کی پاداش میں جو تم کرتے رہے تھے"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wayawma yuAAradu allatheena kafaroo AAala alnnari alaysa hatha bialhaqqi qaloo bala warabbina qala fathooqoo alAAathaba bima kuntum takfuroona

اردو ترجمہ

پس اے نبیؐ، صبر کرو جس طرح اولوالعزم رسولوں نے صبر کیا ہے، اور ان کے معاملہ میں جلدی نہ کرو جس روز یہ لوگ اُس چیز کو دیکھ لیں گے جس کا اِنہیں خوف دلایا جا رہا ہے تو اِنہیں یوں معلوم ہو گا کہ جیسے دنیا میں دن کی ایک گھڑی بھر سے زیادہ نہیں رہے تھے بات پہنچا دی گئی، اب کیا نافرمان لوگوں کے سوا اور کوئی ہلاک ہو گا؟

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Faisbir kama sabara oloo alAAazmi mina alrrusuli wala tastaAAjil lahum kaannahum yawma yarawna ma yooAAadoona lam yalbathoo illa saAAatan min naharin balaghun fahal yuhlaku illa alqawmu alfasiqoona
506