سورۃ الاحزاب: آیت 32 - يا نساء النبي لستن كأحد... - اردو

آیت 32 کی تفسیر, سورۃ الاحزاب

يَٰنِسَآءَ ٱلنَّبِىِّ لَسْتُنَّ كَأَحَدٍ مِّنَ ٱلنِّسَآءِ ۚ إِنِ ٱتَّقَيْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِٱلْقَوْلِ فَيَطْمَعَ ٱلَّذِى فِى قَلْبِهِۦ مَرَضٌ وَقُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوفًا

اردو ترجمہ

نبیؐ کی بیویو، تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو اگر تم اللہ سے ڈرنے والی ہو تو دبی زبان سے بات نہ کیا کرو کہ دل کی خرابی کا مُبتلا کوئی شخص لالچ میں پڑ جائے، بلکہ صاف سیدھی بات کرو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Ya nisaa alnnabiyyi lastunna kaahadin mina alnnisai ini ittaqaytunna fala takhdaAAna bialqawli fayatmaAAa allathee fee qalbihi maradun waqulna qawlan maAAroofan

آیت 32 کی تفسیر

ینساء النبی لستن ۔۔۔۔۔ ان اللہ کان لطیفا خبیرا (32 – 34)

۔ جب اسلام آیا تو اس وقت عربی معاشرے میں ، تمام دوسرے جاہلی معاشروں کی طرح حالت یہ تھی کہ عورت کو سامان تعیش سمجھا جاتا تھا اور فقط شہوات وانی کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ انسانی نقطہ نظر سے اسے ایک گری ہوئی مخلوق سمجھا جاتا تھا۔ نیز عربی معاشرے میں جنسی اعتبار سے بھی بڑی بےقاعدگی اور افراتفری پائی جاتی تھی اور نظام خاندانی میں ثبات نہ تھا جس طرح اس سورة میں ہم نے تفصیلات دی ہیں۔

پھر جاہلیت کے زمانے میں عورت کی صنف کی طرف نہایت گری ہوئی نظروں سے دیکھا جاتا تھا اور ذوق جمال بھی نہایت گرا ہوا تھا۔ ننگے اجسام کی طرف زیادہ توجہ تھی اور اعلیٰ اور پاکیزہ ذوق جمال مفقود تھا۔ زمانہ جاہلیت کے اشعار کے اندر یہ خصوصیات اچھی طرح نظر آتی ہیں جو عورت کے جسم خصوصا عورتوں کے اندامہائے نہانی کے بارے میں تھیں اور پھر نہایت ہی عریاں افعال اور معانی سے متعلق اشعار سے بھی ثابت ہوتا ہے۔

جب اسلام آیا تو اس نے عورت کو معاشرے میں ایک باعزت مقام دیا اور مرد اور عورت کے درمیان تعلق کے معاملے میں انسانی پہلو کو زیادہ اہمیت دی۔ کیونکہ مرد اور عورت کا تعلق محض جسمانی بھوک کو فرو کرنے ہی کا تعلق نہیں ہوتا اور نہ خون اور گوشت کے جوش کو ٹھنڈا کرنا مطلوب ہوتا ہے بلکہ مرد اور عورت کا تعلق دراصل دو انسانی شخصیات کا اتصال ہے جن کو نفس واحد سے پیدا کیا گیا ہے اور ان کے درمیان محبت اور شفقت پیدا کی گئی ہے۔ ان کے ملاپ کی وجہ سے دونوں کو راحت اور سکون ملتا ہے اور دونوں کے ملاپ کا ایک ہدف مقرر ہے اور اس وقت سے مقرر ہے جب سے اللہ نے انسان کو پیدا کیا ہے۔ پھر اس کا مقصد زمین کی آبادی ہے۔ اس میں انسان نے سنن الہیہ کے مطابق جو فرائض ادا کرنے ہیں ، ان کا ادا کرنا ہے۔

اسلام نے خاندانی تعلقات کو لیا اور خاندانی تعلقات کو اس طرح منظم کیا کہ اسلام کی اجتماعی تنظیم کے لیے اسے اساس بنایا اور پھر خاندان کو ایک ایسی نرسری قرار دیا جس کے اندر آیندہ نسلوں کے لیے پودے تیار ہوتے ہیں اور اس نرسری کی نشوونما اور ارتقا اور تربیت کے لیے تمام ضروریات فراہم کیں اور اسے بچانے ، پاک و صاف رکھنے کے انتطامات کیے ، خصوصاً نئی نسل کے شعور اور خیالات کو پاک و صاف رکھنے کے لیے۔

اسلام کے نظام قانون میں خاندانی نظام کی حفاظت کے لیے سب سے زیادہ قانون سازی کی گئی ہے اور قرآن کریم کی کئی آیات اس کے لیے مخصوص ہیں۔ قانونی اقدامات کے علاوہ بھی اسلام کے نظام اجتماعی کے اس ابتدائی یونٹ کو محفوظ کرنے کے لئے اسلام نے مسلسل ہدایات دی ہیں ، خصوصاً اس یونٹ کی روحانی تطہیر کے لیے اور اس میں دو اصناف کے جنسی تعلق کے زوایہ سے ، اس تعلق کو عریانی ، بےراہ روی سے پاک کیا گیا اور محض جسمانی ملاپ کے لیے بھی سخت ہدایات دی گئیں۔

اس سورة میں بھی اجتماعی تنظیم اور خاندانی نظام کی پختگی کے لیے آیات کا ایک بڑا حصہ وقف ہے۔ آیات زیر بحث میں نبی ﷺ کی ازواج مطہرات کو خطاب ہے۔ ان کا نبی ﷺ کے ساتھ تعلق ، ان کا لوگوں کے ساتھ تعلق ، ان کا اللہ کے ساتھ تعلق ، اور ان کے بارے میں اللہ کے ارادے کا ذکر کیا گیا ہے۔

انما یرید اللہ لذھب ۔۔۔۔۔ ویطھرکم تطھیرا (33: 33) (اللہ یہ چاہتا ہے کہ تم اہل بیت نبی سے گندگی کو دور کرے اور تمہیں پوری طرح پاک کردے “۔

اب ہمیں دیکھنا یہ ہی کہ وہ کون سے وسائل ہیں جن کے ذریعہ اللہ نبی ﷺ کے اہل بیت کو پاک کرنا چاہتے ہیں اور اہل بیت کیلئے ان کو لازمی قرار دیتے ہیں جبکہ ازواج مطہرات نبی ﷺ کی بیویاں ہیں اور وہ اس زمین کی تمام عورتوں سے زیادہ پاک ہیں۔ ظاہر ہے کہ تمام دوسری عورتیں ان وسائل اور ان اقدامات کی بہت زیادہ محتاج ہیں۔ کیونکہ اگر ازواج مطہرات کو ان وسائل کی ضرورت تھی جو نبی ﷺ کے گھر میں رہتی تھیں تو دوسری بیویوں کو ان کے بدرجہ اتم ضرورت ہے۔

پہلا وسیلہ یہ ہے کہ ازواج مطہرات کو یہ شعور دیا جاتا ہے کہ تم نہایت ہی اونچے مرتبہ اور منصب اور مقام پر فائز ہوچکی ہو۔ تم تمام نساء عالم سے بلند مرتبہ ہو ، لہٰذا سب سے پہلے تم اپنے اس مقام بلند کا خیال رکھو اور اس کے تقاضے پورے کرو۔

ینسآء النبی لستن کا حد من النکآء ان اتقیتن (33: 32) ” نبی ﷺ کی بیویو ، تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو اگر تم اللہ سے ڈرنے والی ہو “۔ اگر تم خدا کا خوف کرو تو تم عام عورتوں کی طرح نہ رہو گی۔ تم تو ایسے مقام پر بیٹھی ہو جو قابل رشک ہے اس میں تمہارے ساتھ عام عورتیں شریک نہیں ہیں ، اور نہ تم اس میں کسی کو شریک کرتی ہو۔ لیکن یہ امتیاز تمہیں تقویٰ سے حاصل ہوگا کیونکہ محض نبی ﷺ کے ساتھ قرابت داری کچھ چیز بھی نہیں ہے بلکہ تقویٰ کے ساتھ اس قرابت داری کے تقاضے بھی پورے کرنے ہوں گے خود اپنے نفوس کے اندر۔

یہ وہ دو ٹوک سچائی ہے جس کے اوپر یہ دین قائم ہے۔ اس کا اعلان رسول اللہ ﷺ نے اپنے رشتہ داروں کے سامنے کردیا کہ لوگو ، تمہیں رسول اللہ ﷺ کی رشتہ داری کہیں دھوکہ میں نہ ڈالے۔ کیونکہ رسول خدا ﷺ تمہارے معاملے میں کچھ اختیارات نہیں رکھتے۔ ” اے فاطمہ بنت محمد ! اے صفیہ بنت عبد المطلب ! اے اولاد عبد المطلب ! میں تمہارے حق میں اللہ کے ہاں کوئی اختیار نہیں رکھتا۔ جہاں تک میرے مال کا تعلق ہے ، اس کے بارے میں تم جو چاہتے ہو ، مجھ سے مانگ لو “۔ (مسلم) دوسری روایت میں ہے ” اے اہل قریش ، اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ۔ اے اولاد بنی کعب اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ، اے فاطمہ بنت محمد ! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ ! خدا کی قسم میں اللہ کے ہاں تمہارے بارے میں کوئی اختیار نہیں رکھتا۔ ہاں میرے ساتھ تمہاری قرابت ہے اور اس کا حق میں ادا کرتا رہوں گا “۔ (مسلم ترمذی)

جب ان کو ان کی منزلت اور مقام سے آگاہ کردیا گیا کہ اس مقام تک وہ صرف تقویٰ سے پہنچ سکتی ہیں تو اب اللہ تعالیٰ وہ ذرائع بیان فرماتے ہیں جن کے ذریعہ اللہ اہل بیت نبی کو مکمل طور پر پاک و صاف کرنا چاہتے ہیں اور ان کی مکمل تطہیر پیش نظر ہے۔

فلا تحضعن بالقول فیطمع الذی فی قلبہ مرض (33: 32) “ تو دبی زبان سے بات نہ کرو کہ دل کی خرابی میں مبتلا کوئی شخص لالچ میں نہ پڑجائے “۔ اللہ ازواج مطہرات کو پہلا حکم یہ دیتے ہیں کہ جب ان کو غیر محرم لوگوں سے بات کرنا پڑے تو ان کی زبان میں وہ لچک نہیں ہونا چاہئے کہ جو نرم اور دبی زبان میں بات کریں تو سننے والے کے لیے شہوت انگیزی کا باعث ہو۔ کیونکہ بالعموم نرم باتوں سے مردوں کو اشتہا پیدا ہوجاتی ہے۔ ان کے اندر تحریک ہوتی ہے اور بیمار دل اور کمزور اخلاق کے لوگ برے خیالات دلوں میں لاسکتے ہیں۔

ذرا یہاں غور کریں کہ وہ کون خواتین ہیں جن کو اللہ یہاں ڈرا رہا ہے۔ یہ ازواج مطہرات ہیں۔ امہات المومنین ہیں جن کے بارے میں کوئی شخص یہ تصور بھی نہیں کرسکتا اور نہ کوئی طمع کرسکتا ہے اور نہ کسی بیمار کی بیماری کا اثر ان پر پڑ سکتا ہے۔ بظاہر انسان یہی سوچ سکتا ہے۔ پھر یہ تنبیہ کس دور میں ہے ؟ نبی ﷺ کے دور میں ، ان ممتاز اور برگزیدہ صحابہ کرم کے دور میں جن کے معیار کے لوگ نہ پہلے گزرے اور نہ بعد میں ۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ جس خدا نے مردوں اور عورتوں کو پیدا کیا وہ تو جانتا تھا کہ عورت اگر دبی اور نرم زبان میں نازو انداز سے بات کرے تو لوگوں کے دلوں میں غلط خیالات پیدا کرسکتی ہے اور دلوں میں فتنہ پیدا ہوسکتا ہے۔ خصوصاً وہ دل جو پہلے سے مریض ہوں وہ تو فوراً اشتعال میں آسکتے ہیں اور یہ مریض دل ہر دور اور عہد میں موجود ہوتے ہیں۔ ہر معاشرے میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں اور ایسے مریض ہر عورت کی طرف مائل ہو سکتے ہیں چاہے وہ نبی آخر الزمان کی زوجہ محترمہ ہو امہات المومنین میں سے ہو۔ کوئی ماحول اس وقت تک پاک اور صاف نہیں ہوسکتا جب تک گندگی کے اسباب کا سدباب نہ کیا جائے۔

اور ہم آج جس معاشرے میں رہتے ہیں ، اس کا حال کیا ہے ؟ یہ معاشرہ پہلے سے مریض ، ناپاک اور گرا ہوا ہے جس میں قدم قدم پر فتنے ہیں۔ ہر طرف شہوت انگیزیاں ہیں ، خواہشات پھڑ پھڑاتی پھرتی ہیں۔ اس ماحول میں ہمیں کیا کرنا چاہئے جس میں ہر طرف سے شہوت کو اٹھایا جاتا ہے ، جگایا جاتا ہے ، اور جنس کو گرم سے گرم تر کیا جاتا ہے۔ اس معاشرے اور اس زمانے میں ہمیں کیا کرنا چاہئے ؟ ہمارا دور جس میں عورتوں کا لہجہ نہایت لوچ دار ، جن کی آواز نہایت ہی مائع ، نسوانیت کے تمام فتنے مجتمع کیے ہوئے ، جنسی کشش کے تمام فتنے پیدا کیے ہوئے ، نہایت ہی خوش الحافی اور فتنہ سامانی کے ساتھ ہر جگہ حاضر۔ ایسی عورتیں کہاں پاک ہیں اور پاکی کی فضا کہاں ہے۔ یہ تو اپنی حرکات ، اپنی آواز اور اپنی عریانی کے ذریعہ ان تمام گندگیوں میں ملوث ہیں جن سے اللہ تعالیٰ ازواج مطہرات کو پاک کرنا چاہتے ہیں اور جس سے اللہ اپنے مختار بندوں کو پاک کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے حالات میں عریانی اور اختلاط کس قدر خطرناک ہے !

وقلن قولا معروفا (33: 32) ” بلکہ صاف سیدھی بات کرو “۔ پہلے ان کو نرم اور لوچدار آواز سے منع کیا گیا اور اب یہاں کہا گیا کہ وہ سیدھی سادی بات کریں معروف طریقے کے مطابق۔ جس طرح عام طور پر ایک اجنبی مرد اور اجنبی عورت ایک دوسرے سے بات کرتے ہیں۔ ان باتوں میں کوئی منکر بات نہ ہو۔ بعض اوقات نرم لہجے سے زیادہ موضوع گفتگو بھی بےراہ روی پر آمادہ کرسکتا ہے۔ لہٰذا کسی اجنبی مرد اور عورت کے درمیان لب و لہجے کا اشارہ بھی نہ ہو۔ نہ ان کے درمیان گپ شپ ہو ، نہ مزاح اور غیر سنجیدہ گفتگو ہو ، تاکہ اس کے نتیجے میں کچھ دوسرے امور کی طرف میلان نہ ہو ، اور قریباً یا بعید ! لوگ غلط راستوں پر نہ پڑجائیں۔ اللہ تعالیٰ خالق ہے اور اپنی مخلوق کے مزاج اور طبیعت کے بارے میں بہت ہی اچھا جانتا ہے۔ یہ اللہ ہی ہے جو امہات المومنین کو یوں مخاطب کر رہا ہے تاکہ وہ اپنے دور کے اجنبی لوگوں کے ساتھ اس انداز میں گفتگو کریں جبکہ وہ خیر القرون تھا۔

وقرن فی بیوتکن (33: 33) ” اور اپنے گھروں میں وقار سے رہو “۔ قرن ، وقریقر سے ہے معنی ہیں بھاری ہوا ، اپنی جگہ پر ٹھہر گیا۔ اس کے لغوی معنی یہ نہیں کہ گھروں کے اندر بندر ہیں اور گھروں سے باہر ہی نہ نکلیں۔ یہ ایک لطیف اشارہ ہے اس طرح کی عورت کی اصل جگہ اسکا گھر ہے۔ یہ ان کا مقر ہے اور اس کے سوا وہ اگر کہیں پائی جائیں تو وہ عارضی حالت ہوگی اور استثنائی صورت ہوگی۔ اس پر وہ قائم و دائم نہیں رہیں گی۔ باہر محض ضرورت سے نکلنا ہوگا۔

بیت اور گھر عورت کا وہ مستقر اور جائے آرام ہے جو اللہ نے اس کے لیے ازروئے تخلیق و فطرت پسند فرمایا ہے۔ جس میں وہ اپنی فطرت سے منحرف نہیں رہتی ، غلط کاریوں میں ملوث نہیں ہوتی اور جہاں وہ ان مشقت آمیز فرائض میں نہیں جتی ہوتی ازروئے فطرت اس کے لیے تیار نہیں کیے۔ جہاں وہ اس کام میں لگی ہوتی ہے جس کے لیے دراصل اللہ نے اسے پیدا کیا ہے۔ ” اس لیے کہ اسلام گھر کے لیے ایک مخصوص فضا مہیا کر دے اور تاکہ بچوں کی پرورش اس فضا میں خوب سے خوب تر ہو سکے۔ اللہ نے مرد پر بیوی کا نفقہ لازم کیا ، اور اسے لازمی قرار دیا تاکہ ماں کو معاشی جدوجہد نہ کرنا پڑے اور اسے محنت و مزدوری میں وقت نہ لگانا پڑے ، وہ پوری طرح مطمئن ہو کر بچوں کی تربیت کرسکے اور گھر کے نظام اور سخاوت اور خوشی کو دوبالا کرسکے۔ وہ عورت جو محنت کرکے تھکی ہاری ہوئی ہوتی ہے ، جسے اپنی ملازمت کے فرائض ادا کرنے پڑتے ہیں اور جس کے اوقات اور مصروفیات بیرون خا نہ ہوں اور اس کی قوتیں وہاں خرچ ہوتی ہوں ، اس کے لئے ممکن نہیں ہے کہ وہ گھر کو خوشیاں دے سکے۔ اور یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ وہ ناتواں بچوں کی پوری تربیت کرسکے۔ جو عورتیں ملازمت کرتی ہیں ، ان کے گھر ، ہوٹل اور بیکریوں سے زیادہ کوئی مقام نہیں رکھتے۔ ان کے اندر وہ کشش نہیں ہوتی جو گھر میں ہوتی ہے۔ حقیقی گھر تو وہ ہوتا ہے جس کی تخلیق ایک گھریلو عورت کرتی ہے اور گھر کی کشش بھی وہی ہوتی ہے جس کا منبع ایک اچھی بیوی ہو۔ گھر کی محبت کا سرچشمہ ماں ہوتی ہے۔ وہ بیوی ، وہ ماں یا وہ عورت جو اپنا وقت ملازمت میں گزارتی ہے وہ گھر کو تنگی اور حزن و ملال کے سوا اور کچھ نہیں دے سکتی “۔ (اسلام اور عالمی سلامتی)

” عورت کا گھر سے نکلنا کسی گھرانے کے لئے بہت ہی بڑا حادثہ ہوتا ہے اور کبھی کبھار اس کی حقیقی ضرورت بھی ہوتی ہے لیکن اگر کسی کو ضرورت نہ ہو تو اس صورت میں یہ عقل و خرد کے لیے ایک لعنت ہے اور اس کا رواج ان زمانوں میں ہوا جن میں شروفساد اور بےراہ روی اور گمراہی بڑھ گئی اور انسانیت نے ہزیمت اختیار کرلی “۔ (ایضا)

رہا عورت کا بغیر کسی ضرورت کے یا بغیر کسی ملازمت کے گھر سے نکلتا اور مرد و زن کا بازاروں اور گلیوں میں اختلاط اختیار کرنا تو یہ وہ ہزیمت ہے جس کے بعد انسانیت گندگی کے دلدل میں گر جاتی ہے اور انسان حیوان کے مقام تک پہنچ جاتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ کے دور میں عو رتیں نماز کے لیے نکلتی تھیں اور اب بھی شرعا اس کی ممانعت نہیں ہے۔ لیکن وہ ایک ایسا دور تھا جس میں لوگ عفت اور پاکیزگی کے اعلیٰ مقام پر فائز تھے ۔ لوگوں کے اند خدا خوفی تھی اور عورت نماز کے لیے پوری طرح لپٹ کر نکلتی تھی ۔ یوں کہ لوگ اسے پہچان نہ سکیں اور اس وقت خواتین اپنے مقامات فتنہ ہر گزنہ ظاہر کو تی تھیں اس کے باوجود حضرت عائشہ ؓ نے اس دور میں ان کا نکلنا ناپسند فرمایا۔

صحیحین میں روایت ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا مومنین کی بیویاں حضور ﷺ کے ساتھ نماز صبح میں شریک ہوتی تھیں ۔ پھر وہ اپنی چادروں میں لپٹی واپس ہوتی تھیں اور اندھیرے کی وجہ سے پہچانی نہ جاتی تھیں ۔ اور صحیحین ہی میں ان کی روایت ہے کہ اگر حضور ﷺ وہ دور پاتے جس میں عورتوں نے نئی نئی باتیں ایجاد کرلی ہیں تو ان کو اسی طرح منع فرماتے جس طرح بنی اسرائیل کی عورتوں کو منع کیا گیا ۔

سوال یہ ہے کہ حضرت عائشہ ؓ کے دور میں عورتوں نے کیا نیا فیشن اختیار کرلیا تھا ؟ اور وہ کیا تبدیلیاں تھیں کہ اگر حضور ﷺ دیکھتے تو عورتوں کو نماز سے منع کردیتے ۔ ذرا قیاس کرو کہ یہ خیر القرون تھا اور آج ہم کہاں کھڑے ہیں۔

ولا تبرجن تبرجن الجاھلیۃ الاولی (33: 33) ” اور سابق دور جاہلیت کی سی سج دھج نہ دکھاتی پھرو “۔ یعنی جب کوئی تم میں سے باہر نکلنے پر مجبور ہو۔ اس سے قبل گھروں میں ٹک کر رہنے کا حکم دیا جا چکا ہے۔ جاہلیت کے دور میں عورتیں زیب وزینت کی نمائش کرتی تھیں لیکن روایات میں اس سج دھج کی جو صورتیں مروی ہیں وہ سب کی سب بہت سادہ اور سنجیدہ ہیں۔ آج کے دور میں عورتوں نے جو عریانی اختیار کر رکھی اس کا دور جاہلیت سے بھی کوئی موازنہ نہیں ہے۔

مجاہد کہتے ہیں ” جاہلیت میں عورتیں نکلتی تھیں اور مردوں کے اندر پھرتی تھیں یہ تھا تبرج جاہلیہ “۔ قتادہ کہتے ہیں ” یہ ناز و انداز سے چلتی تھیں ، اس سے منع کیا گیا “۔ مقاتل ابن حیان کہتے ہیں ” عورتیں سروں پر دوپٹہ ڈالتی تھیں ، اور اسے یوں نہ لپیٹتی تھیں کہ وہ گردن کے زیورات کو ڈھانپ لے یا کانوں کے زیورات چھپالے اس وقت گردن کا زیور اور کان کا زیور ظاہر ہوتے تھے “

علامہ ابن کثیر فرماتے ہیں ” عورت مردوں میں اس طرح نکلتی کہ اس کا سینہ کھلا ہوتا ، اور اس کے اوپر کچھ نہ ہوتا ، بعض اوقات اس کی گردن اور بالوں کی مینڈھیاں ننگی ہوتیں اور کان کے بندے بھی ظاہر ہوتے۔ اللہ نے مومنات کو حکم دیا کہ وہ ان چیزوں کو ظاہر نہ کریں۔

یہ تھی جاہلیت کی سج دھج اور قرآن اس وقت کے برے آثار سے اسلامی معاشرے کو پاک کرنا چاہتا تھا تاکہ فتنے کے تمام عوامل اسلامی معاشرے سے ناپید ہوجائیں اور اسلامی معاشرے کے آداب ، تصورات اور اس کا اجتماعی شعور اور ذوق بلند اور پاکیزہ ہو۔ ہم نے اسلامی معاشرے کی تطہیر میں ” ذوق “ کی تطہیر کو بھی شامل کیا ہے کیونکہ جسم انسانی کو ننگا دیکھنا ایک ایسا ذوق ہے ، جو نہایت ہی غلیظ اور پسماندہ ذوق ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ذوق سنجیدہ اور مستقل اور منظم ذوق جمال کے مقابلے میں بددیانہ ہے۔ اس بددیانہ ذوق میں روح ، عفت اور شعور کا ذوق مفقود ہوتا ہے۔

یہ کہ اسلامی معیار انسانی سطح کو بلند کرتا ہے اور انسان کو ترقی یافتہ بناتا ہے۔ سنجیدگی اور وقار اپنی جگہ ایک خوبصورتی ہے۔ یہ حقیقی حسن ہوتا ہے لیکن اس حقیقی حسن کے ادراک و شعور سے سطحی اور جاہلی ذوق محروم ہوتا ہے۔ کیونکہ گرے ہوئے جاہلی ذوق کے مطابق حسن صرف گوشت و پوست میں ہوتا ہے اور جاہلی ذوق کا داعیہ یہی ذوق ہوتا ہے۔ قرآن کریم کی یہ آیات یہاں جاہلی سج دھج کی طرف اشارہ کرکے یہ بتاتی ہیں کہ یہ گری ہوئی جاہلیت کی باقیات ہیں اور جو لوگ جاہلیت کے دور کو لے کرکے آگے بڑھ گئے ہیں وہ اس معیار سے بلند ہوجاتے ہیں اور ان کا شعور اور ان کا ذوق جمال بھی جاہلیت کی سطح سے بلند ہوتا ہے۔ جاہلیت کسی متعین زمانے کا نام نہیں ہے۔ زمانہ جاہل نہیں ہوتا ، لوگ جاہل ہوتے ہیں ۔ جاہلیت ایک حالت کا نام ہے۔ اس میں لوگوں کے خاص تصورات ہوتے ہیں اور یہ حالت ، یہ تصورات اور یہ رسم و رواج ہر زمان و مکان میں ہو سکتے ہیں۔

اس معیار کے مطابق ہم آج دور جاہلیت میں ہیں۔ بالکل اندھی جاہلیت میں۔ جس کا احساس غلیظ ہے ، شعور غلیظ ہے جس کے تصورات حیوانی ہیں اور مقام انسانی سے فروتر گندگی میں لت پت مقام کو یہ شعور پسند کرتا ہے۔ جس کے اندر کوئی طہارت ، پاکیزگی اور برکت نہیں ہوتی۔ انسانیت اس میں ڈولی ہوئی ہے اور وہ اس معیار کے مطابق تطہیر نہیں چاہتی جس کے مطابق اسلام انسانی معاشرے کو پاک کرنا چاہتا ہے۔ اسے جاہلیت اولیٰ کے باقیات کو زائل کرنا چاہتا ہے اور یہ کام قرآن اور اسلام نے اہل بیت نبوی ﷺ سے شروع کیا ہے تاکہ وہ عام مسلمانوں کے لیے طہارت ، لطافت اور روشنی کا مینار ہو۔

قرآن کریم نبی ﷺ کو متوجہ کرتا ہے کہ وہ یہ اقدامات کریں۔ ازواج مطہرات کے دلوں کو اللہ سے جوڑ دیں ، اور ان کا نصب العین بلند افق پر متعین کردیں۔ نہایت روشن ، نہایت پاکیزہ اور یوں وہ اس روشن مینار تک بتدریج بلند ہوجائیں۔

واقمن الصلوۃ واتین الزکوۃ واطعن اللہ ورسولہ (33: 33) ” نماز قائم کرو ، زکوٰۃ دو ، اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرو “۔ اللہ کی بندگی اجتماعی طرز اور اجتماعی اخلاق کے علاوہ کوئی چیز نہیں ہے بلکہ اللہ کی بندگی وہ راستہ ہے جس کے ذریعہ انسان اعلیٰ اور بلند اخلاقی اور اجتماعی سطح تک بلند ہو سکتا ہے۔ اللہ کی بندگی ہی سالک کے لیے زاد راہ ہے۔ سالک کے لیے ضروری ہے کہ اللہ کی بندگی کے لیے مدد لے۔ لہٰذا اللہ سے تعلق کی ضرورت ہے جہاں سے انسان کو مدد ملے اور اللہ کے ساتھ ایسے تعلق کی ضرورت ہے جس سے دل صاف اور پاک ہوتا رہے۔ اللہ کے ساتھ ایسے مضبوط رابطے کی ضرورت ہے جس کی وجہ سے انسان لوگوں کے متعارف طرز عمل سے اور موجودہ معاشرے کے رسم و رواج سے بالا ہوجائے۔ اس کے اندر یہ سوچ اور یہ شعور ہو کہ اللہ سے رابطہ لوگوں اور پورے معاشرے اور اپنے خاندان سے اعلیٰ وارفع ہے۔ اس تعلق کی وجہ سے انسان میں یہ جذبہ پیدا ہو کہ وہ دوسرے لوگوں کو بھی تعلق باللہ کی طرف دعوت دے۔ یہ نہ ہو کہ ایک شخص اسلام کی روشنی سے خبردار ہوتے ہوئے بھی دوسرے لوگوں کا پیرو کار بن جائے اور وہ اس کی قیادت ظلمت اور تاریکی کی طرف کریں جو عموماً اللہ سے تعلق کٹ جانے کی وجہ سے ہر طرف چھا جاتی ہے۔

اسلام ہی ہر قسم کے مراسم عبودیت ، ہر قسم کے اخلاق و آداب ، ہر قسم کے قوانین اور ہر قسم کے دستوری انتظامات کا حامل دین ہے۔ یہ تمام امور ایک نظریہ حیات کے فریم ورک کے اندر ہیں اور یہ تمام امور اس فریم ورک میں رہتے ہوئے اسلامی نظریہ حیات کے مقاصد پورے کرتے ہیں۔ یہ سب شعبے باہم توافق کے ساتھ ایک ہدف کی طرف بڑھتے ہیں اور اسی ہم آہنگی اور توافق سے دین اسلام کا مجموعی ڈھانچہ تیار ہوتا ہے۔ ان تمام عناصر کی موجودگی اور توافق کے بغیر یہ دین ہرگز قائم نہیں ہوسکتا۔

یہی وجہ ہے کہ حکم دیا گیا کہ تم نماز کو قائم کرو ، زکوٰۃ دو ، اور اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت کرو اور اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت کے

اندر تمام شعوری سمت ، تمام اخلاقی ہدایات ، ہر قسم کا طرز عمل ، خاندان اور اجتماعی معاملات میں رویہ سب کے سب سمٹ آتے ہیں۔ کیونکہ اسلام اس وقت تک قائم نہیں ہوسکتا جب تک کوئی ان کو قائم نہ کرے اور یہ مجموعی اطاعت شعاری ایک خاص مقصد کے لیے ہے۔

انما یرید اللہ لیذھب ۔۔۔۔۔ تطھیرا (33:33) ” اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ تم اہل بیت نبی ﷺ سے گندگی کو دور کرے اور تمہیں پوری طرح پاک کر دے “۔ اس تعبیر میں کئی اشارات ، سب کے سب محبت ، شفقت ، وارفتگی اور نرمی سے بھرے ہوئے ہیں۔ ان سے کہا جاتا ہے کہ ” تم اہل بیت نبی “ ہو۔ اہل بیت میں تصریح تو نہیں لیکن نبی کے گھر کی طرف اشارہ ہے۔ گویا دنیا میں یہی ایک عظیم گھرانا ہے اور یہ گھرانا اس صفت کا مستحق ہے۔ جب ” البیت “ کہہ دیا تو گویا مراد بیت النبی ہے۔ یہی اشارات خانہ کعبہ کے بارے میں قرآن میں ہوتے ہیں۔ اسے بھی ” البیت “ ” البیت الحرام “ کہا جاتا ہے اور اسی معنی میں بیت نبی کو بھی البیت کہا گیا۔ گویا یہ عظیم گھرانا ہے ، یہی گھرانا ہے۔

اور پھر یہ تعبیر کہ اے اہل بیت تم سے اللہ گندگی کو پوری طرح دور کرکے صاف کرنا چاہتا ہے یعنی نبی کے گھرانے کو پاک کرنے کا کام خود اللہ نے سنبھال لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اور کسی گھر کی تطہیر کے کام کی ذمہ داری خود لیتا ! گویا یہ اہل بیت نبی کا نہایت ہی بلند مرتبہ ہے۔ یہ وہ ذات کہہ رہی ہے جس نے پوری کائنات کو کن فیکون سے بنا دیا۔ اور وہ عزیز و جبار اور علی کل شئ قدیر ہے اور وہ اس کام کو کرنا چاہتا ہے تو یہ اہل بیت کے لیے بڑا اعزاز بھی ہے۔

یہ بات اللہ اپنی اس کتاب میں کہہ رہے ہیں جو آسمانوں پر پڑھی جاتی ہے۔ زمین پر پڑھی جاتی ہے۔ ہر دور اور ہر جگہ پڑھی جاتی ہے اور جس کی پیروی ہر دور میں کئی ملین لوگ کرتے چلے آئے ہیں اور جس کی تلاوت ہر وقت کئی ملین لوگ کرتے ہیں۔

آخری بات یہ ہے کہ یہ اوامر اور یہ ہدایات یہاں تطہیر اور پاکی کا وسیلہ بنائے جا رہے ہیں اور ان کے ذریعہ اس گھرانے کو پاک کرنا مقصود ہے۔ تطہیر تطہر سے ہے ، گندگی تب دور ہوتی ہے جب کوئی ایسے وسائل اختیار کرے جس سے وہ دور ہو اور یہ کام لوگ خود کریں اور اپنی عملی زندگی کی تطہیر کریں۔ لوگوں کے اندر پاکیزگی کا شعور ہو اور وہ متقی ہوں ، ان کا طرز عمل پاکیزہ ہو۔ وہ پوری طرح اسلام میں داخل ہو کر اپنی زندگی کا رخ اسلام کی طرف کردیں اور اس کے اہداف اسلامی ہوں۔

اور یہ بحث نبی ﷺ کی ازواج مطہرات کو مزید ہدایات پر ختم ہوتی ہے کہ ازواج مطہرات کو پھر یاد دلایا جاتا ہے کہ تمہارا مقام و مرتبہ بہت بلند ہے۔ دوسری عورتوں سے تم ممتاز ہو۔ اس لیے کہ تم سرورکونین ﷺ کے گھرانے کی فرد ہو۔ تمہارے گھروں کے اندر قرآن نازل ہو رہا ہے۔ جو حکمت و دانائی پر مشتمل ہے۔ گویا تمہارے گھر حکمت و دانائی کے مقامات نزول ہیں۔ نور ہدایت اور ایمان کی بارشیں وہاں ہو رہی ہیں۔

واذکرن ما یتلی فی ۔۔۔۔۔ کان لطیفا خبیرا (33: 34) ” یاد رکھو ، اللہ کی آیات اور حکمت کی ان باتوں کو جو تمہارے گھروں میں سنائی جاتی ہیں بیشک اللہ لطیف اور باخبر ہے “۔ یہ وہ بلند مرتبہ ہے جس کا ان کو یاد دلانا ہی کافی ہے۔ ہر کوئی اس مرتبہ بلند کو محسوس کرتا ہے۔ یہ اللہ کا دیا ہوا بہت بڑا مقام ہے اور وہ انعام ہے جس کے برابر کوئی چیز نہیں ہے۔ یہ نصیحت اس خطاب اور تقریر کے آخر میں دہرائی جاتی ہے جو ازواج مطہرات کے سامنے اس وقت کی گئی جب ان کو اختیار دیا جاتا تھا کہ تمہیں اختیار ہے کہ تم دنیا اور اس کی زوال پذیر آرائشوں کو پسند کرتی ہو یا اللہ اور رسول اللہ اور دار آخرت کو اختیار کرتی ہو۔ دکھایا جاتا ہے کہ غور کرلو ، اللہ نے تمہیں بہت ہی بڑی نعمت دی ہے اور یہ پوری زندگی اس کے مقابلے میں کوئی چیز بھی نہیں ہے۔

نبی کے گھرانے کے بعد اب اسلامی سوسائٹی کے اندر تطہیر کے اسباب بھی نہایت تفصیل اور باریکی کے ساتھ بیان کیے جاتے ہیں۔ اس میں مرد اور عورتیں دونوں برابر ہیں۔

آیت 32 { یٰنِسَآئَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ کَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآئِ } ”اے نبی ﷺ کی بیویو ! تم عام عورتوں کی مانند نہیں ہو“ مراد یہ ہے کہ نبی مکرم ﷺ کی بیویاں ہونے کی حیثیت سے تمہیں تا قیام قیامت امت کی خواتین کے لیے اسوہ بننا ہے۔ آئندہ آیات میں ازواجِ مطہرات رض کو پردے سے متعلق خصوصی ہدایات دی جا رہی ہیں۔ اس سلسلے کی پہلی ہدایت یہ ہے : { اِنِ اتَّقَیْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ } ”اگر تم تقویٰ اختیار کرو تو گفتگو میں نرمی پیدا نہ کرو“ جیسا کہ قبل ازیں بیان ہوچکا ہے ‘ ان آیات کے نزول کے وقت عربوں کے رواج کے مطابق غیر مرد ایک دوسرے کے گھروں میں بےدھڑک آتے جاتے تھے اور گھر کی عورتوں سے بلا روک ٹوک گفتگو بھی کرتے تھے۔ چناچہ اس سلسلے میں پہلی ہدایت یہ دی گئی کہ اگر کسی مرد سے تمہیں براہ راست کبھی کوئی بات کرنی پڑے تو تقویٰ کا تقاضا یہ ہے کہ تمہاری آواز میں کسی قسم کی نزاکت ‘ نرمی یا چاشنی کا شائبہ تک نہ ہو۔ { فَیَطْمَعَ الَّذِیْ فِیْ قَلْبِہٖ مَرَضٌ} ”کہ وہ شخص جس کے دل میں روگ ہے وہ کسی لالچ میں پڑجائے“ ظاہر ہے کہ منافق بھی اسی معاشرے میں موجود تھے اور وہ کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے۔ حضرت عائشہ رض پر بہتان تراشی کا واقعہ اس کی واضح مثال ہے جس کی تفصیل ہم سورة النور میں پڑھ چکے ہیں۔ چناچہ پہلے اقدام کے طور پر یہاں غیر محرم َمردوں سے بات چیت میں احتیاط کا حکم دیا گیا ہے ‘ کیونکہ مخاطب خاتون کی آواز میں نرمی اور لوچ محسوس کرکے گندی ذہنیت کے حامل کسی شخص کے دل میں کوئی منفی آرزو پیدا ہوسکتی ہے اور وہ بات آگے بڑھانے کی کوشش کا سوچ سکتا ہے۔ { وَّقُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا } ”اور بات کرو معروف انداز میں۔“ اندازِ گفتگو میں نہ نرمی و نزاکت کی جھلک ہو اور نہ ہی ترشی و تلخی کا رنگ ‘ بس معقول اور معروف انداز میں صرف ضرورت کی بات چیت ہونی چاہیے۔

ارشادات الٰہی کی روشنی میں اسوہ امہات المومنین اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کی بیویوں کو آداب سکھاتا ہے اور چونکہ تمام عورتیں انہی کے ماتحت ہیں۔ اس لئے یہ احکام سب مسلمان عورتوں کے لئے ہیں پس فرمایا کہ تم میں سے جو پرہیزگاری کریں وہ بہت بڑی فضیلت اور مرتبے والی ہیں۔ مردوں سے جب تمہیں کوئی بات کرنی پڑے تو آواز بنا کر بات نہ کرو کہ جن کے دلوں میں روگ ہے انہیں طمع پیدا ہو۔ بلکہ بات اچھی اور مطابق دستور کرو۔ پس عورتوں کو غیر مردوں سے نزاکت کے ساتھ خوش آوازی سے باتیں کرنی منع ہیں۔ گھل مل کر وہ صرف اپنے خاوندوں سے ہی کلام کرسکتی ہیں۔ پھر فرمایا بغیر کسی ضروری کام کے گھر سے باہر نہ نکلو۔ مسجد میں نماز کے لئے آنا بھی شرعی ضرورت ہے جیسے کہ حدیث میں ہے اللہ کی لونڈیوں کو اللہ کی مسجدوں سے نہ روکو۔ لیکن انہیں چاہئے کہ سادگی سے جس طرح گھروں میں رہتی ہیں اسی طرح آئیں۔ ایک روایت میں ہے کہ ان کے لئے ان کے گھر بہتر ہیں۔ بزار میں ہے کہ عورتوں نے حاضر ہو کر رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ جہاد وغیرہ کی کل فضیلتیں مرد ہی لے گئے۔ اب آپ ہمیں کوئی ایسا عمل بتائیں جس سے ہم مجاہدین کی فضیلت کو پاسکیں۔ آپ نے فرمایا تم میں سے جو اپنے گھر میں پردے اور عصمت کے ساتھ بیٹھی رہے وہ جہاد کی فضیلت پالے گی۔ ترمذی وغیرہ میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں عورت سر تا پا پردے کی چیز ہے۔ یہ جب گھر سے باہر قدم نکالتی ہے تو شیطان جھانکنے لگتا ہے۔ یہ سب سے زیادہ اللہ کے قریب اس وقت ہوتی ہے جب یہ اپنے گھر کے اندرونی حجرے میں ہو۔ ابو داؤد وغیرہ میں ہے عورت کی اپنے گھر کی اندرونی کوٹھڑی کی نماز گھر کی نماز سے افضل ہے اور گھر کی نماز صحن کی نماز سے بہتر ہے۔ جاہلیت میں عورتیں بےپردہ پھرا کرتی تھیں اب اسلام بےپردگی کو حرام قرار دیتا ہے۔ ناز سے اٹھلا کر چلنا ممنوع ہے۔ دوپٹہ گلے میں ڈال لیا لیکن اسے لپیٹا نہیں جس سے گردن اور کانوں کے زیور دوسروں کو نظر آئیں، یہ جاہلیت کا بناؤ سنگھار تھا جس سے اس آیت میں روکا گیا ہے۔ ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضرت نوح اور حضرت ادریس کی دو نسلیں آباد تھیں۔ ایک تو پہاڑ پر دوسرے نرم زمین پر۔ پہاڑیوں کے مرد خوش شکل تھے عورتیں سیاہ فام تھیں اور زمین والوں کی عورتیں خوبصورت تھیں اور مردوں کے رنگ سانولے تھے۔ ابلیس انسانی صورت اختیار کر کے انہیں بہکانے کے لئے نرم زمین والوں کے پاس آیا اور ایک شخص کا غلام بن کر رہنے لگا۔ پھر اس نے بانسری وضع کی ایک چیز بنائی اور اسے بجانے لگا اس کی آواز پر لوگ لٹو ہوگئے اور پھر بھیڑ لگنے لگی اور ایک دن میلے کا مقرر ہوگیا جس میں ہزارہا مرد و عورت جمع ہونے لگے۔ اتفاقاً ایک دن ایک پہاڑی آدمی بھی آگیا اور ان کی عورتوں کو دیکھ کر واپس جا کر اپنے قبیلے والوں میں اس کے حسن کا چرچا کرنے لگا۔ اب وہ لوگ بکثرت آنے لگے اور آہستہ آہستہ ان عورتوں مردوں میں اختلاط بڑھ گیا اور بدکاری اور زنا کاری کا عام رواج ہوگیا۔ یہی جاہلیت کا بناؤ ہے جس سے یہ آیت روک رہی ہے۔ ان کاموں سے روکنے کے بعد اب کچھ احکام بیان ہو رہے ہیں کہ اللہ کی عبادت میں سب سے بڑی عبادت نماز ہے اس کی پابندی کرو اور بہت اچھی طرح سے اسے ادا کرتی رہو۔ اسی طرح مخلوق کے ساتھ بھی نیک سلوک کرو۔ یعنی زکوٰۃ نکالتی رہو۔ ان خاص احکام کی بجا آوری کا حکم دے کر پھر عام طور پر اللہ کی اور اس کے رسول ﷺ کی فرمانبرداری کرنے کا حکم دیا۔ پھر فرمایا اس اہل بیت سے ہر قسم کے میل کچیل کو دور کرنے کا ارادہ اللہ تعالیٰ کا ہوچکا ہے وہ تمہیں بالکل پاک صاف کر دے گا۔ یہ آیت اس بات پر نص ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی بیویاں ان آیتوں میں اہل بیت میں داخل ہیں۔ اس لئے کہ یہ آیت انہی کے بارے میں اتری ہے۔ آیت کا شان نزول تو آیت کے حکم میں داخل ہوتا ہی ہے گو بعض کہتے ہیں کہ صرف وہی داخل ہوتا ہے اور بعض کہتے ہیں وہ بھی اور اس کے سوا بھی۔ اور یہ دوسرا قول ہی زیادہ صحیح ہے۔ حضرت عکرمہ ؒ تو بازاروں میں منادی کرتے پھرتے تھے کہ یہ آیت نبی ﷺ کی بیویوں ہی کے بارے میں خالصتاً نازل ہوئی ہے (ابن جریر) ابن ابی حاتم میں حضرت عکرمہ تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ جو چاہے مجھ سے مباہلہ کرلے۔ یہ آیت حضور ﷺ کی ازواج مطہرات ہی کی شان میں نازل ہوئی ہے۔ اس قول سے اگر یہ مطلب ہے کہ شان نزول یہی ہے اور نہیں، تو یہ تو ٹھیک ہے اور اگر اس سے مراد یہ ہے کہ اہل بیت میں اور کوئی ان کے سوا داخل ہی نہیں تو اس میں نظر ہے اس لئے کہ احادیث سے اہل بیت میں ازواج مطہرات کے سوا اوروں کا داخل ہونا بھی پایا جاتا ہے۔ مسند احمد اور ترمذی میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ صبح کی نماز کے لئے جب نکلتے تو حضرت فاطمہ ؓ کے دروازے پر پہنچ کر فرماتے اے اہل بیت نماز کا وقت آگیا ہے پھر اسی آیت تطہیر کی تلاوت کرتے۔ امام ترمذی اسے حسن غریب بتلاتے ہیں۔ ابن جریر کی ایک اسی حدیث میں سات مہینے کا بیان ہے۔ اس میں ایک راوی ابو داؤد اعمی نفیع بن حارث کذاب ہے۔ یہ روایت ٹھیک نہیں۔ مسند میں ہے شد اد بن عمار کہتے ہیں میں ایک دن حضرت واثلہ بن اسقع ؓ کے پاس گیا اس وقت وہاں کچھ اور لوگ بھی بیٹھے ہوئے تھے اور حضرت علی کا ذکر ہو رہا تھا۔ وہ آپ کو برا بھلا کہہ رہے تھے میں نے بھی ان کا ساتھ دیا جب وہ لوگ گئے تو مجھ سے سے حضرت واثلہ نے فرمایا تو نے بھی حضرت علی کی شان میں گستا خانہ الفاظ کہے ؟ میں نے کہا ہاں میں نے بھی سب کی زبان میں زبان ملائی۔ تو فرمایا سن میں نے جو دیکھا ہے تجھے سناتا ہوں۔ میں ایک مرتبہ حضرت علی کے گھر گیا تو معلوم ہوا کہ آپ ؓ حضور ﷺ کی مجلس میں گئے ہوئے ہیں۔ میں ان کے انتظار میں بیٹھا رہا تھوڑی دیر میں دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ آ رہے ہیں اور آپ کے ساتھ حضرت علی ؓ اور حضرت حسن اور حضرت حسین ؓ بھی ہیں دونوں بچے آپ کی انگلی تھامے ہوئے تھے آپ نے حضرت علی ؓ اور حضرت فاطمہ ؓ کو تو اپنے سامنے بٹھا لیا اور دونوں نواسوں کو اپنے گھٹنوں پر بٹھا لیا اور ایک کپڑے سے ڈھک لیا پھر اسی آیت کی تلاوت کر کے فرمایا اے اللہ یہ ہیں میرے اہل بیت اور میرے اہل بیت زیادہ حقدار ہیں۔ دوسری روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ حضرت واثلہ ؓ کہتے ہیں میں نے یہ دیکھ کر کہا یا رسول اللہ ﷺ میں بھی آپ کی اہل بیت میں سے ہوں ؟ آپ نے فرمایا تو بھی میرے اہل میں سے ہے۔ حضرت واثلہ ؓ فرماتے ہیں حضور ﷺ کا یہ فرمان میرے لئے بہت ہی بڑی امید کا ہے اور روایت میں ہے حضرت واثلہ ؓ فرماتے ہیں میں حضور ﷺ کے پاس تھا جب حضرت علی حضرت فاطمہ حضرت حسن حضرت حسین ؓ اجمعین آئے آپ نے اپنی چادر ان پر ڈال کر فرمایا اے اللہ یہ میرے اہل بیت ہیں یا اللہ ان سے ناپاکی کو دور فرما اور انہیں پاک کر دے۔ میں نے کہا میں بھی ؟ آپ نے فرمایا ہاں تو بھی۔ میرے نزدیک سب سے زیادہ میرا مضبوط عمل یہی ہے۔ مسند احمد میں ہے حضرت ام سلمہ ؓ فرماتی ہیں حضور ﷺ میرے گھر میں تھے جب حضرت فاطمہ ؓ حریرے کی ایک پتیلی بھری ہوئی لائیں۔ آپ نے فرمایا اپنے میاں کو اور اپنے دونوں بچوں کو بھی بلا لو۔ چناچہ وہ بھی آگئے اور کھانا شروع ہوا آپ اپنے بستر پر تھے۔ خیبر کی ایک چادر آپ کے نیچے بچھی ہوئی تھی۔ میں حجرے میں نماز ادا کر رہی تھی جب یہ آیت اتری۔ پس حضور ﷺ نے چادر انہیں اڑھا دی اور چادر میں سے ایک ہاتھ نکال کر آسمان کی طرف اٹھا کر یہ دعا کی کہ الٰہی یہ میرے اہل بیت اور حمایتی ہیں تو ان سے ناپاکی دور کر اور انہیں ظاہر کر میں نے اپنا سر گھر میں سے نکال کر کہا یا رسول اللہ ﷺ میں بھی آپ سب کے ساتھ ہوں آپ نے فرمایا یقینا تو بہتری کی طرف ہے فی الواقع تو خیر کی طرف ہے۔ اس روایت کے روایوں میں عطا کے استاد کا نام نہیں جو معلم ہو سکے کہ وہ کیسے راوی ہیں باقی راوی ثقہ ہیں۔ دوسری سند سے انہی حضرت ام سلمہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ان کے ساتھ حضرت علی ؓ کا ذکر آیا تو آپنے فرمایا آیت تطہیر تو میرے گھر میں اتری ہے۔ آپ میرے ہاں آئے اور فرمایا کسی اور کو آنے کی اجازت نہ دینا۔ تھوڑی دیر میں حضرت فاطمہ ؓ آئیں۔ اب بھلا میں بیٹی کو باپ سے کیسے روکتی ؟ پھر حضرت حسن ؓ آئے تو نواسے کو نانا سے کون روکے ؟ پھر حضرت حسین ؓ آئے میں نے انہیں بھی نہ روکا۔ پھر حضرت علی ؓ آئے میں انہیں بھی نہ روک سکی۔ جب یہ سب جمع ہوگئے تو جو چادر حضور ﷺ اوڑھے ہوئے تھے اسی میں ان سب کو لے لیا اور کہا الٰہی یہ میرے اہل بیت ہیں ان سے پلیدی دور کر دے اور انہیں خوب پاک کر دے۔ پس یہ آیت اس وقت اتری جبکہ یہ چادر میں جمع ہوچکے تھے میں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ میں بھی ؟ لیکن اللہ جانتا ہے آپ اس پر خوش نہ ہوئے اور فرمایا تو خیر کی طرف ہے۔ مسند کی اور روایت میں ہے کہ میرے گھر میں حضور ﷺ تھے جب خادم نے آ کر خبر کی کہ فاطمہ ؓ اور علی ؓ آگئے ہیں تو آپ نے مجھ سے فرمایا ایک طرف ہوجاؤ میرے اہل بیت آگئے ہیں۔ میں گھر کے ایک کونے میں بیٹھ گئی جب دونوں ننھے بچے اور یہ دونوں صاحب تشریف لائے۔ آپ نے دونوں بچوں کو گودی میں لے لیا اور پیار کیا پھر ایک ہاتھ حضرت علی ؓ کی گردن میں دوسرا حضرت فاطمہ ؓ کی گردن میں ڈال کر ان دونوں کو بھی پیار کیا اور ایک سیاہ چادر سب پر ڈال کر فرمایا یا اللہ تیری طرف نہ کہ آگ کی طرف میں اور میری اہل بیت۔ میں نے کہا میں بھی ؟ فرمایا ہاں تو بھی۔ اور روایت میں ہے کہ میں اس وقت گھر کے دروازے پر بیٹھی ہوئی تھی اور میں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ کیا میں اہل بیت میں سے نہیں ہوں ؟ آپ نے فرمایا تو بھلائی کی طرف ہے اور نبی ﷺ کی بیویوں میں سے ہے اور روایت میں ہے میں نے کہا مجھے بھی ان کے ساتھ شامل کرلیجئے تو فرمایا تو میری اہل ہے۔ حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ سیاہ چادر اوڑھے ہوئے ایک دن صبح ہی صبح نکلے اور ان چاروں کو اپنی چادر تلے لے کر یہ آیت پڑھی (مسلم وغیرہ) حضرت عائشہ ؓ سے ایک مرتبہ کسی نے حضرت علی ؓ کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا وہ سب سے زیادہ رسول اللہ ﷺ کے محبوب تھے ان کے گھر میں آپ کی صاحبزادی تھیں جو سب سے زیادہ آپ کی محبوب تھیں۔ پھر چادر کا واقعہ بیان فرما کر فرمایا میں نے قریب جا کر کہا یا رسول اللہ میں بھی آپ کے اہل بیت سے ہوں آپ نے فرمایا دور رہو تم یقیناً خیر پر ہو (ابن ابی حاتم) حضرت سعید ؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا میرے اور ان چاروں کے بارے میں یہ آیت اتری ہے۔ اور سند سے یہ ابو سعید ؓ کا اپنا قول ہونا مروی ہے۔ واللہ اعلم۔ حضرت سعد ؓ فرماتے ہیں جب حضور ﷺ پر وحی اتری تو آپ نے ان چاروں کو اپنے کپڑے تلے لے کر فرمایا یارب یہ میرے اہل ہیں اور میرے اہل بیت ہیں (ابن جریر) صحیح مسلم شریف میں ہے حضرت یزید بن حبان فرماتے ہیں میں اور حصین بن سیرہ اور عمر بن مسلمہ مل کر حضرت زید بن ارقم ؓ کے پاس گئے۔ حصین کہنے لگے اے زید آپ کو تو بہت سی بھلائیاں مل گئیں۔ آپ نے حضور ﷺ کی زیارت کی، آپ کی حدیثیں سنیں، آپ کے ساتھ جہاد کئے، آ پکے پیچھے نمازیں پڑھیں غرض آپ نے بہت خیر و برکت پا لیا اچھا ہمیں کوئی حدیث تو سناؤ۔ آپ نے فرمایا بھتیجے اب میری عمر بڑی ہوگئی۔ حضور ﷺ کا زمانہ دور ہوگیا۔ بعض باتیں ذہن سے جاتی رہیں۔ اب تم ایسا کرو جو باتیں میں از خود بیان کروں انہیں تم قبول کرلو ورنہ مجھے تکلیف نہ دو۔ سنو ! مکہ اور مدینے کے درمیان ایک پانی کی جگہ پر جسے خم کہا جاتا ہے حضور ﷺ نے کھڑے ہو کر ہمیں ایک خطبہ سنایا۔ اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء اور وعظ و پند کے بعد فرمایا میں ایک انسان ہوں۔ بہت ممکن ہے کہ میرے پاس میرے رب کا قاصد آئے اور میں اس کی مان لوں میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں۔ پہلی تو کتاب اللہ جس پر ہدایت و نور ہے۔ تم اللہ کی کتابوں کو لو اور اسے مضبوطی سے تھام لو پھر تو آپ نے کتاب اللہ کی بڑی رغبت دلائی اور اس کی طرف ہمیں خوب متوجہ فرمایا۔ پھر فرمایا اور میری اہل بیت کے بارے میں اللہ کو یاد دلاتا ہوں تین مرتبہ یہی کلمہ فرمایا۔ تو حصین نے حضرت زید ؓ سے پوچھا آپ کے اہل بیت کون ہیں ؟ کیا آپ کی بیویاں آپ کی اہل بیت نہیں ہیں ؟ فرمایا آپ کی بیویاں تو آپ کی اہل بیت ہیں ہی۔ لیکن آپ کی اہل بیت وہ ہیں جن پر آپ کے بعد صدقہ کھانا حرام ہے، پوچھا وہ کون ہیں ؟ فرمایا آل علی، آل عقیل، آل جعفر، آل عباس ؓ۔ پوچھا کیا ان سب پر آپ کے بعد صدقہ حرام ہے ؟ کہا ہاں ! دوسری سند سے یہ بھی مروی ہے کہ میں نے پوچھا کیا آپ کی بیویاں بھی اہل بیت میں داخل ہیں ؟ کہا نہیں قسم ہے اللہ کی بیوی کا تو یہ حال ہے کہ وہ اپنے خاوند کے پاس گو عرصہ دراز سے ہو لیکن پھر اگر وہ طلاق دے دے تو اپنے میکے میں اور اپنی قوم میں چلی جاتی ہے۔ آپ کے اہل بیت آپ کی اصل اور عصبہ ہیں جن پر آپکے بعد صدقہ حرام ہے۔ اس روایت میں یہی ہے لیکن پہلی روایت ہی اولیٰ ہے اور اسی کو لینا ٹھیک ہے اور اس دوسری میں جو ہے اس سے مراد صرف حدیث میں جن اہل بیت کا ذکر ہے وہ ہے کیونکہ وہاں وہ آل مراد ہے جن پر صدقہ خوری حرام ہے یا یہ کہ مراد صرف بیویاں نہیں ہیں بلکہ وہ مع آپ کی اور آل کے ہیں۔ یہی بات زیادہ راحج ہے اور اس سے اس روایت اور اس سے پہلے کی روایت میں جمع بھی ہوجاتی ہے اور قرآن اور پہلی احادیث میں بھی جمع ہوجاتی ہے لیکن یہ اس صورت میں کہ ان احادیث کی صحت کو تسلیم کرلیا جائے۔ کیونکہ ان کی بعض اسنادوں میں نظر ہے واللہ تعالیٰ اعلم۔ جس شخص کو نور معرفت حاصل ہو اور قرآن میں تدبر کرنے کی عادت ہو وہ یقینا بیک نگاہ جان لے گا کہ اس آیت میں حضور ﷺ کی بیویاں بلاشبک و شبہ داخل ہیں اس لئے کہ اوپر سے کلام ہی ان کے ساتھ اور انہی کے بارے میں چل رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد ہی فرمایا کہ اللہ کی آیتیں اور رسول ﷺ کی باتیں جن کا درس تمہارے گھروں میں ہو رہا ہے انہیں یاد رکھو اور ان پر عمل کرو۔ پس اللہ کی آیات اور حکمت سے مراد بقول حضرت قتادہ وغیرہ کتاب و سنت ہے۔ پس یہ خاص خصوصیت ہے جو ان کے سوا کسی اور کو نہیں ملی کہ ان کے گھروں میں اللہ کی وحی اور رحمت الٰہی نازل ہوا کرتی ہے اور ان میں بھی یہ شرف حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ ؓ کو بطور اولیٰ اور سب سے زیادہ حاصل ہے کیونکہ حدیث شریف میں صاف وارد ہے کہ کسی عورت کے بستر پر حضور ﷺ کی طرف وحی نہیں آتی بجز آپ ﷺ کے بسترے کے یہ اس لئے بھی کہ حضور ﷺ نے آپ کے سوا کسی اور باکرہ سے نکاح نہیں کیا تھا۔ ان کا بستر بجز رسول اللہ ﷺ کے اور کسی کے لئے نہ تھا۔ پس اس زیادتی درجہ اور بلندی مرتبہ کی وہ صحیح طور پر مستحق تھیں۔ ہاں جبکہ آپ کی بیویاں آپ کے اہل بیت ہوئیں تو آپ کے قریبی رشتے دار بطور اولیٰ آپ کی اہل بیت ہیں۔ جیسے حدیث میں گذر چکا کہ میرے اہل بیت زیادہ حقدار ہیں۔ اس کی مثال میں یہ آیت ٹھیک طور پر پیش ہوسکتی ہے۔ (لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَي التَّقْوٰى مِنْ اَوَّلِ يَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِيْهِ ۭ فِيْهِ رِجَالٌ يُّحِبُّوْنَ اَنْ يَّتَطَهَّرُوْا ۭوَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِيْنَ01008) 9۔ التوبہ :108) کہ یہ اتری تو ہے مسجد قبا کے بارے میں جیسا کہ صاف صاف احادیث میں موجود ہے۔ لیکن صحیح مسلم شریف میں ہے کہ جب حضور ﷺ سے سوال ہوا کہ اس مسجد سے کون سی مسجد مراد ہے ؟ تو آپ نے فرمایا وہ میری ہی مسجد ہے یعنی مسجد نبوی۔ پس جو صفت مسجد قبا میں تھی وہی صفت چونکہ مسجد نبوی میں بھی ہے اس لئے اس مسجد کو بھی اسی نام سے اس آیت کے تحت داخل کردیا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضرت علی ؓ کی شہادت کے بعد حضرت حسن ؓ کو خلیفہ بنایا گیا۔ آپ ایک مرتبہ نماز پڑھا رہے تھے کہ بنو اسد کا ایک شخص کود کر آیا اور سجدے کی حالت میں آپ کے جسم میں خنجر گھونپ دیا جو آپ کے نرم گوشت میں لگا جس سے آپ کئی مہینے بیمار رہے جب اچھے ہوگئے تو مسجد میں آئے منبر پر بیٹھ کر خطبہ پڑھا جس میں فرمایا اے عراقیو ! ہمارے بارے میں اللہ کا خوف کیا کرو ہم تمہارے حاکم ہیں، تمہارے مہمان ہیں، ہم اہل بیت ہیں جن کے بارے میں آیت (وَقَرْنَ فِيْ بُيُوْتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَــبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْاُوْلٰى وَاَقِمْنَ الصَّلٰوةَ وَاٰتِيْنَ الزَّكٰوةَ وَاَطِعْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ ۭ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيْرًا 33؀ۚ) 33۔ الأحزاب :33) اتری ہے۔ اس پر آپ نے خوب زور دیا اور اس مضمون کو بار بار ادا کیا جس سے مسجد والے رونے لگے۔ ایک مرتبہ آپ نے ایک شامی سے فرمایا تھا کیا تو نے سورة احزاب کی آیت تطہیر نہیں پڑھی ؟ اس نے کہا ہاں کیا اس سے مراد تم ہو ؟ فرمایا ہاں ! اللہ تعالیٰ بڑے لطف و کرم والا، بڑے علم اور پوری خبر والا ہے۔ اس نے جان لیا کہ تم اس کے لطف کے اہل ہو، اس لیے اس نے تمہیں یہ نعمتیں عطا فرمائیں اور یہ فضیلتیں تمہیں دیں۔ پس اس آیت کے معنی مطابق تفسیر ابن جریر یہ ہوئے کہ اے نبی کی بیویو ! اللہ کی جو نعمت تم پر ہے اسے تم یاد کرو کہ اس نے تمہیں ان گھروں میں کیا جہاں اللہ کی آیات اور حکمت پڑھی جاتی ہے تمہیں اللہ تعالیٰ کی اس نعمت پر اس کا شکر کرنا چاہئے اور اس کی حمد پڑھنی چاہئے کہ تم پر اللہ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے تمہیں ان گھروں میں آباد کیا۔ حکمت سے مراد سنت و حدیث ہے۔ اللہ انجام تک سے خبردار ہے۔ اس نے اپنے پورے اور صحیح علم سے جانچ کر تمہیں اپنے نبی ﷺ کی بیویاں بننے کے لئے منتخب کرلیا۔ پس دراصل یہ بھی اللہ کا تم پر احسان ہے جو لطیف وخبیر ہے ہر چیز کے جزوکل سے۔

آیت 32 - سورۃ الاحزاب: (يا نساء النبي لستن كأحد من النساء ۚ إن اتقيتن فلا تخضعن بالقول فيطمع الذي في قلبه مرض وقلن قولا...) - اردو