سورۃ الاحزاب (33): آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں۔ - اردو ترجمہ

اس صفحہ میں سورہ Al-Ahzaab کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الأحزاب کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔

سورۃ الاحزاب کے بارے میں معلومات

Surah Al-Ahzaab
سُورَةُ الأَحۡزَابِ
صفحہ 422 (آیات 31 سے 35 تک)

۞ وَمَن يَقْنُتْ مِنكُنَّ لِلَّهِ وَرَسُولِهِۦ وَتَعْمَلْ صَٰلِحًا نُّؤْتِهَآ أَجْرَهَا مَرَّتَيْنِ وَأَعْتَدْنَا لَهَا رِزْقًا كَرِيمًا يَٰنِسَآءَ ٱلنَّبِىِّ لَسْتُنَّ كَأَحَدٍ مِّنَ ٱلنِّسَآءِ ۚ إِنِ ٱتَّقَيْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِٱلْقَوْلِ فَيَطْمَعَ ٱلَّذِى فِى قَلْبِهِۦ مَرَضٌ وَقُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوفًا وَقَرْنَ فِى بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ ٱلْجَٰهِلِيَّةِ ٱلْأُولَىٰ ۖ وَأَقِمْنَ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتِينَ ٱلزَّكَوٰةَ وَأَطِعْنَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥٓ ۚ إِنَّمَا يُرِيدُ ٱللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ ٱلرِّجْسَ أَهْلَ ٱلْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا وَٱذْكُرْنَ مَا يُتْلَىٰ فِى بُيُوتِكُنَّ مِنْ ءَايَٰتِ ٱللَّهِ وَٱلْحِكْمَةِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ لَطِيفًا خَبِيرًا إِنَّ ٱلْمُسْلِمِينَ وَٱلْمُسْلِمَٰتِ وَٱلْمُؤْمِنِينَ وَٱلْمُؤْمِنَٰتِ وَٱلْقَٰنِتِينَ وَٱلْقَٰنِتَٰتِ وَٱلصَّٰدِقِينَ وَٱلصَّٰدِقَٰتِ وَٱلصَّٰبِرِينَ وَٱلصَّٰبِرَٰتِ وَٱلْخَٰشِعِينَ وَٱلْخَٰشِعَٰتِ وَٱلْمُتَصَدِّقِينَ وَٱلْمُتَصَدِّقَٰتِ وَٱلصَّٰٓئِمِينَ وَٱلصَّٰٓئِمَٰتِ وَٱلْحَٰفِظِينَ فُرُوجَهُمْ وَٱلْحَٰفِظَٰتِ وَٱلذَّٰكِرِينَ ٱللَّهَ كَثِيرًا وَٱلذَّٰكِرَٰتِ أَعَدَّ ٱللَّهُ لَهُم مَّغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا
422

سورۃ الاحزاب کو سنیں (عربی اور اردو ترجمہ)

سورۃ الاحزاب کی تفسیر (تفسیر بیان القرآن: ڈاکٹر اسرار احمد)

اردو ترجمہ

اور تم میں سے جو اللہ اور اُس کے رسولؐ کی اطاعت کرے گی اور نیک عمل کرے گی اس کو ہم دوہرا اجر دیں گے اور ہم نے اس کے لیے رزق کریم مہیا کر رکھا ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waman yaqnut minkunna lillahi warasoolihi wataAAmal salihan nutiha ajraha marratayni waaAAtadna laha rizqan kareeman

آیت 31 { وَمَنْ یَّقْنُتْ مِنْکُنَّ لِلّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَتَعْمَلْ صَالِحًا نُّؤْتِہَآ اَجْرَہَا مَرَّتَیْنِ } ”اور جو کوئی تم میں سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت پر کاربند رہے گی اور نیک عمل کرے گی تو اسے ہم دوگنا اجردیں گے“ { وَاَعْتَدْنَا لَہَا رِزْقًا کَرِیْمًا } ”اور اس کے لیے ہم نے عزت ّوالا رزق تیار کر رکھا ہے۔“ جنت میں انہیں ہر طرح کی نعمتوں سے نوازا جائے گا۔

اردو ترجمہ

نبیؐ کی بیویو، تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو اگر تم اللہ سے ڈرنے والی ہو تو دبی زبان سے بات نہ کیا کرو کہ دل کی خرابی کا مُبتلا کوئی شخص لالچ میں پڑ جائے، بلکہ صاف سیدھی بات کرو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Ya nisaa alnnabiyyi lastunna kaahadin mina alnnisai ini ittaqaytunna fala takhdaAAna bialqawli fayatmaAAa allathee fee qalbihi maradun waqulna qawlan maAAroofan

آیت 32 { یٰنِسَآئَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ کَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآئِ } ”اے نبی ﷺ کی بیویو ! تم عام عورتوں کی مانند نہیں ہو“ مراد یہ ہے کہ نبی مکرم ﷺ کی بیویاں ہونے کی حیثیت سے تمہیں تا قیام قیامت امت کی خواتین کے لیے اسوہ بننا ہے۔ آئندہ آیات میں ازواجِ مطہرات رض کو پردے سے متعلق خصوصی ہدایات دی جا رہی ہیں۔ اس سلسلے کی پہلی ہدایت یہ ہے : { اِنِ اتَّقَیْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ } ”اگر تم تقویٰ اختیار کرو تو گفتگو میں نرمی پیدا نہ کرو“ جیسا کہ قبل ازیں بیان ہوچکا ہے ‘ ان آیات کے نزول کے وقت عربوں کے رواج کے مطابق غیر مرد ایک دوسرے کے گھروں میں بےدھڑک آتے جاتے تھے اور گھر کی عورتوں سے بلا روک ٹوک گفتگو بھی کرتے تھے۔ چناچہ اس سلسلے میں پہلی ہدایت یہ دی گئی کہ اگر کسی مرد سے تمہیں براہ راست کبھی کوئی بات کرنی پڑے تو تقویٰ کا تقاضا یہ ہے کہ تمہاری آواز میں کسی قسم کی نزاکت ‘ نرمی یا چاشنی کا شائبہ تک نہ ہو۔ { فَیَطْمَعَ الَّذِیْ فِیْ قَلْبِہٖ مَرَضٌ} ”کہ وہ شخص جس کے دل میں روگ ہے وہ کسی لالچ میں پڑجائے“ ظاہر ہے کہ منافق بھی اسی معاشرے میں موجود تھے اور وہ کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے۔ حضرت عائشہ رض پر بہتان تراشی کا واقعہ اس کی واضح مثال ہے جس کی تفصیل ہم سورة النور میں پڑھ چکے ہیں۔ چناچہ پہلے اقدام کے طور پر یہاں غیر محرم َمردوں سے بات چیت میں احتیاط کا حکم دیا گیا ہے ‘ کیونکہ مخاطب خاتون کی آواز میں نرمی اور لوچ محسوس کرکے گندی ذہنیت کے حامل کسی شخص کے دل میں کوئی منفی آرزو پیدا ہوسکتی ہے اور وہ بات آگے بڑھانے کی کوشش کا سوچ سکتا ہے۔ { وَّقُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا } ”اور بات کرو معروف انداز میں۔“ اندازِ گفتگو میں نہ نرمی و نزاکت کی جھلک ہو اور نہ ہی ترشی و تلخی کا رنگ ‘ بس معقول اور معروف انداز میں صرف ضرورت کی بات چیت ہونی چاہیے۔

اردو ترجمہ

اپنے گھروں میں ٹِک کر رہو اور سابق دور جاہلیت کی سی سج دھج نہ دکھاتی پھرو نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو اور اللہ اور اُس کے رسولؐ کی اطاعت کرو اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ اہلِ بیتِ نبیؐ سے گندگی کو دور کرے اور تمہیں پوری طرح پاک کر دے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waqarna fee buyootikunna wala tabarrajna tabarruja aljahiliyyati aloola waaqimna alssalata waateena alzzakata waatiAAna Allaha warasoolahu innama yureedu Allahu liyuthhiba AAankumu alrrijsa ahla albayti wayutahhirakum tatheeran

آیت 33 { وَقَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ } ”اور تم اپنے گھروں میں قرار پکڑو“ ایک مخلوط معاشرے کو اسلامی معاشرے میں بدلنے کے سلسلے میں دوسری ہدایت یہ ہے کہ عورت کا اصل اور مستقل مقام اس کا گھر ہے۔ چناچہ اسے چاہیے کہ وہ گھر کے اندر رہ کر ماں ‘ بہن ‘ بیٹی یا بیوی کا کردار خوش اسلوبی سے ادا کرنے کی کوشش کرے۔ { وَلَا تَـبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاہِلِیَّۃِ الْاُوْلٰی } ”اور مت نکلو بن سنور کر پہلے دور جاہلیت کی طرح“ تبرّج کے معنی ہیں نمایاں ہونا اور نمائش کرنا۔ یہاں اس سے عورتوں کا بنائو سنگھار کر کے غیر َمردوں کے سامنے خود کو نمایاں کرنے کا عمل مراد ہے۔ اس عمل کا مقصد عورت کی اس خواہش کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوتا کہ لوگوں کی نگاہیں اس کی طرف اٹھیں اور وہ ان کی توجہات کا مرکز بنے۔ عربوں کے ہاں تو اپنے تمدن اور طرزمعاشرت پر بڑھ چڑھ کر فخر کیا جاتا تھا اور وہ فرعون کی طرح اسے ”مثالی کلچر“ { بِطَرِیْقَتِکُمُ الْمُثْلٰی } طٰہٰ قرار دیتے ہوں گے ‘ لیکن قرآن نے ان طور طریقوں کو ”جاہلیت“ کی علامت قرار دیا ہے اور مسلمان خواتین کو ہدایت کی ہے کہ وہ خود کو اپنے گھروں تک محدود رکھیں اور بن ٹھن کر باہر نکلنے کے طور طریقے ترک کردیں۔ { وَاَقِمْنَ الصَّلٰوۃَ وَاٰتِیْنَ الزَّکٰوۃَ وَاَطِعْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ } ”اور نماز قائم کرو ‘ زکوٰۃ ادا کرو اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت پر کاربند رہو۔“ { اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَہْلَ الْبَیْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیْرًا } ”اللہ تو بس یہی چاہتا ہے اے نبی ﷺ کے گھر والو ! کہ وہ دور کر دے تم سے ناپاکی اور تمہیں خوب اچھی طرح پاک کر دے۔“ اے نبی ﷺ کی بیویو ! جس طرح محمد رسول اللہ ﷺ کی مثالی شخصیت میں امت کے لیے اسوہ ہے ‘ اسی طرح تمہاری شخصیات کو بھی پوری امت مسلمہ کی خواتین کے لیے اسوہ اور نمونہ بننا ہے۔ اس لیے اللہ چاہتا ہے کہ تمہیں ہر طرح کی آلائشوں سے پاک اور صاف کر کے تہذیب ِنفس ‘ تصفیہ قلب اور تزکیہ باطن کا اعلیٰ مرتبہ عطا فرمائے۔ یہاں پر اَہْلَ الْبَیْتِ کے خطاب کی مخاطب بلاشبہ ازواجِ مطہرات رض ہیں ‘ کیونکہ خطاب کا آغاز ہی یٰـنِسَآئَ النَّبِیِّ کے الفاظ سے کیا گیا ہے اور اس سے پہلی اور بعد کی آیات میں سارا خطاب انہی سے ہے۔ اس سے پہلے سورة ہود کی آیت 73 میں بھی یہ لفظ اہل البیت حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اہلیہ محترم حضرت سارہ علیہ السلام کے لیے استعمال ہوا ہے۔ جب فرشتے انسانی شکلوں میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے گھر آئے تو انہوں نے حضرت سارہ علیہ السلام کو مخاطب کر کے یوں کہا : { رَحْمَتُ اللّٰہِ وَبَرَکٰتُہٗ عَلَیْکُمْ اَہْلَ الْبَیْتِ } ”اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں ہوں تم پر اے نبی علیہ السلام کے گھر والو !“ چناچہ اس ضمن میں کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے کہ ”اہل بیت“ سے اصلاً ازواجِ مطہرات رض مراد ہیں۔ البتہ حضرت فاطمہ ‘ حضرت علی اور حضرات حسنین رض کے بارے میں اُمّ المومنین حضرت اُمّ سلمہ رض سے مروی حضور ﷺ کا یہ فرمان : اَللّٰھُمَّ ھٰؤُلَائِ اَھْلُ بَیْتِیْ فَاَذْھِبْ عَنْھُمُ الرِّجْسَ وَطَھِّرْھُمْ تَطْھِیْرًا 1 گویا ان شخصیات کو بھی اہل بیت کے دائرے میں شامل کرنے سے متعلق ہے کہ اے اللہ ! یہ لوگ بھی میرے اہل ِبیت ہیں ‘ چناچہ ان سے بھی گندگی دور کر دے اور انہیں پاک کر دے۔

اردو ترجمہ

یاد رکھو اللہ کی آیات اور حکمت کی باتوں کو جو تمہارے گھروں میں سنائی جاتی ہیں بے شک اللہ لطیف اور باخبر ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waothkurna ma yutla fee buyootikunna min ayati Allahi waalhikmati inna Allaha kana lateefan khabeeran

آیت 34 { وَاذْکُرْنَ مَا یُتْلٰی فِیْ بُیُوْتِکُنَّ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰہِ وَالْحِکْمَۃِ } ”اور یاد کیا کرو جو تمہارے گھروں میں اللہ کی آیات تلاوت کی جاتی ہیں اور حکمت کی باتیں سنائی جاتی ہیں۔“ آپ لوگوں کے گھروں میں اللہ کے رسول ﷺ پر وحی نازل ہوتی ہے اور یہاں سے دنیا بھر کو آیات الٰہی اور حکمت و دانائی کی تعلیم دی جاتی ہے ‘ اس لیے آپ لوگ سب سے بڑھ کر آیات ِالٰہی کو سننے اور ان پر عمل کرنے کی مکلف ہو۔ اس لحاظ سے بھی ازواج مطہرات رض کے درمیان حضرت عائشہ رض کو امتیازی شرف حاصل ہے۔ حضور ﷺ نے ایک بار حضرت اُمّ سلمہ رض سے حضرت عائشہ رض کے بارے میں فرمایا تھا : فَاِنَّـہٗ وَاللّٰہِ مَا نَزَلَ عَلَیَّ الْوَحْیُ وَاَنَا فِیْ لِحَافِ امْرَأَۃٍ مِنْکُنَّ غَیْرَھَا 1 ”اللہ کی قسم ‘ مجھ پر اس حال میں کبھی وحی نازل نہیں ہوئی کہ میں تم میں سے کسی عورت کے لحاف میں ہوں سوائے عائشہ رض کے۔“ ظاہر ہے وحی کا نزول تو حضور ﷺ کے قلب مبارک پر ہوتا تھا۔ اس کے لیے ظاہری طور پر تو کوئی خاص اہتمام کرنے اور جبرائیل علیہ السلام کو استیذان کی ضرورت نہیں تھی۔ جب اور جہاں اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا وحی کے ساتھ آپ ﷺ کے دل پر نازل ہوگئے۔ آیت میں ”حکمت“ سے وحی خفی یعنی حضور ﷺ کے فرمودات مراد ہیں۔ گویا حکمت نبوی ﷺ کی تعلیمات سے بھی سب سے بڑھ کر ازواجِ نبی ﷺ ہی مستفیض ہو رہی تھیں۔ { اِنَّ اللّٰہَ کَانَ لَطِیْفًا خَبِیْرًا } ”یقینا اللہ بہت باریک بین ‘ ہرچیز سے باخبر ہے۔“

اردو ترجمہ

بالیقین جو مرد اور جو عورتیں مسلم ہیں، مومن ہیں، مطیع فرمان ہیں، راست باز ہیں، صابر ہیں، اللہ کے آگے جھکنے والے ہیں، صدقہ دینے والے ہیں، روزہ رکھنے والے ہیں، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں، اور اللہ کو کثرت سے یاد کرنے والے ہیں، اللہ نے ان کے لیے مغفرت اور بڑا اجر مہیا کر رکھا ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Inna almuslimeena waalmuslimati waalmumineena waalmuminati waalqaniteena waalqanitati waalssadiqeena waalssadiqati waalssabireena waalssabirati waalkhashiAAeena waalkhashiAAati waalmutasaddiqeena waalmutasaddiqati waalssaimeena waalssaimati waalhafitheena furoojahum waalhafithati waalththakireena Allaha katheeran waalththakirati aAAadda Allahu lahum maghfiratan waajran AAatheeman

آیت 35 { اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمٰتِ وَالْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ } ”یقینا مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں ‘ اور مومن مرد اور مومن عورتیں“ ”مسلم“ کے لفظی معنی ہیں فرمانبردار اور سر ِتسلیم خم کرنے والا۔ جیسا کہ قبل ازیں بھی ذکر ہوچکا ہے کہ اس آیت کے ساتھ سورة النور کی آیت 35 کی ایک خاص مناسبت ہے۔ سورة النور کی مذکورہ آیت یہ ہے : { اَللّٰہُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ مَثَلُ نُوْرِہٖ کَمِشْکٰوۃٍ فِیْہَا مِصْبَاحٌ اَلْمِصْبَاحُ فِیْ زُجَاجَۃٍ اَلزُّجَاجَۃُ کَاَنَّہَا کَوْکَبٌ دُرِّیٌّ یُّوْقَدُ مِنْ شَجَرَۃٍ مُّبٰرَکَۃٍ زَیْتُوْنَۃٍ لَّا شَرْقِیَّۃٍ وَّلَا غَرْبِیَّۃٍلا یَّکَادُ زَیْتُہَا یُضِیْٓ ُٔ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْہُ نَارٌ نُوْرٌ عَلٰی نُوْرٍ یَہْدِی اللّٰہُ لِنُوْرِہٖ مَنْ یَّشَآئُ وَیَضْرِبُ اللّٰہُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ وَاللّٰہُ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمٌ} ”اللہ نور ہے آسمانوں اور زمین کا۔ اس کے نور کی مثال ایسے ہے جیسے ایک طاق ‘ اس طاق میں ایک روشن چراغ ہے ‘ وہ چراغ شیشے کے فانوس میں ہے ‘ اور وہ شیشہ چمک رہا ہے جیسے کہ ایک چمکدار ستارہ ہو ‘ وہ چراغ جلایا جاتا ہے زیتون کے ایک مبارک درخت سے ‘ جو نہ شرقی ہے اور نہ غربی ‘ قریب ہے اس کا روغن خود بخود روشن ہوجائے ‘ چاہے اسے نہ چھوئے آگ۔ روشنی پر روشنی۔ اللہ ہدایت دیتا ہے اپنی روشنی کی جس کو چاہتا ہے ‘ اور اللہ یہ مثالیں بیان کرتا ہے لوگوں کے لیے ‘ جبکہ اللہ ہرچیز کا جاننے والا ہے۔“ سورة النور کی اس طویل آیت میں ایمان کی ماہیت و حقیقت اور ایمان کے اجزائے ترکیبی کا ذکر ہے۔ لیکن دل میں حقیقی ایمان کے جاگزیں ہوجا نے کے باعث متعلقہ شخصیت کے اندر جو اوصاف پیدا ہوتے ہیں ان کا ذکر آیت زیر مطالعہ میں آیا ہے۔ یہاں خصوصی طور پر ایک نکتہ یہ بھی سمجھ لیں کہ سورة النور اور سورة الاحزاب میں معاشرتی اصلاحات کے بارے میں جو احکام آئے ہیں ان میں عورتوں سے متعلق مسائل کی خصوصی اہمیت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آیت زیر نظر میں یہاں خصوصی طور پر َمردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کا ذکر علیحدہ صراحت کے ساتھ کیا گیا ہے ‘ جبکہ اس ضمن میں قرآن کا عمومی اسلوب یہی ہے کہ اکثر احکام مذکر کے صیغے میں دیے جاتے ہیں ‘ یعنی مردوں کو مخاطب کر کے ایک حکم دے دیا گیا اور بر سبیل ِ ”تغلیب“ عورتیں خود بخود اس حکم میں شامل ہوگئیں۔ جیسے وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ مذکر کا صیغہ ہے لیکن اس حکم میں مرد اور عورتیں سب شامل ہیں۔ بہر حال اس آیت میں تکرار کے ساتھ مردوں کے ساتھ خصوصی طور پر عورتوں کا ذکر کر کے دونوں کے لیے دس اوصاف ِگنوائے گئے ہیں : { وَالْقٰنِتِیْنَ وَالْقٰنِتٰتِ وَالصّٰدِقِیْنَ وَالصّٰدِقٰتِ } ”اور فرماں بردار مرد اور فرماں بردار عورتیں ‘ اور راست باز مرد اور راست باز عورتیں“ ”صدق“ سے مراد یہاں زبان کی سچائی کے ساتھ ساتھ عمل اور کردار کی سچائی ہے۔ { وَالصّٰبِرِیْنَ وَالصّٰبِرٰتِ وَالْخٰشِعِیْنَ وَالْخٰشِعٰتِ } ”اور صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں ‘ اور خشوع کرنے والے مرد اور خشوع کرنے والی عورتیں“ یعنی اللہ کے حضور جھک کر رہنے والے مرد اور عورتیں۔ { وَالْمُتَصَدِّقِیْنَ وَالْمُتَصَدِّقٰتِ وَالصَّآئِمِیْنَ وَالصّٰٓئِمٰتِ } ”اور صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں ‘ اور روزہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی عورتیں“ { وَالْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَہُمْ وَالْحٰفِظٰتِ } ”اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والی عورتیں“ { وَالذَّاکِرِیْنَ اللّٰہَ کَثِیْرًا وَّالذّٰکِرٰتِ } ”اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والے مرد اور ذکر کرنے والی عورتیں“ { اَعَدَّ اللّٰہُ لَہُمْ مَّغْفِرَۃً وَّاَجْرًا عَظِیْمًا } ”اللہ نے ان سب کے لیے مغفرت اور بہت بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔“ اللَّھُمَّ رَبَّنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ۔ -۔ - آمین !

422