سورۃ الاحزاب: آیت 33 - وقرن في بيوتكن ولا تبرجن... - اردو

آیت 33 کی تفسیر, سورۃ الاحزاب

وَقَرْنَ فِى بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ ٱلْجَٰهِلِيَّةِ ٱلْأُولَىٰ ۖ وَأَقِمْنَ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتِينَ ٱلزَّكَوٰةَ وَأَطِعْنَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥٓ ۚ إِنَّمَا يُرِيدُ ٱللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ ٱلرِّجْسَ أَهْلَ ٱلْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا

اردو ترجمہ

اپنے گھروں میں ٹِک کر رہو اور سابق دور جاہلیت کی سی سج دھج نہ دکھاتی پھرو نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو اور اللہ اور اُس کے رسولؐ کی اطاعت کرو اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ اہلِ بیتِ نبیؐ سے گندگی کو دور کرے اور تمہیں پوری طرح پاک کر دے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waqarna fee buyootikunna wala tabarrajna tabarruja aljahiliyyati aloola waaqimna alssalata waateena alzzakata waatiAAna Allaha warasoolahu innama yureedu Allahu liyuthhiba AAankumu alrrijsa ahla albayti wayutahhirakum tatheeran

آیت 33 کی تفسیر

آیت 33 { وَقَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ } ”اور تم اپنے گھروں میں قرار پکڑو“ ایک مخلوط معاشرے کو اسلامی معاشرے میں بدلنے کے سلسلے میں دوسری ہدایت یہ ہے کہ عورت کا اصل اور مستقل مقام اس کا گھر ہے۔ چناچہ اسے چاہیے کہ وہ گھر کے اندر رہ کر ماں ‘ بہن ‘ بیٹی یا بیوی کا کردار خوش اسلوبی سے ادا کرنے کی کوشش کرے۔ { وَلَا تَـبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاہِلِیَّۃِ الْاُوْلٰی } ”اور مت نکلو بن سنور کر پہلے دور جاہلیت کی طرح“ تبرّج کے معنی ہیں نمایاں ہونا اور نمائش کرنا۔ یہاں اس سے عورتوں کا بنائو سنگھار کر کے غیر َمردوں کے سامنے خود کو نمایاں کرنے کا عمل مراد ہے۔ اس عمل کا مقصد عورت کی اس خواہش کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوتا کہ لوگوں کی نگاہیں اس کی طرف اٹھیں اور وہ ان کی توجہات کا مرکز بنے۔ عربوں کے ہاں تو اپنے تمدن اور طرزمعاشرت پر بڑھ چڑھ کر فخر کیا جاتا تھا اور وہ فرعون کی طرح اسے ”مثالی کلچر“ { بِطَرِیْقَتِکُمُ الْمُثْلٰی } طٰہٰ قرار دیتے ہوں گے ‘ لیکن قرآن نے ان طور طریقوں کو ”جاہلیت“ کی علامت قرار دیا ہے اور مسلمان خواتین کو ہدایت کی ہے کہ وہ خود کو اپنے گھروں تک محدود رکھیں اور بن ٹھن کر باہر نکلنے کے طور طریقے ترک کردیں۔ { وَاَقِمْنَ الصَّلٰوۃَ وَاٰتِیْنَ الزَّکٰوۃَ وَاَطِعْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ } ”اور نماز قائم کرو ‘ زکوٰۃ ادا کرو اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت پر کاربند رہو۔“ { اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَہْلَ الْبَیْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیْرًا } ”اللہ تو بس یہی چاہتا ہے اے نبی ﷺ کے گھر والو ! کہ وہ دور کر دے تم سے ناپاکی اور تمہیں خوب اچھی طرح پاک کر دے۔“ اے نبی ﷺ کی بیویو ! جس طرح محمد رسول اللہ ﷺ کی مثالی شخصیت میں امت کے لیے اسوہ ہے ‘ اسی طرح تمہاری شخصیات کو بھی پوری امت مسلمہ کی خواتین کے لیے اسوہ اور نمونہ بننا ہے۔ اس لیے اللہ چاہتا ہے کہ تمہیں ہر طرح کی آلائشوں سے پاک اور صاف کر کے تہذیب ِنفس ‘ تصفیہ قلب اور تزکیہ باطن کا اعلیٰ مرتبہ عطا فرمائے۔ یہاں پر اَہْلَ الْبَیْتِ کے خطاب کی مخاطب بلاشبہ ازواجِ مطہرات رض ہیں ‘ کیونکہ خطاب کا آغاز ہی یٰـنِسَآئَ النَّبِیِّ کے الفاظ سے کیا گیا ہے اور اس سے پہلی اور بعد کی آیات میں سارا خطاب انہی سے ہے۔ اس سے پہلے سورة ہود کی آیت 73 میں بھی یہ لفظ اہل البیت حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اہلیہ محترم حضرت سارہ علیہ السلام کے لیے استعمال ہوا ہے۔ جب فرشتے انسانی شکلوں میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے گھر آئے تو انہوں نے حضرت سارہ علیہ السلام کو مخاطب کر کے یوں کہا : { رَحْمَتُ اللّٰہِ وَبَرَکٰتُہٗ عَلَیْکُمْ اَہْلَ الْبَیْتِ } ”اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں ہوں تم پر اے نبی علیہ السلام کے گھر والو !“ چناچہ اس ضمن میں کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے کہ ”اہل بیت“ سے اصلاً ازواجِ مطہرات رض مراد ہیں۔ البتہ حضرت فاطمہ ‘ حضرت علی اور حضرات حسنین رض کے بارے میں اُمّ المومنین حضرت اُمّ سلمہ رض سے مروی حضور ﷺ کا یہ فرمان : اَللّٰھُمَّ ھٰؤُلَائِ اَھْلُ بَیْتِیْ فَاَذْھِبْ عَنْھُمُ الرِّجْسَ وَطَھِّرْھُمْ تَطْھِیْرًا 1 گویا ان شخصیات کو بھی اہل بیت کے دائرے میں شامل کرنے سے متعلق ہے کہ اے اللہ ! یہ لوگ بھی میرے اہل ِبیت ہیں ‘ چناچہ ان سے بھی گندگی دور کر دے اور انہیں پاک کر دے۔

آیت 33 - سورۃ الاحزاب: (وقرن في بيوتكن ولا تبرجن تبرج الجاهلية الأولى ۖ وأقمن الصلاة وآتين الزكاة وأطعن الله ورسوله ۚ إنما يريد الله...) - اردو