سورۃ الاحزاب: آیت 34 - واذكرن ما يتلى في بيوتكن... - اردو

آیت 34 کی تفسیر, سورۃ الاحزاب

وَٱذْكُرْنَ مَا يُتْلَىٰ فِى بُيُوتِكُنَّ مِنْ ءَايَٰتِ ٱللَّهِ وَٱلْحِكْمَةِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ لَطِيفًا خَبِيرًا

اردو ترجمہ

یاد رکھو اللہ کی آیات اور حکمت کی باتوں کو جو تمہارے گھروں میں سنائی جاتی ہیں بے شک اللہ لطیف اور باخبر ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waothkurna ma yutla fee buyootikunna min ayati Allahi waalhikmati inna Allaha kana lateefan khabeeran

آیت 34 کی تفسیر

آیت 34 { وَاذْکُرْنَ مَا یُتْلٰی فِیْ بُیُوْتِکُنَّ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰہِ وَالْحِکْمَۃِ } ”اور یاد کیا کرو جو تمہارے گھروں میں اللہ کی آیات تلاوت کی جاتی ہیں اور حکمت کی باتیں سنائی جاتی ہیں۔“ آپ لوگوں کے گھروں میں اللہ کے رسول ﷺ پر وحی نازل ہوتی ہے اور یہاں سے دنیا بھر کو آیات الٰہی اور حکمت و دانائی کی تعلیم دی جاتی ہے ‘ اس لیے آپ لوگ سب سے بڑھ کر آیات ِالٰہی کو سننے اور ان پر عمل کرنے کی مکلف ہو۔ اس لحاظ سے بھی ازواج مطہرات رض کے درمیان حضرت عائشہ رض کو امتیازی شرف حاصل ہے۔ حضور ﷺ نے ایک بار حضرت اُمّ سلمہ رض سے حضرت عائشہ رض کے بارے میں فرمایا تھا : فَاِنَّـہٗ وَاللّٰہِ مَا نَزَلَ عَلَیَّ الْوَحْیُ وَاَنَا فِیْ لِحَافِ امْرَأَۃٍ مِنْکُنَّ غَیْرَھَا 1 ”اللہ کی قسم ‘ مجھ پر اس حال میں کبھی وحی نازل نہیں ہوئی کہ میں تم میں سے کسی عورت کے لحاف میں ہوں سوائے عائشہ رض کے۔“ ظاہر ہے وحی کا نزول تو حضور ﷺ کے قلب مبارک پر ہوتا تھا۔ اس کے لیے ظاہری طور پر تو کوئی خاص اہتمام کرنے اور جبرائیل علیہ السلام کو استیذان کی ضرورت نہیں تھی۔ جب اور جہاں اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا وحی کے ساتھ آپ ﷺ کے دل پر نازل ہوگئے۔ آیت میں ”حکمت“ سے وحی خفی یعنی حضور ﷺ کے فرمودات مراد ہیں۔ گویا حکمت نبوی ﷺ کی تعلیمات سے بھی سب سے بڑھ کر ازواجِ نبی ﷺ ہی مستفیض ہو رہی تھیں۔ { اِنَّ اللّٰہَ کَانَ لَطِیْفًا خَبِیْرًا } ”یقینا اللہ بہت باریک بین ‘ ہرچیز سے باخبر ہے۔“

آیت 34 - سورۃ الاحزاب: (واذكرن ما يتلى في بيوتكن من آيات الله والحكمة ۚ إن الله كان لطيفا خبيرا...) - اردو