سورۃ الاحزاب: آیت 49 - يا أيها الذين آمنوا إذا... - اردو

آیت 49 کی تفسیر, سورۃ الاحزاب

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِذَا نَكَحْتُمُ ٱلْمُؤْمِنَٰتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِن قَبْلِ أَن تَمَسُّوهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّونَهَا ۖ فَمَتِّعُوهُنَّ وَسَرِّحُوهُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا

اردو ترجمہ

اَے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو اور پھر انہیں ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دے دو تو تمہاری طرف سے ان پر کوئی عدت لازم نہیں ہے جس کے پورے ہونے کا تم مطالبہ کر سکو لہٰذا انہیں کچھ مال دو اور بھلے طریقے سے رخصت کر دو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Ya ayyuha allatheena amanoo itha nakahtumu almuminati thumma tallaqtumoohunna min qabli an tamassoohunna fama lakum AAalayhinna min AAiddatin taAAtaddoonaha famattiAAoohunna wasarrihoohunna sarahan jameelan

آیت 49 کی تفسیر

درس نمبر 192 ایک نظر میں

اس سبق کے ابتدائی حصہ میں عام خاندانی اور عائلی قانون سازی ہے۔ مطلقہ جسے رخصتی سے قبل طلاق ہوچکی ہو ، اس کا حکم عدت وغیرہ۔ اس کے بعد حضور ﷺ کی خاندانی زندگی کے لیے ہدایات ، ازواج کے ساتھ آپ کے تعلقات ، اور رواج کے دوسرے لوگوں سے رابطے کی ضابطہ بندی اور مسلمانوں کا رسول کے گھرانے سے تعلق ، اور پھر اس گھرانے پر درود وسلام۔ پھر پردے کا عام حکم جس میں رسول اللہ ﷺ کی بیٹیاں ، بیویاں اور مومنین کی تمام عورتیں شامل ہیں یہ کہ جب وہ قضائے حاجت کے لیے باہر نکلیں تو اپنی اوڑھنیاں سینوں پر لٹکا لیا کریں تاکہ وہ اس لباس کے ساتھ پہچانی جاسکیں اور ان کے ساتھ تعرض نہ کیا جاسکے۔ کیونکہ منافقین ، فساق و فجار اور مدینہ میں افواہیں پھیلانے والے اوباش عورتوں سے چھیڑ خانی کرتے تھے۔ آخر میں ایسے لوگوں کو دھمکی دی جاتی ہے کہ اگر یہ لوگ اپنی ان کاروائیوں سے باز نہ آئے تو ان کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے۔

یہ تمام قانونی ، معاشرتی اور امن وامان کے اقدامات اس لئے تھے کہ مدینہ کی سوسائٹی کو مکمل اسلامی خطوط پر منظم کیا جائے۔ جو ہدایات نبی ﷺ کے گھر کے بارے میں ہیں ، وہ اس لیے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس گھرانے کو قیامت تک کے لئے آنے والی نسلوں کے لیے کھلی کتاب کے طور پر باقی رکھنا چاہتے تھے کیونکہ یہ کتاب تو قیامت تک پڑھی جانے والی تھی اور پھر یہ ہدایت اور کتاب الٰہی میں ان کا ثبت کیا جانا اس گھر کے لیے ایک اعزاز بھی تھا کہ خود اللہ اس کی تربیت کر رہے ہیں اور قیامت تک کے لیے نمونہ بنا رہے ہیں۔

درس نمبر 192 تشریح آیات

49 ۔۔۔ تا۔۔۔ 62

یایھا الذین امنوا ۔۔۔۔۔ سراجا جمیلا (49) ” “۔

سورة بقرہ میں یہ احکام اس عورت کے بارے میں گزر گئے تھے جس کو قبل از رضصتی طلاق دے دی گئی ہو۔

لا جناح علیکم ان طلقتم ۔۔۔۔۔ ان اللہ بما تعملون بصیر (2: 237 – 238) ” تم پر کچھ گناہ نہیں اگر اپنی عورتوں کو طلاق دے دو قبل اس کے کہ ہاتھ لگانے کی نوبت آئے یا مہر مقرر ہو۔ اس صورت میں انہیں کچھ نہ کچھ ضرور دینا چاہئے۔ خوشحال آدمی اپنی مقدرت کے مطابق اور ۔۔۔ اپنی مقدرت کے مطابق معروف طریقہ سے دے۔ یہ حق ہے نیک آدمیوں پر۔ اور اگر تم نے ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دی ہو مگر مہر مقرر کیا جاچکا ہو تو اس صورت میں نصف مہر دینا ہوگا۔ یہ اور بات ہے کہ عورت نرمی برتے۔ یا وہ مرد جس کے ہاتھ میں عقد نکاح ہے نرمی سے کام لے اور تم نرمی سے کام لو ، تو یہ تقویٰ سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔ آپس کے معاملات میں فیاضی کو نہ بھولو ، تمہارے اعمال کو اللہ دیکھ رہا ہے “۔

ایسی مطلقہ جس کی رخصتی نہ ہوئی ہو اگر مہر مقرر ہو تو نصف مہر ادا کرنا ہوگا اور گر مہر مقرر نہ ہو تو اس کے لئے کچھ نہ کچھ سامان دینا لازمی ہے۔ مالدار پر اس کی حیثیت کے مطابق اور غریب پر اس کی حالت کے مطابق۔ اس آیت میں عدت کے مسئلے کا اضافہ کردیا گیا جو وہاں نہ تھا۔ فیصلہ یہ ہوا کہ چونکہ رخصتی نہیں ہوئی ہے اس لیے عدت نہ ہوگی۔ کیونکہ ان لوگوں کے درمیان چونکہ ہم بستری نہیں ہوئی اس لیے عدت کے ذریعے رحم کو پاک کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ سابقہ نکاح کے آثار ہی موجود نہیں تاکہ نسب کا اختلاط نہ ہو اور کسی آدمی کی طرف دو بچہ منسوب نہ ہو جو دراصل اس کا نہ ہو۔ یا ایک شخص کا بچہ ہو اور وہ اس سے محروم ہوجائے لیکن رخصتی نہ ہونے کی صورت میں تو رحم پاک ہے۔ لہٰذا نہ عدت ہے اور نہ انتظار ہے۔

فما لکم علیھن من عدۃ تعتدونھا (33: 49) ” تمہاری طرف سے ان پر کوئی عدت لازم نہیں ہے جس کے پورے ہونے کا تم مطالبہ کرو “۔ فمتعوھن ” انہیں کچھ مال دو “۔ اگر مہر مقرر ہو تو نصف مہر ہے۔ اور اگر نہ ہو تو بھی کچھ دو ، اپنی مالی حالت کے مطابق۔

وسرحوھن سراحا جمیلا (33: 49) ” اور بھلے طریقے سے رخصت کر دو “۔ نہ روکے رکھو ، نہ اذیت دو ، نہ بغض رکھو اور نہ ان کو جدید ازدواجی زندگی گزارنے سے روکو۔ اس سورة میں یہ عام حکم ہے اور پوری اسلامی سوسائٹی کیلئے ہے۔

اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کو یہ بتایا جاتا ہے کہ آپ کیلئے کون سے عورتیں حلال کی گئی ہیں اور وہ خصوصیات جو آپ کی ذات اور آپ کے اہل بیت کے لیے ہیں۔ یہ احکام سورة نساء کی آیت (مثنی و ثلاث و رباع) کے بعد آئے۔ وہاں مسلمانوں کے لیے چار عورتوں سے زیادہ کرنا حرام کردیا گیا تھا۔

نبی ﷺ کے حرم میں 9 بیویاں تھیں۔ ہر ایک کے ساتھ نکاح ایک خاص ضرورت کے تحت ہوا تھا۔ حضرت عائشہ ؓ اور حضرت حفصہ ؓ ، حضرت ابوبکر اور حضرت عمر ؓ کی بیٹیاں تھیں۔ یہ آپ کے قریبی ساتھی تھے۔ ام حبیبہ ابو سفیان کی بیٹی تھی۔ ام سلمہ ، سودہ بنت زمعہ ، زینب بنت خزیمہ ان لوگوں میں سے تھیں جو خاوندوں سے محروم ہوگئی تھیں اور حضو ﷺ نے ان کی حوصلہ افزائی اور عزت افزائی فرمائی۔ زینب بنت جحش ؓ کا قصہ تو ابھی گزرا ہے۔ چونکہ آپ ﷺ نے اصرار پر ان کو زید ابن حارثہ غلام کے ساتھ بیاہ دیا تھا اور یہ شادی کامیاب نہ ہوسکی تو اللہ نے حضور ﷺ سے ان کا نکاح کردیا۔ ان کی دل جوئی کیلئے اور متنبی بنانے کی رسم کے آثار کو ختم کرنے کے لئے تفصیلات گزر چکی ہیں۔ جویریہ بنت الحارث بنی المصطلق اور صفیہ بنت حیی ابن اخلب ، دونوں غلام ہوکر آئیں اور حضور ﷺ نے ان کو آزاد کرکے نکاح میں لے لیا تاکہ ان قبائل سے تعلقات قائم ہوں اور ان دونوں دختران سردار ان کی عزت ہو۔ یہ دونوں اسلام لاچکی تھیں اگرچہ ان کی اقوام کے ساتھ سخت سلوک ہوا۔

یہ سب عورتیں وہ تھیں جنہوں نے امہات المومنین کا مقام پایا اور جب آیت تخییر نازل ہوئی تو ان سب نے اللہ اور رسول اللہ ﷺ کو اختیار کیا اور دنیا پر آخرت کو اختیار کرلیا۔ نیز جب عورتوں کی تعداد کو چار کے اندر محدود کردیا گیا تو ان ازواج نبی کے لیے حضور اکرم ﷺ ۔۔ ہونا شاق گزرا۔ اللہ نے ان پر نظر کرم فرمائی اور بقرہ کی آیت سے حضور ﷺ کو مستثنیٰ کردیا اور ان تمام عورتوں کو اپنے پاس رکھنے کی اجازت دے دی۔ ان سب کو آپ کے لیے حلال کردیا لیکن اس کے بعد یہ حکم بھی دے دیا کہ آپ ان پر اضافہ نہیں کرسکتے۔ نہ ان میں سے کسی ایک کے بدلے دوسری لاسکتے ہیں۔ یہ اجازت صرف موجودہ ازواج تک محدود ہے تاکہ وہ شرف زوجیت رسول ﷺ سے محروم نہ ہوجائیں جبکہ اس سے قبل وہ اللہ کے رسول اور دار آخرت کو ترجیح دے چکی تھیں۔ یہی موضوعات ہیں ان آیات کے۔

آیت 49 { یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا نَکَحْتُمُ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوْہُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْہُنَّ } ”اے اہل ایمان ! جب تم مومن خواتین سے نکاح کرو ‘ پھر انہیں طلاق دے دو قبل اس کے کہ انہیں چھوئو“ اس سے پہلے سورة البقرۃ کی آیات 236 اور 237 میں قبل از خلوت طلاق کی صورت میں مہر سے متعلق ہدایات ہم پڑھ چکے ہیں۔ مذکورہ آیات کے مضمون کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر مہر مقرر نہ ہوا ہو اور خلوت سے قبل ہی شوہر اپنی منکوحہ کو طلاق دے دے تو ایسی صورت میں وہ اسے کچھ نہ کچھ دے کر رخصت کرے۔ اور اگر مہر مقرر ہوچکا ہو اور قبل از خلوت طلاق کی نوبت آجائے تو اس صورت میں مرد کے لیے آدھے مہر کی ادائیگی لازمی ہوگی۔ اب اس آیت میں قبل از خلوت طلاق کی صورت میں عدت ّکے مسئلے کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ { فَمَا لَـکُمْ عَلَیْہِنَّ مِنْ عِدَّۃٍ تَعْتَدُّوْنَہَا } ”تو تمہاری طرف سے ان پر کوئی عدت لازم نہیں ہے جس کی تم انہیں گنتی پوری کرائو۔“ عدت کا مقصد تو یہ ہے کہ سابق شوہر سے حمل کے ہونے یا نہ ہونے کی تصدیق ہوجائے۔ چناچہ جب خلوت ِصحیحہ کی نوبت ہی نہیں آئی اور حمل ہونے کا کوئی امکان ہی پیدا نہیں ہوا تو عدت کی ضرورت بھی نہیں رہی۔ { فَمَتِّعُوْہُنَّ وَسَرِّحُوْہُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًا } ”پس انہیں کچھ دے دلا کر بڑی خوبصورتی کے ساتھ رخصت کر دو۔“

نکاح کی حقیقت۔ اس آیت میں بہت سے احکام ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف عقد پر بھی نکاح کا اطلاق ہوتا ہے۔ اس کے ثبوت میں اس سے زیادہ صراحت والی آیت اور نہیں۔ اس میں اختلاف ہے کہ لفظ نکاح حقیقت میں صرف ایجاب و قبول کے لئے ہے ؟ یا صرف جماع کے لئے ہے ؟ یا ان دونوں کے مجموعے کے لئے ؟ قرآن کریم میں اس کا اطلاق عقد و وطی دونوں پر ہی ہوا ہے۔ لیکن اس آیت میں صرف عقد پر ہی اطلاق ہے۔ اس آیت سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ دخول سے پہلے بھی خاوند اپنی بیوی کو طلاق دے سکتا ہے۔ مومنات کا ذکر یہاں پر بوجہ غلبہ کے ہے ورنہ حکم کتابیہ عورت کا بھی یہی ہے۔ سلف کی ایک بڑی جماعت نے اس آیت سے استدلال کر کے کہا ہے کہ طلاق اسی وقت واقع ہوتی ہے جب اس سے پہلے نکاح ہوگیا ہو اس آیت میں نکاح کے بعد طلاق کو فرمایا ہے پس معلوم ہوا ہے کہ نکاح سے پہلے نہ طلاق صحیح ہے نہ وہ واقع ہوتی ہے۔ امام شافعی اور امام احمد اور بہت بڑی جماعت سلف و خلف کا یہی مذہب ہے۔ مالک اور ابو حنفیہ کا خیال ہے کہ نکاح سے پہلے بھی طلاق درست ہوجاتی ہے۔ مثلاً کسی نے کہا کہ اگر میں فلاں عورت سے نکاح کروں تو اس پر طلاق ہے۔ تو اب جب بھی اس سے نکاح کرے گا طلاق پڑجائے گی۔ پھر مالک اور ابوحنیفہ میں اس شخص کے بارے میں اختلاف ہے جو کہے کہ جس عورت سے میں نکاح کروں اس پر طلاق ہے تو امام ابوحنیفہ کہتے ہیں پس وہ جس سے نکاح کرے گا اس پر طلاق پڑجائے گی اور امام مالک کا قول ہے کہ نہیں پڑے گی کیونکہ ابن عباس سے پوچھا گیا کہ اگر کسی شخص نے نکاح سے پہلے یہ کہا ہو کہ میں جس عورت سے نکاح کروں اس پر طلاق ہے تو کیا حکم ہے ؟ آپ نے یہ آیت تلاوت کی اور فرمایا اس عورت کو طلاق نہیں ہوگی۔ کیونکہ اللہ عزوجل نے طلاق کو نکاح کے بعد فرمایا ہے۔ پس نکاح سے پہلے کی طلاق کوئی چیز نہیں۔ مسند احمد ابو داؤد ترمذی ابن ماجہ میں ہے رسول ﷺ فرماتے ہیں۔ ابن آدم جس کا مالک نہ ہو اس میں طلاق نہیں۔ اور حدیث میں ہے جو طلاق نکاح سے پہلے کی ہو وہ کسی شمار میں نہیں۔ (ابن ماجہ) پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب تم عورتوں کو نکاح کے بعد ہاتھ لگانے سے پہلے ہی طلاق دے دو تو ان پر کوئی عدت نہیں بلکہ وہ جس سے چاہیں اسی وقت نکاح کرسکتی ہیں۔ ہاں اگر ایسی حالت میں ان کا خاوند فوت ہوگیا ہو تو یہ حکم نہیں اسے چار ماہ دس دن کی عدت گذارنی پڑے گی۔ علماء کا اس پر اتفاق ہے۔ پس نکاح کے بعد ہی میاں نے بیوی کو اس سے پہلے ہی اگر طلاق دے دی ہے تو اگر مہر مقرر ہوچکا ہے تو اس کا آدھا دینا پڑے گا۔ ورنہ تھوڑا بہت دے دینا کافی ہے۔ اور آیت میں ہے (يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّوْنَهَا ۚ فَمَتِّعُوْهُنَّ وَسَرِّحُوْهُنَّ سَرَاحًا جَمِيْلًا 49؀) 33۔ الأحزاب :49) یعنی اگر مہر مقرر ہوچکا ہے اور ہاتھ لگانے سے پہلے ہی طلاق دے دی تو آدھے مہر کی وہ مستحق ہے۔ اور آیت میں ارشاد ہے (لَاجُنَاحَ عَلَيْكُمْ اِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَاۗءَ مَالَمْ تَمَسُّوْھُنَّ اَوْ تَفْرِضُوْا لَھُنَّ فَرِيْضَةً ښ وَّمَتِّعُوْھُنَّ ۚ عَلَي الْمُوْسِعِ قَدَرُهٗ وَعَلَي الْمُقْتِرِ قَدَرُهٗ ۚ مَتَاعًۢا بالْمَعْرُوْفِ ۚ حَقًّا عَلَي الْمُحْسِـنِيْنَ02306) 2۔ البقرة :236) یعنی اگر تم اپنی بیویوں کو ہاتھ لگانے سے پہلے ہی طلاق دے دو تو یہ کچھ گناہ کی بات نہیں۔ اگر ان کا مہر مقرر نہ ہوا ہو تو تم انہیں کچھ نہ کچھ دے دو۔ اپنی اپنی طاقت کے مطابق، امیر و غریب دستور کے مطابق ان سے سلوک کریں اور بھلے لوگوں پر یہ ضروری ہے۔ چناچہ ایسا ایک واقعہ خود حضور ﷺ کے ساتھ بھی گذرا۔ کہ آپ نے امیمہ بنت شرجیل سے نکاح کیا یہ رخصت ہو کر آگئیں آپ گئے ہاتھ بڑھایا تو گویا اس نے اسے پسند نہ کیا آپ نے حضرت ابو اسید کو حکم دیا کہ ان کا سامان تیار کردیں اور دو کپڑے ارزقیہ کے انہیں دے دیں۔ پس سراح جمیل یعنی اچھائی سے رخصت کردینا یہی ہے کہ اس صورت میں اگر مہر مقرر ہے تو آدھا دے دے۔ اور اگر مقرر نہیں تو اپنی طاقت کے مطابق اس کے ساتھ کچھ سلوک کر دے۔

آیت 49 - سورۃ الاحزاب: (يا أيها الذين آمنوا إذا نكحتم المؤمنات ثم طلقتموهن من قبل أن تمسوهن فما لكم عليهن من عدة تعتدونها ۖ...) - اردو