اس صفحہ میں سورہ Al-Ahzaab کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الأحزاب کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
تَحِيَّتُهُمْ يَوْمَ يَلْقَوْنَهُۥ سَلَٰمٌ ۚ وَأَعَدَّ لَهُمْ أَجْرًا كَرِيمًا
يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِىُّ إِنَّآ أَرْسَلْنَٰكَ شَٰهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا
وَدَاعِيًا إِلَى ٱللَّهِ بِإِذْنِهِۦ وَسِرَاجًا مُّنِيرًا
وَبَشِّرِ ٱلْمُؤْمِنِينَ بِأَنَّ لَهُم مِّنَ ٱللَّهِ فَضْلًا كَبِيرًا
وَلَا تُطِعِ ٱلْكَٰفِرِينَ وَٱلْمُنَٰفِقِينَ وَدَعْ أَذَىٰهُمْ وَتَوَكَّلْ عَلَى ٱللَّهِ ۚ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ وَكِيلًا
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِذَا نَكَحْتُمُ ٱلْمُؤْمِنَٰتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِن قَبْلِ أَن تَمَسُّوهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّونَهَا ۖ فَمَتِّعُوهُنَّ وَسَرِّحُوهُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا
يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِىُّ إِنَّآ أَحْلَلْنَا لَكَ أَزْوَٰجَكَ ٱلَّٰتِىٓ ءَاتَيْتَ أُجُورَهُنَّ وَمَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ مِمَّآ أَفَآءَ ٱللَّهُ عَلَيْكَ وَبَنَاتِ عَمِّكَ وَبَنَاتِ عَمَّٰتِكَ وَبَنَاتِ خَالِكَ وَبَنَاتِ خَٰلَٰتِكَ ٱلَّٰتِى هَاجَرْنَ مَعَكَ وَٱمْرَأَةً مُّؤْمِنَةً إِن وَهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِىِّ إِنْ أَرَادَ ٱلنَّبِىُّ أَن يَسْتَنكِحَهَا خَالِصَةً لَّكَ مِن دُونِ ٱلْمُؤْمِنِينَ ۗ قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَيْهِمْ فِىٓ أَزْوَٰجِهِمْ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَٰنُهُمْ لِكَيْلَا يَكُونَ عَلَيْكَ حَرَجٌ ۗ وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا
یایھا النبی انا ارسنک ۔۔۔۔۔۔ وکفی باللہ وکیلا (45 – 48)
نبی کا فریضہ منصبی یہ ہے کہ آپ لوگوں پر گواہ ہوں لہٰذا لوگوں کو ایسا عمل کرنا چاہئے کہ حضور اکرم ﷺ اچھی شہادت دینے کے قابل ہوں کیونکہ آپ نے سچی شہادت دینی ہے۔ اصل واقعہ سے کوئی تغیر و تبدیلی آپ نے نہیں کرنی ہے۔ رسول تو خوشخبری دینے والے ہیں ان لوگوں کو جو اچھے کام کرتے ہیں۔ نیک لوگوں کے لیے اللہ کی رحمت انتظار میں ہے اور غافل اور بےراہ رو لوگوں کو ڈرانے والے ہیں کہ ان کیلئے سخت عذاب ہے تاکہ وہ بیچارے غفلت میں نہ مارے جائیں اور اگر سزا دی جائے تو وارننگ کے بعد۔
وداعیا الی اللہ (33: 46) ” اور اللہ کی طرف بلانے والا بنا کر بھیجا ہے “۔ اس لیے نہیں بھیجا کہ صرف تمہاری دنیا
اچھی ہے۔ تم دنیا میں برتر ہوجاؤ اور قومی وقار تمہارا بلند ہو۔ نہ جاہلی عصبیات کے لئے اسے داعی بنایا ہے۔ نہ مال غنیمت کے حصول کے لئے اٹھایا ہے۔ نہ نظام مملکت کا قیام مطلوب ہے۔ صرف دعوت الی اللہ ان کا منشور و مطلوب ہے اور یہ کام اللہ کے حکم سے انہوں نے شروع کیا ہے۔ نہ یہ اپنی طرف سے ہے اور نہ رضا کارانہ ہے۔ نہ آپ اپنی طرف سے یہ کام بطور رضا کار کرتے ہیں۔ یہ سب کام اللہ کے حکم سے ہے۔
وسراجا منیرا (33: 46) ” آپ روشن چراغ ہیں “۔ آپ ظلمتوں کو دور کرنے والے ہیں۔ شہادت کو قائم کرتے ہیں۔ راستہ متعین کرتے ہیں اور لوگوں کے لیے ایسے رہنما ہیں جس طرح سراج منیر ہوتا ہے۔ حضور اکرم ﷺ اسی طرح روشنی لے کر آئے ۔ یہ روشنی ایک واضح تصور تھا ، ایک واضح نظریہ اور عقیدہ تھا ، جس نے پوری کائنات کو منور کردیا۔ اس کائنات اور انسان کا ربط واضح کردیا اور اس کائنات میں انسان کے مقام و مرتبہ کو متعین کیا۔ ان اقدار کی وضاحت کی جن پر یہ کائنات قائم ہے۔ انسان کا مقصد ، اس کی غرض ، اور اس کے حصول کا طریقہ متعین کیا۔ نہایت ہی واضح اسلوب میں اور نہایت ہی فطری انداز میں۔ اس طرح کہ بات انسان کے دل کی گہرائیوں تک اتر جاتی ہے۔ مشکل سے مشکل مسائل اور زندگی کے نشیب و فراز میں پیچیدہ سے پیچیدہ مسائل کو آسان ترین طریقوں سے حل کردیا گیا ہے۔ مکرر اس بات کی تفصیل دی جاتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ذمہ داریوں میں اس بات کا اضافہ کیا جاتا ہے کہ آپ مومنین کے لیے مبشر ہیں۔
وبشر المومنین بان لھم من اللہ فضلا کبرا (33: 47) ” بشارت دے دو ان لوگوں کو جو تم پر ایمان لائے کہ ان کے لیے اللہ کا بہت بڑا فضل ہے “۔ اس سے قبل آیت
یایھا النبی انا ارسلنک شاھدا ومبشرا ونذیرا (33: 45) ” اے نبی ﷺ ، ہم نے آپ ﷺ کو گواہ ، مبشر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے) میں مجملاً آپ ﷺ کو مبشر کہا گیا تھا اور یہ تفصیل اس لیے دی ہے کہ مومنین یقین کرلیں کہ ان پر اللہ کا بہت بڑا فضل و کرم ہوگا اور یہ جو ان کے لیے قوانین اور ضوابط تیار ہو رہے ہیں اور نبی اپنے عمل سے ان کے لیے جو راہ و رسم وضع کر رہے ہیں یہ آخر کار ان کے لیے خوشخبری اور عظیم فضل و کرم کی بشارت ہوں گے۔
اس خطاب میں نبی ﷺ کو اس بات سے منع کیا گیا ہے کہ آپ کافروں اور منافقوں کی کسی معاملے میں اطاعت کریں اور مومنین اور آپ ﷺ کو یہ لوگ جو اذیت دیتے ہیں اس کی بھی کوئی پرواہ نہ کریں۔ صرف اللہ وحدہ پر توکل کریں۔ وہی تمہارے لیے کافی مددگار ہے۔
ولا تطع الکفرین ۔۔۔۔۔ وکفی باللہ وکیلا (33: 48) ” اور ہرگز نہ دبو کافروں اور منافقین سے ، کوئی پرواہ نہ کرو ان کی اذیت رسانی کی۔ اور بھروسہ کرلو اللہ پر ، اللہ ہی اس کے لئے کافی ہے کہ آدمی اپنے معاملات اس کے سپرد کردے “۔ یہ وہی خطاب ہے جو سورة کے آغاز میں بھی تھا ۔ اس سے قبل کہ وہاں قانون سازی کا آغاز کیا جاتا اور جدید انتظامی ہدایات دی جاتیں ۔ یہاں البتہ یہ بات زیادہ ہے کہ اے نبی ﷺ آپ کافروں اور منافقوں کی اذیت رسانی کی کوئی پرواہ نہ کریں اور نہ ان کی پیروی
کسی معاملے میں کریں اور نہ کسی معاملے میں ان پر اعتماد کریں۔ کیونکہ اللہ وحدہ قابل اعتماد ہے۔
وکفی باللہ وکیلا (33: 48) ” اللہ ہی اس کے لیے کافی ہے کہ آدمی اپنے معاملات اس کے سپرد کر دے “۔
یوں زید اور زینب ؓ کے واقعہ اور منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے ساتھ نکاح کے جواز کے مسئلہ کی تمہید اور تبصرہ دونوں طویل ہیں اور یہ عملی مثال جسے پیش کرنے کے فریضے کو حضور ﷺ بھی بہت بھاری محسوس سمجھ رہے تھے۔ اس لیے اس میں اللہ کی طرف سے تشریح اور لوگوں کی حوصلہ افزائی کی ضرورت تھی۔ ان معاملات میں تعلق باللہ کو مضبوط کرنے کی ضرورت تھی تاکہ بندہ اللہ کے احسان اور رحمت کا گہرا شعور حاصل کرلے اور ان احکام کو خوشدلی سے وصول کرے ، قبول کرے اور تسلیم و رضا کے ساتھ ان پر عمل پیرا ہو۔
درس نمبر 192 ایک نظر میں
اس سبق کے ابتدائی حصہ میں عام خاندانی اور عائلی قانون سازی ہے۔ مطلقہ جسے رخصتی سے قبل طلاق ہوچکی ہو ، اس کا حکم عدت وغیرہ۔ اس کے بعد حضور ﷺ کی خاندانی زندگی کے لیے ہدایات ، ازواج کے ساتھ آپ کے تعلقات ، اور رواج کے دوسرے لوگوں سے رابطے کی ضابطہ بندی اور مسلمانوں کا رسول کے گھرانے سے تعلق ، اور پھر اس گھرانے پر درود وسلام۔ پھر پردے کا عام حکم جس میں رسول اللہ ﷺ کی بیٹیاں ، بیویاں اور مومنین کی تمام عورتیں شامل ہیں یہ کہ جب وہ قضائے حاجت کے لیے باہر نکلیں تو اپنی اوڑھنیاں سینوں پر لٹکا لیا کریں تاکہ وہ اس لباس کے ساتھ پہچانی جاسکیں اور ان کے ساتھ تعرض نہ کیا جاسکے۔ کیونکہ منافقین ، فساق و فجار اور مدینہ میں افواہیں پھیلانے والے اوباش عورتوں سے چھیڑ خانی کرتے تھے۔ آخر میں ایسے لوگوں کو دھمکی دی جاتی ہے کہ اگر یہ لوگ اپنی ان کاروائیوں سے باز نہ آئے تو ان کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے۔
یہ تمام قانونی ، معاشرتی اور امن وامان کے اقدامات اس لئے تھے کہ مدینہ کی سوسائٹی کو مکمل اسلامی خطوط پر منظم کیا جائے۔ جو ہدایات نبی ﷺ کے گھر کے بارے میں ہیں ، وہ اس لیے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس گھرانے کو قیامت تک کے لئے آنے والی نسلوں کے لیے کھلی کتاب کے طور پر باقی رکھنا چاہتے تھے کیونکہ یہ کتاب تو قیامت تک پڑھی جانے والی تھی اور پھر یہ ہدایت اور کتاب الٰہی میں ان کا ثبت کیا جانا اس گھر کے لیے ایک اعزاز بھی تھا کہ خود اللہ اس کی تربیت کر رہے ہیں اور قیامت تک کے لیے نمونہ بنا رہے ہیں۔
درس نمبر 192 تشریح آیات
49 ۔۔۔ تا۔۔۔ 62
یایھا الذین امنوا ۔۔۔۔۔ سراجا جمیلا (49) ” “۔
سورة بقرہ میں یہ احکام اس عورت کے بارے میں گزر گئے تھے جس کو قبل از رضصتی طلاق دے دی گئی ہو۔
لا جناح علیکم ان طلقتم ۔۔۔۔۔ ان اللہ بما تعملون بصیر (2: 237 – 238) ” تم پر کچھ گناہ نہیں اگر اپنی عورتوں کو طلاق دے دو قبل اس کے کہ ہاتھ لگانے کی نوبت آئے یا مہر مقرر ہو۔ اس صورت میں انہیں کچھ نہ کچھ ضرور دینا چاہئے۔ خوشحال آدمی اپنی مقدرت کے مطابق اور ۔۔۔ اپنی مقدرت کے مطابق معروف طریقہ سے دے۔ یہ حق ہے نیک آدمیوں پر۔ اور اگر تم نے ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دی ہو مگر مہر مقرر کیا جاچکا ہو تو اس صورت میں نصف مہر دینا ہوگا۔ یہ اور بات ہے کہ عورت نرمی برتے۔ یا وہ مرد جس کے ہاتھ میں عقد نکاح ہے نرمی سے کام لے اور تم نرمی سے کام لو ، تو یہ تقویٰ سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔ آپس کے معاملات میں فیاضی کو نہ بھولو ، تمہارے اعمال کو اللہ دیکھ رہا ہے “۔
ایسی مطلقہ جس کی رخصتی نہ ہوئی ہو اگر مہر مقرر ہو تو نصف مہر ادا کرنا ہوگا اور گر مہر مقرر نہ ہو تو اس کے لئے کچھ نہ کچھ سامان دینا لازمی ہے۔ مالدار پر اس کی حیثیت کے مطابق اور غریب پر اس کی حالت کے مطابق۔ اس آیت میں عدت کے مسئلے کا اضافہ کردیا گیا جو وہاں نہ تھا۔ فیصلہ یہ ہوا کہ چونکہ رخصتی نہیں ہوئی ہے اس لیے عدت نہ ہوگی۔ کیونکہ ان لوگوں کے درمیان چونکہ ہم بستری نہیں ہوئی اس لیے عدت کے ذریعے رحم کو پاک کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ سابقہ نکاح کے آثار ہی موجود نہیں تاکہ نسب کا اختلاط نہ ہو اور کسی آدمی کی طرف دو بچہ منسوب نہ ہو جو دراصل اس کا نہ ہو۔ یا ایک شخص کا بچہ ہو اور وہ اس سے محروم ہوجائے لیکن رخصتی نہ ہونے کی صورت میں تو رحم پاک ہے۔ لہٰذا نہ عدت ہے اور نہ انتظار ہے۔
فما لکم علیھن من عدۃ تعتدونھا (33: 49) ” تمہاری طرف سے ان پر کوئی عدت لازم نہیں ہے جس کے پورے ہونے کا تم مطالبہ کرو “۔ فمتعوھن ” انہیں کچھ مال دو “۔ اگر مہر مقرر ہو تو نصف مہر ہے۔ اور اگر نہ ہو تو بھی کچھ دو ، اپنی مالی حالت کے مطابق۔
وسرحوھن سراحا جمیلا (33: 49) ” اور بھلے طریقے سے رخصت کر دو “۔ نہ روکے رکھو ، نہ اذیت دو ، نہ بغض رکھو اور نہ ان کو جدید ازدواجی زندگی گزارنے سے روکو۔ اس سورة میں یہ عام حکم ہے اور پوری اسلامی سوسائٹی کیلئے ہے۔
اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کو یہ بتایا جاتا ہے کہ آپ کیلئے کون سے عورتیں حلال کی گئی ہیں اور وہ خصوصیات جو آپ کی ذات اور آپ کے اہل بیت کے لیے ہیں۔ یہ احکام سورة نساء کی آیت (مثنی و ثلاث و رباع) کے بعد آئے۔ وہاں مسلمانوں کے لیے چار عورتوں سے زیادہ کرنا حرام کردیا گیا تھا۔
نبی ﷺ کے حرم میں 9 بیویاں تھیں۔ ہر ایک کے ساتھ نکاح ایک خاص ضرورت کے تحت ہوا تھا۔ حضرت عائشہ ؓ اور حضرت حفصہ ؓ ، حضرت ابوبکر اور حضرت عمر ؓ کی بیٹیاں تھیں۔ یہ آپ کے قریبی ساتھی تھے۔ ام حبیبہ ابو سفیان کی بیٹی تھی۔ ام سلمہ ، سودہ بنت زمعہ ، زینب بنت خزیمہ ان لوگوں میں سے تھیں جو خاوندوں سے محروم ہوگئی تھیں اور حضو ﷺ نے ان کی حوصلہ افزائی اور عزت افزائی فرمائی۔ زینب بنت جحش ؓ کا قصہ تو ابھی گزرا ہے۔ چونکہ آپ ﷺ نے اصرار پر ان کو زید ابن حارثہ غلام کے ساتھ بیاہ دیا تھا اور یہ شادی کامیاب نہ ہوسکی تو اللہ نے حضور ﷺ سے ان کا نکاح کردیا۔ ان کی دل جوئی کیلئے اور متنبی بنانے کی رسم کے آثار کو ختم کرنے کے لئے تفصیلات گزر چکی ہیں۔ جویریہ بنت الحارث بنی المصطلق اور صفیہ بنت حیی ابن اخلب ، دونوں غلام ہوکر آئیں اور حضور ﷺ نے ان کو آزاد کرکے نکاح میں لے لیا تاکہ ان قبائل سے تعلقات قائم ہوں اور ان دونوں دختران سردار ان کی عزت ہو۔ یہ دونوں اسلام لاچکی تھیں اگرچہ ان کی اقوام کے ساتھ سخت سلوک ہوا۔
یہ سب عورتیں وہ تھیں جنہوں نے امہات المومنین کا مقام پایا اور جب آیت تخییر نازل ہوئی تو ان سب نے اللہ اور رسول اللہ ﷺ کو اختیار کیا اور دنیا پر آخرت کو اختیار کرلیا۔ نیز جب عورتوں کی تعداد کو چار کے اندر محدود کردیا گیا تو ان ازواج نبی کے لیے حضور اکرم ﷺ ۔۔ ہونا شاق گزرا۔ اللہ نے ان پر نظر کرم فرمائی اور بقرہ کی آیت سے حضور ﷺ کو مستثنیٰ کردیا اور ان تمام عورتوں کو اپنے پاس رکھنے کی اجازت دے دی۔ ان سب کو آپ کے لیے حلال کردیا لیکن اس کے بعد یہ حکم بھی دے دیا کہ آپ ان پر اضافہ نہیں کرسکتے۔ نہ ان میں سے کسی ایک کے بدلے دوسری لاسکتے ہیں۔ یہ اجازت صرف موجودہ ازواج تک محدود ہے تاکہ وہ شرف زوجیت رسول ﷺ سے محروم نہ ہوجائیں جبکہ اس سے قبل وہ اللہ کے رسول اور دار آخرت کو ترجیح دے چکی تھیں۔ یہی موضوعات ہیں ان آیات کے۔
یایھا النبی انا احللنا ۔۔۔۔۔۔ علی کل شیء رقیبا (50 – 52)
نبی ﷺ کے لیے اس آیت میں مذکورہ عورتوں کو حلال قرار دیا گیا۔ اگرچہ وہ چار کی تعداد سے زیادہ ہوں جبکہ دوسرے مسلمانوں پر چار سے زیادہ تعداد حرام ہے۔ یہ اقسام یہ ہیں : وہ ازواج جن کو مہر دے کر آپ نے نکاح فرمایا۔ وہ عورتیں جو غلام بن کر آجائیں۔ چچا زاد اور خالہ زاد عورتیں ۔ پھوپھی زاد اور ماموں زاد عورتیں ۔ ان میں سے صرف وہ جو آپ کے ساتھ ہجرت کرکے آئیں۔ یہ ان مہاجرات کی عزت افزائی کے لیے ہے۔ نیز وہ عورت بھی جو اپنے نفس کو نبی ﷺ کے لیے بخش دے ، بغیر مہر کے اگر نبی اس کے ساتھ نکاح کرنا چاہیں۔ (روایات میں اضطراب ہے کہ آیا اس قسم کی عورتوں میں سے کسی کے ساتھ حضور ﷺ نے نکاح فرمایا یا نہیں۔ راجح بات یہ ہے کہ جب عورتوں نے اپنے آپ کو حضور ﷺ کے لیے پیش کیا آپ ﷺ نے ان کے ساتھ نکاح کیا) ۔ یہ اقسام حضور ﷺ کے لیے بطور خصوصیت جائز کی گئیں کیونکہ حضور ﷺ مومنین اور مومنات کے ولی بھی تھے۔ رہے دوسرے لوگ تو وہ اپنی بیویوں اور لونڈیوں کے معاملے میں اللہ کے جاری کردہ قوانین کے پابند تھے۔ یہ استثناء اس لیے کی گئی کہ حضور ﷺ اپنے شخصی اور اجتماعی حالات کی وجہ سے مشکلات میں مبتلا نہ ہوں۔
اس کے بعد یہ اختیار بھی حضور اکرم ﷺ کو دے دیا کہ اگر کوئی اپنی ذات کے بارے میں حضور ﷺ کو پیش کش کرے تو حضور اسے اپنے حرم میں لے لیں یا موخر کردیں۔ اور جن کے معاملے کو آپ نے موخر کردیا تو بعد میں اسے حرم میں داخل کردیں۔ یہ بھی اختیار سے دیا کہ جن عورتوں کو الگ کردیں انہیں دوبارہ ساتھ بلالیں۔
ذلک ادنی ان ۔۔۔۔۔ بما اتیتھن کلھن (33: 51) ” اس طرح زیادہ متوقع ہے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور وہ رنجیدہ نہ ہوں۔ اور جو کچھ بھی تم ان کو دو گے اس پر وہ سب راضی ہوں گی “۔ گویا یہ حضور اکرم ﷺ کے خاص حالات کے تحت اجازت دی گئی۔ کیونکہ سب عورتیں آپ کی طرف راغب تھیں اور آپ کے ساتھ رابطہ چاہتی تھیں۔ اللہ کو ان حالات کا سب سے زیادہ علم تھا۔
واللہ یعلم ۔۔۔۔۔ علیما حلیما (33: 51) ” اللہ جانتا ہے جو تم لوگوں کے دلوں میں ہے اور اللہ علیم و حلیم ہے “۔
اس کے بعد یہ حکم ہے کہ آپ کے حرم میں جو عورتیں ہیں ، وہ ذاتی طور پر آپ کے لئے جائز ہیں۔ تعداد مطلوب نہیں ہے۔ اس لیے آپ ان میں سے کسی کے بدلے کسی دوسری عورت کو نہیں لاسکتے۔ یہ معلوم نہیں ہے کہ آیا حضور ﷺ نے اس آیت کے نزول سے قبل کسی عورت کا اضافہ کیا تھا۔
لا یحل لک النسآء ۔۔۔۔۔۔ اعجبک حسنھن (33: 52) ” اس کے بعد تمہارے لیے دوسری عورتیں حلال نہیں اور نہ اس کی اجازت ہے کہ ان کی جگہ اور بیویاں لے آؤ، خواہ ان کا حسن تمہیں کتنا ہی پسند ہو۔ اس میں کوئی استثناء نہیں
الا ما ملکت یمینک (33: 52) ” البتہ لونڈیوں کی تمہیں اجازت ہے “۔ لونڈیاں جس قدر چاہیں رکھ سکتے ہیں۔
وکان اللہ علی کل شئ رقیبا (33: 52) ” اور اللہ ہر چیز پر نگران ہے “۔ حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ یہ حرمت بھی حضور اکرم ﷺ کی وفات سے قبل اٹھالی گئی تھی لیکن اجازت کے باوجود حضور اکرم ﷺ نے ان کے سوا کسی عورت کے ساتھ نکاح نہ کیا اس لیے وہی امہات المومنین رہیں۔
اس کے بعد نبی ﷺ کے گھرانے اور عام مسلمانوں کے تعلقات و روابط کی ضابطہ بندی کی گئی ہے کہ آپ کی زندگی میں لوگوں کا ربط آپ کی ازواج کے ساتھ کیسا ہوگا اور آپ کی وفات کے بعد کیا تعلق ہوگا۔ یہ احکام اس وقت کے واقعی حالات کے مطابق آئے۔ کیونکہ بعض منافقین اور بعض مریض اخلاق والے لوگ نبی ﷺ کو آپ کی ازواج کے بارے میں اذیت دیتے تھے۔ اس لیے ان آیات میں ان کو سخت دھمکی دی جاتی ہے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ اللہ کے نزدیک ان کی حرکات بہت ہی گھناؤنی ہیں یہ لوگوں سے تو چھپ سکتے ہیں مگر اللہ سے نہیں چھپ سکتے۔ اللہ ان کی شرارتوں کو بھی جانتا ہے اور نیتوں کو بھی۔