سورۃ الاحزاب (33): آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں۔ - اردو ترجمہ

اس صفحہ میں سورہ Al-Ahzaab کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الأحزاب کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔

سورۃ الاحزاب کے بارے میں معلومات

Surah Al-Ahzaab
سُورَةُ الأَحۡزَابِ
صفحہ 419 (آیات 7 سے 15 تک)

وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ ٱلنَّبِيِّۦنَ مِيثَٰقَهُمْ وَمِنكَ وَمِن نُّوحٍ وَإِبْرَٰهِيمَ وَمُوسَىٰ وَعِيسَى ٱبْنِ مَرْيَمَ ۖ وَأَخَذْنَا مِنْهُم مِّيثَٰقًا غَلِيظًا لِّيَسْـَٔلَ ٱلصَّٰدِقِينَ عَن صِدْقِهِمْ ۚ وَأَعَدَّ لِلْكَٰفِرِينَ عَذَابًا أَلِيمًا يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱذْكُرُوا۟ نِعْمَةَ ٱللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَآءَتْكُمْ جُنُودٌ فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيحًا وَجُنُودًا لَّمْ تَرَوْهَا ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرًا إِذْ جَآءُوكُم مِّن فَوْقِكُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنكُمْ وَإِذْ زَاغَتِ ٱلْأَبْصَٰرُ وَبَلَغَتِ ٱلْقُلُوبُ ٱلْحَنَاجِرَ وَتَظُنُّونَ بِٱللَّهِ ٱلظُّنُونَا۠ هُنَالِكَ ٱبْتُلِىَ ٱلْمُؤْمِنُونَ وَزُلْزِلُوا۟ زِلْزَالًا شَدِيدًا وَإِذْ يَقُولُ ٱلْمُنَٰفِقُونَ وَٱلَّذِينَ فِى قُلُوبِهِم مَّرَضٌ مَّا وَعَدَنَا ٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥٓ إِلَّا غُرُورًا وَإِذْ قَالَت طَّآئِفَةٌ مِّنْهُمْ يَٰٓأَهْلَ يَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمْ فَٱرْجِعُوا۟ ۚ وَيَسْتَـْٔذِنُ فَرِيقٌ مِّنْهُمُ ٱلنَّبِىَّ يَقُولُونَ إِنَّ بُيُوتَنَا عَوْرَةٌ وَمَا هِىَ بِعَوْرَةٍ ۖ إِن يُرِيدُونَ إِلَّا فِرَارًا وَلَوْ دُخِلَتْ عَلَيْهِم مِّنْ أَقْطَارِهَا ثُمَّ سُئِلُوا۟ ٱلْفِتْنَةَ لَءَاتَوْهَا وَمَا تَلَبَّثُوا۟ بِهَآ إِلَّا يَسِيرًا وَلَقَدْ كَانُوا۟ عَٰهَدُوا۟ ٱللَّهَ مِن قَبْلُ لَا يُوَلُّونَ ٱلْأَدْبَٰرَ ۚ وَكَانَ عَهْدُ ٱللَّهِ مَسْـُٔولًا
419

سورۃ الاحزاب کو سنیں (عربی اور اردو ترجمہ)

سورۃ الاحزاب کی تفسیر (تفسیر بیان القرآن: ڈاکٹر اسرار احمد)

اردو ترجمہ

اور (اے نبیؐ) یاد رکھو اُس عہد و پیمان کو جو ہم نے سب پیغمبروں سے لیا ہے، تم سے بھی اور نوحؑ اور ابراہیمؑ اور موسیٰؑ اور عیسیٰؑ ابن مریم سے بھی سب سے ہم پختہ عہد لے چکے ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waith akhathna mina alnnabiyyeena meethaqahum waminka wamin noohin waibraheema wamoosa waAAeesa ibni maryama waakhathna minhum meethaqan ghaleethan

آیت 7 { وَاِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّبِیّٖنَ مِیْثَاقَہُمْ } ”اور یاد کرو جب ہم نے ابنیاء سے ان کا عہد لیا تھا“ ”میثاق النبیین“ کا ذکر اس سے پہلے سورة آل عمران کی آیت 81 اور 82 میں بھی آچکا ہے۔ { وَمِنْکَ وَمِنْ نُّوْحٍ وَّاِبْرٰہِیْمَ وَمُوْسٰی وَعِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ } ”اور آپ ﷺ سے بھی ‘ اور نوح علیہ السلام ‘ ابراہیم ‘ موسیٰ علیہ السلام ٰ اور عیسیٰ علیہ السلام ٰ ابن مریم سے بھی۔“ { وَاَخَذْنَا مِنْہُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا } ”اور ان سب سے ہم نے بڑا گاڑھا قول وقرار لیا تھا۔“ یہاں یہ نکتہ خصوصی طور پر لائق ِتوجہ ہے کہ اگر کوئی شخص ارواح کے علیحدہ وجود کا منکر ہو اور یہ بھی تسلیم کرنے کے لیے تیار نہ ہو کہ بنی نوع انسان کی تمام ارواح پہلے پیدا کردی گئی تھیں تو اس کے لیے اس آیت میں مذکور میثاق کی توجیہہ کرنا کسی طرح بھی ممکن نہیں۔ بہر حال قرآن میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ ارواح سے دو عہد لیے گئے۔ ان میں سے ایک عہد کا ذکر سورة الاعراف کی آیت 172 میں ہے ‘ جسے ”عہد ِالست“ کہا جاتا ہے اور یہ عہد بلا تخصیص تمام انسانی ارواح سے لیا گیا تھا۔ دوسرے عہد کا ذکر آیت زیر مطالعہ اور سورة آل عمران کی آیت 81 میں ہے جو صرف انبیاء کی ارواح سے اضافی طور پر لیا گیا تھا۔ اس عہد میں روح محمد علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام بھی موجود تھی اور دوسرے تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی ارواح بھی۔ جو لوگ ارواح کے علیحدہ وجود کو تسلیم نہیں کرتے ان کا کہنا ہے کہ عہد کا یہ ذکر استعا راتی انداز میں ہوا ہے۔ لیکن اگر ان کا یہ موقف تسلیم کرلیا جائے تو پھر قرآن کے تمام احکام ہی استعارہ بن کر رہ جائیں گے اور حقیقت ان استعاروں میں گم ہوجائے گی۔

اردو ترجمہ

تاکہ سچے لوگوں سے (ان کا رب) ان کی سچائی کے بارے میں سوال کرے، اور کافروں کے لیے تو اس نے درد ناک عذاب مہیا کر ہی رکھا ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Liyasala alssadiqeena AAan sidqihim waaAAadda lilkafireena AAathaban aleeman

آیت 8 { لِّیَسْئَلَ الصّٰدِقِیْنَ عَنْ صِدْقِہِمْ } ”تاکہ اللہ پوچھ لے سچے لوگوں سے ان کے سچ کے بارے میں۔“ یہاں اس فقرے کے بعد یہ الفاظ گویا محذوف ہیں : وَالْـکٰذِبِیْنَ عَنْ کِذْبِھِم اور وہ جھوٹوں سے بھی پوچھ لے ان کے جھوٹ کے بارے میں ! تاکہ اللہ تعالیٰ تمام انسانوں سے ان کے عقائد و اعمال کے بارے میں اچھی طرح سے پوچھ گچھ کرلے۔ { وَاَعَدَّ لِلْکٰفِرِیْنَ عَذَابًا اَلِیْمًا } ”اور اس نے تیار کر رکھا ہے کافروں کے لیے ایک دردناک عذاب۔“ پہلے رکوع کے اختتام پر اس مضمون کا سلسلہ عارضی طور پر منقطع کیا جا رہا ہے۔ یہاں پر تمہیداً ُ منہ بولے بیٹے کی قانونی حیثیت کو واضح کردیا گیا اور حضور ﷺ کو ہدایت فرمائی گئی کہ آپ ﷺ کافرین و منافقین کی باتوں کی طرف بالکل دھیان نہ دیں اور ان کی طرف سے منفی پراپیگنڈے کے اندیشوں کو بالکل نظر انداز کر کے اللہ کے حکم پر عمل کریں۔ -۔ اس مضمون کی مزید تفصیل چوتھے رکوع میں آئے گی۔

اردو ترجمہ

اے لوگو، جو ایمان لائے ہو، یاد کرو اللہ کے احسان کو جو (ابھی ابھی) اُس نے تم پر کیا ہے جب لشکر تم پر چڑھ آئے تو ہم نے اُن پر ایک سخت آندھی بھیج دی اور ایسی فوجیں روانہ کیں جو تم کو نظر نہ آتی تھیں اللہ وہ سب کچھ دیکھ رہا تھا جو تم لوگ اس وقت کر رہے تھے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Ya ayyuha allatheena amanoo othkuroo niAAmata Allahi AAalaykum ith jaatkum junoodun faarsalna AAalayhim reehan wajunoodan lam tarawha wakana Allahu bima taAAmaloona baseeran

اب دوسرے اور تیسرے رکوع میں غزوئہ احزاب کا ذکر ہے۔ یہ غزوہ 5 ہجری میں ہوا اور اس کی منصوبہ بندی میں کلیدی کردار مدینہ سے نکالے گئے یہودی قبیلہ بنو نضیر کے سرداروں نے ادا کیا۔ بنو نضیر کو عہد شکنی کی سزا کے طور پر 4 ہجری میں مدینہ سے نکال دیا گیا تھا۔ مدینہ سے نکلنے کے بعد وہ لوگ خیبر میں جا کر آباد ہوگئے تھے۔ وہ نہ صرف مسلمانوں سے انتقام لینا چاہتے تھے بلکہ ان کا خیال تھا کہ اگر مسلمانوں کا قلع قمع ہوجائے تو انہیں دوبارہ مدینہ میں آباد ہونے کا موقع مل جائے گا۔ چناچہ انہوں نے بڑی تگ ودو سے عرب کی تمام مسلم مخالف قوتوں کو متحد کر کے مدینہ پر حملہ کرنے کے لیے آمادہ کیا۔ اس کے لیے انہوں نے ابو عامر راہب جس کا تذکرہ اس سے پہلے سورة التوبہ کے مطالعے کے دوران مسجد ضرار کے حوالے سے آیت 107 کی تشریح کے ضمن میں ہوچکا ہے کی مدد سے قریش ِمکہ ‘ نجد کے بنو غطفان اور عرب کے دیگر چھوٹے بڑے قبائل سے رابطہ کیا۔ اپنی اس مہم کے نتیجے میں وہ لگ بھگ بارہ ہزار جنگجوئوں پر مشتمل ایک بہت بڑا لشکر تیار کرنے اور اس کو مدینہ پر چڑھا لانے میں کامیاب ہوگئے۔ عربوں کے مخصوص قبائلی نظام کی تاریخ کو مد نظر رکھا جائے تو اس زمانے میں اتنے بڑے پیمانے پر لشکر کشی ایک انہونی سی بات تھی۔ دوسری طرف مدینہ میں مسلمانوں کی تعداد مشکل سے تین ہزار تھی اور اس میں بھی منافقین کی ایک اچھی خاصی تعداد موجود تھی۔ اس کے علاوہ ایک بہت طاقتور یہودی قبیلے بنو قریظہ کی مدینہ میں موجودگی بھی ایک بہت بڑے خطرے کی علامت تھی۔ مدینہ میں ان لوگوں نے مضبوط گڑھیاں بنا رکھی تھیں۔ اس سے پہلے مدینہ کے دو یہودی قبائل بنو قینقاع اور بنو نضیر میثاقِ مدینہ کی خلاف ورزی کرکے مسلمانوں سے غداری کرچکے تھے۔ اس پس منظر میں اس طاقتور یہودی قبیلے کی طرف سے بھی نہ صرف غداری کا اندیشہ تھا ‘ بلکہ حملہ آور قبائل کے ساتھ ان کے خفیہ گٹھ جوڑ کے بارے میں ٹھوس اطلاعات بھی آچکی تھیں۔ ان حالات میں مٹھی بھر مسلمانوں کے لیے اتنے بڑے لشکر سے مقابلہ کرنا بظاہر ممکن نہیں تھا۔ اس صورت حال میں حضور ﷺ نے جب صحابہ رض سے مشورہ کیا تو حضرت سلمان فارسی رض کی طرف سے خندق کھودنے کی تجویز سامنے آئی۔ حضرت سلمان رض کا تعلق ایران سے تھا۔ آپ رض نے ایران میں رائج اس مخصوص طرز دفاع کے بارے میں اپنی ذاتی معلومات کی روشنی میں یہ مشورہ دیا جو حضور ﷺ نے پسند فرمایا۔ محل وقوع کے اعتبار سے مدینہ کی آبادی تین اطراف سے قدرتی طور پر محفوظ تھی۔ مشرق اور مغرب میں حرات لاوے کی چٹانوں پر مشتمل علاقہ تھا۔ اس علاقے میں اونٹوں اور گھوڑوں کی نقل و حرکت نہ ہوسکنے کی وجہ سے ان دونوں اطراف سے کسی بڑے حملے کا خطرہ نہیں تھا۔ عقب میں جنوب کی طرف بنو قریظہ کی گڑھیاں تھیں اور چونکہ ان کے ساتھ حضور ﷺ کا باقاعدہ معاہدہ تھا اور ابھی تک ان کی طرف سے کسی بد عہدی کا اظہار نہیں ہوا تھا اس لیے بظاہر یہ سمت بھی محفوظ تھی۔ اس طرح مدینہ کی صرف شمال مغربی سمت میں ہی ایسا علاقہ تھا جہاں سے اجتماعی فوج کشی کا خطرہ باقی رہ جاتا تھا۔ اس لیے اس علاقہ میں حضور ﷺ نے خندق کھودنے کا فیصلہ فرمایا۔ خندق کا مقصد اس سمت سے کسی بڑے حملے ‘ خصوصاً گھڑ سوار دستوں کی یلغار کو ناممکن بنانا تھا۔ اگر یکبارگی کسی بڑے حملے کا امکان نہ رہتا تو انفرادی طور پر خندق پار کرنے والے جنگجوئوں کے ساتھ آسانی سے نپٹا جاسکتا تھا۔ حضور ﷺ کے حکم سے خندق کی کھدائی کا کام شروع ہوگیا اور چھ دن کے اندر اندر یہ خندق تیار ہوگئی۔ لیکن خندق تو محض ایک مسئلے کا حل تھا ‘ جبکہ حالات تھے کہ انسانی تصور سے بھی بڑھ کر گھمبیر تھے۔ جزیرہ نمائے عرب کی تاریخ کے سب سے بڑے لشکر سے مقابلہ ‘ منافقین کی مدینہ کے اندر آستین کے سانپوں کی حیثیت سے موجودگی ‘ شدید سردی کا موسم ‘ قحط کا زمانہ ‘ رسد کی شدید کمی اور یہودی قبیلہ بنو قریظہ کی طرف سے بد عہدی کا خدشہ ! غرض خطرات و مسائل کا ایک سمندر تھا جس کی خوفناک لہریں پے درپے مسلمانوں پر اپنے تھپیڑوں کی یلغار کیے بڑھتی ہی چلی جا رہی تھیں۔ گویا اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے صبر اور امتحان کے لیے ایک بہت ہی سخت اور خوفناک صورت پیدا کردی تھی۔ اسی دوران حضرت ُ نعیم بن مسعود رض جن کا تعلق بنوغطفان کی شاخ اشجع قبیلے سے تھا ‘ حضور ﷺ سے ملنے مدینہ آئے اور عرض کیا کہ میں اسلام قبول کرچکا ہوں مگر اس بارے میں ابھی تک کسی کو علم نہیں۔ اگر آپ ﷺ مجھے اجازت دیں تو میں بڑی آسانی سے حملہ آور قبائل اور بنو قریظہ کے مابین بد اعتمادی پیدا کرسکتا ہوں۔ واضح رہے کہ بنوقریظہ اور حملہ آور قبائل کے مابین سلسلہ جنبانی کا آغاز ہوچکا تھا۔ بنونضیر کا یہودی سردار حُیّ بن اخطب بنوقریظہ کے پاس پہنچا تھا اور انہیں مسلمانوں کے ساتھ بدعہدی پر آمادہ کرچکا تھا۔ اس طرح بنوقریظہ عہدشکنی کے مرتکب ہوچکے تھے۔ چناچہ حضور ﷺ کی اجازت سے حضرت نعیم بن مسعود رض بنوقریظہ کے پاس گئے اور انہیں سمجھایا کہ دیکھو محمد ﷺ کے ساتھ تمہارا معاہدہ ہے۔ اگر تم ان سے عہد شکنی کر کے حملہ آور قبائل کا ساتھ دو گے تو عین ممکن ہے کہ تم اپنی توقعات کے مطابق مسلمانوں کو ختم کرنے میں کامیاب ہو جائو۔ لیکن یہ بھی تو سوچو کہ اگر یہ منصوبہ ناکام ہوا تو تمہارا کیا بنے گا ؟ آخر اس کا امکان تو موجود ہے نا ‘ خواہ کتنا ہی خفیف کیوں نہ ہو ! ایسی صورت میں باہر سے آئے ہوئے سب لوگ تو محاصرہ اٹھا کر چلتے بنیں گے اور تمہیں مسلمانوں کے رحم و کرم پر چھوڑ جائیں گے۔ اس لیے بہتر ہوگا کہ حملہ آور قبائل کا ساتھ دینے سے پہلے تم لوگ اپنی حفاظت کی ضمانت کے طور پر ان سے کچھ افراد بطور یرغمال مانگ لو۔ اس کے بعد حضرت نعیم رض حملہ آور قبائل کے سرداروں کے پاس گئے اور انہیں خبردار کیا کہ بنو قریظہ تم لوگوں سے مخلص نہیں ‘ وہ تم سے کچھ آدمی بطور یرغمال مانگنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں تاکہ تمہارے آدمی مسلمانوں کے حوالے کر کے انہیں اپنی وفاداری کا یقین دلا سکیں۔ چناچہ تم لوگ ان سے خبردار رہنا اور کسی قیمت پر بھی اپنے آدمی ان کے سپرد نہ کرنا ! حملہ آور قبائل اور بنو قریظہ کے درمیان مسلمانوں پر مشترکہ حملے کے بارے میں معاہدہ طے پانے ہی والا تھا ‘ لیکن معاہدے کو حتمی شکل دینے سے پہلے جب بنو قریظہ نے حملہ آور قبائل سے کچھ افراد بطور ضمانت مانگے تو انہوں نے ان کا یہ مطالبہ رد کردیا۔ اس طرح فریقین کے اندر بد اعتمادی کی فضا پیدا ہوگئی اور مسلمانوں کے خلاف ایک انتہائی خطرناک منصوبہ ناکام ہوگیا۔ بنو قریظہ کی طرف سے عدم تعاون کے بعد حملہ آور لشکر کی کامیابی کی رہی سہی امید بھی دم توڑ گئی۔ دوسری طرف انہیں موسم کی شدت اور رسد کی قلت کی وجہ سے بھی پریشانی کا سامنا تھا۔ ان حالات میں ایک رات قدرت الٰہی سے شدید آندھی آئی جس سے ان کے کیمپ کی ہرچیز درہم برہم ہوگئی۔ خیمے اکھڑ گئے ‘ کھانے کی دیگیں الٹ گئیں اور جانور دہشت زدہ ہوگئے۔ اس غیبی وار کی شدت کے سامنے ان کی ہمتیں بالکل ہی جواب دے گئیں۔ چناچہ اسی افراتفری کے عالم َمیں تمام قبائل نے واپسی کی راہ لی۔ یہ محاصرہ تقریباً پچیس دن تک جاری رہا۔ مسلمانوں کے لیے تو یہ ایک بہت سخت امتحان تھا ہی ‘ جس سے وہ سرخرو ہو کر نکلے ‘ لیکن دوسری طرف اس آزمائش سے منافقین کے نفاق کا پردہ بھی چاک ہوگیا اور ایک ایک منافق کا ُ خبث ِباطن اس کی زبان پر آگیا۔ یہی دراصل اس آزمائش کا مقصد بھی تھا : { لِیَمِیْزَ اللّٰہُ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ } الانفال : 37 ”تاکہ اللہ ناپاک کو پاک سے چھانٹ کر الگ کر دے“۔ -۔ - سورة العنکبوت کے پہلے رکوع میں یہی اصول اور قانون اللہ تعالیٰ نے سخت تاکیدی الفاظ میں دو دفعہ بیان فرمایا ہے۔ پہلے فرمایا : { فَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰہُ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَلَیَعْلَمَنَّ الْکٰذِبِیْنَ۔ ”چناچہ اللہ ظاہر کر کے رہے گا ان کو جو اپنے دعوائے ایمان میں سچے ہیں اور ان کو بھی جو جھوٹے ہیں۔“ پھر اس کے بعد دوبارہ فرمایا : { وَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَلَیَعْلَمَنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ۔ ”اور یقینا اللہ ظاہر کر کے رہے گا سچے اہل ایمان کو ‘ اور ظاہر کر کے رہے گا منافقین کو بھی !“ اس معاملے کا ایک اور اہم پہلو یہ بھی ہے کہ جس طرح 5 نبوی ﷺ میں مکہ کے اندر غلاموں ‘ نوجوانوں اور بےسہارا مسلمانوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا اس کی تفصیل سورة العنکبوت کے پہلے رکوع کے مطالعے کے دوران گزر چکی ہے بالکل اسی طرح 5 ہجری میں مدینہ کے اندر بھی مسلمانوں کو غزوئہ خندق کی صورت میں سخت ترین آزمائش سے دو چار ہونا پڑا۔ بلکہ اس ضمن میں میری رائے واللہ اعلم تو یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ پر ذاتی طور پر سب سے مشکل وقت آپ ﷺ کے سفر ِطائف کے دوران آیا تھا ‘ جبکہ مسلمانوں کو اجتماعی سطح پر شدید ترین تکلیف دہ صورت حال کا سامنا غزوئہ خندق کے موقع پر کرنا پڑا۔آیت 9 { یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْکُرُوْا نِعْمَۃَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ } ”اے اہل ِایمان ! یاد کرو اللہ کے اس انعام کو جو تم لوگوں پر ہوا“ { اِذْ جَآئَ تْکُمْ جُنُوْدٌ} ”جب تم پر حملہ آور ہوئے بہت سے لشکر“ یہ لشکر مدینہ پر چاروں طرف سے چڑھ آئے تھے۔ بنو غطفان اور بنو خزاعہ کے لشکروں نے مشرق کی طرف سے چڑھائی کی ‘ جنوب مغرب کی طرف سے قریش ِمکہ حملہ آور ہوئے ‘ جبکہ شمال کی جانب سے انہیں بنو نضیر اور خیبر کے دوسرے یہودی قبائل کی مکمل پشت پناہی حاصل تھی۔ { فَاَرْسَلْنَا عَلَیْہِمْ رِیْحًا وَّجُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْہَا } ”تو ہم نے ان پر ایک سخت آندھی بھیجی اور ایسے لشکر بھی جو تم نے نہیں دیکھے۔“ یعنی آندھی کی کیفیت تو تم لوگوں نے بھی دیکھی تھی ‘ لیکن اس کے علاوہ ہم نے ان پر فرشتوں کے لشکر بھی بھیجے تھے جو تم کو نظر نہیں آئے۔ { وَکَانَ اللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرًا } ”اور جو کچھ تم لوگ کر رہے تھے اللہ اسے دیکھ رہا تھا۔“ اس ایک جملے میں محاصرے کے دوران ہر فرد کے رویے کا احاطہ کردیا گیا ہے۔ اس دوران کس کا ایمان غیر متزلزل رہا ‘ کس کی نیت میں نفاق تھا اور کون اپنے نفاق کو زبان پر لے آیا ‘ اللہ کو سب معلوم ہے۔ یہ محاصرہ تقریباً پچیس دن تک رہا۔ اس دوران اکا دکا مقامات پر معرکہ آرائی بھی ہوئی۔ اس حوالے سے حضرت علی رض اور عرب کے مشہور پہلوان عبد ِوُدّ کے درمیان ہونے والا مقابلہ تاریخ میں بہت مشہور ہے۔ عبد ِوُدّ پورے عرب کا مانا ہوا شہسوار تھا۔ اس کی عمر نوے ّسال تھی مگر وہ اس عمر میں بھی ہزار جنگجوئوں کے برابر سمجھا جاتا تھا۔ کوئی اکیلا شخص اس کے مقابلے میں آنے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ وہ گھوڑے کو بھگاتے ہوئے ایک ہی زقند میں خندق پار کرنے میں کامیاب ہوگیا اور تن ِتنہا اس طرف آکر دعوت مبارزت دی کہ تم میں سے کوئی ہے جو میرا مقابلہ کرے ؟ ادھر سے حضرت علی رض اس کے مقابلے کے لیے تیار ہوئے۔ حضرت علی رض کے سامنے آنے پر اس نے کہا کہ میں اپنے مقابل آنے والے ہر شخص کو تین باتیں کہنے کا موقع دیتا ہوں اور ان میں سے ایک بات ضرور قبول کرتا ہوں۔ اس لیے تم اپنی تین خواہشات کا اظہار کرو۔ اس پر حضرت علی رض نے کہا کہ میری پہلی خواہش تو یہ ہے کہ تم ایمان لے آئو۔ اس نے کہا کہ یہ تو نہیں ہوسکتا۔ حضرت علی رض نے اپنی دوسری خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تم جنگ سے واپس چلے جائو ! اس نے کہا کہ یہ بھی ممکن نہیں۔ ان دونوں باتوں سے انکار پر آپ رض نے فرمایا کہ پھر آئو اور مجھ سے مقابلہ کرو ! اس پر اس نے ایک بھر پور قہقہہ لگاتے ہوئے حیرت کا اظہار کیا کہ آج تک پورے عرب میں اس کے سامنے کسی کو ایسا کہنے کی جرات نہیں ہوئی۔ بہر حال دو بدو مقابلے میں حضرت علی رض نے اسے واصل ِجہنم کردیا۔ اس طرح کے اکا ّدُکا انفرادی مقابلوں کے علاوہ دونوں لشکروں کے درمیان کسی بڑے اجتماعی معرکے کی نوبت نہیں آئی۔ محاصرے کے غیر متوقع طور پر طول کھینچنے سے کفار کے لشکر میں روز بروزبد دلی پھیلتی جا رہی تھی۔ اس دوران حضرت ُ نعیم بن مسعود اشجعی رض کی حکمت عملی سے بھی بنو قریظہ اور حملہ آور قبائل کے درمیان بد اعتمادی پیدا ہوگئی۔ طویل محاصرے کے بعد اچانک خوفناک آندھی نے بھی اپنا رنگ دکھایا۔ اس پر مستزاد فرشتوں کے لشکروں کی دہشت تھی جس کی کیفیت کا اندازہ بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اس سب کچھ کا نتیجہ یہ نکلا کہ عرب کی تاریخ کے سب سے بڑے لشکر کو اپنے مقاصد حاصل کیے بغیر ناکام و نامراد لوٹنا پڑا۔ -۔ - آئندہ آیات میں محاصرے کے دوران کی صورت حال پر مزید تبصرہ کیا جا رہا ہے :

اردو ترجمہ

جب وہ اُوپر سے اور نیچے سے تم پر چڑھ آئے جب خوف کے مارے آنکھیں پتھرا گئیں، کلیجے منہ کو آ گئے، اور تم لوگ اللہ کے بارے میں طرح طرح کے گمان کرنے لگے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Ith jaookum min fawqikum wamin asfala minkum waith zaghati alabsaru wabalaghati alquloobu alhanajira watathunnoona biAllahi alththunoona

آیت 10 { اِذْ جَآئُ وْکُمْ مِّنْ فَوْقِکُمْ وَمِنْ اَسْفَلَ مِنْکُمْ } ”جب وہ لشکر آئے تم پر تمہارے اوپر سے بھی اور تمہارے نیچے سے بھی“ جزیرہ نمائے عرب کا جغرافیائی محل وقوع پہلے بھی کئی بار زیر بحث آچکا ہے۔ اس میں شمالاً جنوباً حجاز کا طویل پہاڑی سلسلہ ہے۔ مکہ ‘ طائف اور مدینہ حجاز ہی میں واقع ہیں ‘ جبکہ اسی علاقے میں اوپر شمال کی طرف تبوک کا علاقہ ہے۔ اس پہاڑی سلسلے اور ساحل سمندر کے درمیان ایک وسیع میدان ہے جس کا نام تہامہ ہے۔ حجاز کے پہاڑی سلسلے اور تہامہ کے درمیان سطح مرتفع ہے جو اگرچہ پہاڑی علاقہ تو نہیں مگر میدانی سطح سے بلند ہے۔ اس علاقے میں بنو غطفان وغیرہ قبائل آباد تھے۔ اس لحاظ سے آیت زیر مطالعہ کے الفاظ کا مفہوم یہ ہے کہ مدینہ کے اوپر کی طرف سے بنو غطفان وغیرہ جبکہ نیچے تہامہ کی طرف سے قریش مکہ حملہ آور ہوئے تھے۔ { وَاِذْ زَاغَتِ الْاَبْصَارُ وَبَلَغَتِ الْقُلُوْبُ الْحَنَاجِرَ } ”اور جب خوف کے مارے نگاہیں پتھرا گئی تھیں اور دل حلق میں آگئے تھے“ یہ اس غیر معمولی کیفیت کا نقشہ ہے جب انتہائی خوف اور دہشت کی وجہ سے انسان کی آنکھیں حرکت کرنا بھول جاتی ہیں ‘ اس کے دل کی دھڑکن غیر معمولی طور پر تیز ہوجاتی ہے اور اسے ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے اس کا دل اچھل کر اب سینے سے باہر نکل جائے گا۔ { وَتَظُنُّوْنَ بِاللّٰہِ الظُّنُوْنَا } ”اور تم اللہ کے بارے میں طرح طرح کے گمان کرنے لگے۔“

اردو ترجمہ

اُس وقت ایمان لانے والے خوب آزمائے گئے اور بُری طرح ہلا مارے گئے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Hunalika ibtuliya almuminoona wazulziloo zilzalan shadeedan

آیت 11 { ہُنَالِکَ ابْتُلِیَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَزُلْزِلُوْازِلْزَالًا شَدِیْدًا } ”اس وقت اہل ایمان کو خوب آزما لیا گیا اور وہ شدت کے ساتھ جھنجھوڑ ڈالے گئے۔“ اس شدید آزمائش کا نتیجہ یہ نکلا کہ منافقین کے اندر کا خبث ان کی زبانوں پر آگیا۔

اردو ترجمہ

یاد کرو وہ وقت جب منافقین اور وہ سب لوگ جن کے دلوں میں روگ تھا صاف صاف کہہ رہے تھے کہ اللہ اور اُس کے رسولؐ نے جو وعدے ہم سے کیے تھے وہ فریب کے سوا کچھ نہ تھے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waith yaqoolu almunafiqoona waallatheena fee quloobihim maradun ma waAAadana Allahu warasooluhu illa ghurooran

آیت 12{ وَاِذْ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَالَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ مَّا وَعَدَنَا اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗٓ اِلَّا غُرُوْرًا } ”اور جب کہہ رہے تھے منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں روگ تھا کہ نہیں وعدہ کیا تھا ہم سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے مگر دھوکے کا۔“ یعنی اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے ہم سے جو وعدے کیے تھے وہ محض فریب نکلے۔ ہمیں تو انہوں نے سبز باغ دکھا کر مروا دیا۔ ہم سے تو کہا گیا تھا کہ اللہ کی مدد تمہارے شامل حال رہے گی اور قیصر و کسریٰ کی سلطنتیں تمہارے قدموں میں ڈھیر ہوجائیں گی ‘ مگر اس کے برعکس آج ہماری حالت یہ ہے کہ ہم قضائے حاجت کے لیے بھی باہر نکلنے سے عاجز ہیں۔ ظاہر ہے اس دور میں آج کل کی طرز کے بیت الخلاء تو تھے نہیں ‘ چناچہ محاصرے کے دوران اس نوعیت کے جو مسائل پیدا ہوئے ان پر منافقین نے خوب واویلا مچایا۔

اردو ترجمہ

جب اُن میں سے ایک گروہ نے کہا کہ "اے یثرب کے لوگو، تمہارے لیے اب ٹھیرنے کا کوئی موقع نہیں ہے، پلٹ چلو" جب ان کا ایک فریق یہ کہہ کر نبیؐ سے رخصت طلب کر رہا تھا کہ "ہمارے گھر خطرے میں ہیں،" حالانکہ وہ خطرے میں نہ تھے، دراصل وہ (محاذ جنگ سے) بھاگنا چاہتے تھے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waith qalat taifatun minhum ya ahla yathriba la muqama lakum fairjiAAoo wayastathinu fareequn minhumu alnnabiyya yaqooloona inna buyootana AAawratun wama hiya biAAawratin in yureedoona illa firaran

آیت 13 { وَاِذْ قَالَتْ طَّآئِفَۃٌ مِّنْہُمْ یٰٓاَہْلَ یَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَکُمْ فَارْجِعُوْا } ”اور جب ان میں سے ایک گروہ نے کہا کہ اے اہل ِیثرب ! اب تمہارا کوئی ٹھکانہ نہیں ‘ چناچہ تم لوٹ جائو !“ کہ اب تمہارے بچنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ خندق کے سامنے اتنے بڑے لشکر کے مقابلے میں تم کیسے ٹھہر سکو گے ؟ چناچہ تم اپنی جانیں بچانے کی فکر کرو اور شہر کی طرف پلٹ چلو۔ { وَیَسْتَاْذِنُ فَرِیْقٌ مِّنْہُمُ النَّبِیَّ یَقُوْلُوْنَ اِنَّ بُیُوْتَنَا عَوْرَۃٌ} ”اور ان میں سے ایک گروہ نبی ﷺ سے اجازت طلب کر رہا تھا ‘ وہ کہہ رہے تھے کہ ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں۔“ محاصرے کے دوران شہر کی صورت حال کچھ یوں تھی کہ حملہ آوروں کے مقابلے کے لیے تمام مرد شہر سے باہر ایک جگہ پر اکٹھے تھے۔ حضور ﷺ نے عورتوں اور بچوں کی حفاظت کا یہ انتظام فرمایا تھا کہ انہیں مدینہ کے وسطی علاقے میں ایک بڑی حویلی کے اندر جمع کر کے وہاں پہرے وغیرہ کا بندوبست فرما دیا تھا۔ جب بنو قریظہ کی طرف سے عہد شکنی کی خبریں آئیں تو اس یہودی قبیلہ کی طرف سے عورتوں اور بچوں پر حملے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔ اس صورت حال میں منافقین بار بار آکر حضور ﷺ سے اس بہانے واپس اپنے گھروں کو جانے کی اجازت مانگتے تھے کہ اب ان کے گھر غیر محفوظ ہوگئے ہیں اور ان کے اہل و عیال کی جانوں کو شدید خطرہ لاحق ہے۔ { وَمَا ہِیَ بِعَوْرَۃٍ } ”حالانکہ وہ غیر محفوظ نہیں تھے۔“ اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کی طرف سے ان کے اہل و عیال کی حفاظت کا مناسب بندوبست کیا گیا تھا اور بظاہر انہیں کوئی خطرہ درپیش نہیں تھا۔ { اِنْ یُّرِیْدُوْنَ اِلَّا فِرَارًا } ”حقیقت میں وہ کچھ نہیں چاہتے تھے سوائے فرار کے۔“ ان کی ایسی باتوں کی اصلیت کچھ نہیں تھی۔ اصل میں وہ جنگ سے بھاگنے کے بہانے تلاش کر رہے تھے۔

اردو ترجمہ

اگر شہر کے اطراف سے دشمن گھس آئے ہوتے اور اُس وقت انہیں فتنے کی طرف دعوت دی جاتی تو یہ اس میں جا پڑتے اور مشکل ہی سے انہیں شریک فتنہ ہونے میں کوئی تامل ہوتا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Walaw dukhilat AAalayhim min aqtariha thumma suiloo alfitnata laatawha wama talabbathoo biha illa yaseeran

آیت 14 { وَلَوْ دُخِلَتْ عَلَیْہِمْ مِّنْ اَقْطَارِہَا ثُمَّ سُئِلُوا الْفِتْنَۃَ لَاٰتَوْہَا } ”اور اگر کہیں ان پر دشمن گھس آئے ہوتے مدینہ کے اطراف سے ‘ پھر ان سے مطالبہ کیا جاتا فتنے ارتداد کا ‘ تو وہ اسے قبول کرلیتے“ اگر خدانخواستہ کفار و مشرکین کے لشکر واقعی مدینہ میں داخل ہوجاتے اور وہ ان منافقین کو علانیہ ارتداد اور مسلمانوں سے جنگ کی دعوت دیتے تو ایسی صورت حال میں یہ لوگ بلا تردد ان کی بات مان لیتے۔ { وَمَا تَلَبَّثُوْا بِہَآ اِلَّا یَسِیْرًا } ”اور اس میں بالکل توقف نہ کرتے مگر تھوڑا سا۔“ چونکہ ایمان ابھی ان کے دلوں میں راسخ ہوا ہی نہیں تھا ‘ اس لیے جونہی انہیں ایمان کے دعوے سے پھرنے کا موقع ملتا وہ فوراً ہی اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے بری الذمہ ہونے کا اعلان کردیتے۔

اردو ترجمہ

ان لوگوں نے اس سے پہلے اللہ سے عہد کیا تھا کہ یہ پیٹھ نہ پھیریں گے، اور اللہ سے کیے ہوئے عہد کی باز پرس تو ہونی ہی تھی

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Walaqad kanoo AAahadoo Allaha min qablu la yuwalloona aladbara wakana AAahdu Allahi masoolan

آیت 15 { وَلَقَدْ کَانُوْا عَاہَدُوا اللّٰہَ مِنْ قَبْلُ لَا یُوَلُّوْنَ الْاَدْبَارَ } ”حالانکہ اس سے قبل وہ اللہ سے وعدہ کرچکے تھے کہ وہ کبھی پیٹھ نہیں دکھائیں گے۔“ اس سے پہلے وہ بحیثیت مسلمان اللہ سے عہد کرچکے تھے کہ وہ باطل کے مقابلے میں ثابت قدم رہیں گے۔ { وَکَانَ عَہْدُ اللّٰہِ مَسْئُوْلًا } ”اور اللہ سے کیے گئے عہد کی باز پرس تو ہونی ہے۔“

419