ان الی ........................ الرجعی (8:96) ” بیشک پلٹنا تیرے رب کی طرف ہی ہے “۔ آخر یہ غافل اور سرکش بھاگے گا کہاں ، آخر آنا تو اللہ ہی کے سامنے ہے۔
لکن اس تہدید کے ساتھ ساتھ اسلامی تصور حیات کا ایک بنیادی اصول اور نظریہ بھی پیش کردیا جاتا ہے ، یہ کہ سب نے اللہ کے دربار میں حاضر ہونا ہے۔ سب نے اللہ کی طرف لوٹنا ہے ، ہر چیز میں ہر بات کے حوالے سے ، ہر نیت و ارادہ میں اور ہر فعل و حرکت میں ، کیونکہ اللہ کے سوا اور کوء یجائے پناہ اور مرجع ہے ہی نہیں۔ اگر کوئی نیک ہے یا بد ہے ، سب نے اللہ کے سامنے جانا ہے۔ اگر کوئی فرمان بردار ہے یا معصیت کیش ہے ، حق پر ہے یا باطل پر ہے ، اچھا ہے ، یا شریر ہے۔ غنی ہے یا فقیر ہے۔ سب نے اللہ ہی کے سامنے جانا ہے۔ یہ شخص جس نے اپنے آپ کو غنی سمجھ کر سرکشی کی یہ بھی اپنے آپ کو اللہ کے سامنے باندھا ہوا پائے گا۔ لہٰذا ہر شخص کو چاہئے کہ وہ اللہ کے سامنے پیش ہونے کے وقت کے لئے کچھ کرے۔ کیونکہ وہی خالق ہے اور اس کی طرف لوٹنا ہے۔ اس طرح ان دوپیراگرافوں میں اسلامی نظریات و عقائد کے دونوں سرے لے لئے جاتے ہیں ، یعنی اسلام کا نظریہ آغاز حیات اور نشوونما ، پھر اسلام کا نظریہ تعلیم وتربیت اور تہذیب وشائستگی اور پھر اللہ کی طرف لوٹنا اور عقیدہ وحشر ونشر اور حساب و کتاب کے لئے اللہ کے سامنے جانا ہے اور وہاں سب اختیارات اللہ کے ہوں گے۔
ان الی ربک الرجعی (8:96) ” بیشک تیرے رب ہی کی طرف پلٹنا ہے “۔
اب تیسرا پیراگراف آتا ہے ، سورة بہت ہی مختصر ہے ، لیکن یہاں سرکشی ایک نہیایت واضح اور گھناﺅنی تصویر کشی کی جاتی ہے۔ انسانی انگشت بدنداں رہ جاتا ہے اور ایسے واقعات کو سخت ناپسند کرتا ہے۔ یہ تصویر کشی قرآن کے منفرد انداز میں ہے۔
آیت 8{ اِنَّ اِلٰی رَبِّکَ الرُّجْعٰی۔ } ”یقینا تجھے اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔“ گویا انسان کو راہ راست پر رکھنے کا جو موثر ترین علاج ہے وہ ہے عقیدئہ آخرت پر پختہ یقین۔ یعنی یہ یقین کہ ایک دن اسے اللہ تعالیٰ کی عدالت میں پیش ہو کر اپنے ایک ایک عمل کا حساب دینا ہے اور وہ عدالت بھی ایسی ہے جہاں ذرّہ برابر بھی کوئی چیز چھپائی نہیں جاسکے گی : { فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَہٗ - وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ۔ } الزلزال ”جس کسی نے ذرّے کے ہم وزن نیکی کمائی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا۔ اور جس کسی نے ذرّے کے ہم وزن برائی کی ہوگی وہ بھی اسے دیکھ لے گا“۔ گویا یہ عقیدئہ آخرت پر پختہ یقین اور قیامت کے دن کی پیشی کا خوف ہی ہے جو انسان کے اندر خود احتسابی کا احساس اجاگر کرتا ہے۔ یہی یقین اور خوف اسے خلوت و جلوت میں ‘ اندھیرے اجالے میں اور ہر جگہ ‘ ہر حال میں غلط روی اور ظلم وتعدی کے ارتکاب سے باز رکھتا ہے۔ ورنہ انسان کی سرشت ایسی ہے کہ جس مفاد تک اس کا ہاتھ پہنچتا ہو اسے سمیٹنے کے لیے وہ حلال و حرام اور جائز و ناجائز کی حدود کی پروا نہیں کرتا۔ اب اگلی آیت سے اس سورت کا تیسرا حصہ شروع ہو رہا ہے۔ سورة المدثر کے ساتھ اس سورت کے مضامین کی مشابہت کا انداز ملاحظہ ہو کہ سورة المدثر کے تیسرے حصے میں ولید بن مغیرہ کے کردار کی جھلک دکھائی گئی ہے ‘ جبکہ یہاں اس کے مقابل ابوجہل کے طرزعمل کا نقشہ پیش کیا گیا ہے۔