سورۃ الانعام: آیت 113 - ولتصغى إليه أفئدة الذين لا... - اردو

آیت 113 کی تفسیر, سورۃ الانعام

وَلِتَصْغَىٰٓ إِلَيْهِ أَفْـِٔدَةُ ٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِٱلْءَاخِرَةِ وَلِيَرْضَوْهُ وَلِيَقْتَرِفُوا۟ مَا هُم مُّقْتَرِفُونَ

اردو ترجمہ

(یہ سب کچھ ہم انہیں اسی لیے کرنے دے رہے ہیں کہ) جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اُن کے دل اِس (خوشنما دھوکے) کی طرف مائل ہوں اور وہ اس سے راضی ہو جائیں اور اُن برائیوں کا اکتساب کریں جن کا اکتساب وہ کرنا چاہتے ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Walitasgha ilayhi afidatu allatheena la yuminoona bialakhirati waliyardawhu waliyaqtarifoo ma hum muqtarifoona

آیت 113 کی تفسیر

وَلِیَرْضَوْہُ وَلِیَقْتَرِفُوْا مَا ہُمْ مُّقْتَرِفُوْنَ ۔اس فلسفے کو ایک مثال سے سمجھئے۔ پانی کا electrolysis کریں تو negative اور positive چارج والے آئنز ions الگ الگ ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے دنیا میں حق و باطل کی جو کشاکش رکھی ہے ‘ اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کھرے اور کھوٹے کی ionization ہوجاتی ہے۔ اہل حق نکھر کر ایک طرف ہوجاتے ہیں اور اہل باطل دوسری طرف۔ اس طرح انسانی معاشرے میں اچھے اور برے کی تمیز ہوجاتی ہے۔ جیسے کہ ہم سورة آل عمران آیت 179 میں پڑھ چکے ہیں : حَتّٰی یَمِیْزَ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ ط تاکہ وہ ناپاک کو پاک سے الگ کر دے۔ معاشرے کے اندر عام طور پر پاک اور ناپاک عناصرگڈ مڈ ہوئے ہوتے ہیں ‘ لیکن جب آزمائشیں اور تکلیفیں آتی ہیں ‘ امتحانات آتے ہیں تو یہ خبیث اور طیب عناصر واضح طور پر الگ الگ ہوجاتے ہیں ‘ منافق علیحدہ اور اہل ایمان علیحدہ ہوجاتے ہیں۔ آیت زیر نظر میں یہی فلسفہ بیان ہوا ہے کہ شیاطین انس و جن کو کھل کھیلنے کی مہلت اسی حکمت کے تحت فراہم کی جاتی ہے اور منکرین آخرت کو بھی پورا موقع دیا جاتا ہے کہ وہ ان شیاطین کی طرف سے پھیلائے ہوئے بےسروپا نظریات کی طرف مائل ہونا چاہیں تو بیشک ہوجائیں۔

آیت 113 - سورۃ الانعام: (ولتصغى إليه أفئدة الذين لا يؤمنون بالآخرة وليرضوه وليقترفوا ما هم مقترفون...) - اردو