اس صفحہ میں سورہ Al-An'aam کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الأنعام کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
۞ وَلَوْ أَنَّنَا نَزَّلْنَآ إِلَيْهِمُ ٱلْمَلَٰٓئِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ ٱلْمَوْتَىٰ وَحَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَىْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوا۟ لِيُؤْمِنُوٓا۟ إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُونَ
وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِىٍّ عَدُوًّا شَيَٰطِينَ ٱلْإِنسِ وَٱلْجِنِّ يُوحِى بَعْضُهُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ زُخْرُفَ ٱلْقَوْلِ غُرُورًا ۚ وَلَوْ شَآءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوهُ ۖ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُونَ
وَلِتَصْغَىٰٓ إِلَيْهِ أَفْـِٔدَةُ ٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِٱلْءَاخِرَةِ وَلِيَرْضَوْهُ وَلِيَقْتَرِفُوا۟ مَا هُم مُّقْتَرِفُونَ
أَفَغَيْرَ ٱللَّهِ أَبْتَغِى حَكَمًا وَهُوَ ٱلَّذِىٓ أَنزَلَ إِلَيْكُمُ ٱلْكِتَٰبَ مُفَصَّلًا ۚ وَٱلَّذِينَ ءَاتَيْنَٰهُمُ ٱلْكِتَٰبَ يَعْلَمُونَ أَنَّهُۥ مُنَزَّلٌ مِّن رَّبِّكَ بِٱلْحَقِّ ۖ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ ٱلْمُمْتَرِينَ
وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَعَدْلًا ۚ لَّا مُبَدِّلَ لِكَلِمَٰتِهِۦ ۚ وَهُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيمُ
وَإِن تُطِعْ أَكْثَرَ مَن فِى ٱلْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ ۚ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا ٱلظَّنَّ وَإِنْ هُمْ إِلَّا يَخْرُصُونَ
إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ مَن يَضِلُّ عَن سَبِيلِهِۦ ۖ وَهُوَ أَعْلَمُ بِٱلْمُهْتَدِينَ
فَكُلُوا۟ مِمَّا ذُكِرَ ٱسْمُ ٱللَّهِ عَلَيْهِ إِن كُنتُم بِـَٔايَٰتِهِۦ مُؤْمِنِينَ
آیت 111 وَلَوْاَنَّنَا نَزَّلْنَآ اِلَیْہِمُ الْمَلآءِکَۃَ یعنی ہم ان کے مطالبے کے مطابق ایک فرشتہ تو کیا فرشتوں کی فوجیں اتار سکتے ہیں ‘ ان فرشتوں کو آسمان سے اترتے ہوئے دکھا سکتے ہیں ‘ لیکن اگر ہم واقعتاً فرشتے اتار بھی دیتے اور ان کو دکھا بھی دیتے۔۔وَکَلَّمَہُمُ الْمَوْتٰی وَحَشَرْنَا عَلَیْہِمْ کُلَّ شَیْءٍ قُبُلاً مَّا کَانُوْا لِیُؤْمِنُوْٓا اِلَّآ اَنْ یَّشَآء اللّٰہُ اگر اللہ چاہے اور اگر کسی کے اندر حق کی طلب ہو تو اللہ تعالیٰ معجزوں کے بغیر بھی ایسے لوگوں کی آنکھیں کھول دیتا ہے۔ جو لوگ بھی محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان لائے تھے وہ معجزے دیکھ کر تو نہیں لائے تھے۔ وہ طالبانِ حق تھے لہٰذا انہیں حق مل گیا۔وَلٰکِنَّ اَکْثَرَہُمْ یَجْہَلُوْنَ۔ ۔یہاں جاہل سے مراد جذباتی لوگ ہیں ‘ جو عقل سے کام نہیں لیتے بلکہ اپنے جذبات کے آلہ کار بن جاتے ہیں۔ اگلی آیت فلسفۂ دعوت و تحریک کے اعتبار سے بہت اہم ہے۔
آیت 112 وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا شَیٰطِیْنَ الْاِنْسِ وَالْجِنِّ سوچنے اور غور کرنے کا مقام ہے ‘ انبیاء کو تو مدد کی ضرورت تھی ‘ اللہ نے شیاطین کو ان کے خلاف کیوں کھڑا کردیا ؟ بہر حال یہ اللہ کا قانون ہے جو راہ حق کے ہر مسافر کو معلوم ہونا چاہیے۔ اس میں حکمت یہ ہے کہ حق و باطل میں اس نوعیت کی کشاکش نہیں ہوگی تو پھر کھرے اور کھوٹے کی پہچان بھی نہیں ہو سکے گی۔ کیسے معلوم ہوگا کہ کون واقعی حق پرست ہے اور کون جھوٹا دعویدار۔ کون اللہ سے سچی محبت کرتا ہے اور کون دودھ پینے والا مجنوں ہے۔ یہ دنیا تو آزمائش کے لیے بنائی گئی ہے۔ یہاں اگر شر کا وجود ہی نہ ہو ‘ ہر جگہ خیر ہی خیر ہو تو خیر کے طلبگاروں کی آزمائش کیسے ہوگی ؟ لہٰذا فرمایا کہ یہ کشمکش کی فضا ہم خود پیدا کرتے ہیں۔ ہم خود حق پر چلنے والوں کو تلاطم خیز موجوں کے سپرد کر کے ان کی استقامت کو پرکھتے ہیں اور پھر ثابت قدم رہنے والوں کو نوازتے ہیں۔ اس میدان میں جو جتنا آزمایا جاتا ہے ‘ جو جتنی استقامت دکھاتا ہے ‘ جو جتنا ایثار کرتا ہے ‘ اتنا ہی اس کا مرتبہ بلند ہوتا چلا جاتا ہے۔ چناچہ راہ حق کے مسافروں کو مطمئن رہنا چاہیے : تندئ باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے !یُوْحِیْ بَعْضُہُمْ اِلٰی بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا ط۔مثلاً ایک جن شیطان آکر اپنے ساتھی انسان شیطان کے دل میں خیال ڈالتا ہے کہ شاباش اپنے موقف پر ڈٹے رہو ‘ اسی کا نام استقامت ہے۔ دیکھو کہیں پھسل نہ جانا اور اپنے مخالف کے موقف کو قبول نہ کرلینا۔ ان کا آپس میں اس طرح کا گٹھ جوڑ چلتا رہتا ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے خود ان کو یہ چھوٹ دے رکھی ہے۔ وَلَوْ شَآءَ رَبُّکَ مَا فَعَلُوْہُ ظاہر بات ہے کہ اس کائنات میں کوئی پتا بھی اللہ کے اذن کے بغیر نہیں ہل سکتا۔ ابو جہل کی کیا مجال تھی کہ حضرت سمیہ رض کو شہید کرتا۔ وہ برچھا اٹھاتا تو اس کا ہاتھ شل ہوجاتا۔ لیکن یہ تو اللہ کی طرف سے چھوٹ تھی کہ ٹھیک ہے ‘ تم ہماری اس بندی کو جتنا آزمانا چاہتے ہو آزمالو۔ ان آزمائشوں سے ہمارے ہاں اس کے مراتب بلند سے بلند تر ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ جیسا کہ سورة یٰسٓ میں اللہ تعالیٰ کے ایک بندے پر انعامات کا ذکر ہوا ہے : قَالَ یٰلَیْتَ قَوْمِیْ یَعْلَمُوْنَ۔ بِمَا غَفَرَ لِیْ رَبِّیْ وَجَعَلَنِیْ مِنَ الْمُکْرَمِیْنَ اس نے کہا کاش کہ میری قوم کو معلوم ہوجائے کہ کس طرح میرے رب نے مجھے بخش دیا اور مجھے معززین میں سے بنادیا۔ ادھر تو میری شہادت کے بعد صف ماتم بچھی ہوگی ‘ بیوی شوہر کی جدائی میں نڈھال ہوگی ‘ بچے رو رو کر ہلکان ہو رہے ہوں گے ‘ لیکن کاش وہ جان سکتے کہ مجھے میرے رب نے کس کس طرح سے نوازا ہے ‘ کیسے کیسے انعامات یہاں مجھ پر کیے گئے ہیں اور میں یہاں کس عیش و آرام میں ہوں ! اگر انہیں میرے اس اعزازو اکرام کی کچھ بھی خبر ہوجاتی تو رونے دھونے کی بجائے وہ خوشیاں منا رہے ہوتے۔ فَذَرْہُمْ وَمَا یَفْتَرُوْنَ ۔یہ ہماری سنت ہے ‘ ہمارا طریقہ ہے ‘ ہم نے خود ان کو یہ سب کچھ کرنے کی ڈھیل دے رکھی ہے ‘ لہٰذا آپ ﷺ ان سے اعراض فرمائیے اور ان کو ان کی افترا پردازیوں میں پڑے رہنے دیجیے۔
وَلِیَرْضَوْہُ وَلِیَقْتَرِفُوْا مَا ہُمْ مُّقْتَرِفُوْنَ ۔اس فلسفے کو ایک مثال سے سمجھئے۔ پانی کا electrolysis کریں تو negative اور positive چارج والے آئنز ions الگ الگ ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے دنیا میں حق و باطل کی جو کشاکش رکھی ہے ‘ اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کھرے اور کھوٹے کی ionization ہوجاتی ہے۔ اہل حق نکھر کر ایک طرف ہوجاتے ہیں اور اہل باطل دوسری طرف۔ اس طرح انسانی معاشرے میں اچھے اور برے کی تمیز ہوجاتی ہے۔ جیسے کہ ہم سورة آل عمران آیت 179 میں پڑھ چکے ہیں : حَتّٰی یَمِیْزَ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ ط تاکہ وہ ناپاک کو پاک سے الگ کر دے۔ معاشرے کے اندر عام طور پر پاک اور ناپاک عناصرگڈ مڈ ہوئے ہوتے ہیں ‘ لیکن جب آزمائشیں اور تکلیفیں آتی ہیں ‘ امتحانات آتے ہیں تو یہ خبیث اور طیب عناصر واضح طور پر الگ الگ ہوجاتے ہیں ‘ منافق علیحدہ اور اہل ایمان علیحدہ ہوجاتے ہیں۔ آیت زیر نظر میں یہی فلسفہ بیان ہوا ہے کہ شیاطین انس و جن کو کھل کھیلنے کی مہلت اسی حکمت کے تحت فراہم کی جاتی ہے اور منکرین آخرت کو بھی پورا موقع دیا جاتا ہے کہ وہ ان شیاطین کی طرف سے پھیلائے ہوئے بےسروپا نظریات کی طرف مائل ہونا چاہیں تو بیشک ہوجائیں۔
آیت 114 اَفَغَیْرَ اللّٰہِ اَبْتَغِیْ حَکَمًا اب پھر یہ متجسسانہ سوال searching question اسی پس منظر میں کیا گیا ہے کہ مشرکین مکہ اللہ کو مانتے تھے۔ چناچہ ان سے پوچھا جا رہا ہے کہ وہ اللہ جس کو تم مانتے ہو ‘ میں نے بھی اسی کو اپنا رب مانا ہے۔ تو کیا اب تم چاہتے ہو کہ میں اس معبود حقیقی کو چھوڑ کر کسی اور کو اپنا حکم تسلیم کرلوں ‘ اور وہ بھی ان میں سے جن کو تم لوگوں نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے ‘ جن کے بارے میں اللہ نے کوئی سند یا دلیل نازل نہیں کی ہے۔ سورة الزخرف میں اسی نکتہ کو اس انداز میں پیش کیا گیا ہے : قُلْ اِنْ کَان للرَّحْمٰنِ وَلَدٌق فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِیْنَ آپ ﷺ کہیے کہ اگر اللہ کا کوئی بیٹا ہوتا تو سب سے پہلے اس کو میں پوجتا۔ یعنی جب میں اللہ کی پرستش کرتا ہوں تو اگر اللہ کا کوئی بیٹا ہوتاتو کیا میں اس کی پرستش نہ کرتا ؟ چناچہ میں جو اللہ کو اپنا معبود سمجھتا ہوں اور کسی کو اس کا بیٹا نہیں مانتاتو جان لیں کہ اس کا کوئی بیٹا ہے ہی نہیں۔ سمجھانے کا یہ انداز جو قرآن میں اختیار کیا گیا ہے بڑا فطری ہے۔ اس میں منطق کے بجائے جذبات سے براہ راست اپیل ہے۔ دروں بینی introspection کی طرف دعوت ہے کہ اپنے دل میں جھانکو ‘ گریبان میں منہ ڈالو اور سوچو ‘ حقیقت تمہیں خود ہی نظر آجائے گی۔ وَّہُوَ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ اِلَیْکُمُ الْکِتٰبَ مُفَصَّلاً ط۔ وَالَّذِیْنَ اٰتَیْنٰہُمُ الْکِتٰبَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّہٗ مُنَزَّلٌ مِّنْ رَّبِّکَ بالْحَقِّ فَلاَ تَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ۔ ۔اہل کتاب زبان سے اقرار کریں نہ کریں ‘ اپنے دلوں میں ضروریقین رکھتے ہیں کہ یہ قرآن اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ ہے۔
آیت 115 وَتَمَّتْ کَلِمَتُ رَبِّکَ صِدْقًا وَّعَدْلاً ط۔آپ کے رب کی بات اس کی مشیت کے مطابق مکمل ہوچکی ہے ‘ جیسے سورة المائدۃ آیت 3 میں فرمایا : اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلاَمَ دِیْنًا ط
آیت 116 وَاِنْ تُطِعْ اَکْثَرَ مَنْ فِی الْاَرْضِ یُضِلُّوْکَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ط۔ جدید جمہوری نظام کے فلسفے کی نفی کے لیے یہ بڑی اہم آیت ہے۔ جمہوریت میں اصابتِ رائے کے بجائے تعداد کو دیکھا جاتا ہے۔ بقول اقبالؔ : جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں بندوں کو گنا کرتے ہیں ‘ تولا نہیں کرتے !اس حوالے سے قرآن کا یہ حکم بہت واضح ہے کہ اگر زمین میں بسنے والوں کی اکثریت کی بات مانو گے تو وہ تمہیں گمراہ کردیں گے۔ دنیا میں اکثریت تو ہمیشہ باطل پرستوں کی رہی ہے۔ دور صحا بہ رض میں صحابہ کرام رض کی تعداد دنیا کی پوری آبادی کے تناظر میں دیکھیں تو لاکھ کے مقابلے میں ایک کی نسبت بھی نہیں بنتی۔ اس لیے اکثریت کو کلی اختیار دے کر کسی خیر کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ ہاں ایک صورت میں اکثریت کی رائے کو اہمیت دی جاسکتی ہے۔ وہ یہ کہ اگر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام کو قطعی اصولوں اور land makrs کے طور پر مان لیا جائے تو پھر ان کی واضح کردہ حدود کے اندر رہتے ہوئے مباحات کے بارے میں اکثریت کی بنا پر فیصلے ہوسکتے ہیں۔ مثلاً کسی دعوت کے ضمن میں اگر یہ فیصلہ کرنا مقصود ہو کہ مہمانوں کو کون سا مشروب پیش کیا جائے تو ظاہر ہے کہ شراب کے بارے میں تو رائے شماری نہیں ہوسکتی ‘ وہ تو اللہ اور رسول ﷺ کے حکم کے مطابق حرام ہے۔ ہاں روح افزا ‘ کو کا کو لا ‘ سپرائٹ وغیرہ کے بارے میں آپ اکثریت کی رائے کا احترام کرتے ہوئے فیصلہ کرسکتے ہیں۔ لیکن اختیار مطلق absolute authority اور اقتدار اعلیٰ sovereignty اکثریت کے پاس ہو تو اس صورت حال پر اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ ہی پڑھا جاسکتا ہے۔ چناچہ کلی اختیار اوراقتدارِاعلیٰ تو بہر حال اللہ کے پاس رہے گا ‘ جو اس کائنات اور اس میں موجود ہرچیز کا خالق اور مالک ہے۔ اکثریت کی رائے پر فیصلے صرف اس کے احکام کی حدود کے اندر رہتے ہوئے ہی کیے جاسکتے ہیں۔ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ الاَّ الظَّنَّ وَاِنْ ہُمْ الاَّ یَخْرُصُوْنَ ۔یعنی یہ محض گمان کی پیروی کرتے ہیں اور اٹکل کے تیر تکے چلاتے ہیں ‘ قیاس آرائیاں کرتے ہیں۔
آیت 118 فَکُلُوْا مِمَّا ذُکِرَ اسْمُ اللّٰہِ عَلَیْہِ اِنْ کُنْتُمْ بِاٰیٰتِہٖ مُؤْمِنِیْنَ ۔یہاں کھانے پینے کی چیزوں کی حلت و حرمت کے بارے میں مشرکین عرب کے جاہلانہ نظریات اور توہمات کا رد کیا گیا ہے۔