(آیت) ” وَکَذَلِکَ نُوَلِّیْ بَعْضَ الظَّالِمِیْنَ بَعْضاً بِمَا کَانُواْ یَکْسِبُونَ (129)
” دیکھو اس طرح (آخرت میں) ہم ظالموں کو ایک دوسرے کا ساتھی بنائیں گے ۔ اس کمائی کی وجہ سے جو وہ (دنیا میں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کرتے تھے ) ۔
یعنی یہ بات قابل عبرت ہے کہ جنوں اور انسانوں کے درمیان اس طرح دوستی قائم ہوجاتی ہے اور اس دوستی کا یہ انجام ہوتا ہے ۔ اس طرح اللہ انہیں ایک دوسرے کے لئے ساز گار بنا دیتا ہے ۔ خود ان کی اپنی کمائی کی وجہ سے وہ ایک دوسرے کے دوست بن جاتے ہیں ‘ اس لئے کہ ان کے مزاج اور ان کی خواہشات ایک دوسرے کے ساتھ مل جاتی ہیں ۔ انکے رجحانات اور اہداف ایک ہوتے ہیں اور پھر ان کا انجام بھی ایک جیسا ہوتا ہے ۔
یہ تعقیب اور اس میں بیان کردہ حقیقت اس وقت کے موجودہ حالات کے مقابلے میں زیادہ دور رس نتائج کی حامل ہے ۔ اس میں جنی اور انسی شیطانوں کے درمیان پائے جانے والے رابطے اور دوستی کی اصل حقیقت سے پردہ اٹھایا گیا ہے اس لئے کہ وہ لوگ جو ظالم ہیں اور کسی نہ کسی صورت میں شرک کرتے ہیں ‘ وہ سچائی اور ہدایت کے مقابلے میں اکٹھ کرلیتے ہیں اور ان لوگوں کا وطیرہ یہ ہے کہ یہ لوگ ہمیشہ نبی اور اس کے ساتھیوں کے مقابلے میں آکر کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ جس طرح ان لوگوں کی فطرت اور مزاج ایک ہے ‘ اگرچہ شکلیں مختلف ہوں ‘ اسی طرح ان کے اغراض ومقاصد بھی ایک ہوتے ہیں اور ان کے اغراض واہداف یہ ہوتے ہیں یعنی اللہ کے مقابلے میں اپنا حق حاکمیت چلاتے ہیں اور خواہشات نفسانیہ اور عیاشی کے معاملے میں کوئی حد اور قید قبول نہیں کرتے ‘ یعنی اللہ کے جانب سے حدود وقیود۔
یہ لوگ ہر دور میں ایک گروہ اور ایک بلاک ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے مددگار ہوتے ہیں حالانکہ خود ان کے درمیان باہم مقاصد ایک ہوتے ہیں اور اس کی وجہ سے ان کے درمیان باہم محبت ہوتی ہے اس لئے جس طرح گزشتہ منظر میں بتایا گیا ان کا انجام بھی ایک ہی ہوتا ہے ۔
آج کے دور میں ایک طویل عرصے سے ہم اس بات کا مشاہد کر رہے ہیں کہ انسانی شیطان مثلا صیلبی ‘ صہیونی ‘ بت پرست اور اشتراکی ‘ مختلف مفادات اور مختلف بلاکوں کے ممبر ہوتے ہوئے بھی باہم دوست ہیں اور باہم معاون و مددگار ہیں ۔ ان کا یہ اتحادواتفاق اسلام اور اسلامی تحریکات کے دستوں کے خلاف ہے اور یہ پوری دنیا پر موجود ہے ۔
عملایہ ایک خوفناک گٹھ جوڑ ہے ۔ یہ گٹھ جوڑ کرنے والے وہ لوگ ہیں جن کو صدیوں تک اسلام کے مقابلے میں محاربت کا تجربہ ہے ۔ یہ لوگ مادی اور علمی معاشرتی قوتوں اور تمام دوسرے سازو سامان کے ساتھ اسلام کے مقابلے میں معرکہ آراء ہیں اور اپنی مکارانہ شیطانی چالوں کے ساتھ مصروف عمل ہیں ۔ اس گٹھ جوڑ پر اللہ کا یہ فرمان آج اچھی طرح چسپاں ہوتا ہے ۔ ” اور ہم ظالموں کو اسی طرح ایک دوسرے کا ولی بناتے ہیں اس کمائی کی وجہ سے جو وہ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کرتے ہیں ۔ “ اس گٹھ جوڑ پر حضور اکرم ﷺ کی تسلی کے لئے آنے والی یہ آیت صادق آتی ہے ۔
(آیت) ” ولوشاء اللہ مافعلوہ فذرھم وما یفترون “۔ ” اگر اللہ چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے پس آپ ان کو چھوڑ دیجئے جو چاہیں افراء باندھیں) لیکن اس تسلی کے تقاضے تب ہی پورے ہوں گے کہ دنیا میں حضور ﷺ کے نقش قدم پر چلنے والا ایک گروہ موجود ہو اور یہ معلوم ہو کہ یہ گروہ حضور کے ساتھیوں کا قائم مقام ہے ۔ دین پر دشمنوں کے حملوں کی راہ میں کھڑا ہے ۔ اب ذرا دوبارہ آیات قرآنیہ کی طرف آئیے ۔
ہم مزاج ہی دوست ہوتے ہیں لوگوں کی دوستیاں اعمال پر ہوتی ہیں مومن کا دل مومن سے ہی لگتا ہے گو وہ کہیں کا ہو اور کیسا ہی ہو اور کافر کافر بھی ایک ہی ہیں گو وہ مختلف ممالک اور مختلف ذات پات کے ہوں۔ ایمان تمناؤں اور ظاہر داریوں کا نام نہیں۔ اس مطلب کے علاوہ اس آیت کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ اسی طرح یکے بعد دیگرے تمام کفار جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے۔ مالک بن دینار کہتے ہیں میں نے زبور میں پڑھا ہے اللہ فرماتا ہے میں منافقوں سے انتقام منافقوں کے ساتھ ہی لوں گا پھر سب سے ہی انتقام لوں گا۔ اس کی تصدیق قرآن کی مندرجہ بالا آیت سے بھی ہوتی ہے کہ ہم ولی بنائیں گے بعض ظالموں کا یعنی ظالم جن اور ظالم انس۔ پھر آپ نے آیت (وَمَنْ يَّعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمٰنِ نُـقَيِّضْ لَهٗ شَيْطٰنًا فَهُوَ لَهٗ قَرِيْنٌ) 43۔ الزخرف :36) کی تلاوت کی اور فرمایا کہ ہم سرکش جنوں کو سرکش انسانوں پر مسلط کردیں گے۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے جو ظالم کی مدد کرے گا اللہ اسی کو اس پر مسلط کر دے گا۔ کسی شاعر کا قول ہے۔ وما من یدالا ید اللہ فوقھا وما ظالم الا سیبلی بظالم یعنی ہر ہاتھ ہر طاقت پر اللہ کا ہاتھ اور اللہ کی طاقت بالا ہے اور ہر ظالم دوسرے ظالم کے پنجے میں پھنسنے والا ہے۔ مطلب آیت کا یہ ہے کہ ہم نے جس طرح ان نقصان یافتہ انسانوں کے دوست ان بہکانے والے جنوں کو بنادیا اسی طرح ظالموں کو بعض کو بعض کا ولی بنا دیتے ہیں اور بعض بعض سے ہلاک ہوتے ہیں اور ہم ان کے ظلم و سرکشی اور بغاوت کا بدلہ بعض سے بعض کو دلا دیتے ہیں۔