اس صفحہ میں سورہ Al-An'aam کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الأنعام کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
فَمَن يُرِدِ ٱللَّهُ أَن يَهْدِيَهُۥ يَشْرَحْ صَدْرَهُۥ لِلْإِسْلَٰمِ ۖ وَمَن يُرِدْ أَن يُضِلَّهُۥ يَجْعَلْ صَدْرَهُۥ ضَيِّقًا حَرَجًا كَأَنَّمَا يَصَّعَّدُ فِى ٱلسَّمَآءِ ۚ كَذَٰلِكَ يَجْعَلُ ٱللَّهُ ٱلرِّجْسَ عَلَى ٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ
وَهَٰذَا صِرَٰطُ رَبِّكَ مُسْتَقِيمًا ۗ قَدْ فَصَّلْنَا ٱلْءَايَٰتِ لِقَوْمٍ يَذَّكَّرُونَ
۞ لَهُمْ دَارُ ٱلسَّلَٰمِ عِندَ رَبِّهِمْ ۖ وَهُوَ وَلِيُّهُم بِمَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ
وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ جَمِيعًا يَٰمَعْشَرَ ٱلْجِنِّ قَدِ ٱسْتَكْثَرْتُم مِّنَ ٱلْإِنسِ ۖ وَقَالَ أَوْلِيَآؤُهُم مِّنَ ٱلْإِنسِ رَبَّنَا ٱسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ وَبَلَغْنَآ أَجَلَنَا ٱلَّذِىٓ أَجَّلْتَ لَنَا ۚ قَالَ ٱلنَّارُ مَثْوَىٰكُمْ خَٰلِدِينَ فِيهَآ إِلَّا مَا شَآءَ ٱللَّهُ ۗ إِنَّ رَبَّكَ حَكِيمٌ عَلِيمٌ
وَكَذَٰلِكَ نُوَلِّى بَعْضَ ٱلظَّٰلِمِينَ بَعْضًۢا بِمَا كَانُوا۟ يَكْسِبُونَ
يَٰمَعْشَرَ ٱلْجِنِّ وَٱلْإِنسِ أَلَمْ يَأْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنكُمْ يَقُصُّونَ عَلَيْكُمْ ءَايَٰتِى وَيُنذِرُونَكُمْ لِقَآءَ يَوْمِكُمْ هَٰذَا ۚ قَالُوا۟ شَهِدْنَا عَلَىٰٓ أَنفُسِنَا ۖ وَغَرَّتْهُمُ ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَا وَشَهِدُوا۟ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِمْ أَنَّهُمْ كَانُوا۟ كَٰفِرِينَ
ذَٰلِكَ أَن لَّمْ يَكُن رَّبُّكَ مُهْلِكَ ٱلْقُرَىٰ بِظُلْمٍ وَأَهْلُهَا غَٰفِلُونَ
(آیت) ” فَمَن یُرِدِ اللّہُ أَن یَہْدِیَہُ یَشْرَحْ صَدْرَہُ لِلإِسْلاَمِ وَمَن یُرِدْ أَن یُضِلَّہُ یَجْعَلْ صَدْرَہُ ضَیِّقاً حَرَجاً کَأَنَّمَا یَصَّعَّدُ فِیْ السَّمَاء کَذَلِکَ یَجْعَلُ اللّہُ الرِّجْسَ عَلَی الَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُونَ (125)
” پس حقیقت یہ ہے کہ اللہ جسے ہدایت بخشنے کا ارادہ کرتا ہے اس کا سینے کو تنگ کردیتا ہے اور ایسا بھینچتا کہ اسے یوں معلوم ہونے لگتا ہے کہ گویا اس کی روح آسمان کی طرف پرواز کر رہی ہے ۔ اس طرح اللہ ناپاکی ان لوگوں پر مسلط کردیتا ہے جو ایمان نہیں لاتے ۔ ‘
اللہ تعالیٰ نے اس جہاں میں ہر شخص کو اختیار تمیزی اور آزادی دی ہے کہ ضلالت اختیار کرے یا ہدایت ۔ اب جو شخص اللہ تعالیٰ کی اس سنت جاریہ کے مطابق جو اس نے اس کائنات میں ہدایت کے سلسلے میں وضع فرمائی ہے راہ کے حصول میں دلچسپی رکھتا ہے اور اسے آزمانے کے لئے اسے جو اختیار دیا گیا ہے اور وہ اس کو استعمال کر کے ہدایت کے لئے سعی کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے سینہ کو اسلام کے لئے کھول دیتا ہے ۔ اس کے دل کے دریچے کھل جاتے ہیں اور وہ بسہولت اسلام کو قبول کرتا ہے اور اس میں دلچسپی لیتا ہے ‘ اس پر مطمئن ہوجاتا ہے اور وہ اسلام کے ساتھ گھل مل جاتا ہے ۔
اس کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ نے جس کے لئے گمراہی مقدر کردی ہے ‘ اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کی اسی سنت جاریہ کے مطابق اسی شخص کو مقدر کردی جاتی ہے جسے اسلام اور ہدایت سے کوئی دلچسپی نہیں رہتی ۔ اس کے دل کے دریچے بند ہوجاتے ہیں اور اس کا سینہ اسلام کے لئے تنگ ہوجاتا ہے ۔ اس کی حالت یہ ہوجاتی ہے کہ گویا اس کی روح آسمان پر پرواز کرنے والی ہے ۔ چناچہ اس کا دل و دماغ اس کے لئے بند ہوجاتا ہے اور وہ راہ ہدایت کو اختیار کرنے میں نہایت ہی مشکل محسوس کرتا ہے ۔
(آیت) ” کانما یصعد فی السمآئ “۔ کے الفاظ میں ایک نفسیاتی صورت حال کا نقشہ حسی انداز بیان میں کھینچا گیا ہے ۔ ایسے حالات جس میں انسان کی سانس پھول جاتی ہے اور سینہ تنگی محسوس کرتا ہے ‘ جس طرح بلندی پر چڑھتے وقت انسان محسوس کرتا ہے ۔ مفہوم کے ساتھ ساتھ قراۃ حفص کے مطابق لفظ (یصعد) کے اندر بذات خود ایک قسم کی سختی اور مشکل پائی جاتی ہے اور بڑی محنت سے یہ لفظ ادا ہوا ہے ۔ اس لفظ کی آواز ہی سے اس کے مفہوم کی مشکلات کا اندازہ ہوتا ہے ۔ یوں انسان کی نفسیاتی حالت ‘ اس کی حسی حالت اور انداز تعبیر سب کے سب یہاں یکجا اور یک رنگ ہوجاتے ہیں۔ (تفصیلات دیکھئے میری کتاب التصویر الغنی میں بحث حسی تخیل)
یہ منظر اس اختتامیہ پر ختم ہوتا ہے :
(آیت) ” کَذَلِکَ یَجْعَلُ اللّہُ الرِّجْسَ عَلَی الَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُونَ (125)
” اس طرح اللہ ناپاکی ان لوگوں پر مسلط کردیتا ہے جو ایمان نہیں لاتے ۔ ‘ اسی طرح کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں اپنا نظام قضا وقدر جاری کیا ہے ۔ اس کے مطابق اور اللہ کی جاری وساری سنت کے مطابق جو شخص راہ ہدایت تلاش کرتا ہے اللہ اس کا سینہ کھول دیتا ہے اور جو شخص ہدایت کو پسند نہیں کرتا اللہ اسے گمراہی کے راستے پر ڈال دیتا ہے ۔ اللہ اس طرح ایمان نہ لانے والوں کو گندگی میں ڈال دیتا ہے ۔ (الرجس) کے مفہومات میں سے ایک مفہوم عذاب بھی ہے اور اس کے مفہوم میں گندگی اور ناپاکی بھی ہے اور گراوٹ بھی ہے ۔ یعنی جو شخص اس ناپاکی اور گندگی کے دلدل میں پھنس جاتا ہے وہ اسی میں پڑا رہتا ہے اور رجس کے لفظ کے استعمال سے یہی اشارہ دینا مطلوب ہے ۔
اب ہم اس آیت پر دو بار غور کرتے ہیں :
(آیت) ” فَمَن یُرِدِ اللّہُ أَن یَہْدِیَہُ یَشْرَحْ صَدْرَہُ لِلإِسْلاَمِ وَمَن یُرِدْ أَن یُضِلَّہُ یَجْعَلْ صَدْرَہُ ضَیِّقاً حَرَجاً کَأَنَّمَا یَصَّعَّدُ فِیْ السَّمَاء کَذَلِکَ یَجْعَلُ اللّہُ الرِّجْسَ عَلَی الَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُونَ (125)
” پس حقیقت یہ ہے کہ اللہ جسے ہدایت بخشنے کا ارادہ کرتا ہے اس کا سینے کو تنگ کردیتا ہے اور ایسا بھینچتا کہ (اسلام کا تصور کرتے ہی) اسے یوں معلوم ہونے لگتا ہے کہ گویا اس کی روح آسمان کی طرف پرواز کر رہی ہے ۔ اس طرح اللہ (حق سے فرار اور نفرت کی) ناپاکی ان لوگوں پر مسلط کردیتا ہے جو ایمان نہیں لاتے ۔ ‘
اس آیت میں جس عظیم حقیقت کو بیان کیا گیا ہے یعنی مشیت الہیہ اور اس کے ساتھ وہ تمام دوسری آیات ونصوص جن کا تعلق اللہ کی مشیت اور انسانی اعمال اور رجحانات سے ہے ‘ اور جن میں انسانی اعمال پر جزا وسزا کو مرتب کیا گیا ہے یا جن میں انسان کی ہدایت اور ضلالت کے احکام مرتب ہوئے ہیں ‘ ان تمام آیات کو صحیح طرح سمجھنے کے لئے عقلی اور فلسفیانہ منطق کے سوا ایک دوسری منطق اور قوت ادراک کی ضرورت ہے ۔ یہ منطق اور قوت ادراک ‘ ہماری ظاہری عقل اور منطق سے وراء ہے ۔ اس سلسلے میں اسلامی افکار کی تاریخ میں جو بحثیں معتزلہ اور اہل سنت کے درمیان ہوئی ہیں اور اہل سنت اور مرجئہ کے درمیان اور اس سے قبل عیسائیوں کے فلسفہ لاہوت کے اندر جو بحث وجدال رہی ہے اس سلسلہ میں جو منطقی صغری وکبری متعین ہوئے ان سب سے وہ قوت مدرکہ ورا ہے ۔
اس نازک بحث کو سمجھنے کے لئے ہمیں انسان کی عقلی اور منطقی دنیا سے ذرا آگے جانا ہوگا اور اس حقیقت کو سمجھنے کے لئے ہمیں عقلی اور فلسفیانہ دنیا سے ذرا باہر آکر انسان کی عملی زندگی میں آنا ہوگا ۔ قرآن کریم جس صورت حال کی تصویر کشی کر رہا ہے اس کا تعلق انسان کی عملی صورت حالات سے ہے ۔ اس کا تعلق محض عقلی اور فلسفیانہ مباحث سے نہیں ہے ۔ انسان کے واقعی حالات اور اس کے علمی شب وروز جس طرح ہوتے ہیں اور اس کائنات میں جس طرح عملی طور پر چلتے ہیں ان آیات میں ان کی تصویر کشی کی گئی ہے ۔ جب ہم انسان کی عملی دنیا کو دیکھتے ہیں تو اس میں اللہ کی قدرت اور مشیت اور انسان کا ارادہ اور سعی وعمل ساتھ ساتھ چلتے نظر آتے ہیں اور ان کا عملی میدان اس طرح باہم ملا ہوا ہے کہ محض فلسفیانہ منطق اس گتھی کو سلجھا نہیں سکتی ۔
اگر کوئی یہ کہے کہ اللہ کا ارادہ اور تقدیر انسان کو ہدایت یا ضلالت کی طرف دھکیل دیتی ہے تو یہ صورت بھی عملی نہیں ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ بس انسان کا ارادہ اور عمل ہی اس کے انجام کو متعین کرتا ہے تو عملا ایسا بھی نہیں ہے ۔ حقیقت کا تعلق ان دونوں امور کے ساتھ ہے اور وہ اس قدر لطیف اور نظروں سے اوجھل ہے اور اسی طرح بین بین ہے کہ ایک طرف اللہ کی مشیت مطلقہ ہے اور دوسری جانب انسان کا ارادہ اور رجحان ہے ‘ دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہیں اور ان کے درمیان عملا تصادم بھی نہیں ہوتا ۔
لیکن جبر واکراہ اور قدرت اختیار کے اس حسین امتزاج کی اصل نوعیت کو ہم محض استدلال یا عقلی سوچ کے ذریعے متعین نہیں کر پاتے ۔ نہ ہم اس کی واضح تعبیر انسانی الفاظ وعبارات میں کرسکتے ہیں ۔ اس لئے کہ انسانی عبارات کسی حقیقت کی حقیقی نوعیت سے عبارت ہوتی ہیں اور جب اصل حقیقت ہی منطقی استدلال اور عقلی فکر کی رینج سے باہر ہو تو عبارات اور اسلوب اظہار کیا کرسکتا ہے ۔
اس عظیم عملی حقیقت کے صحیح تصور کے لئے اس بات کی ضرورت ہے کہ انسان کو بیک وقت عقلی اور روحانی دنیا کا تجربہ ہو ۔ عملا یہ ہوتا ہے کہ جس شخص کا فطری میلان اسلام کی طرف ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے دل کو اسلام کے لئے کھول دیتا ہے ۔ یہ بات قطعی طور پر اللہ کا فعل ہوتی ہے اس لئے کہ یہ شرح صدر ایک وقوعہ ہے اور کوئی وقوعہ اللہ کی تخلیق کے بغیر ظہور پذیر نہیں ہو سکتا ۔ اور جس کی فطرت ضلالت کی طرف متوجہ ہوتی ہے تو وہ اپنے دل میں تنگی اور گھٹن محسوس کرتا ہے اور اسلام وہدایت کا تصور کرتے ہی وہ مشکل محسوس کرتا ہے ۔ یہ بھی اللہ کا کام ہے کیونکہ یہ بھی ایک وقوعہ ہے اور اس کا ظہور بھی اللہ کی تخلیق اور عملا اس کی مشیت کے بغیر نہیں ہوسکتا ۔ یہ دونوں امور اس ارادے کے تابع ہیں جو اللہ کی ذات انسانوں کے بارے میں فرماتی ہے ۔ لیکن اللہ کے اس ارادے کو جبری ارادہ نہیں کہہ سکتے ۔ یہ ارادہ اللہ کی سنت جاریہ کے مطابق ہے ۔ وہ سنت یہ ہے کہ اللہ نے حضرت انسان کو ایک مخصوص مقدار میں آزادی عطا کرکے اسے آزمائش میں ڈال دیا ہے اور اللہ کی یہ سنت اور یہ تقدیر انسان کی جانب سے اس آزادی کے استعمال کے نتیجے میں اپنا کام کرتی ہے ۔ رہی ہدایت وضلالت تو یہ انسان کے خود اپنے رجحان اور صلاحیت پر مبنی ہے ۔
اگر ہم ایک عقلی صغری کے مقابلے میں ایک عقلی کبری لائیں اور ان صغری اور کبری کے قضیوں کے ساتھ روحانی اور باطنی علم کو نہ ملائیں اور نہ ہی اس کے ساتھ انسان کے عملی اور نفسیاتی تجربات کو شامل کریں تو ہم اس عظیم حقیقت کو اپنے ادراک کے دائرے میں نہیں لا سکتے ۔ پوری اسلامی تاریخ میں اس مسئلے پر جو بحث وجدال رہا اس کا یہی نتیجہ نکلا ہے ۔
اور طرح اسلام کے علاوہ دوسرے فلسفوں کا نتیجہ بھی ایسا ہی رہا ہے ۔ لہذا اس مسئلے کو سمجھنے کے لئے ہمیں عملی اور روحانی ذوق کو بھی استعمال کرنا ہوگا ۔ ایسا ذوق جو اس حقیقت کو منطقی صغری وکبری سے نکل کر براہ راست پاسکے ۔
اب ہم دوبارہ سیاق قرآن کی طرف لوٹتے ہیں ۔ اس سبق کی یہ لہر سابق بیان پر بطور تبصرہ وارد ہوئی ۔ سابق بیان ذبیحوں کی حلت اور حرمت کے بارے میں تھا لیکن یہ تمام امور دراصل ایک ہی پیکج کے مختلف حصے ہیں ۔ انسان کے اندر دینی شعور کی تعمیر ‘ انسان کے لئے قانون اور اقتدار کی تجویز ‘ انسان پر اللہ کی حاکمیت کا تصور اور ان سب کو دائرہ ایمان کے اندر لا کر ایک ہی پیکج بنا دینا ۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں ایمان اور کفر اور ہدایت وضلالت کے مضمون کو بھی بیچ میں بیان کردیا گیا ۔ اب آخر میں ایک دوسرا تبصرہ آتا ہے جس کے نتیجے میں یہ تمام امور باہم مربوط ہوجاتے ہیں ۔ ان امور کا مجموعہ صراط مستقیم کہلاتا ہے ۔ اگر ان امور میں سے کوئی ایک بھی ترک کردیا گیا تو گویا انسان نے صراط مستقیم کو ترک کردیا ۔ یعنی عقیدہ توحید و شعور بھی اس کا حصہ ہے اور اس راستے پر جا کر انسان دارالسلام تک پہنچتا ہے ۔ اور دارالسلام میں اللہ اہل ایمان کا دوست وولی ہوتا ہے ۔
(آیت) ” نمبر 126۔ 127۔
یہ ہے صحیح راستہ اور تیرے رب کا راستہ ” تیرے رب “ کا لفظ نہایت ہی اطمینان بخش اور تفشی بخش ہے ۔ دل مومن کو اعتماد اور یقین سے بھر دینے والا ہے اور ایک اچھے انجام کے لئے خوشخبری ہے ۔ یعنی یہ ہے ہدایت وضلالت کے بارے میں سنت الہیہ اور یہ ہے اسلام کا قانون حلال و حرام اور یہ دونوں دین اسلام کا حصہ ہیں اور سیاق قرآن میں اسی لئے انہیں یکجا اور ایک ٹکڑا بنایا گیا ہے ۔
ہم نے تو ان آیات الہیہ کو نہایت ہی واضح کرکے بیان کردیا ہے لیکن ان سے استفادہ وہی لوگ کرسکیں گے جو ان کو بھلائیں گے نہیں بلکہ یاد رکھیں گے ۔ اس لئے کہ دل مومن تو یاد کرنے والا ہے ‘ بھولنے والا نہیں ہے ۔ نیز دل مومن ہمیشہ ہدایت کے لئے کھلا رہتا ہے ۔ وہ زندہ ہوتا ہے اور بات سنتا ہے ‘ مردوں کی طرح نہیں ہوتا ۔
پھر جو لوگ یاد کرتے ہیں اور نصیحت پکڑتے ہیں ان کے لئے ان کے رب کے نزدیک دارالسلام ہے جہاں وہ تسلی اور تشفی سے رہیں گے ۔ اس امن و طمانیت کی ضمانت اللہ دیتا ہے جو کسی کے عمل کو ضائع نہیں کرتا ۔ وہ ان کا ولی اور مددگار ہے اس لئے کہ وہ صحیح راستے پر عمل کرتے ہیں اور آزمائش دنیا میں ان کی کامیابی پر یہ ان کے لئے انعام ہے ۔
یہاں آکر ہم ایک بار پھر اپنے آپ کو ایک عظیم حقیقت کے سامنے کھڑا پاتے ہیں ۔ اس حقیقت کا تعلق اس دین کے نظریاتی پہلو سے ہے اور یہ حقیقت اسلام کے ان نظریات اور اللہ کے حق حاکمیت پر مشتمل ہے جن کے اوپر اللہ کا سیدھا راستہ استوار ہوتا ہے ۔ یہ اس دین کا حقیقی مزاج ہے اور اسی پر اسے اللہ رب العالمین نے استوار کیا ہے ۔
درس 69 ایک نظر میں :
یہ پورا مضمون درس سابق ہی کے ساتھ ملحق ہے ‘ بلکہ یہ اسی کا تسلسل ہے ۔ اور یہ اسی طرح ہے جس طرح سمندر میں لہر کے بعد لہر اٹھتی ہے ۔ اس میں شیاطین جن اور شیاطین انس کے انجام کا بیان کیا گیا ہے اور یہ انجام اس اچھے انجام کے بالمقابل بیان ہوا ہے جو ان لوگوں کا ہوگا جو صراط مستقیم پر قائم ہوں گے ۔ اس جگہ اس کا ذکر اس مناسبت سے ہوا ہے کہ یہاں اللہ کی حاکمیت اور اس کے حق قانون سازی کا مضمون چل رہا تھا اور یہ مسائل وہ ہیں جن کا تعلق دین اسلام کے بنیادی اور ایمانی تصورات کے ساتھ ہے ، مقصد یہ بتلانا ہے کہ یہ مسائل محض سیانی اور دنیاوی مسائل نہیں ہیں بلکہ یہ ایمانیات کے ساتھ متعلق ہیں اور ان پر اخروی جزاوسزا بھی مرتب ہوتی ہے یعنی دنیا میں تبلیغ اور دعوت اور ڈراوے کے بعد انسان جو بھی کمائے گا اس پر تمام لوگوں کا انجام ہوگا ۔ اگر لوگوں کے کسب وعمل کو دخل نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ تو اس بات پر پوری پوری قدرت رکھتا ہے کہ شیاطین اور ان کی دوست اقوام کو صفحہ ہستی سے مٹا دے اور ان کی جگہ دوسری فرمانبردار اقوام کو لے کو آئے کیونکہ پوری دنیا کی آبادی اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی ۔ یہ تمام امور نظریاتی عقائد کے ساتھ متعلق ہیں ۔ اور ان کو ذبیحوں کے حلال و حرام کی بحث کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے ۔ اس بحث سے قبل بھی اور بعد میں بھی ۔ ذبیحوں کے بیان کے بعد پھلوں اور مویشیوں اور اولاد کی نذر کے مسئلے کو بھی یہاں لیا گیا ہے ‘ اس کا بھی یہاں نظریاتی پہلو ہے اور جاہلیت کے مختلف ادوار میں یہ رسوم کچھ نظریات پر مبنی تھیں ۔ اس طرح یہ تمام مباحث ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ اور پیوستہ نظر آتے ہیں ۔ اور یہ مسئلہ اسلامی نظام میں اس کی حقیقی حیثیت اور مقام میں نظر آتا ہے ۔ ان سب کے اندر مشترکہ صفت یہ ہے کہ ان تمام مسائل کا ایک نظریاتی پہلو ہے اور وہ یہ کہ اسلامی نظریہ حیات کے مطابق حلال و حرام کے تعین کا اختیار صرف اللہ کو ہے ۔
درس نمبر 69 تشریح آیات :
128۔۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔ 135۔
اس سے پہلے سبق میں یہ بات گزری ہے کہ اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کے دلوں کو اسلام کے لئے کھول دیتا ہے ۔ ایسے لوگوں کے دل بیدار ہوتے ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے رہتے ہیں ۔ یہ لوگ دارالسلام میں داخل ہوتے ہیں اور اپنے رب کی ولایت اور کفالت میں رہتے بستے ہیں ۔ اب یہاں ایسے لوگوں کا ذکر کیا جاتا ہے جو ان کے نقیض ہیں ۔ قیامت کے مناظر بیان کرتے ہوئے قرآن کریم کا یہی انداز ہوتا ہے کہ وہ تصویر کے دونوں رخ انسان کے سامنے پیش کرتا ہے ۔ اب یہاں انسانوں اور جنوں میں سے جو لوگ شیطانی کام کرتے ہیں ان کے شب وروز کا ذکر کیا جاتا ہے ‘ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے دنیا میں ایسی زندگی گزاری ہے کہ یہ ایک دوسرے کو کھوٹی باتیں بتاتے رہے ہیں ۔ ایک دوسرے کو دھوکہ دیتے رہے ہیں اور یہ کام وہ اس لئے کرتے رہے ہیں کہ لوگ گمراہ ہوں ۔ ان لوگوں کا رویہ ہمیشہ یہ رہا ہے کہ یہ لوگ نبیوں کے مقابلے میں ایک دوسرے کے پشتیبان بنیں اور یہ لوگ ایک دوسرے کو مشورے دیتے رہے ہیں تاکہ وہ مسلمانوں کے ساتھ ان معاملات میں بحث و مباحثہ کریں جن میں اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے حلال و حرام کا تعین کیا ہے ۔ ان لوگوں کو قرآن کریم نے اس طرح پیش کیا ہے جس طرح ایک زندہ اور متحرک منظر میں کوئی چلتا پھرتا نظر آتا ہے ۔ یہ لوگ اس منظر میں ایک دوسرے پر الزام لگاتے ہوئے نہایت ہی منائف نظر آئے ۔ غرض اس آیت میں وہ مناظر بھر پور انداز میں آگئے جس طرح کہ قرآن کریم ہر جگہ مناظر قیامت کے بیان کے وقت یہ انداز عموما اختیار کرتا ہے ۔
(آیت) ” نمبر 128 تا 130۔
یہ منظر براہ راست مستقبل کے واقعات سے شروع ہوتا ہے ‘ جب اللہ تعالیٰ سب کو گھیر کر میدان حشر میں جمع کرے گا ‘ لیکن سننے والے کے لئے یہ صورت پیدا ہوجاتی ہے کہ وہ اس منظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکے اور وہ اس کی آنکھوں کے سامنے ہو اور یہ تخیل اور تصور صرف ایک لفظ (اور کہے گا) کے حذف سے سامنے آتا ہے یعنی ” اور جس روز ان سب کو گھیر کر جمع کرلے گا (اور یہ کہے گا) اے گروہ جن “۔ صرف لفظ کہے گا کے حذف سے مفہوم ایک منظر کی شکل میں نظروں کے سامنے آکھڑا ہوجاتا ہے اور وہ منظر جو مستقبل میں وقوع پذیر ہونے والا تھا فی الواقع سامنے آجاتا ہے اور یہ انداز بیان قرآن کریم کے ساتھ مخصوص ہے ۔ اب ذرا اس منظر کی تفصیلات ملاحظہ فرمائیں ۔
(آیت) ” یَا مَعْشَرَ الْجِنِّ قَدِ اسْتَکْثَرْتُم مِّنَ الإِنسِ “ (6 : 128)
” اے گروہ جن ! تم نے نوع انسانی پر خوب ہاتھ صاف کیا ۔ “ یعنی تم نے انسانوں کی اکثریت کو اپنا تابع بنا لیا ۔ وہ تمہاری ہدایات واشارات پر چلتے رہے اور تمہاری وسوسہ اندازیوں پر خوب یقین کرتے رہے ۔ تمہارے منصوبوں پر چلتے رہے ۔ یہ صورت واقعہ کا ایسا بیان ہے کہ جس سے مقصد صرف یہ نہیں ہے کہ صرف واقعہ بیان کرنا مطلوب ہے اس لئے کہ جن اس بات کو خوب جانتے تھے کہ انہوں نے انسانوں کی ایک بڑی اکثریت کو گمراہ کردیا ہے بلکہ اس واقعی صورت حال کے بیان سے مقصد یہ ہے کہ یہ تمہارا بہت ہی بڑا جرم ہے کہ تم نے انسانوں کی اتنی بڑی اکثریت کو گمراہ کردیا ہے ۔ مقصد یہ ہے کہ وہ اپنے اس جرم کو دیکھ کر پشیمان ہوجائیں ۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں جنات کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ۔ البتہ وہ لوگ جواب دیتے ہیں جنہیں دھوکہ دیا گیا اور جو بسہولت ان شیاطین کے وسوسوں کا شکار ہوجاتے تھے ۔ یہ لوگ یوں جواب دیتے ہیں ۔
(آیت) ” وَقَالَ أَوْلِیَآؤُہُم مِّنَ الإِنسِ رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ وَبَلَغْنَا أَجَلَنَا الَّذِیَ أَجَّلْتَ لَنَا “ (6 : 128)
” انسانوں میں سے جو ان کے رفیق تھے وہ عرض کریں گے پروردگار ! ہم میں سے ہر ایک نے دوسرے کو خوب استعمال کیا ہے ‘ اور اب ہم اس وقت آپہنچے ہیں جو تو نے ہمارے لئے مقرر کردیا ہے ۔ “
اس جواب سے ان غافلوں کی غفلت اور ان کے ہلکے پن کا اندازہ ہوتا ہے اور اس دنیا میں شیطان انسانوں کو جس راہ پر گمراہ کرتا ہے اس کا اندازہ بھی خوب ہوجاتا ہے ۔ یعنی جب جنات ان لوگوں کو دھوکہ دے رہے تھے تو یہ دھوکہ کھانے والے بھی انہیں اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتے تھے ۔ یوں یہ جنات ان افکار و تصورات کو ان لوگوں کے لئے خوشنما بناتے تھے ۔ اس طرح یہ لوگ ظاہر اور باطنی بدکاریوں میں مبتلا ہوجاتے تھے ۔ گویا شیطان عیاشیوں کے راستے سے انسان کو گمراہ کرتا ہے ۔ اس طرح اس دھوکے اور گراہ سازی کے ذریعے یہ شیاطین بھی خوب لفط اندوز ہوتے تھے ۔ یوں شیطان ان کو اپنی ہوس کا شکار بناتا اور ان سے کھیلتا اور ان کو اس جہان میں ابلیسی مقاصد کے لئے استعمال کرتا ۔ جبکہ یہ دھوکہ کھانے والے یہ سمجھتے کہ ہم نے شیطان کو گمراہ کردیا ہے ۔ اس طرح یہ خود بھی اس کھیل میں مشغول ہوتے ‘ دلچسپی لیتے اور لطف اندوز ہوتے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کہتے تھے ۔
(آیت) ” استمتع بعضنا ببعض “۔ (ہم ایک دوسرے سے خوب لطف اندوز ہوتے ۔ ) چناچہ مرنے تک ہماری یہی عیاشی جاری رہی اور پھر اچانک موت آگئی ۔ اور اب وہ جان رہے ہیں کہ یہ مہلت تو اللہ تعالیٰ نے دی تھی اور یہ جو عیاشیاں کرتے تھے ‘ اس وقت بھی دراصل وہ پوری طرح اللہ کے قبضہ قدرت میں تھے ۔ (اور اب ہم اس وقت پر آپہنچے ہیں جو تو نے ہمارے لئے مقرر کیا ہے ) اب اس مقام پر اللہ کی جانب سے فیصلہ کن جواب آتا ہے :
(آیت) ” قَالَ النَّارُ مَثْوَاکُمْ خَالِدِیْنَ فِیْہَا إِلاَّ مَا شَاء اللّہُ إِنَّ رَبَّکَ حَکِیْمٌ عَلیْمٌ(128)
” اللہ فرمائے گا ” اچھا اب آگ تمہارا ٹھکانا ہے ‘ اس میں تم ہمیشہ رہو گے ۔ “ اس سے بچیں گے صرف وہی جنہیں اللہ بچانا چاہے گا ‘ بیشک تمہارا رب دانا اور علیم ہے ۔ “
یعنی تمہارا ٹھکانا جہنم ہے ۔ یہاں تمہارا قیام ہوگا اور یہ قیام دائمی ہوگا ‘ (الا ما شاء اللہ (6 : 128) اور یہ لفظ (الا ماشاء اللہ (6 : 128) یہاں اس لئے استعمال ہوا ہے کہ اللہ کی مشیت مطلق ہے ‘ بےقید ہے ۔ اسلامی تصورات و عقائد میں اللہ مشیت کا بےقید ہونا ایک اساسی اصول ہے ۔ نہ اس پر کوئی چیک ہے اور نہ اس میں کوئی نقص ہے کیونکہ اللہ دانا اور علیم ہے اور وہ اپنی مشیت اور تقدیر کو پورے علم کے ساتھ چلاتا ہے ۔ اس کے علم کے ساتھ حکمت بھی موجود ہے ۔ اس منظر کے خاتمے سے پہلے اس منظر پر ایک تبصرہ سامنے آتا ہے اور یوں ایک حکمت ہمارے ہاتھ میں دے دی جاتی ہے ۔
(آیت) ” وَکَذَلِکَ نُوَلِّیْ بَعْضَ الظَّالِمِیْنَ بَعْضاً بِمَا کَانُواْ یَکْسِبُونَ (129)
” دیکھو اس طرح (آخرت میں) ہم ظالموں کو ایک دوسرے کا ساتھی بنائیں گے ۔ اس کمائی کی وجہ سے جو وہ (دنیا میں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کرتے تھے ) ۔
یعنی یہ بات قابل عبرت ہے کہ جنوں اور انسانوں کے درمیان اس طرح دوستی قائم ہوجاتی ہے اور اس دوستی کا یہ انجام ہوتا ہے ۔ اس طرح اللہ انہیں ایک دوسرے کے لئے ساز گار بنا دیتا ہے ۔ خود ان کی اپنی کمائی کی وجہ سے وہ ایک دوسرے کے دوست بن جاتے ہیں ‘ اس لئے کہ ان کے مزاج اور ان کی خواہشات ایک دوسرے کے ساتھ مل جاتی ہیں ۔ انکے رجحانات اور اہداف ایک ہوتے ہیں اور پھر ان کا انجام بھی ایک جیسا ہوتا ہے ۔
یہ تعقیب اور اس میں بیان کردہ حقیقت اس وقت کے موجودہ حالات کے مقابلے میں زیادہ دور رس نتائج کی حامل ہے ۔ اس میں جنی اور انسی شیطانوں کے درمیان پائے جانے والے رابطے اور دوستی کی اصل حقیقت سے پردہ اٹھایا گیا ہے اس لئے کہ وہ لوگ جو ظالم ہیں اور کسی نہ کسی صورت میں شرک کرتے ہیں ‘ وہ سچائی اور ہدایت کے مقابلے میں اکٹھ کرلیتے ہیں اور ان لوگوں کا وطیرہ یہ ہے کہ یہ لوگ ہمیشہ نبی اور اس کے ساتھیوں کے مقابلے میں آکر کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ جس طرح ان لوگوں کی فطرت اور مزاج ایک ہے ‘ اگرچہ شکلیں مختلف ہوں ‘ اسی طرح ان کے اغراض ومقاصد بھی ایک ہوتے ہیں اور ان کے اغراض واہداف یہ ہوتے ہیں یعنی اللہ کے مقابلے میں اپنا حق حاکمیت چلاتے ہیں اور خواہشات نفسانیہ اور عیاشی کے معاملے میں کوئی حد اور قید قبول نہیں کرتے ‘ یعنی اللہ کے جانب سے حدود وقیود۔
یہ لوگ ہر دور میں ایک گروہ اور ایک بلاک ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے مددگار ہوتے ہیں حالانکہ خود ان کے درمیان باہم مقاصد ایک ہوتے ہیں اور اس کی وجہ سے ان کے درمیان باہم محبت ہوتی ہے اس لئے جس طرح گزشتہ منظر میں بتایا گیا ان کا انجام بھی ایک ہی ہوتا ہے ۔
آج کے دور میں ایک طویل عرصے سے ہم اس بات کا مشاہد کر رہے ہیں کہ انسانی شیطان مثلا صیلبی ‘ صہیونی ‘ بت پرست اور اشتراکی ‘ مختلف مفادات اور مختلف بلاکوں کے ممبر ہوتے ہوئے بھی باہم دوست ہیں اور باہم معاون و مددگار ہیں ۔ ان کا یہ اتحادواتفاق اسلام اور اسلامی تحریکات کے دستوں کے خلاف ہے اور یہ پوری دنیا پر موجود ہے ۔
عملایہ ایک خوفناک گٹھ جوڑ ہے ۔ یہ گٹھ جوڑ کرنے والے وہ لوگ ہیں جن کو صدیوں تک اسلام کے مقابلے میں محاربت کا تجربہ ہے ۔ یہ لوگ مادی اور علمی معاشرتی قوتوں اور تمام دوسرے سازو سامان کے ساتھ اسلام کے مقابلے میں معرکہ آراء ہیں اور اپنی مکارانہ شیطانی چالوں کے ساتھ مصروف عمل ہیں ۔ اس گٹھ جوڑ پر اللہ کا یہ فرمان آج اچھی طرح چسپاں ہوتا ہے ۔ ” اور ہم ظالموں کو اسی طرح ایک دوسرے کا ولی بناتے ہیں اس کمائی کی وجہ سے جو وہ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کرتے ہیں ۔ “ اس گٹھ جوڑ پر حضور اکرم ﷺ کی تسلی کے لئے آنے والی یہ آیت صادق آتی ہے ۔
(آیت) ” ولوشاء اللہ مافعلوہ فذرھم وما یفترون “۔ ” اگر اللہ چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے پس آپ ان کو چھوڑ دیجئے جو چاہیں افراء باندھیں) لیکن اس تسلی کے تقاضے تب ہی پورے ہوں گے کہ دنیا میں حضور ﷺ کے نقش قدم پر چلنے والا ایک گروہ موجود ہو اور یہ معلوم ہو کہ یہ گروہ حضور کے ساتھیوں کا قائم مقام ہے ۔ دین پر دشمنوں کے حملوں کی راہ میں کھڑا ہے ۔ اب ذرا دوبارہ آیات قرآنیہ کی طرف آئیے ۔
(آیت) ” َا مَعْشَرَ الْجِنِّ وَالإِنسِ أَلَمْ یَأْتِکُمْ رُسُلٌ مِّنکُمْ یَقُصُّونَ عَلَیْْکُمْ آیَاتِیْ وَیُنذِرُونَکُمْ لِقَاء یَوْمِکُمْ ہَـذَا قَالُواْ شَہِدْنَا عَلَی أَنفُسِنَا وَغَرَّتْہُمُ الْحَیَاۃُ الدُّنْیَا وَشَہِدُواْ عَلَی أَنفُسِہِمْ أَنَّہُمْ کَانُواْ کَافِرِیْنَ (130)
”(اس موقع پر اللہ ان سے یہ بھی پوچھے گا کہ) اے گروہ جن وانس ! کیا تمہارے پاس خود تم ہی میں سے ہو پیغمبر نہیں آئے تھے جو تم کو میری آیات سناتے اور اس دن کے انجام سے ڈراتے تھے ۔ “ وہ کہیں گے ” ہاں ! ہم اپنے خلاف خود گواہی دیتے ہیں ۔ “ آج دنیا کی زندگی نے ان لوگوں کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے ۔ مگر اس وقت وہ خود اپنے خلاف گواہی دیں گے کہ وہ کافر تھے ۔ “
یہ استفہام تقریری ہے ۔ یہ اس لئے نہیں ہے کہ اللہ ان لوگوں سے معلومات حاصل کرنا چاہتے تھے کہ آیا رسول آئے تھے یا نہیں ۔ اللہ تو خوب جانتے تھے کہ کیا ہوچکا ہے ۔ ان کی جانب سے اقرار اور استشہاد درحقیقت ان کی سزا کے لئے وجہ جواز ہے ۔ یہ بتانا مقصود ہے کہ یہ سزا ان کے لئے عادلانہ سزا ہے ۔ وہ اس کے مستحق ہیں ۔
خطاب جس طرح جنوں سے ہے اسی طرح انسانوں سے ہے ۔ سوال یہ ہے کہ جنوں کے پاس بھی خود ان کے ہم جنس رسول بھیجے گئے تھے ؟ جس طرح انسانوں کے پاس انسان آئے تھے ۔ جن انسانوں سے پوشیدہ مخلوق ہے اور ان کے اصل حالات سے تو صرف اللہ خبر رکھتا ہے ۔ رہی یہ آیت ‘ تو اس کی تفسیر میں کہا جاسکتا ہے کہ جنات بھی رسول اللہ ﷺ پر نازل ہونے والے کلام کو سنتے تھے ۔ پھر جا کر اپنی قوم کو ڈراتے تھے اور خوشخبری بھی سناتے تھے ۔ اس کی تفصیلات احقاف میں قرآن نے دی ہیں : ۔
” اور وہ واقعہ بھی قابل ذکر ہے جب ہم جنوں کے ایک گروہ کو تمہاری طرف لے آئے تھے تاکہ وہ قرآن سنیں ۔ جب وہ اس جگہ پہنچے (جہاں تم قرآن پڑھ رہے تھے) تو انہوں نے آپس میں کہا خاموش ہوجاؤ ‘ پھر جب وہ پڑھا جا چکا تو وہ خبردار کرنے والے بن کر اپنی قوم کی طرف پلٹے ۔ انہوں نے جاکر کہا : ” اے ہماری قوم کے لوگو ‘ ہم نے ایک کتاب سنی ہے جو موسیٰ کے بعد نازل کی گئی ہے ‘ تصدیق کرنے والی ہے اپنے سے پہلے آئی ہوئی کتابوں کی ‘ راہنمائی کرتی ہے حق اور راہ راست کی طرف ‘ اے ہماری قوم کے لوگو ‘ اللہ کی طرف بلانے والی دعوت قبول کرلو ‘ اور اس پر ایمان لے آؤ اور اللہ تمہارے گناہوں سے درگزر فرمائے گا اور تمہیں عذاب الیم سے بچا لے گا ۔ “ اور جو کوئی اللہ کے داعی کی بات نہ مانے وہ نہ زمین میں خود کوئی بل بوتا رکھتا ہے کہ اللہ کو زچ کردے اور نہ اس کے کوئی ایسے حامی و سرپرست ہیں کہ اللہ سے اس کو بچائیں ایسے لوگ گمراہی میں پڑے ہیں ۔ “ (46 : 29 تا 32)
ہو سکتا ہے کہ یہ سوال و جواب ان انسانوں اور جنوں سے ہو رہا ہو جو اس طرح کھڑے تھے ۔ بہرحال اصل علم اللہ ہی کو ہے ۔ یہاں ہم اس سے زیادہ نہیں کہہ سکتے ۔ اس سے زیادہ اس مسئلے پر بحث کرنے کا کچھ فائدہ بھی نہیں ہے ۔
بہرحال جن وانس میں سے جن لوگوں سے سوال کیا گیا تھا ‘ وہ جانتے تھے کہ یہ محض استفسار کے لئے نہیں ہے بلکہ یہ فرد قرار داد جرم ہے ۔ ان کے جرم کا ریکارڈ تیار ہو رہا ہے اور یہ سوال و جواب محض زجرو توبیخ کے لئے ہیں ۔ چناچہ انہوں نے پورا پورا اعتراف کرلیا اور اس بات کا اقرار کرلیا جس کے وہ مستحق تھے ۔
(آیت) ” قَالُواْ شَہِدْنَا عَلَی أَنفُسِنَا (130) ” انہوں نے کہا ہم خود اپنے اوپر گواہی دیتے ہیں ۔ “ اب یہاں اس منظر پر ایک مبصرسامنے آتا ہے اور کہتا ہے ۔
(آیت) ” وَغَرَّتْہُمُ الْحَیَاۃُ الدُّنْیَا وَشَہِدُواْ عَلَی أَنفُسِہِمْ أَنَّہُمْ کَانُواْ کَافِرِیْنَ (130)
” آج دنیا کی زندگی نے ان لوگوں کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے ۔ مگر اس وقت وہ خود اپنے خلاف گواہی دیں گے کہ وہ کافر تھے ۔ “
یہ تبصرہ دنیا میں ان کے حالات پر خوب منطبق ہوتا ہے ۔ دراصل اس دنیاوی زندگی کی بوقلمونیوں نے انہیں دھوکہ دے رکھا ہے اور اس دھوکے کی وجہ سے وہ کفر میں مبتلا ہیں ۔ اب وہ قیامت کے دن سب کچھ دیکھ لینے کے بعد مجبور ہیں کہ اپنے اوپر کی شہادت دیں کیونکہ یہاں انکار اور مکابرہ کرنے سے کچھ حاصل ہونے کی امید نہیں ہے ۔ اس سے بڑی مایوس کن صورت حالات اور کیا ہو سکتی ہے کہ انسان اپنے آپ کو ایسے حالات میں گھرا ہوا پائے کہ خود اپنا دفاع بھی نہ کرسکتا ہو ۔ نہ انکار کی تاب ہو ۔ اور نہ کوئی عذر ومعذرت اس کے پاس ہو۔
اب ذرا ملاحظہ ہو قرآن کریم کا انداز بیان ۔ مشاہدہ قیامت کا جو تصویری نقشہ قرآن پیش کرتا ہے اس کا کوئی جواب نہیں ہے ۔ مستقبل میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات کا نقشہ یوں کھینچ دیا جاتا ہے کہ انسان منظر کو اسکرین پر دوڑتا محسوس کرتا ہے ۔ مستقبل کے بجائے قرآں کریم ان مناظر کے لئے ماضی کا صیغہ استعمال کرتا ہے ‘ گویا یہ مناظر دکھلائے جا چکے ہیں ۔
یہ قرآن ہم اس دنیا میں پڑھ رہے ہیں ‘ بلکہ آج پڑھ رہے ہیں ‘ ابھی قیامت تو واقعہ ہی نہیں ہوئی ۔ ابھی تو ہم اس کرہ ارض پر ہیں لیکن یوں نظر آتا ہے کہ یہ منظر نظروں کے سامنے ہے بلکہ یہ منظر ہم دیکھ چکے ہیں ۔ ایک دیکھے ہوئے منظر کی حکایت ہو رہی ہے اور ہم اپنے حافظہ سے یاد تازہ کر رہے ہیں ۔ انسان یہ بات بھول جاتا ہے کہ اس منظر کو تو ابھی آنا ہے ۔ لیکن بات یوں ہو رہی ہے کہ شاید کوئی تاریخی واقعہ دہرایا جا رہا ہے ۔
(آیت) ” وَغَرَّتْہُمُ الْحَیَاۃُ الدُّنْیَا وَشَہِدُواْ عَلَی أَنفُسِہِمْ أَنَّہُمْ کَانُواْ کَافِرِیْنَ (130)
”’ آج دنیا کی زندگی نے ان لوگوں کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے ۔ مگر اس وقت وہ خود اپنے خلاف گواہی دیں گے کہ وہ کافر تھے ۔ “
یہ انداز تخیل کے عجائبات میں سے ہے ۔
اب اس منظر کا خاتمہ ہوتا ہے اور روئے سخن حضور اکرم ﷺ کی طرف پھرجاتا ہے ۔ آپ کو خطاب کر کے اہل ایمان کو سمجھایا جاتا ہے اور اہل ایمان کے بعد قیامت تک آنے والے مومنین کو بتایا جاتا ہے کہ جن وانس کے اس انجام میں تمہارے لئے یہ سبق ہے ۔ یہ عظیم مخلوق جو جہنم کی طرف جارہی ہے اور تم اس منظر میں دیکھ رہے ہو کہ وہ خود اپنے خلاف اقرار جرم کر رہے ہیں کہ بیشک رسول آئے تھے ‘ انہوں نے اللہ کی پوری پوری ہدایات ہمیں سنائی تھیں ۔ اس برے انجام سے ہمیں پہلے ہی خبردار کردیا گیا تھا ۔ مومنین کو خبردار کیا جاتا ہے کہ اللہ کسی پر ظلم نہیں کرتا بلکہ وہ تو ان پر حجت تمام کرتا ہے ‘ ان کو بذریعہ رسل خواب غفلت سے جگانے کی کوشش کرتا ہے ۔ خوشخبر بھی دیتا ہے اور انجام بد سے ڈراتا بھی ہے ۔
(آیت) ” نمبر 131۔
اللہ کی رحمت کا یہ تقاضا ہے کہ وہ لوگوں کو شرک ‘ کفر اور نافرمانی پر اس وقت تک سزا نہ دے جب تک ان تک رسولوں کے ذریعے اپنا پیغام پہنچا نہ دے حالانکہ اللہ نے لوگوں کی فطرت کے اندر یہ صلاحیت ودیعت کردی تھی کہ وہ از خود اپنے رب کی طرف متوجہ ہوں اور اس کی تلاش کریں ۔ یہ انتظام اس لئے کیا گیا کہ انسانی فطرت بعض اوقات صحیح راہ کو تم کردیتی ہے ۔ انسان کے فطری رجحانات کے علاوہ اللہ نے انسان کو عقلی قوت دے کر بھی ایک امتیاز بخشا لیکن اللہ نے اس عقلی قوت کے باوجود رسول بھیجے اس لئے کہ عقلی قوت بھی نفسانی خواہشات کے نتیجے میں بسا اوقات دب جاتی ہے نیز اس کائنات کے مشاہد ومناظر کے اندر بیشمار دلائل ایسے موجود تھے جو انسان کو دعوت فکر دیتے تھے لیکن انسان کی عقلی اور ادراکی قوتیں بسا اوقات معطل ہوجاتی ہیں ۔
ان وجوہات کی بنا پر اللہ نے انسانی فطرت ‘ انسانی عقل اور انسانی مشاہدے کو رسولوں کی دعوت کے ساتھ منسلک کردیا تاکہ انسان کی ان قوتوں کو فساد سے بچایا جاسکے ، یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تب ہی لوگوں کو عذاب دیتا ہے جب رسولوں کی دعوت کسی تک پہنچ جائے اور ان پر حجت تمام ہوجائے ۔
اس حقیقت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کے ساتھ کس قدر رحیمانہ اور کریمانہ سلوک کرتا ہے ۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انسان صرف اپنی قوت ادراک اور عقلی قوتوں کے بل بوتے پر راہ ہدایت نہیں پاسکتا ۔ نہ وہ یقین حاصل کرسکتا ہے اور نہ ہی عقل اور ادراک کے ذریعے اپنی شہوانی قوتوں کو ضابطے کا پابند کرسکتا ہے ، یہ قوتیں تب ہی کام کرسکتی ہیں جب ان کی پشت پر دین اور عقیدے کی قوت موجود ہو۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ جزا و سزا کے بارے میں ایک دوسرے اہم اصول کا ذکر فرماتا ہے اور یہ اصول اہل ایمان اور جن و شیاطین سب کے لئے ہے ۔