آیت 152 وَلاَ تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ الاَّ بالَّتِیْ ہِیَ اَحْسَنُ حَتّٰی یَبْلُغَ اَشُدَّہٗ ج۔یتیم کے مال کو ہڑپ کرنا یا اپنا ردّی مال اس کے مال میں ملاکر اس کے اچھے مال پر قبضہ کرنے کا حیلہ کرنا بھی حرام ہے۔ بنیادی طور پر تو یہ مکی دور کے احکام ہیں لیکن یتیموں کے حقوق کی اہمیت کے پیش نظر مدنی سورتوں میں بھی اس بارے میں احکام آئے ہیں ‘ مثلاً سورة البقرۃ ‘ آیت 220 اور سورة النساء آیت 2 میں بھی یتیموں کے اموال کا خیال رکھنے کی تاکید کی گئی ہے ‘ جو اس سے قبل ہم پڑھ چکے ہیں۔وَاَوْفُوا الْکَیْلَ وَالْمِیْزَان بالْقِسْطِج لاَ نُکَلِّفُ نَفْسًا الاَّ وُسْعَہَا ج۔یعنی بغیر کسی ارادے کے اگر کوئی کمی بیشی ہوجائے تو اس پر گرفت نہیں۔ جیسے دعا کے لیے ہمیں یہ کلمات سکھائے گئے ہیں : رَبَّنَا لاَ تُؤَاخِذْنَآ اِنْ نَّسِیْنَا اَوْ اَخْطَاْنَا ج البقرۃ : 286 اے ہمارے ربّ ! اگر ہم بھول جائیں یا ہم سے خطا ہوجائے تو ہم سے مؤاخذہ نہ کرنا۔ لیکن اگر جان بوجھ کر ذرا سی بھی ڈنڈی ماری تو وہ قابل گرفت ہے۔ اس لیے کہ عملاً معصیت کا ارتکاب کرنا در حقیقت اس بات کا ثبوت ہے کہ یا تو تمہیں آخرت کا یقین نہیں ہے یا پھر یہ یقین نہیں ہے کہ اللہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔ گویا عمداً ذرا سی منفی جنبش میں بھی ایمان کی نفی کا احتمال ہے۔ وَاِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوْا وَلَوْ کَانَ ذَا قُرْبٰی ج وَبِعَہْدِ اللّٰہِ اَوْفُوْا ط۔تمہاری بات چیت کھری اور انصاف پر مبنی ہو۔ اس میں جانبداری نہیں ہونی چاہیے ‘ چاہے قرابت داری ہی کا معاملہ کیوں نہ ہو۔ اسی طرح اللہ کے نام پر ‘ اللہ کے حوالے سے ‘ اللہ کی قسم کھا کر جو بھی عہد کیا جائے اس کو بھی پورا کرو۔ جیسے اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ بھی ایک عہد ہے جو ہم اللہ سے کرتے ہیں۔ ہر انسان نے دنیا میں آنے سے پہلے بھی اللہ سے ایک عہد کیا تھا ‘ جس کا ذکر سورة الاعراف آیت 127 میں ملتا ہے۔ اسی طرح روز مرہ کی زندگی میں بھی بہت سے عہد ہوتے ہیں جن کو پورا کرنا ضروری ہے۔ ذٰلِکُمْ وَصّٰٹکُمْ بِہٖ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ۔یہ وہ چیزیں ہیں جو دین میں اہمیت کی حامل اور انسانی کردار کی عظمت کی علامت ہیں۔ یہ انسانی تمدن اور اخلاقیات کی بنیادیں ہیں۔
یتیموں کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید ابو داؤد وغیرہ میں ہے کہ جب آیت (ولا تقربوا) اور آیت (ان الذین یاکلون اموال الیتامی ظلما) نازل ہوئیں تو اصحاب رسول نے یتیموں کا کھانا پینا اپنے کھانے پینے سے بالکل الگ تھلگ کردیا اس میں علاوہ ان لوگوں کے نقصان اور محنت کے یتیموں کا نقصان بھی ہونے لگا اگر بچ رہا تو یا تو وہ باسی کھائیں یا سڑ کر خراب ہوجائے جب حضور سے اس کا ذکر ہوا تو آیت (فِى الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ ۭ وَيَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْيَتٰمٰي ۭ قُلْ اِصْلَاحٌ لَّھُمْ خَيْرٌ ۭوَاِنْ تُخَالِطُوْھُمْ فَاِخْوَانُكُمْ ۭ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ ۭ وَلَوْ شَاۗءَ اللّٰهُ لَاَعْنَتَكُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ) 2۔ البقرة :220) نازل ہوئی کہ ان کے لئے خیر خواہی کرو ان کا کھانا پینا ساتھ رکھنے میں کوئی حرج نہیں وہ تمہارے بھائی ہیں اسے پڑھ کر سن کر صحابہ نے ان کا کھانا اپنے ساتھ ملا لیا۔ یہ حکم ان کے سن بلوغ تک پہنچنے تک ہے گو بعض نے تیس سال بعض نے چالیس سال اور بعض نے ساٹھ سال کہے ہیں لیکن یہ سب قول یہاں مناسب نہیں اللہ اعلم، پھر حکم فرمایا کہ لین دین میں ناپ تول میں کمی بیشی نہ کرو، ان کے لئے ہلاکت ہے جو لیتے وقت پورا لیں اور دیتے وقت کم دیں، ان امتوں کو اللہ نے غارت کردیا جن میں یہ بد خصلت تھی، جامع ابو عیسیٰ ترمذی میں ہے کہ حضور نے ناپنے اور تولنے والوں سے فرمایا تم ایک ایسی چیز کے والی بنائے گئے ہو، جس کی صحیح نگرانی نہ رکھنے والے تباہ ہوگئے، پھر فرماتا ہے، کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ ہم نہیں لادتے یعنی اگر کسی شخص نے اپنی طاقت بھر کوشش کرلی دوسرے کا حق دے دیا، اپنے حق سے زیادہ نہ لیا، پھر بھی نادانستگی میں غلطی سے کوئی بات رہ گئی ہو تو اللہ کے ہاں اس کی پکڑ نہیں۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ نے آیت کے یہ دونوں جملے تلاوت کر کے فرمایا کہ جس نے صحیح نیت سے وزن کیا، تولا، پھر بھی واقع میں کوئی کمی زیادتی بھول چوک سے ہوگئی تو اس کا مؤاخذہ نہ ہوگا۔ یہ حدیث مرسل اور غریب ہے، پھر فرماتا ہے بات انصاف کی کہا کرو کہ قرابت داری کے معاملے میں ہی کچھ کہنا پڑے۔ جیسے فرمان ہے آیت (يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِيْنَ بالْقِسْطِ شُهَدَاۗءَ لِلّٰهِ) 4۔ النسآء :135) اور سورة نساء میں بھی یہی حکم دیا کہ ہر شخص کو ہر حال میں سچائی اور انصاف نہ چھوڑنا چاہئے۔ جھوٹی گواہی اور غلط فیصلے سے بچنا چاہئے، اللہ کے عہد کو پورا کرو، اس کے احکام بجا لاؤ، اس کی منع کردہ چیزوں سے الگ رہو، اس کی کتاب اس کے رسول کی سنت پر چلتے رہو، یہی اس کے عہد کو پورا کرنا ہے، انہی چیزوں کے بارے اللہ کا تاکیدی حکم ہے، یہی فرمان تمہارے وعظ و نصیحت کا ذریعہ ہیں تاکہ تم جو اس سے پہلے نکمے بلکہ برے کاموں میں تھے، اب ان سے الگ ہوجاؤ۔ بعض کی قرأت میں (تذکرون) بھی ہے۔