سورۃ الانعام (6): آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں۔ - اردو ترجمہ

اس صفحہ میں سورہ Al-An'aam کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الأنعام کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔

سورۃ الانعام کے بارے میں معلومات

Surah Al-An'aam
سُورَةُ الأَنۡعَامِ
صفحہ 149 (آیات 152 سے 157 تک)

وَلَا تَقْرَبُوا۟ مَالَ ٱلْيَتِيمِ إِلَّا بِٱلَّتِى هِىَ أَحْسَنُ حَتَّىٰ يَبْلُغَ أَشُدَّهُۥ ۖ وَأَوْفُوا۟ ٱلْكَيْلَ وَٱلْمِيزَانَ بِٱلْقِسْطِ ۖ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ۖ وَإِذَا قُلْتُمْ فَٱعْدِلُوا۟ وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَىٰ ۖ وَبِعَهْدِ ٱللَّهِ أَوْفُوا۟ ۚ ذَٰلِكُمْ وَصَّىٰكُم بِهِۦ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ وَأَنَّ هَٰذَا صِرَٰطِى مُسْتَقِيمًا فَٱتَّبِعُوهُ ۖ وَلَا تَتَّبِعُوا۟ ٱلسُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَن سَبِيلِهِۦ ۚ ذَٰلِكُمْ وَصَّىٰكُم بِهِۦ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ثُمَّ ءَاتَيْنَا مُوسَى ٱلْكِتَٰبَ تَمَامًا عَلَى ٱلَّذِىٓ أَحْسَنَ وَتَفْصِيلًا لِّكُلِّ شَىْءٍ وَهُدًى وَرَحْمَةً لَّعَلَّهُم بِلِقَآءِ رَبِّهِمْ يُؤْمِنُونَ وَهَٰذَا كِتَٰبٌ أَنزَلْنَٰهُ مُبَارَكٌ فَٱتَّبِعُوهُ وَٱتَّقُوا۟ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ أَن تَقُولُوٓا۟ إِنَّمَآ أُنزِلَ ٱلْكِتَٰبُ عَلَىٰ طَآئِفَتَيْنِ مِن قَبْلِنَا وَإِن كُنَّا عَن دِرَاسَتِهِمْ لَغَٰفِلِينَ أَوْ تَقُولُوا۟ لَوْ أَنَّآ أُنزِلَ عَلَيْنَا ٱلْكِتَٰبُ لَكُنَّآ أَهْدَىٰ مِنْهُمْ ۚ فَقَدْ جَآءَكُم بَيِّنَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ ۚ فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن كَذَّبَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ وَصَدَفَ عَنْهَا ۗ سَنَجْزِى ٱلَّذِينَ يَصْدِفُونَ عَنْ ءَايَٰتِنَا سُوٓءَ ٱلْعَذَابِ بِمَا كَانُوا۟ يَصْدِفُونَ
149

سورۃ الانعام کو سنیں (عربی اور اردو ترجمہ)

سورۃ الانعام کی تفسیر (فی ظلال القرآن: سید ابراہیم قطب)

اردو ترجمہ

اور یہ کہ یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ مگر ایسے طریقہ سے جو بہترین ہو، یہاں تک کہ وہ اپنے سن رشد کو پہنچ جائے اور ناپ تول میں پورا انصاف کرو، ہم ہر شخص پر ذمہ داری کا اتنا ہی بار رکھتے ہیں جتنا اس کے امکان میں ہے، اور جب بات کہو انصاف کی کہو خواہ معاملہ اپنے رشتہ دار ہی کا کیوں نہ ہو، اور اللہ کے عہد کو پورا کرو ان باتوں کی ہدایت اللہ نے تمہیں کی ہے شاید کہ تم نصیحت قبول کرو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wala taqraboo mala alyateemi illa biallatee hiya ahsanu hatta yablugha ashuddahu waawfoo alkayla waalmeezana bialqisti la nukallifu nafsan illa wusAAaha waitha qultum faiAAdiloo walaw kana tha qurba wabiAAahdi Allahi awfoo thalikum wassakum bihi laAAallakum tathakkaroona

اردو ترجمہ

نیز اس کی ہدایت یہ ہے کہ یہی میرا سیدھا راستہ ہے لہٰذا تم اسی پر چلو اور دوسرے راستوں پر نہ چلو کہ وہ اس کے راستے سے ہٹا کر تمہیں پراگندہ کر دیں گے یہ ہے وہ ہدایت جو تمہارے رب نے تمہیں کی ہے، شاید کہ تم کج روی سے بچو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waanna hatha siratee mustaqeeman faittabiAAoohu wala tattabiAAoo alssubula fatafarraqa bikum AAan sabeelihi thalikum wassakum bihi laAAallakum tattaqoona

درس نمبر 71 ایک نظر میں :

اس سورة کے اس آخری حصے میں جو موضوع درس سابق میں تھا وہی ٹھاٹھیں مارتے ہوئے دریا کی طرح آگے بڑھ رہا ہے ۔ یہ کہ اللہ ہی حاکم اور قانون ساز ہے اور یہ بات اسلام کے اساسی عقائد ونظریات کا حصہ ہے ۔ یہ سبق بھی اسی موضوع کا حصہ ہے اور اس میں کچھ مزید پہلو سامنے آتے ہیں تاکہ یہ حقیقت اچھی طرح ذہن نشین ہوجائے ۔

اس سورة کے آغاز میں دین اسلام کے اساسی نظریات اور عقائد موضوع بحث ہیں اور آخری حصے میں یہ موضوع آیا تھا کہ اسلام کے اساسی نظریات میں یہ بات بھی داخل ہے کہ اللہ وحدہ حاکم اور قانون ساز ہے ۔ مقصد یہ تھا کہ اللہ کا اقتدار جس کا ظہور قانون سازی کی صورت میں ہوتا ہے اسی دین کے اساسی قضایا میں سے ہے اور اسی طریقے اور اسی سطح پر قرآن اسے رکھتا ہے ۔ یہ بات ذہن میں رکھنے کے قابل ہے کہ قرآن کریم اس دوسرے مسئلے پر وہی دلائل وبراہین پیش کرتا ہے جو اس نے اس سورة کے حصہ اول میں عقائد ونظریات کے بارے میں پیش کئے ۔

٭ یہاں بھی رسولوں ‘ کتابوں ‘ وحی اور معجزات کی بات ہے ۔

٭ یہاں بھی اس بات کا ذکر ہے کہ اگر معجزات پیش ہوئے اور مان کر نہ دیئے گئے تو پھر اللہ کا عذاب لازما آئے گا ۔

٭ مناظر قیامت اور حساب و کتاب ۔

٭ یہ کہ رسول اور اس کی قوم کے درمیان کوئی تعلق ورابطہ نہیں ہے ۔ اس لئے کہ قوم رسول کے نظریات کو رد کر کے متفرق ارباب کے تابع ہوگئی ہے اور رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ اپنے نظریات کو واضح ‘ دوٹوک اور فیصلہ کن انداز میں پیش کریں ۔

٭ یہ کہ دو جہانوں کا رب اور حاکم صرف اللہ ہے اور اس کے سوا کوئی اور رب تلاش نہ کرو۔

٭ اللہ تعالیٰ تمام مخلوقات کا رب اور خالق ہے اور انسانوں کو اس جہاں میں اسی رب نے بسایا اور بٹھایا ہے اور وہ اس بات پر قادر ہے موجودہ لوگوں کو بےدخل کرکے کسی اور مخلوق کو یہاں لا بٹھائے ۔

یہ ہیں وہ مسائل جو اس سبق میں لیے گئے ہیں جبکہ یہی مسائل سورة کے آغاز اور اس کے پہلے حصے میں موضوع بحث تھے۔ لیکن وہاں نظریاتی پہلو نمایاں تھا اور یہاں مسئلہ حاکمیت اور قانون سازی عیاں ہے ۔ یہ قرآن کریم کا ایک خاص اسلوب اور انداز ہے اور اسے صرف وہی شخص جان سکتا ہے جو قرآن کے اسلوب کلام سے واقف ہو اور اس کی ممارست رکھتا ہو۔

اس سبق کے آغاز میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب کی بات ہے اور سابقہ بات کا تکملہ ہے جس میں کہا گیا تھا کہ یہی صراط مستقیم ہے ۔ کہ یہی ہمارا سیدھا راستہ ہے ‘ اسی پر چلو اور دوسرے راستوں پر نہ چلو کہ وہ اس راستے سے ہٹا کر تمہیں پراگندہ کردیں گے ۔ “

یہاں کتاب موسیٰ کے ذکر کا مطلب یہ ہے کہ یہ راستہ ایک طویل شاہراہ ہے جس پر انسانی تاریخ کے تمام انبیاء چلتے رہے ہیں ۔ تمام رسولوں کی شریعتیں اسی راہ کی کڑیاں ہیں اور ان میں سے قریب ترین شریعت ‘ شریعت موسوی ہے ۔ اللہ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی ایک کتاب دی تھی جس میں ہر چیز کی تفصیلات تھیں اور یہ شریعت ان کی امت کے لئے ہدایت و رحمت تھی ۔ صرف ان لوگوں کے لئے جو خوف آخرت اور قیام قیامت پر یقین رکھتے تھے ۔

آیت ” ثُمَّ آتَیْْنَا مُوسَی الْکِتَابَ تَمَاماً عَلَی الَّذِیَ أَحْسَنَ وَتَفْصِیْلاً لِّکُلِّ شَیْْء ٍ وَہُدًی وَرَحْمَۃً لَّعَلَّہُم بِلِقَاء رَبِّہِمْ یُؤْمِنُونَ (154)

” پھر ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا کی تھی ‘ جو بھلائی کی روش اختیار کرنے والے انسان پر نعمت کی تکمیل اور ہر ضروری چیز کی تفصیل اور سراسر ہدایت اور رحمت تھی ۔ شاید کہ لوگ اپنے رب کی ملاقات پر ایمان لے آئیں ۔ “

پھر دو بار کتاب جدید ‘ قرآن کا ذکر آتا ہے ‘ جو کتاب موسیٰ کی صف میں ہے اور اس میں بھی نظریہ حیات اور نظام زندگی موجود ہے ۔ اس کا اتباع ضروری ہے تاکہ لوگوں کی دنیا اور آخرت دونوں سدھر جائیں ۔

آیت ” وَہَـذَا کِتَابٌ أَنزَلْنَاہُ مُبَارَکٌ فَاتَّبِعُوہُ وَاتَّقُواْ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُونَ (155)

” اور اسی طرح یہ کتاب ہم نے نازل کی ہے ۔ ایک برکت والی کتاب ‘ پس تم اس کی پیروی کرو اور تقوی کی روشن اختیار کرو ‘ بعید نہیں کہ تم پر رحم کیا جائے ۔ “

قرآن کریم عربوں پر بطور حجت نازل ہوا ہے تاکہ وہ یہ نہ کہہ سکیں کہ ہم پر ایسی کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی جس طرح یہود ونصاری پر کتابیں نازل ہوئی ۔ اگر ہم پر کوئی ایسی کتاب نازل ہوتی جس طرح ان پر نازل ہوئی ہے تو ہم ان سے زیادہ ہدایت یافتہ ہوتے ۔ چناچہ عربوں پر حجت تمام کرنے کے لئے کہا گیا ‘ لیجئے یہ ہے کتاب جو تم پر نازل کی گئی ۔ اور اس کے بعد بھی اگر وہ اس کتاب کو جھٹلاتے ہیں تو وہ دردناک عذاب کے مستحق ہوں گے ۔

آیت ” أَوْ تَقُولُواْ لَوْ أَنَّا أُنزِلَ عَلَیْْنَا الْکِتَابُ لَکُنَّا أَہْدَی مِنْہُمْ فَقَدْ جَاء کُم بَیِّنَۃٌ مِّن رَّبِّکُمْ وَہُدًی وَرَحْمَۃٌ فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن کَذَّبَ بِآیَاتِ اللّہِ وَصَدَفَ عَنْہَا سَنَجْزِیْ الَّذِیْنَ یَصْدِفُونَ عَنْ آیَاتِنَا سُوء َ الْعَذَابِ بِمَا کَانُواْ یَصْدِفُونَ (157)

اب تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ کتاب تو ہم سے پہلے دو گروہوں کو دی گئی تھی اور ہم کو کوئی خبر نہیں کہ وہ کیا پڑھتے پڑھاتے تھے ۔ اب تم یہ بہانہ بھی نہیں کرسکتے کہ اگر ہم پر کتاب نازل کی گئی ہوتی تو ہم اس سے زیادہ راست رو ثابت ہوتے۔ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک دلیل روشن اور ہدایت و رحمت (قرآن کی صورت میں) آگئی ہے ۔ اب اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا ‘ جو اللہ کی آیات کو جھٹلائے اور ان سے منہ موڑے ۔ جو لوگ ہمارے آیات سے منہ موڑتے ہیں انہیں اس روگردانی کی پاداش میں ہم بدترین سزا دے کر رہیں گے ۔ “

یقینا قرآن کے نزول سے عربوں پر حجت تمام ہوگئی لیکن وہ اب بھی شرک کررہے ہیں ۔ وہ اب بھی خود قانون بناتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ خدائی شریعت ہے حالانکہ خدا کی کتاب آگئی ہے ۔ اس میں وہ باتیں نہیں ہیں جو وہ از خود گھڑتے ہیں اور ماننے کے بجائے وہ مزید خوارق عادت معجزات طلب کرتے ہیں تاکہ وہ کتاب کی تصدیق کریں اور پھر اس پر عمل کریں ۔ لیکن یہ سمجھتے نہیں کہ اگر کوئی خارق عادت معجزہ آجائے یا بعض حصہ اس کا آجائے تو پھر یہ آخری فیصلے کا وقت ہوگا ۔

آیت ” ہَلْ یَنظُرُونَ إِلاَّ أَن تَأْتِیْہُمُ الْمَلآئِکَۃُ أَوْ یَأْتِیَ رَبُّکَ أَوْ یَأْتِیَ بَعْضُ آیَاتِ رَبِّکَ یَوْمَ یَأْتِیْ بَعْضُ آیَاتِ رَبِّکَ لاَ یَنفَعُ نَفْساً إِیْمَانُہَا لَمْ تَکُنْ آمَنَتْ مِن قَبْلُ أَوْ کَسَبَتْ فِیْ إِیْمَانِہَا خَیْْراً قُلِ انتَظِرُواْ إِنَّا مُنتَظِرُونَ (158)

” کیا اب یہ لوگ اس کے منتظر ہیں کہ ان کے سامنے فرشتے کھڑے ہوں یا تمہارا رب خود آجائے یا تمہارے رب کی صریح نشانیاں نمودار ہوجائیں ؟ جس روز تمہارے رب کی بعض نشانیاں نمودار ہوجائیں گی پھر کسی ایسے شخص کو اس کا ایمان کچھ فائدہ نہ دے گا جو پہلے ایمان نہ لایا ہو ‘ جس نے اپنے ایمان میں کوئی بھلائی نہ کمائی ہو ۔ اے نبی ﷺ ان سے کہہ دو کہ اچھا ‘ تم انتظار کرو ‘ ہم بھی انتظار کرتے ہیں۔ “

یہاں اللہ نبی کریم ﷺ کے دین اور تمام ادیان کے اندر فرق کردیتے ہیں جو عقیدہ توحید اور اس پر مبنی قانونی نظام پر قائم نہیں ہیں اور یہ کہ انکا معاملہ اللہ کے ہاں ہے اور وہ اپنے نظام عدل اور رحمت کے مطابق ان کا فیصلہ کرے گا ۔

آیت ” إِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُواْ دِیْنَہُمْ وَکَانُواْ شِیَعاً لَّسْتَ مِنْہُمْ فِیْ شَیْْء ٍ إِنَّمَا أَمْرُہُمْ إِلَی اللّہِ ثُمَّ یُنَبِّئُہُم بِمَا کَانُواْ یَفْعَلُونَ (159) مَن جَاء بِالْحَسَنَۃِ فَلَہُ عَشْرُ أَمْثَالِہَا وَمَن جَاء بِالسَّیِّئَۃِ فَلاَ یُجْزَی إِلاَّ مِثْلَہَا وَہُمْ لاَ یُظْلَمُونَ (160)

” جن لوگوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور گروہ گروہ بن گئے ان سے تمہارا واسطہ کچھ نہیں ۔ ان کا معاملہ تو اللہ کے سپرد ہے ‘ وہی ان کو بتائے گا کہ انہوں نے کیا کچھ کیا ہے ۔ ‘ جو اللہ کے حضور نیکی لے کر آئے گا اس کے لئے دس گناہ اجر ہے اور جو بدی لے کر آئے گا اس کو اتنا ہی بدلہ دیاجائے گا جتنا اس نے قصور کیا اور کسی پر ظلم نہ کیا جائے گا ۔ “

اس اس سبق کی آخری ضرب آتی ہے اور اس پر اس سورة کا بھی خاتمہ ہوجاتا ہے ۔ تسبیح کا آخری دانہ گرا نہایت ہی تروتازگی ‘ نہایت ہی نرمی کے ساتھ ‘ نہایت حکیمانہ اور نہایت دوٹوک انداز میں ۔ اس دین کے انتہائی گہرے حقائق کا خلاصہ پیش کردیا جاتا ہے یعنی بےقید اور ہمہ جہت توحید ‘ خالص بندگی اور اطاعت ‘ سنجیدگی کے ساتھ آخرت کا اقرار وجوابدہی کا تصور ‘ دنیا میں ہر شخص کے لئے اپنے اور صرف اپنے اعمال کی جوابدہی ۔ ہر چیز میں نظام ربوبیت کا مشاہدہ ‘ اور یہ کہ یہ اللہ کا کام ہے کہ وہ اپنی اس سرزمین پر اقتدار کی کنجیاں کس کے حوالے کرتا ہے اللہ کے اس اختیار میں اس کے ساتھ نہ کوئی شریک ہے اور نہ ہی اس سے کوئی باز پرس کرنے کا مجاز ہے ۔ اس آخری حصے میں مقام الوہیت کو تفصیل سے واضح کیا جاتا ہے نہایت ہی مخلص ‘ پاک وصاف دل یعنی قلب رسول اللہ ﷺ سے یہ ربانی تجلیات پھوٹتی ہیں اور انداز تعبیر قرآنی ہے جو کسی بھی مفہوم کی تصویر کشی میں لاثانی ہے ۔

آیت ” قُلْ إِنَّنِیْ ہَدَانِیْ رَبِّیْ إِلَی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ دِیْناً قِیَماً مِّلَّۃَ إِبْرَاہِیْمَ حَنِیْفاً وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ (161) قُلْ إِنَّ صَلاَتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ (162) لاَ شَرِیْکَ لَہُ وَبِذَلِکَ أُمِرْتُ وَأَنَاْ أَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ (163) قُلْ أَغَیْْرَ اللّہِ أَبْغِیْ رَبّاً وَہُوَ رَبُّ کُلِّ شَیْْء ٍ وَلاَ تَکْسِبُ کُلُّ نَفْسٍ إِلاَّ عَلَیْْہَا وَلاَ تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِزْرَ أُخْرَی ثُمَّ إِلَی رَبِّکُم مَّرْجِعُکُمْ فَیُنَبِّئُکُم بِمَا کُنتُمْ فِیْہِ تَخْتَلِفُونَ (164) وَہُوَ الَّذِیْ جَعَلَکُمْ خَلاَئِفَ الأَرْضِ وَرَفَعَ بَعْضَکُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِّیَبْلُوَکُمْ فِیْ مَا آتَاکُمْ إِنَّ رَبَّکَ سَرِیْعُ الْعِقَابِ وَإِنَّہُ لَغَفُورٌ رَّحِیْمٌ(165)

” اے محمد ﷺ کہو میرے رب نے بالیقین مجھے سیدھا راستہ دکھایا ہے ‘ بالکل ٹھیک دین جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں ‘ ابراہیم کا طریقہ جسے یکسو ہو کر اس نے اختیار کیا تھا اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھا ۔ کہو ‘ میری نماز ‘ میرے تمام مراسم عبودیت ‘ میرا جینا اور مرنا سب کچھ اللہ رب العالمین کے لئے ہے ۔ جس کا کوئی شریک نہیں اس کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلے سر اطاعت جھکانے والا ہوں ۔ کہو کیا میں میں اللہ کے سوا کوئی اور رب تلاش کروں حالانکہ وہی ہر چیز کا رب ہے ؟ ہر شخص جو کچھ کماتا ہے اس کا ذمہ دار وہ خود ہے ‘ کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھاتا ‘ پھر تم سب کو اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے ‘ اس وقت وہ تمہارے اختلافات کی حقیقت تم پر کھول دے گا ۔ وہی ہے جس نے تم کو زمین کا خلیفہ بنایا ‘ اور تم میں سے بعض کو بعض کے مقابلے میں بلند درجے دیئے تاکہ جو کچھ تم کو دیا ہے اس میں تمہاری آزمائش کرے ، بیشک تمہارا رب سزا دینے میں بھی بہت تیز ہے اور بہت درگزر کرنیو الا اور رحم فرمانے والا بھی ہے ۔ “

اردو ترجمہ

پھر ہم نے موسیٰؑ کو کتاب عطا کی تھی جو بھلائی کی روش اختیار کرنے والے انسان پر نعمت کی تکمیل اور ہر ضروری چیز کی تفصیل اور سراسر ہدایت اور رحمت تھی (اور اس لیے بنی اسرائیل کو دی گئی تھی کہ) شاید لوگ اپنے رب کی ملاقات پر ایمان لائیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Thumma atayna moosa alkitaba tamaman AAala allathee ahsana watafseelan likulli shayin wahudan warahmatan laAAallahum biliqai rabbihim yuminoona

آیت ” نمبر 154۔

یہ کلام لفظ ثم کے ذریعہ کلام ماقبل پر عطف ہے ۔ اس کی تشریح یہ ہے کہ پہلے یہ آیت آئی تھی ۔

آیت ” قُلْ تَعَالَوْاْ أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّکُمْ عَلَیْْکُمْ أَلاَّ تُشْرِکُواْ بِہِ شَیْْئاً “۔ (6 : 151) جہاں یہ بیان کرنا مقصود تھا کہ تمہارا حرام کردہ حرام نہیں بلکہ اللہ نے ان چیزوں کو حرام کیا ۔ پھر کہا آیت ” وَأَنَّ ہَـذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْماً “۔ (6 : 153) کہ یہی میرا سیدھا راستہ اور دین ہے ۔ اس جملے کا عطف پہلے پر ہوا تھا ۔ یعنی آیت ” الا تشرکوا بہ “۔ پر اس کے بعد یہ آیت آئی آیت ” ثم اتینا موسیٰ الکتب “۔ (6 : 154) جس کا عطف مذکورہ بالا دونوں جملوں پر ہوا ۔ اس طرح یہ پورا کلام مسلسل ایک دوسرے سے مربوط ہے ۔ (تماما علی الذی احسن “۔ (6 : 154) کا مفہوم یہ ہے ‘ جیسا کہ ابن جریر نے لکھا ہے ’ پھر ہم نے موسیٰ کو تورات دی اور یہ ان پر ہماری جانب سے تکمیل نعمت تھی ۔ ہماری جانب سے ان کے لئے اعزاز وشرف تھا اسی وجہ سے کہ انہوں نے احسان کا رویہ اختیار کیا اور اپنے رب کی اطاعت کی ۔ رب کی جانب سے جو فرائض بھی عائد کئے گئے ہیں اس پر وہ عمل پیرا ہوئے اور اس کتاب میں وہ تمام امور درج ہیں جن کی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کو ضرورت تھی ۔

آیت ” تفصیلاللکل شی (6 : 154) ” قتادہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد حلال و حرام ہیں ۔

آیت ” وھدی ورحمۃ “۔ (6 : 154) کے معنی یہ ہیں کہ ان کی قوم ہدایت پائے اور آخرت کی جوابدہی پر ایمان لے آئے اور اس طرح اللہ کی رحمت کی مستحق ہو کر اللہ عذاب کے عذاب سے بچ جائے ۔

یہ تھے مقاصد جن کے لئے ہم نے حضرت موسیٰ کو کتاب دی تھی ‘ انہیں مقاصد کی خاطر اللہ نے تم پر بھی یہ کتاب نازل کی ہے تاکہ تم بھی ہدایت پاؤ اور پھر رحمت کے مستحق قرار پاؤ۔

اردو ترجمہ

اور اسی طرح یہ کتاب ہم نے نازل کی ہے، ایک برکت والی کتاب پس تم اِس کی پیروی کرو اور تقویٰ کی روش اختیار کرو، بعید نہیں کہ تم پر رحم کیا جائے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wahatha kitabun anzalnahu mubarakun faittabiAAoohu waittaqoo laAAallakum turhamoona

آیت ” نمبر 155۔

بیشک یہ ایک مبارک کتاب ہے اور اس کی تشریح ہم نے بڑی تفصیل کے ساتھ اس آیت کی تفسیر میں کردی ہے جہاں یہ لفظ پہلے آیا تھا : ۔

آیت ” وَہَـذَا کِتَابٌ أَنزَلْنَاہُ مُبَارَکٌ مُّصَدِّقُ الَّذِیْ بَیْْنَ یَدَیْْہِ وَلِتُنذِرَ أُمَّ الْقُرَی وَمَنْ حَوْلَہَا وَالَّذِیْنَ یُؤْمِنُونَ بِالآخِرَۃِ یُؤْمِنُونَ بِہِ وَہُمْ عَلَی صَلاَتِہِمْ یُحَافِظُونَ (92)

” یہ ایک کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے ۔ بڑی خیر و برکت والی ہے ۔ اس چیز کی تصدیق کرتی ہے جو اس سے پہلے آئی تھی ۔ اور اس لئے نازل کی گئی ہے کہ اس کے ذریعہ سے تم بستیوں کے اس مرکز (یعنی مکہ) اور اس کے اطراف میں رہنے والوں کو متنبہ کرو ۔ جو لوگ آخرت کو مانتے ہیں وہ اس کتاب پر ایمان لاتے ہیں اور ان کا حال یہ ہے کہ اپنی نمازوں کی پابندی کرتے ہیں ۔ “

یہاں لفظ مبارک اسلامی نظریہ حیات اور اس کی شمولیت اور ہمہ گیری کی بحث کے ضمن میں آیا ہے یعنی یہ کتاب ایک شرعی نظام پر مشتمل ہے۔ حکم یہ دیا جا رہا ہے کہ تم اس شرعی نظام کی اطاعت کرو اور تم پر اللہ کی رحمت صرف اس صورت میں ہو سکتی ہے کہ تم اس کتاب کا اتباع کرو ‘ کیونکہ یہاں کلام شرعی نظام کے بارے میں ہے جبکہ سورة کے آغاز میں بات اسلامی عقائد ونظریات کی تھی ۔

یعنی اب تمہارے لئے کوئی وجہ معذرت باقی نہیں ہے اور نہ کوئی حجت باقی ہے ۔ یہ کتاب نازل ہوئی اور اس نے تمام دلائل اور حجتوں کو منسوخ و باطل کردیا ہے ۔ اس کتاب میں زندگی کے تمام امور کی تفصیلات موجود ہیں زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں ہے جس کے بارے میں اس میں ہدایات موجود نہ ہوں کہ تم خود اپنے لئے قانون بنانے کے لئے محتاج ہوجاؤ۔

اردو ترجمہ

اب تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ کتاب تو ہم سے پہلے کے دو گروہوں کو دی گئی تھی، اور ہم کو کچھ خبر نہ تھی کہ وہ کیا پڑھتے پڑھاتے تھے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

An taqooloo innama onzila alkitabu AAala taifatayni min qablina wain kunna AAan dirasatihim laghafileena

آیت ” نمبر 156 تا 157۔

اللہ تعالیٰ کی اسکیم یہ تھی کہ ہر رسول کو اس کی قوم کی زبان میں پیغام دے کر بھیجا گیا اور جب آخری رسالت دنیا میں آئی تو حضرت محمد ﷺ کو تمام اقوام عالم کی طرف بھیجا گیا ۔ لہذا حضور ﷺ انسانوں کے لئے آخری رسول ہیں ۔ کیونکہ ان کو تمام انسانوں کے لئے بشیر ونذیر بنا کر بھیجا گیا ہے۔

عربوں پر اللہ نے حجت اس طرح تمام کردی کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوموں کی طرف بھیجے گئے اور عرب کہتے تھے کہ ہم ان کی کتابوں کو نہیں پڑھ سکتے تھے ۔ ہم عالم نہ تھے ‘ نہ ہم تک اس دعوت کو پہنچانے کا کوئی اہتمام کیا گیا ۔ اگر ہمارے پاس ہماری زبان میں کوئی کتاب آئی ہوتی تو ہم ضرور ایمان لاتے اور ان لوگوں کے مقابلے میں زیادہ ہدایت یافتہ ہوتے ۔ چناچہ ان کے پاس یہ کتاب آگئی اور رسول بھی آگئے بلکہ یہ رسول تمام جہان والوں کے لئے آگئے ، اس رسول کو ایسی کتاب دی گئی جو خود اپنی سچائی کی دلیل ہے ۔ آفتاب آمد دلیل آفتاب ۔ پھر اس کتاب میں جو حقائق بیان ہوئے ان میں کوئی التباس یا پیچیدگی نہیں ہے ۔ لوگ جس گمراہی میں ڈوبے ہوئے ہیں انکے لئے چراغ روشن ہے اور جن مصیبتوں میں وہ مبتلا ہیں ان کے مقابلے میں رحمت ہے ‘ دنیا کے لئے بھی اور آخرت کے لئے بھی ۔

اگر صورت حال یہ ہے تو پھر اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوسکتا ہے جو ایسی کتاب کی آیات کی تکذیب کرتا ہو یا ان سے منہ موڑتا ہو حالانکہ یہ کتاب صحیح راہ ‘ اصلاح حال اور دنیا وآخرت کی فلاح کی طرف بلاتی ہے ۔ جو شخص اپنے آپ کو اور عوام الناس کو اس کتاب کی برکتوں سے محروم کرتا ہے ‘ اس سے بڑا ظالم کون ہو سکتا ہے ۔ وہی شخص ظالم ہے جو جاہلی تصورات اور خلاف اسلام قانون بنا کر اس زمین پر فساد پھیلاتا ہے ۔ جو لوگ اس کتاب سے روگردانی کرتے ہیں درحقیقت ان کے مزاج میں فساد پوشیدہ ہے جو انہیں اس چشمہ خیر سے دور رکھتا ہے ۔ مثلا اونٹ کے پاؤں میں جب نقص ہو یا بیماری ہو تو وہ ایک طرف جھکتا ہے اور سیدھا نہیں چلتا ۔ (صدف کا یہی مفہوم ہے) یعنی یہ لوگ سچائی سے ایک طرف چلے جاتے ہیں جس طرح ایک بیمار اونٹ ایک طرف جھکا ہوا ہوتا ہے اور سیدھا نہیں چل سکتا ۔ اپنے اس میلان کی وجہ سے وہ برے عذاب کے مستحق ہوں گے ۔

آیت ” سَنَجْزِیْ الَّذِیْنَ یَصْدِفُونَ عَنْ آیَاتِنَا سُوء َ الْعَذَابِ بِمَا کَانُواْ یَصْدِفُونَ (157)

” جو لوگ ہماری آیات سے منہ موڑتے ہیں ‘ انہیں اس روگردانی کی پاداش میں ہم بدترین سزا دے کر رہیں گے ۔ “ ۔

قرآنی انداز بیان کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ عربی زبان کے ایک ایک لفظ کو حسی مفہوم سے بلند کرکے معنوی مدلول کے لئے استعمال کرتا ہے ‘ لیکن یہ استعمال معنوی مفہوم پر اس طرح منطبق ہوتا ہے کہ اصل حسی مفہوم بھی اپنی جگہ درست نظر آتا ہے ۔ اسی طرح (یصدفون) کا استعمال ہوا ہے ۔ (صدف) کے معنی یہ ہیں کہ اونٹ اپنے پاؤں کی بیماری کی وجہ سے ایک طرف جھک کرچکے ۔ اس کی دوسری مثال ہے (الصعر) صعر عربی زبان میں ایک ایسی بیماری کو کہا جاتا ہے جس میں اونٹ کا منہ ایک طرف ٹیڑھا ہوجاتا ہے اور گردن سیدھی نہیں ہو سکتی ۔ یہ بیماری انسانوں کو بھی لاحق ہوتی ہے ۔ قرآن کریم نے اسے بطور تکبر منہ ٹیڑھا کرنے کے لئے استعمال کیا ۔ آیت ” ولا تصعر خدک “۔ (31 : 18) منہ کو ٹیڑھا نہ کرو ‘ تکبر نہ کرو ‘ اس کی تیسری مثال خبط کی ہے ۔ خبط کے معنی ہیں کسی جانور کا زہریلی گھاس کھا کر پھول جانا ۔ خطبت الناقۃ اس وقت بولتے ہیں جب اونٹنی زہریلی گھاس چر کر پھول جائے ۔ قرآن نے یہ لفظ بےمقصد اور بغیر ایمان کے اعمال کے لئے استعمال کیا ہے ۔ جس میں بظاہر اعمال بڑے نظر آئیں ۔ اس قسم کے استعمال کی بیشمار قرآن میں ہیں۔

اب بات ذرا آگے بڑھتی ہے اور اس کتاب کے آجانے کے بعد اب یہ لوگ مزید خوارق عادت واقعات اور معجزات طلب کرتے ہیں تاکہ وہ اسے تسلیم کرلیں ۔ اس قسم کی تہدید سورة کے آغاز میں بھی تھی جہاں اسلامی نظریہ توحید اور عقائد کو تسلیم نہ کرنے پر تہدید دی گئی تھی اور یہاں یہ تہدید اسلامی نظام حیات اور اسلامی شریعت کو تسلیم نہ کرنے کی مناسبت سے دوبارہ دہرائی گئی ہے ۔ ابتداء میں یہ کہا گیا تھا :

آیت ” وَقَالُواْ لَوْلا أُنزِلَ عَلَیْْہِ مَلَکٌ وَلَوْ أَنزَلْنَا مَلَکاً لَّقُضِیَ الأمْرُ ثُمَّ لاَ یُنظَرُونَ (8)

” کہتے ہیں کہ اس نبی پر کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا ۔ اگر کہیں ہم نے فرشتہ اتار دیا ہوتا تو اب تک کبھی کا فیصلہ ہوچکا ہوتا ‘ پھر انہیں کوئی مہلت نہ دی جاتی ۔ “ یہاں اسی مضمون کو دہرایا گیا :

اردو ترجمہ

اور اب تم یہ بہانہ بھی نہیں کرسکتے کہ اگر ہم پر کتاب نازل کی گئی ہوتی تو ہم ان سے زیادہ راست رو ثابت ہوتے تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک دلیل روشن اور ہدایت اور رحمت آ گئی ہے، اب اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ کی آیات کو جھٹلائے اور ان سے منہ موڑے جو لوگ ہماری آیات سے منہ موڑتے ہیں انہیں اس رو گردانی کی پاداش میں ہم بدترین سزا دے کر رہیں گے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Aw taqooloo law anna onzila AAalayna alkitabu lakunna ahda minhum faqad jaakum bayyinatun min rabbikum wahudan warahmatun faman athlamu mimman kaththaba biayati Allahi wasadafa AAanha sanajzee allatheena yasdifoona AAan ayatina sooa alAAathabi bima kanoo yasdifoona
149