درس نمبر 71 ایک نظر میں :
اس سورة کے اس آخری حصے میں جو موضوع درس سابق میں تھا وہی ٹھاٹھیں مارتے ہوئے دریا کی طرح آگے بڑھ رہا ہے ۔ یہ کہ اللہ ہی حاکم اور قانون ساز ہے اور یہ بات اسلام کے اساسی عقائد ونظریات کا حصہ ہے ۔ یہ سبق بھی اسی موضوع کا حصہ ہے اور اس میں کچھ مزید پہلو سامنے آتے ہیں تاکہ یہ حقیقت اچھی طرح ذہن نشین ہوجائے ۔
اس سورة کے آغاز میں دین اسلام کے اساسی نظریات اور عقائد موضوع بحث ہیں اور آخری حصے میں یہ موضوع آیا تھا کہ اسلام کے اساسی نظریات میں یہ بات بھی داخل ہے کہ اللہ وحدہ حاکم اور قانون ساز ہے ۔ مقصد یہ تھا کہ اللہ کا اقتدار جس کا ظہور قانون سازی کی صورت میں ہوتا ہے اسی دین کے اساسی قضایا میں سے ہے اور اسی طریقے اور اسی سطح پر قرآن اسے رکھتا ہے ۔ یہ بات ذہن میں رکھنے کے قابل ہے کہ قرآن کریم اس دوسرے مسئلے پر وہی دلائل وبراہین پیش کرتا ہے جو اس نے اس سورة کے حصہ اول میں عقائد ونظریات کے بارے میں پیش کئے ۔
٭ یہاں بھی رسولوں ‘ کتابوں ‘ وحی اور معجزات کی بات ہے ۔
٭ یہاں بھی اس بات کا ذکر ہے کہ اگر معجزات پیش ہوئے اور مان کر نہ دیئے گئے تو پھر اللہ کا عذاب لازما آئے گا ۔
٭ مناظر قیامت اور حساب و کتاب ۔
٭ یہ کہ رسول اور اس کی قوم کے درمیان کوئی تعلق ورابطہ نہیں ہے ۔ اس لئے کہ قوم رسول کے نظریات کو رد کر کے متفرق ارباب کے تابع ہوگئی ہے اور رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ اپنے نظریات کو واضح ‘ دوٹوک اور فیصلہ کن انداز میں پیش کریں ۔
٭ یہ کہ دو جہانوں کا رب اور حاکم صرف اللہ ہے اور اس کے سوا کوئی اور رب تلاش نہ کرو۔
٭ اللہ تعالیٰ تمام مخلوقات کا رب اور خالق ہے اور انسانوں کو اس جہاں میں اسی رب نے بسایا اور بٹھایا ہے اور وہ اس بات پر قادر ہے موجودہ لوگوں کو بےدخل کرکے کسی اور مخلوق کو یہاں لا بٹھائے ۔
یہ ہیں وہ مسائل جو اس سبق میں لیے گئے ہیں جبکہ یہی مسائل سورة کے آغاز اور اس کے پہلے حصے میں موضوع بحث تھے۔ لیکن وہاں نظریاتی پہلو نمایاں تھا اور یہاں مسئلہ حاکمیت اور قانون سازی عیاں ہے ۔ یہ قرآن کریم کا ایک خاص اسلوب اور انداز ہے اور اسے صرف وہی شخص جان سکتا ہے جو قرآن کے اسلوب کلام سے واقف ہو اور اس کی ممارست رکھتا ہو۔
اس سبق کے آغاز میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب کی بات ہے اور سابقہ بات کا تکملہ ہے جس میں کہا گیا تھا کہ یہی صراط مستقیم ہے ۔ کہ یہی ہمارا سیدھا راستہ ہے ‘ اسی پر چلو اور دوسرے راستوں پر نہ چلو کہ وہ اس راستے سے ہٹا کر تمہیں پراگندہ کردیں گے ۔ “
یہاں کتاب موسیٰ کے ذکر کا مطلب یہ ہے کہ یہ راستہ ایک طویل شاہراہ ہے جس پر انسانی تاریخ کے تمام انبیاء چلتے رہے ہیں ۔ تمام رسولوں کی شریعتیں اسی راہ کی کڑیاں ہیں اور ان میں سے قریب ترین شریعت ‘ شریعت موسوی ہے ۔ اللہ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی ایک کتاب دی تھی جس میں ہر چیز کی تفصیلات تھیں اور یہ شریعت ان کی امت کے لئے ہدایت و رحمت تھی ۔ صرف ان لوگوں کے لئے جو خوف آخرت اور قیام قیامت پر یقین رکھتے تھے ۔
آیت ” ثُمَّ آتَیْْنَا مُوسَی الْکِتَابَ تَمَاماً عَلَی الَّذِیَ أَحْسَنَ وَتَفْصِیْلاً لِّکُلِّ شَیْْء ٍ وَہُدًی وَرَحْمَۃً لَّعَلَّہُم بِلِقَاء رَبِّہِمْ یُؤْمِنُونَ (154)
” پھر ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا کی تھی ‘ جو بھلائی کی روش اختیار کرنے والے انسان پر نعمت کی تکمیل اور ہر ضروری چیز کی تفصیل اور سراسر ہدایت اور رحمت تھی ۔ شاید کہ لوگ اپنے رب کی ملاقات پر ایمان لے آئیں ۔ “
پھر دو بار کتاب جدید ‘ قرآن کا ذکر آتا ہے ‘ جو کتاب موسیٰ کی صف میں ہے اور اس میں بھی نظریہ حیات اور نظام زندگی موجود ہے ۔ اس کا اتباع ضروری ہے تاکہ لوگوں کی دنیا اور آخرت دونوں سدھر جائیں ۔
آیت ” وَہَـذَا کِتَابٌ أَنزَلْنَاہُ مُبَارَکٌ فَاتَّبِعُوہُ وَاتَّقُواْ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُونَ (155)
” اور اسی طرح یہ کتاب ہم نے نازل کی ہے ۔ ایک برکت والی کتاب ‘ پس تم اس کی پیروی کرو اور تقوی کی روشن اختیار کرو ‘ بعید نہیں کہ تم پر رحم کیا جائے ۔ “
قرآن کریم عربوں پر بطور حجت نازل ہوا ہے تاکہ وہ یہ نہ کہہ سکیں کہ ہم پر ایسی کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی جس طرح یہود ونصاری پر کتابیں نازل ہوئی ۔ اگر ہم پر کوئی ایسی کتاب نازل ہوتی جس طرح ان پر نازل ہوئی ہے تو ہم ان سے زیادہ ہدایت یافتہ ہوتے ۔ چناچہ عربوں پر حجت تمام کرنے کے لئے کہا گیا ‘ لیجئے یہ ہے کتاب جو تم پر نازل کی گئی ۔ اور اس کے بعد بھی اگر وہ اس کتاب کو جھٹلاتے ہیں تو وہ دردناک عذاب کے مستحق ہوں گے ۔
آیت ” أَوْ تَقُولُواْ لَوْ أَنَّا أُنزِلَ عَلَیْْنَا الْکِتَابُ لَکُنَّا أَہْدَی مِنْہُمْ فَقَدْ جَاء کُم بَیِّنَۃٌ مِّن رَّبِّکُمْ وَہُدًی وَرَحْمَۃٌ فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن کَذَّبَ بِآیَاتِ اللّہِ وَصَدَفَ عَنْہَا سَنَجْزِیْ الَّذِیْنَ یَصْدِفُونَ عَنْ آیَاتِنَا سُوء َ الْعَذَابِ بِمَا کَانُواْ یَصْدِفُونَ (157)
اب تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ کتاب تو ہم سے پہلے دو گروہوں کو دی گئی تھی اور ہم کو کوئی خبر نہیں کہ وہ کیا پڑھتے پڑھاتے تھے ۔ اب تم یہ بہانہ بھی نہیں کرسکتے کہ اگر ہم پر کتاب نازل کی گئی ہوتی تو ہم اس سے زیادہ راست رو ثابت ہوتے۔ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک دلیل روشن اور ہدایت و رحمت (قرآن کی صورت میں) آگئی ہے ۔ اب اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا ‘ جو اللہ کی آیات کو جھٹلائے اور ان سے منہ موڑے ۔ جو لوگ ہمارے آیات سے منہ موڑتے ہیں انہیں اس روگردانی کی پاداش میں ہم بدترین سزا دے کر رہیں گے ۔ “
یقینا قرآن کے نزول سے عربوں پر حجت تمام ہوگئی لیکن وہ اب بھی شرک کررہے ہیں ۔ وہ اب بھی خود قانون بناتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ خدائی شریعت ہے حالانکہ خدا کی کتاب آگئی ہے ۔ اس میں وہ باتیں نہیں ہیں جو وہ از خود گھڑتے ہیں اور ماننے کے بجائے وہ مزید خوارق عادت معجزات طلب کرتے ہیں تاکہ وہ کتاب کی تصدیق کریں اور پھر اس پر عمل کریں ۔ لیکن یہ سمجھتے نہیں کہ اگر کوئی خارق عادت معجزہ آجائے یا بعض حصہ اس کا آجائے تو پھر یہ آخری فیصلے کا وقت ہوگا ۔
آیت ” ہَلْ یَنظُرُونَ إِلاَّ أَن تَأْتِیْہُمُ الْمَلآئِکَۃُ أَوْ یَأْتِیَ رَبُّکَ أَوْ یَأْتِیَ بَعْضُ آیَاتِ رَبِّکَ یَوْمَ یَأْتِیْ بَعْضُ آیَاتِ رَبِّکَ لاَ یَنفَعُ نَفْساً إِیْمَانُہَا لَمْ تَکُنْ آمَنَتْ مِن قَبْلُ أَوْ کَسَبَتْ فِیْ إِیْمَانِہَا خَیْْراً قُلِ انتَظِرُواْ إِنَّا مُنتَظِرُونَ (158)
” کیا اب یہ لوگ اس کے منتظر ہیں کہ ان کے سامنے فرشتے کھڑے ہوں یا تمہارا رب خود آجائے یا تمہارے رب کی صریح نشانیاں نمودار ہوجائیں ؟ جس روز تمہارے رب کی بعض نشانیاں نمودار ہوجائیں گی پھر کسی ایسے شخص کو اس کا ایمان کچھ فائدہ نہ دے گا جو پہلے ایمان نہ لایا ہو ‘ جس نے اپنے ایمان میں کوئی بھلائی نہ کمائی ہو ۔ اے نبی ﷺ ان سے کہہ دو کہ اچھا ‘ تم انتظار کرو ‘ ہم بھی انتظار کرتے ہیں۔ “
یہاں اللہ نبی کریم ﷺ کے دین اور تمام ادیان کے اندر فرق کردیتے ہیں جو عقیدہ توحید اور اس پر مبنی قانونی نظام پر قائم نہیں ہیں اور یہ کہ انکا معاملہ اللہ کے ہاں ہے اور وہ اپنے نظام عدل اور رحمت کے مطابق ان کا فیصلہ کرے گا ۔
آیت ” إِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُواْ دِیْنَہُمْ وَکَانُواْ شِیَعاً لَّسْتَ مِنْہُمْ فِیْ شَیْْء ٍ إِنَّمَا أَمْرُہُمْ إِلَی اللّہِ ثُمَّ یُنَبِّئُہُم بِمَا کَانُواْ یَفْعَلُونَ (159) مَن جَاء بِالْحَسَنَۃِ فَلَہُ عَشْرُ أَمْثَالِہَا وَمَن جَاء بِالسَّیِّئَۃِ فَلاَ یُجْزَی إِلاَّ مِثْلَہَا وَہُمْ لاَ یُظْلَمُونَ (160)
” جن لوگوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور گروہ گروہ بن گئے ان سے تمہارا واسطہ کچھ نہیں ۔ ان کا معاملہ تو اللہ کے سپرد ہے ‘ وہی ان کو بتائے گا کہ انہوں نے کیا کچھ کیا ہے ۔ ‘ جو اللہ کے حضور نیکی لے کر آئے گا اس کے لئے دس گناہ اجر ہے اور جو بدی لے کر آئے گا اس کو اتنا ہی بدلہ دیاجائے گا جتنا اس نے قصور کیا اور کسی پر ظلم نہ کیا جائے گا ۔ “
اس اس سبق کی آخری ضرب آتی ہے اور اس پر اس سورة کا بھی خاتمہ ہوجاتا ہے ۔ تسبیح کا آخری دانہ گرا نہایت ہی تروتازگی ‘ نہایت ہی نرمی کے ساتھ ‘ نہایت حکیمانہ اور نہایت دوٹوک انداز میں ۔ اس دین کے انتہائی گہرے حقائق کا خلاصہ پیش کردیا جاتا ہے یعنی بےقید اور ہمہ جہت توحید ‘ خالص بندگی اور اطاعت ‘ سنجیدگی کے ساتھ آخرت کا اقرار وجوابدہی کا تصور ‘ دنیا میں ہر شخص کے لئے اپنے اور صرف اپنے اعمال کی جوابدہی ۔ ہر چیز میں نظام ربوبیت کا مشاہدہ ‘ اور یہ کہ یہ اللہ کا کام ہے کہ وہ اپنی اس سرزمین پر اقتدار کی کنجیاں کس کے حوالے کرتا ہے اللہ کے اس اختیار میں اس کے ساتھ نہ کوئی شریک ہے اور نہ ہی اس سے کوئی باز پرس کرنے کا مجاز ہے ۔ اس آخری حصے میں مقام الوہیت کو تفصیل سے واضح کیا جاتا ہے نہایت ہی مخلص ‘ پاک وصاف دل یعنی قلب رسول اللہ ﷺ سے یہ ربانی تجلیات پھوٹتی ہیں اور انداز تعبیر قرآنی ہے جو کسی بھی مفہوم کی تصویر کشی میں لاثانی ہے ۔
آیت ” قُلْ إِنَّنِیْ ہَدَانِیْ رَبِّیْ إِلَی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ دِیْناً قِیَماً مِّلَّۃَ إِبْرَاہِیْمَ حَنِیْفاً وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ (161) قُلْ إِنَّ صَلاَتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ (162) لاَ شَرِیْکَ لَہُ وَبِذَلِکَ أُمِرْتُ وَأَنَاْ أَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ (163) قُلْ أَغَیْْرَ اللّہِ أَبْغِیْ رَبّاً وَہُوَ رَبُّ کُلِّ شَیْْء ٍ وَلاَ تَکْسِبُ کُلُّ نَفْسٍ إِلاَّ عَلَیْْہَا وَلاَ تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِزْرَ أُخْرَی ثُمَّ إِلَی رَبِّکُم مَّرْجِعُکُمْ فَیُنَبِّئُکُم بِمَا کُنتُمْ فِیْہِ تَخْتَلِفُونَ (164) وَہُوَ الَّذِیْ جَعَلَکُمْ خَلاَئِفَ الأَرْضِ وَرَفَعَ بَعْضَکُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِّیَبْلُوَکُمْ فِیْ مَا آتَاکُمْ إِنَّ رَبَّکَ سَرِیْعُ الْعِقَابِ وَإِنَّہُ لَغَفُورٌ رَّحِیْمٌ(165)
” اے محمد ﷺ کہو میرے رب نے بالیقین مجھے سیدھا راستہ دکھایا ہے ‘ بالکل ٹھیک دین جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں ‘ ابراہیم کا طریقہ جسے یکسو ہو کر اس نے اختیار کیا تھا اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھا ۔ کہو ‘ میری نماز ‘ میرے تمام مراسم عبودیت ‘ میرا جینا اور مرنا سب کچھ اللہ رب العالمین کے لئے ہے ۔ جس کا کوئی شریک نہیں اس کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلے سر اطاعت جھکانے والا ہوں ۔ کہو کیا میں میں اللہ کے سوا کوئی اور رب تلاش کروں حالانکہ وہی ہر چیز کا رب ہے ؟ ہر شخص جو کچھ کماتا ہے اس کا ذمہ دار وہ خود ہے ‘ کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھاتا ‘ پھر تم سب کو اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے ‘ اس وقت وہ تمہارے اختلافات کی حقیقت تم پر کھول دے گا ۔ وہی ہے جس نے تم کو زمین کا خلیفہ بنایا ‘ اور تم میں سے بعض کو بعض کے مقابلے میں بلند درجے دیئے تاکہ جو کچھ تم کو دیا ہے اس میں تمہاری آزمائش کرے ، بیشک تمہارا رب سزا دینے میں بھی بہت تیز ہے اور بہت درگزر کرنیو الا اور رحم فرمانے والا بھی ہے ۔ “
آیت 153 وَاَنَّ ہٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْہُ ج۔دین کے اصل اصول تو وہ ہیں جو ہم بیان کر رہے ہیں۔ تمہارے خود ساختہ طور طریقے تو گویا ایسی پگڈنڈیاں ہیں جن کا صراط مستقیم سے کوئی تعلق نہیں۔ صراط مستقیم تو صرف وہ ہے جس پر ہمارا رسول ﷺ ہمارے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق چل رہا ہے۔ وَلاَ تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ سَبِیْلِہٖ ط۔یعنی اگر تم خود ساختہ مختلف پگڈنڈیوں پر چلنے کی کوشش کرو گے تو سیدھے راستے سے بھٹک جاؤ گے۔ لہٰذا تم سب راستوں کو چھوڑ کر سواء السبیل پر قائم رہو۔
شیطانی راہیں فرقہ سازی یہ اور ان جیسی آیتوں کی تفسیر میں ابن عباس کا قول تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مومنوں کو باہم اعتماد کا حکم دیتا ہے اور اختلاف و فرقہ بندی سے روکتا ہے اس لئے کہ اگلے لوگ اللہ کے دین میں پھوٹ ڈالنے ہی سے تباہ ہوئے تھے مسند میں ہے کہ اللہ کے نبی نے ایک سیدھی لکیر کھینچی اور فرمایا اللہ کی سیدھی راہ یہی ہے پھر اس کے دائیں بائیں اور لکیریں کھینچ کر اور فرمایا ان تمام راہوں پر شیطان ہے جو اپنی طرف بلا رہا ہے پھر آپ نے اس آیت کا ابتدائی حصہ تلاوت فرمایا۔ اسی حدیث کی شاہد وہ حدیث ہے جو مسند وغیرہ میں حضرت جابر سے مروی ہے کہ ہم نبی ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے جو آپ نے اپنے سامنے ایک سیدھی لکیر کھینچی اور فرمایا یہ شیطانی راہیں ہیں اور بیچ کی لکیر پر انگلی رکھ کر اس آیت کی تلاوت فرمائی۔ اسی حدیث کی شاہد وہ حدیث ہے جو مسند وغیرہ میں حضرت جابر سے مروی ہے کہ ہم نبی ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے جو آپ نے اپنے سامنے ایک سیدھی لکیر کھینچی اور فرمایا یہ شیطانی راہیں ہیں اور بیچ کی لکیر پر انگلی رکھ کر اس آیت کی تلاوت فرمائی۔ ابن ماجہ میں اور بزار میں بھی یہ حدیث ہے ابن مسعود سے کسی نے پوچھا صراط مستقیم کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا جس پر ہم نے اپنے نبی ﷺ کو چھوڑا اسی کا دوسرا سرا جنت میں جا ملتا ہے اس کے دائیں بائیں بہت سی اور راہیں ہیں جن پر لوگ چل رہے ہیں اور دوسروں کو بھی اپنی طرف بلا رہے ہیں جو ان راہوں میں سے کسی راہ ہو لیا وہ جہنم میں پہنچا پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ حضور فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے صراط مستقیم کی مثال بیان فرمائی۔ اس راستے کے دونوں طرف دو دیواریں ہیں جن میں بہت سے دروازے ہیں اور سب چوپٹ کھلے پڑے ہیں اور ان پر پردے لٹکے ہوئے ہیں اس سیدھی راہ کے سرے پر ایک پکارنے والا ہے پکارتا رہتا ہے کہ لوگو تم سب اس صراط مستقیم پر آجاؤ راستے میں بکھر نہ جاؤ، بیچ راہ کے بھی ایک شخص ہے، جب کوئی شخص ان دروازوں میں سے کسی کو کھولنا چاہتا ہے تو وہ کہتا ہے خبردار اسے نہ کھول، کھولو گے تو سیدھی راہ سے دور نکل جاؤ گے۔ پس سیدھی راہ اسلام ہے دونوں دیواریں اللہ کی حدود ہیں کھلے ہوئے دروازے اللہ کی حرام کردہ چیزیں ہیں نمایاں شخص اللہ کی کتاب ہے اوپر سے پکارنے والا اللہ کی طرف کا نصیحت کرنے والا ہے جو ہر مومن کے دل میں ہے (ترمذی) اس نکتے کو نہ بھولنا چاہئے کہ اپنی راہ کیلئے سبیل واحد کا لفظ بولا گیا اور گمراہی کی راہوں کے لئے سبل جمع کا لفظ استعمال کیا گیا اس لئے کہ راہ حق ایک ہی ہوتی ہے اور ناحق کے بہت سے طریقے ہوا کرتے ہیں جیسے آیت (اَللّٰهُ وَلِيُّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ۙيُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ) 2۔ البقرة :257) میں (ظلمان) کو جمع کے لفظ سے اور نور کو واحد کے لفظ سے ذکر کیا گیا ہے حضور ﷺ نے ایک مرتبہ (قل تعالوا) سے تین آیتوں تک تلاوت کر کے فرمایا تم میں سے کون کون ان باتوں پر مجھ سے بیعت کرتا ہے ؟ پھر فرمایا جس نے اس بیعت کو اپنا لیا اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے اور جس نے ان میں سے کسی بات کو توڑ دیا اس کی دو صورتیں ہیں یا تو دنیا میں ہی اس کی سزا شرعی اسے مل جائے گی یا اللہ تعالیٰ آخرت تک اسے مہلت دے پھر رب کی مشیت پر منحصر ہے اگر چاہے سزا دے اگر چاہے تو معاف فرما دے۔