(آیت) ” وَلَوْ تَرَیَ إِذْ وُقِفُواْ عَلَی النَّارِ فَقَالُواْ یَا لَیْْتَنَا نُرَدُّ وَلاَ نُکَذِّبَ بِآیَاتِ رَبِّنَا وَنَکُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ (27)
” کاش تم اس وقت ان کی حالت دیکھ سکتے کہ جب وہ دوزخ کے کنارے کھڑے کئے جائیں گے ۔ اس وقت وہ کہیں گے کہ کاش کوئی صورت ایسی ہو کہ ہم دنیا میں پھر واپس بھیجے جائیں اور اپنے رب کی نشانیوں کو نہ جھٹلائیں اور ایمان لانے والوں میں شامل ہوں ۔ “
اس دنیا کے مختصر منظر کے بالمقابل دنیائے اخروی کا یہ منظر ہے ۔ نہایت ہی رسواکن ‘ شرمساری اور یاس و حسرت کا منظر ۔ دنیا میں تو وہ سرکشی کرتے ‘ جھگڑتے اور اسلام کے قریب آنے سے لوگوں کو روکتے اور لمبے چوڑے وعدے کرتے لیکن یہاں ان کے ارمان یہ ہیں جبکہ وہ دوزخ کے کنارے کھڑے کیے جائیں گے ۔ یہ منظر دیکھنے کے لائق ہوگا ۔ یہ آگ پر گرفتار کرکے پیش کئے جائیں گے ۔ اب انہیں یہ طاقت ہی نہ ہوگی کہ وہ اعراض اور سرکشی کرسکیں ۔ اب نہ وہ جھگڑ سکیں گے اور نہ مغالطہ آرائی کرسکیں گے ۔ اس قابل دید منظر میں ان کی جانب سے اس تمنا کا اظہار ہوگا اور اگر آپ اسوقت ہوتے تو وہ یوں گویا ہوں گے ” کاش کوئی صورت ایسی ہو کہ ہم دنیا میں پھر واپس بھیجے جائیں اور اپنے رب کی نشانیوں کو نہ جھٹلائیں اور ایمان لانے والوں میں شامل ہوں ۔
اب تو وہ جانتے ہیں کہ یہ آیات الہیہ تھیں ۔ اب وہ تمنا کرتے ہیں کہ وہ دنیا کی طرف لوٹا دیئے جائیں ۔ اب تو وہ ان آیات کی تکذبی نہیں کرسکتے اور اب تو وہ پکے مومن بن جائیں گے لیکن اب کیا ہو سکتا ہے جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔
اب یہ لوگ اپنی جبلت کو بھول گئے ۔ وہ ایسی جبلت کے مالک ہیں جو مان کر نہیں دیتی اور ان کی یہ بات کہ کاش وہ اگر لوٹادیئے جائیں تو وہ تکذیب نہ کریں گے اور لازما ایمان لائیں گے ۔ یہ تمنا بھی جھوٹی تمنا ہے یہ وہ تمنا ہے جو ان کی جبلت و حقیقت کے ساتھ لگا نہیں کھاتی ۔ اگر ان کی یہ تمنا پوری بھی کردی جاتی تو بھی وہ ایسا نہ کرتے ۔ اور پھر ان کی بات یہ نہ ہوتی اور یہ لوگ یہ بات اس لئے کہیں گے کہ ان کے سامنے ان کے اعمال اور ان کا برانجام واضح ہوجائے گا جبکہ اس سے قبل وہ اپنے متبعین سے اپنے یہ اعمال اور یہ برا انجام چھپاتے تھے تاکہ ان کو اس فریب میں ڈالے رکھیں کہ یہ حق پرست ہیں اور آخرت میں وہ کامیاب ہونے والے ہیں اور فلاح پانے والے ہیں ۔
آیت 27 وَلَوْ تَرٰٓی اِذْ وُقِفُوْا عَلَی النَّارِ فَقَالُوْا یٰلَیْتَنَا نُرَدُّ وَلاَ نُکَذِّبَ بِاٰیٰتِ رَبِّنَا یہاں پر نُرَدُّ کے بعد فَنُصَدِّقُ مخذوف مانا جائے گا ‘ کہ اگر ہمیں لوٹا دیا جائے تو ہم تصدیق کریں گے اور اپنے رب کی آیات کو جھٹلائیں گے نہیں۔ کاش کسی نہ کسی طرح ایک دفعہ پھر ہمیں دنیا میں واپس بھیج دیا جائے۔
کفار کا واویلا مگر سب بےسود کفار کا حال اور ان کا برا انجام بیان ہو رہا ہے کہ جب یہ جہنم کو وہاں کے طرح طرح کے عذابوں وہاں کی بدترین سزاؤں طوق و زنجیر کو دیکھ لیں گے اس وقت ہائے وائے مچائیں گے اور تمنا کریں گے کہ کیا اچھا ہو کہ دنیا کی طرف لوٹائے جائیں تاکہ وہاں جا کر نیکیاں کریں اللہ کی باتوں کو نہ جھٹلائیں اور پکے سچے موحد بن جائیں، حقیقت یہ ہے کہ جس کفر و تکذیب کو اور سختی و بےایمانی کو یہ چھپا رہے تھے وہ ان کے سامنے کھل گئی، جیسے اس سے اوپر کی آیتوں میں گزرا کہ اپنے کفر کا تھوڑی دیر پہلے انکار تھا اب یہ تمنا گویا اس انکار کے بعد کا اقرار ہے اور اپنے جھوٹ کا خود اعتراف ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جس سچائی کو دنیا میں چھپاتے رہے اسے آج کھول دیں گے، چناچہ حضرت موسیٰ ؑ نے فرعون سے کہا تھا کہ تو بخوبی جانتا ہے کہ یہ تمام نشانیاں آسمان و زمین کے رب کی اتاری ہوئی ہیں۔ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے آیت (وَجَحَدُوْا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَآ اَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّعُلُوًّا ۭ فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِيْنَ) 17۔ النمل :14) یعنی فرعونیوں کے دلوں میں تو کامل یقین تھا لیکن صرف اپنی بڑائی اور سنگدلی کی وجہ سے بہ بظاہر منکر تھے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے مراد منافق ہوں جو ظاہرا مومن تھے اور دراصل کافر تھے اور یہ خبر جماعت کفار سے متعلق ہو۔ اگرچہ منافقوں کا وجود مدینے میں پیدا ہوا لیکن اس عادت کے موجود ہونے کی خبر مکی سورتوں میں بھی ہے۔ ملاحظہ ہو سورة عنکبوت جہاں صاف فرمان ہے آیت (وَلَيَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَيَعْلَمَنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ) 29۔ العنکبوت :11) پس یہ منافقین دار آخرت میں عذابوں کو دیکھ لیں گے اور جو کفر و نفاق چھپا رہے تھے وہ آج ان پر ظاہر ہوجائیں گے، واللہ اعلم، اب ان کی تمنا ہوگی کاش کہ ہم دنیا کی طرف لوٹائے جائیں یہ بھی دراصل طمع ایمانی کی وجہ سے نہیں ہوگی بلکہ عذابوں سے چھوٹ جانے کے لئے ہوگی، چناچہ عالم الغیب اللہ فرماتا ہے کہ اگر یہ لوٹا دیئے جائیں جب بھی ان ہی نافرمانیوں میں پھر سے مشغول ہوجائیں گے۔ ان کا یہ قول کہ وہ رغبت ایمان کر رہے ہیں اب بھی غلط ہے۔ نہ یہ ایمان لائیں گے نہ جھٹلانے سے باز رہیں گے بلکہ لوٹنے کے بعد بھی وہی پہلا سبق رٹنے لگیں گے کہ بس اب تو یہی دنیا ہی زندگانی ہے، دوسری زندگی اور آخرت کوئی چیز نہیں۔ نہ مرنے کے بعد ہم اٹھائے جائیں گے، پھر ایک اور حال بیان ہو رہا ہے کہ یہ اللہ عزوجل کے سامنے کھڑے ہو نگے۔ اس وقت جناب باری ان سے فرمائے گا کہو اب تو اس کا سچا ہونا تم پر ثابت ہوگیا ؟ اب تو مان گئے کہ یہ غلط اور باطل نہیں ؟ اس وقت سرنگوں ہو کر کہیں گے کہ ہاں اللہ کی قسم یہ بالکل سچ اور سراسر حق ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا اب اپنے جھٹلانے اور نہ ماننے اور کفر و انکار کا خمیازہ بھگتو اور عذابوں کا مزہ چکھو۔ بتاؤ جادو ہے یا تم اندھے ہو۔