سورۃ الانعام (6): آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں۔ - اردو ترجمہ

اس صفحہ میں سورہ Al-An'aam کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الأنعام کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔

سورۃ الانعام کے بارے میں معلومات

Surah Al-An'aam
سُورَةُ الأَنۡعَامِ
صفحہ 130 (آیات 19 سے 27 تک)

قُلْ أَىُّ شَىْءٍ أَكْبَرُ شَهَٰدَةً ۖ قُلِ ٱللَّهُ ۖ شَهِيدٌۢ بَيْنِى وَبَيْنَكُمْ ۚ وَأُوحِىَ إِلَىَّ هَٰذَا ٱلْقُرْءَانُ لِأُنذِرَكُم بِهِۦ وَمَنۢ بَلَغَ ۚ أَئِنَّكُمْ لَتَشْهَدُونَ أَنَّ مَعَ ٱللَّهِ ءَالِهَةً أُخْرَىٰ ۚ قُل لَّآ أَشْهَدُ ۚ قُلْ إِنَّمَا هُوَ إِلَٰهٌ وَٰحِدٌ وَإِنَّنِى بَرِىٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ ٱلَّذِينَ ءَاتَيْنَٰهُمُ ٱلْكِتَٰبَ يَعْرِفُونَهُۥ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَآءَهُمُ ۘ ٱلَّذِينَ خَسِرُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ فَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ ٱفْتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِـَٔايَٰتِهِۦٓ ۗ إِنَّهُۥ لَا يُفْلِحُ ٱلظَّٰلِمُونَ وَيَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِيعًا ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِينَ أَشْرَكُوٓا۟ أَيْنَ شُرَكَآؤُكُمُ ٱلَّذِينَ كُنتُمْ تَزْعُمُونَ ثُمَّ لَمْ تَكُن فِتْنَتُهُمْ إِلَّآ أَن قَالُوا۟ وَٱللَّهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ ٱنظُرْ كَيْفَ كَذَبُوا۟ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِمْ ۚ وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُوا۟ يَفْتَرُونَ وَمِنْهُم مَّن يَسْتَمِعُ إِلَيْكَ ۖ وَجَعَلْنَا عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ أَكِنَّةً أَن يَفْقَهُوهُ وَفِىٓ ءَاذَانِهِمْ وَقْرًا ۚ وَإِن يَرَوْا۟ كُلَّ ءَايَةٍ لَّا يُؤْمِنُوا۟ بِهَا ۚ حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءُوكَ يُجَٰدِلُونَكَ يَقُولُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ إِنْ هَٰذَآ إِلَّآ أَسَٰطِيرُ ٱلْأَوَّلِينَ وَهُمْ يَنْهَوْنَ عَنْهُ وَيَنْـَٔوْنَ عَنْهُ ۖ وَإِن يُهْلِكُونَ إِلَّآ أَنفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ وَلَوْ تَرَىٰٓ إِذْ وُقِفُوا۟ عَلَى ٱلنَّارِ فَقَالُوا۟ يَٰلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِـَٔايَٰتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ
130

سورۃ الانعام کو سنیں (عربی اور اردو ترجمہ)

سورۃ الانعام کی تفسیر (تفسیر بیان القرآن: ڈاکٹر اسرار احمد)

اردو ترجمہ

ان سے پوچھو، کس کی گواہی سب سے بڑھ کر ہے؟کہو، میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے، اور یہ قرآن میری طرف بذریعہ وحی بھیجا گیا ہے تاکہ تمہیں اور جس جس کو یہ پہنچے، سب کو متنبہ کر دوں کیا واقعی تم لوگ یہ شہادت دے سکتے ہو کہ اللہ کے ساتھ دوسرے خدا بھی ہیں؟ کہو، میں تو اس کی شہادت ہرگز نہیں دے سکتا کہو، خدا تو وہی ایک ہے اور میں اس شرک سے قطعی بیزار ہوں جس میں تم مبتلا ہو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qul ayyu shayin akbaru shahadatan quli Allahu shaheedun baynee wabaynakum waoohiya ilayya hatha alquranu lionthirakum bihi waman balagha ainnakum latashhadoona anna maAAa Allahi alihatan okhra qul la ashhadu qul innama huwa ilahun wahidun wainnanee bareeon mimma tushrikoona

آیت 19 قُلْ اَیُّ شَیْءٍ اَکْبَرُ شَہَادَۃً ط قُلِ اللّٰہُ قف شَہِیْدٌم بَیْنِیْ وَبَیْنَکُمْ قف یہ گویا اس سورة کے عمود کا عکس ہے۔ میں پہلے بتاچکا ہوں کہ اس سورة کا عمود یہ مضمون ہے کہ مشرکین کے مطالبے پر ہم کسی قسم کا حسی معجزہ نہیں دکھائیں گے ‘ کیونکہ اصل معجزہ یہ قرآن ہے۔ اے نبی ﷺ ہم نے آپ پر یہ قرآن اتار دیا ‘ آپ تبشیر ‘ انذار اور تذکیر کے فرائض اسی قرآن کے ذریعے سے سر انجام دیں۔ جس کے اندر صلاحیت ہے ‘ جو طالب حق ہے ‘ جو ہدایت چاہتا ہے ‘ وہ ہدایت پالے گا۔ باقی جس کے دل میں کجی ہے ‘ ٹیڑھ ہے ‘ تعصب ‘ ضد اور ہٹ دھرمی ہے ‘ حسد اور تکبر ہے ‘ آپ ﷺ اس کو دس لاکھ معجزے دکھا دیجیے وہ نہیں مانے گا۔ کیا علماء یہود حضرت مسیح علیہ السلام کے معجزے دیکھ کر آپ علیہ السلام پر ایمان لے آئے تھے ؟ کیسے کیسے معجزے تھے جو انہیں دکھائے گئے ! آپ علیہ السلام گارے سے پرندے کی شکل بنا کر پھونک مارتے اور وہ اڑتا ہوا پرندہ بن جاتا۔ یہ احیائے موتیٰ اور خلق حیات تو وہ چیزیں ہیں جو بالخصوص اللہ تعالیٰ کے اپنے exclusive اَفعال ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ پر یہ نشانیاں بھی ظاہر کردیں ‘ لیکن انہیں دیکھ کر کتنے لوگوں نے مانا ؟ لہٰذاہم ایسا کوئی معجزہ نہیں دکھائیں گے۔ البتہ آپ ﷺ محنت اور کوشش کرتے جایئے ‘ دعوت و تبلیغ کرتے جایئے۔یہاں پر لفظ بِہٖ خاص پر نوٹ کیجیے۔ فرمایا کہ یہ قرآن میری طرف وحی کیا گیا ہے تاکہ میں خبردار کر دوں تمہیں اس کے ذریعے سے بِہٖ یعنی میرا انذار قرآن کے ذریعے سے ہے۔ مزید فرمایا : وَمَنْم بَلَغَ ط اور جس تک یہ پہنچ جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ میں تو تمہیں پہنچا رہا ہوں ‘ اب جو امت بنے گی وہ آگے پہنچائے گی۔ جس تک یہ قرآن پہنچ گیا اس تک رسول اللہ ﷺ کا انداز پہنچ گیا ‘ اور یہ سلسلہ تا قیامت چلے گا ‘ کیونکہ حضور ﷺ اپنے ہی زمانے کے لیے رسول بن کر نہیں آئے تھے ‘ آپ ﷺ تو تا قیامت رسول ہیں۔ یہ آپ ﷺ ہی کی رسالت کا دور چل رہا ہے۔ جو انسان بھی قیامت تک دنیا میں آئے گا وہ آپ ﷺ کی امت دعوت میں شامل ہے ‘ اس تک قرآن کا پیغام پہنچانا اب امت محمد ﷺ کے ذمہ ہے۔اب آ رہا ہے ایک متجسسانہ سوال searching question۔ جیسا کہ میں نے ابتدا میں عرض کیا تھا ‘ جب آپ کو معلوم ہو کہ آپ کا مخالف جو کچھ کہہ رہا ہے وہ اپنے دل کے یقین سے نہیں کہہ رہا ہے ‘ بلکہ ضد اور ہٹ دھرمی کی بنیاد پر کہہ رہا ہے ‘ تو پھر اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر متجسسانہ searching انداز میں اس سے سوال کیا جاتا ہے۔ یہی انداز یہاں اختیار کیا گیا ہے۔ فرمایا : اَءِنَّکُمْ لَتَشْہَدُوْنَ اَنَّ مَعَ اللّٰہِ اٰلِہَۃً اُخْرٰی ط قُلْ لَّآ اَشْہَدُ ج تم ایسا کہو تو کہو ‘ لیکن میرے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ ایسی خلاف عقل اور خلاف فطرت بات کہہ سکوں۔قُلْ اِنَّمَا ہُوَ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ وَّاِنَّنِیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِکُوْنَ واضح رہے کہ اس سورة کا زمانۂ نزول مکی دور کا آخری زمانہ ہے۔ اس وقت تک مدینہ میں بھی خبریں پہنچ چکی تھیں کہ مکہ کے اندر ایک نئی دعوت بڑے زور و شور اور شدو مد کے ساتھ اٹھ رہی ہے۔ چناچہ مدینہ کے یہودیوں کی طرف سے سکھائے ہوئے سوالات بھی مکہ کے لوگ حضور ﷺ سے امتحاناً کرتے تھے۔ مثلاً آپ ذرا بتائیے کہ ذو القرنین کون تھا ؟ اگر آپ نبی ہیں تو بتائیے کہ اصحاب کہف کا قصہ کیا تھا ؟ اور یہ بھی بتائیے کہ روح کی حقیقت کیا ہے ؟ یہ سب سوالات اور ان کے جوابات سورة بنی اسرائیل اور سورة الکہف میں آئیں گے۔ مدینہ کے یہودیوں تک ان کے سوالات کے جوابات سے متعلق تمام خبریں بھی پہنچ چکی تھیں اور ان کے سمجھ دار اور اہل علم لوگ سمجھ چکے تھے کہ یہ وہی نبی ہیں جن کے ہم منتظر تھے۔ مگر یہ لوگ یہ سب کچھ سمجھنے اور جان لینے کے باوجود محروم رہ گئے۔

اردو ترجمہ

جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس بات کو اس طرح غیر مشتبہ طور پر پہچانتے ہیں جیسے ان کو اپنے بیٹوں کے پہچاننے میں کوئی اشتباہ پیش نہیں آتا مگر جنہوں نے اپنے آپ کو خود خسارے میں ڈال دیا ہے وہ اِسے نہیں مانتے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Allatheena ataynahumu alkitaba yaAArifoonahu kama yaAArifoona abnaahum allatheena khasiroo anfusahum fahum la yuminoona

آیت 20 اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰہُمُ الْکِتٰبَ یَعْرِفُوْنَہٗ کَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَ ہُمْ 7یَعْرِفُوْنَہٗ کی ضمیر مفعولی دونوں طرف جاسکتی ہے ‘ قرآن کی طرف بھی اور حضور ﷺ کی طرف بھی۔ البتہ اس سے قبل یہ وضاحت کی جا چکی ہے کہ قرآن اور رسول ﷺ مل کر ہی بیّنہ بنتے ہیں ‘ یہ دونوں ایک وحدت اور ایک ہی حقیقت ہیں۔ حضور ﷺ خود قرآن مجسم ہیں۔ قرآن ایک انسانی شخصیت اور سیرت و کردار کا جامہ پہن لے تو وہ محمد ﷺ ہیں۔ جیسا کہ اُمّ المومنین حضرت عائشہ رض نے فرمایا تھا : کَانَ خُلُقُہُ الْقُرآنَ 1 یعنی حضور ﷺ کی سیرت قرآن ہی تو ہے۔

اردو ترجمہ

اور اُس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹا بہتان لگائے، یا اللہ کی نشانیوں کو جھٹلائے؟ یقیناً ایسے ظالم کبھی فلاح نہیں پا سکتے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waman athlamu mimmani iftara AAala Allahi kathiban aw kaththaba biayatihi innahu la yuflihu alththalimoona

آیت 21 وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اَوْ کَذَّبَ بِاٰیٰتِہٖ ط اِنَّہٗ لاَ یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ ۔یعنی یہ دو عظیم ترین جرائم ہیں جو شناعت میں برابر کے ہیں ‘ اللہ کی آیات کو جھٹلانا یا کوئی شے خودگھڑ کر اللہ کی طرف منسوب کردینا۔

اردو ترجمہ

جس روز ہم ان سب کو اکٹھا کریں گے اور مشرکوں سے پوچھیں گے کہ اب وہ تمہارے ٹھیرائے ہوئے شریک کہاں ہیں جن کو تم اپنا خدا سمجھتے تھے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wayawma nahshuruhum jameeAAan thumma naqoolu lillatheena ashrakoo ayna shurakaokumu allatheena kuntum tazAAumoona

آیت 22 وَیَوْمَ نَحْشُرُہُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَکُوْٓا اَیْنَ شُرَکَآؤُکُمُ الَّذِیْنَ کُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ تمہارا گمان تھا کہ وہ تمہیں ہماری پکڑ سے بچا لیں گے۔

اردو ترجمہ

تو وہ اِس کے سوا کوئی فتنہ نہ اٹھا سکیں گے کہ (یہ جھوٹا بیان دیں کہ) اے ہمارے آقا! تیری قسم ہم ہرگز مشر ک نہ تھے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Thumma lam takun fitnatuhum illa an qaloo waAllahi rabbina ma kunna mushrikeena

اردو ترجمہ

دیکھو، اُس وقت یہ کس طرح اپنے اوپر آپ جھوٹ گھڑیں گے، اور وہاں اُن کے سارے بناوٹی معبود گم ہو جائیں گے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Onthur kayfa kathaboo AAala anfusihim wadalla AAanhum ma kanoo yaftaroona

آیت 24 اُنْظُرْ کَیْفَ کَذَبُوْا عَلآی اَنْفُسِہِمْ وَضَلَّ عَنْہُمْ مَّا کَانُوْا یَفْتَرُوْنَ ۔ ان کے یہ دعوے کہ فلاں دیوی بچائے گی اور فلاں دیوتا سفارش کرے گا ‘ سب نسیاً منسیاً ہوجائیں گے۔ عذاب کو دیکھ کر اس وقت ان کے ہاتھوں کے طوطے اڑ جائیں گے

اردو ترجمہ

ان میں سے بعض لوگ ایسے ہیں جو کان لگا کر تمہاری بات سنتے ہیں مگر حال یہ ہے کہ ہم نے اُن کے دلوں پر پردے ڈال رکھے ہیں جن کی وجہ سے وہ اس کو کچھ نہیں سمجھتے اور ان کے کانوں میں گرانی ڈال دی ہے (کہ سب کچھ سننے پر بھی کچھ نہیں سنتے) وہ خواہ کوئی نشانی دیکھ لیں، اس پر ایمان لا کر نہ دیں گے حد یہ ہے کہ جب وہ تمہارے پاس آ کر تم سے جھگڑتے ہیں تو ان میں سے جن لوگوں نے انکار کا فیصلہ کر لیا ہے وہ (ساری باتیں سننے کے بعد) یہی کہتے ہیں کہ یہ ایک داستان پارینہ کے سوا کچھ نہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waminhum man yastamiAAu ilayka wajaAAalna AAala quloobihim akinnatan an yafqahoohu wafee athanihim waqran wain yaraw kulla ayatin la yuminoo biha hatta itha jaooka yujadiloonaka yaqoolu allatheena kafaroo in hatha illa asateeru alawwaleena

آیت 25 وَمِنْہُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْکَ ج۔مکہ میں قریش کے سرداروں کے لیے جب عوام کو ایمان لانے سے روکنا مشکل ہوگیا تو انہوں نے بھی علماء یہود کی طرح ایک ترکیب نکالی۔ وہ بڑے اہتمام کے ساتھ آکر حضور ﷺ کی مجلس میں بیٹھتے اور بڑے انہماک سے کان لگا کر آپ ﷺ کی باتیں سنتے۔ وہ یہ ظاہر کرتے تھے کہ ہم سب کچھ بڑی توجہ سے سن رہے ہیں ‘ تاکہ عام لوگ دیکھ کر یہ سمجھیں کہ واقعی ہمارے ذی فہم سردار یہ باتیں سننے ‘ سمجھنے اور ماننے میں سنجیدہ ہیں ‘ مگر پھر بعد میں عوام میں آکر ان باتوں کو ردّ کردیتے۔ عام لوگوں کو دھوکہ دینے کے لیے یہ ان کی ایک چال تھی ‘ تاکہ عوام یہ سمجھیں کہ ہمارے یہ سردار سمجھدار اور ذہین ہیں ‘ یہ لوگ شوق سے محمد ﷺ کی محفل میں جاتے ہیں اور پورے انہماک سے ان کی باتیں سنتے ہیں ‘ پھر اگر یہ لوگ اس دعوت کو سننے اور سمجھنے کے بعد ردّ کرر ہے ہیں تو آخراس کی کوئی علمی اور عقلی وجوہات تو ہوں گی۔ لہٰذا آیت زیر نظر میں ان کی اس سازش کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ اے نبی ﷺ ان میں سے کچھ لوگ آپ کے پاس آتے ہیں اور آپ کی باتیں بظاہر بڑی توجہ سے کان لگا کر سنتے ہیں۔وَجَعَلْنَا عَلٰی قُلُوْبِہِمْ اَکِنَّۃً اَنْ یَّفْقَہُوْہُ وَفِیْٓ اٰذَانِہِمْ وَقْرًاط وَاِنْ یَّرَوْا کُلَّ اٰیَۃٍ لاَّ یُؤْمِنُوْا بِہَا ط۔اللہ نے ان کے دلوں اور دماغوں پر یہ پردے کیوں ڈال دیے ؟ یہ سب کچھ اللہ کی اس سنت کے مطابق ہے کہ جب نبی کے مخاطبین اس کی دعوت کے مقابلے میں حسد ‘ تکبر اور تعصب دکھاتے ہوئے اپنی ضد پر اڑے رہتے ہیں تو ان کی سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیتیں سلب کرلی جاتی ہیں۔ جیسے سورة البقرۃ آیت 7 میں فرمایا گیا : خَتَمَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِہِمْ وَعَلٰی سَمْعِہِمْط وَعَلٰٓی اَبْصَارِہِمْ غِشَاوَۃٌز۔ لہٰذا ان کا بظاہرتوجہ سے نبی ﷺ کی باتوں کو سننا ان کے لیے مفید نہیں ہوگا۔حَتّٰیٓ اِذَا جَآءُ وْکَ یُجَادِلُوْنَکَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِنْ ہٰذَآ اِلَّآ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ۔ یہ جو کچھ آپ ﷺ ہمیں سنا رہے ہیں یہ پرانی باتیں اور پرانے قصے ہیں ‘ جو معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے یہودیوں اور نصرانیوں سے سن رکھے ہیں۔

اردو ترجمہ

وہ اس امر حق کو قبول کرنے سے لوگوں کو روکتے ہیں اور خود بھی اس سے دور بھاگتے ہیں (وہ سمجھتے ہیں کہ اس حرکت سے وہ تمہارا کچھ بگاڑ رہے ہیں) حالانکہ دراصل وہ خو د اپنی ہی تباہی کا سامان کر رہے ہیں مگر انہیں اس کا شعور نہیں ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wahum yanhawna AAanhu wayanawna AAanhu wain yuhlikoona illa anfusahum wama yashAAuroona

آیت 26 وَہُمْ یَنْہَوْنَ عَنْہُ وَیَنْءَوْنَ عَنْہُ ج۔یہاں آپس میں ملتے جلتے دو افعال استعمال ہوئے ہیں ‘ ایک کا مادہ ’ ن ہ ی ‘ ہے اور دوسرے کا ’ ن ء ی ‘ ہے۔ نَھٰی یَنْھٰی روکنا تو معروف فعل ہے اور نہی کا لفظ اردو میں بھی عام استعمال ہوتا ہے۔ لہٰذا یَنْہَوْنَ عَنْہُ کے معنی ہیں وہ روکتے ہیں اس سے۔ کس کو روکتے ہیں ؟ اپنے عوام کو۔ ان کی لیڈری اور سرداری عوام کے بل پر ہی تو ہے۔ عوام برگشتہ ہوجائیں گے تو ان کی لیڈری کہاں رہے گی۔ عوام کو اپنے قابو میں کرنا اور ان کی عقل اور سمجھ پر اپنا تسلط قائم رکھنا ایسے نام نہادلیڈروں کے لیے انتہائی ضروری ہوتا ہے۔ لہٰذا ایک طرف تو وہ اپنے عوام کو راہ ہدایت اختیار کرنے سے روکتے ہیں اور دوسری طرف وہ خود اس سے گریز اور پہلو تہی کرتے ہیں۔ نَاٰی یَنْاٰی نَأْیًا کا مفہوم ہے دور ہونا ‘ کنی کترانا جیسے سورة بنی اسرائیل آیت 83 میں فرمایا : وَاِذَآ اَنْعَمْنَا عَلَی الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ وَنَاٰبِجَانِبِہٖ ج اور انسان کا حال یہ ہے کہ جب ہم اس پر انعام کرتے ہیں تو منہ پھیرلیتا اور پہلوتہی کرتا ہے۔ چناچہ یَنْءَوْنَ عَنْہُ ط کے معنی ہیں وہ اس سے گریز کرتے ہیں ‘ کنی کتراتے ہیں۔

اردو ترجمہ

کاش تم اس وقت ان کی حالت دیکھ سکتے جب وہ دوزخ کے کنارے کھڑے کیے جائیں گے اس وقت وہ کہیں گے کہ کاش کوئی صورت ایسی ہو کہ ہم دنیا میں پھر واپس بھیجے جائیں اور اپنے رب کی نشانیوں کو نہ جھٹلائیں اور ایمان لانے والوں میں شامل ہوں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Walaw tara ith wuqifoo AAala alnnari faqaloo ya laytana nuraddu wala nukaththiba biayati rabbina wanakoona mina almumineena

آیت 27 وَلَوْ تَرٰٓی اِذْ وُقِفُوْا عَلَی النَّارِ فَقَالُوْا یٰلَیْتَنَا نُرَدُّ وَلاَ نُکَذِّبَ بِاٰیٰتِ رَبِّنَا یہاں پر نُرَدُّ کے بعد فَنُصَدِّقُ مخذوف مانا جائے گا ‘ کہ اگر ہمیں لوٹا دیا جائے تو ہم تصدیق کریں گے اور اپنے رب کی آیات کو جھٹلائیں گے نہیں۔ کاش کسی نہ کسی طرح ایک دفعہ پھر ہمیں دنیا میں واپس بھیج دیا جائے۔

130