سورۃ الانعام: آیت 66 - وكذب به قومك وهو الحق... - اردو

آیت 66 کی تفسیر, سورۃ الانعام

وَكَذَّبَ بِهِۦ قَوْمُكَ وَهُوَ ٱلْحَقُّ ۚ قُل لَّسْتُ عَلَيْكُم بِوَكِيلٍ

اردو ترجمہ

تمہاری قوم اُس کا انکار کر رہی ہے حالانکہ وہ حقیقت ہے اِن سے کہہ دو کہ میں تم پر حوالہ دار نہیں بنایا گیا ہوں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wakaththaba bihi qawmuka wahuwa alhaqqu qul lastu AAalaykum biwakeelin

آیت 66 کی تفسیر

(آیت) ” نمبر 66 تا 67۔

یہاں روئے سخن حضور اکرم ﷺ کی طرف ہے ۔ اس خطاب کے ذریعے نبی کریم ﷺ اور آپ کے بعد آنے والے اہل ایمان کے کاسہ دل کو ایمان ویقین سے بھر دیا جاتا ہے ۔ اگرچہ ایک داعی کی پوری قوم اور پورا معاشرہ حق کو جھٹلا دے تب بھی اسے یقین ہوتا ہے کہ حق غالب رہے گا اس لئے کہ سچائی کے بارے میں فیصلہ کرنا اہل جاہلیت کا کام نہیں ہے ‘ یہ اللہ کا کام ہے کہ وہ حق اور باطل کا فیصلہ کرے ۔ اللہ ہی ہے جو یہ اعلان کرسکتا ہے کہ فلاں چیز حق ہے اور فلاں چیز باطل ۔ لہذا جھٹلانے والوں کے کسی فیصلے کی کوئی حقیقت اور حیثیت نہیں ہے ۔

اس کے بعد حضرت نبی اکرم ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ اپنی قوم سے دامن جھاڑ دیں اور اعلان کردیں کہ وہ ان سے بری الذمہ ہیں اور یہ کہ اب ان کی اور ان کی قوم کی راہیں جدا ہوگئی ہیں اور یہ بھی اعلان کردیں کہ وہ ان کے معاملے میں کسی چیز کے مختار وحوالہ دار نہیں ہیں اور نہ ان کی نگہبانی کے ذمہ دار ہیں ۔ ان کا فریضہ اس وقت ختم ہوجاتا ہے جب وہ پیغام پہنچا دیں اور سمجھا دیں کیونکہ ذمہ داری اور نگہبانی رسولوں کی ڈیوٹی میں شامل نہیں ہے ۔ جب کوئی رسول پیغام پہنچا دے اور سمجھا دے تو اس کا فریضہ ختم ہوجاتا ہے ۔ اس کے بعد رسول اقوام کو چھوڑ دیتے ہیں کہ وہ اپنے فطری انجام تک پہنچ جائیں ‘ کیونکہ ہر بات اپنے مقررہ وقت پر ظاہر ہوجاتی ہے اور جب بات سامنے آجاتی ہے تو سب اسے جان لیتے ہیں ۔

(آیت) ” لِّکُلِّ نَبَإٍ مُّسْتَقَرٌّ وَسَوْفَ تَعْلَمُونَ (67)

” ہر خبر کے ظہور میں آنے کا ایک وقت مقرر ہے ‘ عنقریب تم کو خود انجام معلوم ہوجائے گا “۔

یہاں یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ کیا بات ہے جو ظاہر ہونے والی ہے ۔ ایسے مقامات پر بات کو مجمل رکھنا زیادہ خوفناک ہوتا ہے ۔ مارے ڈر کے دل کانپ اٹھتے ہیں ۔

آیات میں حق پر ثابت قدمی کی تلقین ہے یقین دلایا گیا ہے کہ باطل کا ظاہری غلغلہ جس قدر بھی ہوں اس کا انجام بہرحال برا ہوگا اور ایک مقررہ وقت پر اللہ کی جانب سے اہل باطل کو پکڑا جاتا ہے اور یہ کہ ہر بات کے ظہور کا وقت مقرر ہے اور ہر حاضر صورت حال کا ایک انجام سامنے آنے والا ہے ۔

حقیقت یہ ہے کہ داعیان حق کو اپنی قوم کی جانب سے جس تکذیب اور سرد مہری کا سامنا کرنا پڑتا ہے ‘ ان پر اپنے خاندان کی جانب سے جو مظالم ہوتے ہیں ‘ جس طرح وہ اپنے اہل و عیال میں بیگانے بن جاتے ہیں ‘ انہیں جن اعصاب شکن حالات سے دوچار ہونا پڑتا ہے ‘ ایسے حالات میں فی الواقعہ وہ ایسی ہی تسلی کے محتاج ہوتے ہیں ‘ انہیں جن اعصاب شکن حالات سے دو چار ہونا پڑتا ہے ‘ ایسے حالات میں فی الواقعہ وہ ایسی ہی تسلی کے محتاج ہوتے ہیں ‘ اس طرح ان کا کاسہ دل اطمینان اور یقین سے بھر جاتا ہے اور یہ اطمینان اور سکینت قرآن ہی ان کے دلوں میں پیدا کرسکتا ہے ۔

جب پیغمبر ﷺ نے ان تک یہ پیغام دیا اور ان کی جانب سے ناروا تکذیب و انکار کا جواب ان کے ساتھ قطع تعلق کے ذریعے دے دیا گیا تو اب حضور ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ ان کی ہمنشینی اختیار نہ کریں ‘ یہاں تک کہ تبلیغی مقاصد کے لئے بھی ان کے پاس نہ جائیں اگر حالات ایسے ہوں کہ وہ اسلام پر تنقید اور نکتہ چینیاں کر رہے ہو اور عزت واحترام اور سنجیدگی سے اسلامی موضوعات پر بحث نہ کر رہے ہوں ۔ اسلام جس سنجیدہ عزت ووقار اور رعب وداب کا تقاضا کرتا ہے وہ اس کا لحاظ نہ کررہے ہوں بلکہ الٹا دین کے ساتھ مذاق کر رہے ہوں اور ہنسی مزاح کے ساتھ ریمارکس پاس کر رہے ہوں چاہے اپنی زبان سے وہ ایسا کر رہے ہوں یا عمل کے ساتھ ۔ ایسے حالات میں حکم دیا جاتا ہے کہ ان کے ساتھ ہم نشینی اختیار نہ کی جائے کیونکہ اس طرح معنوی اعتبار سے ہم نشینی کرنے والا ان باتوں کا تائید کنندہ تصور ہوگا یا کم از کم یہ تصور ہوگا کہ ایسے شخص کے اندر کوئی دینی غیرت نہیں ہے ۔ اگر شیطان کسی مسلمان کو بہلاوے میں ڈال دے اور وہ ایسی محفل میں بیٹھ جائے تو یاد آتے ہیں اس کا فرض ہے کہ وہ وہاں سے اٹھ کھڑا ہو۔

آیت 66 وَکَذَّبَ بِہٖ قَوْمُکَ وَہُوَ الْحَقُّ ط۔یہاں بِہٖ سے مراد قرآن ہے۔ جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے ‘ اس سورة کا عمود یہ مضمون ہے کہ مشرکین کے مطالبے پر کوئی حسی معجزہ نہیں دکھایا جائے گا ‘ محمد رسول اللہ ﷺ کا اصل معجزہ یہ قرآن ہے۔ اسی لیے اس مضمون کی تفصیل میں بِہٖکی تکرار کثرت سے ملے گی۔قُلْ لَّسْتُ عَلَیْکُمْ بِوَکِیْلٍ ۔اب میں نہیں کہہ سکتا کہ کب اللہ کے عذاب کا دروازہ کھل جائے اور عذاب ہلاکت تم پر ٹوٹ پڑے۔

غلط تاویلیں کرنے والوں سے نہ ملو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس قرآن کو اور جس ہدایت وبیان کو تو اللہ عالی کی طرف سے لایا ہے اور جسے تیری قوم قریش جھتلا رہی ہے حقیقتاً وہ سرا سر حق ہے بلکہ اس کے سوا اور کوئی حق ہے ہی نہیں ان سے کہہ دیجئے میں نہ تو تمہارا محافظ ہوں نہ تم پر وکیل ہوں، جیسے اور آیت میں ہے کہہ دے کہ یہ تمہارے رب کی طرف سے حق ہے جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے نہ مانے، یعنی مجھ پر صرف تبلیغ کرنا فرض ہے، تمہارے ذمہ سننا اور ماننا ہے ماننے والے دنیا اور آخرت میں نیکی پائیں گے اور نہ ماننے والے دونوں جہان میں بدنصیب رہیں گے، ہر خبر کی حقیقت ہے وہ ضرور واقع ہونے والی ہے اس کا وقت مقرر ہے، تمہیں عنقریب حقیقت حال معلوم ہوجائے گی، واقعہ کا انکشاف ہوجائے گا اور جان لو گے، پھر فرمایا جب تو انہیں دیکھے جو میری آیتوں کو جھٹلاتے ہیں اور ان کا مذاق اڑاتے ہیں تو تو ان سے منہ پھیر لے اور جب تک وہ اپنی شیطانیت سے باز نہ آجائیں تو ان کے ساتھ نہ اٹھو نہ بیٹھو، اس آیت میں گو فرمان حضرت رسالت مآب ﷺ کو ہے لیکن حکم عام ہے۔ آپ کی امت کے ہر شخص پر حرام ہے کہ وہ ایسی مجلس میں یا ایسے لوگوں کے ساتھ بیٹھے جو اللہ کی آیتوں کی تکذیب کرتے ہوں ان کے معنی الٹ پلٹ کرتے ہوں اور ان کی بےجا تاویلیں کرتے ہوں، اگر بالفرض کوئی شخص بھولے سے ان میں بیٹھ بھی جائے تو یاد آنے کے بعد ایسے ظالموں کے پاس بیٹھنا ممنوع ہے حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کو خطا اور بھول سے درگزر فرما لیا ہے اور ان کاموں سے بھی جو ان سے زبر دستی مجبور کر کے کرائے جائیں۔ اس آیت کے اسی حکم کی طرف اشارہ اس آیت میں ہے آیت (وَقَدْ نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتٰبِ اَنْ اِذَا سَمِعْتُمْ اٰيٰتِ اللّٰهِ يُكْفَرُ بِھَا وَيُسْتَهْزَاُ بِھَا فَلَا تَقْعُدُوْا مَعَھُمْ حَتّٰي يَخُوْضُوْا فِيْ حَدِيْثٍ غَيْرِهٖٓ) 4۔ النسآء :140) یعنی تم پر اس کتاب میں یہ فرمان نازل ہوچکا ہے کہ جب اللہ کی آیتوں کے ساتھ کفر اور مذاق ہوتا ہوا سنو تو ایسے لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو اور اگر تم نے ایسا کیا تو تم بھی اس صورت میں ان جیسے ہی ہوجاؤ گے ہاں جب وہ اور باتوں میں مشغول ہوں تو خیر، مطلب یہ ہے کہ اگر تم ان کے ساتھ بیٹھے اور ان کی باتوں کو برداشت کرلیا تو تم بھی ان کی طرح ہی ہو، پھر فرمان ہے کہ جو لوگ ان سے دوری کریں ان کے ساتھ شریک نہ ہوں ان کی ایسی مجلسوں سے الگ رہیں وہ بری الذمہ ہیں ان پر ان کا کوئی گناہ نہیں، ان پر اس بدکرداری کا کوئی بوجھ ان کے سر نہیں، دیگر مفسرین کہتے ہیں کہ اس کے یہ معنی ہیں کہ اگرچہ ان کے ساتھ بیٹھیں لیکن جبکہ ان کے کام میں اور ان کے خیال میں ان کی شرکت نہیں تو یہ بےگناہ ہیں لیکن یہ حضرات یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ حکم سورة نساء مدنی کی آیت (اِنَّكُمْ اِذًا مِّثْلُھُمْ) 4۔ النسآء :140) سے منسوخ ہے۔ ان مفسرین کی اس تفسیر کے مطابق آیت کے آخری جملے کے یہ معنی ہوں گے کہ ہم نے تمہیں ان سے الگ رہنے کا حکم اس لئے دیا ہے کہ انہیں عبرت حاصل ہو اور ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے گناہ سے باز آجائیں اور ایسا نہ کریں۔

آیت 66 - سورۃ الانعام: (وكذب به قومك وهو الحق ۚ قل لست عليكم بوكيل...) - اردو