سورۃ الانعام (6): آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں۔ - اردو ترجمہ

اس صفحہ میں سورہ Al-An'aam کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الأنعام کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔

سورۃ الانعام کے بارے میں معلومات

Surah Al-An'aam
سُورَةُ الأَنۡعَامِ
صفحہ 135 (آیات 60 سے 68 تک)

وَهُوَ ٱلَّذِى يَتَوَفَّىٰكُم بِٱلَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُم بِٱلنَّهَارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيهِ لِيُقْضَىٰٓ أَجَلٌ مُّسَمًّى ۖ ثُمَّ إِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ ثُمَّ يُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ وَهُوَ ٱلْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِۦ ۖ وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءَ أَحَدَكُمُ ٱلْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَهُمْ لَا يُفَرِّطُونَ ثُمَّ رُدُّوٓا۟ إِلَى ٱللَّهِ مَوْلَىٰهُمُ ٱلْحَقِّ ۚ أَلَا لَهُ ٱلْحُكْمُ وَهُوَ أَسْرَعُ ٱلْحَٰسِبِينَ قُلْ مَن يُنَجِّيكُم مِّن ظُلُمَٰتِ ٱلْبَرِّ وَٱلْبَحْرِ تَدْعُونَهُۥ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً لَّئِنْ أَنجَىٰنَا مِنْ هَٰذِهِۦ لَنَكُونَنَّ مِنَ ٱلشَّٰكِرِينَ قُلِ ٱللَّهُ يُنَجِّيكُم مِّنْهَا وَمِن كُلِّ كَرْبٍ ثُمَّ أَنتُمْ تُشْرِكُونَ قُلْ هُوَ ٱلْقَادِرُ عَلَىٰٓ أَن يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِّن فَوْقِكُمْ أَوْ مِن تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَكُم بَأْسَ بَعْضٍ ۗ ٱنظُرْ كَيْفَ نُصَرِّفُ ٱلْءَايَٰتِ لَعَلَّهُمْ يَفْقَهُونَ وَكَذَّبَ بِهِۦ قَوْمُكَ وَهُوَ ٱلْحَقُّ ۚ قُل لَّسْتُ عَلَيْكُم بِوَكِيلٍ لِّكُلِّ نَبَإٍ مُّسْتَقَرٌّ ۚ وَسَوْفَ تَعْلَمُونَ وَإِذَا رَأَيْتَ ٱلَّذِينَ يَخُوضُونَ فِىٓ ءَايَٰتِنَا فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتَّىٰ يَخُوضُوا۟ فِى حَدِيثٍ غَيْرِهِۦ ۚ وَإِمَّا يُنسِيَنَّكَ ٱلشَّيْطَٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ ٱلذِّكْرَىٰ مَعَ ٱلْقَوْمِ ٱلظَّٰلِمِينَ
135

سورۃ الانعام کو سنیں (عربی اور اردو ترجمہ)

سورۃ الانعام کی تفسیر (تفسیر بیان القرآن: ڈاکٹر اسرار احمد)

اردو ترجمہ

وہی ہے جو رات کو تمہاری روحیں قبض کرتا ہے اور دن کو جو کچھ تم کرتے ہو اسے جانتا ہے، پھر دوسرے روز وہ تمہیں اِسی کاروبار کے عالم میں واپس بھیج دیتا ہے تاکہ زندگی کی مقرر مدت پوری ہو آخر کار اسی کی طرف تمہاری واپسی ہے، پھر و ہ تمہیں بتا دے گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wahuwa allathee yatawaffakum biallayli wayaAAlamu ma jarahtum bialnnahari thumma yabAAathukum feehi liyuqda ajalun musamman thumma ilayhi marjiAAukum thumma yunabbiokum bima kuntum taAAmaloona

آیت 60 وَہُوَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰٹکُمْ بالَّیْلِ سورۂ آل عمران کی آیت 55 کی تشریح کے سلسلے میں یُوَفِّیْ ‘ یَتَوَفّٰی اور مُتَوَفِّیوغیرہ الفاظ کی وضاحت ہوچکی ہے ‘ جس سے قادیانیوں کی ساری خباثت کا توڑ ہوجاتا ہے۔ ذرا غور کیجئے ! یہاں وفات دینے کے کیا معنی ہیں ؟ کیا نیند کے دوران انسان مرجاتا ہے ؟ نہیں ‘ جان تو بدن میں رہتی ہے ‘ البتہ شعور نہیں رہتا۔ اس سلسلے میں تین چیزیں الگ الگ ہیں ‘ جسم ‘ جان اور شعور۔ فارسی کا ایک بڑا خوبصورت شعر ہے ؂جاں نہاں در جسم ‘ اُو در جاں نہاں اے نہاں ‘ اندر نہاں ‘ اے جان جاں !جان جسم کے اندر پنہاں ہے اور جان میں وہ پنہاں ہے۔ اے کہ جو پنہاں شے کے اندر پنہاں ہے ‘ تو ہی تو جان جاں ہے !اس شعر میں او وہ سے مراد کچھ اور ہے ‘ جس کی تفصیل کا یہ موقع نہیں۔ اس وقت صرف یہ سمجھ لیجیے کہ ان تین چیزوں یعنی جسم ‘ جان اور شعور میں سے نیند میں صرف شعور جاتا ہے جبکہ موت میں شعور بھی جاتا ہے اور جان بھی چلی جاتی ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تَوَفِّی مکمل صورت میں وقوع پذیر ہوا تھا ‘ یعنی جسم ‘ جان اور شعور تینوں چیزوں کے ساتھ۔ عام آدمی کی موت کی صورت میں یہ تَوَفِّی ادھورا ہوتا ہے ‘ یعنی جسم یہیں رہ جاتا ہے ‘ جان اور شعور چلے جاتے ہیں ‘ جب کہ نیند کی حالت میں صرف شعور جاتا ہے۔وَیَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بالنَّہَارِ ثُمَّ یَبْعَثُکُمْ فِیْہِ لِیُقْضٰٓی اَجَلٌ مُّسَمًّی ج۔یعنی روزانہ ہم ایک طرح سے موت کی آغوش میں چلے جاتے ہیں ‘ کیونکہ نیند آدھی موت ہوتی ہے۔ جیسے صبح کے وقت اٹھنے کی مسنون دعا میں مذکور ہے : اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَحْیَانِیْ بَعْدَ مَا اَمَاتَنِیْ وَاِلَیْہِ النُّشُوْرِ کل شکر اور کل تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے مجھے دوبارہ زندہ کیا ‘ اس کے بعد کہ مجھ پر موت وارد کردی تھی اور اسی کی طرف جی اٹھنا ہے۔ اس دعا سے ایک بڑاعجیب نکتہ ذہن میں آتا ہے۔ وہ یہ کہ ہر روز صبح اٹھتے ہی جس شخص کی زبان پر یہ الفاظ آتے ہوں : اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَحْیَانِیْ بَعْدَ مَا اَمَاتَنِیْ وَاِلَیْہِ النُّشُوْرِ قیامت کے دن جب وہ قبر سے اٹھے گا تو دنیا میں اپنی عادت کے سبب اس کی زبان پر خود بخود یہی ترانہ جاری ہوجائے گا ‘ جو اس وقت لفظی اعتبار سے صد فی صد درست ہوگا ‘ کیونکہ وہ اٹھنا حقیقی موت کے بعد کا اٹھنا ہوگا۔ اس لیے ضروری ہے کہ زندگی میں روزانہ اس کی ریہرسل کی جائے تاکہ یہ عادت پختہ ہوجائے۔

اردو ترجمہ

اپنے بندوں پر وہ پوری قدرت رکھتا ہے اور تم پر نگرانی کرنے والے مقرر کر کے بھیجتا ہے، یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آ جاتا ہے تو اس کے بھیجے ہوئے فرشتے اس کی جان نکال لیتے ہیں اور اپنا فرض انجام دینے میں ذرا کوتاہی نہیں کرتے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wahuwa alqahiru fawqa AAibadihi wayursilu AAalaykum hafathatan hatta itha jaa ahadakumu almawtu tawaffathu rusuluna wahum la yufarritoona

آیت 61 وَہُوَ الْقَاہِرُ فَوْقَ عِبَادِہٖ وَیُرْسِلُ عَلَیْکُمْ حَفَظَۃً ط۔اللہ تعالیٰ کی مشیت سے انسان کو اپنی اجل معیّن تک بہر صورت زندہ رہنا ہے ‘ اس لیے ہر انسان کے ساتھ اللہ کے مقرر کردہ فرشتے اس کے باڈی گارڈز کی حیثیت سے ہر وقت موجود رہتے ہیں۔ چناچہ کبھی انسان کو ایسا حادثہ بھی پیش آتا ہے جب زندہ بچ جانے کا بظاہر کوئی امکان نہیں ہوتا ‘ لیکن یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کسی نے ہاتھ دے کر اسے بچایا لیاہو۔ بہر حال جب تک انسان کی موت کا وقت نہیں آتا ‘ یہ محافظ اس کی حفاظت کرتے رہتے ہیں۔حَتّٰیٓ اِذَا جَآءَ اَحَدَکُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْہُ رُسُلُنَا وَہُمْ لاَ یُفَرِّطُوْنَ اب یہاں پھر لفظ تَوَفّٰی شعور اور جان دونوں کے جانے کے مفہوم میں استعمال ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ فرشتے جان نکالنے میں کوئی کوتاہی نہیں کرتے۔ انہیں جو حکم دیا جاتا ہے ‘ جب دیا جاتا ہے اس کی تعمیل کرتے ہیں۔

اردو ترجمہ

پھر سب کے سب اللہ، اپنے حقیقی آقا کی طرف واپس لائے جاتے ہیں خبردار ہو جاؤ، فیصلہ کے سارے اختیارات اسی کو حاصل ہیں اور وہ حساب لینے میں بہت تیز ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Thumma ruddoo ila Allahi mawlahumu alhaqqi ala lahu alhukmu wahuwa asraAAu alhasibeena

آیت 62 ثُمَّ رُدُّوْٓا اِلَی اللّٰہِ مَوْلٰٹہُمُ الْحَقِّ ط اَلاَ لَہُ الْحُکْمُقف وَہُوَ اَسْرَعُ الْحَاسِبِیْنَ۔ حقیقی حاکمیت صرف اللہ ہی کی ہے۔ یہ بات یہاں دوسری دفعہ آئی ہے۔ اس سے پہلے آیت 57 میں ہم پڑھ آئے ہیں : اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلّٰہِ کہ فیصلے کا اختیار کلیتاً اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ مزید فرمایا کہ وہ سب سے زیادہ تیز حساب چکانے والا ہے۔ اسے حساب چکانے میں کچھ دیر نہیں لگے گی ‘ صرف حرف کن کہنے سے آن واحد میں وہ سب کچھ ہوجائے گا جو وہ چاہے گا۔

اردو ترجمہ

اے محمدؐ! ا ن سے پوچھو، صحرا اور سمندر کی تاریکیوں میں کون تمہیں خطرات سے بچاتا ہے؟ کو ن ہے جس سے تم (مصیبت کے وقت) گڑ گڑا، گڑگڑا کر اور چپکے چپکے دعائیں مانگتے ہو؟ کس سے کہتے ہو کہ اگر اس بلا سے تو نے ہم کو بچا لیا تو ہم ضرور شکر گزار ہوں گے؟

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qul man yunajjeekum min thulumati albarri waalbahri tadAAoonahu tadarruAAan wakhufyatan lain anjana min hathihi lanakoonanna mina alshshakireena

آیت 63 قُلْ مَنْ یُّنَجِّیْکُمْ مِّنْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ تَدْعُوْنَہٗ تَضَرُّعًا وَّخُفْیَۃً ج۔کبھی تم نے غور کیا جب تم سمندر میں سفر کرتے ہو ‘ وہاں گھپ اندھیرے میں جب ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتا اور سمندر کی خوفناک طوفانی لہریں ہر لمحہ موت کا پیغام دے رہی ہوتی ہیں تو ایسے میں اللہ کے سوا تمہیں کون بچاتا ہے ؟ کون ہے جو تمہاری دستگیری کرتا ہے اور تمہارے لیے عافیت کا راستہ نکالتا ہے۔ اسی طرح ع اندھیری شب ہے جدا اپنے قافلے سے ہے تو ! کے مصداق جب کوئی قافلہ صحرا میں بھٹک جاتا ہے ‘ اندھیری رات میں نہ دائیں کا پتا ہوتا ہے نہ بائیں کی خبر ‘ ہر درخت اندھیرے میں ایک آسیب معلوم ہوتا ہے ‘ ایسے خوفناک ماحول اور انتہائی مایوسی کے عالم میں سب خداؤں کو بھلا کر تم لوگ ایک اللہ ہی کو پکارتے ہو۔

اردو ترجمہ

کہو، اللہ تمہیں اُس سے اور ہر تکلیف سے نجات دیتا ہے پھر تم دوسروں کو اُس کا شریک ٹھیراتے ہو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Quli Allahu yunajjeekum minha wamin kulli karbin thumma antum tushrikoona

آیت 64 قُلِ اللّٰہُ یُنَجِّیْکُمْ مِّنْہَا وَمِنْ کُلِّ کَرْبٍ ثُمَّ اَنْتُمْ تُشْرِکُوْنَ مصیبت سے نجات کے بعد پھر سے تمہیں دیویاں ‘ دیوتا ‘ جھوٹے معبود ‘ اور اپنے سردار یاد آجاتے ہیں۔ اب اگلی آیت اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ اس میں عذاب الٰہی کی تین قسمیں بیان ہوئی ہیں۔

اردو ترجمہ

کہو، وہ اِس پر قادر ہے کہ تم پر کوئی عذاب اوپر سے نازل کر دے، یا تمہارے قدموں کے نیچے سے برپا کر دے، یا تمہیں گروہوں میں تقسیم کر کے ایک گروہ کو دوسرے گروہ کی طاقت کا مزہ چکھوا دے دیکھو، ہم کس طرح بار بار مختلف طریقوں سے اپنی نشانیاں ان کے سامنے پیش کر رہے ہیں شاید کہ یہ حقیقت کو سمجھ لیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qul huwa alqadiru AAala an yabAAatha AAalaykum AAathaban min fawqikum aw min tahti arjulikum aw yalbisakum shiyaAAan wayutheeqa baAAdakum basa baAAdin onthur kayfa nusarrifu alayati laAAallahum yafqahoona

آیت 65 قُلْ ہُوَ الْقَادِرُ عَلآی اَنْ یَّبْعَثَ عَلَیْکُمْ عَذَابًا مِّنْ فَوْقِکُمْ مثلاً آسمان کا کوئی ٹکڑا یا کوئی شہاب ثاقب meteorite گرجائے۔ آج کل ایسی خبریں اکثر سننے کو ملتی ہیں کہ اس طرح کی کوئی چیز زمین پر گرنے والی ہے ‘ لیکن پھر اللہ کے حکم سے وہ خلا میں ہی تحلیل ہوجاتی ہے۔ اسی طرح ozone کی تہہ بھی اللہ تعالیٰ نے زمین اور زمین والوں کے بچاؤ کے لیے پیدا کی ہے ‘ وہ چاہے تو اس حفاظتی چھتری کو ہٹا دے۔ بہرحال آسمانوں سے عذاب نازل ہونے کی کوئی بھی صورت ہوسکتی ہے اور اللہ جب چاہے یہ عذاب نازل ہوسکتا ہے۔اَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِکُمْ یہ عذاب تمہارے قدموں کے نیچے سے بھی آسکتا ہے ‘ زمین پھٹ سکتی ہے ‘ زلزلے کے باعث شہروں کے شہر زمین میں دھنس سکتے ہیں۔ جیسا کہ حدیث میں خبر دی گئی ہے کہ قیامت سے پہلے تین بڑے بڑے خسف ہوں گے ‘ یعنی زمین وسیع پیمانے پر تین مختلف جگہوں سے دھنس جائے گی۔ عذاب کی دو شکلیں تو یہ ہیں ‘ اوپر سے یا قدموں کے نیچے سے۔اَوْ یَلْبِسَکُمْ شِیَعًا وَّیُذِیْقَ بَعْضَکُمْ بَاْسَ بَعْضٍ ط یہ خانہ جنگی کی صورت میں عذاب کا ذکر ہے کہ کسی ملک کے عوام یا قوم کے مختلف گروہ آپس میں لڑپڑیں۔ جیسے پنجابی اور اردو بولنے والے آپس میں الجھ جائیں ‘ بلوچ اور پختون ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوجائیں ‘ شیعہ سنی کو مارے اور سنی شیعہ کو۔ اللہ تعالیٰ کو آسمان سے کچھ گرانے کی ضرورت ہے نہ زمین کو دھنسانے کی۔ یہ گروہ بندی اور اس کی بنیاد پر باہمی خون ریزی عذاب الٰہی کی بد ترین شکل ہے ‘ جو آج مسلمانان پاکستان پر مسلط ہے۔ تقسیم ہند سے قبل جب ہندو سے مقابلہ تھا تو مسلمان ایک قوم تھے۔ پاکستان بنا تو اس کے تمام باسی پاکستانی تھے۔ اب یہی پاکستانی قوم چھوٹی چھوٹی قومیتوں اور عصبیتوں میں تحلیل ہوچکی ہے اور ہر گروہ دوسرے گروہ کا دشمن ہے۔ اُنْظُرْ کَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّہُمْ یَفْقَہُوْنَ ۔تصریف کے معنی ہیں گھمانا۔ ع اک پھول کا مضموں ہو تو سو رنگ سے باندھوں کے مصداق ایک ہی بات کو اسلوب بدل بدل کر ‘ مختلف انداز میں ‘ نئی نئی ترتیب کے ساتھ بیان کرنا۔

اردو ترجمہ

تمہاری قوم اُس کا انکار کر رہی ہے حالانکہ وہ حقیقت ہے اِن سے کہہ دو کہ میں تم پر حوالہ دار نہیں بنایا گیا ہوں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wakaththaba bihi qawmuka wahuwa alhaqqu qul lastu AAalaykum biwakeelin

آیت 66 وَکَذَّبَ بِہٖ قَوْمُکَ وَہُوَ الْحَقُّ ط۔یہاں بِہٖ سے مراد قرآن ہے۔ جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے ‘ اس سورة کا عمود یہ مضمون ہے کہ مشرکین کے مطالبے پر کوئی حسی معجزہ نہیں دکھایا جائے گا ‘ محمد رسول اللہ ﷺ کا اصل معجزہ یہ قرآن ہے۔ اسی لیے اس مضمون کی تفصیل میں بِہٖکی تکرار کثرت سے ملے گی۔قُلْ لَّسْتُ عَلَیْکُمْ بِوَکِیْلٍ ۔اب میں نہیں کہہ سکتا کہ کب اللہ کے عذاب کا دروازہ کھل جائے اور عذاب ہلاکت تم پر ٹوٹ پڑے۔

اردو ترجمہ

ہر خبر کے ظہور میں آنے کا ایک وقت مقرر ہے، عنقریب تم کو خود انجام معلوم ہو جائے گا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Likulli nabain mustaqarrun wasawfa taAAlamoona

آیت 67 لِکُلِّ نَبَاٍ مُّسْتَقَرٌّز وَّسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ۔ ۔جیسا کہ سورة الانبیاء میں فرمایا گیا : وَاِنْ اَدْرِیْٓ اَقَرِیْبٌ اَمْ بَعِیْدٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ میں یہ تو نہیں جانتا کہ جس عذاب کی تمہیں دھمکی دی جا رہی ہے وہ قریب آچکا ہے یا دور ہے۔ البتہ یہ ضرورجانتا ہوں کہ اگر تمہاری روش یہی رہی تو یہ عذاب تم پر ضرورآ کر رہے گا۔اب وہ آیت آرہی ہے جس کا حوالہ سورة النساء کی آیت 140 میں آیا تھا کہ اللہ تعالیٰ تم پر کتاب میں یہ بات نازل کرچکا ہے کہ جب تم سنو کہ اللہ کی آیات کے ساتھ کفر کیا جا رہا ہے اور ان کا مذاق اڑایا جا رہا ہے تو ان کے پاس مت بیٹھو۔۔ ایمان کا کم از کم تقاضا ہے کہ ایسی محفل سے احتجاج کے طور پر واک آؤٹ تو ضرور کیا جائے۔

اردو ترجمہ

اور اے محمدؐ! جب تم دیکھو کہ لوگ ہماری آیات پر نکتہ چینیاں کر رہے ہیں تو ان کے پاس سے ہٹ جاؤ یہاں تک کہ وہ اس گفتگو کو چھوڑ کر دوسری باتوں میں لگ جائیں اور اگر کبھی شیطان تمہیں بھلاوے میں ڈال دے تو جس وقت تمہیں اس غلطی کا احساس ہو جائے اس کے بعد پھر ایسے ظالم لوگوں کے پاس نہ بیٹھو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waitha raayta allatheena yakhoodoona fee ayatina faaAArid AAanhum hatta yakhoodoo fee hadeethin ghayrihi waimma yunsiyannaka alshshaytanu fala taqAAud baAAda alththikra maAAa alqawmi alththalimeena

آیت 68 وَاِذَا رَاَیْتَ الَّذِیْنَ یَخُوْضُوْنَ فِیْٓ اٰیٰتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْہُمْ اردو میں غور وخوض کی ترکیب کثرت سے استعمال ہوتی ہے۔ غور اور خوض دونوں عربی زبان کے الفاظ ہیں اور معانی کے اعتبار سے دونوں کی آپس میں مشابہت ہے۔ ’ غور ‘ مثبت انداز میں کسی چیز کی تحقیق کرنے کے لیے بولا جاتا ہے جب کہ ’ خوض ‘ منفی طور پر کسی معاملے کی چھان بین کرنے اور خواہ مخواہ میں بال کی کھال اتارنے کے معنی دیتا ہے۔حَتّٰی یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِہٖ ط یہاں تک کہ وہ کسی اور بات میں لگ جائیں۔جب کسی محفل میں لوگ اللہ اور اس کی آیات کا تمسخر اڑا رہے ہوں تو ان سے کنارہ کشی کرلو ‘ اور جب وہ کسی دوسرے موضوع پر گفتگو کرنے لگیں تو پھر تم ان کے پاس جاسکتے ہو۔وَاِمَّا یُنْسِیَنَّکَ الشَّیْطٰنُ فَلاَ تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّکْرٰی مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ۔ ۔یعنی کسی محفل میں گفتگو شروع ہوئی اور کچھ دیر تک تمہیں احساس نہیں ہوا کہ یہ لوگ کس موضوع پر گفتگو کر رہے ہیں ‘ لیکن جونہی احساس ہوجائے کہ ان کی گفتگو اور انداز گفتگو قابل اعتراض ہے تو احتجاج کرتے ہوئے فوراً وہاں سے واک آؤٹ کر جاؤ۔ اب چونکہ دعوت و تبلیغ کے لیے تمہارا ان کے پاس جانا ایک ضرورت ہے لہٰذا ایسی محفلوں کے بارے میں کسی بہترصورت حال کے منتظر رہو ‘ اور جب ان لوگوں کا رویہ مثبت ہو تو ان کے پاس دوبارہ جانے میں کوئی حرج نہیں۔ یعنی وہی قَا لُوْا سَلٰمًا والا انداز ہونا چاہیے کہ علیحدہ بھی ہوں تو لٹھ مار کر نہ ہوا جائے بلکہ چپکے سے ‘ متانت کے ساتھ کنارہ کرلیا جائے۔

135