(آیت) ” نمبر 68۔
یہ حکم رسول اللہ ﷺ کے لئے تھا ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آپ کے بعد آنے والے مسلمان بھی اس میں شامل ہوں ۔ یہ حکم کی دور کے لئے تھا ۔ اس وقت آپ کا کام صرف دعوت وتبلیغ تک محدود تھا اور اللہ کی حکمت کا تقاضا یہ تھا کہ آپ جہاد و قتال سے باز رہیں ۔ آپ کو یہ ہدایت تھی کہ آپ مشرکین کے ساتھ تصادم سے باز رہیں ۔ چناچہ اس دور میں آپ کو یہ حکم دیا گیا کہ آپ جب دیکھیں کہ مشرکین کی کسی مجلس میں دین اسلام کے خلاف بدتمیزی ہورہی ہے تو آپ ایسی مجالس میں بیٹھنے سے اجتناب فرمائیں اور اگر کبھی ایسا ہو کہ شیطان آپ کو بہلاوے میں ڈال دے اور آپ کسی ایسی مجلس میں پہنچ جائیں اور وہاں اسلام کے بارے میں گستاخانہ باتیں ہو رہی ہوں تو آپ یاد آتے ہی وہاں سے اٹھ کھڑے ہوں ۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ اہل اسلام سب کو یہی حکم تھا ۔ یہاں ظالمون سے مراد مشرکون ہے جیسا کہ اس سے پہلے ہم کہہ چکے ہیں ۔ قرآن کریم کا یہ عام انداز گفتگو ہے ۔
لیکن جب مدینہ میں اسلامی حکومت قائم ہوگئی تو اس وقت مشرکین کے مقابلے میں حضور ﷺ کی پوزیشن مختلف تھی ۔ اب پوزیشن یہ تھی کہ حضور ﷺ ان کے مقابلے میں اس وقت تک جہاد و قتال جاری رکھے ہوئے تھے جب تک تمام فتنوں کا استیصال نہیں کردیا جاتا اور کسی کو یہ جرات ہی نہی رہتی کہ وہ آیات الہیہ کے خلاف کوئی ہرزہ سرائی کرے ۔
اس کے بعد سیاق کلام مومنین اور مشرکین کے درمیان مکمل فرق و امتیاز کی بات کو پھر دہراتا ہے جس طرح اس سے قبل رسول اللہ ﷺ اللہ اور مشرکین کے درمیان جدائی کا فیصلہ ہوا تھا ۔ یہاں فیصلہ کردیا جاتا ہے کہ دونوں کے انجام اور ذمہ داریوں میں بھی فرق ہے ۔
آیت 68 وَاِذَا رَاَیْتَ الَّذِیْنَ یَخُوْضُوْنَ فِیْٓ اٰیٰتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْہُمْ اردو میں غور وخوض کی ترکیب کثرت سے استعمال ہوتی ہے۔ غور اور خوض دونوں عربی زبان کے الفاظ ہیں اور معانی کے اعتبار سے دونوں کی آپس میں مشابہت ہے۔ ’ غور ‘ مثبت انداز میں کسی چیز کی تحقیق کرنے کے لیے بولا جاتا ہے جب کہ ’ خوض ‘ منفی طور پر کسی معاملے کی چھان بین کرنے اور خواہ مخواہ میں بال کی کھال اتارنے کے معنی دیتا ہے۔حَتّٰی یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِہٖ ط یہاں تک کہ وہ کسی اور بات میں لگ جائیں۔جب کسی محفل میں لوگ اللہ اور اس کی آیات کا تمسخر اڑا رہے ہوں تو ان سے کنارہ کشی کرلو ‘ اور جب وہ کسی دوسرے موضوع پر گفتگو کرنے لگیں تو پھر تم ان کے پاس جاسکتے ہو۔وَاِمَّا یُنْسِیَنَّکَ الشَّیْطٰنُ فَلاَ تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّکْرٰی مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ۔ ۔یعنی کسی محفل میں گفتگو شروع ہوئی اور کچھ دیر تک تمہیں احساس نہیں ہوا کہ یہ لوگ کس موضوع پر گفتگو کر رہے ہیں ‘ لیکن جونہی احساس ہوجائے کہ ان کی گفتگو اور انداز گفتگو قابل اعتراض ہے تو احتجاج کرتے ہوئے فوراً وہاں سے واک آؤٹ کر جاؤ۔ اب چونکہ دعوت و تبلیغ کے لیے تمہارا ان کے پاس جانا ایک ضرورت ہے لہٰذا ایسی محفلوں کے بارے میں کسی بہترصورت حال کے منتظر رہو ‘ اور جب ان لوگوں کا رویہ مثبت ہو تو ان کے پاس دوبارہ جانے میں کوئی حرج نہیں۔ یعنی وہی قَا لُوْا سَلٰمًا والا انداز ہونا چاہیے کہ علیحدہ بھی ہوں تو لٹھ مار کر نہ ہوا جائے بلکہ چپکے سے ‘ متانت کے ساتھ کنارہ کرلیا جائے۔