سورۃ الانعام: آیت 70 - وذر الذين اتخذوا دينهم لعبا... - اردو

آیت 70 کی تفسیر, سورۃ الانعام

وَذَرِ ٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُوا۟ دِينَهُمْ لَعِبًا وَلَهْوًا وَغَرَّتْهُمُ ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَا ۚ وَذَكِّرْ بِهِۦٓ أَن تُبْسَلَ نَفْسٌۢ بِمَا كَسَبَتْ لَيْسَ لَهَا مِن دُونِ ٱللَّهِ وَلِىٌّ وَلَا شَفِيعٌ وَإِن تَعْدِلْ كُلَّ عَدْلٍ لَّا يُؤْخَذْ مِنْهَآ ۗ أُو۟لَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ أُبْسِلُوا۟ بِمَا كَسَبُوا۟ ۖ لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِيمٍ وَعَذَابٌ أَلِيمٌۢ بِمَا كَانُوا۟ يَكْفُرُونَ

اردو ترجمہ

چھوڑو اُن لوگوں کو جنہوں نے اپنے دین کو کھیل اور تماشا بنا رکھا ہے اور جنہیں دنیا کی زندگی فریب میں مبتلا کیے ہوئے ہے ہاں مگر یہ قرآن سنا کر نصیحت اور تنبیہ کرتے رہو کہ کہیں کوئی شخص اپنے کیے کرتوتوں کے وبال میں گرفتار نہ ہو جائے، اور گرفتار بھی اِس حال میں ہو کہ اللہ سے بچانے والا کوئی حامی و مدد گار اور کوئی سفارشی اس کے لیے نہ ہو، اور گر وہ ہر ممکن چیز فدیہ میں دے کر چھوٹنا چاہے تو وہ بھی اس سے قبول نہ کی جائے، کیونکہ ایسے لوگ تو خود اپنی کمائی کے نتیجہ میں پکڑے جائیں گے، ان کو تو اپنے انکار حق کے معاوضہ میں کھولتا ہوا پانی پینے کو اور درد ناک عذاب بھگتنے کو ملے گا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wathari allatheena ittakhathoo deenahum laAAiban walahwan wagharrathumu alhayatu alddunya wathakkir bihi an tubsala nafsun bima kasabat laysa laha min dooni Allahi waliyyun wala shafeeAAun wain taAAdil kulla AAadlin la yukhath minha olaika allatheena obsiloo bima kasaboo lahum sharabun min hameemin waAAathabun aleemun bima kanoo yakfuroona

آیت 70 کی تفسیر

(آیت) ” نمبر 70۔

اس میں ہم درج ذیل حقائق کے سامنے کھڑے ہیں :

ایک یہ کہ حضور ﷺ کو یہ حکم دیا جاتا ہے کہ آپ ان لوگوں سے قطع تعلق کرلیں جو آپ کے دین اور اسلامی نظام کے ساتھ ٹھٹھا مذاق کرتے ہیں اور آپ کے بعد اہل ایمان کے لئے بھی یہی ہدایت آتی ہے اور یہ قطع تعلق اور جدائی بات چیت میں بھی ہوتی ہے اور عمل میں بھی ۔ جو لوگ دین اسلام کو اپنی زندگی کا ضابطہ بنا کر ‘ اپنے لئے ماخذ نظریات قرار دے کر ‘ اپنے لئے نظام عمل بنا کر ‘ اپنے لئے نظام اخلاق اور اپنے لئے نظام قانون قرار دے کر اس کا صحیح مقام نہیں دیتے اور اسے پروقار نہیں بناتے وہ بھی دراصل اس دین کے ساتھ مذاق کرتے ہیں ۔ جو لوگ اس دین کے موضوعات پر بحث کرتے ہیں ‘ اسلامی شریعت پر کلام کرتے ہیں اور اس دین کی طرف قابل تضحیک اوضاف کی نسبت کرتے ہیں وہ بھی دین کے ساتھ مذاق کرنے والوں میں شامل ہیں ۔ مثلا وہ لوگ جو غیب کے بارے میں باتیں کرتے ہیں اور عالم غیب کے ساتھ استہزاء کرتے ہیں حالانکہ ایمان بالغیب اصول عقائد میں سے ہے اور جو لوگ زکوۃ کے ساتھ مزاح کرتے ہیں حالانکہ وہ دین کے بنیادوں میں سے ہے ۔ اور جو لوگ شرم وحیاء اور عفت و پاکیزگی کے ساتھ مزاح کرتے ہیں حالانکہ یہ اصول دین میں سے ہیں ۔ یہ لوگ اپنی تقریروں اور تحرروں میں انہیں قرون اولی کے زرعی اور جاگیردارنہ اخلاق میں سے قرار دیتے ہیں یا انہیں بورژوا اخلاق قرار دیتے ہیں اور جو لوگ حقوق الزوجین کے بارے میں تحقیر آمیز ریمارکس پاس کرتے ہیں اور جو لوگ عورت کے لئے مقرر اصول عفت و پاکیزگی کو عورت کی پسماندگی اور اس کا استحصال قرار دیتے ہیں اور سب سے آخر میں اور تمام باتوں سے پہلے وہ انسانوں کی پوری زندگی میں اللہ کی حاکمیت کو تسلیم نہیں کرتے اور انسان کی سیاسی ‘ اجتماعی ‘ اقتصادی اور قانونی زندگی میں اللہ کی حاکمیت کے قائل نہیں ہیں اور اس بات کے قائل ہیں کہ ان شعبوں میں لوگ اللہ کی شریعت سے بغاوت کرتے ہوئے اپنے اختیارات استعمال کرسکتے ہیں ۔ یہ سب لوگ اس آیت کے مفہوم میں داخل ہیں اور اللہ کے دین کے ساتھ ٹھٹھا مذاق کرنے والے سمجھے جائیں گے ۔ اس لئے ہر مسلمان کو حکم ہے کہ وہ ماسوائے تبلیغی مقاصد کے ان لوگوں سے دور رہے اس لئے کہ یہ لوگ ظالم اور مشرک ہیں اور ان کافروں میں سے ہیں جو اپنے کفریہ اعمال میں گرفتار ہونے والے ہیں اور قیامت میں ان کی تواضع کھولتے ہوئے پانی سے کی جائے گی اور وہ دردناک عذاب میں رہیں گے ‘ اس لئے کہ یہ لوگ مذکورہ کفریہ روش میں مبتلا تھے ۔

دوسری حقیقت یہ سامنے آتی ہے کہ اگرچہ رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ آپ ایسے لوگوں کو ایک طرف چھوڑ دیں اور یہی حکم آپ کے بعد آنے والے اہل ایمان کے لئے بھی باقی ہے ۔ لیکن حضور کو اس مقاطعہ کے ساتھ ساتھ یہ ہدایت بھی دی گئی کہ وہ لوگ جنہوں نے اس دین کے ساتھ ہنسی مذاق کو اپنا شیوہ بنا رکھا ہے اور انہیں دنیا کی اس عارضی زندگی نے فریب میں ڈال دیا ہے انہیں نظر انداز کرتے ہوئے بھی انہیں یاد دہانی کراتے جائیں ۔ انہیں ڈراتے رہیں کہ وہ جو کچھ برائیاں سمیٹ رہے ہیں ان کا وبال ان کی جان پر ہوگا اور ایک وقت آنے والا ہے جس میں وہ اللہ سے ملیں گے اور اللہ کے سوا ان کا کوئی مددگار نہ ہوگا جو کچھ بھی تعاون کرسکے ۔ نہ کوئی ان کا سفارشی ہوگا ‘ نہ ان سے کوئی مالی تاوان قابل قبول ہوگا جس کے ذریعے وہ اپنی جان کو ان باتوں سے چھڑا سکیں جن کا انہوں نے دنیا میں ارتکاب کیا ۔ یہ مفہوم قرآن کریم نے جن الفاظ میں ادا کیا ہے ‘ ان کی خوبصورتی اور معنوی گہرائی قابل غور ہے ۔ ذرا دوبارہ تلاوت کیجئے ۔

(آیت) ” وَذَکِّرْ بِہِ أَن تُبْسَلَ نَفْسٌ بِمَا کَسَبَتْ لَیْْسَ لَہَا مِن دُونِ اللّہِ وَلِیٌّ وَلاَ شَفِیْعٌ وَإِن تَعْدِلْ کُلَّ عَدْلٍ لاَّ یُؤْخَذْ مِنْہَا (6 : 70)

” ہاں مگر یہ قرآن سنا کر نصیحت اور متنبہ کرتے رہو کہ کہیں کوئی شخص اپنے کئے ہوئے کرتوتوں کے وبال میں گرفتار نہ ہوجائے ‘ اور اگر گرفتار بھی اس حال میں ہو کہ اللہ سے بچانے والا کوئی حامی ومدد گار اور کوئی سفارشی اس کے لئے نہ ہو ‘ اور اگر وہ ہر ممکن چیز فدیہ میں دے کر چھوٹنا چاہے تو وہ بھی اس سے قبول نہ کی جائے ۔ “

ہر شخص اپنی انفرادی حیثیت میں ماخوذ ہوگا ‘ ذمہ داری انفرادی ہوگی اور اپنے اعمال کی بنیاد پر ہوگی اور ایسے حالات میں ہوگی کہ جہاں اللہ کے سوا کوئی ولی اور سفارش کرنے والا نہ ہوگا اور اگر کوئی ممکن حد تک زیادہ معاوضہ وتاوان دینا چاہے تو بھی قبول نہ ہوگا اور یوں وہ کسی صورت میں بھی گردن نہ چھڑا سکے گا ۔

رہے وہ لوگ جنہوں نے اپنے دین کو مذاق کا نشانہ بنایا اور دنیا کی چند روزہ حیات سے دھوکہ کھا گئے تو یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی کو گروی رکھ دیا اپنی بداعمالیوں کے ہاتھ ‘ اور اس وجہ سے ان پر وہ عذاب ثابت ہوگیا جس کا تذکرہ اس آیت میں ہوا اور ان کا انجام یہ قرار پایا ۔

(آیت) ” أُوْلَـئِکَ الَّذِیْنَ أُبْسِلُواْ بِمَا کَسَبُواْ لَہُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَعَذَابٌ أَلِیْمٌ بِمَا کَانُواْ یَکْفُرُونَ (70)

” کیونکہ ایسے لوگ تو خود اپنی کمائی کے نتیجے میں پکڑے جائیں گے ‘ ان کو تو اپنے انکار حق کے معاوضہ میں کھولتا ہوا پانی پینے کو اور دردناک عذاب بھگتنے کو ملے گا “۔

گویا وہ اپنے افعال بد کی وجہ سے پکڑے گئے اور یہ ان کے لئے مناسب سزا تھی ‘ کیسی جزاء ؟ ایسا گرم پانی جو ان کے حلق اور پیٹ کو بھون ڈالے گا ۔ ان کے کفریہ اعمال کی وجہ سے یہ ان کے لئے ایک دردناک عذاب ہوگا اور یہ عذاب اس بات کی دلیل ہوگا کہ وہ دین کے ساتھ مذاق کرتے رہے ۔

تیسری بات اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے کہ ان لوگوں نے اللہ کے دین کو کھیل تماشا بنا رکھا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ کیا للہ کا سچا دین فی الحقیقت ان کا دین ہے ۔ (دینھم) سے مراد وہ لوگ ہیں جو دین میں داخل ہوگئے ہیں اور داخل ہونے کے بعد انہوں نے اپنے دین کو کھیل تماشا بنا رکھا ہے ۔ مدینہ طیبہ میں اس قسم کے لوگ موجود تھے اور عرف عام میں انہیں منافقین کہا جاتا تھا ۔ مدینہ طیبہ میں تو بات ایسی ہی تھی ۔

سوال یہ ہے کہ آیا اس آیت کا اطلاق ان لوگوں پر بھی ہوگا مثلا مشرکین جو دین اسلام میں داخل نہیں ہوئے ۔ ہاں ان پر بھی ہوگا اس لئے کہ حقیقی دین ‘ دین اسلام ہی ہے ۔ یہ پوری بشریت کا دین ہے چاہے کوئی اس پر ایمان لائے یا نہ لائے ۔ اس لئے کہ جو شخص اس دین کا انکار کرتا ہے اسے چھوڑ دیتا ہے تو وہ درحقیقت خود اپنے دین کو چھوڑتا ہے ۔ اس لئے کہ یہی تو دین ہے جو اللہ کے نزدیک دین ہے اور خاتم النبین حضرت محمد ﷺ کی بعثت کے بعد اللہ کی جانب سے صرف یہی دین مقبول ہے ۔

یہی مفہوم ہے جس کے مطابق اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں دین کی نسبت ان کی طرف کی ہے کہ یہ ان کا دین ہے ۔

(آیت) ” وَذَرِ الَّذِیْنَ اتَّخَذُواْ دِیْنَہُمْ لَعِباً وَلَہْواً وَغَرَّتْہُمُ الْحَیَاۃُ الدُّنْیَا (6 : 70)

” چھوڑو ان لوگوں کو جنہوں نے اپنے دین کو کھیل اور تماشابنا رکھا ہے اور جنہیں دنیا کی زندگی فریب میں مبتلا ہوئے ہے ۔

جیسا کہ ہم نے وضاحت کی اس آیت میں اسی مفہوم کی طرف اشارہ ہے کہ دین اسلام تمام انسانوں کا دین ہے ۔ لہذا جو شخص دین اسلام کو کھیل اور تماشا بناتا ہے گویا وہ خود اپنے دین کے ساتھ مذاق کرتا ہے ۔ اگرچہ ایسا کرنے والا شخص مشرک ہو۔

چہارم یہ کہ ظالموں اور مشرکوں کی ہم نشینی کس قدر جائز ہے ؟ اور جو لوگ دین اسلام کو کھیل تماشا بناتے ہیں ان کے ساتھ مجالس کی حدود کیا ہیں ؟ یہ مجالست صرف وعظ ونصیحت کی خاطر جائز ہے اور اس کے سوا ایسے لوگوں کے ساتھ کسی قسم کا تعلق جائز نہیں ہے ۔ یعنی ایسے حالات میں جب وہ آیات الہی کے ساتھ مذاق کررہے ہیں اور نکتہ چینی کر رہے ہوں اور یہ نکتہ چینی اور مذاق مختلف انداز میں ہو سکتا ہے ۔

امام قرطبی نے اپنی تفسیر جامع الاحکام میں اس سلسلے میں لکھا ہے کہ ” اس آیت میں بصراحت اس نظرئیے کی تردید آجاتی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ راہنمایان دین اور ان کے متبعین بطور تقیہ فاسقین کے ساتھ ہم نشینی اختیار کرسکتے ہیں اور ان کی غلط آرا کی تصدیق بطور تقیہ کرسکتے ہیں ۔

میں سمجھتا ہوں کہ فاسقین اور مفسدین کی مجالس میں وعظ وتذکیر کی مجالس میں وعظ وتذکیر کی خاطر بھی ان حدود وقیود کے ساتھ ہم بیٹھ سکتے ہی جن کا تذکرہ اس آیت میں ہوچکا ہے ۔ رہی یہ بات کہ فساق وفجار کی مجالس میں بیٹھنا اور ان کی بری اور مفسدانہ باتوں پر سکوت اختیار کرنا اور بطور تقیہ ایسا کرنا کسی صورت میں بھی جائز نہیں ہے کیونکہ یہ تو کھلے طور پر باطل کا اقرار ہے اور حق کے خلاف شہادت ہے اور لوگوں کو دھوکے میں ڈالنا ہے ۔ نیز اس طرز عمل میں دین کی بھی توہین ہے اور جو لوگ دین کا کام کرتے ہیں ان کی بھی توہین ہے ۔ لہذا ایسے حالات میں بیٹھنا منع ہوگا اور ایسی مجالس میں چھوڑنا فرض ہوگا ۔

امام قرطبی نے بعض دوسرے اقوال بھی نقل کئے ہیں :” ابن خویز مقداد کہتے ہیں کہ جو شخص آیات الہی کے بارے میں گستاخانہ کلام کرے اس کی مجلس سے فورا واک آوٹ کرنا چاہئے خواہ یہ شخص مومن ہو یا کافر ۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ائمہ نے دشمن کی سرزمین میں جانے سے منع کیا ہے ۔ اسی طرح گرجوں اور مندروں میں جانے سے بھی منع کیا گیا ہے اور کفار اور بدعتیوں کے ساتھ ہم نشینی کی بھی ممانعت کی گئی ہے ۔ نیز یہ بات بھی منع ہے کہ کوئی ان سے محبت ودوستی کرے ‘ ان کی باتیں سنے اور ان کے ساتھ مناظرے کرے ۔ روایات میں آیا ہے کہ بعض بدعتی لوگوں کے ابو عمران نخعی سے کہا کہ میری بات سنو تو انہوں نے ان سے منہ پھیرلیا اور کہا میں تمہاری آدھی بات سننے کے لئے بھی تیار نہیں ہوں “۔ اسی قسم کی بات ایوب سختیانی سے بھی منقول ہے اور فضیل ابن عباس نے کہا ہے : جو شخص کسی صاحب بدعت کے ساتھ دوستی رکھے گا ‘ اس کے اعمال تباہ ہوجائیں گے اور یوں اس کے دل سے اسلام خارج ہوجائے گا ۔ جس شخص نے کسی مبتدع شخص کو رشتہ دیا تو اس نے قطع رحم کیا اور جو شخص بدعتی لوگوں کے ساتھ بیٹھے گا وہ دانشمندی سے محروم کردیا جائے گا ۔ اگر اللہ کو معلوم ہوا کہ فلاں بندہ بدعتی کو بری نظروں سے دیکھتا ہے تو مجھے امید ہے کہ ایسے شخص کو اللہ بخش دے گا ۔ ابو عبداللہ حاکم نے حضرت عائشہ ؓ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” جس شخص نے بدعتی کی عزت افزائی کی اس نے اسلام کو منہدم کرنے کے کام میں معاونت کی “۔

یہ باتیں تو اس شخص کے بارے میں ہیں جو بدعتی ہو ‘ البتہ دین اسلام کا پیروکار ہو ‘ رہا وہ شخص جو اپنے لئے اللہ کی خصوصیات میں سے ایک صفت کا دعوی کرتا ہو ‘ مثلا صفت حاکمیت تو وہ بدعتی سے بھی بڑا مجرم ہے اور جو شخص ایسے شخص کو اس صفت کے ساتھ متصف کرتے ہیں وہ اس سے بھی بڑے مجرم ہیں ۔ یہ جرم محض ارتکاب بدعت جیسا جرم نہیں ہے بلکہ کفر اور شرک جیسا بڑا جرم ہے ۔ کسی شخص کو صفت حاکمیت سے متصف کرنا سلف صالحین کے دور میں نہ تھا ۔ اس لئے انہوں نے اس نکتے پر بحث نہیں کی ۔ تاریخ اسلام میں کسی وقت بھی کسی نے اپنے آپ کو اللہ کے بالمقابل حاکم نہیں سمجھا اور نہ حاکمیت خود یا حاکمیت عوام کا دعوی کیا ہے اور ساتھ ہی وہ مسلمان ہونے کا بھی مدعی ہو۔ شرق اوسط پر فرانسیسی حملے سے پہلے عالم اسلام میں اللہ کی حاکمیت کا نظام قائم تھا ۔ فرانسیسی حملے کے بعد ہی لوگ اللہ کی حاکمیت کے دائرے سے خارج ہوئے ہیں ۔ ہاں بعض لوگ ایسے تھے جو اس سے بچے رہے ۔ لہذا اقوال سلف میں سے ایسے اقوال کم ملتے ہیں جن کا انطباق ہم اس جدید صورت حالات پر کرسکیں اس لئے کہ یہ جدید صور حال ایسی ہے کہ اس میں مسلمان شرعی حدود کو دور پیچھے چھوڑ گئے ہیں ۔

درس نمبر 64 ایک نظر میں :

یہ لہر حقیقت الوہیت اور خصوصیات ذات کبریائی کے بیان میں ایک نہایت ہی موزوں زمزمہ ہے ۔ اس میں ایسے شخص کے بارے میں بڑی شدت کے ساتھ سمجھایا گیا ہے جو راہ ہدایت پانے کے بعد دوبارہ شرک کے اندھیروں میں داخل ہوجائے اور آگے بڑھنے کے بعد رجعت قہقہری اختیار کرلے یا دین اسلام کو ترک کرکے مرتد ہوجائے ۔ ایسے شخص کا نقشہ یوں کھینچا گیا ہے جیسے وہ ایک صحرا میں کھڑا ہے اور اسے اپنی منزل مقصود کی طرف جانے کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا ۔ اس فیصلے اور قرار داد پر کہ ہدایت دی ہے جو اللہ کی راہنمائی پر مبنی ہو ‘ اس لہر کا میٹھا نغمہ اپنے طویل ترنم کے ساتھ اس بات پر ختم ہوجاتا ہے کہ تخلیق اور نظام حکومت (امر) کے بارے صرف اللہ وحدہ کو تمام اختیارات حاصل ہیں۔ اس اختیار کلی کا اظہار اس وقت ہوگا جب نفخ صور کے دن مومن و کافر سب کو اپنی اپنی قبر سے اٹھایا جائے گا سب کے سب اللہ کے سامنے کھڑے ہوں گے تو اس وقت جس کا عقیدہ نہیں تھا وہ بھی یقین سے جان لے گا کہ اب تو تمام اختیارات اللہ وحدہ کے ہاتھ مین ہیں اور اب تمام معاملات اسی کی طرف لوٹ آئے ہیں ۔

آیت 70 وَذَرِ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَہُمْ لَعِبًا وَّلَہْوًا آج بھی ہمارے معاشرے میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو دین کے معاملے میں کبھی سنجیدہ ہوتے ہی نہیں۔ وہ دین کی ہر بات کو استہزا اور تمسخر میں اڑانے کے عادی ہوتے ہیں۔وَّغَرَّتْہُمُ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا ان کی ساری توجہ ‘ تمام بھاگ دوڑ دنیا کے لیے ہے۔ زیادہ سے زیادہ کمانا ‘ مال جمع کرنا اور جائیدادیں بنانا ہی ان کا مقصد حیات ہے ‘ خواہ حلال سے ہو یا حرام سے ‘ اس کی کوئی پروا ان کو نہیں ہوتی۔ وَذَکِّرْ بِہٖٓ اَنْ تُبْسَلَ نَفْسٌم بِمَا کَسَبَتْق۔سورۂ قٓ کی آخری آیت میں حکم دیا گیا ہے : فَذَکِّرْ بالْقُرْاٰنِ مَنْ یَّخَافُ وَعِیْدِ کہ آپ قرآن کے ذریعے سے تذکیر کیجیے اس شخص کو جس کے اندر اللہ کی وعید کا کچھ خوف ہے۔ اسی طرح یہاں بھی حضور ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ آپ ان دنیا کے پرستاروں کو چھوڑیے ‘ البتہ اس قرآن کے ذریعے سے انہیں تذکیر کرتے رہیے ‘ انہیں یاد دہانی کراتے رہیے۔ ایسا نہ ہو کہ کوئی شخص اپنے کرتوتوں اور بد اعمالیوں کے وبال میں گرفتار ہوجائے۔لَیْسَ لَہَا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَلِیٌّ وَّلاَ شَفِیْعٌ ج شفاعت کے بارے میں دو ٹوک انکار categorical denial یہاں دوسری دفعہ آیا ہے۔ اس سے پہلے آیت 51 میں بھی یہ مضمون آچکا ہے۔ سورة البقرۃ آیت 254 میں یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْہِ وَلَا خُلَّۃٌ وَّلَا شَفَاعَۃٌ ط کے دو ٹوک الفاظ کے بعد اگلی آیت آیت الکرسی میں یہ الفاظ بھی آئے ہیں : مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَہٗٓ الاَّ بِاِذْنِہٖ ط چناچہ شفاعت حقہ کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم اس مسئلے کو اچھی طرح سمجھنے کی ضرورت ہے۔ شفاعت کی کچھ شرائط اور کچھ حدود limits ہیں۔ ان شرائط اور حدود وقیود کے بغیر مطلق شفاعت کا تصور گویا ایمان بالآخرت کی نفی کے مترادف ہے۔ یعنی جب آپ کو چھڑانے والے موجود ہیں تو پھر ڈر کا ہے کا ؟ جو چاہو کرو ! شرابی ہیں ‘ زانی ہیں ‘ چور ہیں ‘ ڈاکو ہیں ‘ حرام خور ہیں ‘ غبن کرتے ہیں ‘ جو بھی کچھ ہیں ‘ لیکن اے اللہ تیرے محبوب ﷺ کی امت میں ہیں ! تو اگر اسی طرح سے کوئی معاملہ طے ہونا ہے تو خواہ مخواہ کا ہے کو کوئی اپنا ہاتھ روکے ‘ جی بھر کر عیش کیوں نہ کرے ؟ بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست !وَاِنْ تَعْدِلْ کُلَّ عَدْلٍ لاَّ یُؤْخَذْ مِنْہَا ط یہ مضمون بھی سورة البقرۃ میں دو مرتبہ آیت 48 و 123 آچکا ہے۔

یعنی بےدینوں سے منہ پھیر لو ان کا انجام نہایت برا ہے اس قرآن کو پڑھ کر سنا کر لوگوں کو ہوشیار کردو اللہ کی ناراضگی سے اور اس کے عذابوں سے انہیں ڈرا دو تاکہ کوئی شخص اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے ہلاک نہ ہو پکڑا نہ جائے رسوا نہ کیا جائے اپنے مطلوب سے محروم نہ رہ جائے، جیسے فرمان ہے آیت (كُلُّ نَفْسٍۢ بِمَا كَسَبَتْ رَهِيْنَةٌ) 74۔ المدثر :38) ہر شخص اپنے اعمال کا گروی ہوا ہے مگر داہنے ہاتھ والے، یاد رکھو کسی کا کوئی والی اور سفارشی نہیں جیسے ارشاد فرمایا آیت (مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا بَيْعٌ فِيْهِ وَلَا خُلَّةٌ وَّلَا شَفَاعَةٌ ۭ وَالْكٰفِرُوْنَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ) 2۔ البقرۃ :154) اس سے پہلے کہ وہ دن آجائے جس میں نہ خریدو فروخت ہے نہ دوستی اور محبت سفارش اور شفاعت کافر پورے طالم ہیں اگر یہ لوگ قیامت کے دن تمام دنیا کی چیزیں فدئیے یا بدلے میں دے دینا چاہیں تو بھی ان سے نہ فدیہ لیا جائے گا نہ بدلہ۔ کسی چیز کے بدلے وہ عذابوں سے نجات نہیں پاسکتے۔ جیسے فرمان ہے آیت (اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَمَاتُوْا وَھُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ يُّقْبَلَ مِنْ اَحَدِھِمْ مِّلْءُ الْاَرْضِ ذَھَبًا وَّلَوِ افْتَدٰى بِهٖ ۭ اُولٰۗىِٕكَ لَھُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ وَّمَا لَھُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ) 3۔ آل عمران :91) جو لوگ کفر پر جئے اور کفر پر ہی مرے یہ اگر زمین بھر کر سونا بھی دیں تو ناممکن ہے کہ قبول کیا جائے اور انہیں چھوڑا جائے پس فرما دیا گیا کہ یہی وہ لوگ ہیں جو اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے رسوا کردیئے گئے انہیں گرم کھولتا ہوا پانی پینے کو ملے گا اور انہیں سخت المناک عذاب ہوگا کیونکہ یہ کافر تھے۔

آیت 70 - سورۃ الانعام: (وذر الذين اتخذوا دينهم لعبا ولهوا وغرتهم الحياة الدنيا ۚ وذكر به أن تبسل نفس بما كسبت ليس لها من...) - اردو