سورۃ الانعام (6): آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں۔ - اردو ترجمہ

اس صفحہ میں سورہ Al-An'aam کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الأنعام کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔

سورۃ الانعام کے بارے میں معلومات

Surah Al-An'aam
سُورَةُ الأَنۡعَامِ
صفحہ 136 (آیات 69 سے 73 تک)

وَمَا عَلَى ٱلَّذِينَ يَتَّقُونَ مِنْ حِسَابِهِم مِّن شَىْءٍ وَلَٰكِن ذِكْرَىٰ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ وَذَرِ ٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُوا۟ دِينَهُمْ لَعِبًا وَلَهْوًا وَغَرَّتْهُمُ ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَا ۚ وَذَكِّرْ بِهِۦٓ أَن تُبْسَلَ نَفْسٌۢ بِمَا كَسَبَتْ لَيْسَ لَهَا مِن دُونِ ٱللَّهِ وَلِىٌّ وَلَا شَفِيعٌ وَإِن تَعْدِلْ كُلَّ عَدْلٍ لَّا يُؤْخَذْ مِنْهَآ ۗ أُو۟لَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ أُبْسِلُوا۟ بِمَا كَسَبُوا۟ ۖ لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِيمٍ وَعَذَابٌ أَلِيمٌۢ بِمَا كَانُوا۟ يَكْفُرُونَ قُلْ أَنَدْعُوا۟ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَنفَعُنَا وَلَا يَضُرُّنَا وَنُرَدُّ عَلَىٰٓ أَعْقَابِنَا بَعْدَ إِذْ هَدَىٰنَا ٱللَّهُ كَٱلَّذِى ٱسْتَهْوَتْهُ ٱلشَّيَٰطِينُ فِى ٱلْأَرْضِ حَيْرَانَ لَهُۥٓ أَصْحَٰبٌ يَدْعُونَهُۥٓ إِلَى ٱلْهُدَى ٱئْتِنَا ۗ قُلْ إِنَّ هُدَى ٱللَّهِ هُوَ ٱلْهُدَىٰ ۖ وَأُمِرْنَا لِنُسْلِمَ لِرَبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ وَأَنْ أَقِيمُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَٱتَّقُوهُ ۚ وَهُوَ ٱلَّذِىٓ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ وَهُوَ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ بِٱلْحَقِّ ۖ وَيَوْمَ يَقُولُ كُن فَيَكُونُ ۚ قَوْلُهُ ٱلْحَقُّ ۚ وَلَهُ ٱلْمُلْكُ يَوْمَ يُنفَخُ فِى ٱلصُّورِ ۚ عَٰلِمُ ٱلْغَيْبِ وَٱلشَّهَٰدَةِ ۚ وَهُوَ ٱلْحَكِيمُ ٱلْخَبِيرُ
136

سورۃ الانعام کو سنیں (عربی اور اردو ترجمہ)

سورۃ الانعام کی تفسیر (فی ظلال القرآن: سید ابراہیم قطب)

اردو ترجمہ

اُن کے حساب میں سے کسی چیز کی ذمہ داری پرہیز گار لوگوں پر نہیں ہے، البتہ نصیحت کرنا اُن کا فرض ہے شاید کہ وہ غلط روی سے بچ جائیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wama AAala allatheena yattaqoona min hisabihim min shayin walakin thikra laAAallahum yattaqoona

(آیت) ” نمبر 69۔

اسلامی نظام میں متعین اور مشرکین کے درمیان کوئی مشترکہ ذمہ داری نہیں ہے کیونکہ متقین اور مشرکین دو علیحدہ علیحدہ امتیں ہیں ۔ اگرچہ رنگ ونسل اور قوم و حکومت میں وہ ایک ہوں ۔ کیونکہ اسلامی پیمانے کے مطابق رنگ ‘ نسل اور قوم کی کوئی اہمیت نہیں ہے ۔ اہل تقوی ایک امت ہیں اور ظالم اور مشرک بالکل ایک دوسری امت ہیں ۔ ظالموں کے حساب و کتاب میں سے کسی چیز کی ذمہ داری اہل تقوی پر نہیں ہے ۔ ہاں ان کی ذمہ داری اس حد تک ضروری ہے کہ وہ ظالموں کی اصلاح کے لئے سعی کرتے رہیں تاکہ وہ بھی انکی طرح اہل تقوی بن جائیں اور ان کی امت کا حصہ بن جائیں ۔ اگر اہل تقوی اور اہل ظلم کے درمیان نظریاتی اتحاد نہیں ہوجاتا تو پھر ان کے درمیان کسی اور بات پر اشتراک نہیں ہوسکتا ۔

یہ ہے دین اسلام اور یہ ہے اللہ کا کلام ۔ اگر کوئی اس کے سوا کوئی اور بات کرتا ہے یا کوئی اور طرز عمل اختیار کرتا ہے تو یہ فعل اس کا اپنا ہوگا لیکن اسے یہ معلوم ہونا چاہئے کہ وہ اپنے اس طرز عمل کے سبب دین اسلام سے خارج بھی ہو سکتا ہے ۔ ذرا مزید مطالعہ کیجئے ‘ قرآن کریم کچھ مزید ہدایات دیتا ہے ‘ اہل حق واہل باطل کے درمیان مکمل جدائی کی کچھ مزید حدود وقیود بیان کی جاتی ہیں ۔

اردو ترجمہ

چھوڑو اُن لوگوں کو جنہوں نے اپنے دین کو کھیل اور تماشا بنا رکھا ہے اور جنہیں دنیا کی زندگی فریب میں مبتلا کیے ہوئے ہے ہاں مگر یہ قرآن سنا کر نصیحت اور تنبیہ کرتے رہو کہ کہیں کوئی شخص اپنے کیے کرتوتوں کے وبال میں گرفتار نہ ہو جائے، اور گرفتار بھی اِس حال میں ہو کہ اللہ سے بچانے والا کوئی حامی و مدد گار اور کوئی سفارشی اس کے لیے نہ ہو، اور گر وہ ہر ممکن چیز فدیہ میں دے کر چھوٹنا چاہے تو وہ بھی اس سے قبول نہ کی جائے، کیونکہ ایسے لوگ تو خود اپنی کمائی کے نتیجہ میں پکڑے جائیں گے، ان کو تو اپنے انکار حق کے معاوضہ میں کھولتا ہوا پانی پینے کو اور درد ناک عذاب بھگتنے کو ملے گا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wathari allatheena ittakhathoo deenahum laAAiban walahwan wagharrathumu alhayatu alddunya wathakkir bihi an tubsala nafsun bima kasabat laysa laha min dooni Allahi waliyyun wala shafeeAAun wain taAAdil kulla AAadlin la yukhath minha olaika allatheena obsiloo bima kasaboo lahum sharabun min hameemin waAAathabun aleemun bima kanoo yakfuroona

(آیت) ” نمبر 70۔

اس میں ہم درج ذیل حقائق کے سامنے کھڑے ہیں :

ایک یہ کہ حضور ﷺ کو یہ حکم دیا جاتا ہے کہ آپ ان لوگوں سے قطع تعلق کرلیں جو آپ کے دین اور اسلامی نظام کے ساتھ ٹھٹھا مذاق کرتے ہیں اور آپ کے بعد اہل ایمان کے لئے بھی یہی ہدایت آتی ہے اور یہ قطع تعلق اور جدائی بات چیت میں بھی ہوتی ہے اور عمل میں بھی ۔ جو لوگ دین اسلام کو اپنی زندگی کا ضابطہ بنا کر ‘ اپنے لئے ماخذ نظریات قرار دے کر ‘ اپنے لئے نظام عمل بنا کر ‘ اپنے لئے نظام اخلاق اور اپنے لئے نظام قانون قرار دے کر اس کا صحیح مقام نہیں دیتے اور اسے پروقار نہیں بناتے وہ بھی دراصل اس دین کے ساتھ مذاق کرتے ہیں ۔ جو لوگ اس دین کے موضوعات پر بحث کرتے ہیں ‘ اسلامی شریعت پر کلام کرتے ہیں اور اس دین کی طرف قابل تضحیک اوضاف کی نسبت کرتے ہیں وہ بھی دین کے ساتھ مذاق کرنے والوں میں شامل ہیں ۔ مثلا وہ لوگ جو غیب کے بارے میں باتیں کرتے ہیں اور عالم غیب کے ساتھ استہزاء کرتے ہیں حالانکہ ایمان بالغیب اصول عقائد میں سے ہے اور جو لوگ زکوۃ کے ساتھ مزاح کرتے ہیں حالانکہ وہ دین کے بنیادوں میں سے ہے ۔ اور جو لوگ شرم وحیاء اور عفت و پاکیزگی کے ساتھ مزاح کرتے ہیں حالانکہ یہ اصول دین میں سے ہیں ۔ یہ لوگ اپنی تقریروں اور تحرروں میں انہیں قرون اولی کے زرعی اور جاگیردارنہ اخلاق میں سے قرار دیتے ہیں یا انہیں بورژوا اخلاق قرار دیتے ہیں اور جو لوگ حقوق الزوجین کے بارے میں تحقیر آمیز ریمارکس پاس کرتے ہیں اور جو لوگ عورت کے لئے مقرر اصول عفت و پاکیزگی کو عورت کی پسماندگی اور اس کا استحصال قرار دیتے ہیں اور سب سے آخر میں اور تمام باتوں سے پہلے وہ انسانوں کی پوری زندگی میں اللہ کی حاکمیت کو تسلیم نہیں کرتے اور انسان کی سیاسی ‘ اجتماعی ‘ اقتصادی اور قانونی زندگی میں اللہ کی حاکمیت کے قائل نہیں ہیں اور اس بات کے قائل ہیں کہ ان شعبوں میں لوگ اللہ کی شریعت سے بغاوت کرتے ہوئے اپنے اختیارات استعمال کرسکتے ہیں ۔ یہ سب لوگ اس آیت کے مفہوم میں داخل ہیں اور اللہ کے دین کے ساتھ ٹھٹھا مذاق کرنے والے سمجھے جائیں گے ۔ اس لئے ہر مسلمان کو حکم ہے کہ وہ ماسوائے تبلیغی مقاصد کے ان لوگوں سے دور رہے اس لئے کہ یہ لوگ ظالم اور مشرک ہیں اور ان کافروں میں سے ہیں جو اپنے کفریہ اعمال میں گرفتار ہونے والے ہیں اور قیامت میں ان کی تواضع کھولتے ہوئے پانی سے کی جائے گی اور وہ دردناک عذاب میں رہیں گے ‘ اس لئے کہ یہ لوگ مذکورہ کفریہ روش میں مبتلا تھے ۔

دوسری حقیقت یہ سامنے آتی ہے کہ اگرچہ رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ آپ ایسے لوگوں کو ایک طرف چھوڑ دیں اور یہی حکم آپ کے بعد آنے والے اہل ایمان کے لئے بھی باقی ہے ۔ لیکن حضور کو اس مقاطعہ کے ساتھ ساتھ یہ ہدایت بھی دی گئی کہ وہ لوگ جنہوں نے اس دین کے ساتھ ہنسی مذاق کو اپنا شیوہ بنا رکھا ہے اور انہیں دنیا کی اس عارضی زندگی نے فریب میں ڈال دیا ہے انہیں نظر انداز کرتے ہوئے بھی انہیں یاد دہانی کراتے جائیں ۔ انہیں ڈراتے رہیں کہ وہ جو کچھ برائیاں سمیٹ رہے ہیں ان کا وبال ان کی جان پر ہوگا اور ایک وقت آنے والا ہے جس میں وہ اللہ سے ملیں گے اور اللہ کے سوا ان کا کوئی مددگار نہ ہوگا جو کچھ بھی تعاون کرسکے ۔ نہ کوئی ان کا سفارشی ہوگا ‘ نہ ان سے کوئی مالی تاوان قابل قبول ہوگا جس کے ذریعے وہ اپنی جان کو ان باتوں سے چھڑا سکیں جن کا انہوں نے دنیا میں ارتکاب کیا ۔ یہ مفہوم قرآن کریم نے جن الفاظ میں ادا کیا ہے ‘ ان کی خوبصورتی اور معنوی گہرائی قابل غور ہے ۔ ذرا دوبارہ تلاوت کیجئے ۔

(آیت) ” وَذَکِّرْ بِہِ أَن تُبْسَلَ نَفْسٌ بِمَا کَسَبَتْ لَیْْسَ لَہَا مِن دُونِ اللّہِ وَلِیٌّ وَلاَ شَفِیْعٌ وَإِن تَعْدِلْ کُلَّ عَدْلٍ لاَّ یُؤْخَذْ مِنْہَا (6 : 70)

” ہاں مگر یہ قرآن سنا کر نصیحت اور متنبہ کرتے رہو کہ کہیں کوئی شخص اپنے کئے ہوئے کرتوتوں کے وبال میں گرفتار نہ ہوجائے ‘ اور اگر گرفتار بھی اس حال میں ہو کہ اللہ سے بچانے والا کوئی حامی ومدد گار اور کوئی سفارشی اس کے لئے نہ ہو ‘ اور اگر وہ ہر ممکن چیز فدیہ میں دے کر چھوٹنا چاہے تو وہ بھی اس سے قبول نہ کی جائے ۔ “

ہر شخص اپنی انفرادی حیثیت میں ماخوذ ہوگا ‘ ذمہ داری انفرادی ہوگی اور اپنے اعمال کی بنیاد پر ہوگی اور ایسے حالات میں ہوگی کہ جہاں اللہ کے سوا کوئی ولی اور سفارش کرنے والا نہ ہوگا اور اگر کوئی ممکن حد تک زیادہ معاوضہ وتاوان دینا چاہے تو بھی قبول نہ ہوگا اور یوں وہ کسی صورت میں بھی گردن نہ چھڑا سکے گا ۔

رہے وہ لوگ جنہوں نے اپنے دین کو مذاق کا نشانہ بنایا اور دنیا کی چند روزہ حیات سے دھوکہ کھا گئے تو یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی کو گروی رکھ دیا اپنی بداعمالیوں کے ہاتھ ‘ اور اس وجہ سے ان پر وہ عذاب ثابت ہوگیا جس کا تذکرہ اس آیت میں ہوا اور ان کا انجام یہ قرار پایا ۔

(آیت) ” أُوْلَـئِکَ الَّذِیْنَ أُبْسِلُواْ بِمَا کَسَبُواْ لَہُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَعَذَابٌ أَلِیْمٌ بِمَا کَانُواْ یَکْفُرُونَ (70)

” کیونکہ ایسے لوگ تو خود اپنی کمائی کے نتیجے میں پکڑے جائیں گے ‘ ان کو تو اپنے انکار حق کے معاوضہ میں کھولتا ہوا پانی پینے کو اور دردناک عذاب بھگتنے کو ملے گا “۔

گویا وہ اپنے افعال بد کی وجہ سے پکڑے گئے اور یہ ان کے لئے مناسب سزا تھی ‘ کیسی جزاء ؟ ایسا گرم پانی جو ان کے حلق اور پیٹ کو بھون ڈالے گا ۔ ان کے کفریہ اعمال کی وجہ سے یہ ان کے لئے ایک دردناک عذاب ہوگا اور یہ عذاب اس بات کی دلیل ہوگا کہ وہ دین کے ساتھ مذاق کرتے رہے ۔

تیسری بات اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے کہ ان لوگوں نے اللہ کے دین کو کھیل تماشا بنا رکھا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ کیا للہ کا سچا دین فی الحقیقت ان کا دین ہے ۔ (دینھم) سے مراد وہ لوگ ہیں جو دین میں داخل ہوگئے ہیں اور داخل ہونے کے بعد انہوں نے اپنے دین کو کھیل تماشا بنا رکھا ہے ۔ مدینہ طیبہ میں اس قسم کے لوگ موجود تھے اور عرف عام میں انہیں منافقین کہا جاتا تھا ۔ مدینہ طیبہ میں تو بات ایسی ہی تھی ۔

سوال یہ ہے کہ آیا اس آیت کا اطلاق ان لوگوں پر بھی ہوگا مثلا مشرکین جو دین اسلام میں داخل نہیں ہوئے ۔ ہاں ان پر بھی ہوگا اس لئے کہ حقیقی دین ‘ دین اسلام ہی ہے ۔ یہ پوری بشریت کا دین ہے چاہے کوئی اس پر ایمان لائے یا نہ لائے ۔ اس لئے کہ جو شخص اس دین کا انکار کرتا ہے اسے چھوڑ دیتا ہے تو وہ درحقیقت خود اپنے دین کو چھوڑتا ہے ۔ اس لئے کہ یہی تو دین ہے جو اللہ کے نزدیک دین ہے اور خاتم النبین حضرت محمد ﷺ کی بعثت کے بعد اللہ کی جانب سے صرف یہی دین مقبول ہے ۔

یہی مفہوم ہے جس کے مطابق اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں دین کی نسبت ان کی طرف کی ہے کہ یہ ان کا دین ہے ۔

(آیت) ” وَذَرِ الَّذِیْنَ اتَّخَذُواْ دِیْنَہُمْ لَعِباً وَلَہْواً وَغَرَّتْہُمُ الْحَیَاۃُ الدُّنْیَا (6 : 70)

” چھوڑو ان لوگوں کو جنہوں نے اپنے دین کو کھیل اور تماشابنا رکھا ہے اور جنہیں دنیا کی زندگی فریب میں مبتلا ہوئے ہے ۔

جیسا کہ ہم نے وضاحت کی اس آیت میں اسی مفہوم کی طرف اشارہ ہے کہ دین اسلام تمام انسانوں کا دین ہے ۔ لہذا جو شخص دین اسلام کو کھیل اور تماشا بناتا ہے گویا وہ خود اپنے دین کے ساتھ مذاق کرتا ہے ۔ اگرچہ ایسا کرنے والا شخص مشرک ہو۔

چہارم یہ کہ ظالموں اور مشرکوں کی ہم نشینی کس قدر جائز ہے ؟ اور جو لوگ دین اسلام کو کھیل تماشا بناتے ہیں ان کے ساتھ مجالس کی حدود کیا ہیں ؟ یہ مجالست صرف وعظ ونصیحت کی خاطر جائز ہے اور اس کے سوا ایسے لوگوں کے ساتھ کسی قسم کا تعلق جائز نہیں ہے ۔ یعنی ایسے حالات میں جب وہ آیات الہی کے ساتھ مذاق کررہے ہیں اور نکتہ چینی کر رہے ہوں اور یہ نکتہ چینی اور مذاق مختلف انداز میں ہو سکتا ہے ۔

امام قرطبی نے اپنی تفسیر جامع الاحکام میں اس سلسلے میں لکھا ہے کہ ” اس آیت میں بصراحت اس نظرئیے کی تردید آجاتی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ راہنمایان دین اور ان کے متبعین بطور تقیہ فاسقین کے ساتھ ہم نشینی اختیار کرسکتے ہیں اور ان کی غلط آرا کی تصدیق بطور تقیہ کرسکتے ہیں ۔

میں سمجھتا ہوں کہ فاسقین اور مفسدین کی مجالس میں وعظ وتذکیر کی مجالس میں وعظ وتذکیر کی خاطر بھی ان حدود وقیود کے ساتھ ہم بیٹھ سکتے ہی جن کا تذکرہ اس آیت میں ہوچکا ہے ۔ رہی یہ بات کہ فساق وفجار کی مجالس میں بیٹھنا اور ان کی بری اور مفسدانہ باتوں پر سکوت اختیار کرنا اور بطور تقیہ ایسا کرنا کسی صورت میں بھی جائز نہیں ہے کیونکہ یہ تو کھلے طور پر باطل کا اقرار ہے اور حق کے خلاف شہادت ہے اور لوگوں کو دھوکے میں ڈالنا ہے ۔ نیز اس طرز عمل میں دین کی بھی توہین ہے اور جو لوگ دین کا کام کرتے ہیں ان کی بھی توہین ہے ۔ لہذا ایسے حالات میں بیٹھنا منع ہوگا اور ایسی مجالس میں چھوڑنا فرض ہوگا ۔

امام قرطبی نے بعض دوسرے اقوال بھی نقل کئے ہیں :” ابن خویز مقداد کہتے ہیں کہ جو شخص آیات الہی کے بارے میں گستاخانہ کلام کرے اس کی مجلس سے فورا واک آوٹ کرنا چاہئے خواہ یہ شخص مومن ہو یا کافر ۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ائمہ نے دشمن کی سرزمین میں جانے سے منع کیا ہے ۔ اسی طرح گرجوں اور مندروں میں جانے سے بھی منع کیا گیا ہے اور کفار اور بدعتیوں کے ساتھ ہم نشینی کی بھی ممانعت کی گئی ہے ۔ نیز یہ بات بھی منع ہے کہ کوئی ان سے محبت ودوستی کرے ‘ ان کی باتیں سنے اور ان کے ساتھ مناظرے کرے ۔ روایات میں آیا ہے کہ بعض بدعتی لوگوں کے ابو عمران نخعی سے کہا کہ میری بات سنو تو انہوں نے ان سے منہ پھیرلیا اور کہا میں تمہاری آدھی بات سننے کے لئے بھی تیار نہیں ہوں “۔ اسی قسم کی بات ایوب سختیانی سے بھی منقول ہے اور فضیل ابن عباس نے کہا ہے : جو شخص کسی صاحب بدعت کے ساتھ دوستی رکھے گا ‘ اس کے اعمال تباہ ہوجائیں گے اور یوں اس کے دل سے اسلام خارج ہوجائے گا ۔ جس شخص نے کسی مبتدع شخص کو رشتہ دیا تو اس نے قطع رحم کیا اور جو شخص بدعتی لوگوں کے ساتھ بیٹھے گا وہ دانشمندی سے محروم کردیا جائے گا ۔ اگر اللہ کو معلوم ہوا کہ فلاں بندہ بدعتی کو بری نظروں سے دیکھتا ہے تو مجھے امید ہے کہ ایسے شخص کو اللہ بخش دے گا ۔ ابو عبداللہ حاکم نے حضرت عائشہ ؓ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” جس شخص نے بدعتی کی عزت افزائی کی اس نے اسلام کو منہدم کرنے کے کام میں معاونت کی “۔

یہ باتیں تو اس شخص کے بارے میں ہیں جو بدعتی ہو ‘ البتہ دین اسلام کا پیروکار ہو ‘ رہا وہ شخص جو اپنے لئے اللہ کی خصوصیات میں سے ایک صفت کا دعوی کرتا ہو ‘ مثلا صفت حاکمیت تو وہ بدعتی سے بھی بڑا مجرم ہے اور جو شخص ایسے شخص کو اس صفت کے ساتھ متصف کرتے ہیں وہ اس سے بھی بڑے مجرم ہیں ۔ یہ جرم محض ارتکاب بدعت جیسا جرم نہیں ہے بلکہ کفر اور شرک جیسا بڑا جرم ہے ۔ کسی شخص کو صفت حاکمیت سے متصف کرنا سلف صالحین کے دور میں نہ تھا ۔ اس لئے انہوں نے اس نکتے پر بحث نہیں کی ۔ تاریخ اسلام میں کسی وقت بھی کسی نے اپنے آپ کو اللہ کے بالمقابل حاکم نہیں سمجھا اور نہ حاکمیت خود یا حاکمیت عوام کا دعوی کیا ہے اور ساتھ ہی وہ مسلمان ہونے کا بھی مدعی ہو۔ شرق اوسط پر فرانسیسی حملے سے پہلے عالم اسلام میں اللہ کی حاکمیت کا نظام قائم تھا ۔ فرانسیسی حملے کے بعد ہی لوگ اللہ کی حاکمیت کے دائرے سے خارج ہوئے ہیں ۔ ہاں بعض لوگ ایسے تھے جو اس سے بچے رہے ۔ لہذا اقوال سلف میں سے ایسے اقوال کم ملتے ہیں جن کا انطباق ہم اس جدید صورت حالات پر کرسکیں اس لئے کہ یہ جدید صور حال ایسی ہے کہ اس میں مسلمان شرعی حدود کو دور پیچھے چھوڑ گئے ہیں ۔

درس نمبر 64 ایک نظر میں :

یہ لہر حقیقت الوہیت اور خصوصیات ذات کبریائی کے بیان میں ایک نہایت ہی موزوں زمزمہ ہے ۔ اس میں ایسے شخص کے بارے میں بڑی شدت کے ساتھ سمجھایا گیا ہے جو راہ ہدایت پانے کے بعد دوبارہ شرک کے اندھیروں میں داخل ہوجائے اور آگے بڑھنے کے بعد رجعت قہقہری اختیار کرلے یا دین اسلام کو ترک کرکے مرتد ہوجائے ۔ ایسے شخص کا نقشہ یوں کھینچا گیا ہے جیسے وہ ایک صحرا میں کھڑا ہے اور اسے اپنی منزل مقصود کی طرف جانے کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا ۔ اس فیصلے اور قرار داد پر کہ ہدایت دی ہے جو اللہ کی راہنمائی پر مبنی ہو ‘ اس لہر کا میٹھا نغمہ اپنے طویل ترنم کے ساتھ اس بات پر ختم ہوجاتا ہے کہ تخلیق اور نظام حکومت (امر) کے بارے صرف اللہ وحدہ کو تمام اختیارات حاصل ہیں۔ اس اختیار کلی کا اظہار اس وقت ہوگا جب نفخ صور کے دن مومن و کافر سب کو اپنی اپنی قبر سے اٹھایا جائے گا سب کے سب اللہ کے سامنے کھڑے ہوں گے تو اس وقت جس کا عقیدہ نہیں تھا وہ بھی یقین سے جان لے گا کہ اب تو تمام اختیارات اللہ وحدہ کے ہاتھ مین ہیں اور اب تمام معاملات اسی کی طرف لوٹ آئے ہیں ۔

اردو ترجمہ

اے محمدؐ! ان سے پو چھو کیا ہم اللہ کو چھوڑ کر اُن کو پکاریں جو نہ ہمیں نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان؟ اور جبکہ اللہ ہمیں سیدھا راستہ دکھا چکا ہے تو کیا اب ہم الٹے پاؤں پھر جائیں؟ کیا ہم اپنا حال اُس شخص کا سا کر لیں جسے شیطانوں نے صحرا میں بھٹکا دیا ہو اور وہ حیران و سرگرداں پھر رہا ہو درآں حالیکہ اس کے ساتھی اسے پکار رہے ہوں کہ اِدھر آ یہ سیدھی راہ موجود ہے؟کہو، حقیقت میں صحیح رہنمائی تو صرف اللہ ہی کی رہنمائی ہے اور اس کی طرف سے ہمیں یہ حکم ملا ہے کہ مالک کائنات کے آگے سر اطاعت خم کر دو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qul anadAAoo min dooni Allahi ma la yanfaAAuna wala yadurruna wanuraddu AAala aAAqabina baAAda ith hadana Allahu kaallathee istahwathu alshshayateenu fee alardi hayrana lahu ashabun yadAAoonahu ila alhuda itina qul inna huda Allahi huwa alhuda waomirna linuslima lirabbi alAAalameena

(آیت) ” نمبر 71۔

اس سورة میں بار بار مضراب قل سے ضربات لگائی جارہی ہیں ۔ یہ نہایت ہی پرتاثیر طرز خطا ہے جس سے یہ تاثر دیا جانا مطلوب ہے کہ حلال و حرام کے حدود وقیود کے تعین کا اختیار صرف اللہ کو حاصل ہے اور رسول اللہ ﷺ تو محض مبلغ اور انجام بد سے ڈرانے والے ہیں ۔ اس انداز کلام سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ معاملہ نہایت ہی اہم ‘ بڑا اور خوفناک ہے ۔ یہ تصورات جو رسول خدا ﷺ پیش فرما رہے ہیں یہ ان کی ڈیوٹی ہے اور انہیں خدا کی جانب سے امر ہے کہ وہ ایسا کریں ۔

(آیت) ” قُلْ أَنَدْعُو مِن دُونِ اللّہِ مَا لاَ یَنفَعُنَا وَلاَ یَضُرُّنا “۔ (6 : 71)

اے نبی ﷺ ان سے پوچھو کیا ہم اللہ کو چھوڑ کر ان کو پکاریں جو نہ ہمیں نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان ؟ ۔ “

لوگ اللہ کے سوا اوروں کو پکارتے تھے اور ان سے امداد طلب کرتے تھے ۔ انکی اس حرکت کو برا سمجھتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اے نبی ﷺ ان سے صاف صاف کہہ دو کہ تم نے جو ان لوگوں کی اطاعت اختیار کر رکھی ہے وہ تمہارے نفع ونقصان کے مالک ہی نہیں ۔ تم ان لوگوں کو کیوں پکارتے ہو ؟ غیر اللہ سے مراد یہاں ‘ بت ‘ آستانے بھی ہیں ‘ درخت وپتھر بھی ہیں ‘ روحانی مخلوق اور فرشتے بھی ہیں اور انسان و شیاطین بھی ہیں ۔ یہ سب کے سب اس لحاظ سے برابر ہیں کہ ان کے قبضے میں کسی کا نفع ونقصان نہیں ہے ۔ وہ اس پوزیشن سے بہت دور ہیں کہ کسی کو نفع ونقصان پہنچا سکیں ۔ اس دنیا میں تمام حرکات و سکنات اور سب کا نفع ونقصان اللہ کی تقدیر کے مطابق ظاہر ہوتا ہے ۔ اللہ کا اذن نہ ہو تو کوئی واقعہ نہیں ہو سکتا اور جو کچھ واقعہ ہوجاتا ہے وہ اللہ کی تقدیر اور راضا کے مطابق ہوتا ہے ‘ اللہ کی مشیت کے مطابق ہوتا ہے ۔

غیر اللہ کو پکارنا ‘ غیر اللہ کی بندگی کرنا اور غیر اللہ سے استعانت طلب کرنا قابل نفرت کام ہے ۔ غیر اللہ کے سامنے عاجزی کرنا اور اللہ کے سوا دوسروں کے لئے تمام ایسے نظریات اور اعمال کھوٹے ہیں ۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ تردید ونکیر ان باتوں کو دیکھ کر ہو جس پر مشرکین عمل پیرا تھے یا یہ تردید ان کی اس تجویز کی تردید کرتے ہوئے آئی ہو جس میں وہ لوگ تجویز کرتے تھے کہ ہم حضور ﷺ کے خدا کی عبادت شروع کردیں گے بشرطیکہ حضور ﷺ ہمارے الہوں کی عبادت میں شریک ہوں ۔ بہرحال یہ ازخود تردید ہو یا ان کی کسی تجویز کا رد ہو دونوں صورتوں میں مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ مشرکین کے ساتھ مکمل نظریاتی قطع تعلق کرلیں ۔ مشرکین کے نظریات اور عمل دونوں عقل انسانی کی رو سے نہایت کمزور اور بودے ہیں بشرطیکہ روشن فکری کے ماحول میں عقل کو دعوت فکر دی جائے اور رسم و رواج اور موروثی روایات کی تہوں کے نیچے عقل دبی ہوئی نہ ہو جیسا کہ حضور ﷺ کے دور میں لوگوں کا شعور ماحول میں دبا ہو اتھا ۔

ان مشرکانہ معتقدات اور اعمال کو یہاں ان ہدایات کی روشنی میں پیش کیا جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو دیں تاکہ اسلامی ہدایات کے بالمقابل ان کا کھوٹ اور ان کا قابل نفرت ہونا اچھی طرح واضح ہوجائے ‘ کیونکہ اللہ نے یہ ہدایت دی ہے کہ صرف اللہ وحدہ کی عبادت کی جائے صرف اسے ہی الہ اور حاکم تسلیم کیا جائے اور بلا شرکت غیرے اس کے تجویز کردہ نظام زندگی کو قبول کیا جائے ۔ ذرا انداز کلام ملاحظہ ہو ۔ ” اے نبی ﷺ ان سے پوچھو کیا ہم اللہ کو چھوڑ کر ان کو پکاریں جو نہ ہمیں نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان۔ “ اگر ہم ایسا کریں تو یہ صحیح معنوں میں ارتداد ہوگا ‘ الٹے پاؤں پھرنا ہوگا ‘ رجعت پسندی ہوگی ۔ ترقی پسندی اور آگے بڑھنے کے بجائے پیچھے لوٹنا ہوگا ‘ کیونکہ اسلام نام ہی ترقی پسندی کا ہے ۔

(آیت) ” وَنُرَدُّ عَلَی أَعْقَابِنَا بَعْدَ إِذْ ہَدَانَا اللّہُ “ (6 : 71)

” اور جب اللہ ہمیں سیدھا راستہ دکھا چکا ہے تو کیا اب ہم الٹے پاؤں پھرجائیں ؟ ۔

اس کے بعد ایک اور متحرک اور مشخص منظر اسکرین پر آتا ہے ۔

(آیت) ” کَالَّذِیْ اسْتَہْوَتْہُ الشَّیَاطِیْنُ فِیْ الأَرْضِ حَیْْرَانَ لَہُ أَصْحَابٌ یَدْعُونَہُ إِلَی الْہُدَی ائْتِنَا “۔ (6 : 71)

” کیا ہم اپنا حال اس شخص کا سا کرلیں جسے شیطانوں نے صحرا میں بھٹکا دیا ہو اور وہ حیران و سرگرداں پھر رہا ہو ‘ درآں حالیکہ اس کے ساتھی اسے پکار رہے ہوں کہ ادھر آؤ ‘ سیدھی راہ موجود ہے ؟۔ “

ضلالت وگمراہی اور حیرانی و پریشانی کا یہ ایک متحرک اور جیتا جاگتا منظر ہے جو شخص عقیدہ توحید کے بعد شرک اختیار کرتا ہے ۔ جس کا ضمیر رب واحد اور ارباب متفرقہ کے درمیان گومگو کی کیفیت میں مبتلا ہوتا ہے ‘ وہ عموما ایسی ہی کیفیت سے دو چار ہوتا ہے وہ ذہنی کشمکش میں مبتلا ہوتا ہے اور فیصلہ نہیں کر پاتا کہ کون سی راہ اختیار کرے ۔ غرض یہ ایک ایسی بدبخت مخلوق خدا کا منظر ہے ” جسے شیطان نے صحرا میں بھٹکا کدیا ہو ۔ لفظ استہوتہ اپنے مفہوم کی تصویر کشی خود ہی کردیتا ہے ۔ اگر وہ ایک راہ لیتا تو کوئی بات نہ تھی ۔ کسی ایک راہ پر پڑجاتا چاہے وہ گمراہی کی راہ ہوتی ‘ لیکن یہاں وہ جس صورت حال سے دوچار ہے وہ یہ ہے کہ دوسری جانب سے اس کے کچھ ساتھی ہدایت یافت ہیں اور وہ اسے راہ راست کی طرف بلاتے ہیں اور بار بار پکارتے ہیں کہ آؤ بھائی ادھر آؤ ۔ وہ اس شیطانی بےراہ روی اور دوستوں کی پکار کے درمیان حیران وپریشان کھڑا ہے ۔ فیصلہ نہیں کرسکتا کہ کدھر جائے اور دونوں پکارنے والوں میں سے کس کی راہ کا انتخاب کرے ۔ وہ اس نفسیاتی کشمکش میں مبتلا ہے اور قرآن کے الفاظ کے درمیان سے اس شخص کی ذہنی اذیت واضح طور پر نظر آتی ہے ۔

میں جب بھی اس آیت کی تلاوت کرتا تو سوچتا رہتا کہ اس ذہنی کھینچا تانی ‘ کشمکش اور تذبذب کی وجہ سے انسان کس عذاب میں مبتلا ہوتا ہوگا ۔ ایسے افراد کا ایک ذہنی نقشہ سامنے آجاتا ہے لیکن یہ صرف ذہنی تصور ہی ہوتا ہے جبکہ عملی زندگی میں ‘ ہمارے سامنے بعض لوگوں کے حقیقی حالات بھی آئے ہیں جن پر یہ منظر پوری طرح چسپاں ہوتا ہے اور وہ لوگ اس عذاب میں مبتلا نظر آتے ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اسلامی نظریہ حیات کو تو پالیا تھا اور اس میں اپنی ذہنی وعملی بساط کے مطابق معرفت بھی حاصل کی مگر اس کے بعد وہ الٹے پاؤں پھرے اور کھوٹے اور جھوٹے الہوں کی پرستش اور اطاعت کرنے لگے ۔ یہ اطاعت انہوں نے خوف اور لالچ کی وجہ سے کی ۔ میں نے دیکھا کہ وہ ایسی ہی کربناک ذہنی کشمکش میں مبتلا ہیں ۔ ایسے لوگوں کے عملی حالات کو دیکھ کر معلوم ہوا کہ اس آیت کا حقیقی مفہوم کیا ہے اور قرآن کریم کا یہ اندازبیاں کس قدر جامع اور موثر ہے ۔

ابھی یہ خوفناک منظر آنکھوں کے سامنے تھا اور اس برے انجام کو دیکھ کر دل مومن کانپ ہی رہا تھا کہ صراط مستقیم دکھا دیا جاتا ہے اور فیصلہ کن حکم دیا جاتا ہے ۔

(آیت) ” قُلْ إِنَّ ہُدَی اللّہِ ہُوَ الْہُدَیَ وَأُمِرْنَا لِنُسْلِمَ لِرَبِّ الْعَالَمِیْنَ (71) وَأَنْ أَقِیْمُواْ الصَّلاۃَ وَاتَّقُوہُ (6 : 72۔ 71)

” کہو ” حقیقت میں صحیح راہنمائی تو صرف اللہ ہی کی رہنمائی ہے اور اس کی طرف سے ہمیں یہ حکم ملا ہے کہ مالک کائنات کے آگے سراطاعت خم کر دو “ ۔ نماز قائم کرو اور اس کی نافرمانی سے بچو۔ “

نہایت ہی مناسب نفسیاتی حالات میں یہ فیصلہ کن بات ہے ۔ اس لئے کہ جب انسان یہ مشاہدہ کرتا ہے کہ اس کے سامنے حیرانی اور کشمکش کی ایک تصویر چل رہی ہے ‘ اسے کوئی سکون وقرار حاصل نہیں ہے اور وہ سخت ترین اذیت کا شکار ہے تو ایسے حالات کو دیکھ کر کوئی بھی قاری اس بات کے لئے آمادہ ہوتا ہے کہ وہ فیصلہ کن اور مطمئن کردینے والی بات کو قبول کرے اور راحت و سکون کی تلاش کرے ۔ یہ فیصلہ کن بات کیا ہے ؟ یہ ہے سچائی ۔ ” راہنمائی تو صرف اللہ کی راہنمائی ہے ۔ “ ھدی اللہ ھو الھدی “ کی ترکیب سے بھی یہ بات معلوم ہوتی ہے کجہ یہ بات فیصلہ کن ہے اور یہ یقینی بات ہے کہ اللہ کی راہنمائی ہی حقیقی راہنمائی ہے ۔

انسان نے جب بھی اللہ کی ہدایت سے منہ موڑا وہ آوارہ صحرا ہوا ۔ نیز اگر انسان اللہ کی راہنمائی کا کچھ حصہ تبدیل کرکے اس کی جگہ اپنے تصورات نافذ کرے ‘ اپنے فارمولے آزمائے ‘ اپنی جانب سے قوانین وضع کرے ‘ اپنے طور طریقے اپنائے ‘ خود ساختہ پیمانے رائج کرے اور یہ سب کام علم الہی ‘ ہدایت الہی اور اللہ کی روشن کتاب کی راہنمائی کے دائرے سے باہر نکل کر کرے تو وہ کبھی بھی راہ راست نہ پائے گا اور بےکنار صحرا ہی میں پھرتا رہے گا ۔

اس میں شک نہیں کہ حضرت انسان کو اللہ تعالیٰ نے بعض ایسی قوتیں عطا کی ہیں جن کے ذریعے وہ اس کائنات کے بعض نوامیس فطرت تک رسائی حاصل کرچکا ہے ‘ کائنات کی بعض قوتوں کو اس نے مسخر کرلیا ہے ‘ اس کرہ ارض کا نظام چلانے کے لئے وہ ان قوتوں سے استفادہ کر رہا ہے اور اس دنیا کی زندگی کو ترقی دے رہا ہے لیکن اس کو اللہ نے اس قدر وسیع علم اور قوت نہیں دی ہے کہ وہ اس کائنات کی تمام قوتوں اور تمام حقیقتوں کی تہہ تک پہنچ سکے ‘ نہ یہ حضرت انسان اس عالم غیب کی وسعتوں کے اندر داخل ہو سکتا ہے جو اسے ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہیں ۔ خود انسان کی عقل ، انسان کی سوچ ‘ اس کے جسم کے مختلف اعضاء کا کام کرنا اور اس کے اسباب اور ان اعضاء کا اس طرح مربوط طریقے پر کام کرنا ‘ یہ سب امور ایسے ہیں جو انسان کے لئے ابھی تک عالم غیب کے حصے ہیں ۔

یہی وجہ ہے کہ خود اپنی ذات کے بارے میں بھی انسان خدائی ہدایت اور راہنمائی کا محتاج ہے ۔ انسان کی زندگی ‘ اس کے نظریات ‘ اس کی تخلیق ونشوونما ‘ زندگی کی اقدار اور پیمانے ‘ زندگی کا نظام اور طور طریقے ‘ زندگی کے ضوابط اور قوانین ایسے امور ہیں جن میں انسان کو اللہ کی راہنمائی درکار ہے تاکہ ان چیزوں کو اس کی زندگی میں نافذ کیا جاسکے اور اس کی عملی زندگی پر ان خدائی ہدایات کا نفاذ ہو ۔

یہ انسان جب اللہ کی ہدایت کی طرف لوٹ آتا ہے اور ہدایت کو قبول کرلیتا ہے تو وہ صحیح معنوں میں ہدایت یافتہ انسان قرار پاتا ہے ۔ کیونکہ اللہ کی ہدایت ہی صحیح ہدایت ہے جب بھی وہ اللہ کی ہدایت سے دور ہوتا ہے یا اللہ کی راہنمائی میں سے بعض اجزاء سے انحراف کرتا ہے یا اس میں سے بعض اجزاء کو تبدیل کرکے اس کے اندر خود ساختہ اجزاء پیوست کردیتا ہے تو وہ گمراہ ہوجاتا ہے اس لئے کہ جو بات اللہ کی راہنمائی پر مبنی نہ ہو تو وہ ضلالت ہے کیونکہ کوئی تیسرا اور درمیانی راستہ موجود نہیں ہے ۔ (فماذا بعد الحق الا الضلال) ” سچائی کے بعد گمراہی کے سوا اور ہے کیا ؟ “ انسان نے اپنی طویل تاریخ میں اس گمراہی کا مزہ خوب چکھا ہے اس کی وجہ سے اس نے بےحد مصائب جھیلے ہیں اور آج تک انسانیت ان مصائب میں مبتلا ہے ۔ انسانی تاریخ نے اپنا یہ حتمی فیصلہ دے دیا ہے کہ اس کا یہی انجام ہوگا ‘ جب بھی وہ اللہ کی راہنمائی سے انحراف کرے گی ۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہیں اور اس کا انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ نیز اللہ کا حکم بھی یہی ہے اور اللہ کی جانب سے اطلاع بھی یہی ہے ۔ اس حقیقت کی سوا اور کوئی حقیقت نہیں ہے ۔ اگرچہ دعوی بہت سے حقائق کا کیا جاتا ہے لیکن تاریخ نے کسی کو تصدیق نہیں کی ۔ جو لوگ خدائی راہنمائی سے انحراف کی وجہ سے انسانی مصائب کا مطالعہ کرنا چاہتے ہیں انہیں کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ وہ اپنے اردگرد پھیلے ہوئے معاشروں کا مطالعہ کریں ۔ ایک عقلمند سب کچھ چشم بینا سے دیکھ سکتا ہے ۔ وہ ان مصائب کو ہاتھ سے چھو سکتا ہے ۔ یہ محسوس ہیں اور اس پوری دنیا کے عقلمند لوگ ان کی بابت چیخ و پکار کر رہے ہیں۔

چناچہ سیاق کلام میں مکرر حکم دیا جاتا ہے کہ اللہ کے سامنے سرتسلیم خم کر دو صرف اللہ کے سامنے ۔ اسی سے ڈرو اور اسی کی بندگی اور عبادت کرو ۔ وامرنا۔۔۔۔۔۔ اور اس کی طرف سے ہمیں حکم ملا ہے کہ مالک کائنات کے آگے سر اطاعت خم کر دو اور نماز قائم کرو اور اس کی نافرمانی سے بچو۔ “

یعنی اے محمد اعلان کر دو کہ راہنمائی اور ہدایت تو صرف اللہ کی راہنمائی اور ہدایت ہے اور یہی وجہ ہے کہ اللہ نے حکم دیا ہے کہ اللہ رب العالمین ہی کے آگے سرتسلیم خم کر دو ‘ اس لئے کہ عالمین اسی کے آگے جھکتے ہیں ۔ یہ پوری کائنات اس کے آگے پابند حکم ہے ‘ پس کوئی جواز نہیں ہے کہ اس پوری کائنات کے اندر انسان جیسی عقلمند مخلوق اللہ رب العالمین کے آگے نہ جھکے اور اللہ کی ملکیت اور ربوبیت کا انکار کردے اور آسمان و زمین اور پوری کائنات سے مختلف روش اختیار کرے ۔

یہاں پورے جہان اور اس کی ربوبیت کا ذکر بےمحل نہیں ہے ۔ یہ وہ حقیقت ہے جسے تسلیم کئے بغیر بات بنتی ہی نہیں ۔ اس کا اعتراف کرنا ہی پڑے گا یہ کہ پوری دنیا میں مشہود اور غائب دونوں شامل ہیں اور وہ قوانین قدرت جن کے مطابق یہ رواں دواں ہے ان سے یہ کائنات شمہ بھر انحراف بھی نہیں کرسکتی ۔ اس لئے کہ اللہ رب العالمین ہے ۔ جہاں تک انسان کا تعلق ہے اپنی طبیعی زندگی کے اندر وہ بھی ان نوامیس فطرت کا پابند ہے ۔ انسان کی جسمانی زندگی ان ضوابط کے اندر جکڑی ہوئی ہے اور وہ ان ضوابط کا مطیع ہے ۔ ان کے دائرے سے خارج نہیں ہو سکتا ۔ لہذا انسان کا فرض ہے کہ وہ اپنی اس محدود اختیاری زندگی کے اندر بھی اللہ کے ضوابط کی پابندی کرے اور یہ اس کے لئے سخت آزمائش ہے ۔ اس آزمائش میں دیکھا جائے گا کہ وہ راہ ہدایت پالیتا ہے یا صحرائے ضلالت کی طرف جانکلتا ہے ۔ اگر وہ خدائی ضوابط کی اس طرح پابندی کرے جس طرح وہ اپنی طبیعی زندگی کے اندر مطیع نوامیس الہی ہے تو اس کی زندگی خوش اسلوبی سے گزرے گی اور اس کا طرز عمل اور اس کی طبیعی زندگی باہم متناسق ہوں گے ۔ اس کا جسم اس کی روح کا ساتھی ہوگا اور اس کی دنیا آخرت کے ساتھ جڑی ہوئی ہوگی ۔ تفصیلات کے لئے دیکھئے (امیر جماعت اسلامی پاکستان کی کتاب رسالہ دینیات)

یہ کہنا کہ مجھے اور تمام مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ مالک حقیقی کے سامنے سرتسلیم خم کردیں ‘ اس لئے انہوں نے سرتسلیم خم کردینے کی روش اختیار کی ہے ، ایک نہایت ہی موثر ار مفرح انداز گفتگو ہے اور تا قیامت جو لوگ بھی راہ تسلیم ورضا کو اختیار کریں گے وہ اپنے آپ کو براہ راست امر الہی کا تعمیل کنندہ سمجھیں گے ۔

اب وہ مامورات آتے ہیں جو اعلان تسلیم ورضا کے بعد کا لائحہ عمل ہیں۔

(آیت) ” وَأَنْ أَقِیْمُواْ الصَّلاۃَ وَاتَّقُوہُ (6 : 72) ” نماز قائم کرو اور اس کی نافرمانی سے بچو “۔

اصل فریضہ یہ ہے کہ اللہ کی ربوبیت کو تسلیم کیا جائے ۔ اس کی حاکمیت کو تسلیم کیا جائے اور اس کی رضا کے مطابق اپنے آپ کو درست کیا جائے ۔ اس کے بعد پھر عبادات کا درجہ آتا ہے اور نفسیاتی اصلاح کا کام شروع ہوتا ہے تاکہ تسلیم ورضا کی اساس پر عملی زندگی کا نقشہ فائع ہو سکے اور عملی زندگی اور تفصیلی نظام زندگی اس وقت تک استحکام حاصل نہیں کرسکتا جب تک اس کی تعمیر مستحکم بنیادوں پر نہ ہو ۔

اس لہر کی آخری ضرب اسلامی نظریہ حیات کے اساسی حقائق کو اپنے اندر لئے ہوئے ہے ۔ یہ حقائق اسلامی نظریہ حیات کے اصلی اور بنیادی عوامل ہیں ۔ مثلا حشر ونشر ‘ تخلیق کائنات ‘ حاکمیت الہیہ ‘ علم غیب اور علم شہادت اور یہ کہ اللہ حکیم وخبیر ہے ۔

اردو ترجمہ

نماز قائم کرو اور اس کی نافرمانی سے بچو، اسی کی طرف تم سمیٹے جاؤ گے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waan aqeemoo alssalata waittaqoohu wahuwa allathee ilayhi tuhsharoona

اردو ترجمہ

وہی ہے جس نے آسمان و زمین کو بر حق پیدا کیا ہے اور جس د ن وہ کہے گا کہ حشر ہو جائے اسی دن وہ ہو جائے گا اس کا ارشاد عین حق ہے اور جس روز صور پھونکا جائیگا اس روز پادشاہی اُسی کی ہوگی، وہ غیب اور شہادت ہر چیز کا عالم ہے اور دانا اور باخبر ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wahuwa allathee khalaqa alssamawati waalarda bialhaqqi wayawma yaqoolu kun fayakoonu qawluhu alhaqqu walahu almulku yawma yunfakhu fee alssoori AAalimu alghaybi waalshshahadati wahuwa alhakeemu alkhabeeru

(آیت) ” نمبر 72 تا 73۔

(آیت) ” وَہُوَ الَّذِیَ إِلَیْْہِ تُحْشَرُونَ (72)

” اسی کی طرف تم سمیٹے جاؤ گے ۔

اس لئے اس بات کی ضرورت ہے کہ تم صرف اس کے سامنے سرتسلیم خم کرو کیونکہ تم کو آخر کار اسی کی طرف جانا ہے ۔ لہذا انسانوں کے لئے بہتر یہ ہے کہ وہ یوم الحشر کے لئے کچھ چیزیں ساتھ لے کر جائیں جس کی وجہ سے ان کی نجات ہو ‘ کیا وہ اس کے سامنے نہیں جھکتے جس کے سامنے حشر کے دن عالمین سرنگوں ہوں گے ۔ مناسب ہے کہ اس دن کے آنے سے پہلے ہی وہ جھکیں ۔ حشر کا تصور دے کر یہاں انسان کو اس بات پر آمادہ کیا جاتا ہے کہ آج ہی اس کے سامنے سرنگوں ہونا شروع کر دو جبکہ حشر کے روز کوئی بچ کر نہیں نکل سکے گا ۔

(آیت) ” وَہُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ “۔ (6 : 73)

” وہی ہے جس نے آسمان و زمین کو برحق پیدا کیا ہے “۔

یہ ایک دوسری حقیقت ہے جو اصلاح احوال کا ایک دوسرا بہترین موثر ہے ۔ وہ اللہ جس کے سامنے سرنگوں ہونے کا یہاں حکم دیا جارہا ہے ‘ وہ وہی ہے جس نے زمین و آسمان کو برحق پیدا کیا ہے ۔ وہ ذات وہی ہے جو پیدا کرتا ہے ‘ جو مالک ہے ‘ جو حاکم ہے اور جو تمام امور میں متصرف ہے اور اس نے زمین و آسمان کو پیدا بھی حق پر کیا ہے ۔ تخلیقات کائنات میں سچائی ایک بنیادی عنصر ہے اور یہ ایک حقیقت ہے ۔ اس فقرے میں ایک جانب تو اس کائنات کے بارے میں افلاطون کے مثالی نظریے کی تردید کردی جس میں کہا گیا تھا کہ یہ کائنات ایک وہم ہے اور اس کا کوئی وجود نہیں ہے ۔ دوسری جانب اس میں یہ قرار دیا گیا کہ سچائی اپنے اندر اصلیت رکھتی ہے اور وہ اس کائنات کا بنیادی عنصر ہے ۔ جو لوگ سچائی کا سہارا لیتے ہیں فطرت کائنات کے اندر سچائی بھی اسی طرح طرف لوٹتی ہے ۔ اس طرح اس کائنات کی طبعی سچائی اور اسلامی نظریہ حیات کی سچائی باہم مل کر ایک خوفناک اور عظیم قوت بن جاتی ہیں ۔ پھر اس عظیم قوت کے سامنے باطل اپنے پائے چوبیں پر کھڑا ہی نہیں ہوسکتا اس لئے کہ باطل کی جڑیں اس کائنات کے اندر نہیں ہوتیں ۔ اس کی مثال تو ایک خبیث درخت جیسی ہوتی ہے جسے زمین کے اوپر سے باسانی اکھاڑ لیا جاتا ہے اور وہ زمین پر ٹھہر نہیں سکتا یا اس کی مثال تو ایک خبیث درخت جیسی ہوتی ہے جسے زمین کے اوپر سے باسانی اکھاڑ لیا جاتا ہے اور وہ زمین پر ٹھہر نہیں سکتا یا اس کی مثال اس جھاگ کی طرح ہوتی جس کے اندر جسمانی حقیقت نہیں ہوتی اور وہ جلد ہی خود بخود بیٹھ جاتی ہے ۔ اس لئے باطل پر اس کائنات کی بنیاد نہیں رکھی گئی ۔ یہ ایک عظیم اور موثر نظریاتی حقیقت ہے ۔

وہ مومن جس کے شعور میں یہ بات ہو کہ وہ حق کا حامل ہے وہ شخصی اور ذاتی طور پر اس سچائی کے ساتھ مربوط ہوجاتا ہے جو اس کائنات کے اندر موجود ہے ۔ (ایک دوسری آیت میں ہے کہ ان اللہ ھو الحق ‘ یعنی اللہ سچائی ہے) یہ دونوں سچائیاں پھر ذات باری تعالیٰ سے اتصال حاصل کرلیتی ہیں جو بذات خود عظیم سچائی ہے ۔ جب ایک مرد مومن اپنے اندر یہ شعور پیدا کرلیتا ہے کہ وہ واصل بالحق ہے تو اس کے سامنے پھر باطل کی کوئی حقیقت ہی نہیں رہتی ۔ اگرچہ یہ باطل طاقت بظاہر بہت عظیم وضخیم نظر آتی ہو ‘ جابر وقاہر ہو اور اسے اذیت رسانی کی بڑی قوت ہی کیوں نہ حاصل ہو ۔ ایسا مرد مومن یہ سمجھتا ہے کہ یہ صورت حال نہایت ہی عارضی اور حقیر ہے ۔ اس کی جڑیں اس کائنات کے اندر نہیں ہیں اور نہ اسے ثبات وقرار حاصل ہوگا ۔ جلد ہی یہ عارضی اور حقیر ہے ۔ اس کی جڑیں اس کائنات کے اندر نہیں ہیں اور نہ اسے ثبات وقرار حاصل ہوگا ۔ جلد ہی یہ عارضی حالت ختم ہوگی اور صورت حال اس طرح بدل جائے گی کہ گویا وہ یہاں تھی ہی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ اور جب ایک منکر اور غیر مومن اس حقیقت پر غور کرتا ہے تو بعض اوقات وہ راہ راست پر آجاتا ہے اور اللہ کے سامنے سرنگوں ہوجاتا ہے ۔

(آیت) ” وَیَوْمَ یَقُولُ کُن فَیَکُونُ ۔ (6 : 73)

” اور جس دن وہ کہے گا کہ حشر ہوجائے اسی دن وہ ہوجائے گا ۔ وہ قادر مطلق بادشاہ ہے ‘ اور اس کی مشیت بےقید ہے ۔ از سر نو تخلیق ‘ اپنی تخلیق میں تغیر وتبدل کرنے میں اسے کچھ دیر نہیں لگتی ۔ اللہ کی اس قدرت کا یہاں ذکر کرنے کے دو مقاصد ہیں ۔ ایک طرف تو اس سے اسلامی نظریہ حیات کو قلب مومن میں جاگزیں کیا جارہا ہے ۔ دوسری جانب ان لوگوں کے لئے جنہیں دعوت دی جارہی ہے یہ امر ایک موثر ذریعہ ہے کہ وہ دعوت کو قبول کریں اور اللہ رب العالمین کے سامنے سرنگوں ہوجائیں کیونکہ کن فیکون کہنے والا وہی قادر مطلق ہے ۔

(آیت) ” قَوْلُہُ الْحَقُّ (6 : 73)

” اس کا ارشاد عین حق ہے ۔ “ اس کا وہ قول بھی حق ہے جس کے ذریعے اس نے پوری کائنات کی تخلیق کی اور کن فیکون کہا ۔ اس کا وہ فرمان بھی برحق ہے جس کے ذریعے اس نے بندوں کو حکم دیا کہ وہ صرف اس کی اطاعت کریں اور صرف اس کے سامنے سرنگوں ہوں ۔ اس کے وہ احکام بھی برحق ہیں جن کے ذریعے اس نے لوگوں کے لئے قانون سازی کی ۔ اور وہ اقوال بھی برحق ہیں جن میں ماضی حال اور مستقبل کے بارے میں اطلاعات دی گئی ہیں یعنی خلق ‘ نشاۃ اور حشر ونشر کی بابت اور سزا وجزاء سے متعلق ۔

(آیت) ” وَلَہُ الْمُلْکُ یَوْمَ یُنفَخُ فِیْ الصُّوَرِ (6 : 73)

” اور جس روز صور پھونکا جائے گا اس روز بادشاہی اسی کی ہوگی ۔ “ اور جب صور میں پھونکا جائے گا (صور ڈھول کی طرح اندر سے خالی سینگ کو کہتے ہیں) یہ وہ دن ہوگا جس میں لوگ اپنی قبروں سے اٹھ کر پھلیں گے ‘ یہ کیونکر ہوگا ؟ انسان کے علم میں یہ کیفیت نہیں آسکتی ۔ یہ ان غیبی امور میں سے ہے جس کا علم اللہ کے ہاں محفوظ ہے ۔ صور کی ماہیت اور حقیقت کیا ہوگی ‘ یہ بھی غیبی امور میں سے ہے ۔ کس طرح تمام مردے اٹھ کھڑے ہونگے اس کا تصور بھی ہم نہیں کرسکتے ۔ روایات میں آتا ہے کہ صور ایک نورانی بگل ہے جس میں فرشتہ پھونکے گا ۔ تمام اہل قبور اسے سنیں گے اور وہ جہاں بھی ہوں گے اٹھنے کی تیاری کریں گے اور یہ دوسری آواز ہوگی ۔ رہا پہلا صور تو اس کے نتیجے میں تمام لوگ مر کر گرجائیں گے یعنی زمین و آسمان کی تمام مخلوق جان دے دیگی ۔ الا ماشاء اللہ ۔ سورة زمر میں ہے ” اور روز صور پھونکا جائے گا اور وہ سب مرکر گر جائیں گے جو آسمان و زمین میں ہیں سوائے ان کے جنہیں اللہ زندہ رکھنا چاہے ۔ پھر ایک دوسرا صور پھونکا جائے گا اور یکایک سب اٹھ کر دیکھنے لگیں گے ۔ “ (39 : 68) صور اور اس کے پھونکنے کے جو آثار یہاں دیئے گئے وہ ایسے ہیں کہ انسان جس صورت حال کے عام طور پر عادی ہیں ان میں ایسا ہونا ممکن نہیں ہے ‘ ایک عام انسان ایسے حالات کا تصور نہیں کرسکتا اس لئے کہ یہ اللہ کے ان غیبی حقائق میں سے ایک ہے جس کا علم ہمیں نہیں دیا گیا ۔ ہمارا علم وہاں تک محدود ہے جو اللہ نے ہمیں دیا ۔ اس لئے ہم اس کے بارے میں اس سے آگے نہیں بڑھتے جس قدر اس آیت میں دے دیا گیا ہے ۔ نہ آگے جانے میں کوئی فائدہ ہے ۔ اگر اس کی کیفیات پر کوئی کلام کرے گا تو وہ اندھیروں میں ٹامک ٹوئیاں مارنے کے مترادف ہوگا ، محض ظن وتخمین ہوگا ۔

ہاں جس دن صور میں پھونکا جائے گا اس دن اصل حقیقت منکرین پر بھی ظاہر ہوگی اور اندھے بھی اسے دیکھ لیں گے کہ اس دن صرف اللہ کی بادشاہی ہوگی اور صرف اللہ ہی بادشاہ ہوگا ۔ صرف اللہ ہی فیصلے کرے گا ۔ لہذا اس دنیا میں جو لوگ سرکش ہیں انہیں چاہئے کہ وہ ابھی سے اپنا طرز عمل درست کرلیں ۔ قبل اس کے کہ وہ جبار وقہار کے سامنے کھڑے ہو کر اطاعت کریں یعنی نفخ صور کے دن ۔

(آیت) ” عَالِمُ الْغَیْْبِ وَالشَّہَادَۃِ ۔ (6 : 73)

” وہ غیب اور شہادت ہر چیز کا عالم ہے “۔

یعنی ان باتوں کی کیفیات کا علم اسے ہے جنہیں ہم نہیں سمجھتے ۔ وہ ان باتوں کو اس طرح جانتا ہے جس طرح ہم عالم شہادت کو جانتا ہیں اور بندوں کی پوشیدہ چیزوں سے کوئی چیز بھی اس پر مخفی نہیں ہے ۔ نہ کوئی چیز اس سے چھوٹ سکتی ہے ۔ لہذا لوگوں کو چاہئے کہ وہ اللہ کی اطاعت کریں اور اس سے ڈریں ۔ اپنی جگہ حقیقت اور جزوعقیدہ ہونے کے ساتھ ساتھ یہ دھمکی مخالفین اور جھٹلانے والوں کے لئے مفید ہے ۔

(آیت) ” وَہُوَ الْحَکِیْمُ الْخَبِیْرُ (73)

” اور وہ دانا اور باخبر ہے ۔ “

وہ اپنی حکمت کے مطابق اس پوری کائنات کو چلاتا ہے ۔ وہ دنیا وآخرت دونوں میں اپنے بندوں کے معاملات کو نہایت خبردار اور حکمت سے چلاتا ہے ۔ لہذا لوگوں کو چاہئے کہ وہ اللہ کی ہدایت اور اس کی شریعت کی پیروی کریں اور اللہ کے علم و حکمت سے استفادہ کریں ۔ اس کی ہدایت و رحمت کے سائے میں لوٹ آئیں ۔ حیرانی و پریشانی سے نکل کر اس کے سایہ عاطفت اور حکمت و دانائی میں داخل ہوجائیں جہاں انہیں صراط مستقیم ملے گا اور علم وبصیرت کے لئے موثر بناتے ہیں ۔

درس نمبر 65 ایک نظر میں :

یہ درس ‘ طوالت کے باوجود ‘ ایک ٹکڑا ہے ۔ اس کا موضوع بھی ایک ہے جس کے تمام پیراگراف باہم پیوستہ ہیں ۔ یہ اس سورة کے مرکزی مضمون سے متعلق ہے۔ سورة کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اسلامی نظریہ حیات کی تعمیر مقام الوہیت کی صحیح تعریف اور توضیح کے رنگ میں کی جائے ۔ اس کے مقابلے میں بندے کی حقیقت اور اس کے آداب زندگی کی وضاحت اور عبد و معبود کے درمیان تعلق کی صحیح نوعیت کا بیان ۔ لیکن اس سبق میں ان حقائق اور موضوعات پر بات کرنے کا ایک نیا انداز اختیار کیا گیا ہے جو اس سے قبل اس سورة میں اختیار کئے جانے والے انداز سے بالکل جدا ہے ۔

یہاں اس موضوع اور مضمون کو قصے کے انداز میں لیا گیا ہے ۔ لیکن اس قصے میں وہ تمام اثر آفریں باتیں آگئی ہیں جو اس سے قبل اس سورة میں آنے والی تمام لہروں میں مذکور ہیں جیسا کہ ہم نے اس سورة پر تبصرہ کرتے وقت بیان کیا تھا ۔ مثلا ایک یہ ہے کہ مختلف لہروں کے درمیانی وقفے میں قیامت کے دن اللہ کے سامنے پیشی کے مناظر بار بار دہرائے گئے ہیں اور نہایت مرتب انداز میں ۔

اس سبق میں اس مسلسل قافلہ دعوت اسلامی کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے ۔ جو حضرت نوح (علیہ السلام) سے لے کر حضرت محمد ﷺ تک طویل انسانی تاریخ کی شاہراہ پر پھیلا ہوا ہے ۔ اس قافلے کی طرف اشارہ کرنے سے پہلے مقام کبرائی کی توضیح کردی گئی ہے اور یہ توضیح ایک مومن کامل حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے فطری تاثرات کی شکل میں کی گئی ہے ۔ بتانا یہ مقصود ہے کہ فطرت سلیمہ اس طرح کی ہوتی ہے اور یہ فطرت سلیمہ جب سچائی کی متلاشی ہوتی ہے تو اس کا انداز اس طرح کا ہوتا ہے ۔ اللہ کی کبریائی کا صحیح تصور تو خود فطرت سلیمہ کے اندر موجود ہوتا ہے ‘ رہے خارجی مظاہر تو ان میں تو قدم قدم پر جاہلیت کو تصادم کے بعد ہی صحیح تصورات عطا کئے جاسکتے ہیں ۔ یہ تصورات حق تعالیٰ کے بارے میں فطرت انسانی کے اپنے تصور کے عین مطابق ہوتے ہیں ۔ ان تصورات کی بنیادان داخلی شواہد پر ہوتی ہے جو فطرت انسانی کے اندر ہوتے ہیں اور جو محسوس شواہد سے زیادہ قوی ہوتے ہیں ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جب اپنے داخلی فطری شواہد کی وجہ سے حق تعالیٰ کی معرفت حاصل کرلیتے ہیں اور انہیں ان داخلی فطری شواہد کی وجہ سے اطمینان حاصل ہوجاتا ہے تو قرآن کریم اس داخلی واردات کی حکایت ان الفاظ میں بیان کرتا ہے ۔

(آیت) ” وَحَآجَّہُ قَوْمُہُ قَالَ أَتُحَاجُّونِّیْ فِیْ اللّہِ وَقَدْ ہَدَانِ وَلاَ أَخَافُ مَا تُشْرِکُونَ بِہِ إِلاَّ أَن یَشَاء َ رَبِّیْ شَیْْئاً وَسِعَ رَبِّیْ کُلَّ شَیْْء ٍ عِلْماً أَفَلاَ تَتَذَکَّرُونَ (80) وَکَیْْفَ أَخَافُ مَا أَشْرَکْتُمْ وَلاَ تَخَافُونَ أَنَّکُمْ أَشْرَکْتُم بِاللّہِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِہِ عَلَیْْکُمْ سُلْطَاناً فَأَیُّ الْفَرِیْقَیْْنِ أَحَقُّ بِالأَمْنِ إِن کُنتُمْ تَعْلَمُونَ (81) (6 : 80 تا 81)

” اس کی قوم اس سے جھگڑنے لگی تو اس نے کہا ” کیا تم لوگ اللہ کے معاملے میں مجھ سے جھگڑتے ہو ؟ حالانکہ اس نے مجھے راہ راست دکھا دی ہے اور تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں سے نہیں ڈرتا ہاں اگر میرا رب کچھ چاہئے تو ضرور ہوسکتا ہے ، میرا رب کا علم ہر چیز پرچھایا ہوا ہے ‘ پھر کیا تم ہوش میں نہ آؤ گے ؟ اور آخر میں تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں سے کیسے ڈرو جبکہ تم اللہ کے ساتھ ان چیزوں کو خدائی میں شریک بناتے ہوئے نہیں ڈرتے جن کے لئے اس نے تم پر کوئی سند نازل نہیں کی ؟ ہم دونوں فریقوں میں سے کون زیادہ بےخوفی اور اطمینان کا مستحق ہے بتاؤ اگر تم علم رکھتے ہو ۔

اب سیاق کلام قافلہ ایمان کے ساتھ ساتھ آگے بڑھتا ہے ۔ اس قافلے کی قیادت اللہ کے رسولوں کے ہاتھ میں ہے ۔ شاہراہ تاریخ پر یہ رواں ودواں ہے ۔ اس طویل شاہراہ پر مشرکین کا شرک اور مکذبیں کی تکذیب بےوزن نظر آتے ہیں ۔ اور اس قافلے نے ان چیزوں کو ٹھوکریں مارکر اس شاہراہ سے ایک طرف پھینک دیا ہے ۔ یہ قافہ رواں دواں ہے ۔ اس قافلے کی آخری کڑی اس کی ابتدائی کڑی سے جڑی ہوئی ہے ۔ یوں ایک متحدہ امت تشکیل پاتی ہے۔ اس امت مسلمہ کا آخری حصہ اسی ہدایت کی پیروی کر رہا ہے جس کی پیروی اس کے ابتدائی حصے نے کی ۔ اس امت کی تشکیل میں زماں ومکان کا کوئی لحاظ نہیں ہے۔ قوم اور نسل کا کوئی اعتبار نہیں ہے ۔ رنگ ونسب کا کوئی لحاظ نہیں ہے ۔ اس امت کے درمیاں واحد رابطہ اور واحد رسی دین اسلام ہے اور اس رسی اور حبل اللہ کو سب نے پکڑ رکھا ہے ۔

یہ ایک حیران کن منظر ہے ۔ اللہ تعالیٰ قافلہ رسل کا نام لے کر گنواتے ہیں اور اس کے بعد فرماتے ہیں :

(آیت) ” ذَلِکَ ہُدَی اللّہِ یَہْدِیْ بِہِ مَن یَشَاء ُ مِنْ عِبَادِہِ وَلَوْ أَشْرَکُواْ لَحَبِطَ عَنْہُم مَّا کَانُواْ یَعْمَلُونَ (88) أُوْلَـئِکَ الَّذِیْنَ آتَیْْنَاہُمُ الْکِتَابَ وَالْحُکْمَ وَالنُّبُوَّۃَ فَإِن یَکْفُرْ بِہَا ہَـؤُلاء فَقَدْ وَکَّلْنَا بِہَا قَوْماً لَّیْْسُواْ بِہَا بِکَافِرِیْنَ (89) أُوْلَـئِکَ الَّذِیْنَ ہَدَی اللّہُ فَبِہُدَاہُمُ اقْتَدِہْ قُل لاَّ أَسْأَلُکُمْ عَلَیْْہِ أَجْراً إِنْ ہُوَ إِلاَّ ذِکْرَی لِلْعَالَمِیْنَ (90)

” یہ اللہ کی ہدایت ہے جس کے ساتھ وہ اپنے بندوں میں سے جس کی چاہتا ہے راہنمائی کرتا ہے لیکن اگر کہیں ان لوگوں نے شرک کیا ہوتا تو ان کا سب کا کیا کرایا غارت ہوجاتا ۔ وہ لوگ تھے جن کو ہم نے کتاب اور حکمت اور نبوت عطا کی تھی ۔ اب اگر یہ لوگ اس کو ماننے سے انکار کرتے ہیں تو (پرواہ نہیں) ہم نے کچھ اور لوگوں کو یہ نعمت سونپ دی ہے جو اس سے منکر نہیں ہیں ۔ اے نبی وہی لوگ اللہ کی طرف سے ہدایت یافتہ تھے ۔ انہی کے راستہ پر تم چلو اور کہہ دو میں اس (تبلیغ وہدایت کے) کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں یہ تو ایک عام نصیحت ہے تمام دنیا والوں کے لئے ۔ ‘

اس موقف کو پیش کرنے کے بعد ان لوگوں پر سخت تنقید کی جاتی ہے جو یہ زعم لئے ہوئے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی رسول نہیں بھیجا اور نہ اللہ نے کسی انسان پر کوئی کتاب اتاری ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ اس قسم کے لوگ درحقیقت کوتاہ بین ہیں اور انہوں نے ذات باری کی صحیح معرفت حاصل نہیں کی ۔ ان کے اس نظریے کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ نے لوگوں کو پیدا کر کے یوں ہی چھوڑ دیا ‘ ان کی لگام ان کے نفس اور ان کی عقل کے ہاتھ میں دے دی ‘ ان کی خواہشات اور ان کی ناقص فہم اور ان کا سرکش نفس انہیں جو چاہے حکم دے ۔ اللہ کی شان کبریائی اور اس کی الوہیت و ربوبیت سے یہ نظریہ فروتر ہے ۔ اس کا علم ‘ اس کی حکمت اور اس کی عدالت اور پھر سب سے بڑھ کر اس کی شان رحیمی ایسا ہر گز نہیں کرسکتی ۔ اس کے علم ‘ اس کی رحمت اور اس کے عدل کا تقاضا تو یہ تھا کہ وہ اپنے بندوں میں سے بعض برگزیدہ ہسیتوں کو رسول بنا کر بھیجے اور ان میں سے بعض رسولوں پر کتاب نازل کرے تاکہ یہ سب لوگ عوام الناس کا ہاتھ تھام کر انہیں اللہ کی طرف لے جائیں اور ان کی فطرت سلیمہ پر جو تہ بہ تہ پردے پڑجائیں انہیں اتاریں ۔ ان کے قلب ونظر کے جو دریچے بند ہوچکے ہیں انہیں از سر نو کھولیں اور وہ ان کی دعوت پر لبیک کہیں ۔ اس سلسلے میں یہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دی گئی کتاب کی مثال دی گئی اور پھر قرآن ایک شاہد عادل ہے ‘ جو ماقبل کی کتابوں کی تصدیق کرتا ہے ۔

اس طویل سبق کا خاتمہ ان لوگوں کو دھمکی دینے پر ہوتا ہے جو اللہ پر افتراء باندھتے ہیں اور جو یہ غلط دعوی کرتے ہیں کہ ان پر وحی نازل ہوئی ہے حالانکہ ایسا نہیں ہوا۔ وہ یہ دعوی کرتے ہیں کہ جس قسم کا کلام اللہ نازل کرتا ہے ویسا ہی کلام یہ لوگ بھی نازل کرسکتے ہیں اور یہ دعوے ایسے ہیں جو ہر پیغمبر کے مطابلے میں غلط مدعیان نبوت نے ہمیشہ کئے ہیں۔ بعض نے وحی کا دعوی کیا اور بعض نے نبوت کا دعوی کیا ۔ آخر میں مشرکین کا ایک کربناک منظر پیش کیا جاتا ہے ۔ یہ اس منظر کی ایک جھلک ہے جو آخر میں انہیں درپیش ہوگا ۔

(آیت) ” وَلَوْ تَرَی إِذِ الظَّالِمُونَ فِیْ غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلآئِکَۃُ بَاسِطُواْ أَیْْدِیْہِمْ أَخْرِجُواْ أَنفُسَکُمُ الْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْہُونِ بِمَا کُنتُمْ تَقُولُونَ عَلَی اللّہِ غَیْْرَ الْحَقِّ وَکُنتُمْ عَنْ آیَاتِہِ تَسْتَکْبِرُونَ (93) وَلَقَدْ جِئْتُمُونَا فُرَادَی کَمَا خَلَقْنَاکُمْ أَوَّلَ مَرَّۃٍ وَتَرَکْتُم مَّا خَوَّلْنَاکُمْ وَرَاء ظُہُورِکُمْ وَمَا نَرَی مَعَکُمْ شُفَعَاء کُمُ الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ أَنَّہُمْ فِیْکُمْ شُرَکَاء لَقَد تَّقَطَّعَ بَیْْنَکُمْ وَضَلَّ عَنکُم مَّا کُنتُمْ تَزْعُمُونَ (94) (6 : 93۔ 94)

” کاش تم ظالموں کو اس حالت میں دیکھ سکو جب کہ وہ سکرات موت میں ڈبکیاں کھا رہے ہوتے ہیں اور فرشتے ہاتھ بڑھا بڑھا کر کہہ رہے ہوتے ہیں کہ ” لاؤ“ نکالو اپنی جان ‘ آج تمہیں ان باتوں کی پاداش مین ذلت کا عذاب دیا جائے گا جو تم اللہ پر تہمت رکھ کر ناحق بکا کرتے تھے اور اس کی آیات کے مقابلے میں سرکشی دکھاتے تھے “ ۔ لو اب تم ایسے ہی تن تنہا ہمارے سامنے حاضر ہوگئے جیسا ہم نے تمہیں پہلی مرتبہ اکیلا پیدا کیا تھا ۔ جو کچھ ہم نے تمہیں دنیا میں دیا تھا ‘ وہ سب تم پیچھے چھوڑ آئے ہو ‘ اور اب ہم تمہارے ساتھ تمہارے ان سفارشیوں کو بھی نہیں دیکھتے جن کے متعلق تم سمجھتے تھے کہ تمہارے کام بنانے میں ان کا بھی کچھ حصہ ہے ۔ تمہارے آپس میں سب رابطے ٹوٹ گئے اور وہ سب تم سے گم ہوگئے جن کا تم زعم رکھتے تھے ۔ “

یہ نہایت ہی اعصاب شکن منظر ہے ۔ انسان دیکھتے ہی خوفزدہ ہوجاتا ہے ۔ اس منظر میں ان لوگوں کی حالت زار صاف صاف نظر آتی ہے جس میں وہ حیران وپریشان نظر آتے ہیں اور ان کی پشیمانی اور ان کی گوشمالی ہوتی ہوئی نظر آتی ہے ۔ یہ ہے جزاء ان کی سرکشی ‘ روگردانی اور تکذیب وافتراء کی ۔

136