(آیت) ” نمبر 71۔
اس سورة میں بار بار مضراب قل سے ضربات لگائی جارہی ہیں ۔ یہ نہایت ہی پرتاثیر طرز خطا ہے جس سے یہ تاثر دیا جانا مطلوب ہے کہ حلال و حرام کے حدود وقیود کے تعین کا اختیار صرف اللہ کو حاصل ہے اور رسول اللہ ﷺ تو محض مبلغ اور انجام بد سے ڈرانے والے ہیں ۔ اس انداز کلام سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ معاملہ نہایت ہی اہم ‘ بڑا اور خوفناک ہے ۔ یہ تصورات جو رسول خدا ﷺ پیش فرما رہے ہیں یہ ان کی ڈیوٹی ہے اور انہیں خدا کی جانب سے امر ہے کہ وہ ایسا کریں ۔
(آیت) ” قُلْ أَنَدْعُو مِن دُونِ اللّہِ مَا لاَ یَنفَعُنَا وَلاَ یَضُرُّنا “۔ (6 : 71)
اے نبی ﷺ ان سے پوچھو کیا ہم اللہ کو چھوڑ کر ان کو پکاریں جو نہ ہمیں نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان ؟ ۔ “
لوگ اللہ کے سوا اوروں کو پکارتے تھے اور ان سے امداد طلب کرتے تھے ۔ انکی اس حرکت کو برا سمجھتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اے نبی ﷺ ان سے صاف صاف کہہ دو کہ تم نے جو ان لوگوں کی اطاعت اختیار کر رکھی ہے وہ تمہارے نفع ونقصان کے مالک ہی نہیں ۔ تم ان لوگوں کو کیوں پکارتے ہو ؟ غیر اللہ سے مراد یہاں ‘ بت ‘ آستانے بھی ہیں ‘ درخت وپتھر بھی ہیں ‘ روحانی مخلوق اور فرشتے بھی ہیں اور انسان و شیاطین بھی ہیں ۔ یہ سب کے سب اس لحاظ سے برابر ہیں کہ ان کے قبضے میں کسی کا نفع ونقصان نہیں ہے ۔ وہ اس پوزیشن سے بہت دور ہیں کہ کسی کو نفع ونقصان پہنچا سکیں ۔ اس دنیا میں تمام حرکات و سکنات اور سب کا نفع ونقصان اللہ کی تقدیر کے مطابق ظاہر ہوتا ہے ۔ اللہ کا اذن نہ ہو تو کوئی واقعہ نہیں ہو سکتا اور جو کچھ واقعہ ہوجاتا ہے وہ اللہ کی تقدیر اور راضا کے مطابق ہوتا ہے ‘ اللہ کی مشیت کے مطابق ہوتا ہے ۔
غیر اللہ کو پکارنا ‘ غیر اللہ کی بندگی کرنا اور غیر اللہ سے استعانت طلب کرنا قابل نفرت کام ہے ۔ غیر اللہ کے سامنے عاجزی کرنا اور اللہ کے سوا دوسروں کے لئے تمام ایسے نظریات اور اعمال کھوٹے ہیں ۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ تردید ونکیر ان باتوں کو دیکھ کر ہو جس پر مشرکین عمل پیرا تھے یا یہ تردید ان کی اس تجویز کی تردید کرتے ہوئے آئی ہو جس میں وہ لوگ تجویز کرتے تھے کہ ہم حضور ﷺ کے خدا کی عبادت شروع کردیں گے بشرطیکہ حضور ﷺ ہمارے الہوں کی عبادت میں شریک ہوں ۔ بہرحال یہ ازخود تردید ہو یا ان کی کسی تجویز کا رد ہو دونوں صورتوں میں مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ مشرکین کے ساتھ مکمل نظریاتی قطع تعلق کرلیں ۔ مشرکین کے نظریات اور عمل دونوں عقل انسانی کی رو سے نہایت کمزور اور بودے ہیں بشرطیکہ روشن فکری کے ماحول میں عقل کو دعوت فکر دی جائے اور رسم و رواج اور موروثی روایات کی تہوں کے نیچے عقل دبی ہوئی نہ ہو جیسا کہ حضور ﷺ کے دور میں لوگوں کا شعور ماحول میں دبا ہو اتھا ۔
ان مشرکانہ معتقدات اور اعمال کو یہاں ان ہدایات کی روشنی میں پیش کیا جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو دیں تاکہ اسلامی ہدایات کے بالمقابل ان کا کھوٹ اور ان کا قابل نفرت ہونا اچھی طرح واضح ہوجائے ‘ کیونکہ اللہ نے یہ ہدایت دی ہے کہ صرف اللہ وحدہ کی عبادت کی جائے صرف اسے ہی الہ اور حاکم تسلیم کیا جائے اور بلا شرکت غیرے اس کے تجویز کردہ نظام زندگی کو قبول کیا جائے ۔ ذرا انداز کلام ملاحظہ ہو ۔ ” اے نبی ﷺ ان سے پوچھو کیا ہم اللہ کو چھوڑ کر ان کو پکاریں جو نہ ہمیں نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان۔ “ اگر ہم ایسا کریں تو یہ صحیح معنوں میں ارتداد ہوگا ‘ الٹے پاؤں پھرنا ہوگا ‘ رجعت پسندی ہوگی ۔ ترقی پسندی اور آگے بڑھنے کے بجائے پیچھے لوٹنا ہوگا ‘ کیونکہ اسلام نام ہی ترقی پسندی کا ہے ۔
(آیت) ” وَنُرَدُّ عَلَی أَعْقَابِنَا بَعْدَ إِذْ ہَدَانَا اللّہُ “ (6 : 71)
” اور جب اللہ ہمیں سیدھا راستہ دکھا چکا ہے تو کیا اب ہم الٹے پاؤں پھرجائیں ؟ ۔
اس کے بعد ایک اور متحرک اور مشخص منظر اسکرین پر آتا ہے ۔
(آیت) ” کَالَّذِیْ اسْتَہْوَتْہُ الشَّیَاطِیْنُ فِیْ الأَرْضِ حَیْْرَانَ لَہُ أَصْحَابٌ یَدْعُونَہُ إِلَی الْہُدَی ائْتِنَا “۔ (6 : 71)
” کیا ہم اپنا حال اس شخص کا سا کرلیں جسے شیطانوں نے صحرا میں بھٹکا دیا ہو اور وہ حیران و سرگرداں پھر رہا ہو ‘ درآں حالیکہ اس کے ساتھی اسے پکار رہے ہوں کہ ادھر آؤ ‘ سیدھی راہ موجود ہے ؟۔ “
ضلالت وگمراہی اور حیرانی و پریشانی کا یہ ایک متحرک اور جیتا جاگتا منظر ہے جو شخص عقیدہ توحید کے بعد شرک اختیار کرتا ہے ۔ جس کا ضمیر رب واحد اور ارباب متفرقہ کے درمیان گومگو کی کیفیت میں مبتلا ہوتا ہے ‘ وہ عموما ایسی ہی کیفیت سے دو چار ہوتا ہے وہ ذہنی کشمکش میں مبتلا ہوتا ہے اور فیصلہ نہیں کر پاتا کہ کون سی راہ اختیار کرے ۔ غرض یہ ایک ایسی بدبخت مخلوق خدا کا منظر ہے ” جسے شیطان نے صحرا میں بھٹکا کدیا ہو ۔ لفظ استہوتہ اپنے مفہوم کی تصویر کشی خود ہی کردیتا ہے ۔ اگر وہ ایک راہ لیتا تو کوئی بات نہ تھی ۔ کسی ایک راہ پر پڑجاتا چاہے وہ گمراہی کی راہ ہوتی ‘ لیکن یہاں وہ جس صورت حال سے دوچار ہے وہ یہ ہے کہ دوسری جانب سے اس کے کچھ ساتھی ہدایت یافت ہیں اور وہ اسے راہ راست کی طرف بلاتے ہیں اور بار بار پکارتے ہیں کہ آؤ بھائی ادھر آؤ ۔ وہ اس شیطانی بےراہ روی اور دوستوں کی پکار کے درمیان حیران وپریشان کھڑا ہے ۔ فیصلہ نہیں کرسکتا کہ کدھر جائے اور دونوں پکارنے والوں میں سے کس کی راہ کا انتخاب کرے ۔ وہ اس نفسیاتی کشمکش میں مبتلا ہے اور قرآن کے الفاظ کے درمیان سے اس شخص کی ذہنی اذیت واضح طور پر نظر آتی ہے ۔
میں جب بھی اس آیت کی تلاوت کرتا تو سوچتا رہتا کہ اس ذہنی کھینچا تانی ‘ کشمکش اور تذبذب کی وجہ سے انسان کس عذاب میں مبتلا ہوتا ہوگا ۔ ایسے افراد کا ایک ذہنی نقشہ سامنے آجاتا ہے لیکن یہ صرف ذہنی تصور ہی ہوتا ہے جبکہ عملی زندگی میں ‘ ہمارے سامنے بعض لوگوں کے حقیقی حالات بھی آئے ہیں جن پر یہ منظر پوری طرح چسپاں ہوتا ہے اور وہ لوگ اس عذاب میں مبتلا نظر آتے ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اسلامی نظریہ حیات کو تو پالیا تھا اور اس میں اپنی ذہنی وعملی بساط کے مطابق معرفت بھی حاصل کی مگر اس کے بعد وہ الٹے پاؤں پھرے اور کھوٹے اور جھوٹے الہوں کی پرستش اور اطاعت کرنے لگے ۔ یہ اطاعت انہوں نے خوف اور لالچ کی وجہ سے کی ۔ میں نے دیکھا کہ وہ ایسی ہی کربناک ذہنی کشمکش میں مبتلا ہیں ۔ ایسے لوگوں کے عملی حالات کو دیکھ کر معلوم ہوا کہ اس آیت کا حقیقی مفہوم کیا ہے اور قرآن کریم کا یہ اندازبیاں کس قدر جامع اور موثر ہے ۔
ابھی یہ خوفناک منظر آنکھوں کے سامنے تھا اور اس برے انجام کو دیکھ کر دل مومن کانپ ہی رہا تھا کہ صراط مستقیم دکھا دیا جاتا ہے اور فیصلہ کن حکم دیا جاتا ہے ۔
(آیت) ” قُلْ إِنَّ ہُدَی اللّہِ ہُوَ الْہُدَیَ وَأُمِرْنَا لِنُسْلِمَ لِرَبِّ الْعَالَمِیْنَ (71) وَأَنْ أَقِیْمُواْ الصَّلاۃَ وَاتَّقُوہُ (6 : 72۔ 71)
” کہو ” حقیقت میں صحیح راہنمائی تو صرف اللہ ہی کی رہنمائی ہے اور اس کی طرف سے ہمیں یہ حکم ملا ہے کہ مالک کائنات کے آگے سراطاعت خم کر دو “ ۔ نماز قائم کرو اور اس کی نافرمانی سے بچو۔ “
نہایت ہی مناسب نفسیاتی حالات میں یہ فیصلہ کن بات ہے ۔ اس لئے کہ جب انسان یہ مشاہدہ کرتا ہے کہ اس کے سامنے حیرانی اور کشمکش کی ایک تصویر چل رہی ہے ‘ اسے کوئی سکون وقرار حاصل نہیں ہے اور وہ سخت ترین اذیت کا شکار ہے تو ایسے حالات کو دیکھ کر کوئی بھی قاری اس بات کے لئے آمادہ ہوتا ہے کہ وہ فیصلہ کن اور مطمئن کردینے والی بات کو قبول کرے اور راحت و سکون کی تلاش کرے ۔ یہ فیصلہ کن بات کیا ہے ؟ یہ ہے سچائی ۔ ” راہنمائی تو صرف اللہ کی راہنمائی ہے ۔ “ ھدی اللہ ھو الھدی “ کی ترکیب سے بھی یہ بات معلوم ہوتی ہے کجہ یہ بات فیصلہ کن ہے اور یہ یقینی بات ہے کہ اللہ کی راہنمائی ہی حقیقی راہنمائی ہے ۔
انسان نے جب بھی اللہ کی ہدایت سے منہ موڑا وہ آوارہ صحرا ہوا ۔ نیز اگر انسان اللہ کی راہنمائی کا کچھ حصہ تبدیل کرکے اس کی جگہ اپنے تصورات نافذ کرے ‘ اپنے فارمولے آزمائے ‘ اپنی جانب سے قوانین وضع کرے ‘ اپنے طور طریقے اپنائے ‘ خود ساختہ پیمانے رائج کرے اور یہ سب کام علم الہی ‘ ہدایت الہی اور اللہ کی روشن کتاب کی راہنمائی کے دائرے سے باہر نکل کر کرے تو وہ کبھی بھی راہ راست نہ پائے گا اور بےکنار صحرا ہی میں پھرتا رہے گا ۔
اس میں شک نہیں کہ حضرت انسان کو اللہ تعالیٰ نے بعض ایسی قوتیں عطا کی ہیں جن کے ذریعے وہ اس کائنات کے بعض نوامیس فطرت تک رسائی حاصل کرچکا ہے ‘ کائنات کی بعض قوتوں کو اس نے مسخر کرلیا ہے ‘ اس کرہ ارض کا نظام چلانے کے لئے وہ ان قوتوں سے استفادہ کر رہا ہے اور اس دنیا کی زندگی کو ترقی دے رہا ہے لیکن اس کو اللہ نے اس قدر وسیع علم اور قوت نہیں دی ہے کہ وہ اس کائنات کی تمام قوتوں اور تمام حقیقتوں کی تہہ تک پہنچ سکے ‘ نہ یہ حضرت انسان اس عالم غیب کی وسعتوں کے اندر داخل ہو سکتا ہے جو اسے ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہیں ۔ خود انسان کی عقل ، انسان کی سوچ ‘ اس کے جسم کے مختلف اعضاء کا کام کرنا اور اس کے اسباب اور ان اعضاء کا اس طرح مربوط طریقے پر کام کرنا ‘ یہ سب امور ایسے ہیں جو انسان کے لئے ابھی تک عالم غیب کے حصے ہیں ۔
یہی وجہ ہے کہ خود اپنی ذات کے بارے میں بھی انسان خدائی ہدایت اور راہنمائی کا محتاج ہے ۔ انسان کی زندگی ‘ اس کے نظریات ‘ اس کی تخلیق ونشوونما ‘ زندگی کی اقدار اور پیمانے ‘ زندگی کا نظام اور طور طریقے ‘ زندگی کے ضوابط اور قوانین ایسے امور ہیں جن میں انسان کو اللہ کی راہنمائی درکار ہے تاکہ ان چیزوں کو اس کی زندگی میں نافذ کیا جاسکے اور اس کی عملی زندگی پر ان خدائی ہدایات کا نفاذ ہو ۔
یہ انسان جب اللہ کی ہدایت کی طرف لوٹ آتا ہے اور ہدایت کو قبول کرلیتا ہے تو وہ صحیح معنوں میں ہدایت یافتہ انسان قرار پاتا ہے ۔ کیونکہ اللہ کی ہدایت ہی صحیح ہدایت ہے جب بھی وہ اللہ کی ہدایت سے دور ہوتا ہے یا اللہ کی راہنمائی میں سے بعض اجزاء سے انحراف کرتا ہے یا اس میں سے بعض اجزاء کو تبدیل کرکے اس کے اندر خود ساختہ اجزاء پیوست کردیتا ہے تو وہ گمراہ ہوجاتا ہے اس لئے کہ جو بات اللہ کی راہنمائی پر مبنی نہ ہو تو وہ ضلالت ہے کیونکہ کوئی تیسرا اور درمیانی راستہ موجود نہیں ہے ۔ (فماذا بعد الحق الا الضلال) ” سچائی کے بعد گمراہی کے سوا اور ہے کیا ؟ “ انسان نے اپنی طویل تاریخ میں اس گمراہی کا مزہ خوب چکھا ہے اس کی وجہ سے اس نے بےحد مصائب جھیلے ہیں اور آج تک انسانیت ان مصائب میں مبتلا ہے ۔ انسانی تاریخ نے اپنا یہ حتمی فیصلہ دے دیا ہے کہ اس کا یہی انجام ہوگا ‘ جب بھی وہ اللہ کی راہنمائی سے انحراف کرے گی ۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہیں اور اس کا انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ نیز اللہ کا حکم بھی یہی ہے اور اللہ کی جانب سے اطلاع بھی یہی ہے ۔ اس حقیقت کی سوا اور کوئی حقیقت نہیں ہے ۔ اگرچہ دعوی بہت سے حقائق کا کیا جاتا ہے لیکن تاریخ نے کسی کو تصدیق نہیں کی ۔ جو لوگ خدائی راہنمائی سے انحراف کی وجہ سے انسانی مصائب کا مطالعہ کرنا چاہتے ہیں انہیں کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ وہ اپنے اردگرد پھیلے ہوئے معاشروں کا مطالعہ کریں ۔ ایک عقلمند سب کچھ چشم بینا سے دیکھ سکتا ہے ۔ وہ ان مصائب کو ہاتھ سے چھو سکتا ہے ۔ یہ محسوس ہیں اور اس پوری دنیا کے عقلمند لوگ ان کی بابت چیخ و پکار کر رہے ہیں۔
چناچہ سیاق کلام میں مکرر حکم دیا جاتا ہے کہ اللہ کے سامنے سرتسلیم خم کر دو صرف اللہ کے سامنے ۔ اسی سے ڈرو اور اسی کی بندگی اور عبادت کرو ۔ وامرنا۔۔۔۔۔۔ اور اس کی طرف سے ہمیں حکم ملا ہے کہ مالک کائنات کے آگے سر اطاعت خم کر دو اور نماز قائم کرو اور اس کی نافرمانی سے بچو۔ “
یعنی اے محمد اعلان کر دو کہ راہنمائی اور ہدایت تو صرف اللہ کی راہنمائی اور ہدایت ہے اور یہی وجہ ہے کہ اللہ نے حکم دیا ہے کہ اللہ رب العالمین ہی کے آگے سرتسلیم خم کر دو ‘ اس لئے کہ عالمین اسی کے آگے جھکتے ہیں ۔ یہ پوری کائنات اس کے آگے پابند حکم ہے ‘ پس کوئی جواز نہیں ہے کہ اس پوری کائنات کے اندر انسان جیسی عقلمند مخلوق اللہ رب العالمین کے آگے نہ جھکے اور اللہ کی ملکیت اور ربوبیت کا انکار کردے اور آسمان و زمین اور پوری کائنات سے مختلف روش اختیار کرے ۔
یہاں پورے جہان اور اس کی ربوبیت کا ذکر بےمحل نہیں ہے ۔ یہ وہ حقیقت ہے جسے تسلیم کئے بغیر بات بنتی ہی نہیں ۔ اس کا اعتراف کرنا ہی پڑے گا یہ کہ پوری دنیا میں مشہود اور غائب دونوں شامل ہیں اور وہ قوانین قدرت جن کے مطابق یہ رواں دواں ہے ان سے یہ کائنات شمہ بھر انحراف بھی نہیں کرسکتی ۔ اس لئے کہ اللہ رب العالمین ہے ۔ جہاں تک انسان کا تعلق ہے اپنی طبیعی زندگی کے اندر وہ بھی ان نوامیس فطرت کا پابند ہے ۔ انسان کی جسمانی زندگی ان ضوابط کے اندر جکڑی ہوئی ہے اور وہ ان ضوابط کا مطیع ہے ۔ ان کے دائرے سے خارج نہیں ہو سکتا ۔ لہذا انسان کا فرض ہے کہ وہ اپنی اس محدود اختیاری زندگی کے اندر بھی اللہ کے ضوابط کی پابندی کرے اور یہ اس کے لئے سخت آزمائش ہے ۔ اس آزمائش میں دیکھا جائے گا کہ وہ راہ ہدایت پالیتا ہے یا صحرائے ضلالت کی طرف جانکلتا ہے ۔ اگر وہ خدائی ضوابط کی اس طرح پابندی کرے جس طرح وہ اپنی طبیعی زندگی کے اندر مطیع نوامیس الہی ہے تو اس کی زندگی خوش اسلوبی سے گزرے گی اور اس کا طرز عمل اور اس کی طبیعی زندگی باہم متناسق ہوں گے ۔ اس کا جسم اس کی روح کا ساتھی ہوگا اور اس کی دنیا آخرت کے ساتھ جڑی ہوئی ہوگی ۔ تفصیلات کے لئے دیکھئے (امیر جماعت اسلامی پاکستان کی کتاب رسالہ دینیات)
یہ کہنا کہ مجھے اور تمام مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ مالک حقیقی کے سامنے سرتسلیم خم کردیں ‘ اس لئے انہوں نے سرتسلیم خم کردینے کی روش اختیار کی ہے ، ایک نہایت ہی موثر ار مفرح انداز گفتگو ہے اور تا قیامت جو لوگ بھی راہ تسلیم ورضا کو اختیار کریں گے وہ اپنے آپ کو براہ راست امر الہی کا تعمیل کنندہ سمجھیں گے ۔
اب وہ مامورات آتے ہیں جو اعلان تسلیم ورضا کے بعد کا لائحہ عمل ہیں۔
(آیت) ” وَأَنْ أَقِیْمُواْ الصَّلاۃَ وَاتَّقُوہُ (6 : 72) ” نماز قائم کرو اور اس کی نافرمانی سے بچو “۔
اصل فریضہ یہ ہے کہ اللہ کی ربوبیت کو تسلیم کیا جائے ۔ اس کی حاکمیت کو تسلیم کیا جائے اور اس کی رضا کے مطابق اپنے آپ کو درست کیا جائے ۔ اس کے بعد پھر عبادات کا درجہ آتا ہے اور نفسیاتی اصلاح کا کام شروع ہوتا ہے تاکہ تسلیم ورضا کی اساس پر عملی زندگی کا نقشہ فائع ہو سکے اور عملی زندگی اور تفصیلی نظام زندگی اس وقت تک استحکام حاصل نہیں کرسکتا جب تک اس کی تعمیر مستحکم بنیادوں پر نہ ہو ۔
اس لہر کی آخری ضرب اسلامی نظریہ حیات کے اساسی حقائق کو اپنے اندر لئے ہوئے ہے ۔ یہ حقائق اسلامی نظریہ حیات کے اصلی اور بنیادی عوامل ہیں ۔ مثلا حشر ونشر ‘ تخلیق کائنات ‘ حاکمیت الہیہ ‘ علم غیب اور علم شہادت اور یہ کہ اللہ حکیم وخبیر ہے ۔
آیت 71 قُلْ اَنَدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَا لاَ یَنْفَعُنَا وَلاَ یَضُرُّنَا یہ بت کسی کو کچھ نفع یا نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ یہ تو خود اپنی حفاظت بھی نہیں کرسکتے۔ خود پر بیٹھی ہوئی مکھی تک نہیں اڑا سکتے۔ ان کو پکارنے کا کیا فائدہ ؟ ان کے سامنے سجدہ کرنے سے کیا حاصل ؟ بتوں کے بارے میں تو یہ بات خیربہت ہی واضح ہے ‘ لیکن ان کے علاوہ بھی پوری کائنات میں کوئی کسی کے لیے خیر کی کچھ قدرت رکھتا ہے نہ شر کی۔ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ الاَّ باللّٰہِ کا مفہوم یہی ہے۔ یہ یقین جب انسان کے دل کی گہرائیوں میں پوری طرح جاگزیں ہوجائے تب ہی توحید مکمل ہوتی ہے ‘ جس کے بعد انسان کسی کے آگے سر جھکا کر خواہ مخواہ اپنی عزت نفس کا سودا نہیں کرتا۔ اسی نکتے کی وضاحت رسول اللہ ﷺ نے حضرت عبد اللہ بن عباس رض کو مخاطب کر کے اس طرح فرمائی تھی : اس بات کو اچھی طرح جان لو کہ اگر دنیا کے تمام انسان مل کر چاہیں کہ تمہیں کوئی فائدہ پہنچا دیں تو اس کے سوا کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے جو اللہ نے تمہارے مقدر میں لکھ دیا ہے ‘ اور اگر تمام انسان مل کر چاہیں کہ تمہیں کوئی نقصان پہنچا دیں تو اس کے سوا کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے جو اللہ نے تمہارے مقدر میں لکھ دیا ہے 1۔ لہٰذا یک در گیر و محکم بگیر کے مصداق مدد کے لیے پکارو تو اسی ایک اللہ کو پکارو۔ کسی غیر اللہ کو پکارنے ‘ کسی دوسرے سے سوال کرنے ‘ کسی اور سے ڈرنے ‘ التجائیں کرنے ‘ استغاثہ کرنے کا کیا فائدہ ؟وَنُرَدُّ عَلٰٓی اَعْقَابِنَا بَعْدَ اِذْ ہَدٰٹنَا اللّٰہُ کَالَّذِی اسْتَہْوَتْہُ الشَّیٰطِیْنُ فِی الْاَرْضِ حَیْرَانَص لَہٗٓ اَصْحٰبٌ یَّدْعُوْنَہٗٓ اِلَی الْہُدَی اءْتِنَا ط یہاں جماعتی زندگی کی برکت اور انفرادی زندگی کی قباحت کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ اگر آپ اکیلے ہوں ‘ کہیں بھٹک گئے ہوں ‘ تو آپ کے لیے دوبارہ سیدھے راستے پر آنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔ لیکن جماعتی زندگی میں دوسرے ساتھیوں کے مشورے اور ان کی راہنمائی سے ہر فردکو اپنی سمت کے سیدھا رکھنے میں آسانی ہوتی ہے۔ جیسے کہ سورة التوبہ میں فرمایا گیا : یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَکُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ۔ اے اہل ایمان ‘ اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور ساتھ رہوصادقین سچوں کے۔ بعض اوقات انسان بڑی آزمائش میں پھنس جاتا ہے۔ وہ حرام کو حرام سمجھتا ہے اور یہ بھی سمجھتا ہے کہ اس کو اختیار کرنا انتہائی تباہ کن ہے۔ دوسری طرف اس کی مجبوریاں ہیں ‘ بچوں کی محرومیاں ہیں ‘ اہل خانہ کا دباؤ ہے۔ ایسی حالت میں اس کے لیے درست فیصلہ کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ اس کیفیت میں اس کے حرام میں پڑنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اگر ایسے وقت میں اس کو نیک دوست احباب کی معیت حاصل ہو تو وہ نہ صرف اس کو صحیح مشورہ دیتے ہیں بلکہ اس کا ہاتھ تھام کر سہارا بھی دیتے ہیں۔
اسلام کے سوا سب راستوں کی منزل جہنم ہے مشرکوں نے مسلمانوں سے کہا تھا کہ ہمارے دین میں آجاؤ اور اسلام چھوڑ دو اس پر یہ آیت اتری کہ کیا ہم بھی تمہاری طرح بےجان و بےنفع و نقصان معبودوں کو پوجنے لگیں ؟ اور جس کفر سے ہٹ گئے ہیں کیا پھر لوٹ کر اسی پر آجائیں ؟ اور تم جیسے ہی ہوجائیں ؟ بھلا یہ کیسے ہوسکتا ہے ؟ اب تو ہماری آنکھیں کھل گئیں صحیح راہ مل گئی اب اسے کیسے چھوڑ دیں ؟ اگر ہم ایسا کرلیں تو ہماری مثال اس شخص جیسی ہوگی جو لوگوں کے ساتھ سیدھے راستے پر جا رہا تھا مگر راستہ گم ہوگیا شیطان نے اسے پر یسان کردیا اور ادھر ادھر بھٹکانے لگا اس کے ساتھ جو راستے پر تھے وہ اسے پکارنے لگے کہ ہمارے ساتھ مل جا ہم صحیح راستے پر جا رہے ہیں یہی مثال اس شخص کی ہے جو آنحضرت ﷺ کو جان اور پہچان کے بعد مشرکوں کا ساتھ دے۔ آنحضرت ﷺ ہی پکارنے والے ہیں اور اسلام ہی سیدھا اور صحیح راستہ ہے، ابن عباس فرماتے ہیں یہ مثال اللہ تعالیٰ نے معبودان باطل کی طرف بلانے والوں کی بیان فرمائی ہے اور ان کی بھی جو اللہ کی طرف بلاتے ہیں، ایک شخص راستہ بھولتا ہے وہیں اس کے کان میں آواز آتی ہے کہ اے فلاں ادھر آ سیدھی راہ یہی ہے لیکن اس کے ساتھی جس غلط راستے پر لگ گئے ہیں وہ اسے تھپکتے ہیں اور کہتے ہیں یہی راستہ صحیح ہے اسی پر چلا چل۔ اب اگر یہ سچے شخص کو مانے گا تو راہ راست لگ جائے گا ورنہ بھٹکتا پھرے گا۔ اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کرنے والے اس امید میں ہوتے ہیں کہ ہم بھی کچھ ہیں لیکن مرنے کے بعد انہیں معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ کچھ نہ تھے اس وقت بہت نادم ہوتے ہیں اور سوائے ہلاکت کے کوئی چیز انہیں دکھائی نہیں دیتی، یعنی جس طرح کسی جنگ میں گم شدہ انسان کو جنات اس کا نام لے کر آوازیں دے کر اسے اور غلط راستوں پر ڈال دیتے ہیں جہاں وہ مارا مارا پھرتا ہے اور بالآخر ہلاک اور تباہ ہوجاتا ہے اسی طرح جھوت معبودوں کا پجاری بھی برباد ہوجاتا ہے، ہدایت کے بعد گمراہ ہونے والے کی یہی مثال ہے جس راہ کی طرف شیطان اسے بلا رہے ہیں وہ تو تباہی اور بربادی کی راہ ہے اور جس راہ کی طرف اللہ بلا رہا ہے اور اس کے نیک بندے جس راہ کو سجھا رہے ہیں وہ ہدایت ہے گو وہ اپنے ساتھیوں کے مجمع میں سے نہ نکلے اور انہیں ہی راہ راست پر سمجھتا رہے اور وہ ساتھی بھی اپنے تئیں ہدایت یافتہ کہتے رہیں۔ لیکن یہ قول آیت کے لفظوں سے مطابق نہیں کیونکہ آیت میں موجد ہے کہ وہ اسے ہدایت کی طرف بلاتے ہیں پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ ضلالت ہو ؟ حیران پر زبر حال ہونے کی وجہ سے ہے صحیح مطلب یہی ہے کہ اس کے ساتھی جو ہدایت پر ہیں اب اسے غلط راہ پر دیکھتے ہیں تو اس کی خیر خواہی کے لئے پکار پکار کر کہتے ہیں کہ ہمارے پاس آ جا سیدھا راستہ یہی ہے لیکن یہ بدنصیب ان کی بات پر اعتماد نہیں کرتا بلکہ توجہ تک نہیں کرتا، سچ تو یہ ہے کہ ہدایت اللہ کے قبضے میں ہے، وہ جسے راہ دکھائے اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا، چناچہ خود قرآن میں ہے کہ تو چاہے ان کی ہدایت پر حرص کرے لیکن جسے اللہ بھٹکا دے اسے وہی راہ پر لاسکتا ہے ایسوں کا کوئی مددگار نہیں، ہم سب کو یہی حکم کیا گیا ہے کہ ہم خلوص سے ساری عبادتیں محض اسی وحدہ لا شریک لہ کے لئے کریں اور یہ بھی حکم ہے کہ نمازیں قائم رکھیں اور ہر حال میں اس سے ڈرتے رہیں قیامت کے دن اسی کے سامنے حشر کیا جائے گا سب وہیں جمع کئے جائیں گے، اسی نے آسمان و زمین کو عدل کے ساتھ پیدا کیا ہے وہی مالک اور مدبر ہے قیامت کے دن فرمائے گا ہوجا تو ہوجائے گا ایک لمحہ بھی دیر نہ لگے گی یوم کا زبر یا تو وانقوہ پر عطف ہونے کی وجہ سے ہے یعنی اس دن سے ڈرو جس دن اللہ فرمائے گا ہو اور ہوجائے گا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یوم کا زبر خلق السموات والارض پر عطف ہونے کی بنا پر ہو تو گویا ابتدا پیدائش کو بیان فرما کر پھر دوبارہ پیدائش کو بیان فرمایا یہی زیادہ مناسب ہے، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ فعل مضمر ہو یعنی اذکر اور اس وجہ سے یوم پر زبر آیا ہو، اس کے بعد کے دونوں جملے محلاً مجرور ہیں، پس یہ دونوں جملے بھی محلاً مجرور ہیں۔ ان میں پہلی صفت یہ ہے کہ اللہ کا قول حق ہے رب کے فرمان سب کے سب سچ ہیں، تمام ملک کا وہی اکیلا مالک ہے، سب چیزیں اسی کی ملکیت ہیں یوم ینفخ میں یوم ممکن ہے کہ یوم یقول کا بدل ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ولہ الملک کا ظرف ہو جیسے اور آیت میں ہے آیت (لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ) 40۔ غافر :16) آج کس کا ملک ہے ؟ صرف اللہ اکیلے غالب کا اور جیسے اس آیت میں ارشاد ہوا ہے آیت (اَلْمُلْكُ يَوْمَىِٕذِۨ الْحَقُّ للرَّحْمٰنِ ۭ وَكَانَ يَوْمًا عَلَي الْكٰفِرِيْنَ عَسِيْرًا) 25۔ الفرقان :26) یعنی ملک آج صرف رحمان کا ہے اور آج کا دن کفار پر بہت سخت ہے اور بھی اس طرح کی اور اس مضمون کی بہت سی آیتیں ہیں بعض کہتے ہیں صور جمع ہے صورۃ کی جیسے سورة شہر پناہ کو کہتے ہیں اور وہ جمع ہے سورة کی لیکن صحیح یہ ہے کہ مراد صور سے قرن ہے جسے حضرت اسرافیل پھونکین گے، امام بن جریر بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں حضور کا ارشاد ہے کہ حضرت اسرافیل صور کو اپنے منہ میں لئے ہوئے اپنی پیشانی جھکائے ہوئے حکم الٰہی کے منتظر ہیں۔ مسند احمد میں ہے کہ ایک صہابی کے سوال پر حضور نے فرمایا صور ایک نر سنگھے جیسا ہے جو پھونکا جائے گا، طبرانی کی مطولات میں ہے حضور فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کی پیدائش کے بعدصور کو پیدا کیا اور اسے حضرت اسرافیل کو دیا وہ اسے لئے ہوئے ہیں اور عرش کی طرف نگاہ جمائے ہوئے ہیں کہ کب حکم ہو اور میں اسے پھونک دوں۔ حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں میں نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ صور کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا ایک نرسنگھا ہے میں نے کہا وہ کیسا ہے ؟ آپ نے فرمایا بہت ہی بڑا ہے والالہ اس کے دائرے کی چوڑائی آسمان وہ زمین کے برابر ہے اس میں سے تین نفحے پھونکے جائیں گے، پہلا گھبراہٹ کا دوسرا بیہوشی کا تیسرا رب العلمین کے سامنے کھڑے ہونے کا۔ اول اول جناب باری حضرت اسرافیل کو صور پھونکنے کا حکم دے گا وہ پھونک دیں گے جس سے آسمان و زمین کی تمام مخلوق گھبرا اٹھے گی مگر جسے اللہ چاہے یہ صور بحکم رب دیر تک برابر پھونکا جائے گا اسی طرف اشارہ اس آیت میں ہے و ما ینظر ھو لاء الا صبیحتہ واہدۃ مالھا من فوق یعنی انہیں صرف بلند زور دار چیخ کا انتظار ہے پہاڑ اس صور سے مثل بادلوں کے چلنے پھرنے لگیں گے پھر ریت ریت ہوجائیں گے زمین میں بھونچال آجائے گا اور وہ اس طرح تھر تھرانے لگے گی جیسے کوئی کشتی دریا کے بیچ زبردست طوفان میں موجوں سے ادھر ادھر ہو رہی ہو اور غوطے کھا رہی ہو۔ مثل اس ہانڈی کے جو عرش میں لٹکی ہوئی ہے جسے ہوائیں ہلا جلا رہی ہیں اسی کا بیان اس آیت میں ہے یوم ترجف الراجفتہ الخ، اس دن زمین جنبش میں آجائے گی اور بہت ہی ہلنے لگے گی اس کے پیچھے ہی پیچھے لگنے والی آجائے گی دل دھرکنے لگیں گے اور کلیجے الٹنے لگیں گے لوگ ادھر ادھر گرنے لگیں گے مائیں اپنے دودھ پیتے بچوں کو بھول جائیں گی، حاملہ عورتوں کے حمل گرجائیں گے بجے بوڑھے ہوجائیں گے شیاطین مارے گھبراہٹ اور پریشانی کے بھاگتے بھاگتے زمین کے کناروں پر آجائیں گے، یہاں سے فرشتے انہیں مار مار کر ہٹائیں گے، لوگ پر یسان حال حواس باختہ ہوں گے کوئی جائے پناہ نظر نہ آئے گی امر الٰہی سے بچاؤ نہ ہو سکے گا ایک دوسرے کو آوازیں دیں گے لیکن سب اپنی اپنی مصیبت میں پڑے ہوئے ہوں گے کہ ناگہاں زمین پھتنی شروع ہوگی کہیں ادھر سے پھٹی کہیں ادھر سے پھتی اب تو ابتر حالت ہوجائے گی کلیجہ کپکپانے لگے گا دل الٹ جائے گا اور اتنا صدرمہ اور غم ہوگا جس کا اندازہ نہیں ہوسکتا، جو آسمان کی طرف نظر اٹھائیں گے تو دیکھیں گے کہ گھل رہا ہے اور وہ بھی پھٹ رہا ہے ستارے جھڑ رہے ہیں سورج چاند بےنور ہوگیا ہے، ہاں مردوں کو اس کا کچھ علم نہ ہوگا حضرت ابوہریرہ نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ قرآن کی آیت میں جو فرمایا گیا ہے ففذع من فی السموات و من فی الارض الا من شاء اللہ یعنی زمین و آسمان کے سب لوگ گھبرا اٹھیں گے لیکن جنہیں اللہ چاہے اس سے مراد کون لوگ ہیں ؟ آپ نے فرمایا یہ شہید لوگ ہیں کہ وہ اللہ کے ہاں زندہ ہیں روزیاں پاتے ہیں اور سب زندہ لوگ گھبراہٹ میں ہوں گے لیکن اللہ تعلای انہیں پریشانی سے محفوظ رکھے گا یہ تو عذاب ہے جو وہ اپنی بدترین مخلوق پر بھیجے گا، اسی کا بیان آیت (يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّخَلَقَ مِنْھَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيْرًا وَّنِسَاۗءً) 4۔ النسآء :1) میں ہے یعنی اے لوگو اپنے رب سے ڈرویاد رکھو قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے جس دن تم اسے دیکھ لو گے ہر ایک دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے سے غافل ہوجائے گی ہر حمل والی کا حمل گرجائے گا تو دیکھا جائے گا کہ سب لوگ بیہوش ہوں گے حالانکہ وہ نشہ پئے ہوئے نہیں بلکہ اللہ کے سخت عذابوں نے انہیں بدحواس کر رکھا ہے یہی حالت رہے گی جب تک اللہ چاہے بہت دیر تک یہی گھبراہٹ کا عالم رہے گا پھر اللہ تبارک و تعالیٰ حضرت جبرائیل کو بیہوشی کے نفحے کا حکم دے گا اس نفحہ کے پھونکتے ہی زمین و آسمان کی تمام مخلوق بیہوش ہوجائیں گی مگر جسے اللہ چاہے اور اچانک سب کے سب مرجائیں گے۔ حضرت ملک الموت اللہ تعالیٰ کے حضور میں حاضر ہو کر عرض کریں گے کہ اے باری تعالیٰ زمین آسمان کی تمام مخلوق مرگئی مگر جسے تو نے چاہا، اللہ تعالیٰ باوجود علم کے سوال کرے گا کہ یہ بتاؤ اب باقی کون کون ہے ؟ وہ جواب دین گے تو باقی ہے تو حی وقیوم ہے تجھ پر کبھی فنا نہیں اور عرش کے اٹھانے والے فرشتے اور جبرائیل و میکائیل اس وقت عرش کو زبان ملے گی اور وہ کہے گا اے پروردگار کیا جبرئل وہ میکائل بھی مریں گے ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں نے اپنے عرش سے نیچے والوں پر سب پر موت لکھ دی ہے چناچہ یہ دونوں بھی فوت ہوجائیں گے پھر ملک الموت رب جبار وقہار کے پاس آئیں گے اور خبر دیں گے کہ جبرائیل و میکائیل بھی انتقال کر گئے۔ جناب اللہ علم کے باوجودہ پھر دریافت فرمائے گا کہ اب باقی کون ہے ؟ ملک الموت جواب دیں گے کہ باقی ایک تو تو ہے ایسی بقا ولا جس پر فنا ہے ہی نہیں اور تیرے عرش کے اٹھانے والے اللہ فرمائے گا عرش کے اٹھانے والے بھی مرجائیں گے اس وقت وہ بھی مرجائیں گے، پھر اللہ کے حکم سے حضرت اسرافیل سے صور کو عرش لے لے گا، ملک الموت حاضر ہو کر عرض کریں گے کہ یا اللہ عرش کے اٹھانے والے فرشتے بھی مرگئے اللہ تعالیٰ دریافت فرمائے گا حالانکہ وہ خوب جانتا ہے کہ اب باقی کون رہا ؟ ملک الموت جواب دیں گے کہ ایک تو جس پر موت ہے ہی نہیں اور ایک تیرا غلام میں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرمائے گا تو بھی میری مخلوق میں سے ایک مخلوق ہے تجھے میں نے ایک کام کیلئے پیدا کیا تھا جسے تو کرچکا اب تو بھی مرجا چناچہ وہ بھی مرجائیں گے۔ اب اللہ تعالیٰ اکیلا باقی رہ جائے گا جو غلبہ والا یگانگت والا بےماں باپ اور بےاولاد کے ہے۔ جس طرح مخلوق کے پیدا کرنے سے پہلے وہ یکتا اور اکیلا تھا۔ پھر آسمانوں اور زمینوں کو وہ اس طرح لپیٹ لے گا جیسے دفتری کاغذ کو لپیٹتا ہے پھر انہیں تین مرتبہ الٹ پلٹ کرے گا اور فرمائے گا میں جبار ہوں میں کبریائی والا وہں۔ پھر تین مرتبہ فرمائے گا آج ملک کا مالک کون ہے ؟ کوئی نہ ہوگا جو جواب دے تو خود ہی جواب دے گا اللہ واحد وقہار۔ قرآن میں ہے اس دن آسمان و زمین بدل دیئے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ انہیں پھیلا دے گا اور کھینچ دے گا جس طرح چمڑا کھینچا جاتا ہے کہیں کوئی اونچ نیچ باقی نہ رہے گی، پھر ایک الٰہی آواز کے ساتھ ہی ساری مخلوق اس تبدیل شدہ زمین میں آجائے گی اندر والے اندر اور اوپر ولے اوپر پھر اللہ تعالیٰ اپنے عرش تلے سے اس پر بارش برسائے گا پھر آسمان کو حکم ہوگا اور وہ چالیس دن تک مینہ برسائے گا یہاں تک کہ پانی ان کے اوپر بارہ ہاتھ چڑھ جائے گا، پھر جسموں کو حکم ہوگا کہ وہ اگیں اور وہ اس طرح اگنے لگیں گے جیسے سبزیاں اور ترکاریاں اور وہ پورے پورے کامل جسم جیسے تھے ویسے ہی ہوجائیں گے پھر حکم فرمائے گا کہ میرے عرش کے اٹھانے والے فرشتے جی اٹھیں چناچہ وہ زندہ ہوجائیں گے پھر اسرافیل کو حکم ہوگا کہ صور لے کر منہ سے لگالیں۔ پھر فرمان ہوگا کہ جبرائیل و میکائیل زندہ ہوجائیں یہ دونوں بھی اٹھیں گے، پھر اللہ تعالیٰ روحوں کو بلائے گا مومنوں کو نورانی ارواح اور کفار کی ظلماتی روحیں آئیں گی انہیں لے کر اللہ تعالیٰ صور میں ڈال دے گا، پھر اسرافیل کو حکم ہوگا کہ اب صور پھونک دو چناچہ بعث کا صور پھونکا جائے گا جس سے ارواہ اس طرح نکلین گی جیسے شہید کی مکھیاں۔ تمام خلا ان سے بھر جائے گا پھر رب عالم کا ارشاد ہوگا کہ مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم ہے ہر روح اپنے اپنے جسم میں چلی جائے، چنانجہ سب روحیں اپنے اپنے جسموں میں نتھنوں کے راستے چلی جائیں گی اور جس طرح زہر رگ وپے میں اثر کرجاتا ہے روہ روئیں روئیں میں دوڑ جائے گی، پھر زمین پھٹ جائے گی اور لوگ اپنی قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے، سب سے پہلے میرے اوپر سے زمین شق ہوگی، لوگ نکل کر دوڑ تے ہوئے اپنے رب کی طرف چل دیں گے، اس وقت کافر کہیں گے کہ آج کا دن بڑا بھاری ہے، سب ننگے پیروں ننگے بدن بےختنہ ہوں گے ایک میدان میں بقدر ستر سال کے کھڑے رہیں گے، نہ ان کی طرف نگاہ اٹھائی جائے گی نہ ان کے درمیان فیصلے کئے جائیں گے، لوگ بےطرح گریہ وزاری میں مبتلا ہوں گے یہاں تک کہ آنسو ختم ہوجائیں گے اور خون آنکھوں سے نکلنے لگے گا، پسینہ اس قدر آئے گا کہ منہ تک یا ٹھوریوں تک اس میں ڈوبے ہوئے ہوں گے، آپس میں کہیں گے آؤ کسی سے کہیں کہ وہ ہماری شفاعت کرے، ہمارے پروردگار سے عرض کرے کہ وہ آئے اور ہمارے فیصلے کرے تو کہیں گے کہ اس کے لائق ہمارے باپ حضرت آدم ؑ سے بہتر کون ہوگا ؟ جنہیں اللہ نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، اپنی روح ان میں پھونکی اور آمنے سامنے ان سے باتین کیں۔ چناچہ سب مل کر آپ کے پا سجأایں گے اور سفاش طلب کریں گے لیکن حضرت آدم ؑ صاف انکار کر جائیں گے اور فرمائیں گے مجھ میں اتنی قابلیت نہیں پھر وہ اسی طرح ایک ایک نبی کے پاس جائیں گے اور سب انکار کر دین گے۔ حضور فرماتے ہیں پھر سب کے سب یرے پاس آئیں گے، میں عرش کے آگے جاؤں گا اور سجدے میں گر پڑوں گا، اللہ تعالیٰ میرے پاس فرشتہ بھیجے گا وہ میرا بازو تھام کر مجھے سجدے سے اٹھائے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے محمد ﷺ میں جواب دوں گا کہ ہاں اے میرے رب، اللہ عزوجل باو وجد عالم کل ہونے کے مجھے سے دریافت فرمائے گا کہ کیا بات ہے ؟ میں کہوں گا یا اللہ تو نے مجھ سے شفاعت کی قبولیت کا وعدہ فرمایا ہے اپنی مخلوق کے بارے میں میری شفاعت کو قبول فرما اور ان کے فیصلوں کے لئے تشریف لے آ۔ رب العالمین فرمائے گا میں نے تیری سفارش قبول کی اور میں آ کر تم میں فیصلے کئے دیتا ہوں۔ میں لوٹ کر لوگوں کے ساتھ ٹھہر جاؤں گا کہ ناگہاں آسمانوں سے ایک بہت بڑا دھماکہ سنائی دے گا جس سے لوگ خوفزدہ ہوجائیں گے اتنے میں آسمان کے فرشتے اترنے شروع ہوں گے جن کی تعداد کل انسانوں اور سارے جنوں کے برابر ہوگی۔ جب وہ زمین کے قریب پہنچیں گے تو ان کے نور سے زمین جگمگا اٹھے گی وہ صفیں باندھ کر کھڑے ہوجائیں گے ہم سب ان سے دریافت کریں گے کہ کیا تم میں ہمارا رب آیا ہے ؟ وہ جواب دیں گے نہیں پھر اس تعداد سے بھی زیادہ تعداد میں اور فرشتے آئیں گے۔ آخر ہمارا رب عزوجل ابر کے سائے میں نزول فرمائے گا اور فرشتے بھی اس کے ساتھ ہوں گے اس کا عرش اس دن آٹھ فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے اس وقت عرش کے اٹھانے والے جار فرشتے ہیں ان کے قدم آخری نیچے والی زمین کی تہ میں ہیں زمین و آسمان ان کے نصف جسم کے مقابلے میں ہے ان کے کندھوں پر عرش الٰہی ہے۔ ان کی زبانین ہر وقت اللہ تبارک و تعالیٰ کی پاکیزگی کے بیان میں تر ہیں۔ ان کی تسبیح یہ ہے سبحان ذی العرش والجبروت سبحان ذی الملک والملکوت سبحان الحی الذی لا یموت سبحان الذی یمیت الخلائق ولا یموت سبوح قدوس قدوس قدوس سبہان ربنا الاعلی رب الملا ئکتہ والروہ سبحان ربنا الا علی الذی یمیت الخلائق ولا یموت پھر اللہ جس جگہ چاہے گا پانی کرسی زمین پر رکھے گا اور بلند آواز سے فرمائے گا اے جنو اور انسانو میں نے تمہیں جس دن سے پیدا کیا تھا اس دن سے آج تک میں خاموش رہا تمہاری باتیں سنتا رہا تمہارے اعمال دیکھتا رہا سنو تمہارے اعمال نامے میرے سامنے پڑھے جائیں گے جو اس میں بھلائی پائے وہ اللہ کی حمد کرے اور جو اس میں اور کچھ پائے وہ اپنی جان کو ملامت کرے، پھر بحکم الہ جہنم میں سے ایک دیھکتی ہوئی گردن نکلے گی اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے آدم کی اوالد کیا میں نے تم سے عہد نہیں لیا تھا کہ شیطان کی پوجانہ کرنا وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ؟ اور صرف میری ہی عبادت کرتے رہنا یہی سیدھی راہ ہے، شیطان نے تو بہت سی مخلوق کو گومراہ کردیا ہے کیا تمہیں عقل نہیں ؟ یہ ہے وہ جہنم جس کا تم وعدہ دیئے جاتے تھے اور جسے تم جھٹلاتے رہے اے گنہگارو ! آج تم نیک بندوں سے الگ ہوجاؤ، اس فرمان کے ساتھ ہی بد لوگ نیکوں سے الگ ہوجائیں گے تمام امتیں گھٹنوں کے بل گرپڑیں گی جیسے قرآن کریم میں ہے کہ تو ہر امت کو گھٹنوں کے بل گرے ہوئے دیکھے گا ہر امت اپنے نامہ اعمال کی طرف بلائی جائے گی، پھر اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں فیصلے کرے گا پہلے جانوروں میں فیصلے ہوں گے یہاں تک کہ بےسینگ والی بکری کا بدلہ سینگ والی بکری سے لیا جائے گا، جب کسی کا کسی کے ذمہ کوئی دعوی باقی نہ رہے گا تو اللہ تعالیٰ انہیں فرمائے گا تم سب مٹی ہوجاؤ، اس فرمان کے ساتھ ہی تمام جانور مٹی بن جائیں گے، اس وقت کافر بھی یہی آرزو کریں گے کہ کاش ہم بھی مٹی ہوجاتے، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کے فیصلے شروع کرے گا سب سے پہلے قتل و خون کا فیصلہ ہوگا، اللہ تعالیٰ اپنی راہ کے شہیدوں کو بھی بلائے گا ان کے ہاتھوں سے قتل شدہ لوگ اپنا سر اٹھائے ہوئے حاضر ہوں گے رگوں سے خون بہ رہا ہوگا کہیں گے کہ باری تعالیٰ دریافت فرما کہ اس نے مجھے کیوں قتل کیا ؟ پس باوجود علم کے اللہ عزوجل مجاہدین سے پوچھے گا کہ تم نے انہیں کیوں قتل کیا ؟ وہ جواب دیں گے اس لئے کہ تیری بات بلند ہو اور تیری عزت ہو اللہ عالی فرمائے گا تم سجے ہو اسی وقت ان کا چہرہ نورانی ہوجائے گا سورج کی طرح چمکنے لگے گا اور فرشتے انہیں اپنے جھرمٹ میں لے کر جنت کی طرف چلیں گے پھر باقی کے اور تمام قاتل و مقتول اسی طرح پیش ہوں گے اور جو نفس ظلم سے قتل کیا گیا ہے اس کا بدلہ ظالم قاتل سے دلوایا جائے گا اسی طرح ہر مظلوم کو ظالم سے بدلہ دلوایا جائے گا یہاں تک کہ جو شخص دودھ میں پانی ملا کر بیچتا تھا اسے فرمایا جائے گا کہ اپنے دودھ سے پانی جدا کر دے، ان فیصلوں کے بع دایک منادی باآواز بلند ندا کرے گا جسے سب سنیں گے، ہر عابد اپنے معبود کے پیچھے ہولے اور اللہ کے سوا جس نے کسی اور کی عبادت کی ہے وہ جہنم میں چل دے، سنو اگر یہ سچے معبود ہوتے تو جہنم میں واردنہ ہوتے یہ سب تو جہنم میں ہی ہمیشہ رہیں گے اب صرف باایمان لوگ باقی رہیں گے ان میں منافقین بھی شامل ہوں گے اللہ تعالیٰ ان کے پاس جس ہیئت میں چاہے تشریف لائے گا اور ان سے فرمائے گا کہ سب اپنے معبودوں کے پیچھے چلے گئے تم بھی جس کی عباد کرتے تھے اس کے پاس چلے جاؤ۔ یہ جواب دیں گے کہ واللہ ہمارا تو کوئی معبود نہیں بجزالہ العالمین کے۔ ہم نے کسی اور کی عبادت نہیں کی۔ اب ان کے لئے پنڈلی کھول دی جائے گی اور اللہ تعالیٰ اپنی عظمت کی تجلیاں ان پر ڈالے گا جس سے یہ اللہ تعالیٰ کو پہچان لیں گے اور سجدے میں گرپڑیں گے لیکن منافق سجدہ نہیں کرسکیں گے یہ اوندھے اور الٹے ہوجائیں گے اور اپنی کمر کے بل گرپڑیں گے۔ ان کی پیٹھ سیدھی کردی جائے گی مڑ نہیں سکیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ مومنوں کو سجدے سے اٹھنے کا حکم دے گا اور جہنم پر پل صراط رکھی جائے گی جو تلوار جیسی تیز دھار والی ہوگی اور جگہ جگہ آنکڑے اور کانٹے ہوں گے بڑی پھسلنی اور خطرانک ہوگی ایماندار تو اس پر سے اتنی سی دیر میں گذر جائیں گے جتنی دیر میں کوئی آنکھ بند کر کے کھول دے جس طرح بجلی گذرجاتی ہے اور جیسے ہوا تیزی سے چلتی ہے۔ یا جیسے تیز روگھوڑے یا اونٹ ہوتے ہیں یا خوب بھاگنے والے آدمی ہوتے ہیں بعض صحیح سالم گذر جائیں گے بعض زخمی ہو کر پار اتر جائیں گے بعض کٹ کر جہنم میں گرجائیں گے جتنی لوگ جب جنت کے پاس پہنچیں گے تو کہیں گے کون ہمارے رب سے ہماری سفارش کرے کہ ہم جنت میں چلے جائیں ؟ دوسرے لوگ جواب دیں گے اس کے حقدار تمہارے باپ حضرت آدم ؑ سے زیادہ اور کون ہوں گے ؟ جنہیں رب ذوالکریم نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور اپنی روح ان میں پھونکی اور آمنے سامنے باتیں کیں پس سب لوگ آپ کے پاس آئیں گے اور آپ سے سفارش کرانی چاہیں گے لیکن اپنا گناہ یاد کر کے جواب دیں گے کہ میں اس لائق نہیں ہوں تم نوح ؑ کے پاس جاؤ وہ اللہ کے پہلے رسول ہیں، لوگ حضرت نوح کے پاس آ کر ان سے یہ درخواست کریں گے لیکن وہ بھی اپنے گناہ کو یاد کر کے یہی فرمائیں گے اور کہیں گے کہ تم سب حضرت نوح کے پاس آ کر ان سے یہ درخواست کریں گے لیکن وہ بھی اپنے گناہ کو یاد کر کے یہی فرمائیں گے اور کہیں گے کہ تم سب حضرت ابراہیم کے پاس جاؤ وہ خلیل اللہ ہیں لوگ آپ کے پاس آئیں گے اور یہی کہیں گے آپ بھی اپنے گناہ کو یاد کر کے یہی جواب دیں گے اور حضرت موسیٰ کے پاس جانے کی ہدایت کریں گے کہ اللہ نے انہیں سرگوشیاں کرتے ہوئے نزدیک کیا تھا وہ کلیم اللہ ہیں ان پر توراۃ نازل فرمائی گئی تھی لوگ آپ کے پاس آئیں گے اور آپ سے طلب سفارش کریں گے آپ بھی اپنے گناہ کا ذکر کریں گے اور روح اللہ اور کلمتہ اللہ حضرت عیسیٰ ابن مریم کے پاس بھیجیں گے لیکن حضرت عیسیٰ ؑ فرمائیں گے میں اس قابل نہیں تم حضرت محمد ﷺ کے پاس جاؤ۔ حضور فرماتے ہیں پس سب لوگ میرے پاس آئیں گے، میں اللہ کے سامنے تین شفاعتیں کروں گا میں جاؤں گا جنت کے پاس پہنچ کر دروازے کا کنڈا پکڑ کر کھٹکھٹاؤں گا مجھے مرحبا کہا جائے گا اور خوش آمدید کہا جائے گا میں جنت میں جا کر اپنے رب کو دیکھ کر سجدے میں گر پڑوں گا اور وہ وہ حمد و ثنا جناب باری کی بیان کروں گا جو کسی نے نہ کی ہو، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے محمد ﷺ اپنا سر اٹھاؤ شفاعت کرو قبول کی جائے گی مانگو ملے گا میں سر اٹھاؤں گا اللہ تعالیٰ تو دلوں کے بھید بھی جانتا ہے تاہم وہ دریافت فرمائے گا کہ کیا کہنا چاہتے ہو ؟ میں کہوں گا اے اللہ تو نے میری شفاعت کے قبول فرمانے کا وعدہ کیا ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ میری شفاعت ان جنتیوں کے بارے میں قبول فرمائے گا اور انہیں جنت کے داخلے کی اجازت ہوجائے گی۔ واللہ جیسے تم اپنے گھر سے اپنے بال بچوں سے آگاہ ہو اس سے بہت زیادہ یہ جنتی اپنی جگہ اور اپنی بیویوں سے واقف ہوں گے ہر ایک اپنے اپنے ٹھکانے پہنچ جائے گا ستر ستر حوریں اور دو دو عورتیں ملیں گی، یہ دونوں عورتیں اپنی کی ہوئی نیکیوں کے سبب پر فضیلت چہروں کی مالک ہوں گی جتنی ان میں سے ایک کے پاس جائے گا جو یاقوت کے بالا خانے میں سونے کے جڑاؤ تخت پر ستر ریشمی حلے پہنے ہوئے ہوگی اس کا جسم اس قدر نورانی ہوگا کہ ایک طرف اگر جنتی اپنا ہاتھ رکھے تو دوسری طرف سے نظر آئے گا اس کی صفائی کی وجہ سے اس کی پنڈلی کا گودا گوشت پوست میں نظر آ رہا ہوگا اس کا دل اس کا آئینہ ہوگا نہ یہ اس سے بس کرے نہ وہ اس سے اکتائے، جب کبھی اس کے پاس جائے گا باکرہ پائے گا، نہ یہ تھکے نہ اسے تکلیف ہو، نہ کوئی مکرو چیز ہو، یہ اپنی اسی مشغولی میں مزے میں اور لطف و راحت میں اللہ جانے کتنی مدت گزار دے گا جو ایک آواز آئے گی کہ مانا نہ تمہارا دل اس سے بھرتا ہے نہ ان کا دل تم سے بھرے گا۔ لیکن اللہ نے تمہارے لئے اور بیویاں بھی رکھی ہوئی ہیں۔ اب یہ اوروں کے پاس جائے گا جس کے پاس جائے گا بےساختہ زبان سے یہی نکلے گا اللہ کی قسم کی سازی جنت میں تم سے بہتر کوئی چیز نہیں مجھے تو جنت کی تمام چیزوں سے زیادہ تم سے محبت ہے، ہاں جنہیں ان کی بد عملیوں اور گناہوں نے تباہ کر رکھا ہے وہ جہنم میں جائیں گے اپنے اپنے اعمال کے مطابق آگ میں جلیں گے، بعض قدموں تک بعض آدھی پنڈلی تک بعض گھٹنے تک بعض آدھے بدن تک بعض گردن تک، صرف چہرہ باقی رہ جائے گا کیونکہ صورت کا بگاڑنا اللہ نے آگ پر حرام کردیا ہے، رسول کریم ﷺ اللہ تعالیٰ سے اپنی امت کے گنہگار دوزخیوں کی شفاعت کریں گے اللہ تعالیٰ فرمائے گا جاؤ جنہیں پہچانو انہیں نکال لاؤ، پھر یہ لوگ جہنم سے آزاد ہوں گے یہاں تک کہ ان میں سے کوئی باقی نہ رہے گا پھر تو شفاعت کی عام اجازت مل جائے گی کل انبیاء اور شہداء شفاعت کریں گے، جناب باری کا ارشاد ہوگا کہ جس کے دل میں ایک دینار برابر بھی ایمان پاؤ اسے نکال لاؤ، پس یہ لوگ بھی آزاد ہوں گے اور ان میں سے بھی کوئی باقی نہ رہے گا، پھر فرمائے گا انہیں بھی نکال لاؤ جس کے دل میں دو ثلث دینار کے برابر ایمان ہو، پھر فرمائے گا ایک ثلث والوں کو بھی، پھر ارشاد ہوگا چوتھائی دینار کے برابر والوں کو بھی، پھر فرمائے گا ایک قیراط کے برابر والوں کو بھی، پھر ارشاد ہوگا انہیں بھی جہنم سے نکال لاؤ جن کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہو، پس یہ سب بھی نکل آئیں گے اور ان میں سے ایک شخص بھی باقی نہ بچے گا، بلکہ جہنم میں ایک شخص بھی ایسا نہ رہ جائے گا جس نے خلوص کے ساتھ کوئی نیکی بھی اللہ کی فرمانبرداری کے ماتحت کی ہو، جتنے شفیع ہوں گے سب سفارش کرلیں گے یہاں تک کہ ابلیس کو بھی امید بندھ جائے گی اور وہ بھی گردن اٹھا اٹھا کر دیکھے گا کہ شاید کوئی میری بھی شفاعت کرے کیونکہ وہ اللہ کی رحمت کا جوش دیکھ رہا ہوگا اس کے بعد اللہ تعالیٰ ارحم الراحمین فرمائے گا کہ اب تو صرف میں ہی باقی رہ گیا اور میں تو سب سے زیادہ رحم و کرم کرنے والا ہوں، پس اپنا ہاتھ ڈال کر خود اللہ تبارک و تعالیٰ جہنم میں سے لوگوں کو نکالے گا جن کی تعداد سوائے اس کے اور کوئی نہیں جانتا وہ جلتے جھلستے ہوئے کوئلے کی طرح ہوگئے ہوں گے، انہیں نہر حیوان میں ڈالا جائے گا جہاں وہ اس طرح اگیں گے جس طرح دانہ اگتا ہے جو کسی دریا کے کنارے بویا گیا ہو کہ اس کا دھوپ کا رخ تو سبز رہتا ہے اور سائے کا رخ زرد رہتا ہے ان کی گردنوں پر تحریر ہوگا کہ یہ رحمان کے آزاد کردہ ہیں، اس تحریر سے انہیں دوسرے جنتی پہچان لیں گے۔ ایک مدت تک تو یونہی رہیں گے پھر اللہ تعالیٰ سے دعا کریں گے کہ اے اللہ یہ حروف بھی مٹ جائیں اللہ عزوجل یہ بھی مٹا دے گا یہ حدیث اور آگے بھی ہے اور بہت ہی غریب ہے اور اس کے بعض حصوں کے شواہد متفرق احادیث میں ملتے ہیں، اس کے بعض الفاظ منکر ہیں۔ اسماعیل بن رافع قاضی اہل مدینہ اس کی روایت کے ساتھ منفرد ہیں ان کو بعض محدثین نے تو ثقہ کہا ہے اور بعض نے ضعیف کہا ہے اور ان کی حدیث کی نسبت کئی ایک محدثین نے منکر ہونے کی صراحت کی ہے، جیسے امام احمد امام ابو حاتم امام عمرو بن علی، بعض نے ان کے بارے میں فرمایا ہے کہ یہ متروک ہیں، امام ابن عدی فرماتے ہیں ان کی سب احادیث میں نظر ہے مگر ان کی حدیثیں ضعیف احادیث میں لکھنے کے قابل ہیں، میں نے اس حدیث کی سندوں میں نے جو اختلاف کئی وجوہ سے ہے اسے علیحدہ ایک جزو میں بیان کردیا ہے اس میں شک نہیں کہ اس کا بیان بہت ہی غریب ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ بہت سی احادیث کو ملا کر ایک حدیث بنا لی ہے اسی وجہ سے اسے منکر کہا گیا ہے، میں نے اپنے استاد حافظ ابو الحجاج مزی سے سنا ہے کہ انہوں نے امام ولید بن مسلم کی ایک کتاب دیکھی ہے جس میں ان باتوں کے جو اس حدیث میں ہی ہیں شواہد بیان کئے ہیں واللہ اعلم۔