(آیت) ” فَلَمَّا جَنَّ عَلَیْْہِ اللَّیْْلُ رَأَی کَوْکَباً قَالَ ہَـذَا رَبِّیْ فَلَمَّا أَفَلَ قَالَ لا أُحِبُّ الآفِلِیْنَ (76)
” چناچہ جب رات اس پر طاری ہوئی تو اس نے ایک تارا دیکھا ۔ کہا یہ میرا رب ہے ؟ مگر وہ ڈوب گیا تو بولا ڈوب جانے والوں کا میں گرویدہ نہیں ہوں ۔ “
یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے نفس کی تصویر کشی ہے ان پر معبودان خاندانی کے سلسلین میں شک بلکہ فیصلہ کن انکار پوری طرح حاوی ہوچکا ہے ۔ ان کے والد اور ان کی قوم جن معبودان باطل اور بتوں کی پوجا کر رہے تھے ان کے ذہن نے اس سے ابا کردیا ہے ۔ اور وہ صحیح نظریہ حیات اور صحیح عقیدے کے متلاشی ہیں اور یہ ان کے لئے عظیم مسئلہ بن گیا ہے ۔ اس مسئلے کی تصویر کشی ان الفاظ سے اچھی طرح ہوتی (آیت) ” فلما جن علیہ اللیل) ” جب رات ان پر طاری ہوئی ۔ “ گویا رات نے صرف حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہی کو گھیر لیا ہے اور یہ رات ان کو دوسرے لوگوں سے علیحدہ کررہی ہے تاکہ وہ رات کی تاریکی میں سکون کے ساتھ اپنے دل میں اس مسئلے پر سوچ بچار کرسکیں اور اسے حل کرسکیں جو انہیں پریشان کر رہا ہے اور بار بار حملہ آور ہوتا ہے ۔ ” چناچہ جب رات طاری ہوئی تو اس نے ایک تارا دیکھا ‘ کہا یہ میرا رب ہے۔ “ ان کی قوم ستاروں کی بھی پوجا کرتی تھے جیسا کہ ہم پہلے کہہ آئے ہیں۔
جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اس بات سے مایوس ہوگئے کہ ان کی فطرت کے اندر الہ برحق کی جو تصویر ہے اس کے ساتھ تو یہ بت مطابقت نہیں رکھتے تو انہوں نے شاید یہ امید رکھی کہ وہ الہ برحق بتوں کے علاوہ دوسرے سیاروں اور ستاروں کی صورت میں مل جائے ۔
صورت حال یہ نہ تھی کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے باپ اور اپنی قوم کو کہیں پہلی مرتبہ ستاروں اور سیاروں کی پوجا کرتے ہوئے دیکھ رہے تھے ۔ نہ صورت حال یہ تھی کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ان ستاروں سیاروں کو پہلی مرتبہ دیکھ رہے تھے لیکن آج کی رات یہ ستارے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو جو بات بتا رہے تھے وہ بات انہوں نے اس سے پہلے نہ کی تھی ۔ آج وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو وہ حقیقت بتا رہے تھے ‘ جو آپ کی فطرت کے عین مطابق تھی ‘ جس کے لئے آپ پریشان و۔۔۔۔۔ تھے اور اس کے بارے میں ان پر خیالات و تصورات کا ہجوم رہتا تھا ۔
(آیت) ” قال ھذا ربی “۔ (6 : 76) ” یہ میرا رب ہے ۔ “ اپنے نور اور اپنی چمک اور اپنے مقام بلند کی وجہ سے شاید بتوں کے مقابلے میں اس کا رب ہونا زیادہ ممکن ہے ۔ لیکن نہیں نہیں یہ امکان بھی بعید ہے ‘ ایسا نہیں ہوسکتا ۔
(آیت) ” فلما افل قال لا احب الافلین “۔ (6 : 76) ” جب ڈوب گیا تو بولا میں ڈوب جانے والوں کا گرویدہ نہیں ہوں۔ “ یہ ستارہ یا سیارہ تو لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہوجاتا ہے ؟ مخلوقات سے دور ہوجاتا ہے ‘ غائب ہوجاتا ہے ۔ اگر خدا ڈوب گیا اور نظروں سے اوجھل ہوگیا تو پھر کون ہے جو اس عالم کی تدبیر کرتا ہے ۔ رب ہو اور غائب ہو ‘ نہیں ‘ یہ ستاروہ رب نہیں ہوسکتا ۔ رب تو اوجھل نہیں ہو سکتا۔
یہ ہے فطری اور بدیہی استدلال ۔ یہ منطقی اور جدلیاتی فلسفیانہ استدلال نہیں ہے ۔ یہ وجدانی استدلال ہے جو براہ راست سامنے آتا ہے اور بڑی سہولت سے یقین پیدا کردیتا ہے ۔ پوری انسانیت اور پوری انسانی فکر اسے قبول کرلیتی ہے ۔ اور اسے گہرا یقین حاصل ہوجاتا ہے ۔
(آیت) ” لا احب الافلین “۔ (6 : 76) ”(میں ڈوب جانے والوں کو پسند نہیں کرتا) انسانی فطرت اور الہ العالمین کے درمیان حقیقی تعلق محبت کا تعلق ہے اور محبت کا یہ ربط قلبی ربط ہے ۔ اسی لئے فطرت ابراہیم ڈوب جانے والوں کے ساتھ محبت نہیں رکھتی ۔ لہذا انہیں الہ تسلیم نہیں کرتی ۔ اور فطرت کا تقاضا یہ ہے کہ جو الہ ہے وہ ہر وقت حاضر ومحبوب ہوگا ۔
آیت 76 فَلَمَّا جَنَّ عَلَیْہِ الَّیْلُ رَاٰکَوْکَبًاج قالَ ہٰذَا رَبِّیْ ج یہ سوالیہ انداز بھی ہوسکتا ہے ‘ گویا کہہ رہے ہو کیا یہ میرا رب ہے ؟ اور استعجابیہ انداز بھی ہوسکتا ہے۔ گویا لوگوں کو چونکانے کے لیے ایسے کہا ہو۔فَلَمَّآ اَفَلَ قَالَ لَآ اُحِبُّ الْاٰفِلِیْنَ ۔میں اس کو اپنا خدا کیسے مان لوں ؟ یہ قوم جس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام بھیجے گئے تھے ستارہ پرست بھی تھی ‘ بت پرست بھی تھی اور شاہ پرست بھی تھی۔ تینوں قسم کے شرک اس قوم میں موجود تھے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام Babilonia آج کا عراق کے شہر ار میں پیدا ہوئے۔ اس شہر کے کھنڈرات بھی اب دریافت ہوچکے ہیں۔ پھر وہاں سے ہجرت کر کے فلسطین گئے ‘ وہاں سے حجاز گئے اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو وہاں آباد کیا۔ جب کہ اپنے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق علیہ السلام کو فلسطین میں آباد کیا۔ اس وقت عراق میں شرک کے گھٹا ٹوپ اندھیرے تھے۔ وہ لوگ بت پرستی اور ستارہ پرستی کے ساتھ ساتھ نمرود کی پرستش بھی کرتے تھے ‘ جو دعویٰ کرتا تھا کہ میں خدا ہوں۔ نمرود کا حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ محاجہ مکالمہ ہم سورة البقرۃ میں پڑھ چکے ہیں ‘ اس میں اس نے کہا تھا : اَنَا اُحْیَٖ واُمِیْتُ کہ میں بھی یہ اختیار رکھتا ہوں کہ جس کو چاہوں زندہ رکھوں ‘ جس کو چاہوں مار دوں۔