سورۃ الانعام (6): آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں۔ - اردو ترجمہ

اس صفحہ میں سورہ Al-An'aam کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الأنعام کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔

سورۃ الانعام کے بارے میں معلومات

Surah Al-An'aam
سُورَةُ الأَنۡعَامِ
صفحہ 137 (آیات 74 سے 81 تک)

۞ وَإِذْ قَالَ إِبْرَٰهِيمُ لِأَبِيهِ ءَازَرَ أَتَتَّخِذُ أَصْنَامًا ءَالِهَةً ۖ إِنِّىٓ أَرَىٰكَ وَقَوْمَكَ فِى ضَلَٰلٍ مُّبِينٍ وَكَذَٰلِكَ نُرِىٓ إِبْرَٰهِيمَ مَلَكُوتَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَلِيَكُونَ مِنَ ٱلْمُوقِنِينَ فَلَمَّا جَنَّ عَلَيْهِ ٱلَّيْلُ رَءَا كَوْكَبًا ۖ قَالَ هَٰذَا رَبِّى ۖ فَلَمَّآ أَفَلَ قَالَ لَآ أُحِبُّ ٱلْءَافِلِينَ فَلَمَّا رَءَا ٱلْقَمَرَ بَازِغًا قَالَ هَٰذَا رَبِّى ۖ فَلَمَّآ أَفَلَ قَالَ لَئِن لَّمْ يَهْدِنِى رَبِّى لَأَكُونَنَّ مِنَ ٱلْقَوْمِ ٱلضَّآلِّينَ فَلَمَّا رَءَا ٱلشَّمْسَ بَازِغَةً قَالَ هَٰذَا رَبِّى هَٰذَآ أَكْبَرُ ۖ فَلَمَّآ أَفَلَتْ قَالَ يَٰقَوْمِ إِنِّى بَرِىٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ إِنِّى وَجَّهْتُ وَجْهِىَ لِلَّذِى فَطَرَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ حَنِيفًا ۖ وَمَآ أَنَا۠ مِنَ ٱلْمُشْرِكِينَ وَحَآجَّهُۥ قَوْمُهُۥ ۚ قَالَ أَتُحَٰٓجُّوٓنِّى فِى ٱللَّهِ وَقَدْ هَدَىٰنِ ۚ وَلَآ أَخَافُ مَا تُشْرِكُونَ بِهِۦٓ إِلَّآ أَن يَشَآءَ رَبِّى شَيْـًٔا ۗ وَسِعَ رَبِّى كُلَّ شَىْءٍ عِلْمًا ۗ أَفَلَا تَتَذَكَّرُونَ وَكَيْفَ أَخَافُ مَآ أَشْرَكْتُمْ وَلَا تَخَافُونَ أَنَّكُمْ أَشْرَكْتُم بِٱللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِۦ عَلَيْكُمْ سُلْطَٰنًا ۚ فَأَىُّ ٱلْفَرِيقَيْنِ أَحَقُّ بِٱلْأَمْنِ ۖ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ
137

سورۃ الانعام کو سنیں (عربی اور اردو ترجمہ)

سورۃ الانعام کی تفسیر (فی ظلال القرآن: سید ابراہیم قطب)

اردو ترجمہ

ابراہیمؑ کا واقعہ یاد کرو جبکہ اُس نے اپنے باپ آزر سے کہا تھا "کیا تو بتوں کو خدا بناتا ہے؟ میں تو تجھے اور تیری قوم کو کھلی گمراہی میں پاتا ہوں"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waith qala ibraheemu liabeehi azara atattakhithu asnaman alihatan innee araka waqawmaka fee dalalin mubeenin

(آیت) ” 74 تا 79۔

ان آیات میں قرآن کریم نے جس منظر کی تصویر کشی کی ہے وہ ایک عجیب منظر ہے ۔ یہ فطرت انسانی کا مظاہرہ ہے ۔ فطرت انسانی دیکھتے ہیں تمام جاہلی تصورات اور شرکیہ بت پرستانہ عقائد کو رد کردیتی ہے ۔ ان غلط تصورات کو دیکھتے ہیں فطرت دامن جھاڑنی ہے اور تلاش الہ حق کی راہ میں نکل کھڑی ہوتی ہے ۔ یہ حقیقی سچائی خود اس کے ضمیر میں موجود ہے لیکن انسان کو اس کا ادراک نہیں ہے اور فطرت اس پر متنبہ نہیں ہے ۔ لیکن یہ فطرت تلاش حق میں ہر اس چیز سے ربط قائم کرتی ہے جو بظاہر الہ ہو سکتی ہو ‘ لیکن جب ملاحظہ عمیق کرتی ہے تو وہ کھوٹے خداؤں کو رد کردیتی ہے کیونکہ فطرت کے اندر حقیقی الہ کی جو ذات وصفات ودیعت ہیں وہ چیز اس کے ساتھ ٹیلی نہیں کرتی ۔ جب تلاش کرتے کرتے یہ فطرت کے اندر حقیقی الہ کی جو ذات وصفات ودیعت ہیں وہ چیز اس کے ساتھ ٹیلی نہیں کرتی ۔ جب تلاش کرتے کرتے یہ فطرت اللہ کی ذات تک جا پہنچتی ہے ۔ تو وہ حقیقت اسے واضح نظر آرہی ہوتی ہے جس سے اسے بےحد خوشی ہوتی ہے ۔ اس کے جوش و خروش پیدا ہوجاتا ہے ‘ اس لئے کہ وہ اس منزل تک بدلائل پہنچ جاتی ہے وہ خود اس کے اندر پنہاں ہوتی ہے ۔ یہ ہے وہ فطری منظر جو قلب ابراہیم (علیہ السلام) کو دکھایا جاتا ہے ۔ وہ جس تجربے سے گزرے اسے ان مختصر آیات میں بیان کردیا جاتا ہے ۔ حق و باطل کے بارے میں فطری سوچ کی یہ عجیب کہانی ہے جسے یہاں اس اسلوب میں لایا گیا ہے ۔ یہ ایک نظریہ حیات کا معاملہ ہے جس کا اظہار ایک مومن ببانگ دہل کرتا ہے اور اس معاملے میں وہ کوئی رکھ رکھاؤ نہیں کرتا ۔ اس راہ میں وہ باپ ‘ خاندان اور قوم کسی کے ساتھ کوئی نرمی نہیں کرتا جیسا کہ ایسا ہی رویہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ اور اپنی قوم کے معاملے میں اختیار کیا انہوں نے ناقابل تغیر اور بالکل غیر لچک دار اختیار کیا اور اپنے موقف کو بالکل واضح کر کے بیان کیا ۔

(آیت) ” وَإِذْ قَالَ إِبْرَاہِیْمُ لأَبِیْہِ آزَرَ أَتَتَّخِذُ أَصْنَاماً آلِہَۃً إِنِّیْ أَرَاکَ وَقَوْمَکَ فِیْ ضَلاَلٍ مُّبِیْنٍ (74)

یہ وہ فطری پکار ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی زبانی ظاہر ہوتی ہے ۔ اگرچہ اپنی فہم و فراست کے ذریعے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو الہ حقیقی تک رسائی حاصل نہ ہوئی تھی لیکن آپ کی فطرت سلیمہ ابتدا ہی سے اس بات کا انکار کر رہی تھی کہ اس کی قوم جن بتوں کی پوجا کرتی ہے وہ حقیقی الہ ہوسکتے ہیں ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم عراق کے کلدانی تھے ۔ وہ بتوں ‘ ستاروں اور سیاروں کے پجاری تھے لیکن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی فطرت یہ جانتی تھی کہ وہ رب ‘ معبود اور وہ ذات باری جس کی طرف لوگ خوشحالی اور بدحالی میں متوجہ ہوتے ہیں اور جس نے تمام لوگوں اور تمام زندہ مخلوق کو پیدا کیا ہے ۔ وہ ذات یہ بت نہیں ہیں ۔ بتوں کی ظاہری حالت ہی بتا رہی تھی کہ نہ وہ خالق ہیں ‘ نہ رازق ہیں ‘ نہ سنتے ہیں اور نہ جواب دیتے ہیں لہذا یہ حقیقی الہ نہیں ہو سکتے ۔ اس لئے ان کی فطرت تلاش حق کی راہ پر نکل پڑی اور فیصلہ دے دیا کہ یہ الہ جن کی تم پوجا کرتے ہو نہ یہ الہ حقیقی ہیں اور نہ ہی وہ اس قابل ہیں کہ انہیں الہ حقیقی تک رسائی کا واسطہ اور ذریعہ بنایا جائے ۔

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی فطرت اس صورت حال کو واضح طور پر گمراہی کی صورت حال پاتی ہے اور انہیں صحیح فیصلے تک پہنچنے میں کوئی دیر نہیں لگتی ۔ یہ ہے اس فطرت کا نمونہ کامل جس پر اللہ نے اپنی تمام مخلوق کو پیدا کیا ہے ۔ پھر یہ وہ رد عمل ہے فطرت سلیمہ کا جب اس کا مقابلہ کسی واضح گمراہی کے ساتھ ہوتا ہے ۔ وہ فورا اس کا انکار کردیتی ہے اور اسے اس سے نفرت ہوجاتی ہے ۔ اس باطل بین کے معاملے میں پھر فطرت سلیمہ اعلان حق کرنے میں ذرہ بھر دیر نہیں کرتی ‘ خصوصا جب معاملہ عقیدے اور نظریات کا ہو۔

” کیا تو بتوں کو خدا بناتا ہے ؟ میں تجھے اور تیری قوم کو کھلی گمراہی میں پاتا ہوں۔ “ یہ بات حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے باپ کے سامنے کرتے ہیں ‘ حالانکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے مزاج کے اعتبار سے نہایت ہی نرم مزاج ‘ بردبار اور حلیم الطبع تھے اور پھر وہ تھے بھی ایک بیٹے کی پوزیشن میں لیکن نظریہ حیات کی قدروقیمت باپ بیٹے کے تعلق اور صبر اور برداشت کی صفات کے مقابلے میں زیادہ قیمتی ہے ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) وہ نشان راہ تھے ۔ جس کے بارے میں ان کی اولاد کو یہ ہدایت کی گئی تھی کہ وہ اس کی پیروی کریں اور یہ قصہ بھی بطور مثال اور نمونہ پیش کیا جا رہا ہے ۔

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنی فطرت کی صفائی اور اپنے خلوص نیت کی بنا پر اس بات کے مستحق ہوئے کہ اللہ تعالیٰ ان پر اپنی بادشاہت کے کچھ مخصوص راز منکشف فرمائیں اور ان کو وہ دلائل عطا کریں جو زمین و آسمان کے اندر اللہ کی بادشاہت کے دلائل ہیں ۔

اردو ترجمہ

ابراہیمؑ کو ہم اِسی طرح زمین اور آسمانوں کا نظام سلطنت دکھاتے تھے اور اس لیے دکھاتے تھے کہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہو جائے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wakathalika nuree ibraheema malakoota alssamawati waalardi waliyakoona mina almooqineena

(آیت) ” وَکَذَلِکَ نُرِیْ إِبْرَاہِیْمَ مَلَکُوتَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَلِیَکُونَ مِنَ الْمُوقِنِیْنَ (75)

” ابراہیم (علیہ السلام) کو ہم اسی طرح زمین و آسمان کا نظام سلطنت دکھاتے تھے اور اس لئے دکھاتے تھے کہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے ۔

اس فطرت سلیمہ کے ساتھ ‘ اس کھلی بصیرت کے ساتھ اور طلب حق کی راہ میں اس خلوص کی وجہ سے اور اس اور صراحت کے ساتھ باطل کا انکار کی وجہ سے اللہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو زمین و آسمان کی بادشاہت کے کچھ راز بتائے ‘ جن میں زمین اور آسمانوں میں مملکت الہیہ کے کچھ اصول تھے ۔ اس کائنات کے کچھ خفیہ راز جن پر یہ نظام استوار ہے ‘ پھر اللہ نے انہیں وہ دلائل و شواہد دیئے جو اس کائنات میں موجود تھے ۔ خود ان کی فطرت اور انکے دل کے اندر بھی ان ہی جیسے دلائل و شواہد موجود تھے جو راہ ہدایت دکھا رہے تھے تاکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) باطل کے انکار کے مقام سے آگے بڑھ کر حصول حق اور معرفت حق کے درجے تک پہنچ جائیں اور انہیں پوری طرح یقین آجائے ۔

یہ ہے فطرت کا گہرا طریق کار۔ اس کے مطابق جو فراست دی جاتی ہے وہ کبھی بھی زنگ آلود نہیں ہو سکتی اور انسان کے اندر ایسی بصیرت پیدا ہوجاتی ہے جو اپنی آنکھوں سے اس کائنات میں قدرت کے عجائبات کو دیکھتی ہے ۔ انسان کے اندر ایسا تدبر پیدا ہوتا ہے جو ان مشاہدات عجیبہ کا تتبع کرتا ہے اور آخر کار راز کائنات تک جا پہنچتا ہے ۔ جب اس کے ساتھ انسان اللہ کی راہ میں جدوجہد کرتا ہے تو اس کے عوض اللہ تعالیٰ اس انسان کی راہنمائی کرتا ہے ۔

یوں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس کائنات کی سیر شروع کی اور اس راہ سے انہیں اللہ کے فضل وصل نصیب ہوا ۔ پہلے تو وہ اپنی فطرت سلیمہ کے ذریعے حق تعالیٰ کو پکار رہے تھے لیکن اب تو آپ کی قوت مدرکہ اور آپ کے علم میں ذات باری موجود تھی ۔ پہلے تو حقیقت الوہیت کا شعور ان کے ضمیر اور ان کی فطرت سلیمہ میں تھا مگر اب یہ حقیقت ان کے فہم وادراک میں آچکی تھی ۔

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی فطرت صادقہ اور فطرت سلیمہ کا یہ سفر نہایت ہی دلچسپ ہے ۔ اس کا مطالعہ جاری رہنا چاہئے یہ عظیم سفر تھا اگرچہ چشم ظاہر بین کو یہ سفر ایک معمولی سفر نظر آتا ہے ۔ یہ سفر درحقیقت فطری ایمان سے آگے بڑھ کر ایمان مدرک اور ایمان مفہومہ کی طرف انتقال تھا ۔ ایمان مدرک اور ایمان مفہوم کے اوپر ہی شرعی فرائض اور واجبات کا دارومدار ہوتا ہے اور پھر انسان پر شریعت کا اتباع فرض ہوجاتا ہے ۔ یہ ایمان اور اتباع شریعت ‘ وہ مقام ہے جسے صرف لوگوں کے عقلی سفر پر ہی نہیں چھوڑ دیا گیا بلکہ اللہ نے اس کے بیان اور تشریح کے لئے نبوت کو جاری کیا اور سلسلہ رسل کو جاری فرمایا تاکہ لوگ ایمان و شریعت کو صرف اپنی عقل ہی سے معلوم نہ کریں بلکہ رسول اس کی تبلیغ اور تبیین کریں۔

لوگوں پر عقلی ایمان کے بجائے شرعی ایمان اور شرعی دلائل حجت قرار پائیں ۔ آخرت میں بھی جزا وسزا کا مدار ان احکام شرعی پر ہوگا جو رسولوں کی زبانی نازل نہیں ہوئے اور یہ سلسلہ اس لئے جاری کیا کہ اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ انسان صرف اپنی عقل سے ایمان و شریعت کی تفصیلات طے نہیں کرسکتا ۔

رہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تو وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تھے ۔ وہ ایک عام انسان نہ تھے ۔ وہ اللہ کے دوست تھے اور مسلمانوں کے ابو الاباء تھے ۔

اردو ترجمہ

چنانچہ جب رات اس پر طاری ہوئی تو اُس نے ایک تار ا دیکھا کہا یہ میرا رب ہے مگر جب وہ ڈوب گیا تو بولا ڈوب جانے والوں کا تو میں گرویدہ نہیں ہوں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Falamma janna AAalayhi allaylu raa kawkaban qala hatha rabbee falamma afala qala la ohibbu alafileena

(آیت) ” فَلَمَّا جَنَّ عَلَیْْہِ اللَّیْْلُ رَأَی کَوْکَباً قَالَ ہَـذَا رَبِّیْ فَلَمَّا أَفَلَ قَالَ لا أُحِبُّ الآفِلِیْنَ (76)

” چناچہ جب رات اس پر طاری ہوئی تو اس نے ایک تارا دیکھا ۔ کہا یہ میرا رب ہے ؟ مگر وہ ڈوب گیا تو بولا ڈوب جانے والوں کا میں گرویدہ نہیں ہوں ۔ “

یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے نفس کی تصویر کشی ہے ان پر معبودان خاندانی کے سلسلین میں شک بلکہ فیصلہ کن انکار پوری طرح حاوی ہوچکا ہے ۔ ان کے والد اور ان کی قوم جن معبودان باطل اور بتوں کی پوجا کر رہے تھے ان کے ذہن نے اس سے ابا کردیا ہے ۔ اور وہ صحیح نظریہ حیات اور صحیح عقیدے کے متلاشی ہیں اور یہ ان کے لئے عظیم مسئلہ بن گیا ہے ۔ اس مسئلے کی تصویر کشی ان الفاظ سے اچھی طرح ہوتی (آیت) ” فلما جن علیہ اللیل) ” جب رات ان پر طاری ہوئی ۔ “ گویا رات نے صرف حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہی کو گھیر لیا ہے اور یہ رات ان کو دوسرے لوگوں سے علیحدہ کررہی ہے تاکہ وہ رات کی تاریکی میں سکون کے ساتھ اپنے دل میں اس مسئلے پر سوچ بچار کرسکیں اور اسے حل کرسکیں جو انہیں پریشان کر رہا ہے اور بار بار حملہ آور ہوتا ہے ۔ ” چناچہ جب رات طاری ہوئی تو اس نے ایک تارا دیکھا ‘ کہا یہ میرا رب ہے۔ “ ان کی قوم ستاروں کی بھی پوجا کرتی تھے جیسا کہ ہم پہلے کہہ آئے ہیں۔

جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اس بات سے مایوس ہوگئے کہ ان کی فطرت کے اندر الہ برحق کی جو تصویر ہے اس کے ساتھ تو یہ بت مطابقت نہیں رکھتے تو انہوں نے شاید یہ امید رکھی کہ وہ الہ برحق بتوں کے علاوہ دوسرے سیاروں اور ستاروں کی صورت میں مل جائے ۔

صورت حال یہ نہ تھی کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے باپ اور اپنی قوم کو کہیں پہلی مرتبہ ستاروں اور سیاروں کی پوجا کرتے ہوئے دیکھ رہے تھے ۔ نہ صورت حال یہ تھی کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ان ستاروں سیاروں کو پہلی مرتبہ دیکھ رہے تھے لیکن آج کی رات یہ ستارے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو جو بات بتا رہے تھے وہ بات انہوں نے اس سے پہلے نہ کی تھی ۔ آج وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو وہ حقیقت بتا رہے تھے ‘ جو آپ کی فطرت کے عین مطابق تھی ‘ جس کے لئے آپ پریشان و۔۔۔۔۔ تھے اور اس کے بارے میں ان پر خیالات و تصورات کا ہجوم رہتا تھا ۔

(آیت) ” قال ھذا ربی “۔ (6 : 76) ” یہ میرا رب ہے ۔ “ اپنے نور اور اپنی چمک اور اپنے مقام بلند کی وجہ سے شاید بتوں کے مقابلے میں اس کا رب ہونا زیادہ ممکن ہے ۔ لیکن نہیں نہیں یہ امکان بھی بعید ہے ‘ ایسا نہیں ہوسکتا ۔

(آیت) ” فلما افل قال لا احب الافلین “۔ (6 : 76) ” جب ڈوب گیا تو بولا میں ڈوب جانے والوں کا گرویدہ نہیں ہوں۔ “ یہ ستارہ یا سیارہ تو لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہوجاتا ہے ؟ مخلوقات سے دور ہوجاتا ہے ‘ غائب ہوجاتا ہے ۔ اگر خدا ڈوب گیا اور نظروں سے اوجھل ہوگیا تو پھر کون ہے جو اس عالم کی تدبیر کرتا ہے ۔ رب ہو اور غائب ہو ‘ نہیں ‘ یہ ستاروہ رب نہیں ہوسکتا ۔ رب تو اوجھل نہیں ہو سکتا۔

یہ ہے فطری اور بدیہی استدلال ۔ یہ منطقی اور جدلیاتی فلسفیانہ استدلال نہیں ہے ۔ یہ وجدانی استدلال ہے جو براہ راست سامنے آتا ہے اور بڑی سہولت سے یقین پیدا کردیتا ہے ۔ پوری انسانیت اور پوری انسانی فکر اسے قبول کرلیتی ہے ۔ اور اسے گہرا یقین حاصل ہوجاتا ہے ۔

(آیت) ” لا احب الافلین “۔ (6 : 76) ”(میں ڈوب جانے والوں کو پسند نہیں کرتا) انسانی فطرت اور الہ العالمین کے درمیان حقیقی تعلق محبت کا تعلق ہے اور محبت کا یہ ربط قلبی ربط ہے ۔ اسی لئے فطرت ابراہیم ڈوب جانے والوں کے ساتھ محبت نہیں رکھتی ۔ لہذا انہیں الہ تسلیم نہیں کرتی ۔ اور فطرت کا تقاضا یہ ہے کہ جو الہ ہے وہ ہر وقت حاضر ومحبوب ہوگا ۔

اردو ترجمہ

پھر جب چاند چمکتا نظر آیا تو کہا یہ ہے میرا رب مگر جب وہ بھی ڈوب گیا تو کہا اگر میرے رب نے میر ی رہنمائی نہ کی ہوتی تو میں بھی گمراہ لوگوں میں شامل ہو گیا ہوتا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Falamma raa alqamara bazighan qala hatha rabbee falamma afala qala lain lam yahdinee rabbee laakoonanna mina alqawmi alddalleena

(آیت) ” فَلَمَّا رَأَی الْقَمَرَ بَازِغاً قَالَ ہَـذَا رَبِّیْ فَلَمَّا أَفَلَ قَالَ لَئِن لَّمْ یَہْدِنِیْ رَبِّیْ لأکُونَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّالِّیْنَ (77)

” پھر جب چاند چمکتا نظر آیا تو کہا یہ میرا رب ہے ‘ مگر جب وہ بھی ڈوب گیا تو کہا اگر میرے رب نے میری راہنمائی نہ کی ہوتی تو میں بھی گمراہ لوگوں میں شامل ہوگیا ہوتا ۔ “

سابقہ تجربہ بھی سامنے آتا ہے ۔ نظر یوں آتا ہے کہ گویا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس سے قبل چاند کو دیکھا تک نہ تھا ۔ گویا آپ کو پتہ تک نہ تھا کہ آپ کا خاندان اور آپ کی قوم چاند کی پرستش کرتی ہے ۔ اور یہ کہ آج کی رات بالکل ایک نئی رات تھی (غور وفکر کی رات)

(آیت) ” قال ھذا ربی “۔ (6 : 77) انہوں نے کہا یہ میرا رب ہے ۔ “ یہ پوری کائنات پر اپنا نور نچھاور کر رہا ہے ‘ آسمانوں میں اکیلا نظر آتا ہے اور اس کی روشنی بھی پسندیدہ ہے لیکن دیکھو یہ بھی غائب ہو رہا ہے لیکن رب کائنات جس سے فطرت ابراہیمی خوب واقف تھی ‘ وہ تو غائب نہیں ہوتا ‘ وہ تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دل میں جاگزیں تھا ۔

اس مقام پر آکر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) یہ محسوس کرتے ہیں کہ اس حل طلب مسئلے کو وہ ذاتی غوروفکر ہی سے حل نہیں کرسکتے اور انہیں اس رب ذوالجلال کی جانب سے معاونت کی ضرورت ہے جسے ان کی فطرت پار ہی ہے اور جو ان کے ضمیر میں بیٹھا ہے ۔ ہو رب جسے وہ محبوب رکھتے ہیں لیکن وہ آپ کے ادراک اور آپ کی فہم میں نہیں اتر رہا ۔ آپ یہ اعلان کرتے ہیں کہ اس مقام پر اگر ان کا رب انہیں ہدایت نہ کرے گا تو وہ صحیح راہ نہ پا سکیں گے ۔ اب اس رب کی جانب سے دست گیری کی ضرورت ہے ۔ اس کی جانب سے براہ راست راہنمائی کی ضرورت ہے ۔

(آیت) ” قال لئن لم یھدنی ربی لاکون من القوم الضالین “۔ (6 : 77) ” کہا اگر میرے رب نے میری راہنمائی نہ کی ہوتی تو میں بھی گمراہ لوگوں میں شامل ہوجاتا ۔ “

اردو ترجمہ

پھر جب سورج کو روشن دیکھا تو کہا یہ ہے میرا رب، یہ سب سے بڑا ہے مگر جب وہ بھی ڈوبا تو ابراہیمؑ پکار اٹھا "اے برادران قوم! میں اُن سب سے بیزار ہوں جنہیں تم خدا کا شریک ٹھیراتے ہو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Falamma raa alshshamsa bazighatan qala hatha rabbee hatha akbaru falamma afalat qala ya qawmi innee bareeon mimma tushrikoona

(آیت) ” فَلَمَّا رَأَی الشَّمْسَ بَازِغَۃً قَالَ ہَـذَا رَبِّیْ ہَـذَا أَکْبَرُ فَلَمَّا أَفَلَتْ قَالَ یَا قَوْمِ إِنِّیْ بَرِیْء ٌ مِّمَّا تُشْرِکُونَ (78) إِنِّیْ وَجَّہْتُ وَجْہِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِیْفاً وَمَا أَنَاْ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ (79)

” پھر جب سورج کو روشن دیکھا تو کہا یہ ہے میرا رب ہے یہ سب سے بڑا ہے ۔ مگر جب وہ بھی ڈوبا تو ابراہیم پکار اٹھا ” اے برادران قوم ! میں ان سب سے بیزار ہوں جنہیں تم خدا کا شریک ٹھہراتے ہو ۔ میں یکسو ہو کر اپنا رخ اس ہستی کی طرف کرلیا جس نے زمین اور آسمان کو پیدا کیا ہے اور میں ہر گز شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔ “

یہ تیسرا تجربہ ہے اور یہ تجربہ اس کائنات کے سب سے بڑے کرے کے ساتھ ہوا جسے دیکھا جاسکتا ہے ۔ جس کی ضو پاشیاں عیاں ہیں اور جس کی گرمی محسوس ہوتی ہے ۔ یہ سورج تو روز طلوع و غروب ہوتا رہتا ہے لیکن وہ آج حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نظروں میں بالکل ایک نئی چیز ہے ۔ (وہ نئے زاوئیے سے اسے دیکھ رہے ہیں) آج تو ابراہیم ان تمام چیزوں کو اس زاوئیے سے جانچ رہے ہیں کہ آیا ان میں سے کوئی چیز اس قابل ہے کہ اسے الہ تسلیم کیا جائے اس پر دل مطمئن بھی ہوجائے اور اس پریشانی اور حیرت انگیرمسئلے کے حل کی طویل جدوجہد میں یہ امر فیصلہ کن ہو۔

(آیت) ” قال ھذا ربی ھذا اکبر “۔ (6 : 78) ” کہا یہ میرا رب ہے ! یہ سب سے بڑا ہے ۔ “ لیکن تعجب ہے کہ یہ بھی غائب ہو رہا ہے ۔ اس مقام پر دونوں حقائق آپس میں جرٹے ہیں۔ اس اتصال والتباس سے ایک چنگاری نکلتی ہے ۔ یہاں فطرت صادقہ اور ذات کبریا کے درمیان اتصال ہوجاتا ہے ۔ قلب سلیم روشنی سے معمور ہوجاتا ہے اور پھر یہ روشنی پوری کائنات کو منور کردیتی ہے ۔ اس کے ذریعے انسان کی عقل وفکر بھی روشن ہوجاتی ہے ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو مطلوب الہی مل جاتا ہے ۔ جس طرح ان کی فطرت اور ان کے شعور میں وہ موجود تھا ۔ اس کا تصور ان کے فہم وادراک میں بھی آجاتا ہے اور فطرت کے شعور احساس اور عقلی ادراک کے درمیان اتحاد وتوافق ہوجاتا ہے ۔

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنا رب والہ مل جاتا ہے ۔ لیکن یہ الہ کسی چمکدار ستارے کی شکل میں بھی نہیں ۔ کسی طلوع ہونے والے چاند کی شکل میں نہیں ‘ بلند ہونے والے سورج کی شکل میں نہیں ‘ کسی ایسی شکل میں نہیں جسے آنکھ دیکھ سکے ‘ کسی ایسی صورت میں بھی نہیں جسے انسان چھو سکے ‘ بلکہ یہ الہ ان کے شعور اور فطرت میں ہے ‘ ان کی عقل اور فہم میں ہے ‘ اس پوری کائنات میں ہر جگہ موجود ہے ۔ وہ ان تمام مخلوقات کا خالق ہے جسے آنکھ دیکھ سکتی ہے جسے محسوس کیا جاسکتا ہے یا جس کا انسانی عقل ادراک کرسکتی ہے ۔

اب وہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کی اور ان کی قوم کے درمیان اب مکمل جدائی کا وقت آگیا ہے ۔ وقت آگیا ہے کہ آپ ان تمام معبودات باطلہ سے اپنی اعلانیہ برات کا اظہار کردیں اور دو ٹوک انداز میں بغیر کسی لاگ لپیٹ کے ان کے نقطہ نظر اور ان کے منہاج حیات اور مشرکانہ عقائد وخیالات کو یکسر رد کردیں ۔ یہ بات نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ یہ لوگ ذات کبریائی کے بالکل منکر نہ تھے لیکن صورت حال ایسی تھی کہ وہ لوگ حقیقی الہ کے ساتھ ان جھوٹے خداؤں کو شریک کرتے تھے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) الہ العالمین کی طرف اس طرح متوجہ ہوئے تھے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتے تھے ۔

” تو ابراہیم پکار اٹھا ” اے برادران قوم ! میں ان سب سے بیزار ہوں جنہیں تم خدا کا شریک ٹھہراتے ہو ۔ میں یکسو ہو کر اپنا رخ اس ہستی کی طرف کرلیا جس نے زمین اور آسمان کو پیدا کیا ہے اور میں ہر گز شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔ “

اب گویا ان کا رخ آسمانوں اور زمینوں کے پیدا کرنے والے کی طرف مڑ گیا اور اس قدر یکسوئی کے ساتھ مڑا کہ اس میں شرک کاشائبہ تک نہ رہا ۔ انہوں نے فیصلہ کن بات کردیں یقین محکم کا اظہار کردیا اور آخری طور پر اپنا رخ متعین کرلیا ۔ اب نہ تو کوئی تردو ہے ‘ نہ الجھن ۔ عقل وادراک اس طرح روشن ہوگئے جس طرح اس کا شعور اور ضمیر روشن تھے ۔

ایک بار پھر ہم آنکھوں کو خیرہ کردینے والا خوش کن منظر دیکھ رہے ہیں ۔ یہ ایک نظریہ حیات کا منظر ہے جو نفس انسانی کے اندر نمودار ہوگیا ہو ‘ جو کسی دل پر غالب اور حاوی ہوگیا ہو ‘ جو پوری طرح واضح اور نمایاں ہوگیا ہو اور اس سے ہر قسم کا غبار چھٹ گیا ہو۔ یہ منظر ہمارے سامنے آتا ہے اور اس کی حالت یہ ہے کہ ایک انسان کی شخصیت پر وہ چھایا ہوا ہے اور اس نے اس شخصیت کے ہر پہلو کو ڈھانپ لیا ہے ۔ اس شخصیت کا کاسہ دل کو شراب اطمینان سے بھر دیا ہے اب اسے اپنے اس رب پر پورا اعتماد ہے جسے اس نے طور پر پالیا ہے اور وہ اس کے اردگرد کے وجود پر چھایا ہوا ہے ۔ یہ ایک ایسا منظر ہے جو سیاق کلام کے آنے والے جملوں کے اندر اچھی طرح نمایاں ہے ۔

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اب اپنے ضمیر ‘ اپنی عقل اور اپنے اردگرد پھیلے ہوئے وجود کے اندر اپنے رب کو دیکھ رہے ہیں ۔ انکی مشکل حل ہوگئی ہے اور ان کا دل مطمئن ہے ۔ اب وہ محسوس کر رہے ہیں کہ دست قدرت اس راہ میں ان راہنمائی کر رہا ہے اب تو ان کی قوم سامنے آتی ہے اور یہ قوم ان نتائج کو چیلنج کر رہی ہے جن تک وہ جاپہنچے ہیں اور انہیں ان کا یقین حاصل ہوگیا ہے ۔ ان کے دل میں عقیدہ توحید بیٹھ گیا ہے ۔ یہ قوم اب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنے خداؤں سے ڈراتی ہے کہ یہ الہ انہیں نقصان پہنچائیں گے اور آپ ان کو نہایت ہی اعتماد ایک راسخ العقیدہ مسلم کی طرح جواب دیتے ہیں اور یہ جواب وہ ظاہری اور باطنی دونوں طرح اپنے رب پر اپنے عقیدے کو پیش نظر رکھتے ہوئے دیتے ہیں ۔

اردو ترجمہ

میں نے تویکسو ہو کر اپنا رخ اُس ہستی کی طرف کر لیا جس نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا ہے اور میں ہرگز شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Innee wajjahtu wajhiya lillathee fatara alssamawati waalarda haneefan wama ana mina almushrikeena

اردو ترجمہ

اس کی قوم اس سے جھگڑنے لگی تو اس نے قوم سے کہا "کیا تم لوگ اللہ کے معاملہ میں مجھ سے جھگڑتے ہو؟ حالانکہ اس نے مجھے راہ راست دکھا دی ہے اور میں تمہارے ٹھیرائے ہوئے شریکوں سے نہیں ڈرتا، ہاں اگر میرا رب کچھ چاہے تو وہ ضرور ہو سکتا ہے میرے رب کا علم ہر چیز پر چھایا ہوا ہے، پھر کیا تم ہوش میں نہ آؤ گے؟

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wahajjahu qawmuhu qala atuhajjoonnee fee Allahi waqad hadani wala akhafu ma tushrikoona bihi illa an yashaa rabbee shayan wasiAAa rabbee kulla shayin AAilman afala tatathakkaroona

(آیت) ” نمبر 80 تا 81۔

جب انسان کی فطرت راہ سلامتی سے ہٹ جاتی ہے تو وہ گمراہ ہو کر غلط راستوں پر پڑجاتی ہے ۔ وہ ان راستوں پر بہت دور نکل جاتی ہے ۔ اب زاویہ کشادہ ہوتا چلا جاتا ہے اور اس کے بازو ایک دوسرے سے دور ہوتے جاتے ہیں ۔ جس نقطے سے یہ فطرت راہ مستقیم سے ہٹ جاتی ہے وہ دور رہ جاتا ہے ۔ خود انسان اس راہ سے اتنا دور نکل جاتا ہے کہ اس کے لئے لوٹنا مشکل ہوجاتا ہے ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس قوم کو دیکھو ‘ یہ بتوں ‘ ستاروں اور سیاروں کی پرستش کررہے ہیں لیکن وہ اس تبدیلی اور تغیر کو محسوس کرنے اور سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی زندگی میں نمودار ہوئی ۔ اگر وہ معمولی غور وفکر بھی کرتے تو وہ اسے محسوس کرنے لگتے ۔ اس کے بجائے انہوں نے الٹا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے مجادلہ شروع کردیا اور احتجاج شروع کردیا ‘ حالانکہ وہ خود نہایت ہی بودے تصورات کے حامل تھے اور واضح طور پر گمراہ تھے ۔

لیکن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پکے مومن تھے ‘ اپنے دل و دماغ میں اور پوری کائنات میں اللہ کو پا رہے ہیں اور وہ پورے قلبی اطمینان کے ساتھ ان کو جواب دیتے ہیں۔

(آیت) ” وَحَآجَّہُ قَوْمُہُ قَالَ أَتُحَاجُّونِّیْ فِیْ اللّہِ وَقَدْ ہَدَانِ (6 : 80)

” تم مجھ سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو ‘ میں نے تو محسوس کیا ہے کہ وہ ہاتھ پکڑ کر مجھے راہ راست پر لا رہا ہے ‘ ‘ میری چشم بصیرت کھول رہا ہے ‘ وہ اپنی طرف مجھے بلا رہا ہے ۔ مجھے اپنی معرفت نصیب کر کے اپنا مقرب بنا رہا ہے ۔ جب اس نے میرے ہاتھ پکڑ کر مجھے ہدایت دی تو وہ موجود ہے ‘ یہ میرے لئے نفسیاتی اور وجدانی دلیل ہے ۔ میں اپنے ضمیر میں اسے پاتا ہوں ‘ میں اپنے فہم کے مطابق اس کے بارے میں سوچتا ہوں اور میں اپنے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات میں اسے دیکھتا ہوں ۔ ایک بات جو میری نفسیات اور میری ضمیر و شعور میں موجود ہے کیا اس کے بارے میں تم مجھ سے الجھتے ہو ؟ میں نے کب تم سے دلیل طلب کی ہے ؟ اس نے خود مجھے اپنی طرف راہنمائی دی ہے اور یہی میری دلیل ہے ۔

(آیت) ” وَلاَ أَخَافُ مَا تُشْرِکُونَ بِہِ “ (6 : 80)

” اور میں تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں سے نہیں ڈرتا۔ “

وہ شخص جس نے اللہ کو پالیا ہو ‘ ہو شریکوں سے کیسے ڈرسکتا ہے ۔ وہ کس سے ڈرے اور کیوں ڈرے ؟ اللہ کے سوا تمام قوتیں ہیچ ہیں اور اللہ کی بادشاہت کے سوا تمام بادشاہتیں اس قابل ہی نہیں کہ ان سے خوف کھایا جائے ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے پختہ ایمان اور اللہ کے مطیع فرمان ہونے کے باوجود کسی بات کو ماسوائے مشیت الہی دو ٹوک انداز میں نہ کہتے تھے ۔ وہ ہر معاملے میں الا ماشاء اللہ کہتے تھے اور ہر بات کو اللہ کے علم کی طرف لوٹاتے تھے ۔

(آیت) ” إِلاَّ أَن یَشَاء َ رَبِّیْ شَیْْئاً وَسِعَ رَبِّیْ کُلَّ شَیْْء ٍ عِلْماً (6 : 80)

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی جانب سے حمایت ورعایت کو اللہ کی مشیت پر چھوڑتے ہیں اور اعلان فرماتے ہیں کہ وہ مشرکین کے الہوں سے ذرہ بھر خوف نہیں کھاتے کیونکہ ان کا تکیہ اللہ کی حفاظت وحمایت پر ہے ۔ انہیں پورا یقین ہے کہ انہیں اس وقت تک کوئی تکلیف نہیں پہنچ سکتی جب تک اللہ نہ چاہے اور اللہ علیم ہے اور اس کا علم ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے ۔

(آیت) ” وَکَیْْفَ أَخَافُ مَا أَشْرَکْتُمْ وَلاَ تَخَافُونَ أَنَّکُمْ أَشْرَکْتُم بِاللّہِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِہِ عَلَیْْکُمْ سُلْطَاناً فَأَیُّ الْفَرِیْقَیْْنِ أَحَقُّ بِالأَمْنِ إِن کُنتُمْ تَعْلَمُونَ (81)

ٍ ” اور آخر میں تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں سے کیسے ڈرو جبکہ تم اللہ کے ساتھ ان چیزوں کو خدائی میں شریک بناتے ہوئے نہیں ڈرتے جن کے لئے اس نے تم پر کوئی سند نازل نہیں کی ؟ ہم دونوں فریقوں میں سے کون زیادہ بےخوفی اور اطمینان کا مستحق ہے بتاؤ اگر تم علم رکھتے ہو۔ “

یہ اس شخص کا استدلال ہے جس نے اس دنیا کے حقائق کا ادراک کرلیا ہے ۔ اگر کوئی ڈرتا ہے تو ڈرے ‘ ابراہیم نہیں ڈرتا ‘ کیونکہ ابراہیم تو وہ مومن ہے جس نے اپنا ہاتھ اللہ کے ہاتھ میں دے دیا ہے اور اپنے راستے پر چل رہا ہے ۔ پھر وہ موجودہ عاجز و لاچار الہوں سے کیوں ڈرے ‘ چاہے وہ کسی بھی قسم کے ہوں ؟ اس لئے کہ الہ قہار وجبار حکمرانوں کی شکل میں سامنے آتے ہیں جن کی گرفت بظاہر بہت ہی سخت ہوتی ہے ۔ لیکن اللہ کی قدرت کے سامنے ان کی کچھ حیثیت نہیں ہوتی ۔ وہاں یہ بھی عاجز ہوتے ہیں اس لئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جیسے موحد ایسے ضعیف اور جھوٹے خداؤں سے کس طرح ڈر سکتے ہیں حالانکہ ڈرنا مشرکیں کو چاہئے کہ انہوں نے بغیر ثبوت وبرہان کے اللہ کے ساتھ ان ضعیف خداؤں کو شریک بنا لیا ہے اور یہ اس قدر ضعیف ہیں کہ ان کے اندر کوئی قوت نہیں ہے ۔ یہ نہایت ہی اہم سوال ہے کہ ہم دونوں فریقوں میں سے کون سا فریق زیادہ مامون اور بےخوف ہے ؟ اللہ پر ایمان رکھنے والا یا ان ضعیف بتوں کو الہ ماننے والا جن کو وہ اللہ جل شانہ کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہے اور آنکھوں سے دیکھ بھی رہے ہیں کہ ان کو کوئی اقتدار اور قوت حاصل نہیں ہے ۔ افسوس ہے کہ ان کے پاس فہم وادراک کی کوئی بصیرت نہیں ہے اس سوال کے جواب میں وحی آتی ہے اور اس قضیے کا فیصلہ یوں ہوتا ہے ۔

اردو ترجمہ

اور آخر میں تمہارے ٹھیرائے ہوئے شریکوں سے کیسے ڈروں جبکہ تم اللہ کے ساتھ ان چیزوں کو خدائی میں شریک بناتے ہوئے نہیں ڈرتے جن کے لیے اس نے تم پر کوئی سند نازل نہیں کی ہے؟ ہم دونوں فریقوں میں سے کون زیادہ بے خوفی و اطمینان کا مستحق ہے؟ بتاؤ اگر تم کچھ علم رکھتے ہو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wakayfa akhafu ma ashraktum wala takhafoona annakum ashraktum biAllahi ma lam yunazzil bihi AAalaykum sultanan faayyu alfareeqayni ahaqqu bialamni in kuntum taAAlamoona
137