سورۃ الانعام: آیت 80 - وحاجه قومه ۚ قال أتحاجوني... - اردو

آیت 80 کی تفسیر, سورۃ الانعام

وَحَآجَّهُۥ قَوْمُهُۥ ۚ قَالَ أَتُحَٰٓجُّوٓنِّى فِى ٱللَّهِ وَقَدْ هَدَىٰنِ ۚ وَلَآ أَخَافُ مَا تُشْرِكُونَ بِهِۦٓ إِلَّآ أَن يَشَآءَ رَبِّى شَيْـًٔا ۗ وَسِعَ رَبِّى كُلَّ شَىْءٍ عِلْمًا ۗ أَفَلَا تَتَذَكَّرُونَ

اردو ترجمہ

اس کی قوم اس سے جھگڑنے لگی تو اس نے قوم سے کہا "کیا تم لوگ اللہ کے معاملہ میں مجھ سے جھگڑتے ہو؟ حالانکہ اس نے مجھے راہ راست دکھا دی ہے اور میں تمہارے ٹھیرائے ہوئے شریکوں سے نہیں ڈرتا، ہاں اگر میرا رب کچھ چاہے تو وہ ضرور ہو سکتا ہے میرے رب کا علم ہر چیز پر چھایا ہوا ہے، پھر کیا تم ہوش میں نہ آؤ گے؟

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wahajjahu qawmuhu qala atuhajjoonnee fee Allahi waqad hadani wala akhafu ma tushrikoona bihi illa an yashaa rabbee shayan wasiAAa rabbee kulla shayin AAilman afala tatathakkaroona

آیت 80 کی تفسیر

(آیت) ” نمبر 80 تا 81۔

جب انسان کی فطرت راہ سلامتی سے ہٹ جاتی ہے تو وہ گمراہ ہو کر غلط راستوں پر پڑجاتی ہے ۔ وہ ان راستوں پر بہت دور نکل جاتی ہے ۔ اب زاویہ کشادہ ہوتا چلا جاتا ہے اور اس کے بازو ایک دوسرے سے دور ہوتے جاتے ہیں ۔ جس نقطے سے یہ فطرت راہ مستقیم سے ہٹ جاتی ہے وہ دور رہ جاتا ہے ۔ خود انسان اس راہ سے اتنا دور نکل جاتا ہے کہ اس کے لئے لوٹنا مشکل ہوجاتا ہے ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس قوم کو دیکھو ‘ یہ بتوں ‘ ستاروں اور سیاروں کی پرستش کررہے ہیں لیکن وہ اس تبدیلی اور تغیر کو محسوس کرنے اور سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی زندگی میں نمودار ہوئی ۔ اگر وہ معمولی غور وفکر بھی کرتے تو وہ اسے محسوس کرنے لگتے ۔ اس کے بجائے انہوں نے الٹا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے مجادلہ شروع کردیا اور احتجاج شروع کردیا ‘ حالانکہ وہ خود نہایت ہی بودے تصورات کے حامل تھے اور واضح طور پر گمراہ تھے ۔

لیکن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پکے مومن تھے ‘ اپنے دل و دماغ میں اور پوری کائنات میں اللہ کو پا رہے ہیں اور وہ پورے قلبی اطمینان کے ساتھ ان کو جواب دیتے ہیں۔

(آیت) ” وَحَآجَّہُ قَوْمُہُ قَالَ أَتُحَاجُّونِّیْ فِیْ اللّہِ وَقَدْ ہَدَانِ (6 : 80)

” تم مجھ سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو ‘ میں نے تو محسوس کیا ہے کہ وہ ہاتھ پکڑ کر مجھے راہ راست پر لا رہا ہے ‘ ‘ میری چشم بصیرت کھول رہا ہے ‘ وہ اپنی طرف مجھے بلا رہا ہے ۔ مجھے اپنی معرفت نصیب کر کے اپنا مقرب بنا رہا ہے ۔ جب اس نے میرے ہاتھ پکڑ کر مجھے ہدایت دی تو وہ موجود ہے ‘ یہ میرے لئے نفسیاتی اور وجدانی دلیل ہے ۔ میں اپنے ضمیر میں اسے پاتا ہوں ‘ میں اپنے فہم کے مطابق اس کے بارے میں سوچتا ہوں اور میں اپنے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات میں اسے دیکھتا ہوں ۔ ایک بات جو میری نفسیات اور میری ضمیر و شعور میں موجود ہے کیا اس کے بارے میں تم مجھ سے الجھتے ہو ؟ میں نے کب تم سے دلیل طلب کی ہے ؟ اس نے خود مجھے اپنی طرف راہنمائی دی ہے اور یہی میری دلیل ہے ۔

(آیت) ” وَلاَ أَخَافُ مَا تُشْرِکُونَ بِہِ “ (6 : 80)

” اور میں تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں سے نہیں ڈرتا۔ “

وہ شخص جس نے اللہ کو پالیا ہو ‘ ہو شریکوں سے کیسے ڈرسکتا ہے ۔ وہ کس سے ڈرے اور کیوں ڈرے ؟ اللہ کے سوا تمام قوتیں ہیچ ہیں اور اللہ کی بادشاہت کے سوا تمام بادشاہتیں اس قابل ہی نہیں کہ ان سے خوف کھایا جائے ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے پختہ ایمان اور اللہ کے مطیع فرمان ہونے کے باوجود کسی بات کو ماسوائے مشیت الہی دو ٹوک انداز میں نہ کہتے تھے ۔ وہ ہر معاملے میں الا ماشاء اللہ کہتے تھے اور ہر بات کو اللہ کے علم کی طرف لوٹاتے تھے ۔

(آیت) ” إِلاَّ أَن یَشَاء َ رَبِّیْ شَیْْئاً وَسِعَ رَبِّیْ کُلَّ شَیْْء ٍ عِلْماً (6 : 80)

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی جانب سے حمایت ورعایت کو اللہ کی مشیت پر چھوڑتے ہیں اور اعلان فرماتے ہیں کہ وہ مشرکین کے الہوں سے ذرہ بھر خوف نہیں کھاتے کیونکہ ان کا تکیہ اللہ کی حفاظت وحمایت پر ہے ۔ انہیں پورا یقین ہے کہ انہیں اس وقت تک کوئی تکلیف نہیں پہنچ سکتی جب تک اللہ نہ چاہے اور اللہ علیم ہے اور اس کا علم ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے ۔

(آیت) ” وَکَیْْفَ أَخَافُ مَا أَشْرَکْتُمْ وَلاَ تَخَافُونَ أَنَّکُمْ أَشْرَکْتُم بِاللّہِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِہِ عَلَیْْکُمْ سُلْطَاناً فَأَیُّ الْفَرِیْقَیْْنِ أَحَقُّ بِالأَمْنِ إِن کُنتُمْ تَعْلَمُونَ (81)

ٍ ” اور آخر میں تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں سے کیسے ڈرو جبکہ تم اللہ کے ساتھ ان چیزوں کو خدائی میں شریک بناتے ہوئے نہیں ڈرتے جن کے لئے اس نے تم پر کوئی سند نازل نہیں کی ؟ ہم دونوں فریقوں میں سے کون زیادہ بےخوفی اور اطمینان کا مستحق ہے بتاؤ اگر تم علم رکھتے ہو۔ “

یہ اس شخص کا استدلال ہے جس نے اس دنیا کے حقائق کا ادراک کرلیا ہے ۔ اگر کوئی ڈرتا ہے تو ڈرے ‘ ابراہیم نہیں ڈرتا ‘ کیونکہ ابراہیم تو وہ مومن ہے جس نے اپنا ہاتھ اللہ کے ہاتھ میں دے دیا ہے اور اپنے راستے پر چل رہا ہے ۔ پھر وہ موجودہ عاجز و لاچار الہوں سے کیوں ڈرے ‘ چاہے وہ کسی بھی قسم کے ہوں ؟ اس لئے کہ الہ قہار وجبار حکمرانوں کی شکل میں سامنے آتے ہیں جن کی گرفت بظاہر بہت ہی سخت ہوتی ہے ۔ لیکن اللہ کی قدرت کے سامنے ان کی کچھ حیثیت نہیں ہوتی ۔ وہاں یہ بھی عاجز ہوتے ہیں اس لئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جیسے موحد ایسے ضعیف اور جھوٹے خداؤں سے کس طرح ڈر سکتے ہیں حالانکہ ڈرنا مشرکیں کو چاہئے کہ انہوں نے بغیر ثبوت وبرہان کے اللہ کے ساتھ ان ضعیف خداؤں کو شریک بنا لیا ہے اور یہ اس قدر ضعیف ہیں کہ ان کے اندر کوئی قوت نہیں ہے ۔ یہ نہایت ہی اہم سوال ہے کہ ہم دونوں فریقوں میں سے کون سا فریق زیادہ مامون اور بےخوف ہے ؟ اللہ پر ایمان رکھنے والا یا ان ضعیف بتوں کو الہ ماننے والا جن کو وہ اللہ جل شانہ کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہے اور آنکھوں سے دیکھ بھی رہے ہیں کہ ان کو کوئی اقتدار اور قوت حاصل نہیں ہے ۔ افسوس ہے کہ ان کے پاس فہم وادراک کی کوئی بصیرت نہیں ہے اس سوال کے جواب میں وحی آتی ہے اور اس قضیے کا فیصلہ یوں ہوتا ہے ۔

آیت 80 وَحَآجَّہٗ قَوْمُہٗ ط۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قوم نے آپ علیہ السلام سے حجت بازی شروع کردی کہ یہ تم نے کیا کہہ دیا ہے ‘ تمام دیوی دیوتاؤں کی نفی کردی ‘ سارے ستاروں اور چاند سورج کی ربوہیت سے انکار کردیا ! اب ان دیوی دیوتاؤں اور ستاروں کی نحوست تم پر پڑے گی۔ اب تم انجام کے لیے تیار ہوجاؤ ‘ تمہاری شامت آنے ہی والی ہے۔ قَالَ اَتُحَآجُّوْٓنِّیْ فِی اللّٰہِ وَقَدْ ہَدٰنِط وَلَآ اَخَافُ مَا تُشْرِکُوْنَ بِہٖٓ اِلَّآ اَنْ یَّشَآءَ رَبِّیْ شَیْءًا ط۔ہاں اگر اللہ چاہے کہ مجھے کوئی تکلیف پہنچے ‘ کوئی آزمائش آجائے تو ٹھیک ہے ‘ کیونکہ وہ میرا خالق اور میرا رب ہے ‘ لیکن اس کے علاوہ مجھے کسی کا کوئی خوف نہیں ‘ نہ تمہاری کسی دیوی کا ‘ نہ کسی دیوتا کا ‘ نہ کسی ستارے کی نحوست کا اور نہ کسی اور کا۔ وَسِعَ رَبِّیْ کُلَّ شَیْءٍ عِلْمًاط اَفَلاَ تَتَذَکَّرُوْنَ میرے رب کا علم ہر شے کو محیط ہے۔ تو کیا تم لوگ سوچتے نہیں ہو ‘ عقل سے کام نہیں لیتے ہو ؟

مشرکین کا توحید سے فرار ابراہیم ؑ کی سچی توحید کے دلائل سن کر پھر بھی مشرکین آپ سے بحث جاری رکھتے ہیں تو آپ ان سے فرماتے ہیں تعجب ہے کہ تم مجھ سے اللہ جل جلالہ کے بارے میں جھگڑا کر رہے ہو ؟ حالانکہ وہ یکتا اور لا شریک ہے اس نے مجھے راہ دکھا دی ہے اور دلیل عطا فرمائی ہے میں یقینا جانتا ہوں کہ تمہارے یہ سب معبود محض بےبس اور بےطاقت ہیں، میں نہ تو تمہاری فضول اور باطل باتوں میں آؤں گا نہ تمہاری دھمکیاں سچی جانوں گا، جاؤ تم سے اور تمہارے باطل معبودوں سے جو ہو سکے کرلو۔ ہرگز ہرگز کمی نہ کرو بلکہ جلدی کر گزرو اگر تمہارے اور ان کے قبضے میں میرا کوئی نقصان ہے تو جاؤ پہنچا دو۔ میرے رب کی منشا بغیر کچھ بھی نہیں ہوسکتا ضرر نفع سب اسی کی طرف سے ہے تمام جیزیں اسی کے علم میں ہیں اس پر چھوٹی سے جھوتی چیز بھی پوشیدہ نہیں۔ افسوس اتنی دلیلیں سن کر بھی تمہارے دل نصیحت حاصل نہیں کرتے۔ حضور ہود ؑ نے بھی اپنی قوم کے سامنے یہی دلیل پیش کی تھی۔ قرآن میں موجود ہے کہ ان کی قوم نے ان سے کہا اے ہود تم کوئی دلیل تو لائے نہیں ہو اور صرف تمہارے قول سے ہم اپنے معبودوں سے دست بردار نہیں ہوسکتے نہ ہم تجھ پر ایمان لائیں گے۔ ہمارا اپنا خیال تو یہ ہے کہ ہمارے معبودوں نے تجھے کچھ کردیا ہے۔ آپ نے جواب دیا کہ میں اللہ کو گواہ کرتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ تم جن کو بھی اللہ کا شریک ٹھہرا رہے ہو، میں سب سے بیزار ہوں۔ جاؤ تم سب مل کر جو کچھ مکر میرے ساتھ کرنا چاہتے ہو وہ کرلو اور مجھے مہلت بھی نہ دو ، میں نے تو اس رب پر توکل کرلیا ہے جو تمہارا میرا سب کا پالنہار ہے۔ تمام جانداروں کی پیشانیاں اسی کے ہاتھ میں ہیں۔ سمجھو اور سوچو تو سہی کہ میں تمہارے ان باطل معبودوں سے کیوں ڈراؤں گا ؟ جبکہ تم اس اکیلے اللہ وحدہ لا شریک سے نہیں ڈرتے اور کھلم کھلا اس کی ذات کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہرا رہے ہو۔ تم ہی بتلاؤ کہ ہم تم میں سے امن کا زیادہ حقدار کون ہے ؟ دلیل میں اعلی کون ہے ؟ یہ آیت مثل آیت (اَمْ لَهُمْ شُرَكَاۗءُ ڔ فَلْيَاْتُوْا بِشُرَكَاۗىِٕهِمْ اِنْ كَانُوْا صٰدِقِيْنَ) 68۔ القلم :41) اور آیت (اِنْ هِىَ اِلَّآ اَسْمَاۗءٌ سَمَّيْتُمُوْهَآ اَنْتُمْ وَاٰبَاۗؤُكُمْ مَّآ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ) 53۔ النجم :23) کے ہے مطلب یہ ہے کہ اس کا بندہ جو خیرو شر، کا نفع و ضر کا مالک ہے امن والا ہوگا یا اس کا بندہ جو محض بےبس اور بےقدرت ہے قیامت کے دن کے عذابوں سے امن میں رہے گا پھر جناب باری تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو لوگ صرف اللہ ہی کی عبادت کریں اور خلوص کے ساتھ دینداری کریں رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں امن وامان اور راہ راست والے یہی لوگ ہیں جب یہ آیت اتری تو صحابہ ظلم کا لفط سن کر چونک اٹھے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ہم میں سے ایسا کون ہے جس نے کوئی گناہ ہی نہ کیا ہو ؟ اس پر آیت (اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ) 31۔ لقمان :13) نازل ہوئی یعنی یہاں مراد ظلم سے شرک ہے (بخاری شریف) اور روایت میں ہے کہ حضور نے ان کے اس سوال پر فرمایا کیا تم نے اللہ کے نیک بندے کا یہ قول نہیں سنا کہ اے میرے پیارے بچے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا شرک بڑا بھاری ظلم ہے۔ پس مراد یہاں ظلم سے شرک ہے اور روایت میں ہے کہ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ تم جو سمجھ رہے ہو وہ مقصد نہیں اور حدیث میں آپ کا خود لظلم کی تفسیر بشرک سے کرنا مروی ہے۔ بہت سے صحابیوں سے بہت سی سندوں کے ساتھ بہت سی کتابوں میں یہ حدیث مروی ہے۔ ایک روایت میں حضور کا فرمان ہے کہ مجھ سے کہا گیا کہ تو ان ہی لوگوں میں سے ہے۔ مسند احمد میں زاذان اور جریر ؓ سے مروی ہے کہ اے باپ کیا آپ آزر بت کو معبود مانتے ہیں ؟ لیکن یہ دور کی بات ہے خلاف لغت ہے کیونکہ حرف استفہام کے بعد والا اپنے سے پہلے والے میں عامل نہیں ہوتا اس لئے کہ اس کے لئے ابتداء کلام کا حق ہے، عربی کا یہ تو مشہور قاعدہ ہے، الغرض حضرت ابراہیم خلیل اللہ ؑ اپنے باپ کو وعظ سنا رہے ہیں اور انہیں بت پرستی سے روک رہے ہیں لیکن وہ باز نہ آئے۔ آپ فرماتے ہیں کہ یہ تو نہایت بری بات ہے کہ تم ایک بت کے سامنے الحاج اور عاجزی کرو۔ جو اللہ تعالیٰ کا حق ہے یقینا اس مسلک کے لوگ سب کے سب بہکے ہوئے اور راہ بھٹکے ہوئے ہیں اور آیت میں ہے کہ صدیق نبی ابراہیم خلیل نے اپنے والد سے فرمایا ابا آپ ان کی پرستش کیوں کرتے ہیں جو نہ سنیں نہ دیکھیں نہ کچھ فائدہ پہنچائیں، ابا میں آپ کو وہ کھری بات سناتا ہوں جو اب تک آپ کے علم میں نہیں آئی تھی، آپ میری بات مان لیجئے میں آپ کو صحیح راہ کی رہنمائی کروں گا، ابا شیطان کی عبادت سے ہٹ جائیے، وہ تو رحمان کا نافرمان ہے، ابا مجھے تو ڈر لگتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو آپ پر اللہ کا کوئی عذاب آجائے اور آپ شیطان کے رفیق کار بن جائیں۔ باپ نے جواب دیا کہ ابراہیم کیا تو میرے معبودوں سے ناراض ہے ؟ سن اگر تو اس سے باز نہ آیا تو میں تجھے سنگسار کر دوں گا، پس اب تو مجھ سے الگ ہوجا۔ آپ نے فرمایا اچھا میرا سلام لو میں تو اب بھی اپنے پروردگار سے تمہاری معافی کی درخواست کروں گا وہ مجھ پر بہت مہربان ہے، میں تم سب کو اور تمہارے ان معبودوں کو جو اللہ کے سوا ہیں چھوڑتا ہوں اپنے رب کی عبادت میں مشغول ہوتا ہوں ناممکن ہے کہ میں اس کی عبادت بھی کروں اور پھر بےنصیب اور خالی ہاتھ رہوں چناچہ حسب وعدہ خلیل اللہ اپنے والد کی زندگی تک استغفار کرتے رہے لیکن جبکہ مرتے ہوئے بھی وہ شرک سے باز نہ آئے تو آپ نے استغفار بند کردیا اور بیزار ہوگئے، چناچہ قرآن کریم میں ہے حضرت ابراہیم کا اپنے باپ کے لئے استغفار کرنا ایک وعدے کی بنا پر تھا جب آپ پر یہ کھل گیا کہ وہ دشمن اللہ ہے تو آپ اس سے بیزار اور بری ہوگئے، ابراہیم بڑے ہی اللہ سے ڈرنے والے نرم دل حلیم الطبع تھے، حدیث صحیح میں ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ قیامت کے دن اپنے باپ آزر سے ملاقات کریں گے آزر آپ کو دیکھ کر کہے گا بیٹا آج میں تیری کسی بات کی مخالفت نہ کروں گا، آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں گے کہ اے اللہ تو نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ قیامت کے دن تو مجھے رسوانہ کرے گا اس سے زیادہ سوائی کیا ہوگی کہ میرا باپ رحمت سے دور کردیا جائے، آپ سے فرمایا جائے گا کہ تم اپنے پیچھے کی طرف دیکھو، دیکھیں گے کہ ایک بجو کیچڑ میں لتھڑا کھڑا ہے اس کے پاؤں پکڑے جائیں گے اور آگ میں ڈال دیا جائے گا، مخلوق کو دیکھ کر خالق کی وحدانیت سمجھ میں آجائے اس لئے ہم نے ابراہیم کو آسمان و زمین کی مخلوق دکھا دی جیسے اور آیت میں ہے آیت (اَوَلَمْ يَنْظُرُوْا فِيْ مَلَكُوْتِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَيْءٍ ۙ وَّاَنْ عَسٰٓي اَنْ يَّكُوْنَ قَدِ اقْتَرَبَ اَجَلُهُمْ) 7۔ الاعراف :185) اور جگہ ہے آیت (اَفَلَمْ يَرَوْا اِلٰى مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ ۭاِنْ نَّشَاْ نَخْسِفْ بِهِمُ الْاَرْضَ اَوْ نُسْقِطْ عَلَيْهِمْ كِسَفًا مِّنَ السَّمَاۗءِ) 34۔ سبأ :9) یعنی لوگوں کو آسمان و زمین کی مخلوق پر عبرت کی نظریں ڈالنی چاہئیں انہیں اپنے آگے پیچھے آسمان و زمین کو دیکھنا چاہیے اگر ہم چاہیں تو انہیں زمین میں دھنسا دیں اگر چاہیں آسمان کا ٹکڑا ان پر گرا دیں رغبت و رجو والے بندوں کیلئے اس میں نشانیاں ہیں۔ مجاہد وغیرہ سے منقول ہے کہ آسمان حضرت ابراہیم کے سامنے کھول دیئے گئے عرش تک آپ کی نظریں پہنچیں۔ حجاب اٹھا دیئے گئے اور آپ نے سب کچھ دیکھا، بندوں کو گناہوں میں دیکھ کر ان کے لئے بد دعا کرنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا تجھ سے زیادہ میں ان پر رحیم ہوں بہت ممکن ہے کہ یہ توبہ کرلیں اور بد اعمالیوں سے ہٹ جائیں۔ پس یہ دکھلانا موقوف کردیا گیا ممکن ہے یہ کشف کے طور پر ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے مراد معلوم کرانا اور حقائق سے متعارف کرا دینا ہو۔ چناچہ مسند احمد اور ترمذی کی ایک حدیث میں حضور کے خواب کا ذکر ہے کہ میرے پاس میرا رب بہت اچھی صورت میں آیا اور مجھ سے دریافت فرمایا کہ اونچی جماعت کے فرشتے اس وقت کس بارے میں گفتگو کر رہے ہیں ؟ میں نے اپنی لا علمی ظاہر کی تو اللہ تعالیٰ نے اپنی ہتھیلی میری دونوں بازوؤں کے درمیان رکھ دی یہاں تک کہ اس کی پوریوں رب کی بات صادق آگئی ہے ان کے پاس چاہے تم تمام نشانیاں لے آؤ پھر بھی انہیں ایمان نصیب نہیں ہوگا یہاں تک کہ وہ اپنی آنکھوں سے عذاب دیکھ لیں۔ پس رب کی حکمت اور اس کے علم میں کوئی شبہ نہیں۔

آیت 80 - سورۃ الانعام: (وحاجه قومه ۚ قال أتحاجوني في الله وقد هدان ۚ ولا أخاف ما تشركون به إلا أن يشاء ربي شيئا...) - اردو