سورۃ الانعام (6): آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں۔ - اردو ترجمہ

اس صفحہ میں سورہ Al-An'aam کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الأنعام کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔

سورۃ الانعام کے بارے میں معلومات

Surah Al-An'aam
سُورَةُ الأَنۡعَامِ
صفحہ 132 (آیات 36 سے 44 تک)

۞ إِنَّمَا يَسْتَجِيبُ ٱلَّذِينَ يَسْمَعُونَ ۘ وَٱلْمَوْتَىٰ يَبْعَثُهُمُ ٱللَّهُ ثُمَّ إِلَيْهِ يُرْجَعُونَ وَقَالُوا۟ لَوْلَا نُزِّلَ عَلَيْهِ ءَايَةٌ مِّن رَّبِّهِۦ ۚ قُلْ إِنَّ ٱللَّهَ قَادِرٌ عَلَىٰٓ أَن يُنَزِّلَ ءَايَةً وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ وَمَا مِن دَآبَّةٍ فِى ٱلْأَرْضِ وَلَا طَٰٓئِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّآ أُمَمٌ أَمْثَالُكُم ۚ مَّا فَرَّطْنَا فِى ٱلْكِتَٰبِ مِن شَىْءٍ ۚ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّهِمْ يُحْشَرُونَ وَٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا صُمٌّ وَبُكْمٌ فِى ٱلظُّلُمَٰتِ ۗ مَن يَشَإِ ٱللَّهُ يُضْلِلْهُ وَمَن يَشَأْ يَجْعَلْهُ عَلَىٰ صِرَٰطٍ مُّسْتَقِيمٍ قُلْ أَرَءَيْتَكُمْ إِنْ أَتَىٰكُمْ عَذَابُ ٱللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ ٱلسَّاعَةُ أَغَيْرَ ٱللَّهِ تَدْعُونَ إِن كُنتُمْ صَٰدِقِينَ بَلْ إِيَّاهُ تَدْعُونَ فَيَكْشِفُ مَا تَدْعُونَ إِلَيْهِ إِن شَآءَ وَتَنسَوْنَ مَا تُشْرِكُونَ وَلَقَدْ أَرْسَلْنَآ إِلَىٰٓ أُمَمٍ مِّن قَبْلِكَ فَأَخَذْنَٰهُم بِٱلْبَأْسَآءِ وَٱلضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمْ يَتَضَرَّعُونَ فَلَوْلَآ إِذْ جَآءَهُم بَأْسُنَا تَضَرَّعُوا۟ وَلَٰكِن قَسَتْ قُلُوبُهُمْ وَزَيَّنَ لَهُمُ ٱلشَّيْطَٰنُ مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ فَلَمَّا نَسُوا۟ مَا ذُكِّرُوا۟ بِهِۦ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَٰبَ كُلِّ شَىْءٍ حَتَّىٰٓ إِذَا فَرِحُوا۟ بِمَآ أُوتُوٓا۟ أَخَذْنَٰهُم بَغْتَةً فَإِذَا هُم مُّبْلِسُونَ
132

سورۃ الانعام کو سنیں (عربی اور اردو ترجمہ)

سورۃ الانعام کی تفسیر (فی ظلال القرآن: سید ابراہیم قطب)

اردو ترجمہ

دعوت حق پر لبیک وہی لوگ کہتے ہیں جو سننے والے ہیں، رہے مُردے، تو انہیں تو اللہ بس قبروں ہی سے اٹھائے گا اور پھر وہ (اس کی عدالت میں پیش ہونے کے لیے) واپس لائے جائیں گے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Innama yastajeebu allatheena yasmaAAoona waalmawta yabAAathuhumu Allahu thumma ilayhi yurjaAAoona

(آیت) ” إِنَّمَا یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ یَسْمَعُونَ وَالْمَوْتَی یَبْعَثُہُمُ اللّہُ ثُمَّ إِلَیْْہِ یُرْجَعُونَ (36) عوت حق پر لبیک وہی کہتے ہیں جو سننے والے ہیں ‘ رہے مردے تو انہیں تو بس اللہ قبروں سے اٹھائے گا اور پھر وہ (اس کی عدالت میں پیش ہونے کے لئے) واپس لائے جائیں گے ۔ “

جب کوئی رسول دعوت حق لے کر لوگوں کے پاس آتا ہے تو اس دعوت کے مقابلے میں لوگ دو گروہ بن جاتے ہیں ۔ ایک فریق تو زندہ اور بیدار لوگوں کا ہوتا ہے ‘ جن کے اندر قبولیت حق کی استعداد ہوتی ہے ‘ یہ استعداد کام کر رہی ہوتی ہے اور ان لوگوں کے دل کے دریچے کھلے ہوتے ہیں ۔ ایسے لوگ ہدایت قبول کرلیتے ہیں اس لئے کہ ہدایت اور سچائی کے اندر ذاتی قوت ‘ نکھار اور فطرت کے ساتھ ہم آہنگی ہوتی ہے اور ایسے لوگ اسے پاتے ہی قبول کرلیتے ہیں ۔ (آیت) ” انما یستجیب الذین یسمعون “۔ (6 : 36) ” یعنی جن لوگوں کی قوت شنوائی کام کر رہی ہوتی ہے وہ حق کو قبول کرلیتے ہیں ۔ ایک دوسرافریق وہ ہوتا ہے جو دراصل مردہ ہوتا ہے ۔ اس کی فطرت معطل ہوجاتی ہے ۔ وہ نہ سنتا ہے اور نہ قبول کرتا ہے ۔ وہ نہ متاثر ہوتا ہے اور نہ ہی لبیک کہتا ہے ۔ یہ بات نہیں ہوتی کہ اس سچائی کے حق میں کوئی دلیل نہیں ہوتی سچائی تو خود دلیل ہوتی ہے ‘ آفتاب آمد ولیل آفتاب ‘ اور جب بصیرت رکھنے والی فطرت اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے تو وہ اس کے اندر سچائی دیکھ لیتی ہے ۔ فورا وہ آخری فیصلہ کرکے تسلیم کرلیتی ہے ۔ دوسری قسم کے لوگوں کے اندر جو کمی ہوتی ہے ۔ وہ یہ ہے کہ ان کی فطرت مر چکی ہوتی ہے اور ان کی استعداد قبولیت حق جاتی رہتی ہے لہذا ان کے اندر محض دعوت سنتے ہی قبولیت حق کی استعداد پیدا نہیں ہوتی ۔ ایسے لوگوں کا کوئی علاج خود رسول وقت کے پاس بھی نہیں ہوتا ۔ ان پر کوئی دلیل کارگر نہیں ہوتی ۔ ان کا معاملہ اللہ کی مشیت کے ساتھ وابستہ ہوجاتا ہے ۔ اگر اللہ چاہے تو ایسے لوگوں کو زندہ کردیتا ہے اور اگر نہ چاہے تو یہ لوگ زندہ ہوں یا مردہ قیامت تک مردہ رہیں گے ۔ اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ انہیں اٹھائے گا ۔

(آیت) ” والموتی یبعثھم اللہ ثم الیہ یرجعون “ (6 : 36) ” مردوں کو تو اللہ قبروں ہی سے اٹھائے گا اور وہ اس کی عدالت میں پیش ہوں گے ۔ یہ ہے کہانی قبولیت حق اور محرومیت کی ۔ اس سے ہدایت وضلالت کی حقیقت واضح ہوجاتی ہے ۔ رسول کے فرائض متعین ہوجاتے ہیں اور تمام امور کا آخری فیصلہ اللہ کے سپرد ہوتا ہے ۔ وہ جو چاہتا ہے ، کرتا ہے ۔

نبی کریم ﷺ پر اس حقیقت کو آشکارا کرنے کے بعد ‘ اب روئے سخن اہل کفار اور مشرکین کے اس غلط مطالبے کی طرف پھرجاتا ہے جس میں وہ خوارق ومعجزات کے مطابلے کرتے تھے ۔ یہ بتایا جاتا ہے کہ ان کا یہ مطالبہ جہالت پر مبنی ہے اور یہ لوگ اس معاملے میں سنت الہیہ سے بالکل بیخبر ہیں ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ جب کوئی معجزہ صادر ہوتا ہے تو اس کے بعد نہ ماننے والوں بلکہ ماننے والوں کو بھی ایک عظیم بربادی سے دو چار ہونا پڑتا ہے ۔ لہذا اللہ تعالیٰ جو ان لوگوں کے مطالبے کو تسلیم نہیں کرتا تو اس لئے نہیں کرتا کہ وہ ان پر رحم کرکے انہیں اس عظیم تباہی سے بچانا چاہتا ہے ۔ اس موقعہ پر تمام زندہ مخلوقات کے بارے میں اللہ کی حکیمانہ تدابیر کو بھی بیان کردیا جاتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حکیمانہ سنت تمام زندہ مخلوقات تک وسعت پزیر ہے ۔ یہاں وہ حکمت بتائی جاتی ہے جو ہدایت وضلالت کے فیصلوں کے پیچھے کام کرتی ہے اور جس میں اللہ تعالیٰ کی بےقید مشیت کام کرتی ہے ۔

اردو ترجمہ

یہ لوگ کہتے ہیں کہ اِس نبی پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں اتری؟ کہو، اللہ نشانی اتارنے کی پوری قدرت رکھتا ہے، مگر ان میں سے اکثر لوگ نادانی میں مبتلا ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waqaloo lawla nuzzila AAalayhi ayatun min rabbihi qul inna Allaha qadirun AAala an yunazzila ayatan walakinna aktharahum la yaAAlamoona

(آیت) ” نمبر 37 تا 39۔

حضرت محمد ﷺ سے یہ لوگ ایسے خوارق عادت معجزات کے طلبگار تھے ‘ جو آپ سے قبل آنے والے رسولوں کو دیئے گئے تھے ۔ یہ لوگ قرآن کریم جیسے زندہ معجزے پر اکتفا کرنے والے نہ تھے ‘ جو قیامت تک کے لئے باقی ہے ‘ انسانی فہم وادراک کو اپیل کرتا ہے اور یہ اعلان کرتا ہے کہ اب انسان فکری اعتبار سے بلوغ تک پہنچ گیا ہے ۔ اس لئے انسان کو ایسے فلسفیانہ اور بلند کلام کے ذریعے مخاطب کیا جاتا ہے اور یہ کلام ایسا لازوال اور ابدی کلام ہے کہ کسی نسل کے ساتھ اس کا خاتمہ نہیں ہوجاتا بلکہ دائم و باقی ہے اور قیامت تک انسانی شعور اور ادراک سے مخا طب ہے ۔

یہ لوگ خارق عادت معجزے کے تو طلبگار تھے لیکن ایسے معجزات کے صدور کے بعد سنت الہی کے مطابق جو عذاب آتا ہے اسے سمجھ نہیں پا رہے تھے ۔ اس عذاب کی لپیٹ میں سب لوگ آجایا کرتے ہیں اور ایسے لوگوں کو دنیا میں ہلاک کردیا جاتا ہے ۔ نیز یہ لوگ اس حکمت کو بھی نہ پا رہے تھے جس کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ایسے معجزے کا صدور نہ فرمایا ۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کے علم میں یہ بات تھی کہ اگر معجزہ صادر بھی ہوجائے تو بھی یہ لوگ ماننے والے نہ تھے ۔ حضور ﷺ سے قبل کوئی اقوام نے یہ حرکت کی تھی اور وہ ہلاکت کی مستحق ہوگئی تھیں ۔ جبکہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا یہ تھا کہ ان لوگوں کو مہلت دی جائے اور ان لوگوں میں سے کئی ایسے تھے جن کی قسمت میں ایمان لانا لکھا تھا ۔ اگر کوئی شخص ان میں سے ایمان نہ بھی لایا تو اللہ کے علم میں یہ بات تھی کہ اس کی پشت سے امت مومنہ پیدا ہونے والی ہے ۔ لیکن یہ لوگ اس مہلت پر خدا کا شکر ادا نہیں کرتے کہ اللہ نے خود ان کے مطالبے کے باوجود انہیں اس ابتلاء سے بچایا جبکہ وہ اس مطالبے کے عواقب سے بیخبر تھے ۔

قرآن کریم ان کے اس مطالبے کے تذکرے کے بعد یہ فیصلہ کرنا ہے کہ یہ لوگ بےعلم ہیں اور یہ لوگ ان نتائج سے بیخبر ہیں جو ان کے مطابلے کے پورے ہوجانے کے بعد ظہور پذیر ہونے والے تھے ۔ حکم ہوتا ہے کہ اللہ کی قدرت میں ہے ہر قسم کے معجزات کا صدور ‘ لیکن اس کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ ان لوگوں کو مطالبے کے باوجود ان مشکلات اور ہلاکتوں سے دو چار نہ کیا جائے ۔ یہ ان کی رحمت کا بھی تقاضا ہے کہ اس نے اپنے اوپر رحمت کرنا فرض کرلیا ہے ۔

(آیت) ” وَقَالُواْ لَوْلاَ نُزِّلَ عَلَیْْہِ آیَۃٌ مِّن رَّبِّہِ قُلْ إِنَّ اللّہَ قَادِرٌ عَلَی أَن یُنَزِّلٍ آیَۃً وَلَـکِنَّ أَکْثَرَہُمْ لاَ یَعْلَمُونَ (37)

” یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس نبی پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہ اتاری گئی ؟ کہو ‘ اللہ تعالیٰ نشانی اتارنے کی پوری قدرت رکھتا ہے ‘ مگر ان میں سے اکثر لوگ نادانی میں مبتلا ہیں ۔

اس انتباہ کے بعد اب سیاق کلام قرآن کریم کو ایک نہایت ہی لطیف راستے سے مخاطب کے دل میں اتارنے کی راہ تلاش کرتا ہے ۔ انسان کی قوت مشاہدہ اور قوت تدبر کو جگایا جاتا ہے کہ ذرا وہ اس کائنات پر غور وفکر کرے کہ اس کے اندر پائے جانے والے دلائل ایمان پر غور کرے ۔ اگر وہ غور وفکر کرے تو اسے بہت کچھ معلوم ہو سکتا ہے ۔

(آیت) ” وَمَا مِن دَآبَّۃٍ فِیْ الأَرْضِ وَلاَ طَائِرٍ یَطِیْرُ بِجَنَاحَیْْہِ إِلاَّ أُمَمٌ أَمْثَالُکُم مَّا فَرَّطْنَا فِیْ الکِتَابِ مِن شَیْْء ٍ ثُمَّ إِلَی رَبِّہِمْ یُحْشَرُونَ (38)

” زمین میں چلنے والے کسی جانور اور ہوا میں پروں سے اڑنے والے کسی پرندے کو دیکھ لو ‘ یہ سب تمہاری ہی طرح کی انواع ہیں ‘ ہم نے ان کی تقدیر کے نوشتے میں میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے ‘ پھر یہ سب اپنے رب کی طرف سمیٹے جاتے ہیں ۔ “

اس کائنات میں صرف انسان ہی نہیں بستے تاکہ ہم یہ کہیں کہ بس اتفاقا وہ وجود میں آگئے اور اب ان کی زندگی بھی جس طرح وہ چاہیں بسر ہو اور لغو جائے ۔ بلکہ انسان کے ارد گرد دوسری جاندار مخلوقات بھی ہوتی ہیں اور ان تمام جانداروں کی زندگی ایک خاص منظم طریقے سے بسر ہو رہی ہے ۔ ان کی زندگی کے مطابعے سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ زندگی بامقصد ایک اسکیم کے مطابق اور حکیمانہ انداز میں بسر ہو رہی ہے اور تمام مخلوقات کی زندگی کے مطالعے سے یہ حقیقت بھی آشکارا ہوتی ہے کہ یہ سب مخلوق ایک ہی خالق کی پیدا کردہ ہے ایک ہی قوت مدبرہ ہے جو ان تمام مخلوقات کے پیچھے عمل پیرا ہے اور کائنات پر پوری طرح حاوی ہے ۔

جو جانور زمین پر چلتے ہیں (وما من دآبۃ “۔ (6 : 38) اس لفظ میں تمام جاندار حشرات الارض تک شامل ہیں ۔ کیڑے مکوڑے یہاں تک کہ تمام جراثیم ‘ تمام پرندے جو ہوا میں اڑتے ہیں اور تمام مخلوق جو اس کائنات پر زندہ ہے ‘ وہ ایک امت ہے ۔ اس میں ایک جیسے خصائص ہیں ۔ وہ ایک طرح زندگی بسر کرتے ہیں اور ان کی زندگی کے امور بعینہ اسی طرح ہیں جس طرح یہاں امم انسانی کے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوقات میں سے کوئی چیز بغیر اسکیم اور تدبیر کے نہیں چھوڑی اور نہ کوئی چیز اپنے مخصوص علم کے دائرے سے باہر رکھی ہے ۔ آخرت میں یہ تمام مخلوقات اپنے رب کے سامنے حاضر ہوں گی اور ان کے بارے میں بھی اللہ تعالیٰ آخری فیصلے کرے گا ‘ جو وہ چاہے گا ۔

یہ آیت نہایت ہی مختصر ہونے کے باوجود زندہ مخلوقات کے بارے میں ایک فیصلہ کن بات ہمارے سامنے رکھتی ہے اور ساتھ ساتھ یہ بھی بتاتی ہے کہ اللہ کی جانب سے پوری مخلوقات کی مکمل نگرانی ہو رہی ہے ۔ پوری مخلوق اس کی فعال تدبیر کے تحت زندہ ہے ‘ وہ اس پوری مخلوق کے بارے میں خوب جانتا ہے اور ہر چیز اس کے دائرہ قدرت میں ہے جو رب ذوالجلال ہے ۔

یہاں ظلال القرآن میں ہمارا جو انداز ہے ‘ اس کے پیش نظر ہمارے لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ ہم یہاں کائنات کے اندر پائے جانے والی زندگی کے مختلف پہلوؤں سے بحث کرسکیں ۔ (البتہ میری کتاب خصائص التصور الاسلامی میں حقیقت الوہیت ‘ حقیقت انسانی اور حقیقت مادہ کے عنوانات قابل ملاحظہ ہیں) یہاں اس بحث کے دوران اس حقیقت کو اس لئے لایا گیا ہے کہ انسان کے دل و دماغ کو اس طرح متوجہ کیا جائے کہ یہ تمام مخلوقات اور اس مخلوق کا یہ نظام حیات جس کے مطابق زندگی رواں دواں ہے اور پھر اس کے بارے میں اللہ کی جانب سے مکمل تدبیر اور علم اور آخرت میں ان تمام مخلوقات کا اللہ کے سامنے اٹھنا یہ سب ایسے امور ہیں کہ ان میں کسی معجزے سے زیادہ حیرت انگیز دلائل اور اشارات ہیں ۔ اگر کوئی معجزہ صادر ہوجائے تو اسے انسانوں کی ایک وقت میں موجود نسل ہی ملاحظہ کرے گی لیکن ان مخلوقات کے اندر موجود آیات الہی پر اگر غور کیا جائے تو ہر وقت زندہ معجزات نظر آئیں گے اور ہر دور کے لوگ انہیں ملاحظہ کرسکتے ہیں۔

اب اس لہر کا خاتمہ اس حقیقت پر ہوتا ہے کہ ہدایت وضلالت کی پشت پر سنت الہی کے مطابق مشیت الہی کام کر رہی ہے اور یہ کہ اللہ کی مشیت اور سنت انسانی فطرت پر کس طرح اثر انداز ہوتی ہیں اور راہنمائی کرتی ہیں ۔

(آیت) ” وَالَّذِیْنَ کَذَّبُواْ بِآیَاتِنَا صُمٌّ وَبُکْمٌ فِیْ الظُّلُمَاتِ مَن یَشَإِ اللّہُ یُضْلِلْہُ وَمَن یَشَأْ یَجْعَلْہُ عَلَی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ (39)

” مگر جو لوگ ہماری نشانیوں کو جھٹلاتے ہیں وہ بہرے اور گونگے ہیں ‘ تاریکیوں میں پڑے ہوئے ہیں ۔ اللہ جسے چاہتا ہے بھٹکا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے سیدھے رستے پر لگا دیتا ہے ۔ “

یہ اسی حقیقت کا اعادہ ہے کہ کون لوگ ہیں جو سنتے ہیں اور کون ہیں جو مردہ ہیں اور سن ہی نہیں سکتے ۔ لہذا وہ قبول حق سے محروم ہیں لیکن یہاں بات کو ایک دوسرے تناظر میں پیش کیا جاتا ہے ۔ جو لوگ آیات الہی کی تکذیب کرتے اور ان دلائل وبینات پر غور نہیں کرتے جو اس کائنات میں ہر طرف بکھری پڑی ہیں ۔ پھر قرآن کریم میں پائی جانے والی آیات ونشانیوں پر بھی وہ غور نہیں کرتے یہ کیوں ؟ اس لئے کہ انہوں نے اپنی شخصیات میں پائے جانے والے قبولیت حق کے مادے اور صلاحیت ہی کو معطل کردیا ہے ۔ یہ بہرے ہیں سنتے ہیں نہیں گونگے ہیں اور کوئی بات ہی نہیں کرتے ۔ گمراہی کے اندھیروں میں غرق ہیں ۔ کچھ دیکھتے ہی نہیں ۔ صرف مادی اعتبار سے ہی نہیں حقیقی اعتبار سے بھی یہ بہرے ‘ گونگے اور اندھے ہیں اس طرح کہ ان کے قوت مدرکہ معطل ہے ۔ ان کے حواس کام ہی نہی کرتے اور نہ ان کے حواس کوئی اچھی بات ان کے دماغوں تک منتقل کرتے ہیں ۔ اس کی بڑی دلیل یہ ہے کہ قرآن کریم کی آیات بذات خود اثر انگیز ‘ محرک اور جھنجوڑنے والی ہیں ۔ لیکن ان پر ان آیات کا کچھ اثر ہی نہیں ہو رہا ہے ۔ وہ بات کو پاتے ہیں نہیں ۔ لہذا ان آیات بینات سے جو شخص روگردانی کرتا ہے اس کی فطرت میں فساد پیدا ہوگیا ہے ۔ لہذا وہ اس قابل نہیں رہی ہے کہ ہدایت قبول کرے اور ایک ترقی یافتہ زندگی بسر کرنے کا اہل بن جائے ۔

اور یہ سب صورت حالات اللہ کی مشیت کے دائرے کے اندر رونما ہو رہی ہے ۔ اس مشیت کا تقاضا ہی یہ تھا کہ حضرت انسان کے اندر ہدایت قبول کرنے اور گمراہی اختیار کرنے کی دونوں صلاحیتیں موجود ہوں اور وہ دونوں راستوں میں سے کوئی ایک راہ اختیار کرنے میں آزاد ہو اور اس پر کوئی جبر نہ ہو اور نہ کوئی قضائے مبرم ہو۔ اس طرح اللہ جسے چاہتا ہے راہ ہدایت پر ڈال دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے گمراہ کردیتا ہے ۔ اور یہ ہے اللہ کی مشیت کا مفہوم ۔ اللہ کی مشیت اس شخص کی مددگار ہوتی ہے جو اس کی راہ میں جدوجہد کرتا ہے اور جو شخص عناد کی راہ اختیار کرتا ہے خود گمراہ ہوتا ہے ۔ اللہ کسی بندے پر ظلم نہیں کرتا بلکہ وہ خود اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں ۔

راہ ہدایت کی طرف انسان کا رجحان اور میلان یا راہ ضلالت کی طرف انسان کا رجحان اور میلان ‘ دونوں اس مخلوق کے اندر اللہ کی پیدا کردہ صلاحیت سے پیدا ہوتے اور اس کی مشیت کے مطابق ہی کام کرتے ہیں ۔ ابتداء تو یہ رجحان اللہ کا پیدا کردہ ہے اور اس ابتدائی تخلیق کردہ مادے کے نتائج کے طور پر جو ہدایت وگمراہی آتی ہے یہ بھی دائرہ مشیت الہیہ کے اندر ہوتی ہے ۔ اور یہ مشیت بےقید ہے ۔ سوال یہ ہے کہ پھر باز پرس اور سزا وجزاء کیوں ہے ؟ تو وہ اس وجہ سے ہے کہ انسان کا رجحان بہرحال آزادی کی طرف ہوتا ہے ۔ میلان میں وہ آزاد ہے ۔ اگرچہ اس کی یہ صلاحیت اس کے اندر اللہ کی تخلیق کردہ ہے اور اللہ کی مشیت کے ماتحت ہے ۔ (دیکھئے خصائص تصور اسلامی “ کا عنوان ” التوازن “ )

اس لہر کی آیات کی تشریح کے بعد اب ذرا رکیے تاکہ ہم اس مطالعے سے ان لوگوں کے لئے سرمہ بصیرت حاصل کرلیں جو کسی بھی دور میں اور کسی بھی امت میں دعوت اسلامی کا کام کرتے ہیں ۔ ان آیات میں جو ہدایات دی گئی ہیں وہ زمان ومکان کی حدود سے باہر ہیں ۔ ان کا اطلاق تمام حالات اور تمام تحریکوں پر ہوتا ہے اور ان میں دعوت دین کے ایسے نقوش وضع کئے گئے ہیں جو ہر دور کے لئے کار آمد ہیں ۔ یہاں ہم اس نکتے کے پورے پہلوؤں کو زیر بحث نہیں لاسکتے البتہ ہم یہاں نشانات راہ معلوم کرسکتے ہیں ۔

حقیقت یہ ہے کہ دعوت اسلامی کی راہ نہایت ہی پر خطر ہے ۔ اس میں جگہ جگہ کانٹے بچھے ہوئے ہیں ۔ ہر قدم پر ایک ناپسندیدہ صورت حال کا مقابلہ کرنا ہوتا ہے ۔ اس کے باوجود سچائی کو فتح اور کامرانی کی گارنٹی دی گئی ہے ۔ ہاں یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ فتح کا وقت پس پردہ تقدیر ہوتا ہے اور صرف اللہ تعالیٰ کے علم میں ہوتا ہے ۔ اس کی حکمت کے مطابق ظاہر ہوتا ہے ۔ اس کا علم صرف اللہ کو ہوتا ہے اور اس کے سوا کوئی اور اس کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتا ۔ یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کو بھی اس غیب کا علم نہیں دیا گیا ۔ اس راہ میں جو مشکلات سامنے آتی ہیں وہ دو اہم اساسی فیکٹرز کا نتیجہ ہوتی ہیں ۔ پہلا فیکٹر یہ ہے کہ جب دعوت اسلامی کا آغاز ہوتا ہے تو پہلے لوگ اس سے روگردانی اختیار کرتے ہیں ۔ اس کے بعد دوسری مشقت یہ ہوتی ہے کہ داعی کے دل میں اس بات کی شدید خواہش پیدا ہوجاتی ہے کہ لوگ دعوت اسلامی کو قبول کرکے راہ حق پر آجائیں اور اس ذوق وشوق میں وہ بھی ڈوب جائیں جس سے داعی سرشار ہوتا ہے ۔ اس کے لئے ہو پرجوش ہوتا ہے اور اپنی دعوت کے کلمے کی سربلندی چاہتا ہے ۔ یہ خواہش بھی اسی قدر تکلیف دہ ہوتی ہے جس قدر مخاطبین کی طرف سے اعراض اور تکذیب تکلیف دہ ہوتی ہے ۔ یہ دونوں فیکٹرز داعی کے لئے وہ ان روح بن جاتے ہیں۔

یہاں اس لہر میں قرآن کریم جو ہدایات دیتا ہے اور وہ اس مشقت کے دونوں پہلوؤں کے سلسلے میں ہیں ۔ قرآن کریم کہتا ہے کہ جو لوگ قرآن کی دعوت سے اعراض کرتے ہیں اور رسول اللہ ﷺ کو جھٹلاتے ہیں وہ حق الیقین رکھتے ہیں کہ صرف حضور ﷺ اور آپ کی دعوت عین سچائی ہیں ۔ اور حضور ﷺ سچے ہیں اور وہ یہ پیغام اللہ کی جانب سے لے کر آئے ہیں ۔ لیکن اپنے اس علم کے باوجود وہ اس دعوت کو قبول نہیں کرتے ۔ وہ محض ذاتی خواہشات اور ہوائے نفس کی وجہ سے تکذیب کرتے ہیں حالانکہ یہ دعوت ایسی ہے کہ وہ بذات خود دلیل حق ہے ۔

آفتاب آمد دلیل آفتاب کا مصداق ہے اور انسان کے فطری تقاضوں کے عین مطابق ہے ۔ بشرطیکہ فطرت زندہ ہو اور سچائی کو قبول کرنے کا مادہ اپنے اندر رکھتی ہو ۔ کیونکہ (آیت) ” انما یستجیب الذین یسمعون “ (6 : 36) بیشک دعوت حق تو وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو سنتے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو تکذیب پر اصرار کرتے ہیں تو ان کے دل و دماغ مردہ ہیں ۔ وہ خود بھی مردہ ہیں ۔ گونگے ‘ بہرے اور اندھے ہیں اور تاریکیوں میں ڈوبے ہوئے ہیں ۔ رسول کے اندر یہ طاقت نہیں ہے کہ وہ مردوں کو سنوائے اور نہ مردے سنتے ہیں ۔ اگرچہ کوئی پکارتا ہے ۔ ایک داعی کی ڈیوٹی یہ نہیں ہے کہ وہ مردوں کو زندہ کرے ۔ کیونکہ یہ تو اللہ کی شان ہے اور یہ اللہ کا کام ہے ۔ یہ تو ہے معاملے کا ایک پہلو اور اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اللہ کی نصرت بہرحال حق کے ساتھ ہوتی ہے ۔ البتہ یہ بات اپنی جگہ دستور الہی ہے کہ وہ اللہ کی جانب سے مقرر شدہ وقت پر آتی ہے ۔ جس طرح سنت الہیہ قبل از وقت ظاہر نہیں ہوتی اور جس طرح اللہ کے کلمات بدلتے نہیں ۔ اسی طرح یہ بات بھی اٹل ہے کہ آخر کار نصرت آتی ضرور ہے اور یہ بات بھی اپنی جگہ پر ہے کہ وہ قبل از وقت نہیں آتی ۔ اپنے وقت پر ہی ظاہر ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ بھی اس معاملے میں کوئی جلد بازی نہیں فرماتے ۔ اس لئے کہ اذیت اور تکالیف تو داعیوں پر آتی ہی رہتی ہیں ۔ اگرچہ داعی رسول ہی کیوں نہ ہوں ۔ کیونکہ داعیوں سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ بغیر عجلت اور شتابی اور بےصبری کے مشکلات کو انگیز کریں اور قبل ازوقت نصرت کا مطالبہ نہ کریں ۔

دین اسلام میں ایک داعی اور رسول کا کردار کیا ہوتا ہے ‘ ان قرآنی ہدایات میں اس کا تعین بھی کردیا گیا ہے ۔ تمام ادوار کے لئے اور تمام معاملات کیلئے ۔ وہ کردار یہ ہے کہ انہوں نے پیغام پہنچانا ہے اور اپنی راہ پر آگے بڑھنا ہے اور اس راہ کی مشکلات کو برداشت کرنا ہے ۔ رہی یہ بات کہ لوگ راہ ہدایت پر آتے ہیں یا نہیں تو یہ جس طرح داعی اور رسول کی طاقت کے حدود سے باہر ہے اسی طرح ان کے فرائض میں بھی شامل نہیں ہے ۔ ہدایت وضلالت سنت الہیہ کے مطابق کام کرتی ہیں اور سنت الہیہ میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی ۔ اگر رسول اپنے کسی محبوب کے بارے میں لاکھ چاہے کہ وہ ہدایت پر آجائے تو اگر سنت الہیہ اس کے حق میں نہیں ہے تو وہ راہ ہدایت نہیں پاسکتا ۔ جبکہ رسول لاکھ چاہے کہ وہ ہدایت پر آجائے تو اگر سنت الہیہ اس کے حق میں نہیں ہے تو وہ راہ ہدایت نہیں پاسکتا ۔ جبکہ رسول کے دشمنوں اور مبغوض لوگوں کو بھی ہدایت نصیب ہو سکتی ہے ۔ اس معاملے میں داعی اور رسول کی شخصیت اور ذات کا کوئی اعتبار نہیں ہے ۔ رسول کے ساتھ یہ حساب نہ ہوگا کہ اس کی دعوت کے نتیجے میں کتنے لوگ راہ راست پر آئے ہیں۔ اس سے صرف یہ پوچھا جائے گا کہ اس نے دعوت کا حق کس قدر ادا کیا ‘ کس قدر مشکلات کو برداشت کیا اور کس قدر اپنی راہ دروش پر جمے رہے ۔ اور کس قدر ثابت قدمی اختیار کی ۔ رہی یہ بات کہ لوگ ہدایت قبول کرتے ہیں یا نہیں ۔ تو یہ معاملہ اللہ کے سپرد ہے ۔

(آیت) ” مَن یَشَإِ اللّہُ یُضْلِلْہُ وَمَن یَشَأْ یَجْعَلْہُ عَلَی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ (39)

جسے اللہ چاہتا ہے گمراہ کردیتا ہے اور جسے چاہتا ہے اسے صراط مستقیم پر ڈال دیتا ہے ۔ “

(آیت) ” وَلَوْ شَاء اللّہُ لَجَمَعَہُمْ عَلَی الْہُدَیَ (35) ” اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ہدایت پر جمع کردیتا ۔ “

(آیت) ” إِنَّمَا یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ یَسْمَعُونَ (6 : 36) ” دعوت حق پر لبیک وہی لوگ کہتے ہیں جو سنتے ہیں ۔ اس قبل ہم یہ بیان کر آئے ہیں اس سے قبل ہم یہ بیان کر آئے ہیں کہ اللہ کی مشیت ہدایت وضلالت کے بارے میں بےقید ہے اور اس کا رابطہ لوگوں کے رجحان اور جدوجہد کے ساتھ ہے ۔ وہ بیان کافی وشافی ہے ۔

چناچہ داعی حق کا رویہ یہ ہونا چاہئے کہ وہ جن لوگوں کو دعوت دیتا ہے ‘ ان کی جانب سے پیش کردہ تجاویز پر کان نہ دھرے ۔ خصوصا جبکہ ان تجاویز کا تعلق اساس دین اور منہاج دعوت سے ہو ۔ نہ کسی داعی کے لئے مناسب ہے کہ وہ دین کے اصولوں کو لوگوں کی وقتی خواہشات ورغبات کے مطابق بنا سجا کے پیش کرے ۔ مشرکین کا مطالبہ یہ تھا کہ حضور ﷺ کچھ خارق عادت معجزات پیش کریں جو ان کے زمانے کے تصورات اور مالوفات کے مطابق ہوں اور جنہیں وہ سمجھ سکیں جس کے بارے میں قرآن کریم نے کئی مقامات پر ذکر کیا ہے ۔ اس سورة میں بھی ان کا یہ قول مذکور ہے ۔

(آیت) ” لولا انزل علیہ ملک (25 : 7) وہ کہتے ہیں کہ اس پر فرشتہ کیوں نہیں نازل ہوتا ؟ (آیت) ” وقالوا لولا نزل علیہ ایۃ من ربی “۔ اور وہ کہتے ہیں کہ کیوں نہیں نازل ہوتی اس پر کوئی نشانی اس کے رب کی جانب سے ؟ “

(آیت) ” واقسموا باللہ جھدا ایمانھم لئن جآء تھم ایۃ لیومنن بھا “۔ (6 : 109) اور وہ پختہ قسمیں اٹھاتے ہیں کہ اگر ان کے پاس کوئی نشانی آئی تو وہ اس پر ضرور ایمان لائیں گے ۔ “ ایک دوسری سورة میں ان کا یہ مطالبہ نہایت ہی تعجب خیز انداز میں سامنے آتا ہے ۔ سورة اسراء میں اللہ نے ان کے اس مطالبے اور تجویز کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے ۔

(آیت) ” وقالوا لن مومن لک حتی تفجرلنا من الارض ینبوعا ‘، (90) اوتکون لک جنۃ من نخیل وعنب فتفجر الانھر خللھا تفجیرا (91) اوتسقط السمآء کما زعمت علینا کسفا اوتاتی باللہ والملئکۃ قبیلا (92) اویکون لک بیت من زخرف اوترقی فی السمآء ولن نومن لرقیک حتی تنزل علینا کتبا نقرءہ ) (93) (17 : 90 تا 93)

” اور انہوں نے کہا ہم تیری بات نہ مانیں گے جب تک کہ تو ہمارے لئے زمین کو پھاڑ کر ایک چشمہ جاری نہ کر دے ۔ یا تیری لئے کھجوروں اور انگوروں کا ایک باغ پیدا ہو اور تو اس میں نہریں رواں کر دے ۔ یا تو آسمان کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے ہمارے اوپر گرا دے جیسا کہ تیرا دعوی ہے یا خدا اور فرشتوں کو رو در رو ہمارے سامنے لے آئے ۔ یا تیرے لئے سونے کا ایک گھر بن جائے یا تو آسمان پر چڑھ جائے اور تیرے چڑھنے کا بھی ہم یقین نہ کریں گے جب تک تو ہمارے اوپر ایک ایسی تحریر نہ اتار لائے جسے ہم پڑھیں ۔ “ اور سورة الفرقان میں اسے یوں بیان کیا گیا ہے ۔

(آیت) ” وقالوا مال ھذا الرسول یا کل الطعام ویمشی فی الاسواق لولا انزل الیہ ملک فیکون معہ نذیرا “۔ (7) او یلقی الیہ کنز او تکون لہ جنۃ یا کل منھا (8) (25 : 7۔ 8) کہتے ہیں یہ کیسا رسول ہے ‘ جو کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے ؟ کیون نہ اس کے پاس کوئی فرشتہ بھیجا گیا جو اس کے ساتھ رہتا اور (نہ ماننے والوں کو) دھمکاتا یا اور نہین تو اس کے لئے کوئی خزانہ ہی اتار دیا جاتا یا اس کے پاس کوئی باغ ہی ہوتا جس سے یہ روزی حاصل کرتا۔ “ اس لہر میں رسول اللہ ﷺ اور اہل ایمان کو براہ راست اس بات کی ممانعت کی گئی ہے کہ وہ اہل کفر کے مطالبے سے متاثر ہو کر کہیں اس خواہش کا اظہار نہ کریں کہ کوئی معجزہ صادر ہو ہی جائے ۔ چناچہ حضور ﷺ سے ان الفاظ میں خطاب ہوا۔

(آیت) ” وَإِن کَانَ کَبُرَ عَلَیْْکَ إِعْرَاضُہُمْ فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَن تَبْتَغِیَ نَفَقاً فِیْ الأَرْضِ أَوْ سُلَّماً فِیْ السَّمَاء فَتَأْتِیَہُم بِآیَۃٍ وَلَوْ شَاء اللّہُ لَجَمَعَہُمْ عَلَی الْہُدَی فَلاَ تَکُونَنَّ مِنَ الْجَاہِلِیْنَ (35) إِنَّمَا یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ یَسْمَعُونَ وَالْمَوْتَی یَبْعَثُہُمُ اللّہُ ثُمَّ إِلَیْْہِ یُرْجَعُونَ (36)

” اگر ان لوگوں کی بےرخی تم سے برداشت نہیں ہوتی تو اگر تم میں کچھ زور ہے تو زمین میں کوئی سرنگ ڈھونڈو یا آسمان میں سیڑھی لگاؤ اور ان کے پاس کوئی نشانی لانے کی کوشش کرو۔ اگر اللہ چاہتا تو سب کو ہدایت پر جمع کرسکتا تھا لہذا نادان مت بنو ۔ دعوت حق پر لبیک وہی کہتے ہیں جو سننے والے ہیں ‘ رہے مردے تو انہیں تو بس اللہ قبروں سے اٹھائے گا اور پھر وہ واپس لائے جائیں گے ۔ “ (اس کی عدالت میں پیش ہونے کے لئے) ۔

بعض مسلمانوں کے دلوں میں یہ رغبت پائی جاتی تھی کہ مشرکین صدور معجزات کے بارے میں جو مطالبے کرتے ہیں ان کا مطالبہ پورا کردیا جائے ۔ اس لئے کہ وہ پختہ قسمیں کھاتے تھے کہ اگر کوئی معجزہ صادر ہوگیا تو وہ ضرور ایمان لائیں گے ۔ ایسے لوگوں کو کہا گیا : ۔

(آیت) ” قُلْ إِنَّمَا الآیَاتُ عِندَ اللّہِ وَمَا یُشْعِرُکُمْ أَنَّہَا إِذَا جَاء تْ لاَ یُؤْمِنُونَ (109) وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَہُمْ وَأَبْصَارَہُمْ کَمَا لَمْ یُؤْمِنُواْ بِہِ أَوَّلَ مَرَّۃٍ وَنَذَرُہُمْ فِیْ طُغْیَانِہِمْ یَعْمَہُونَ (110)

” اے نبی ﷺ ان سے کہو نشانیاں تو اللہ کے اختیار میں ہیں اور تمہیں کیسے سمجھایا جائے کہ اگر نشانیاں آ بھی جائیں تو یہ ایمان لانے والے نہیں ۔ ہم اسی طرح ان کے دلوں اور نگاہوں کو پھیر رہے ہیں جس طرح یہ پہلی مرتبہ اس پر ایمان نہیں لائے تھے ۔ ہم انہیں اس کی سرکشی ہی میں بھٹکنے کے لئے چھوڑے دیتے ہیں) تاکہ اہل ایمان یہ جان لیں کہ اہل کفر کے ہاں اس بات کی کمی نہیں ہے کہ ان کے سامنے کوئی معجزہ نہیں ہے یا ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے جو انہیں سچائی تک لے جائے ‘ بلکہ ان کے ہاں جو کمی ہے وہ یہ ہے کہ وہ سنتے ہی نہیں ۔ وہ اس طرح ہیں جس طرح مردے ۔ ان کی قسمت میں ہدایت نہیں ہے ۔ وہ سنت الہی کے مطابق اپنے آپ کو ہدایت سے محروم کرچکے ہیں ۔ لہذا تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ یہ دین اللہ سنت کے مطابق چلتا ہے ۔ اور اس کا مقام اس سے بلند ہے کہ وہ لوگوں کی خواہشات اور عوام کی تجاویز کے مطابق کوئی روش اختیار کرے ۔ اب ہم قرآنی آیات کے ایک وسیع دائرے میں آجاتے ہیں ۔ اب ایسی ہدایات سامنے آتی ہیں جو زمان ومکان کی قید سے وراء ہیں ‘ جن کا تعلق کسی ایک واقعہ سے نہیں ہے ۔ نہ کسی مخصوص تجویز سے ان کا تعلق ہے ۔ زمانہ تو بدلتا رہتا ہے ۔ لوگوں کی خواہشات اور ان کے مطالبات بھی بدلتے رہتے ہیں اس لئے داعیان حق کو چاہئے کہ انہیں لوگوں کی خواہشات صراط مستقیم سے ادھر ادھر نہ کردیں ۔ یہ لوگوں کی خواہشات اور ان کے مطالبات ہی ہیں جن کا لحاظ کرتے ہوئے بعض داعیان حق اسلامی نظریہ حیات کو ایک مذہب کے طور پر تسلیم کر کے اسے دوسرے مذہب کی طرح ایک کاغذی مذہب قرار دیتے ہیں اور اسے انفرادی زندگی کے معاملات تک محدود کردیتے ہیں ۔ جس طرح اس کرہ ارض پر متعدد دوسرے مذاہب موجود ہیں جو کسی وقت ایک محدود مقصد کے لئے وجود میں آجاتے ہیں ۔ پھر اسی جذبے کے تحت بعض داعی اسلامی نظام کو ایک کاغذی منصوبے یا ایک مفصل کاغذی قانونی نظام کی صورت میں پیش کرتے ہیں اور اس منصوبے کے ذریعے وہ دور جدید کی جاہلیت کے واقعی حالات کا مقابلہ کرتے ہیں حالانکہ اہل جاہلیت کی جو عملی صورت حال ہے اس کا اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے ۔ اس لئے کہ دور جدید کے اہل جاہلیت تو ببانگ دہل یہ کہتے ہیں کہ اسلام ایک پرائیویٹ عقیدہ ہے اور اس کا زندگی کے واقعی اور عملی نظام کے ساتھ کوئی تعلق ہی نہیں ہے ۔ یہ داعی لوگوں کے لئے اس عملی جاہلی صورت حال کو اسلامی رنگ میں مرتب کرتے ہیں ۔ اس کے مطابق لوگ بدستور جاہلیت پر قائم رہتے ہیں ‘ اپنے فیصلے طاغوت کی عدالت سے کراتے ہیں ۔ نہ وہ شریعت کے مطابق فیصلے کرتے ہیں اور نہ کراتے ہیں ۔ اس قسم کی تمام کوششیں نہایت ہی گھٹیا اور ذلیل حرکات ہیں ۔ ایک سچے مسلمان کو چاہئے کہ وہ ان جدید فکری رنگوں میں رنگے ہوئے ان خیالات کو پرے پھینک دیں ‘ اس لئے کہ یہ خیالات ناپختہ ہیں اور کسی حال میں بھی اپنی جگہ پر قائم نہیں رہ سکتے ۔ اگرچہ انکو دعوت اسلامی کے جدید رنگ اور جدید تکنیک کا نام دیا جائے ۔

اور اس سے بھی زیادہ ذلیل اور گھٹیا حرکت ان لوگوں کی ہے جو اسلام کو جدید لباس پہناتے ہیں اور اسلام پر ایسی صفات اور اصطلاحات کا اطلاق کرتے ہیں جو تاریخی ادوار میں کسی دور میں خود انسانوں نے ایجاد کیں ۔ مثلا اشتراکیت اور جمہوریت وغیرہ ایسے لوگوں کی اس سعی نامشکور کا مقصد یہ رہا ہے کہ وہ اسلام کی ترقی یافتہ تعبیر کرکے اس طرح اسلام کی خدمت کرنا چاہتے ہیں ۔ ذرا غور کیجئے اشتراکیت ایک اجتماعی اور اشتراکی نظام ہے اور یہ خالص انسانوں کا بنایا ہوا ہے ۔ اس کے اندر کچھ چیزیں درست بھی ہو سکتی ہیں اور کچھ غلط بھی ہو سکتی ہیں ۔ اسی طرح جمہوریت بھی ایک نظام حکومت اور نظام زندگی ہے ۔ یہ جمہوری نظام خود انسانوں کی سوچ اور فکر کے نتیجے میں بنایا گیا ہے ۔ اس میں بعض چیزیں درست بھی ہو سکتی ہیں اور غلط بھی ہو سکتی ہیں ۔ ان کے مقابلے میں اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے اور یہ نظریاتی افکار ایک اجتماعی سوشل نظام ایک علیحدہ اقتصادی نظام اور ایک ممتاز عملی اور انتظامی ڈھانچے پر مشتمل ہے اور یہ نظام اللہ بنایا ہوا نظام ہے ۔ اس کے اندر نہ کوئی نقص پایا جاتا ہے نہ کوئی عیب ہے ۔ لہذا جو شخص تو وہ شخص اسلام کے حوالے سے درست موقف کا حامل نہیں ہے ۔ یا اس پر ایسے اقوال منطبق کرتا ہے جو انسانوں کے اعمال ہیں ۔

اہل جاہلیت مشرک صرف اس لئے قرار پاتے تھے کہ وہ اللہ کی مخلوقات میں سے بعض لوگوں کو اللہ کے ہاں سفارشی بناتے تھے اور ان کو دوست بناتے تھے ۔

(آیت) ” والذین اتخذوا من دونہ اولیاء ما نعبدھم الا لیقربونا الی زلفی (39 : 3) ” وہ لوگ جنہوں نے اس کے سوا دوسرے سرپرست بنا رکھے ہیں ۔ (اور اپنے اس فعل کی توجیہ یہ کرتے ہیں کہ) ہم تو ان کی عبادت صرف اس لئے کرتے ہیں کہ وہ اللہ تک ہماری رسائی کردیں “ یہی تو شرک ہے ۔ سوال یہ ہے کہ جو لوگ اللہ کے دربار میں کچھ لوگوں کی سفارش کے مرحلے سے بھی آگے بڑھ کر کچھ دوسرے لوگوں کے بنائے ہوئے نظام حیات کے ذریعے تقرب حاصل کرتے ہیں ان کا یہ فعل ‘ مشرکین عرب کے فعل سے کس قدر زیادہ مکروہ ہے ۔ مشرکین عرب دین بہرحال خدا ہی کا مانتے تھے البتہ کچھ اشخاص کو شریک بناتے تھے ۔ یہ لوگ تو نظام حیات غیر اللہ کا اپناتے ہیں اور قرب اللہ کا چاہتے ہیں ۔

خوب غور کیجئے اور سمجھیے کہ اسلام اسلام ہے ‘ سوشلزم سوشلزم ہے اور جمہوریت جمہوریت ہے ۔ اسلام کا صرف وہی نام اور وہی عنوان ہوگا جو اس کے لئے اللہ نے رکھا ہے اور تجویز کیا ہے ۔ یہ دوسرے نام اور عنوان لوگوں کے رکھے ہوئے ہیں ۔ یہ تمام دوسرے نظام لوگوں نے اپنے تجربوں سے بنائے ہوئے ہیں ‘ اگر کوئی شخص ان نظاموں کو اپناتا ہے تو اسے چاہئے کہ وہ انہیں اپنے نام اور عنوان سے اپنائے ۔ کسی داعی دین کو یہ بات زیب نہیں دیتی کہ وہ لوگوں کے اپنائے ہوئے کسی رنگ کو اپنائے اور دعوی یہ کرے کہ وہ اللہ کے دین پر کوئی احسان کر رہا ہے ۔

بہرحال ہم ایسے لوگوں سے ایک بات پوچھتے ہیں ‘ آخر تمہاری نظروں میں اللہ کا دین اس قدر بےوقعت کیوں ہوگیا ہے ‘ اور تم کیوں اللہ کی عظمت کو اپنے دل میں اس طرح نہیں بٹھاتے جس طرح اس کا حق ہے ۔ تم لوگ آج کے دور میں اسلام کو کیوں اشتراکیت اور جمہوریت کے رنگ میں پیش کرتے ہو ‘ کیونکہ یہ تو دور حاضر کے فتنے اور دور حاضر کے لئے محبوب تھا کہ لوگ جاگیرداری سے گلو خلاصی چاہتے تھے جبکہ جاگیرداری سے بھی پہلے ڈکٹیڑ شپ ایک محبوب نظام تھا اور اس کے ذریعے لوگ چھوٹی چھوٹی ریاستوں اور بکھری ہوئی ظالم ریاستوں سے نجات چاہتے تھے مثلا جرمنی اور اٹلی کے ممالک اس دور سے بھی گزرے ہیں ۔ کل مذکورہ بالا نظاموں کے مقابلے میں دنیا میں کوئی نیا نظام بھی رائج ہو سکتا ہے جو اہل دنیا کو کوئی تجربہ یا نیارنگ ہوگا اور جس میں ایک نئی شکل میں انسان ‘ انسان کا غلام ہوگا تو تم پھر کل اسلام پر اس نئے نظام اور رنگ کا لیبل چسپاں کرو گے تاکہ تم اسلام کو ایک ایسے رنگ میں پیش کرسکو جسے لوگ چاہتے ہیں ؟

آیات کے زیر بحث حصے یا لہر میں اور قرآن کریم کے دوسرے مقامات پر یہ ہدایات دی گئی ہیں کہ داعی دین کا رویہ یہ ہونا چاہئے کہ وہ اپنی دعوت ونظریہ کو لے کر اور مستغنی ہو کر آگے بڑھے اور جو لوگ دعوت اسلامی کے سلسلے میں ترمیمی تجاویز دیتے ہیں ان کی باتوں اور تجویزوں پر سرے سے کان ہی نہ دھرے ۔ نیز دین اسلام کو اس کے اصل نام اور عنوان کے ساتھ ہی پیش کرے اور اسے دوسرے مروجہ ناموں اور عنوانوں کے ساتھ کرنے کی سعی نہ کرے ۔ وہ لوگوں کو اسلامی منہاج اور اسلامی ذرائع ہی کے ذریعے بیدار کرنے کی سعی کرے ۔ اللہ تمام جہانوں سے بےنیاز ہے ۔ اگر کوئی اس دعوت کو اس طرح قبول نہیں کرتا جس میں وہ صرف اللہ کی بندگی کرے اور اس کے سوا تمام غلامیوں سے نکل آئے تو دین اسلام کو کسی ایسے شخص کی ضرورت نہیں ہے اور نہ اللہ تعالیٰ کو کسی سرکش اور کسی مطیع فرمان کی طرف کوئی احتیاج ہے ۔

دین اسلام اپنے بنیادی عناصر اور اپنی خصوصیات کے اعتبار سے اپنی ایک خاص اصلیت (OrignAlity) رکھتا ہے ۔ اللہ کا منشا یہ ہے کہ یہ خصائص اور یہ اساسی اقدار غالب ہوجائیں ۔ دنیا کے عملی نظام کے معاملے میں یہ دین اصلیت (OrignAlity) کا مالک ہے ۔ اور وہ جس انداز میں انسان کو دعوت فکر دیتا ہے وہ بھی اور جنل ہے ۔ جس خدا نے اس دین کو اپنی خصوصیات اور اپنے عناصر ترکیبی کے ساتھ اتارا ہے ۔ ‘ وہی کدا تو ہے جو اس حضرت انسان کا خالق ہے اور وہ خوب جانتا ہے کہ انسان کیا کیا سوچتا رہتا ہے اور اس کے دل میں خواہشات کی کیا کیا لہریں اٹھتی ہیں ؟

اس لہر میں قرآن کریم کے اس انداز خطاب کا بھی ایک نمونہ موجود ہے جس کے ساتھ وہ فطرت انسانی کو مخاطب کرتا ہے ۔ اس کے اسلوب خطاب میں سے یہ بھی ایک اساسی نمونہ ہے ۔ قرآن انسانی فطرت اور اس کائنات کے طبعی عمل کے درمیان ایک رابطہ اور تعلق پیدا کرتا ہے ۔ وہ کائناتی اثرات واشارات کا رخ فطرت انسانی کی طرف موڑتا ہے ۔ اس اثناء میں قرآن انسان کی فطری ساخت کو اس پر آمادہ کرتا ہے کہ وہ ان فطری اشارات کو قبول کرے ۔ قرآن جانتا ہے کہ جب اس کائنات کے تکوینی اشارات انسانی فطرت کی گہرائیوں تک پہنچ جائیں تو انسان فورا لبیک کہتا ہے ۔

(آیت) ” إِنَّمَا یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ یَسْمَعُونَ (6 : 36) ” دعوت حق پر لبیک وہی لوگ کہتے ہیں جو سنتے ہیں ۔ وہ نمونہ طرز ادا کیا ہے جو اس لہر میں ہم سے مخاطب ہے ۔ ذرا ملاحظہ فرمائیں ۔

(آیت) ” وَقَالُواْ لَوْلاَ نُزِّلَ عَلَیْْہِ آیَۃٌ مِّن رَّبِّہِ قُلْ إِنَّ اللّہَ قَادِرٌ عَلَی أَن یُنَزِّلٍ آیَۃً وَلَـکِنَّ أَکْثَرَہُمْ لاَ یَعْلَمُونَ (37)

” یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس نبی پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہ اتاری گئی ؟ کہو ‘ اللہ تعالیٰ نشانی اتارنے کی پوری قدرت رکھتا ہے ‘ مگر ان میں سے اکثر لوگ نادانی میں مبتلا ہیں ۔

اس آیت میں ان لوگوں کی بات نقل کی گئی ہے جو دین اسلام کو جھٹلاتے تھے ‘ حضور ﷺ کا مقابلہ کرتے تھے ‘ اور ایسے خارق عادت معجزات کے طلبگار تھے جنہیں ان کی آبادی بچشم سر دیکھے یہاں ان کا مطالبہ نقل کرنے کے بعد ان کے دلوں میں یہ بات بٹھائی جاتی ہے کہ اگر ان کا یہ مطالبہ مان لیا جائے تو اس کے نتائج کیا نکلیں گے ۔ یہ کہ وہ خدا کی شدید پکڑ میں آجائیں گے اور ہلاک وبرباد کردیئے جائیں گے ۔ ظاہر ہے کہ اللہ اس بات پر قدرت رکھتا ہے کہ وہ کوئی معجزہ نازل فرمائے ۔ لیکن اللہ کی رحمت کا یہ تقاضا ہے کہ وہ نازل نہ کرے اور اللہ کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ ان لوگوں کے اس مطالبے کو مسترد کردیے ۔

سیاق کلام اب اس محدود موضوع سے نکل کر کائنات کی وسعتوں میں داخل ہوجاتا ہے اور لوگوں کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ تم اپنے اردگرد پھیلی ہوئی اس کائنات پر ذرا نگاہ ڈالو ‘ وہ آیات ومعجزات خود کتاب کائنات کے اندر موجود ہیں جن کے مقابلے میں وہ خوارق کچھ خوارق نہیں جن کا وہ مطالبہ کرتے ہیں ۔ اور یہ معجزات اور نشانات اس کائنات کے دل میں ابدالاباد تک قائم ہیں تاکہ صرف ایک موجودہ نسل ہی نہیں سب نسلیں انہیں دیکھتی رہیں ۔

(آیت) ” وَمَا مِن دَآبَّۃٍ فِیْ الأَرْضِ وَلاَ طَائِرٍ یَطِیْرُ بِجَنَاحَیْْہِ إِلاَّ أُمَمٌ أَمْثَالُکُم مَّا فَرَّطْنَا فِیْ الکِتَابِ مِن شَیْْء ٍ ثُمَّ إِلَی رَبِّہِمْ یُحْشَرُونَ (38)

” زمین میں چلنے والے کسی جانور اور ہوا میں پروں سے اڑنے والے کسی پرندے کو دیکھ لو ‘ یہ سب تمہاری ہی طرح کی انواع ہیں ‘ ہم نے ان کی تقدیر کے نوشتے میں میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے ‘ پھر یہ سب اپنے رب کی طرف سمیٹے جا رہے ہیں ۔ یہ بیشک ایک ہولناک حقیقت ہے ۔ یہ وہ عظیم حقیقت ہے جسے اس وقت ان کی وقت مشاہدہ دیکھ سکتی تھی ‘ اس لئے کہ اس وقت تک وہ سائنس میں کوئی منظم علم نہ رکھتے تھے ۔ وہ یہ کہ تمہارے اردگرد موجود تمام مخلوقات کے اصناف واجناس اپنی جگہ اقوام وامم ہیں ۔ ہر ایک کی اپنی خصوصیت ہے اور اپنا نظام ہے ‘ لیکن یہ مشاہدہ اس قدر عظیم حقیقت ہے کہ جس قدر اس کا دائرہ وسیع ہوتا جاتا ہے اسی قدر اس کی عظمت کا یقین ہوتا جاتا ہے ‘ اس سے انسانی علم میں اضافہ ہوتا ہے ہاں انسانی علم میں اضافہ ہوتا ہے ہاں انسانی علوم اس کائنات کے علوم میں اضافہ تو کرسکتے ہیں لیکن ان کی وجہ سے اس کائنات کی کسی بھی حقیقت میں اضافہ نہیں کیا جاسکتا ۔ انسانی علوم کے متوازی اللہ کے علوم غیبی ہیں جو اپنا کام کرتے ہیں اور ہر معاملے پر الہی علم و ارادہ اپنا تدبیری عمل جاری رکھے ہوئے ہے اور اس کائنات میں ہمارا مشاہدہ جس قدر آگے جاتا ہے ‘ یہ حقیقت اور واضح ہوتی جاتی ہے ۔

سوال یہ ہے کہ اس کائنات کے اندر جو الہی قوتیں کار فرما ہیں اور جو نہایت ہی معجزانہ انداز میں کام کررہی ہیں ان کے مقابلے میں ان لوگوں کے مطلوبہ معجزات کی حیثیت ہی کیا ہے ؟ یہ کائناتی آیات ومعجزات تو وہ حقائق ہیں کہ انسان کی بصارت اور بصیرت جس قدر آگے بڑھتی ہے وہ ان کے نئے نئے پہلو دیکھتے ہیں اور قیامت تک دیکھتے رہیں گے ۔

اس انتخاب اور نمونے میں قرآنی منہاج کلام یہ ہے کہ قرآن کریم فطرت انسانی اور اس کائنات کے درمیان ایک ربط اور جوڑ پیدا کردیتا ہے ۔ وہ فطرت کے دریچے کائنات کے رازوں کے لئے وا کردیتا ہے اور اس طرح قرآن کریم اس عظیم کائنات کے رازوں کے ذریعے انسان کی شخصیت اور اس کی سوچ پر گہرے اثرات چھوڑتا ہے ۔

قرآن کریم انسان کی فطرت کے سامنے محض جدلیاتی لاہوتی مباحث پیش نہیں کرتا ۔ نہ ان کے سامنے محض جدلیاتی علم الکلام اور توحیدی مباحث پیش کرتا ہے ۔ نہ عقلی اور حسی فلسفے پیش کرتا ہے ۔ یہ امور اسلامی اور قرآنی منہاج کے خلاف ہیں ۔ قرآن لوگوں کے سامنے عالم موجودات اور عالم غیب کے واقعی مشاہد وحقائق پیش کرتا ہے ۔ عقل انسانی کو آزاد چھوڑ دیتا ہے کہ وہ غور وفکر کرے ‘ ان سے نتائج اخذ کرے اور قدرت کی کارفرمائیوں کے ساتھ ہمقدم ہو کر چلے اور حقائق کو قبول کرے ۔ لیکن قرآن کریم انسان پر یہ ایک خاص ضابطے اور اسلوب کے ساتھ پیش کرتا ہے اور اسے اسی طرح نہیں چھوڑ دیتا کہ وہ عالم شہادت کی بھول بھلیوں میں گم ہو کر صراط مستقیم کھو دے ۔ اب سب سے آخر میں ان لوگوں کا انجام بتلایا جاتا ہے جو اس عظیم معجزے کے منکر ہیں :

(آیت) ” وَالَّذِیْنَ کَذَّبُواْ بِآیَاتِنَا صُمٌّ وَبُکْمٌ فِیْ الظُّلُمَاتِ مَن یَشَإِ اللّہُ یُضْلِلْہُ وَمَن یَشَأْ یَجْعَلْہُ عَلَی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ (39)

” مگر جو لوگ ہماری نشانیوں کو جھٹلاتے ہیں وہ بہرے اور گونگے ہیں ‘ تاریکیوں میں پڑے ہوئے ہیں ۔ اللہ جسے چاہتا ہے بھٹکا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے سیدھے رستے پر لگا دیتا ہے ۔ “

قرآن کریم یہ بتاتا ہے کہ جو لوگ آیات الہی کو جھٹلاتے ہیں وہ گونگے اور بہرے ہیں اور اندھیروں میں ڈوبے ہوئے ہیں ۔ اور پھر بتایا جاتا ہے کہ اللہ کے نزدیک ہدایت وضلالت کے بارے میں کیا اصول رائج ہیں ۔ خلاصہ یہ کہ ہدایت وضلالت اللہ کی مشیت کے دائرے میں آتی ہے اور یہ اس قانون فطرت کے مطابق ہے جس پر اللہ نے بندوں کو پیدا کیا ہے ۔

یوں اس معاملے میں اسلامی تصور حیات کے تمام پہلو جڑ جاتے ہیں اور اسلامی منہاج دعوت کی وضاحت بھی ہوجاتی ہے ۔ ایک داعی کے موقف کو متعین کردیا جاتا ہے ‘ جو اپنے نظریات و عقائد کے مطابق جدوجہد کرتا رہتا ہے ۔ ہر دور اور ہر حال میں وہ لوگوں کے سامنے دعوت پیش کرتا رہتا ہے ۔ امید ہے کہ اس قدر کلمات کے ساتھ ہم اپنا مدعا واضح کرچکے ہیں اور اس کے ساتھ وہ مزید بحث بھی قابل ملاحظہ ہے جو ہم نے دعوت اسلامی کے منہاج کے سلسلے میں اس سورة کے مقدمے میں کی ہے ۔

درس نمبر 60 ایک نظر میں :

یہاں سے سیاق کلام کا رخ اب اس موضوع کی طرف پھرجاتا ہے کہ جب اللہ کا عذاب آتا ہے تو اس کا مشرکین کی فطرت پر کیا ردعمل ہوتا ہے بلکہ مشرکین کے سامنے ان کے فطری ردعمل کا نمونہ پیش کردیا جاتا ہے کہ جس سے وہ عذاب الہی کے وقت دو چار ہوتے ہیں ۔ جب انسان اور ان مشرکین کی فطرت کے اوپر سے تہ بہ تہ جمے ہوئے مادی پردے ہٹ جاتے ہیں اور جب وہ خوفناک حالات سے جھنجوڑے جاتے ہیں تو فطرت کے اوپر جمی ہوئی گرد و غبار چھٹ جاتی ہے ۔ ایسے حالات میں مشرکین اپنے جھوٹے خداؤں کی تمام کہانیاں بھول جاتے ہیں ۔ وہ رب واحد کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں جس کی معرفت ان کی فطرت کی گہرائیوں میں پہلے سے موجود ہوتی ہے ۔ اب وہ صرف اللہ کے سامنے نجات اور فلاح کے لئے دست بدعا ہوتے ہیں ۔

اس کے بعد سیاق کلام ان کے ہاتھ پکڑ کر ایک دوسرے منظر کے سامنے لے جاتا ہے اور اس میں منظر میں انہیں بتایا جاتا ہے کہ ان کے اسلاف پر کیا کیا عذاب نازل ہوئے اور کس کس میدان میں وہ مارے گئے ۔ سنت الہیہ نے تاریخ میں کیا کیا کردار ادا کیا اور قضائے الہی کس طرح ان کے ساتھ عمل کرتی رہی ۔ ان کی بصارت اور بصیرت کو روشن کرنے کے لئے انہیں وہ واقعات بتائے گئے کہ اللہ نے انہیں کہاں کہاں مہلت دی جس کے اندر وہ رسولوں کو جھٹلاتے رہے ۔ اور نتیجۃ کس طرح ایک ابتلاء کے بعد ان پر دوسری ابتلاء آتی رہی ۔ انہیں مصائب ومشکلات سے دو چار کیا گیا ۔ پھر نعمت و دولت کے ذریعے انہیں آزمائش میں ڈالا گیا اور انہیں مہلت کے بعد مہلت دی جاتی جاتی رہی تاکہ وہ غفلت کی نیند سے بیدار ہوجائیں یہاں تک کہ انہوں نے فرصت کے تمام مواقع ضائع کردیئے ۔ مشکلات اور مصائب نے ان کے اندر جو احساس پیدا کردیا تھا ‘ دولت ونعمت نے انہیں اس احساس سے محروم کردیا ۔ اللہ کی سنت کے مطابق ان پر پھر عذاب الہی آیا اور اس نے ان کے ساتھ جو سلوک کیا وہ یہ تھا :

(آیت) ” فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ ظَلَمُواْ وَالْحَمْدُ لِلّہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ (45)

اس طرح ان لوگوں کی جڑ کاٹ کر رکھ دی گئی جنہوں نے ظلم کیا تھا ، اور تعریف اللہ رب العالمین کے لئے ہے ۔

یہ منظر جو دلوں کو دہلانے والا ہے ‘ ابھی نظروں سے اوجھل نہیں ہوتا کہ سامنے سے دوسرا منظر نمودار ہوجاتا ہے ۔ اس نئے منظر میں یہ لوگ اللہ کے عذاب میں مبتلا نظرآتے ہیں ۔ اللہ کے عذاب نے ان کی قوت سماعت اور ان کی قوت بصارت کو ختم کردیا ہے ۔ ان کے دلوں پر مہریں لگ چکی ہیں اور اب اللہ کے سوا ‘ اس منظر میں ‘ کوئی دوسری قوت انہیں نظر نہیں آتی جو ان کی کھوئی ہوئی بصارت ‘ سماعت اور قوت مدرکہ انہیں دو بار دے سکے ۔ ان نمایاں اور خوفناک مناظر موجودگی میں بتایا جاتا ہے کہ کسی رسول کے فرائض کیا ہیں ؟ یہ کہ وہ بشیر ونذیر ہوتا ہے اور اس کے سوا نہ کوئی اس کی ڈیوٹی ہے اور نہ اختیار ۔ رسول کے پاس یہ طاقت نہیں ہوتی کہ وہ اپنی جانب سے کوئی معجزہ پیش کرے ۔ نہ رسولوں کو یہ اختیار ہوتا ہے کہ لوگوں سے تجاویز لیں اور ان کے مطابق کام کریں ۔ وہ تو مبلغ ہوتے ہیں اور بشیر ونذیر ہوتے ہیں ۔ اب صورت حالات یہ ہوجاتی ہے کہ بعض لوگ ان پر ایمان لا کر عمل صالح شروع کردیتے ہیں ۔ وہ خوف سے اور پریشانی سے نجات پا جاتے ہیں ۔ اور بعض لوگ ان کی تکذیب کرتے ہیں اس لئے انہیں عذاب سے دوچار ہونا پڑتا ہے اور یہ عذاب ان پر اس روگردانی اور تکذیب کی وجہ سے آتا ہے ۔ اس لئے جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کا رویہ اختیار کرے ‘ اس کا انجام یہ ہوگا ‘ جس کا اس لہر میں ذکر ہوا ہے ۔

اردو ترجمہ

زمین میں چلنے والے کسی جانور اور ہوا میں پروں سے اڑنے والے کسی پرندے کو دیکھ لو، یہ سب تمہاری ہی طرح کی انواع ہیں، ہم نے ان کی تقدیر کے نوشتے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے، پھر یہ سب اپنے رب کی طرف سمیٹے جاتے ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wama min dabbatin fee alardi wala tairin yateeru bijanahayhi illa omamun amthalukum ma farratna fee alkitabi min shayin thumma ila rabbihim yuhsharoona

اردو ترجمہ

مگر جو لوگ ہماری نشانیوں کو جھٹلاتے ہیں وہ بہرے اور گونگے ہیں، تاریکیوں میں پڑے ہوئے ہیں اللہ جسے چاہتا ہے بھٹکا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے سیدھے رستے پر لگا دیتا ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waallatheena kaththaboo biayatina summun wabukmun fee alththulumati man yashai Allahu yudlilhu waman yasha yajAAalhu AAala siratin mustaqeemin

اردو ترجمہ

ان سے کہو، ذرا غور کر کے بتاؤ، اگر کبھی تم پر اللہ کی طرف سے کوئی بڑی مصیبت آ جاتی ہے یا آخری گھڑی آ پہنچتی ہے تو کیا اس وقت تم اللہ کے سوا کسی اور کو پکارتے ہو؟ بولو اگر تم سچے ہو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qul araaytakum in atakum AAathabu Allahi aw atatkumu alssaAAatu aghayra Allahi tadAAoona in kuntum sadiqeena

(آیت) ” نمبر 40 تا 41۔

اللہ تعالیٰ فطرت انسانی کے خطاب کے لئے جو وسائل استعمال فرماتے ہیں یہ اس کا ایک نمونہ ہے ۔ یہ نمونے اس سے پہلے کی لہروں میں بھی بیان کئے جا چکے ہیں اور اس کے بعد جو فقرات آ رہے ہیں ان میں بھی اس کے نمونے آئیں گے ۔ اس پوری سورة میں انسانی فطرت کو مخاطب کیا گیا ہے ۔

اس سے قبل یہ بات کہی گئی تھی کہ زندہ مخلوقات کے جہان تمہاری نظروں کے سامنے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی مدبرانہ قدرت نے ان کے اندر کس قدر تنظیم پیدا کر رکھی ہے ۔ پھر ذرا دیکھو کہ اللہ کا علم کس قدر وسیع اور شامل ہے ۔ اس زیر بحث مجموعہ آیات میں اللہ کے عذاب اور آفات ناگہانی کا ذکر ہے ۔ جب یہ ناگہانی آفات وبلیات انسانی فطرت پر آتی ہیں تو ان کے مقابلے میں کا ردعمل کیا ہوتا ہے ۔ خصوصا اس وقت جب یہ آفات ایک ہولناک صورت میں ہوتی ہیں جس سے انسان کا دل دہل جاتا ہے ۔ ایسے حالات میں انسان کے دل و دماغ سے شرک کے گرد و غبار کی تہیں چھٹ جاتی ہیں اور انسانی فطرت صاف ہو کر سامنے آجاتی ہے اور عقیدہ توحید جو انسانی فطرت کی گہرائیوں میں موجود رہتا ہے وہ سامنے آتا ہے اور انسانی فطرت صرف رب واحد کو پکارتی ہے ۔

(آیت) ” قُلْ أَرَأَیْْتُکُم إِنْ أَتَاکُمْ عَذَابُ اللّہِ أَوْ أَتَتْکُمُ السَّاعَۃُ أَغَیْْرَ اللّہِ تَدْعُونَ إِن کُنتُمْ صَادِقِیْنَ (40)

” ان سے کہو ‘ ذرا غور کرکے بتا ‘ اگر تم پر اللہ کی طرف سے کوئی بڑی مصیبت آجاتی یا آخری گھڑی آپہنچتی ہے تو کیا اس وقت تم اللہ کے سوا کسی اور کو پکارتے ہو ؟ بولو اگر تم سچے ہو ۔

یہاں ایک خوفناک صورت حال کا تصور پیش کیا جاتا ہے اور دنیا میں تباہی و بربادی کے بعض مناظر نظروں کے سامنے لائے جاتے ہیں یا یہ تصور کہ اچانک قیامت برپا ہوجائے ۔ جب انسانی فطرت کے سامنے یہ مناظر آتے ہیں تو فطری احساس چٹکیاں لینے لگتا ہے ۔ ان مناظر کی ہولناکی کا تصور ذہن میں خوبی کے ساتھ آجاتا ہے اور اللہ خوب جانتا ہے جو خالق فطرت ہے کہ اس اسلوب کے ساتھ فطرت ان مناظر کا اچھی طرح ادراک کرلیتی ہے اور بسہولت حقیقت تک رسائی حاصل کرلیتی ہے ۔ اس کی تمام قوتیں ان مناظر کی وجہ سے حرکت میں آجاتی ہیں اس لئے کہ ان ہولناک مناظر میں جو حقیقت ہوتی ہے وہ فطرت انسانی کے اندر موجود ہوتی ہے ۔ خالق فطرت کو تو اچھی طرح علم ہے کہ یہ حقیقت فطرت کے اندر موجود ہوتی ہے اس لئے باری تعالیٰ اس اسلوب میں فطرت سے مخاطب ہوتے ہیں اور فطرت اس تصور کو قبول کرلیتی ہے ‘ کانپ اٹھتی ہے اور غفلت اور سرکشی پردوں اور غبار کی تہوں کے نیچے سے صاف صاف نمودار ہوجاتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ ان سے پوچھتے ہیں یا جواب طلب فرماتے ہیں اور خود ان کی زبان سے جواب چاہتے ہیں تاکہ معلوم ہو کہ یہ جواب ان کی فطرت کا حقیقی اظہار ہے ۔ (آیت) ” اغیر اللہ تدعون “۔ کیا تم اللہ کے سوا دوسروں کو پکارتے ہو ‘ اگر تم سچے ہو تو جواب دو ۔ “

ان کی جانب سے جواب کا انتظار کئے بغیر سچا اور حقیقی جواب آجاتا ہے جو عملا ان کی فطرت کے مطابق ہے ۔ اگرچہ وہ جواب نہ دیں لیکن ایسے مواقع پر ان کا عمل کچھ ایسا ہی ہوتا ہے ۔

(آیت) ” بَلْ إِیَّاہُ تَدْعُونَ فَیَکْشِفُ مَا تَدْعُونَ إِلَیْْہِ إِنْ شَاء وَتَنسَوْنَ مَا تُشْرِکُونَ (41)

” اس وقت تم اللہ ہی کو پکارتے ہو ۔ پھر اگر وہ چاہتا ہے تو اس مصیبت کو تم پر سے ٹال دیتا ہے ۔ ایسے موقعوں پر تم اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو بھول جاتے ہو۔

بلکہ تم صرف اللہ وحدہ ہی کو پکارو گے اور ایسے حالات میں تم اپنے شرکیہ تصورات کو یکسر بھول جاؤ گے ۔ یہ خوفناک صورت حال تمہاری اصل فطرت کو سطح تک لے آئے گی اور اب یہ فطرت صرف اللہ وحدہ کو پکارے گی ۔ اسے یہ بات یاد بھی نہ رہے گی کہ کوئی شخص شرک کرتے ہوئے غیر اللہ کو بھی پکارتا رہا ہے ۔ سرے سے حقیقت شرک بھی ان کے ذہن سے محو ہوجائے گی ۔ اس لئے کہ معرفت کردگار ہی وہ اصل حقیقت ہے جو انسانی فطرت کے اندر موجود ہوتی ہے ۔ رہے شرکیہ تصورات تو یہ جھلکی کی طرح عارضی چیز ہوتی ہے ۔ بعض عارضی عوامل اور حالات کی وجہ سے یہ شرکیہ تصورات جنم لیتے ہیں ۔ انسانی فطرت پر یہ عارضی پردے پڑ کر اصل حقیقت کو نیچے چھپا دیتے ہیں ۔ جب کوئی خوفناک صورت حالات انسان کو جھنجھوڑتی ہے ۔ تو اوپر کے پردے اور غبار چھٹ جاتے ہیں ۔ اور نیچے سے اصل حقیقت نمودار ہوجاتی ہے ۔ اب یہ فطرت رب ذوالجلال کے سامنے اپنا رد عمل ظاہر کرتی ہے اور امید کرتی ہے کہ ان خوفناک حالات میں صرف اللہ تعالیٰ ہی انسان کی مدد کرسکتے ہیں اور ایسے حالات میں انسان کے لئے کوئی اور چارہ کار نہیں رہتا ۔

یہ ہے انسان کی حقیقی فطری روش ۔ اللہ تعالیٰ مشرکین کے سامنے انسان کے اس فطری ردعمل کو برائے غور پیش فرماتے ہیں لیکن ایسے حالات میں اللہ تعالیٰ کی شان بےنیازی کیا روش اختیار فرماتی ہے ؟ یہ کہ اگر اللہ چاہے کہ ان پر سے ان مشکلات کو دور فرما دے تو اس کی مشیت بےقید ہے ۔ اس کے ارادے کو رد کرنے والا کوئی نہیں ہے ۔ اگر چاہے تو ان کی دعاؤں کو قبول کرلے ‘ تکالیف پوری طرح دور ہوجائیں یا جزوی طور پر دور ہوجائیں ۔ اور اگر اس کی مشیت کا تقاضا یہ ہو کہ ان کی پکار کو رد کردیتا ہے ۔ یہ فیصلہ ‘ اس کی تقدیر ‘ اس کے علم اور اس کی حکمت پر موقوف ہے ۔

اگرچہ شرک انسانی فطرت کے خلاف ہے لیکن بعض اوقات انسان شرکیہ تصورات اختیار کرلیتا ہے ۔ یہ وہ اس وقت اختیار کرتا ہے جب وہ راہ فطرت سے انحراف اختیار کرلیتا ہے اور یہ انحراف مختلف عوامل کی وجہ سے واقع ہوتا ہے اور یہ عوامل انسان کے اندر جو صاف ستھری فطرت موجود ہے اسے دبا دیتے ہیں اور ان عوامل کے نیچے رب واحد کی حقیقی معرفت انسان کی نظروں سے اوجھل ہوجاتی ہے ۔ اس لئے کہ انسان کبھی بھی وجود باری کا منکر نہیں رہا ہے اور نہ یہ اس کا فطری موقف رہا ہے کہ وہ وجود باری سے انکار کردے ۔

جیسا کہ ہم بارہا دیکھ چکے ہیں کہ جو لوگ بظاہر اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ وہ ملحد ہیں اور وہ وجود خالق کے منکر ہیں ‘ درحقیقت وہ خدا کے منکر نہیں ہوتے ۔ ہم یہ یقین نہیں کرسکتے کہ جن لوگوں کو دست قدرت نے بنایا ہے اور جن کے وجود کے ہر ذرے اور ہر خیلے میں دست قدرت کی چھاپ موجود ہے ‘ پھر ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے خالق کو بالکل بھول جائیں اور حقیقی ملحد ہوجائیں ۔ ان کے وجود کا تو ہر ذرہ ذات باری پر گواہ ہے ۔

انسانیت پر اس خوفناک عذاب کے نزول کی ایک طویل داستان ہے ، کنیسہ اور فطرت کے درمیان ایک طویل عرصے تک کشمکش جاری رہی ۔ کینسہ اس جدوجہد میں رہا کہ فطری عامل اور دواعی کا قلع قمع کر دے ۔ اہل کنیسہ انسان کی فطری خواہشات اور میلانات کی قانونی حیثیت کا انکار کرتے تھے ۔ جبکہ درحقیقت وہ نہایت ہی مکروہ زندگی بسر کرتے تھے جو عیاشیوں سے پر تھی ۔ اس طرح فطرت کے ساتھ مخاصمت اور کشمکش یورپ میں صدیوں تک برپا رہی ۔ اس کا نتیجہ یہ وہا کہ اہل یورپ نے یہ سمجھا کہ خدا پرستی کا مطلب فطرت کا انکار ہے یوں وہ کفر اور الحاد کے صحرا میں گم گشتہ راہ ہوگئے اور کنیسہ کی رہبانی زندگی سے بھی مکروہ ترزندگی اور سراب کے پیچھے بھاگتے رہے ۔ (دیکھئے میری کتاب المستقبل لھذا الدین کی فصل غیر فطری افتراق)

اس صورت حال سے یہودیوں نے خوب فائدہ اٹھایا اور نصاری کو اپنے صحیح دین سے برگشتہ کردیا تاکہ ان کی نکیل ان کے ہاتھ آجائے اور وہ خوب اچھی طرح سے ان کے اندر فسق وفجور اور اخلاقی بےراہ روی پھیلا سکیں اور ان کو اپنے مقاصد کے لئے اس طرح استعمال کریں جس طرح گدھے کو استعمال کیا جاتا ہے ‘ جس کا اظہار انہوں نے تلمود اور یہودی زعما کے پروٹوکولز میں بڑی صراحت سے کیا ہے ۔ یہودی یہ کام اس وقت تک نہ کرسکتے جب تک انہوں نے یورپ کی اس غیر فطری تاریخ کنیسہ پر تنقید کر کے لوگوں کو گمراہ نہ کردیا اور لوگوں کو کنیسہ سے منتفر کر کے ملحد نہ بنا دیا ۔

اس صریح اور ان تھک مکارانہ جدوجہد کا آخری اظہار عالمی کمیونزم کی صورت میں ہوا ۔ یہ بات یاد رہے کہ عالمی کمیونزم لوگوں کو ملحد اور گمراہ کرنے کی ایک عظیم یہودی سازش تھی ۔ یہ لوگ گزشتہ نصف صدی سے بھی زیادہ عرصے سے تمام حکومتی ذرائع ابلاغ کے ذریعے لوگوں کو ملحد بنانے میں مصروف رہے لیکن دوسری اقوام کے دلوں کی گہرائی کے اندر اب بھی عقیدہ خدا پرستی موجود ہے ۔ سٹالن جیسے وحشی انسان کو بھی بالاخر کنیسہ کے ساتھ مصالحت کرنی پڑی اور دوسری عالم گیرجنگ کے دوران اس نے کنیسہ کے مشائخ کو رہا کردیا ۔ دوسری عالم گیر جنگ نے اس پر اس قدر بوجھ ڈالا کہ اس کی گردن بھی تصور خدا کے سامنے آخر جھک ہی گئی اس لئے کہ لوگوں کی فطرت کے اندر تصور خدا موجود تھا ۔ اگرچہ سٹالن اور اس کے مٹھی بھر ساتھی ملحد تھے جن کے ہاتھوں میں زمام حکومت تھی ۔

یہودیوں نے اپنے صلیبی خرکاروں فائدہ اٹھاتے ہوئے ان اقوام کے اندر بھی کفر والحاد کا مصنوعی سیلاب لانے کی بےحد سعی کی ۔ اگرچہ مسلم اقوام کے دل و دماغ میں عقیدہ خدا پرستی نہایت ہی کمزور ہوگیا تھا لیکن انہوں نے ترکی کے نام نہاد لیڈر اتاترک کے زریعے عالم اسلام کے اندر کفر والحاد کی جو تحریک شروع کی تھی وہ تحریک خود ترکی کے اندر بری طرح ناکام ہوگئی ‘ حالانکہ یہودیوں اور ان کے خرکاروں نے اس نام نہاد لیڈر کی عظمت اور برتری کے ڈھنڈورے پیٹے اور ہر طرف سے مالی امداد کے دروازے کھول دیئے ۔ ترکی کی تحریک الحاد پر انہوں نے بیشمار کتابیں بھی لکھیں اور ان میں اس کے الحادی تجربے کو بےحد سراہا گیا ۔ یہی وجہ ہے کہ اب وہ عالم اسلام میں ترکی کے تجربے کے بعد جو دوسرے تجربے کررہے ہیں ان کو وہ الحاد وزندقہ کا عنوان نہیں دیتے بلکہ یہاں وہ اسلام کے نام سے الحاد پھیلاتے ہیں تاکہ ان کی تحریک کا ٹکراؤ انسان کے فطری میلانات سے نہ ہو ‘ جس طرح اتاترک کے تجرباتی کے انسان کے فطری رجحان کے ساتھ ٹکراؤ ہوا اور وہ اپنی جگہ پاش پاش ہوگیا ۔ اب یہ لوگ اسلامی جھنڈوں کے سائے تلے گندگی ‘ غلاظت اور اخلاقی بےراہ روی پھیلاتے ہیں ۔ اس طرح خام انسانی عقول کو تباہ وبرباد کرتے ہیں اور یہودی اور ان کے خرکار صلیبی یہ کام عالم اسلام میں بڑے اہتمام سے کرتے ہیں ۔

لیکن ان تمام تجربات کے بعد جو حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ انسانی فطرت اپنے رب کو اچھی طرح جانتی ہے وہ رب کو وحدہ لاشریک بھی تسلیم کرتی ہے اگر کسی وقت انسانی فطرت پر فسق وفجور کی گرد پڑجائے اور وہ اس آلودگی کے نیچے دب جائے تو جونہی کوئی اچانک کوئی خطرہ درپیش ہو اور انسان جھنجھوڑا جائے تو یہ گرد و غبار چھٹ جاتا ہے اور اصل انسانی فطرت واضح طور پر سامنے آجاتی ہے اور انسان اپنے رب کو یوں پکارتا ہے ۔ جس طرح اس وقت انسان نے پکارا تھا جب اسے اللہ نے پیدا کیا تھا ۔ اچانک وہ مطیع فرمان مومن اور خشوع و خضوع کرنے والا انسان بن جاتا ہے ۔ یہودیوں اور ان کے خر کاروں کی اس عالمی سازش کا تارو پود فطرت کی ایک کڑکے دار چیخ سے ہی پاش پاش ہوجاتا ہے اور فطرت دوبارہ باری تعالیٰ کے آستانے پر آگرتی ہے ۔ جس خطے میں یہ فطری آواز بلند ہو وہاں سے یہ سازش نابود ہوجاتی ہے ۔ اور یہودی اور ان کے خرکار جس قدر جدوجہد بھی کریں ‘ زمین پر یہ آواز حق بلند ہوتی رہے گی ۔

اردو ترجمہ

ا س وقت تم اللہ ہی کو پکارتے ہو، پھر اگر وہ چاہتا ہے تو اس مصیبت کو تم پر سے ٹال دیتا ہے ایسے موقعوں پر تم اپنے ٹھیرائے ہوئے شریکوں کو بھول جاتے ہو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Bal iyyahu tadAAoona fayakshifu ma tadAAoona ilayhi in shaa watansawna ma tushrikoona

اردو ترجمہ

تم سے پہلے بہت سی قوموں کی طرف ہم نے رسول بھیجے اور اُن قوموں کو مصائب و آلام میں مبتلا کیا تاکہ وہ عاجزی کے ساتھ ہمارے سامنے جھک جائیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Walaqad arsalna ila omamin min qablika faakhathnahum bialbasai waalddarrai laAAallahum yatadarraAAoona

(آیت) ” نمبر 42 تا 45۔

یہ لہر عذاب الہی کی ایک جھلکی ہے اور انسان کی تاریخ کی واقعی صورت حال کی طرف اشارہ ہے لیکن اس میں کسی واقعہ کے بجائے یہ بتایا گیا ہے کہ لوگ عذاب الہی کی زد میں کس طرح آتے ہیں ۔ اور ان کا انجام کیا ہوتا ہے ۔ عذاب سے پہلے اللہ تعالیٰ کس طرح انہیں مہلت کے بعد مہلت دیتا چلا جاتا ہے اور کس طرح ان کی تنبیہ کے بعد تنبیہ کی جاتی رہتی ہے ۔ لیکن وہ بھلاتے ہی چلے جاتے ہیں اور بعض اوقات شدید سے شدید عذاب بھی انہیں خواب غفلت سے نہیں جگا سکتا ۔ اور جب ان پر انعامات واکرامات کی بارش کردی جاتی ہے تو وہ شکر ادا نہیں کرتے یا زوال نعمت اور فتنوں سے نہیں ڈرتے ۔ ان کی فطرت اس قدر بگڑ جاتی ہے کہ اب وہ لاعلاج ہوجاتے ہیں ۔ ان کی زندگی میں اس قدر عمل بگاڑ رونما ہوجاتا ہے کہ اب اصلاح احوال ممکن ہی نہیں رہتی ۔ ایسے لوگوں پر حجت تمام ہوجاتی ہے اور ان پر اللہ کا ایسا عذاب آتا ہے کہ پھر ان میں کا کوئی متنفس زندہ نہیں رہتا ۔

(آیت) ” وَلَقَدْ أَرْسَلنَا إِلَی أُمَمٍ مِّن قَبْلِکَ فَأَخَذْنَاہُمْ بِالْبَأْسَاء وَالضَّرَّاء لَعَلَّہُمْ یَتَضَرَّعُونَ (42) فَلَوْلا إِذْ جَاء ہُمْ بَأْسُنَا تَضَرَّعُواْ وَلَـکِن قَسَتْ قُلُوبُہُمْ وَزَیَّنَ لَہُمُ الشَّیْْطَانُ مَا کَانُواْ یَعْمَلُونَ (43)

” تم سے پہلے بہت سی قوموں کی طرف ہم نے رسول بھیجے اور ان قوموں کو مصائب وآلام میں مبتلا کیا تاکہ وہ عاجزی کے ساتھ جھک جائیں ۔ پس جب ہماری طرف سے ان پر سختی آئی تو کیوں نہ انہوں نے عاجزی اختیار کی ؟ مگر ان کے دل تو وہ سخت ہوگئے اور شیطان نے ان کو اطمینان دلایا کہ جو کچھ تم کر رہے ہو خوب کر رہے ہو ۔

انسانی تاریخ میں ایسی اقوام بکثرت موجود ہیں اور ان میں سے بیشمار قرآن کریم نے انسانوں کو گنوا کر انکے حالات بتائے ہیں ۔ قرآن نے یہ حالات اس وقت بتائے جب انسانی تاریخ ابھی مدون ہی نہ ہوئی تھی ۔ تاریخ کی جن کتابوں کو انسانوں نے مرتب کیا ہے وہ تو بہت ہی قریبی ادوار سے متعلق ہیں وہ حدیث السن اور نومولود ہے ۔ ہماری تاریخ انسان کی طویل ترین تاریخ کو سمجھنے سمجھانے کی اہل نہیں ہے کیونکہ کرہ ارض پر انسان کے بسنے کی تاریخ بہت ہی طویل ہے اور انسان نے جو تاریخ مرتب کی ہے یہ تو جھوٹ کا پلندہ ہے ۔ وہ ہے بھی بہت ہی مختصر اور اس کے اندر تاریخ کے اصل عوام اور اسباب کا احاطہ ہی نہیں کیا سکا ۔ ان تاریخی عوامل میں سے بعض تو نفس انسانی کی گہرائیوں میں پوشیدہ ہیں اور بعض ایسے اسباب ہیں جو پردہ غیب میں مستور ہیں اور ان میں سے نہایت ہی قلیل حصہ انسان پر ظاہر ہوا ہے ۔ پھر جو بعض انسانوں پر ظاہر بھی ہوئے ہیں انسانوں نے ان کے جمع وتدوین میں غلطی کی ۔ ٹھیک طور پر واقعات جمع کر بھی لئے گئے تو ان کے سمجھنے میں غلطیاں کی گئیں اور ان میں سے سچے اور جھوٹے واقعات واسباب کو ایک دوسرے سے جدا نہ کیا جاسکا ۔ صرف چند واقعات کا درست تجزیہ ہوسکا ۔ لہذا کسی انسان کی جانب سے یہ دعوی کرنا کہ اس نے پوری انسانی تاریخ کے واقعات واسباب کا احاطہ کرلیا ہے اور یہ کہ وہ ان واقعات کی سائنٹیفک تفسیر کرسکتا ہے اور یہ کہ وہ تاریخ کے مستقبل کے رخ کو بھی صحیح طرح متعین کرسکتا اور نتائج اخذ کرسکتا ہے تو یہ بہت ہی بڑا جھوٹ ہے جو کوئی بول سکتا ہے ۔ ایک نہایت ہی تعجب انگیز بات یہ ہے کہ بعض لوگ ایسے جھوٹ کا دعوی کرتے نہیں شرماتے ۔ اگر ایسے لوگ یہ کہتے کہ مستقبل میں یہ واقعات ظاہر ہونے کی توقع ہے تو ان کی بات معقول ہوتی لیکن اگر کسی جھوٹے شخص کو ایسے افراد مل رہے ہوں جو اس کے جھوٹ کی تصدیق کے لئے ہر وقت تیار ہوں تو اسے جھوٹ سے باز رہنے کی ضرورت ہی کیا رہ جاتی ہے ۔

اللہ تعالیٰ بہرحال سچائی بیان کرتا ہے اور صادق القول ہے ۔ اللہ جانتا ہے کہ دنیا میں کیا واقعات ہو گزرے ہیں ۔ اور اپنی مہربانی اور فضل کی وجہ سے وہ بندوں کے سامنے ان حقائق کو بیان کرتا ہے ۔ کلام الہی اللہ کی تقدیر ‘ اس کے فیصلوں اور اس کائنات میں اس کی سنت پر مشتمل ہوتا ہے تاکہ لوگ احتیاط کریں اور واقعات سے عبرت حاصل کریں ۔ وہ اس حقیقت کو سمجھ سکیں کہ ان واقعات کے پیچھے کی اسباب وعوام کارفرما تھے اور ظاہری اسباب کیا نظر آتے تھے ۔ تاکہ وہ ان تاریخی واقعات کو صحیح طرح سمجھ سکیں اور ان کی تشریح تجزیہ اور تحلیل کرسکیں ۔ پھر آئندہ تاریخ پر پڑنے والے اثرات اور نکلنے والے نتائم کو سمجھ سکیں اور ان کا استدلال سنت الہیہ کی روشنی میں ہو جس کے اصول یہاں اللہ نے اپنی کتاب میں بیان کئے ہیں ۔

آیات زیر بحث میں ایسے واقعات کی صورت گری کی گئی ہے جو مختلف اقوام میں بار بار پیش آتے رہے ہیں ۔ ان اقوام کے پاس اللہ کی طرف سے بھیجے گئے رسول آئے ‘ لیکن انہوں نے رسولوں کو جھٹلایا تو اللہ تعالیٰ کی جانب سے انہیں مشکلات اور تکالیف کے ذریعے ابتلاء میں ڈالا گیا ۔ یہ مشکلات مالی بھی تھیں اور جانی بھی ۔ ان کو مشکل حالات اور مشکل مسائل میں مبتلا کردیا گیا لیکن یہ مشکلات ابھی عذاب الہی کی حد تک نہ پہنچی تھیں ‘ جن کا ذکر اس سے قبل کی آیات میں آگیا ہے ۔ یعنی یہ مشکلات تباہی اور بربادی کی حد تک نہ تھیں ۔

قرآن کریم نے ان اقوام کے بعض نمونے پیش کئے ہیں اور ان مشکلات اور مصائب کا ذکر بھی کیا ہے جو ان پر ڈالے گئے ان میں سے فرعون اور اس کے ساتھیوں کا قصہ بہت ہی مشہور ہے ۔

(آیت) ” وَلَقَدْ أَخَذْنَا آلَ فِرْعَونَ بِالسِّنِیْنَ وَنَقْصٍ مِّن الثَّمَرَاتِ لَعَلَّہُمْ یَذَّکَّرُونَ (130) فَإِذَا جَاء تْہُمُ الْحَسَنَۃُ قَالُواْ لَنَا ہَـذِہِ وَإِن تُصِبْہُمْ سَیِّئَۃٌ یَطَّیَّرُواْ بِمُوسَی وَمَن مَّعَہُ أَلا إِنَّمَا طَائِرُہُمْ عِندَ اللّہُ وَلَـکِنَّ أَکْثَرَہُمْ لاَ یَعْلَمُونَ (131) وَقَالُواْ مَہْمَا تَأْتِنَا بِہِ مِن آیَۃٍ لِّتَسْحَرَنَا بِہَا فَمَا نَحْنُ لَکَ بِمُؤْمِنِیْنَ (132) فَأَرْسَلْنَا عَلَیْْہِمُ الطُّوفَانَ وَالْجَرَادَ وَالْقُمَّلَ وَالضَّفَادِعَ وَالدَّمَ آیَاتٍ مُّفَصَّلاَتٍ فَاسْتَکْبَرُواْ وَکَانُواْ قَوْماً مُّجْرِمِیْنَ (133)

” ہم نے فرعون کے لوگوں کو کئی سال تک قحط اور پیداوار کی کمی میں مبتلا رکھا کہ شاید ان کو ہوش آجائے ۔ مگر ان کا حال یہ تھا کہ جب اچھا زمانہ آتا تو کہتے کہ ہم اسی کے مستحق ہیں اور جب برا زمانہ آتا تو موسیٰ (علیہ السلام) اور اس کے ساتھیوں کو اپنے لئے فال بد ٹھہراتے ‘ حالانکہ درحقیقت ان کی فال بد تو اللہ کے پاس تھی ‘ مگر ان میں سے اکثر بےعلم تھے ۔ انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا :” تو ہمیں مسحور کرنے کے لئے خواہ کوئی نشانی لے آئے ہم تو تیری بات ماننے والے نہیں ہیں ۔ “ آخرکار ہم نے ان پر طوفان بھیجا ‘ ٹڈی دل چھوڑے ‘ سرسریاں پھیلائیں ‘ مینڈک نکالے اور خون برسایا ۔ یہ سب نشانیاں الگ الگ کرکے دکھائیں مگر وہ سرکشی کئے چلے گئے “۔ یہ ہے ایک نمونہ ان واقعات کا ‘ جس کی طرف یہ آیت اشارہ کر رہی ہے ۔

اللہ تعالیٰ نے اس قوم کو مشکلات ومصائب سے محض اس لئے دو چار کیا کہ وہ ذرا ہوش میں آجائیں ‘ وہ ذرا اپنے ضمیر میں جھانکیں اور اپنے حالات پر غوروفکر کریں محض اس لئے کہ ان شدائد کی وجہ سے شاید وہ اللہ کے سامنے عاجزی کرنے لگیں اور اپنے آپ کو اللہ کے سامنے ذلیل وجھکنے والے بنا دیں ۔ وہ اپنے کبر و غرور کو چھور کر سنجیدہ رویہ اختیار کریں اور اخلاص سے دعا کریں کہ اللہ ان پر سے یہ مشکلات دور کر دے ۔ ان کے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے ‘ لیکن ان کے لئے جو مناسب تھا وہ انہوں نے نہ کیا ۔ انہوں نے اللہ کی پناہ میں داخل ہونے سے انکار کردیا اور اپنے عناد اور سرکشی کو جاری رکھا اور ان مشکلات کی وجہ سے بھی ان کی سوچ اس طرف نہ لوٹی ۔ ان کی چشم بصیرت وا نہ ہوئی اور ان کے دل نرم نہ ہوئے ۔ شیطان ان کے پیچھے خوب لگا ہوا تھا وہ ان کے لئے ان کی ضلالت اور سرکشی کو مزین کر رہا تھا ۔ ” مگر ان کے دل تو اور سخت ہوگئے اور شیطان نے ان کو اطمینان دلا دیا کہ جو کچھ تم کر رہے ہو خوب کر رہے ہو ۔ “

وہ دل جو شدائد مصائب کے باوجود رجوع الی اللہ اختیار نہیں کرتا وہ دل میں اس طرح خشک ہوگیا ہے جس طرح پتھر خشک ہوتا ہے اور اس کے اندر رس کا ایک قطرہ بھی نہیں ہوتا جسے شدائد اور مصائب نچوڑ سکیں ۔ یہ دل مر گیا ہے اور اس پر جس قدر دباؤ آئے اسے احساس نہ ہوگا ۔ اس دل کے اندر سے قبولیت حق کا تمام مواد خارج ہوچکا ہے ۔ وہ پوری طرح مرچکا ہے اس لئے اس کو احساس دلانے کے لئے چاہے جس قدر چٹکیاں بھریں اسے کوئی فائدہ نہ ہوگا ۔ حالانکہ زندہ دل ایسے جھٹکوں کے نتیجے میں بیدار ہوجاتے ہیں اور اللہ کی جانب سے اس قسم کے مصائب آتے ہی حق کو قبول کرلیتے ہیں ۔ وہ جاگ اٹھتے ہیں اور ان کے دریچے کھل جاتے ہیں اور یوں ان کو رجوع الی اللہ نصیب ہوجاتا ہے ۔ وہ اس رحمت اور رافت اور جود وکرم کے مستحق ہوجاتے ہیں جسے اللہ نے اپنے اوپر فرض کرلیا ہے ۔ جو شخص مر چکا ہو یہ مشکلات اس کے لئے محاسبہ اور سزا ہوتے ہیں اور ان سے اسے کوئی فائدہ نہیں ہوتا ۔ الٹا اس شخص کے تمام عذرات ختم ہوجاتے ہیں اور تمام دلائل بیکار جاتے ہیں ۔ وہ انجام بد اور شقاوت کا مستحق قرار پاتا ہے ۔ لہذا اللہ کا عذاب اس کے لئے طے ہوجاتا ہے ۔

یہ امم سابقہ جن کی خبریں اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ پر نازل کرتے ہیں اور آپ کے واسطے سے ہمیں پہنچاتے ہیں ‘ انہوں نے ان مصائب وشدائد سے کوئی عبرت نہ پکڑی ۔ انہوں نے رجوع الی اللہ اختیار نہ کیا اور نہ اللہ کے سامنے بدست بدعا ہوئے ۔ شیطان نے ان کے لئے روگردانی اور عناد کو مزین کردیا ہے وہ اسے چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہوتے ۔ ایسی اقوام کو اللہ تعالیٰ مہلت دیتے ہیں اور انہیں آزاد چھوڑے دیتے ہیں اور وہ حدوں سے گزر جاتے ہیں ۔

(آیت) ” فَلَمَّا نَسُواْ مَا ذُکِّرُواْ بِہِ فَتَحْنَا عَلَیْْہِمْ أَبْوَابَ کُلِّ شَیْْء ٍ حَتَّی إِذَا فَرِحُواْ بِمَا أُوتُواْ أَخَذْنَاہُم بَغْتَۃً فَإِذَا ہُم مُّبْلِسُونَ (44) فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ ظَلَمُواْ وَالْحَمْدُ لِلّہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ (45)

” پھر جب انہوں نے اس نصیحت کو جو انہیں کی گئی تھی ‘ بھلا دیا تو ہم نے ہر طرح کی خوشحالیوں کے دروازے ان کے لئے کھول دیئے ‘ یہاں تک کہ جب ان بخششوں میں جو انہیں عطا کی گئی تھیں وہ خوب مگن ہوگئے تو اچانک ہم نے انہیں پکڑ لیا اور اب حال یہ تھا کہ ہو ہر چیز سے مایوس تھے ۔ اس طرح ان لوگوں کی جڑ کاٹ کر رکھ دی گئی جنہوں نے ظلم کیا تھا ، اور تعریف اللہ رب العالمین کے لئے ہے ۔ (کہ اس نے ان کی جڑ کاٹ دی) “۔

خوشحالی بھی دراصل ابتلاء ہے جس طرح مصائب اور شدائد ابتلاء ہیں لیکن خوشحالی غربت اور بدحالی کے مقابلے میں شدید ہے ۔ اللہ تعالیٰ انسانوں کو جس طرح بدحالی سے آزماتا ہے اسی طرح خوشحالی سے بھی آزماتا ہے ۔ جب کسی مومن پر بدحالی آجائے اور وہ آزمائش میں مبتلا ہوجائے تو وہ صبر کرتا ہے اور اگر مومن پر خوشحالی آجائے تو وہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہے اس لئے وہ ہر حالت میں اچھا رہتا ہے ۔ حدیث شریف میں آتا ہے : ” مومن بھی عجیب ہے کہ اس کے تمام حالات خیر ہی خیر ہوتے ہیں اور یہ خصوصیت صرف مومن کو حاصل ہے ۔ اگر اسے خوشحالی نصیب ہو اور وہ اس کا شکر ادا کرے تو یہ اس کے لئے خیر ہے اور اگر وہ بدحال ہو اور صبر کرے تو بھی اس کے لئے خیر ہے ۔ “ (روایت مسلم)

رہیں وہ اقوام جنہوں نے اپنے رسولوں کی تکذیب کی اور جن کی کہانیاں اللہ نے یہاں بیان کیں تو انہوں نے اس ہدایت کو بھلا دیا جو انہیں دی گئی تھی ۔ اللہ تعالیٰ کو اس بات کا علم تھا کہ اب وہ ہلاکت سے دو چار ہونے ہی والے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے ان میں سے بعض کو شدائد ومصائب میں ڈالا تو بھی انہیں ہوش نہ آیا ۔ اور ان میں سے بعض پر انعامات کے دروازے کھول دیئے اور ہر چیز کی فراوانی کردی اور ان کے لئے میدان کھلا چھوڑ دیا تاکہ وہ سرکشی میں خوب آگے بڑھ جائیں ۔ یہاں قرآن کا انداز تعبیر بھی نہایت ہی خوبصورت ہے ۔

(آیت) ” فَتَحْنَا عَلَیْْہِمْ أَبْوَابَ کُلِّ شَیْْء ٍ (6 : 44) ” ہم نے ہر طرح کی خوشحالیوں کے دروازے ان کے لئے کھول دیئے “

اس کے اندر ہر قسم کی بھلائیاں ہر قسم کے ضروریات ‘ سازوسامان اور عزت وشان کی بڑی فروانی کے ساتھ شامل ہیں ۔ یعنی ہر چیز سیلاب کی طرح بہتات ہیں ‘ بغیر رکاوٹ اور پابندی کے ان کے لئے عام کردی نعمت انہیں بسہولت ارزاں ملتی رہی بغیر کسی محنت ومشقت کے ۔ فی الحقیقت یہ ایک نہایت ہی موثر منظر ہے ۔ قرآن کریم کے فنی انداز تعبیر کا یہ ایک نادر نمونہ ہے ۔ (دیکھئے میری کتاب التصویر الغنی میں باب طریقۃ القرآن)

(آیت) ” حَتَّی إِذَا فَرِحُواْ بِمَا أُوتُواْ (6 : 44۔ 45) ‘ یہاں تک کہ جب ان بخششوں میں جو انہیں عطا کی گئی تھیں وہ خوب مگن ہوگئے “۔ ہر قسم کی بھلائیوں اور سازوسامان کی بہتات میں وہ غرق ہوگئے اور عیش و عشرت میں مگن ہوگئے ۔ انہوں نے ایسے حالات میں نہ خدا کو یاد کیا اور نہ اس کا شکر ادا کیا اور ان کے دلوں سے منعم حقیقی کا تصور محو ہوگیا اور خشیت الہی سے انکے دل خالی ہوگئے ۔ وہ عیش کوشی اور کام ودہن کی لذت کوشی میں مکمل طور پر گھر گئے اور اپنے آپ کو مکمل طور پر ان چیزوں کے حوالے کردیا ۔ ان کی زندگی میں اعلی اقدام کی کوئی اہمیت نہ رہی اور یہ لہو ولعب اور عیش طرب میں غرق لوگوں کی عام عادت ہوتی ہے کہ ان میں سے اعلی قدریں غائب ہوجاتی ہیں ۔ اس کے بعد ان کی سوسائٹی سے نظم اور اچھی عادات غائب ہوجاتی ہیں اور وہ اخلاقی اعتبار سے مکمل طور پر تباہ جاتے ہیں ۔ یوں ان کے یہ حالات اس پر منتج ہوتے ہیں کہ ان کی پوری زندگی تباہ ہوجاتی ہے اور اب یہ تباہی قدرتی ہوتی ہے ۔ یہ عین سنت الہیہ ہے ۔

(آیت) ” أَخَذْنَاہُم بَغْتَۃً فَإِذَا ہُم مُّبْلِسُونَ (44) ” تو اچانک ہم نے انہیں پکڑ لیا اور اب حال یہ تھا کہ ہو ہر چیز سے مایوس تھے ۔ اس طرح ان لوگوں کی جڑ کاٹ کر رکھ دی گئی جنہوں نے ظلم کیا تھا “۔ کسی قوم کا دابر اس شخص کو کہا جاتا ہے جو سب سے پیچھے آتا ہے یعنی ان کا آخری آدمی ۔ جب آخری آدمی ہی کٹ گیا تو اس سے پہلے کے بدرجہ اولی کٹ گئے ۔

(آیت) ” ِ الَّذِیْنَ ظَلَمُواْ “۔ (6 : 45) ، سے یہاں وہ لوگ مراد ہیں جنہوں نے شرک کیا اس لئے قرآن کریم بیشتر مقامات پر مشرکین کو ظال میں سے تعبیر کرتا ہے اور شرک پر ظلم کے لفظ کا اطلاق کرتا ہے ۔

(آیت) ” وَالْحَمْدُ لِلّہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ (45) اور تعریف اللہ رب العالمین کے لئے ہے “۔ یہ تبصرہ ہے اس بات پر کہ اللہ نے مشرکین کی جڑ کاٹ دی اور یوں انہیں مہلت دیتے دیتے اچانک پکڑ لیا ۔ سوا یہ ہے کہ اللہ کی حمد تو اللہ کے انعام واکرام پر ہوتی ہے ؟ ہاں ‘ لیکن اللہ کی زمین کا تو ظالموں سے پاک ہونا بھی ایک گونہ نعمت ہے ۔ نیز اللہ کی حمد اس کی رحمت پر ہوتی ہے تو زمین کو پاک کردینا بھی سب سے بڑی رحمت ہے ۔

اللہ نے نوح (علیہ السلام) ‘ ہود (علیہ السلام) صالح (علیہ السلام) اور لوط (علیہ السلام) کی اقوام کو پکڑا ۔ فرعون اور اہل یونان اور اہل روما کر پکڑا اور اسی سنت کے مطابق اس نے دوسری اقوام کو بھی عروج کے بعد پکڑا ۔ پہلے ان کی تہذیب و تمدن کو خوب ترقی دی اور پھر انہیں تباہ وبرباد کردیا ۔ یہ بہرحال اللہ کی تقدیروں کے راز ہیں ۔ لیکن سنت الہیہ عروج وزوال کی اس داستان میں ظاہر ہے اور اللہ اسی کی داستاں یہاں اس اصولی انداز میں ثبت فرماتے ہیں ۔

ان اقوام کی اپنی اپنی تہذبییں تھیں اور اپنے وقت میں ان کو بڑا عروج تھا ۔ ان کو بڑی فراوانی اور دولتمندی حاصل تھی ۔ بعض پہلوؤں سے وہ آج کے ترقی یافتہ دور سے بھی زیادہ خوشحال تھے انہوں نے شان و شوکت اور سازو سامان اور فراوانی حاصل تھی اور وہ اس دھوکے میں تھے کہ وہ یوں ہی رہیں گے ۔ یہ اقوام ان دوسری اقوام کو بھی دھوکے دے رہی تھیں جو خوشحالی اور ترقی کے بارے میں سنت الہیہ سے واقف نہ تھیں ۔

یہ اقوام اس بات کو نہ سمجھ سکیں کہ اس کائنات میں سنت الہیہ کام کرتی ہے ۔ وہ یہ بات بھی نہ سمجھ سکیں کہ انہیں ڈھیل دی جاری ہے ‘ اس سنت کی پالیسی کے عین مطابق ۔ جو لوگ سنت الہیہ کے آسمان میں گردش کر رہے تھے اللہ کی نعمتوں کی بارش نے ان کی آنکھیں چندھیا دی تھیں ۔ شوکت وقوت نے ان کے اندر بہت ہی زیادہ اعتماد پیدا کردیا تھا اور ان خوشحال اقوام کو جو مہلت اور ڈھیل دی گئی تھی اس کی وجہ سے وہ دھوکے میں پڑگئے تھے ۔ یہ لوگ نہ اللہ کی عبادت کرتے تھے اور نہ انہیں اللہ کی معرفت حاصل تھی ۔ یہ لوگ اللہ کی حاکمیت کے خلاف باغی ہوگئے تھے بلکہ انہوں نے حق حاکمیت کا دعوی خود کیا تھا حالانکہ حاکمیت الوہیت کی خصوصیات میں سے ایک اہم خصوصیت ہے ۔ یہ لوگ زمین میں فساد پھیلاتے تھے ‘ لوگوں پر مظالم ڈھاتے تھے اس لئے کہ انہوں نے اللہ کے مقابلے میں حاکمیت کا دعوی خود کرلیا تھا ۔ جب میں امریکہ میں تھا تو میں نے اپنی آنکھوں سے جو کچھ دیکھا وہ اس آیت کا مصداق تھا ۔

(آیت) ” فَلَمَّا نَسُواْ مَا ذُکِّرُواْ بِہِ فَتَحْنَا عَلَیْْہِمْ أَبْوَابَ کُلِّ شَیْْء ٍ “ (6 : 44) ” پھر جب انہوں نے اس نصیحت کو جو انہیں کی گئی تھی ‘ بھلا دیا تو ہم نے ہر طرح کی خوشحالیوں کے دروازے ان کے لئے کھول دیئے ‘ ‘۔

یہ منظر جس کی تصویر کشی اس آیت میں کی گئی ہے یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان لوگوں پر رزق کی فراوانی تھی اور ہر جانب سے بلاحساب سہولیات کا سیلاب تھا جو امڈتا چلا آرہا تھا ۔ یہ منظر امریکہ میں پوری طرح عروج پر تھا ۔

میں نے دیکھا کہ یہ قوم اس خوشحالی پر بےحد مغرور بھی ہے اور ان کے شعور میں یہ بات پوری طرح بیٹھی ہوئی نظر آتی تھی کہ سہولتوں کی یہ بہتات صرف سفید رنگ کے لوگوں کے لئے مخصوص ہے ۔ رنگ دار لوگوں کے ساتھ انکا طرز عمل نہایت متکبرانہ اور وحشیانہ ہوتا ہے ۔ امریکی پورے کرہ ارض کے لوگوں کو اس قدر کم وقعت سمجھتے ہیں جس کے مقابلے میں یہودیوں کا نازی ازم بھی کچھ وقعت نہیں رکھتا حالانکہ یہودی اس کے بارے میں بہت مشہور ہیں اور قومی اور نسلی افتخار ان کا طرہ امتیاز ہے ۔ سفید رنگ امریکیوں کا رویہ رنگ دار امریکیوں کی نسبت یہودیوں سے بھی زیادہ برا اور زیادہ سخت ہے ۔ یہ سختی خصوصا اور زیادہ ہوجاتی ہے جب رنگ دار لوگ مسلمان ہوں۔

امریکہ میں ‘ میں یہ سب کچھ دیکھتا رہا اور یہ توقع کرتا رہا کہ سنت الہیہ ایک دن ضرور اپنا کام کرے گی ۔ مجھے نظر آرہا ہے کہ سنت الہیہ امریکی سوسائٹی کی طرف دھیمی رفتار سے بڑی رھی ہی ہے ۔

(آیت) ’ حَتَّی إِذَا فَرِحُواْ بِمَا أُوتُواْ أَخَذْنَاہُم بَغْتَۃً فَإِذَا ہُم مُّبْلِسُونَ (44) فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ ظَلَمُواْ وَالْحَمْدُ لِلّہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ (45)

” یہاں تک کہ جب ان بخششوں میں جو انہیں عطا کی گئی تھیں وہ خوب مگن ہوگئے تو اچانک ہم نے انہیں پکڑ لیا اور اب حال یہ تھا کہ ہو ہر چیز سے مایوس تھے ۔ اس طرح ان لوگوں کی جڑ کاٹ کر رکھ دی گئی جنہوں نے ظلم کیا تھا ، اور تعریف اللہ رب العالمین کے لئے ہے “۔

حضرت محمد ﷺ کی بعثت کے بعد اللہ تعالیٰ نے اقوام عالم پر یہ رحم فرمایا کہ اب ان کو مسخ نہ کیا جائے گا اور نہ انہیں بیخ وبن سے اکھاڑ کر پھینک دیا جائے گا ۔ لیکن اللہ کے عذابوں کی کئی اقسام اب بھی آتی رہتی ہیں خصوصا ان اقوام پر جنہیں خوشحالی اور فراوانی دی گئی ہے ۔ ان پر انواع و اقسام کے عذاب آئے دن آتے رہتے ہیں ‘ اس کے باوجود کہ انکے ہاں ضروریات زندگی کی پیداوار حد سے زیادہ ہوچکی ہے اور انہیں رزق اور سہولیات کی بہتات سے نوازا گیا ہے۔

نفسیاتی عذاب ‘ روحانی بےچینی ‘ جنسی بےراہ روی اور اخلاقی بگاڑ جیسے عذابوں نے انہیں تباہ کردیا ہے اور ان کی اس خوشحالی اور مادی پیداوار اور سازوسامان میں بھی ان کے لئے کوئی ذریعہ اطمینان نہیں ہے اور قریب ہے کہ ان کی پوری زندگی بدبختی ‘ قلق و پریشانی میں ڈوب جائے ۔ (دیکھئے میری کتاب اسلام اور مشکلات تہذیب کا باب خبط و اضطراب) اس خوشحالی کے باوجود ان لوگوں کی اخلاقی حالت یہ ہے کہ بڑے بڑے سیاسی راز چند ٹکوں میں بیچ دیئے جاتے ہیں اور پوری قوم کے خلاف جرم خیانت کا ارتکاب کیا جاتا ہے اور حاصل کیا ہوتا ہے چند لمحوں کی عیاشی ‘ جنسی لذت اور چند ٹکے اور یہ ایسی علامات ہیں کہ مستقبل قریب میں ایسی اقوام کے لئے شدید خطرے کی نشان دہی کرتی ہیں۔

اقوام مغرب کی تباہی کے یہ بالکل ابتدائی آثار ہیں ۔ حضور اکرم ﷺ نے بالکل سچ فرمایا :” جب تم دیکھو کہ جب اللہ کسی کو اس کی بدکرداری کے باوجود سب کچھ دے جو وہ چاہتا ہو ‘ تو سمجھ لو کہ یہ اسے ڈھیل دی جارہی ہے ۔ “ اس کے بعد حضور ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی “ یہاں تک کہ جب ان بخششوں میں جو انہیں عطا کی گئی تھیں وہ خوب مگن ہوگئے تو اچانک ہم نے انہیں پکڑ لیا اور اب حال یہ تھا کہ ہو ہر چیز سے مایوس ہوگئے ۔ اس طرح ان لوگوں کی جڑ کاٹ کر رکھ دی گئی جنہوں نے ظلم کیا تھا ، اور تعریف اللہ رب العالمین کے لئے ہے ۔ (ابن جریر ابن ابی حاتم)

لیکن یہ بات بھی نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ اہل باطل کو ہلاک کرنے کا اصول اور سنت الہیہ کو اسکیم میں صرف یہ نہیں ہوتا کہ اہل باطل کو نیست ونابود کردیا جائے بلکہ یہ امر بھی اس کا حصہ ہوتا ہے کہ اہل حق قائم اور غالب کردیا جائے اور یہ اہل حق ایک امت کی شکل میں نمودار ہوں ۔ اصل اصول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سچائی کے ذریعے اور اہل حق کے ذریعے باطل پر وار کرتا ہے اور باطل کا سر پھوڑ کر رکھ دیتا ہے ۔ باطل نابود ہوجاتا ہے لہذا اہل حق کو ڈھیلے ہو کر بیٹھ نہ جانا چاہیے اور ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر صرف سنت الہیہ کا انتظار نہیں کرنا چاہئے کیونکہ سنت الہیہ بھی اسلامی جدوجہد کے نتیجے میں روبعمل ہوتی ہے ۔ اگر اہل حق بےعمل ہو کر بیٹھ جائیں تو وہ اہل حق نہ رہیں گے اور وہ غلبہ اور باطل کا سر پھوڑنے کے قابل ہی نہ رہیں گے ۔ خصوصا جبکہ وہ سست اور بےعمل ہو کر بیٹھ جائیں ۔ حق تو ایسی امت کی شکل میں نمودار ہوتا ہے جو کرہ ارض پر اللہ کی حاکمیت کے مقام کے لئے جدوجہد کر رہی ہوتی ہے اور ان لوگوں کے مقابلے میں دفاع کررہی ہوتی ہے جنہوں نے اللہ کے مقابلے میں اپنی حاکمیت قائم کی ہوئی ہوتی ہے جبکہ حاکمیت الہیہ خصائص الوہیت میں سے ایک خاصہ ہے ۔ یہ ہے اصلی اور بنیادی سچائی ۔

(آیت) ” ولولا دفع اللہ الناس بعضھم ببعض لفسدت الارض “۔ (اگر اللہ بعض لوگوں کو بعض دوسروں کے ذریعے نہ روکتا تو زمین میں فساد برپا ہوجاتا)

اب سیاق کلام مشرکین کو عذاب الہی کے سامنے لاکر کھڑا کردیتا ہے اور عذاب کی یہ مجوزہ شکل ان کی ذات اور ان کے نفوس کے ساتھ متعلق ہے ۔ اس کا تعلق ان کی قوت باصرہ ‘ قوت سامعہ اور قوت ادراک کے ساتھ ہے ۔ تجویز یہ ہے کہ اگر اللہ ان قوتوں کو سلب کرے تو کون ہے جو تمہیں یہ قوتیں لوٹا کر دے دے ‘ کوئی نہیں ہے ۔ اب سوچنے کے بعد وہ بھی یقین کرلیتے ہیں کہ کوئی نہ ہوگا جو انہیں ‘ قوت سماعت ‘ قوت باصرہ اور قوت ادراک دے سکے اگر اللہ ان قوتوں کو چھین لے ۔

اردو ترجمہ

پس جب ہماری طرف سے ان پر سختی آئی تو کیوں نہ انہوں نے عاجزی اختیار کی؟ مگر ان کے دل تو اور سخت ہوگئے اور شیطان نے ان کو اطمینان دلایا کہ جو کچھ تم کر رہے ہو خوب کر رہے ہو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Falawla ith jaahum basuna tadarraAAoo walakin qasat quloobuhum wazayyana lahumu alshshaytanu ma kanoo yaAAmaloona

اردو ترجمہ

پھر جب انہوں نے اس نصیحت کو، جو انہیں کی گئی تھی، بھلا دیا تو ہم نے ہر طرح کی خوشحالیوں کے دروازے ان کے لیے کھول دیے، یہاں تک کہ جب وہ اُن بخششوں میں جو انہیں عطا کی گئی تھیں خوب مگن ہوگئے تو اچانک ہم نے انہیں پکڑ لیا اور اب حال یہ تھا کہ وہ ہر خیر سے مایوس تھے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Falamma nasoo ma thukkiroo bihi fatahna AAalayhim abwaba kulli shayin hatta itha farihoo bima ootoo akhathnahum baghtatan faitha hum mublisoona
132