سورۃ الانعام (6): آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں۔ - اردو ترجمہ

اس صفحہ میں سورہ Al-An'aam کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الأنعام کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔

سورۃ الانعام کے بارے میں معلومات

Surah Al-An'aam
سُورَةُ الأَنۡعَامِ
صفحہ 131 (آیات 28 سے 35 تک)

بَلْ بَدَا لَهُم مَّا كَانُوا۟ يُخْفُونَ مِن قَبْلُ ۖ وَلَوْ رُدُّوا۟ لَعَادُوا۟ لِمَا نُهُوا۟ عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَٰذِبُونَ وَقَالُوٓا۟ إِنْ هِىَ إِلَّا حَيَاتُنَا ٱلدُّنْيَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوثِينَ وَلَوْ تَرَىٰٓ إِذْ وُقِفُوا۟ عَلَىٰ رَبِّهِمْ ۚ قَالَ أَلَيْسَ هَٰذَا بِٱلْحَقِّ ۚ قَالُوا۟ بَلَىٰ وَرَبِّنَا ۚ قَالَ فَذُوقُوا۟ ٱلْعَذَابَ بِمَا كُنتُمْ تَكْفُرُونَ قَدْ خَسِرَ ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِلِقَآءِ ٱللَّهِ ۖ حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءَتْهُمُ ٱلسَّاعَةُ بَغْتَةً قَالُوا۟ يَٰحَسْرَتَنَا عَلَىٰ مَا فَرَّطْنَا فِيهَا وَهُمْ يَحْمِلُونَ أَوْزَارَهُمْ عَلَىٰ ظُهُورِهِمْ ۚ أَلَا سَآءَ مَا يَزِرُونَ وَمَا ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَآ إِلَّا لَعِبٌ وَلَهْوٌ ۖ وَلَلدَّارُ ٱلْءَاخِرَةُ خَيْرٌ لِّلَّذِينَ يَتَّقُونَ ۗ أَفَلَا تَعْقِلُونَ قَدْ نَعْلَمُ إِنَّهُۥ لَيَحْزُنُكَ ٱلَّذِى يَقُولُونَ ۖ فَإِنَّهُمْ لَا يُكَذِّبُونَكَ وَلَٰكِنَّ ٱلظَّٰلِمِينَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ يَجْحَدُونَ وَلَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّن قَبْلِكَ فَصَبَرُوا۟ عَلَىٰ مَا كُذِّبُوا۟ وَأُوذُوا۟ حَتَّىٰٓ أَتَىٰهُمْ نَصْرُنَا ۚ وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَٰتِ ٱللَّهِ ۚ وَلَقَدْ جَآءَكَ مِن نَّبَإِى۟ ٱلْمُرْسَلِينَ وَإِن كَانَ كَبُرَ عَلَيْكَ إِعْرَاضُهُمْ فَإِنِ ٱسْتَطَعْتَ أَن تَبْتَغِىَ نَفَقًا فِى ٱلْأَرْضِ أَوْ سُلَّمًا فِى ٱلسَّمَآءِ فَتَأْتِيَهُم بِـَٔايَةٍ ۚ وَلَوْ شَآءَ ٱللَّهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَى ٱلْهُدَىٰ ۚ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ ٱلْجَٰهِلِينَ
131

سورۃ الانعام کو سنیں (عربی اور اردو ترجمہ)

سورۃ الانعام کی تفسیر (فی ظلال القرآن: سید ابراہیم قطب)

اردو ترجمہ

در حقیقت یہ با ت وہ محض اس وجہ سے کہیں گے کہ جس حقیقت پر انہوں نے پردہ ڈال رکھا تھا وہ اس وقت بے نقاب ہو کر ان کے سامنے آ چکی ہوگی، ورنہ اگر انہیں سابق زندگی کی طرف واپس بھیجا جائے تو پھر وہی سب کچھ کریں جس سے انہیں منع کیا گیا ہے، وہ تو ہیں ہی جھوٹے (اس لیے اپنی اس خواہش کے اظہار میں بھی جھوٹ ہی سے کام لیں گے)

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Bal bada lahum ma kanoo yukhfoona min qablu walaw ruddoo laAAadoo lima nuhoo AAanhu wainnahum lakathiboona

(آیت) ” بَلْ بَدَا لَہُم مَّا کَانُواْ یُخْفُونَ مِن قَبْلُ وَلَوْ رُدُّواْ لَعَادُواْ لِمَا نُہُواْ عَنْہُ وَإِنَّہُمْ لَکَاذِبُونَ (28) ۔

درحقیقت یہ بات وہ محض اس وجہ سے کہیں گے کہ جس حقیقت پر انہوں نے پردہ ڈال رکھا تھا وہ اس وقت بےنقاب ہو کر ان کے سامنے آچکی ہوگی ‘ ورنہ اگر انہیں سابق زندگی کی طرف واپس بھیجا جائے تو پھر وہی سب کچھ کریں گے جس سے انہیں منع کیا گیا ہے ‘ وہ تو ہیں ہی جھوٹے ۔ یہاں اب ان کے بارے میں بات ختم ہوجاتی ہے اور وہ اس بری حالت میں ایک جھوٹے انسان کے طور پر حقارت کے ساتھ پس منظر میں چلے جاتے ہیں ۔

اب ایسے لوگوں کے بارے میں ان کے کچھ مزید رخ سامنے آتے ہیں اور ان کے اس آخروی منظر کے مقابلے میں دو مزید منظر پیش کئے جاتے ہیں ۔ ایک تو دنیا کا منظر ہے جس میں وہ عزم بالجزم کے ساتھ اس بات کا اظہار کرتے تھے کہ موت کے بعد کوئی زندگی نہیں ہے اور اللہ کسی کو دوبارہ نہ اٹھائے گا اور کوئی حساب و کتاب نہیں ہے ۔ اور دوسرا منظر آخرت سے متعلق ہے ۔ ایک جھلکی جس میں وہ اپنے رب کے سامنے کھڑے دکھائے جاتے ہیں اور اللہ رب العالمین ان سے باز پرس فرماتے ہیں ۔ (الیس ھذا بالحق) (6 : 30) کیا یہ قیامت حق نہ تھی اور حقیقت نہیں ہے ؟ یہا یک ایسا سوال ہے جس سے وہ ٹوٹ جاتے ہیں بلکہ پگھل جاتے ہیں اور ایک نہایت ہی بدحال اور ذلیل آدمی کی طرح جواب دیتے ہیں ۔ (آیت) ” بلی وربنا “۔ (6 : 30) ” ہمارے رب تیری قسم یہ حقیقت ہے ۔ “ اور اب وہ اپنے اعمال کی وجہ سے عذاب الیم سے دوچار ہوتے ہیں ۔ ایک دوسری جھلکی بھی سامنے آتی ہے ۔ اچانک وہ گھڑی آپہنچتی ہے جس کے بارے میں وہ اللہ کے اس ” آمنے سامنے “ سے بالکل منکر تھے ۔ اب وہ یاس و حسرت میں ڈوب جاتے ہیں ۔ اپنے کاندھوں پر اپنے گناہوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں اور آخرت میں یہ بتایا جاتا ہے ۔ کہ اللہ کے ترازو میں دنیا کی حقیقت کیا ہے اور آخرت کا مقام کیا ہے ؟

اردو ترجمہ

آج یہ لوگ کہتے ہیں کہ زندگی جو کچھ بھی ہے بس یہی دنیا کی زندگی ہے اور ہم مرنے کے بعد ہرگز دوبارہ نہ اٹھائے جائیں گے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waqaloo in hiya illa hayatuna alddunya wama nahnu bimabAAootheena

(آیت) ” نمبر 29 تا 32۔

قیامت کی جزا وسزا اور دار آخرت کا عقیدہ اسلامی عقائد ونظریات کی اساس ہے اور ہمیشہ یہ عقیدہ صرف اسلام نے پیش کیا ہے اور عقیدہ توحید کے بعد اسلامی نظام کا ڈھانچہ اسی پر استوار ہے ۔ دین اسلام کے عقائد ونظریات ‘ اخلاق وطرز عمل ‘ قانون ودستور صرف اسی صورت میں قائم اور استوار ہو سکتے ہیں جب لوگوں کے اندر آخرت کی جوابدہی کا احساس پیدا ہوجائے ۔

یہ دین جسے اللہ نے مکمل فرمایا ہے ‘ اور اس دین کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان پر اپنی نعمتوں کو مکمل کردیا ہے اسے اللہ نے مسلمانوں کے نظام حیات کے طور پر پسند کرلیا ہے ۔ جیسا کہ قرآن کریم خود یہ کہتا ہے کہ یہ دین درحقیقت زندگی کا ایک مکمل نظام ہے اور اپنی ساخت میں وہ باہم مربوط اور باہم متعلق ہے ۔ اس کے اخلاقی اصولوں اور عقائد ونظریات کے درمیان ایک گہرا ربط وتعلق ہے ۔ اور پھر عقائد واخلاقیات دونوں کا قانون ‘ دستور اور انتظام ملک سے تعلق ہے ۔ یہ تمام امور اللہ کے عقیدہ حاکمیت اور آخرت کے جوابدہی کی اساس پر قائم ہیں ۔

اسلامی نظریہ حیات کے مطابق زندگی وہ مختصر عرصہ نہیں ہے جو ایک فرد اس جہان میں بسر کرتا ہے اور نہ زندگی وہ مختصر عرصہ ہے جس میں کوئی قوم زندہ رہتی ہے ۔ اور نہ زندگی وہ عرصہ معلوم ہے جو اس دنیا میں انسانیت کو دیا گیا ہے اور جسے ہم دیکھ رہے ہیں ۔ اسلامی تصور حیات کے مطابق زندگی ایک طویل اور نہ ختم ہونے والا عرصہ ہے ۔ یہ آفاق کائنات میں وسعت پذیر ہے اور تمام جہانوں میں گہرائی تک چلا گیا ہے ۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے متنوع اور رنگارنگ ہے اور یہ اس زندگی سے بالکل مختلف ہے جسے آخرت کے منکر یا اس سے غافل لوگ زندگی سمجھتے ہیں اسے بسر کرتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں بس یہی زندگی ہے اور اس جہان کے بعد کوئی اور جہان نہیں ہے ۔ اس طرح وہ آخرت پر یقین نہیں رکھتے ۔

اسلامی تصور حیات کے مطابق زندگی بہت ہی وسیع ہے ۔ اس میں یہ زمانہ بھی شامل ہے جسے ہم دیکھ رہے ہیں ‘ یعنی دنیا ۔ وہ اخروی زمانہ بھی اس میں شامل ہے جسے اللہ کے سوا کوئی اور نہیں جانتا ۔ اس طویل اخروی زندگی کے مقابلے مین یہ زندگی اس قدر قصیر ہے کہ یہ ساعتہ من نہار ہی کہی جاسکتی ہے ۔ یعنی دن کا ایک حصہ ۔

مکانیت کے اعتبار سے یہ تصور اس قدر وسیع ہے کہ وہ اس جہان اور اس کرہ ارض کے مقابلے میں مزید کروں اور جہانوں کا قائل ہے ۔ وہ ایک ایسی جنت کا قائل ہے جو آسمانوں اور زمینوں سے زیادہ وسیع ہے ۔ جہنم بھی اس قدر وسیع ہے کہ اس کے پیٹ کو ان تمام انس وجن سے نہیں بھرا جاسکتا جو آغاز انسانیت سے اس دنیا میں آباد ہیں اور یہ آبادی لاکھوں سالوں پر مشتمل ہے ۔

پھر یہ تصور نامعلوم جہانوں تک وسیع ہوجاتا ہے ۔ اس جہان سے آگے کئی جہان ہیں جن کے بارے میں صرف ذات باری کو علم ہے اور ہم اس کے بارے میں وہی کچھ اور صرف اسی قدر جانتے ہیں ۔ جس قدر اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتایا ہے ۔ اور یہ اخروی زندگی موت سے شروع ہو کر دار آخرت تک جا پہنچتی ہے ۔ عالم موت اور عالم آخرت دونوں غیبی جہان ہیں اور ان میں انسانی وجود اس صورت میں آگے بڑھتا ہے جس کی صحیح کیفیت صرف اللہ کے علم میں ہے ۔

یہ زندگی بھی وسعت اختیار کرتی ہے ۔ ‘ یہ جہاں جسے ہم دیکھ رہے ہیں اس سے آگے بڑھتی ہے اور آخرت میں جنت و دوزخ میں بھی رواں دواں نظر آتی ہے ۔ یہ اس زندگی کے مختلف رنگ ہیں اور اس دنیا کی زندگی میں اس کی صورتیں اور ذائقے مختلف ہیں۔ آخرت میں بھی اس کے رنگ ڈھنگ ہیں لیکن دنیا کی یہ پوری زندگی اخروی زندگی کے مقابلے میں اس قدر بےقیمت ہے جس طرح دنیا کے مقابلے میں مچھر کا ایک پر بےقیمت ہے ۔

یہ ہے اسلامی تصور حیات کے مطاق انسانی شخصیت جس کا وجود زمانے کی حدود سے باہر پھیلا ہوا ہے جس کا عمل دخل مکان سے آگے آفاق کائنات میں وسعت رکھتا ہے اور جس کا مرتبہ اس کائنات میں پائے جانے والے عالمین سے زیادہ گہرا ہے ۔ اس کا تصور اس پوری کائنات تک وسیع ہے اور پورے انسانی وجود کو اپنے اندر لئے ہوئے ہے ۔ اس کا ذوق حیات بہت ہی وسیع ہے ۔ اس میں انسانیت کی اہمیت ہے ۔ انسانی روابط کی اہمیت ہے اور انسانی اقدار کی اہمیت ہے ۔ جس طرح یہ تصور وسیع ہے جو زمان ومکان کے حدود وقیود سے ماوراء ہے ‘ لیکن جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کی سوچ خود اس کائنات کے بارے میں نہایت ہی محدود اور کمزور ہے ۔ انسانی تصور حیات کے بارے میں ان کی سوچ بہت ہی محدود ہے ۔ وہ اپنے آپ کو ‘ اپنی اقدار حیات کو اور اپنے تصورات کو اس محدود دنیا کی تنگنائی تک محدود کرتے ہیں ۔

اس نظریاتی اختلاف کی وجہ سے پھر اقدار حیات ‘ زندگی کے تفصیلی نظام اور عملی شکل میں اختلافات پیدا ہوجاتے ہیں ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی نظام زندگی کس قدر جامع اور مکمل نظام زندگی ہے ۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس نظام کی تشکیل میں عقیدہ آخرت کا کس قدر دخل ہے ۔ نظریات و تصورات کے اعتبار سے ‘ اخلاق اور طرز عمل کے اعتبار سے اور نظام قانون اور نظام دستور کے اعتبار سے ۔

وہ انسان جو اس طویل زمانے ‘ اس وسیع و عریض کائنات اور اس کے اندر پائے جانے والی تمام مخلوقات کے ساتھ پس رہا ہے ‘ یقینا اس انسان سے مختلف ہے جو اس تنگ دنیا کے غار میں بند ہے اور وہ اس تنگ غار میں بھی دوسرے انسانوں کے ساتھ برسرپیکار ہے ۔ اس کا یہ عقیدہ نہیں ہے کہ اگر اس دنیا میں وہ کسی چیز سے محروم رہ گیا تو عالم آخرت میں وہ اس سے بہتر پائے گا اور اگر دنیا میں اسے کسی عمل کا اجر نہ ملا تو اسے آخرت میں یقینا بہتر اجر ملے گا اگر اس کے اندر یہ یقین پیدا ہوجائے تو یہ شخص اس دنیا کے لوگوں اور مفادات کے بارے میں بہت ہی سخت رویہ اختیار کرے گا ۔

جس قدر انسان کی سوچ وسیع ہوتی ہے اور حقائق کا گہرا ادراک اسے حاصل ہوتا ہے ‘ اسی قدر اس کی شخصیت بڑی ہوتی ہے ۔ اس کی ترجیحات بلند ہوتی ہیں ‘ اس کا شعور بلند ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں اس کے اخلاق اور اس کا طرز عمل بھی بہت ہی پاکیزہ بن جاتا ہے اور ایسے شخص کا طرز عمل ان لوگوں کے مقابلے میں بہت ہی بلند ہوتا ہے جو سوراخوں میں بند ہوتے ہیں ۔ جب ایسے وسیع سوچ رکھنے والے کسی فرد کی سوچ میں عقیدہ آخرت اور اخروی جزاء وسزا کی سوچ داخل ہوجاتی ہے تو اس کی دنیا ہی بدل جاتی ہے ۔ اس کی سوچ میں نفاست اور پاکیزگی آجاتی ہے ۔ اس کا دل بھلائی اور جزائے اخروی کے راستے میں خرچ کے لئے تیار ہوجاتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ یہ اللہ کا حکم ہے اور اس پر اخروی جزاء مرتب ہوگئی یوں اس کا اخلاق اور اس کا طرز عمل صالح ہوجاتا ہے اور وہ پختہ کردار کا مالک بن جاتا ہے ۔ یہ پختگی اس وقت تک رہتی ہے جب تک اس کے دل و دماغ پر یہ عقیدہ چھایا رہتا ہے ۔ ایسے لوگ ہر وقت اصلاح اور بھلائی کے لئے کوشاں رہتے ہیں کیونکہ وہ یقین رکھتے ہیں کہ اگر وہ خاموش رہے تو نہ صرف یہ کہ ان کی دنیا فساد کا شکار ہوگی بلکہ آخرت میں تھی وہ خسران کا شکار ہوجائیں گے ۔

جو لوگ حیات اخروی کے بارے میں افتراء باندھتے ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ لوگوں کو اخروی زندگی کی طرف بلانا اس جہاں کے سلسلے میں ایک منفی رویہ ہے ۔ اس کے نتیجے میں لوگ اس دنیا سے لاتعلق ہوجاتے ہیں اور پھر وہ اس دنیا کو خوبصورت بنانے اور اس کی اصلاح کے لئے جدوجہد نہیں کرتے ۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دنیا کے اقتدار پر مفسدوں کا قبضہ ہوجاتا ہے کیونکہ ان نیک لوگوں کی نظریں صرف آخرت ہی پر لگی ہوئی ہوتی ہیں ۔ جو لوگ اسلام پر یہ الزام دھرتے ہیں وہ جہالت میں مبتلا ہیں ۔ یہ لوگ اسلام کے نظریہ آخرت اور اہل کینسہ کے نظام رہبانیت اور ترک دنیا کے اندر فرق نہیں کرتے ۔ اسلامی تصور حیات کے مطابق آخرت کا تصور یہ ہے کہ دنیا آخرت کے لئے ایک مزرع ہے اور دنیا میں ہم اس کھیت میں جو بوئیں گے وہی آخرت میں کاٹیں گے ۔ اسلام کا نظریہ جہاد بھی تو اس دنیا کی اصلاح کے لئے ہے ۔ یہ اس لئے فرض کیا گیا ہے کہ اس دنیا سے شر و فساد کو بالکلیہ مٹا دیا جائے اور اس جہان میں جو لوگ اللہ کے حق حاکمیت اور اقتدار اعلی پر دست درازی کرتے ہیں ان کا ہاتھ پکڑا جائے ۔ یہاں تمام ظالم طاغوتوں کی حکومت کو ختم کرکے کرہ ارض پر عادلانہ نظام قائم کیا جائے جس میں تمام انسانوں کی بھلائی اور خیر ہو ‘ اور یہ تمام کام فلاح اخروی کے لئے کیا جائے ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے مجاہدین فی سبیل اللہ کے لئے جنت کے دروازے کھول دیئے ہیں اور باطل کے ساتھ اس کشمکش میں وہ جو وہاں اللہ انہیں اس کا عوض ادا کرتا ہے انہوں نے اس کی راہ میں جو اذیت اٹھائی اس کے بدلے انہیں راحت دیتا ہے ۔

یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک ایسا نظریہ حیات جس کی سوچ یہ ہو ‘ وہ انسانی زندگی معطل کرکے اسے متعفن بنا دے ؟ یا یہ زندگی فساد زادہ اور خفلشار میں مبتلا ہو ‘ یا اس میں ظلم اور سرکشی کا دور دورہ ہو اور کوئی نہ ہو کہ ظالم کا ہاتھ روکے ۔ یا وہ زندگی کو پسماندہ اور غیر ترقی یافتہ حالت میں چھوڑ دے جبکہ ایسے نظریے کے حامل لوگ کی نظریں آخرت پر لگی ہوں اور وہ آخرت میں جزاء کے طالب ہوں ۔

یہ درست ہے کہ تاریخ کے بعض ادوار میں لوگ منفی سوچ کے حامل رہے ہیں ۔ وہ شر و فساد ظلم وسرکشی کے داعی رہے ہیں ۔ پسماندگی اور جہالت ان کی زندگی پر چھائی رہی ہے اور یہ لوگ اپنے ان حالات کے ساتھ ۔۔۔۔۔ اسلام کے مدعی بھی رہے ہیں ۔ لیکن ان کے یہ حالات اسلام کی وجہ سے نہ تھے بلکہ اسلام کے بارے میں ان کی سوچ صحت مند نہ تھی ۔ ان کا تصور اسلام بگڑا ہوا تھا ۔ وہ جادہ مستقیم سے منحرف ہوگئے تھے اور آخرت پر انہیں کوئی یقین نہ رہا تھا ۔ ان کا ایمان متزلزل تھا ۔ ان کے یہ حالات اس لئے نہ تھے کہ وہ حقیقتا دین پر چل رہے تھے اور انہیں پورا یقین تھا کہ انہوں نے خدا کے سامنے حاضر ہونا ہے ۔ اگر ایسا ہوتا تو وہ ہر گز ایسے حالات میں زندگی بسر نہ کرتے جن میں انہیں نے پوری زندگی گزار دی کیونکہ جو شخص حقیقت دین کو پالیتا ہے وہ ان لوگوں کی طرح زندگی بسر نہیں کرسکتا ۔ یعنی منفی سوچ کا حامل پسماندہ اور شروفساد پر راضی ۔

ایک مسلمان اس دنیا میں زندگی بسر کرتا ہے ۔ لیکن وہ اپنے آپ کو اس دنیا سے بہت ہی اونچا تصور کرتا ہے ۔ وہ اپنے آپ کو اس حقیر دنیا سے بہت ہی عظیم سمجھتا ہے ۔ وہ اس دنیا کی پاکیزہ چیزوں کو کام میں لاتا ہے یا وہ جائز اور حلال چیزوں سے بھی دامن پاک رکھتا ہے محض اپنی اخروی فلاح کے لئے ۔ وہ دنیا کی قوتوں کی تسخیر اور دنیاوی زندگی کی ترقی اور نشوونما کے لئے پوری کوشش کرتا ہے لیکن اس نقطہ نظر سے کہ یہ جدوجہد اس پر اس کے منصب خلافت کی رو سے بطور فریضہ عائد ہوتی ہے اور یہ کہ اس کا فرض ہے کہ وہ اس جہان میں شر و فساد اور ظلم وسرکشی کے خلاف جہاد کرے ۔ اور اس جہاد کی راہ میں جان ومال کی قربانی دے تاکہ اسے فلاح اخروی حاصل ہو ۔ اس کا دین اسے یہ تعلیم دیتا ہے کہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے اور آخرت تک پہنچنے کا واحد راستہ یہ دنیا ہے ۔ اس دنیا سے ہو کر ہر شخص کو آخرت تک پہنچنا ہے ۔ لیکن آخرت کے مقابلے میں دنیا نہایت ہی حقیر اور کم ہے ۔ بہرحال دنیا بھی ایک محدود نعمت ہے اور اس محدود نعمت کو انسان عبور کر کے لامحدود نعمتوں میں داخل ہوتا ہے ۔

اسلامی نظام کا ہر جزء اخروی زندگی کے لئے ایک سیڑھی کا کام دیتا ہے ۔ اسلامی نظام کی اس سوچ کی وجہ سے انسان کے تصور میں وسعت ‘ حسن اور بلندی پیدا ہوجاتی ہے ۔ اس سوچ کے نتیجے میں رفعت ‘ پاکیزگی اور رواداری پیدا ہوتی ہے اور انسان اس راہ کے لئے پرجوش ہوجاتا ہے ۔ وہ محتاط اور متقی بن جاتا ہے اور انسانی جدوجہد اور زندگی میں خود ‘ پختگی اور اعتماد پیدا ہوتا ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ اسلامی زندگی صرف تصور آخرت پر استوار ہو سکتی ہے اور اسی لئے قرآن کریم نے اول سے آخر تک جگہ جگہ خوف آخرت اور یقین قیامت پر زور دیا ہے اور حقیقت آخرت کے مضامین ومناظر کو پیش کیا ہے ۔

عرب ایک گھمبیر جاہلیت میں ڈوبے ہوئے تھے اور اسی جاہلیت کی وجہ سے ان کی سوچ اور ان کے شعور کی تنگ حدود میں عالم آخرت کا تصور نہیں سماتا تھا اور وہ اس دنیا کے علاوہ کوئی اور بات نہ سوچ سکتے تھے ۔ وہ صرف اسی دنیا کو دیکھ سکتے تھے جو ان کی نظروں کے سامنے تھی ۔ وہ اپنی شخصیت اور اپنی فکر کو اس محدود دنیا حدود کے آگے نہ بڑھا سکتے تھے اور نہ ہی کائنات کی مزید وسعتوں کے بارے میں کوئی تصور کرسکتے تھے ۔ انکی سوچ اور ان کا شعور بالکل حیوانی سطح تک تھا اور وہ بعینہ اس طرح سوچتے تھے جس طرح جدید جاہلیت سوچتی ہے ۔ حالانکہ دور جدید کے لوگ اپنے آپ کو علمی اور سائنسی اعتبار سے ترقی یافتہ کہتے ہیں ۔ چناچہ عربوں کی سوچ یہ تھی ۔

(آیت) ” وَقَالُواْ إِنْ ہِیَ إِلاَّ حَیَاتُنَا الدُّنْیَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوثِیْنَ (29)

” آج یہ لوگ کہتے ہیں کہ زندگی جو کچھ بھی ہے بس یہی دنیا کی زندگی ہے اور ہم مرنے کے بعد ہر گز دوبارہ نہ اٹھائے جائیں گے ۔

یہ بات اللہ تعالیٰ کے علم میں تھی کہ مذکورہ بالا نظریہ حیات اور اعتقادات کے نتیجے میں ایک پاکیزہ ‘ شریفانہ اور بلند مرتبہ زندگی وجود میں نہیں لائی جاسکتی ۔ شعور اور تصور کے یہ محدود دائرے انسان کو گرا کر اسے مٹی میں ملا دیتے ہیں اور اس کی سوچ کو جانوروں کی طرح محسوسات تک محدود کردیتے ہیں ۔ جب انسان اس محدود دنیا کے اندر بند ہوجاتا ہے تو اس کے نفس کے اندر دنیا کی بھوک پیدا ہوجاتی ہے اور دنیاوی وسائل کے بارے میں حرص اور آز پیدا ہوجاتی ہے ۔ اور انسان دنیا کی اس مال ومتاع کا بندہ بن جاتا ہے ۔ جس طرح شہوت پرستیاں جب بےلگام ہوجائیں تو خرمستیاں کرتی ہیں اور بےروک ٹوک اور بغیر ٹھہراؤ کے اور بغیر کسی حدود کے زیادہ ہی ہوتی رہتی ہیں ۔ پھر اگر یہ خواہشات اور شہوات پوری نہیں ہوتیں تو انسان اپنے آپ کو محروم تصور کرتا ہے کیونکہ اسے کسی اخروی اجر کی بھی امید نہیں ہوتی اگرچہ وہ نہایت ہی گری ہوئی کیوں نہ ہوں اور وہ نہایت ہی چھوٹی خواہشات کیوں نہ ہوں اور ان کی نوعیت محض حیوانی خواہشات کی ہی کیوں نہ ہو ۔

آج دنیا کی جو صورت حال ہے اور اس کے ردعمل میں آج لوگوں کا جو طرز عمل ہے صرف دنیا کے اس محدود دائرے کو پیش نظر رکھ کر تشکیل پاتا ہے ‘ جس میں لوگوں کے پیش نظر صرف زمان ومکان کا محدود دائرہ ہوتا ہے جس میں عدل و انصاف اور ہمدردی اور رحم دلی کا کوئی نام ونشان نہیں ہے ‘ جس میں ہر انسان دوسرے انسان کے ساتھ برسرجنگ ہے ‘ جس میں ہر طبقہ دوسرے طبقے سے برسرپیکار ہے ‘ جس میں ایک نسل دوسری نسل کی بیخ کنی میں مصروف ہے اور سب انسان جنگل کے جانوروں کی طرح اس دنیا کے جنگل میں آزاد پھر رہے ہیں ۔ وحشیوں کی طرح جس کے جی میں جو آتا ہے کرنے پر آمادہ ہے ۔ یہ مناظر آج کی مہذب دنیا میں رات اور دن ہم دیکھتے ہیں اور ہر جگہ نظر آتے ہیں ۔ یہ سب کے سب دنیا کے اس محدود تصور کی وجہ سے ہیں۔

ذات باری کو ان سب حالات کا علم تھا کہ وہ امت جسے پوری انسانیت کی نگرانی کا فریضہ سپرد کیا جانا تھا ‘ اور جس کے فرائض میں یہ بات بھی شامل تھی کہ پوری انسانیت کو وہ مقام بلند تک پہنچا دے اور اسے اس طرح ترقی دے کہ اس میں انسان کا انسانی پہلو اپنی حقیقی شکل میں نمودار ہوجائے ۔ اپنے یہ فرائض اس وقت تک سرانجام نہیں دے سکتی جب تک وہ دنیا کے اس محدود دائرے سے باہر نہیں آجاتی ۔ جب تک وہ دنیا کے اس محدود دائرے سے باہر نہیں آجاتی ۔ جب تک اس کے تصورات اور اس کی اقدار اس محدود وغار سے نکل کر آفاقی نہیں بن جاتے اور جب تک یہ امت دنیا کی تنگ نائیوں سے نکل کر آخرت کی وسعتوں کی سیر نہیں کرتی ۔ یہ وہ سبب ہے جس کی وجہ سے قرآن نے عقیدہ آخرت پر بہت ہی زور دیا ہے ۔ ایک تو اس لئے کہ یہ ایک حقیقت ہے جو آنے والی ہے ‘ اور قرآن کریم کا نزول اس لئے ہوا ہے کہ وہ حقائق بیان کرے ۔ دوسرے اس لئے کہ اس عقیدے کے سوا کوئی انسان مکمل انسان ہی نہیں بن سکتا۔ نہ تصورات و عقائد کے اعتبار سے ‘ نہ اخلاق اور طرز عمل کے اعتبار سے اور نہ اپنے نظام قانون اور نظام دستور کے اعتبار سے ۔

یہی وجہ ہے کہ اس لہر میں اس قدر شدید اتار چڑھاؤ ہے ۔ اور اس میں ایک ایسی خوفناک فضا پائی جاتی ہے جس سے انسان کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ ان خوفناک مناظر کی بابت اللہ کو علم تھا کہ وہ انسان پر بہت پر بہت ہی اثر انداز ہوتے ہیں اور اس سے انسان کے دل و دماغ کے دریچے وا ہوجاتے ہیں ۔ انسان کے اندر قبولیت حق کی جو فطری استعداد ودیعت کی گئی ہے وہ جاگ اٹھتی ہے ۔ اس کے اندر حرکت پیش ہوجاتی ہے ‘ وہ زندہ انسان نظر آتا ہے اور ہر وقت سچائی کو قبول کرنے کی صلاحیت ہے ۔ لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ ایک عظیم سچائی کا اظہار ہے ۔

اردو ترجمہ

کاش وہ منظر تم دیکھ سکو جب یہ اپنے رب کے سامنے کھڑے کیے جائیں گے اس وقت ان کا رب ان سے پوچھے گا "کیا یہ حقیقت نہیں ہے؟" یہ کہیں گے "ہاں اے ہمارے رب! یہ حقیقت ہی ہے" وہ فرمائے گا "اچھا! تو اب اپنے انکار حقیقت کی پاداش میں عذاب کا مزا چکھو"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Walaw tara ith wuqifoo AAala rabbihim qala alaysa hatha bialhaqqi qaloo bala warabbina qala fathooqoo alAAathaba bima kuntum takfuroona

(آیت) ” وَلَوْ تَرَی إِذْ وُقِفُواْ عَلَی رَبِّہِمْ قَالَ أَلَیْْسَ ہَذَا بِالْحَقِّ قَالُواْ بَلَی وَرَبِّنَا قَالَ فَذُوقُواْ العَذَابَ بِمَا کُنتُمْ تَکْفُرُونَ (30) ۔

” کاش وہ منظر تم دیکھ سکو جب یہ اپنے رب کے سامنے کھڑے کئے جائیں گے ۔ اس وقت ان کا رب ان سے پوچھے گا ” کیا یہ حقیقت نہیں ہے ؟ “ یہ کہیں گے ” ہاں اے ہمارے رب ‘ یہ حقیقت ہی ہے ۔ “ وہ فرمائے گا ” اچھا تو اب اپنے انکار حقیقت کی پاداش میں عذاب کا مزا چکھو ۔ “ یہ ہے ان لوگوں کا انجام جو کہتے تھے : ۔

” جو کچھ ہے بس ہماری دنیا کی زندگی ہے اور ہم مرنے کے بعد ہر گز دوبارہ نہ اٹھائے جائیں گے ۔ “ یہ ایک نہایت ہی برا ‘ توہین آمیز اور شرمسار کنندہ منظر ہے ۔ یہ لوگ بارگاہ الہی میں کھڑے ہیں ‘ وہ یہاں پیش ہونے کی تکذیب کرتے تھے ۔ اب وہ اس موقف سے بھی نہیں سکتے ۔ یوں کھڑے ہیں جس طرح باندھے ہوئے ہیں اور سامنے خوفناک انجام ہے ۔ ان سے پوچھا جاتا ہے ۔ ” کیا یہ حقیقت نہیں ہے ؟ “۔

یہ سوال ہی نہایت شرمسار کرنے والا ہے ۔ سوال سنتے ہی مارے شرم کے انسان پسینے سے شرابور ہوجاتا ہے ۔ اب وہ اس کے سوا اور کیا کہہ سکتے ہیں ؟ ” ہاں ہمارے رب یہ حقیقت ہے “ اس حقیقت کو وہ ایسے وقت تسلیم کرتے ہیں جبکہ وہ باری تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہیں اور ایک ایسی جگہ کھڑے ہیں جس کا وہ بڑی سختی سے انکار کرتے تھے ۔ اب نہایت ہی شاہانہ انداز میں اور نہایت ہی مختصر فیصلے میں اور نہایت ہی خوفناک انداز میں ان کا انجام بتا دیا جاتا ہے ۔ عالم بالا سے نہایت ہی سمری فیصلہ آجاتا ہے لیکن فائنل ! ” اچھا تو اب اپنے انکار حقیقت کی پاداش میں عذاب کا مزا چکھو۔ “ یہ انجام ان لوگوں کا بالکل مناسب انجام ہے جنہوں نے اپنے اوپر اسلام کے وسیع تصور حیات کے دروازے بند کرلیے ہیں اور اس تصور کی وسعتوں کو چھوڑ کر وہ محسوسات کے تنگ دائرے میں بند ہوچکے ہیں ‘ جو گوشت و پوست کی دنیا سے بلند ہو کر انسانیت کے مقام بلند تک پہنچنا نہیں چاہتے اور زمین اور مادے کے ساتھ چمٹے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی کے نظام کو ایک گرے پڑے اور کمزور تصور پر استوار کرلیا ہے ۔ یہ لوگ اس قدر گر گئے ہیں کہ انہوں نے خود اپنے آپ کو اس عذاب کا مستحق بنا لیا جو ان لوگوں کی طبیعت اور مزاج سے زیادہ مناسب ہے جو قیام قیامت کے منکر ہیں ‘ جنہوں نے اس قدر گھٹیا زندگی کو اختیار کرلیا ہے اور جو اس قدر گرے ہوئے خیالات کے حامل ہیں ۔ اس فیصلے پر جس منظر کا خاتمہ ہوتا ہے اس کی تکمیل ان خوفناک ریمارکس کے ساتھ ہوتی ہے ‘ جو رعب وداب میں شان باری کے شایان شان ہیں ۔ فرماتے ہیں :

اردو ترجمہ

نقصان میں پڑ گئے وہ لوگ جنہوں نے اللہ سے اپنی ملاقات کی اطلاع کو جھوٹ قرار دیا جب اچانک وہ گھڑی آ جائے گی تو یہی لوگ کہیں گے "افسوس! ہم سے اس معاملہ میں کیسی تقصیر ہوئی" اور اِن کا حال یہ ہوگا کہ اپنی پیٹھوں پر اپنے گناہوں کا بوجھ لادے ہوئے ہوں گے دیکھو! کیسا برا بوجھ ہے جو یہ اٹھا رہے ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qad khasira allatheena kaththaboo biliqai Allahi hatta itha jaathumu alssaAAatu baghtatan qaloo ya hasratana AAala ma farratna feeha wahum yahmiloona awzarahum AAala thuhoorihim ala saa ma yaziroona

(آیت) ” قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ کَذَّبُواْ بِلِقَاء اللّہِ حَتَّی إِذَا جَاء تْہُمُ السَّاعَۃُ بَغْتَۃً قَالُواْ یَا حَسْرَتَنَا عَلَی مَا فَرَّطْنَا فِیْہَا (6 : 31)

” نقصان میں پڑگئے وہ لوگ جنہوں نے اللہ سے اپنی ملاقات کی اطلاع کو جھوٹ قرار دیا ۔ جب اچانک وہ گھڑی آجائے گی تو یہی لوگ کہیں گے ” افسوس ! ہم سے اس معاملے میں کیسی تقصیر ہوئی “۔ یقینا یہ عظیم خسارہ ہوگا ‘ دنیا میں انہوں نے گھٹیا اور منچلے در کے کی زندگی گزاری اور آخرت میں تو حال وہ ہوگا جس کا تذکرہ ہوا ۔ اب اچانک وہ گھڑی آپہنچی جس کی توقع ان غفلت شعاروں کو نہ تھی اور جو اسے شمار ہی میں نہ لاتے تھے ۔ لیکن ” جب وہ گھڑی آجائے گی تو یہی لوگ کہیں گے ’ ؓ اجمعینافسوس کہ اس معاملے میں ہم سے کیسی تقصیر ہوئی ۔ “ ۔

اب ان لوگوں کا اگلا منظر ملاحظہ فرمائیں ۔ یہ لوگ یوں نظر آتے ہیں جس طرح بار برداری کے ایسے جانور جس پر بھاری بوجھ لدا ہو ۔

(آیت) ” وَہُمْ یَحْمِلُونَ أَوْزَارَہُمْ عَلَی ظُہُورِہِمَْ (31)

” اور ان کا حال یہ ہوگا کہ اپنی پیٹھوں پر اپنے گناہوں کا بوجھ لادے ہوئے ہوں گے ۔ “ بلکہ

بلکہ جانور تو ان کے مقابلے میں بہتر ہیں کیونکہ یہ بار برداری سے متعلق ہیں اور بوجھ اٹھاتے ہیں لیکن یہ لوگ جرائم کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہوں گے ۔ جانور اپنے بوجھ کو منزل تک پہنچا کر آرام کرتے ہیں اور یہ لوگ گناہوں کو بوجھ اٹھائے ہوئے وارد جہنم ہوں گے اور ان کو تو مجرم قرار دے کا وہاں بھیجا جائے گا ۔

(آیت) ” أَلاَ سَاء مَا یَزِرُونَ (31) ” دیکھو کیسا برا بوجھ ہے جو یہ اٹھا رہے ہیں ۔ “ اب اس پیراگراف کا آخری بند آتا ہے ‘ خسارے اور ہلاکت کے اس منظر میں اور خوف وہراس کے ان حالات میں بات ختم ہوتی ہے ۔ اللہ ترازو میں ایک طرف دنیا کا وزن ہے اور دوسری جانب آخرت کی قدر و قیمت رکھی جاتی ہے اور اقدار کو یوں تولا جاتا ہے :

اردو ترجمہ

دنیا کی زندگی تو ایک کھیل اور ایک تماشا ہے، حقیقت میں آخرت ہی کا مقام اُن لوگوں کے لیے بہتر ہے جو زیاں کاری سے بچنا چاہتے ہیں، پھر کیا تم لوگ عقل سے کام نہ لو گے؟

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wama alhayatu alddunya illa laAAibun walahwun walalddaru alakhirati khayrun lillatheena yattaqoona afala taAAqiloona

(آیت) ” وَمَا الْحَیَاۃُ الدُّنْیَا إِلاَّ لَعِبٌ وَلَہْوٌ وَلَلدَّارُ الآخِرَۃُ خَیْْرٌ لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُونَ أَفَلاَ تَعْقِلُونَ (32)

” دنیا کی زندگی تو ایک کھیل اور تماشا ہے ‘ حقیقت میں آخرت کا مقام ان لوگوں کے لئے بہتر ہے جو زیاں کاری سے بچنا چاہتے ہیں ۔ پھر کیا تم لوگ عقل سے کام نہ لوگے ؟ “

اللہ کے پیمانے کے مطابق حیات دنیا اور حیات اخروی کا یہ وزن ہے اور یہ حقیقی وزن ہے ۔ اس چھوٹے سے کرے پر جس کا نام زمین ہے ۔ ایک گھنٹے کی زندگی کی کیا حقیقت ہو سکتی ہے ۔ یہ لہو ولعب ہی ہو سکتا ہے ۔ خصوصا جب اس کا موازنہ عالم آخرت کی طویل اور ابدی زندگی سے کیا جائے ۔ ظاہر ہے کہ عالم آخرت کے مقابلے میں اسے لہو ولعب ہی کہا جاسکتا ہے اس لئے کہ وہ ابدی اور دوامی زندگی ہے اور جنت بہت ہی کشادہ ہے ۔

یہ تو ہے اس دنیا کی حقیقی قدروقیمت بمقابلہ آخرت لیکن اسلامی تصور حیات نے اس مختصر دنیا کو بھی مہمل نہیں چھورا اور نہ ہی اس کے ساتھ منفی رویہ اختیار کیا ہے اور نہ ہی ترک دنیا کی تعلیم دی ہے ۔ تصوف اور زاہدانہ زندگی کے بعض مناظر میں جو ترک دنیا اور رہبانیت نظر آتی ہے اس کا سرچشمہ اسلامی تصور حیات نہیں ہے ۔ یہ چیزیں اسلامی تصور حیات میں کنیسہ اور رہبانیت کے راستے داخل ہوئی ہیں یا اہل فارس کے بعض اداروں سے در آئی ہیں یا بعض ہندوانہ اور یونانی تصورات کی وجہ سے آئی ہیں ۔ اس وقت جب دوسرے معاشروں کی ثقافتوں کو اسلامی معاشرے میں منتقل کیا گیا ۔

اسلامی تصور حیات کے مطابق عملی زندگی کا مکمل نمونہ صحابہ کرام تھے ۔ انہوں نے دنیا کے حوالے سے کوئی منفی رویہ اختیار نہیں کیا اور نہ ہی ترک دنیا کا راستہ اختیار کیا ۔ انہوں نے اپنے نفوس کے اندر پائے جانے والے شیطانی نفس پر قابو پایا ۔ انہوں نے کرہ ارض پر غالب نظام جاہلیت کو مغلوب کیا۔ ان نظاموں میں حق حاکمیت خدا کے بجائے دوسرے سرداروں اور بادشاہوں کو حاصل تھا ۔ صحابہ کرام ؓ اجمعین میزان الہی کے مطابق اس دنیاوی زندگی کی اصل قدر و قیمت بھی سمجھتے تھے ۔ انہوں نے اپنی عملی زندگی میں آخرت کے لئے کام کیا اور اس دنیا کے حوالے سے بھی مثبت رویہ کا اختیار کیا ۔ انہوں نے معاملات حیات میں سرگرمی سے حصہ لیا اور جوش و خروش کے ساتھ معاملات دنیا طے کئے اور دنیاوی زندگی کے ہر پہلو پر انہوں نے کام کیا ۔ لیکن صحابہ کرام ؓ اجمعین کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے دنیا کی حقیقت کی تعلیم نے بہت ہی فائدہ دیا ۔ اس لئے وہ دنیا ہی کے بندے نہ بنے بلکہ انہوں نے آخرت کے لئے بھی کام کیا ۔ وہ دنیا پر سوار تھے ‘ دنیا ان کے اوپر سوار نہ تھی ۔ انہوں نے دنیا کو اپنا غلام بنا کر اسے ذلیل کیا اور خود دنیا کے غلام بن کر انہوں نے دنیا کی سلطنت کی ماتحتی اختیار نہ کی ۔ وہ اس دنیا پر اللہ کی جانب سے نائب اور خلیفہ رہے انہوں نے حق خلافت خوب ادا کیا اور اس دنیا کی خوب تعمیر کی ۔ اس کی خوب اصلاح کی لیکن انہوں نے یہ سب رضائے الہی کے لئے کیا اور اجر اخروی کی امید پر کیا ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ دنیا کے میدان میں بھی اہل دنیا پر ستوں سے سے آگے بڑھ گئے اور آخرت کے میدان میں تو وہ تھے ہی ان سے آگے ۔

آخرت بیشک پردہ غیب میں مستور ہے اس لئے جو شخص آخرت پر ایمان رکھتا ہے اس کی سوچ وسیع اور اس کا ادراک بلند ہوتا ہے اور جو لوگ عقل رکھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہ اچھا ہے ۔ ” حقیقت میں آخرت ہی کا مقام ان لوگوں کے لئے بہتر ہے جو زیاں کاری سے بچنا چاہتے ہیں ۔ پھر کیا تم عقل سے کام نہ لوگے ؟ “

جو لوگ آج کے دور میں آخرت کے منکر ہیں اور اس لئے منکر ہیں کہ وہ پردہ غیب میں مستور ہے ‘ وہ دراصل پرلے درجے کے جاہل ہیں حالانکہ وہ دعوی علم کا کرتے ہیں اور یہ لوگ جس علم کا دعوی کرتے ہیں وہ انسانی علم ہے اور انسانی علم میں آج تک کوئی ایسی حقیقت سامنے نہیں آئی ہے کہ اسے آخری حقیقت کہا جاسکے ۔ اگر کوئی حقیقت سامنے آئی ہے تو وہ یہ ہے کہ ہمیں علم نہیں ہے اور غیب ہم سے مخفی ہے ۔

درس نمبر 59 ایک نظر میں :

اس سورة کی پر تلاطم موجوں میں سے اس موج میں روئے سخن حضور اکرم ﷺ کی جانب ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس میں حضور اکرم ﷺ کی دلجوئی فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ اس رویے سے پیریشان نہ ہوں جو آپ ﷺ کی جانب آپ ﷺ کی قوم نے اختیار کر رکھا ہے ۔ آپ ﷺ کی قوم آپ ﷺ کو صادق وامین مانتی ہے ‘ اس لئے یہ لوگ آپ ﷺ کو جھوٹا نہیں سمجھتے بلکہ وہ اصرار اس بات پر کرتے ہیں کہ وہ اللہ کی آیات کو نہ مانیں گے اور ایمان نہ لائیں گے ۔ اس لئے نہیں کہ وہ حضور ﷺ کو جھوٹا سمجھتے ہیں بلکہ اس لئے کہ کچھ دوسری وجوہات سے وہ اسلامی نظریہ حیات کا انکار کرتے ہیں ۔ آپ کی تسلی کے لئے آپ کے سابق بھائیوں اور رسولوں کے قصے اور واقعات کی طفف بھی اشارہ کیا جاتا ہے کہ ان کو آپ سے زیادہ اذیت دی گئی لیکن انہوں نے صبر سے کام لیا اور مشکلات کو انگیز کیا ۔ آخر کار اللہ تعالیٰ نے انہیں فتح و کامرانی عطا فرمائی اور یہ سب کچھ سنت الہیہ کے اصولوں کے مطابق ہوا جس میں کبھی کوئی تبدیلی نہ ہوگی ۔ جب حضور ﷺ کو تسلی اور اطمینان دلایا جا چکا تو پھر آپ کے سامنے اللہ تعالیٰ دعوت اسلامی کے بارے میں ایک اہم حقیقت برائے غور رکھتے ہیں۔ وہ یہ کہ دعوت اسلامی کا کام سنت الہیہ کے مطابق اس جہاں میں چلتا رہتا ہے اور داعی کا کردار اس میں صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ دعوت کو مخاطبین تک پہنچائے اور بات کرتا چلا جائے ۔ تمام امور کا اختیار اللہ کے ہاتھ میں ہے ‘ وہ اس جہان کو جس طرف چاہے موڑ دے ۔ داعی کا کام بس صرف یہ ہے کہ وہ احکام الہی کے مطابق اپنی جدوجہد جاری رکھے اور ایک قدم بھی اپنی راہ سے ادھر ادھر نہ ہو اور خود اللہ کو تجاویز دینا نہ شروع کر دے ۔ اگر داعی بذات خود حضور اکرم ﷺ ہوں تو انہیں بھی اس کی اجازت نہیں ہے ۔ نہ داعی کا یہ کام ہے کہ وہ مخالفین اور مکذبین کی تجاویز پر غور کرے نہ عوام الناس کے کام پر غور کرے کہ دعوت کا منہاج یہ ہونا چاہئے اور نہ ہی وہ انکی جانب سے دلائل ومعجزات کا مطالبہ مانے ۔ اس لئے کہ زندہ دل لوگ تو اس کی بات سنیں گے اور قبول کریں گے لیکن جن لوگوں کے دل مرچکے ہیں وہ ہر گز اس کی بات قبول کرنے کے لئے تیار نہ ہوں گے ۔ یہ اللہ کا کام ہے کہ وہ لوگوں کو اسی طرح مردہ رہنے دیتا ہے یا انہیں زندگی بخشتا ہے ۔ قیامت اور حشر تک اللہ کی یہ سنت جاری رہے گی ۔

یہ لوگ اقوام سابقہ کی طرح آیات ومعجزات طلب کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اگرچہ ہر قسم کے معجزات کے صدور پر قادر ہے ‘ لیکن وہ حکیم ہے ‘ اور وہ ان معجزات کا صدور اپنی حکمت کی بناء پر نہیں کرتا ۔ اب حضور ﷺ سے کہا جاتا ہے کہ اگر آپ پر یہ صورت حال شاق گزر رہی ہے تو پھر اگر آپ کے اندر کوئی طاقت ہے تو آپ خود کسی معجزے کا بندوبست کریں ۔ اللہ تو تمام مخلوقات کا خالق ہے ۔ وہ تمام مخلوق کے بھیدوں کا جاننے والا ہے ‘ ان کے مزاج اور صلاحیتوں کو خوب جانتا ہے ۔ وہ اپنی حکمت کے تحت جھٹلانے والوں کو اندھیروں میں چھوڑتا ہے جس طرح گونگے اور بہرے ہوتے ہیں ۔ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ضلالت میں چھوڑ دیتا ہے ۔ یہ سب امور اس کی حکمت کے تحت چلتے ہیں ۔

اردو ترجمہ

اے محمدؐ! ہمیں معلوم ہے کہ جو باتیں یہ لوگ بناتے ہیں ان سے تمہیں رنج ہوتا ہے، لیکن یہ لوگ تمہیں نہیں جھٹلاتے بلکہ یہ ظالم دراصل اللہ کی آیات کا انکار کر رہے ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qad naAAlamu innahu layahzunuka allathee yaqooloona fainnahum la yukaththiboonaka walakinna alththalimeena biayati Allahi yajhadoona

(آیت) ” نمبر 33۔

مشرکین عرب عموما اور قریش کا وہ طبقہ خصوصا جو دعوت اسلامی کے مقابلے میں ڈٹا ہوا تھا اور جاہلیت میں گرفتار تھا ‘ وہ حضرت محمد ﷺ کی صداقت میں شک نہ کرتا تھا ۔ یہ لوگ جانتے تھے کہ کہ آپ صادق اور امین ہیں ۔ ان کے علم میں کوئی ایک چھوٹا سا واقعہ بھی نہ تھا جس میں آپ نے جھوٹ بولا ہو کیونکہ آپ رسالت سے قبل ان میں ایک طویل زمانہ رہ چکے تھے ۔ اسی طرح جو طبقات آپ کی دعوت کے مقابلے میں ڈٹے ہوئے تھے انہیں اس بات میں بھی شک نہ تھا کہ آپ بالکل سچے رسول ہیں ۔ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ قرآن انسانی کلام نہیں ہے اور یہ کہ انسان اس قسم کا کلام پیش نہیں کرسکتا ۔ لیکن اس کے باوجود اپنے اس علم اور یقین کے اظہار سے انکار کر رہے تھے اور اس دین جدید میں داخل ہونے سے مسلسل انکار کرتے چلے جاتے تھے ۔ وہ یہ انکار اس لئے نہ کرتے تھے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی تکذیب کرتے تھے بلکہ وہ اس لئے یہ انکار کرتے تھے کہ اس طرح ان کے اپنے اثر ورسوخ اور ان کی معاشرتی پوزیشن پر زد پڑتی تھی ۔ یہ تھی وہ اصل بات جس کی وجہ سے انہوں نے انکار اور کفر کی راہ کو اپنا لیا تھا اور اپنے باطل شرکیہ انکار پر جمے ہوئے تھے ۔

اسلامی تاریخ اور ذخیرہ احادیث میں متعدد ایسی روایات موجود ہیں جن سے قریش اور دوسرے عربوں کی اس پالیسی کا اچھی طرح اظہار ہوتا ہے ۔ وہ لوگ قرآن کے بارے میں اپنی حقیقی رائے کو چھپاتے تھے ۔

ابن اسحاق نے ابن شہاب زہری سے ایک روایت نقل کی ہے کہ ابو سفیان ابن حرب ‘ ابو جہل ابن ہشام اور بنی زہرہ کے حلیف اخنس ابن شریق ابن عمر ابن وہب ثقفی ایک رات خفیہ طور پر نکلے تاکہ حضور اکرم ﷺ سے قرآن سنیں ۔ آپ رات کو اپنے گھر میں نماز میں قرآن کی تلاوت فرمایا کرتے تھے ۔ ہر ایک کسی خفیہ جگہ بیٹھ گیا اور تلاوت سنتا رہا ۔ ان تین افراد میں سے کوئی شخص دوسرے کے بارے میں نہ جاننا تھا ۔ یہ لوگ ساری رات قرآن کریم سنتے رہے جب صبح ہوئی تو بکھر گئے ۔ راستے میں اتفاقا ایک دوسرے کو انہوں نے دیکھ لیا ۔ انہوں نے ایک دوسرے کو ملامت کی اور ایک دوسرے سے کہا کہ دوبارہ کوئی یہ حرکت نہ کرے کیونکہ اگر ہمیں عام نادان لوگوں نے دیکھ لیا تو ان کے دل میں تم اچھا تاثر نہ چھوڑو گے ۔ اس قرار داد کے بعد یہ لوگ چلے گئے ۔ جب دوسری رات آئی تو ان میں سے ہر ایک پھر آکر اپنی جگہ چھپ گیا ساری رات سنتے رہے ۔ جب صبح ہوئی تو یہ لوگ پھر بکھر گئے ۔ اتفاقا راستے میں پھر ان کی ملاقات ہوگئی ۔ انہوں نے پھر پہلی رات کی طرح ایک دوسرے کو سخت وسست کہا اور چلے گئے ۔ جب تیسری رات ہوئی تو یہ پھر اپنی اپنی جگہ آکر بیٹھ گئے اور ساری رات کلام الہی سنتے رہے ۔ جب صبح ہوئی تو پھرجانے لگے اور راستے میں انہوں نے پھر ایک دوسرے کو دیکھ لیا ۔ انہوں نے کہا ‘ ہم ایک دوسرے کو نہ چھوڑیں گے جب تک کہ ہم پختہ عہد نہ کرلیں کہ پھر اس طرف نہ آئیں گے ۔ چناچہ انہوں نے پھر نہ آنے کا باقاعدہ معاہدہ کرلیا اور چلے گئے دوسرے دن صبح ہوتے ہیں اخنس ابن شریق نے اپنا عصا لیا اور ابو سفیان ابن حرب سے ان کے گھر آ کر ملا ۔ اس نے ابو سفیان سے کہا : بتاؤ ابو حنظلہ رات کو تم نے محمد سے جو کلام سنا اس کے بارے میں تمہاری حقیقی رائے کیا ہے ؟ اس نے کہا : ” ابو ثعلبہ ! خدا کی قسم میں نے اس سے بعض ایسی باتیں سنیں جنہیں میں اچھی طرح جانتا ہوں اور ان کا مطلب بھی اچھی طرح سمجھتا ہوں اور بعض باتیں میں نے ایسی بھی سنی ہیں کہ جن کے معنی و مراد کو میں نہیں سمجھا ہوں ۔ “ اخنس نے کہا : ” اس خدا کی قسم جس کے نام پر میں نے حلف لیا ۔ میرا بھی یہی حال ہے ۔ اب اخنس ان کے ہاں سے نکلا اور ابوجہل کے پاس آیا ‘ اس کے گھر گیا ۔ اور اسے کہا ابو الحکم ! تم بتاؤ محمد سے تم نے جو کلام سنا اس کے بارے میں تمہاری رائے کیا ہے ؟ ابو جہل نے کہا : ” میں نے کہا سنا ؟ “ اور پھر کہا : ” ہمارا اور عبد مناف کا ہمیشہ مقابلہ رہا ۔ انہوں نے لوگوں کو کھانا کھلانا شروع کیا۔ ہم نے بھی لوگوں کو مقابلے میں خوب کھلایا ‘ انہوں نے لوگوں کو سواریاں دیں تو ہم نے بھی سواریاں دینا شروع کردیں۔ انہوں نے عطیے دیئے تو ہم نے بھی عطایا کی بارش کردی یہاں تک کہ ہم گھوڑوں کے اوپر بیٹھ کر بھی گھٹنے سے گھٹنا ملا کر چلے اور ہم ایک دوسرے سے اس طرح آگے بڑھے جس طرح مقابلے کے دو گھوڑے ایک دوسرے سے آگے بڑھتے ہیں ۔ اب وہ کہتے ہیں کہ ہم میں ایک نبی پیدا ہوگیا ہے اور اس پر آسمان سے وحی نازل ہوتی ہے ۔ ہم ان کے مقابلے میں نبی کہاں سے لائیں گے ؟ خدا کی قسم ہم کبھی بھی اس پر ایمان نہ لائیں گے ۔ اور کبھی بھی اس کی تصدیق نہ کریں گے ۔ راوی کہتے ہیں کہ اخنس اسے چھوڑ کر اٹھ گیا ۔

ابن جریر نے آیت (قد نعلم ۔۔۔۔۔ (6 : 33) الخ کے بارے میں سدی سے بواسطہ اسباط یہ روایت نقل کی ہے کہ بدر کے موقعہ پر اخنس ابن شریق نے بنی زہرہ سے کہا : اے بنی زہرہ ‘ محمد تمہارا بھانجا ہے ‘ تمہارا حق تو یہ ہے کہ تم اپنے بھانجے کی مدافعت کرو۔ اگر وہ فی الحقیقت نبی ہے تو تم ایک نبی کے ساتھ مقاتلہ کرنے کے گناہ سے بچ جاؤ گے ۔ اگر وہ جھوٹا ہوا تو تمہارا حق تو یہ ہے کہ تم اپنے بھانجے پر دست درازی نہ کرو۔ تم رک جاؤ حتی کہ اس کی مڈبھیڑ ابوجہل سے ہوجائے ۔ اگر محمد غالب ہوا تو تم صحیح و سلامت واپس ہوجاؤ گے اور اگر محمد مغلوب ہوگیا تو بھی تمہاری قوم تم سے کوئی مواخذہ نہ کرے گی ۔ چناچہ بدر کے واقعہ کے بعد اس کا نام اخنس (علیحدہ ہونے والا ‘ چھپنے والا) پڑگیا حالانکہ پہلے اس کا نام ابی تھا ۔ اس کے بعد اخنس نے ابوجہل سے ملاقات کی ۔ یہ ملاقات تنہائی میں ہوئی ۔ اخنس نے کہا : ” ابو الحکم ‘ مجھے محمد کے بارے میں بتاؤ کہ وہ سچے ہیں یا جھوٹے ؟ یہاں قریش کا میرے اور تمہارے سوا کوئی نہیں ہے جو ہماری بات سنتا ہو ‘ ابو جہل نے کہا : ” تم برباد ہوجاؤ ‘ وہ تو سچے ہیں خدا کی قسم ۔ “ محمد نے تو کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ لیکن بات یہ ہے کہ اگر قصی کی اولاد لواء ‘ سقایہ اور حجابہ کے مناصب کے ساتھ ساتھ نبوت کا مرتبہ بھی لے جائے تو قریش کے باقی قبائل کے پاس کیا رہ جائے گا ۔ “ یہی مفہوم ہے اس آیت کا ” یہ لوگ تمہیں نہیں جھٹلاتے بلکہ یہ ظالم دراصل اللہ کی آیات کا انکار کر رہے ہیں ۔ “

یہاں یہ بات نوٹ کرلی جائے کہ یہ سورة مکی ہے اور یہ آیت بھی بیشک مکی ہے لیکن بدر کا واقعہ مدینہ میں پیش آیا ‘ لیکن جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ صحابہ کرام ؓ اجمعین کسی آیت میں یہ کہتے (ذلک قولہ) اور اس کے بعد کسی واقعہ کا ذکر کرتے تو مطلب یہ نہ ہوتا تھا کہ اس واقعہ کی بابت یہ آیت نازل ہوئی تھی بلکہ مطلب یہ ہوتا تھا کہ اس واقعہ پر یہ آیت صادق آتی ہے اور اس واقعہ پر اس سے راہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے ۔ چاہے یہ آیت اس واقعہ سے پہلے نازل ہوئی ہو یا بعد میں نازل ہوئی ہو لہذا یہ روایت اس لحاظ سے غریب نہ ہوگی ۔

ابن اسحاق (رح) نے یزید ابن زیادہ سے روایت کی ہے ‘ انہوں نے محمد ابن کعب قرظی سے روایت کی ہے ۔ محمد نے کہا کہ مجھے یہ بتا گیا ہے عتبہ ابن ربیعہ سرداران قریش سے تھا ‘ ایک دن قریش کی ایک محفل میں بیٹھا ہوا تھا ۔ حضور اکرم ﷺ بھی مسجد حرام میں اکیلے بیٹھے ہوئے تھے ۔ عتبہ نے قریش سے کہا کیا یہ مناسب ہے کہ میں محمد ﷺ کے پاس جا کر ان کے سامنے کچھ تجاویز پیش کروں ؟ اور جو مطالبے کرے ہم انہیں پورا کردیں اور وہ ہم پر تنقید بند کر دے ‘ شاید کہ وہ مان جائے ۔ یہ اس دور کی بات ہے جب حضرت حمزہ مسلمان ہوگئے تھے اور آپ کے ساتھی روز بروز بڑھ رہے تھے ۔ مجلس نے بالاتفاق کہا کہ تجویز بالکل درست ہے ۔ ابو الولید اٹھو اور ان سے بات کرو ۔ عتبہ اٹھا اور رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور آپ ﷺ کے سامنے بیٹھ گیا ۔ اور بولا : ” بھتیجے ! تم جانتے ہو کہ ہم میں تمہارا بلند مقام ہے ‘ افراد قبیلہ بھی کافی ہیں اور آپ کا نسب بھی بلند مرتبت ہے لیکن تم نے اپنی قوم کو ایک عظیم مصیبت میں ڈال دیا ہے ۔ قوم کا اتحاد واتفاق ختم ہوگیا ہے ‘ تم نے قوم کے افکار و عقائد کی تضحیک کی ۔ ان کے دین اور الہوں کو برا بھلا کہا اور قوم کے آباؤ اجداد جو فوت ہوگئے ہیں ان کو تم کافر اور جہنمی قرار دیتے ہو ۔ میں تمہارے سامنے کچھ تجاویز پیش کرتا ہوں تم انہیں ذرا غور سے سنو ۔ ممکن ہے کہ یہ تمہارے لئے قابل قبول ہوں ۔ “ رسول اللہ ﷺ نے ان سے کہا : ” ابو الولید کہو ‘ میں سنتا ہوں ۔ “ اس پر عتبہ نے کہا : ” بھتیجے ! تم نے جو تحریک برپا کر رکھی ہے اگر اس سے تمہاری غرض یہ ہو کہ تم مال و دولت جمع کرلو تو ہم تمہارے لئے اس قدرمال جمع کردیتے ہیں کہ ہم میں تم سب سے زیادہ مالدار بن جاؤ گے ۔ اگر تم لیڈر شپ چاہتے ہو تو ہم تمہیں اپنا اتنا بڑا لیڈر بنا دیتے ہیں کہ تمہارے بغیر ہم کوئی فیصلہ نہ کریں گے ۔ اگر تم بادشاہت چاہتے ہو تو ہم تمہیں اپنا بادشاہ بنا لیتے ہیں اور اگر صورت حال یہ ہے کہ جو خیالات تم پر نازل ہوتے ہیں یہ کوئی ایسی نفسیاتی بیماری ہے جس میں تم مجبور ہو اور تم ان خیالات کو نرک نہیں کرسکتے تو ہم تمہارے لئے بڑے بڑے اطباء کا انتظام کرتے ہیں اور اس قدر خرچ کرتے ہیں کہ تم صحیح اور تندرست ہوجاؤ اس لئے کہ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ انسان کا تابع اس پر غالب آجاتا ہے اور اس کا علاج کرنا پڑتا ہے ۔ (یہ تھے تقریبا اس کے الفاظ) عتبہ نے یہ بات کی اور فارغ ہوگیا ۔ اور حضور اکرم ﷺ اس کی باتوں کو اچھی طرح سنتے رہے ۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے اس سے پوچھا ابو الولید تمہاری بات ختم ہوگئی ۔ “ تو اس نے کہا ‘ ہاں ۔ حضور ﷺ نے ان سے کہا ” اب تم میری بات توجہ سے سنو ‘ تو عتبہ نے کہا فرمائیے ! آپ نے پڑھنا شروع کیا ۔

(آیت) ” حم (1) تنزیل من الرحمن الرحیم (2) کتب فصلت ایتہ قرانا عربیا لقوم یعلمون (3) بشیرا ونذیرا فاعرض اکثرھم فھم لا یسمعون (4) (41 : 1 تا 4)

” آپ نے سورة حم السجدہ کی یہ آیات ‘ آیت سجدہ تک تلاوت کیں اور پھر سجدہ فرمایا ۔ عتبہ خاموشی سے سنتا رہا ۔ اپنے ہاتھ پیٹھ کے پیچھے زمین پر رکھے اور ان پر ٹیک لگائی ۔ حضور ﷺ نے فرمایا : ” ابولولید تم نے سن لیا ‘ یہ ہے میرا جواب ۔ “ عتبہ اٹھا اور اپنی محفل میں گیا ۔ انہوں نے جب عتبہ کو آتے دیکھا تو ایک دوسرے سے کہا :” خدا کی قسم ابو الولید جو چہرہ لے کر گیا تھا اب اس کا وہ چہرہ نہیں ہے ۔ “ لیکن جب وہ ان کے پاس بیٹھا تو انہوں نے پوچھا ابو الولید تم کیا لے کر آئے ہو ؟ اس نے کہا کہ میرے پاس یہ بات ہے کہ میں نے ایک ایسا کلام سنا ہے کہ خدا کی قسم میں نے پہلے کبھی ایسا کلام نہیں سنا ۔ خدا کی قسم نہ وہ جادو ہے ‘ نہ شعر ہے ‘ نہ کہانت ہے ۔ اے اہل قریش ! تمہیں میرا مشورہ یہ ہے کہ تم میری بات مانو اور اس معاملے کو مجھ پر چھوڑ دو ۔ میرا مشورہ یہ ہے کہ اس شخص سے تعرض نہ کرو اور اس کی راہ نہ روکو ‘ اسے اس کے حال پر چھوڑ دو ‘ خدا کی قسم میں نے اس کی جو بات سنی ہے اس کے بارے میں ایک دن تم کوئی عظیم خبر سنو گے ۔ اگر اس کو عربوں نے ختم کردیا تو وہ تمہارا یہ مسئلہ حل کردیں گے ۔ اور اگر یہ شخص عربوں پر غالب آگیا تو اس کی حکومت تمہاری حکومت ہوگی ۔ اس کی عزت تمہاری عزت ہوگی اور تم اس کی وجہ سے نہایت ہی خوشحال قوم بن جاؤ گے ۔ “ اس پر اہل محفل نے یک زبان ہو کر کہا : ” ابو الولید خدا کی قسم اس نے اپنی باتوں سے تم اپنی باتوں سے تم پر جادو کردیا ہے ۔ “

علامہ بغوی نے اپنی تفسیر میں حضرت جابر ؓ کی روایت نقل فرمائی ہے کہ جب حضور ﷺ سورة حم السجدہ پڑھتے پڑھتے اس آیت تک پہنچے (آیت) ” فان اعرضوا فقل انذرتکم صعقۃ مثل صعقۃ عاد وثمود “۔ (41 : 13) تو عتبہ نے حضور ﷺ کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور آپ ﷺ کو صلہ رحمی کا واسطہ دیا کہ ایسا نہ کہیں ‘ اس کے بعد عتبہ اپنے خاندان کے پاس چلا گیا اور قریش کی طرف نہ آیا اور اس نے اپنے آپ کو بند کرلیا ۔

اس کے بعد جب عتبہ سے اس بارے میں گفتگو کی جاتی تو وہ کہتا : ” میں نے حضور ﷺ کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور آپ ﷺ کو صلہ رحمی کا واسطہ دیا کہ وہ آگے نہ بڑھیں اور کیا تمہیں علم نہیں ہے جب محمد کوئی بات کہتا ہے تو وہ ہو کر رہتی ہے ‘ اس لئے میں ڈر گیا تھا کہ کہیں تم پر بھی عذاب نازل نہ ہوجائے ۔

ابن اسحاق نے یہ روایت کی ہے ولید ابن مغیرہ کے پاس قریش کے کچھ زعماء جمع ہوئے ۔ ولید ابن مغیرہ ان میں ایک معمر دانشور تھا ۔ زمانہ حج کا تھا ۔ اس نے ان زعماء سے کہا ‘ اہل قریش موسم حج آرہا ہے اور تمام عرب وفود کی شکل میں آئیں گے اور انہوں نے تمہارے ساتھی کے بارے میں سن رکھا ہے ‘ لہذا اس کے بارے میں تم ایک رائے پر متفق ہوجاؤ اور اگر تم مختلف باتیں کرو گے تو اس طرح تم خود ایک دوسرے کی تکذیب کرو گے ۔ خود تمہاری اپنی باتیں تمہاری تردید کردیں گی ۔ انہوں نے کہا ‘ ابو شمس ! تم ہی خود تجاویز دو ‘ میں سنتا ہوں۔ انہوں نے کہا : ” ہم اسے کاہن کہیں گے ۔ “ اس نے کہا : ” یہ بات بالکل غلط ہے ‘ اس لئے کہ وہ ہر گزکاہن نہیں ہے ۔ ہم نے کاہن بہت دیکھے ہیں ‘ نہ وہ کاہنوں کی طرح گاتا گنگناتا ہے ہے اور نہ سجع ملاتا ہے ۔ “ پھر انہوں نے یہ تجویز دی کہ ہم اچھی طرح جانتے ہیں نہ اس کا گلا گھونٹا ہوا ہے ‘ نہ اس کے دل میں وسوسے آتے ہیں ‘ نہ اس کے دل میں شکوک پیدا ہوتے ہیں ۔ پھر انہوں نے تجویز کیا کہ اسے شاعر کہنا چاہئے تو اس نے کہا : کہ آپ ﷺ شاعر بھی نہیں ہیں ۔ ہم اشعار کو اچھی جانتے ہیں ‘ رجز ‘ ہزج ‘ قریضہ ‘ مقبوضہ اور مبسوطہ اس کی اقسام ہیں لہذا قرآن شعر کے زمرے میں نہیں آتا ۔ تو پھر انہوں نے کہا کہ ہمیں انہیں ساحر کہنا چاہیے ۔ اس پر اس نے کہا : کہ حضور ﷺ ساحر بھی نہیں ہیں ۔ ہم نے جادوگروں اور ان کے جادوگرانہ کرتبوں کو دیکھا ہے ۔ وہ نہ پھونک جھاڑ کا کام کرتا ہے اور نہ تعویذ گنڈوں کا ۔ اس پر انہوں نے کہا کہ ابو شمس پھر تم ہی بتاؤ کہ ہم کیا کہیں ۔ انہوں نے کہا : خدا کی قسم ‘ ان کی باتوں میں بڑی مٹھاس ہے اس کا اصل پھل دار ہے اور اس کی شاخیں بار آور ہیں اور ان باتوں میں سے جس کا بھی تم اظہار کرو گے لوگ انہیں غلط سمجھیں گے ۔ میرے خیال میں اگر اس کلام کے بارے میں کوئی معقول بات کہی جاسکتی ہے تو وہ صرف یہ ہے کہ تم محمد پر ساحر ہونے کا الزام عائد کرو کہ وہ ایسی جادو بھری باتیں کرتا ہے جن کی وجہ سے باپ اور بیٹے کے درمیان تفرقہ پیدا ہوجاتا ہے ۔ بھائی اور بھائی کے درمیان دشمنی پیدا ہوجاتی ہے ۔ میاں اور بیوی کے درمیان اختلاف پیدا ہوجاتا ہے اور ایک شخص اپنے خاندان سے کٹ جاتا ہے ۔ چناچہ یہ لوگ یہ بات لے کر پھیل گئے اور موسم حج میں تمام راستوں پر بیٹھ گئے ‘ جو شخص بھی آتا یہ لوگ اسے ڈراتے اور خبردار کرتے اور حضور ﷺ کے کام سے لوگوں کو باخبر کرتے ۔

ابن جریر نے عبدالاعلی ‘ محمد ابن ثورہ ‘ معمر عبادہ ابن منصور کے واسطوں سے عکرمہ کی یہ روایت نقل کی ہے کہ ولید ابن مغیرہ نبی ﷺ کے پاس آئے ۔ آپ نے اسے قرآن کریم سنایا ۔ اس پر قرآن کریم کا بہت ہی اثر ہوا ۔ اس واقعہ سے جب ابو جہل ابن ہشام خبردار ہوا تو وہ ولید کے پاس آیا اور اسے کہا کہ تمہاری قوم یہ چاہتی ہے کہ وہ تمہارے لئے دولت جمع کرے تو ولید نے کہا یہ کیوں ؟ تو اس نے کہا کہ آپ کے لئے بطور چندہ وہ جمع کر رہے ہیں اس لئے کہ تم محمد ﷺ کے پاس گئے تھے اور اس کی جانب سے عطیے کے خواہاں تھے ۔ (یہ خبیث اس کی عزت نفس پر چوٹ لگانا چاہتا تھا کیونکہ یہ شخص اپنے آپ کو مالدار سمجھتا تھا اور اپنے مال پر فخر کرتا تھا) اس نے کہا کہ آیا قریش کو معلوم نہیں ہے کہ میں ان میں سب سے زیادہ مالدار ہوں ؟ تو اس پر ابو جہل نے کہا ‘ پھر آپ کے لئے مناسب ہے کہ محمد کے بارے میں کوئی ایسی بات کہیں جس سے معلوم ہو کہ تم اسے سخت ناپسند کرتے ہو اور اس کے خلاف ہو ۔ تو ولید نے کہا : کہ ” تم بتاؤ میں اس کے بارے میں کیا کہہ سکتا ہوں ۔ خدا کی قسم تم میں کوئی ایک بھی میرے مقابلے میں اصناف شعر سے زیادہ واقف نہیں ہے ‘ نہ مجھ سے زیادہ رجزیہ اشعار کو جانتا ہے ‘ نہ قصائد کے بارے میں مجھ سے زیادہ جانتا ہے ۔ نہ کوئی جنات کے اشعار کا مجھ سے زیادہ علم رکھتا ہے ۔ خدا کی قسم محمد کی کوئی بات شعر کے زمرے میں نہیں آتی ۔ خدا کی قسم وہ جو بات کرتا ہے وہ بہت ہی میٹھی بات ہے ‘ اس کی ظاہری شکل نہایت ہی پالش شدہ ہے ۔ اس کے سامنے جو چیز آتی ہے وہ اسے توڑ دیتی ہے ۔ الغرض اس کی بات برتر اور بلند رہتی ہے اور اس پر کوئی بات بلندی حاصل نہیں کرسکتی ۔ ابو جہل نے کہا ‘ خدا کی قسم لوگ تم سے ہر گز راضی نہ ہوں گے ۔ تمہیں بہرحال کچھ کہنا ہی پڑے گا ۔

اس نے کہا ” پھر مجھے سوچنے دیجئے جب اس نے اچھی طرح سوچا تو پھر کہا : ” یہ ایک جادو ہے جو پر اثر ہے اور کسی اور ذریعے سے آتا ہے ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ (آیت) ” ذرنی ومن خلقت وحیدا۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ علیھا تسعۃ عشر) ایک دوسری روایت میں ہے کہ قریش نے کہا کہ اگر ولید صابی بن گیا تو تمام قریش صابی بن جائیں گے ۔ ابو جہل نے کہا : ” اس کا بندوبست میں کرلوں گا ۔ فکر مت کرو “۔ اس کے بعد وہ اس سے ملا اور اس نے بڑے غور وفکر کے بعد یہ بات کہی کہ ” یہ جادو بھرا کلام ہے ۔ کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اس کے نتیجے میں ایک شخص اور اس کی اولاد اور اس کے ملازمین کے درمیان تفرقہ پیدا ہوجاتا ہے ۔ “

ان تمام باتوں سے جو کچھ معلوم ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ حضور ﷺ کے مخالفین کا یہ عقیدہ نہ تھا کہ آپ ان تک جو پیغام پہنچا رہے ہیں اس میں آپ ﷺ ان سے کوئی جھوٹ بول رہے ہیں بلکہ وہ ان روایات کے مطابق بعض دوسری وجوہات واسباب کی وجہ سے آپ کی مخالفت پر کمر بستہ ہوگئے تھے ۔ ان اسباب میں سے سب سے بڑا سبب یہ کہ وہ سمجھتے تھے کہ اس دعوت وتحریک کے نتیجے میں ان سے ان کی موجود سیادت و قیادت چھن جائے گی ‘ جس پر وہ غاصبانہ طور پر فائز تھے ۔

حالانکہ سیادت و قیادت اور حاکمیت کا مقام خاصہ خدا تھا اور یہی مفہوم ہے ۔ (لا الہ الا اللہ) کا جو دعوت اسلامی کی اساس ہے ۔ یہ لوگ بہرحال عربی زبان اور اس کے مفہومات سے اچھی طرح واقف تھے اور وہ کلمہ شہادت کے اس مفہوم کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہ تھے ۔ اس لئے کہ کلمہ شہادت تمام حاکمیتوں اور قیادتوں کے خلاف ایک انقلابی دعوت تھی جس کا مقصد یہ تھا کہ انسانوں کی زندگی سے غیر اللہ کی بندگی کا قلع قمع کردیا جائے ۔

(آیت) ” قَدْ نَعْلَمُ إِنَّہُ لَیَحْزُنُکَ الَّذِیْ یَقُولُونَ فَإِنَّہُمْ لاَ یُکَذِّبُونَکَ وَلَکِنَّ الظَّالِمِیْنَ بِآیَاتِ اللّہِ یَجْحَدُونَ (33) وَلَقَدْ کُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّن قَبْلِکَ فَصَبَرُواْ عَلَی مَا کُذِّبُواْ وَأُوذُوا (34) (6 : 33 : 34)

” اے نبی ﷺ ہمیں معلوم ہے کہ جو باتیں یہ لوگ بناتے ہیں ان سے تمہیں رنج ہوتا ہے لیکن یہ لوگ تمہیں نہیں جھٹلاتے بلکہ یہ ظالم دراصل اللہ کی آیات کا انکار کر رہے ہیں ۔ تم سے پہلے بھی بہت سے رسول جھٹلائے جا چکے ہیں مگر اس تکذیب پر اور ان اذیتوں پر جو انہیں پہنچائی گئیں انہوں نے صبر کیا۔ “

یہاں الظالمون سے مراد المشرکون ہے اور قرآن کریم کے بیشتر مقامات میں الظالمون سے مراد المشرکون ہی ہوتا ہے حضور اکرم ﷺ کے طیب خاطر کے لئے بات آگے بڑھتی ہے اور وہ حقیقی اسباب بیان کردیئے جاتے ہیں جن کی بناء پر جھٹلانے والے حضور ﷺ کی دعوت کو جھٹلاتے ہیں اور اللہ کی آیات کی تکذیب کرتے ہیں۔ حالانکہ آیات الہیہ کی صداقت اور سچائی بالکل بدیہی ہے ۔ پھر اس سے آگے یہ بتایا جاتا ہے کہ آپ کے ہم منصب رسولوں کے ساتھ پوری انسانی تاریخ میں مکذبین نے یہی رویہ اختیار کیا ہے ‘ جن کے کچھ حالات قرآن نے بھی بیان کیے ہیں کہ رسولوں نے کن کن مشکل حالات میں اپنا کام جاری رکھا ۔ انہوں نے مشکلات پر صبر کیا یہاں تک کہ اللہ کی مدد آپہنچی ۔ یہ اشارہ اس لئے کیا گیا کہ سنت الہیہ کی یہی شان ہے ۔ سنت الہیہ کبھی نہیں بدلتی اور کسی کی تجاویز اور کسی کی خواہشات کے بدلے اللہ کی سنت نہیں بدلتی ۔ نیز کسی کے جھٹلانے کی وجہ سے ‘ کسی کی تکالیف کی وجہ سے اور کسی کی ذاتی مشکلات کی وجہ سے سنت الہیہ میں کبھی فیصلے قبل بر وقت نہیں کیے جاتے ۔

اردو ترجمہ

تم سے پہلے بھی بہت سے رسول جھٹلائے جا چکے ہیں، مگر اس تکذیب پر اور اُن اذیتوں پر جو انہیں پہنچائی گئیں، انہوں نے صبر کیا، یہاں تک کہ انہیں ہماری مدد پہنچ گئی اللہ کی باتوں کو بدلنے کی طاقت کسی میں نہیں ہے، اور پچھلے رسولوں کے ساتھ جو کچھ پیش آیا اس کی خبریں تمہیں پہنچ ہی چکی ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Walaqad kuththibat rusulun min qablika fasabaroo AAala ma kuththiboo waoothoo hatta atahum nasruna wala mubaddila likalimati Allahi walaqad jaaka min nabai almursaleena

(آیت) ” نمبر 34۔

خدا پرستی کی دعوت ایک قدیم دعوت ہے ۔ تاریخ قدیم کی دور دراز وادیوں تک پھیلی ہوئی ہے ۔ یہ راہ بالکل سیدھی ہے اور بالکل واضح ہے ۔ اس کے خطوط بالکل سیدھے ہیں ۔ اس پر چلنے والے پاؤں ہمیشہ ثابت قدم رہے ہیں ۔ مختلف قسم کے جرائم پیشہ لوگوں نے اس راہ کو روکنے کی کوشش کی ہے ۔ نیز گمراہوں اور ان کے شدید ترین پیروکاروں نے اس دعوت کی راہ ہمیشہ روکی ہے ۔ اس راہ میں کئی داعیوں کو سخت مشکلات سے دو چار ہونا پڑا ۔ خون دینا پڑا اور جان دینی پڑی لیکن قافلہ داعیان حق نے ہمیشہ اپنا سفر بالکل سیدھی سمت میں جاری رکھا ۔ یہ قافلہ ایک لمحہ کے لئے بھی اس سیدھی راہ سے ادھر ادھر نہ ہوا ۔ نہ اس نے اس راہ کو چھوڑ کر روگردانی اختیار کی ۔ لیکن انجام اللہ کے ہاتھ میں ہے اور آخر کار اللہ کی نصرت صرف اللہ کے اصولوں اور فیصلوں کے مطابق آتی ہے ۔

” تم سے پہلے بھی بہت سے رسول جھٹلائے جا چکے ہیں ‘ مگر اس تکذیب پر اور ان اذیتوں پر جو انہیں پہنچائی گئیں ‘ انہوں نے صبر کیا ‘ یہاں تک کہ انہیں ہماری مدد پہنچ گئی ۔ اللہ کی باتوں کو بدلنے کی طاقت کسی میں نہیں ہے اور پچھلے رسولوں کے ساتھ جو کچھ پیش آیا اس کی خبریں تمہیں پہنچ ہی چکی ہیں ۔ “

یہ وہ الفاظ ہیں جو اللہ کی جانب سے اپنے رسول کو کہے جارہے ہیں ۔ یہ ایک یاد دہانی ہے اور ایک گونہ تسلی ہے ۔ ہمدردی اور تسلی کا ہاتھ آپ کے سرپر پھیرا جارہا ہے ۔ اور ان الفاظ کے اندر حضور اکرم ﷺ کے بعد آنے والے داعیوں کے بھی نقوش راہ واضح ہیں ۔ ایک واضح راستہ دکھایا جاتا ہے ‘ ان کا کردار بھی ان کے لئے متعین کردیا جاتا ہے اور آگاہ کردیا جاتا ہے کہ لا الہ الا اللہ کہنے سے مشکلات کے پہاڑ ٹوٹ سکتے ہیں اور جو مشکلات پہلے لوگوں کو پیش آئیں وہ ہر داعی حق کی راہ میں آتی ہیں ۔

یہ الفاظ داعیان حق کو بتاتے ہیں کہ دعوت حق کے لئے سنت الہیہ ایک ہی ہے اور دعوت حق بھی ایک ہی ہے ۔ اس میں تعدد ممکن نہیں ہے ۔ یہ ایک ایسی دعوت ہے کہ اکثر لوگ اس کی تکذیب کرتے ہیں اور مکذبین کی روش ہمیشہ ایسی ہی رہی ہے ‘ اس دعوت کے حاملین کو ہمیشہ اذیت دی جاتی رہی ہے اور اس تکذیب اور ایذا رسانی پر داعیوں کو صبر کرنا پڑتا ہے اور پھر صبر کے مرحلے کے بعد آخر کار داعیوں کو فتح و کامرانی نصیب ہوتی ہے ۔ لیکن نصرت اللہ کے طے کردہ اصولوں کے مطابق اور اپنے وقت پر آتی ہے ۔ یہ نصرت محض اس لئے قبل از وقت نہیں آجاتی کہ کچھ پاک طینت اور بےگناہ داعیوں کو جھٹلایا جاتا ہے اور انہیں اذیت دی جاتی ہے ۔ یا یہ کہ گمراہ لوگ اور گمراہی کے لیڈر ان پاک طینت لوگوں کو اذیت دینے پر قادر ہیں ۔ نیز یہ امر بھی سنت الہیہ کی رفتار کو تیز نہیں کرسکتا کہ ایک مخلص ‘ ذاتی خواہشات سے پاک وصاف ‘ نہایت ہی پاک طینت کارکن اور داعی اپنے دل کے اندر شدید خواہش رکھتا ہے کہ اس کی قوم راہ راست پر آجائے اور وہ اس حقیقت پر بہت ہی فکر مند اور دل گرفتہ ہے کہ اس کی قوم ضلالت میں گری ہوئی ہے اور یہ کہ اس کی قوم دنیا کی تباہی اور آخرت کے عذاب کی راہ پر چل پڑی ہے ۔ یہ تمام امور سنت الہیہ کو قبل از وقت ظاہر نہیں کرسکتے ۔ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوقات کی جلد بازی کی وجہ سے اپنے کسی کام میں جلد بازی نہیں کرتا ۔ اور اللہ کے کلمات میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں ہے ۔ چاہے ان کلمات کا تعلق عباد صالحین کی آخری فتح سے ہو یا ان کے متعلق کسی طے شدہ تقدیر سے ہو ۔

یہ ایک فیصلہ کن دو ٹوک اور سنجیدہ فیصلہ ہے ۔ اس کا مقصد حضور ﷺ کو تسلی اور اطمینان دلانا ہے اور مشکلات راہ پر آپ کے ساتھ ہمدردی اور یک جہتی کا اظہار ہے ۔

اب یہ سنجیدہ فیصلہ اپنے اثرات کو اپنی آخری ممکن حدوں تک پہنچاتا ہے ۔ ان خدشات کی راہ بھی روک دی جاتی ہے جو ممکن تھا کہ حضور ﷺ کے دل میں پیدا ہوجائیں ۔ اس لئے کہ فطری طور پر ایک انسان یہ چاہتا ہے کہ اس کی قوم سدھر جائے اور ایک رسول تو پوری بشریت کی ہدایت کا مشتاق ہوتا ہے ۔ وہ خواہش مند ہوتا ہے اور انتظار میں ہوتا ہے کہ کب اس کی قوم اس کی دعوت پر لبیک کہتی ہے اور کب ہدایت پذیرہو جاتی ہے ؟ اس قسم کی خواہشات نزول قرآن کے وقت بعض مسلمانوں کے دل میں بھی جوش مارتی تھیں جن کی طرف اسی سورة کی دوسری آیات میں اشارت موجود ہیں ۔ اس قسم کی خواہشات انسانوں کے اندر نہایت ہی قدرتی اور فطری ہوتی ہیں ۔ لیکن اس دعوت اسلامی کے فیصلہ کن انداز ‘ اس کے حقیقی مزاج اس کے بارے میں رسولوں کے کردار اور پھر عوام الناس کے کردار کو پیش نظر رکھتے ہوئے قرآن کریم ذار سخت لہجے میں یوں مخاطب ہوتا ہے : ۔

اردو ترجمہ

تاہم اگر ان لوگوں کی بے رخی تم سے برداشت نہیں ہوتی تو اگر تم میں کچھ زور ہے تو زمین میں کوئی سرنگ ڈھونڈو یا آسمان میں سیڑھی لگاؤ اور ان کے پاس کوئی نشانی لانے کی کوشش کرو اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ہدایت پر جمع کر سکتا تھا، لہٰذا نادان مت بنو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wain kana kabura AAalayka iAAraduhum faini istataAAta an tabtaghiya nafaqan fee alardi aw sullaman fee alssamai fatatiyahum biayatin walaw shaa Allahu lajamaAAahum AAala alhuda fala takoonanna mina aljahileena

(آیت) ” نمبر 35 تا 36۔

نہایت ہی شاہانہ انداز کے درمیان سے خوف کے چشمے پھوٹ رہے ہیں ۔ کوئی ان الفاظ کی ہولناکی اور اس معاملے کی تہہ تک نہیں پہنچ سکتا جب تک وہ اس حقیقت کو اپنے ذہن میں تازہ نہ رکھے کہ یہ الفاظ رب العالمین کی طرف سے ہیں اور ان کیساتھ اللہ رب العالمین نے اپنے نبی کو مخاطب کیا ہے جن کی صفات میں صابر ہونا اور اولوالعزم رسولوں میں سے ہونا اہم صفات ہیں ۔ جنہوں نے نہایت ہی صبر اور خلوص کے ساتھ اپنی قوم کی جانب سے پہنچنے والی ایذاؤں کو برداشت کیا ۔ آپ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی طرح ان کو بددعا نہ دی حالانکہ ایک زمانہ ان کی تیش ذنیاں سہتے رہے ۔ اور نہایت ہی صبر اور حلم کا مظاہرہ فرماتے رہے ۔

اے محمد ! یہ تو ہماری سنت ہے ۔ اگر ان لوگوں کی بےرخی اور ان کی جانب سے مسلسل تکذیب آپ برداشت نہیں کرسکتے اور آپ بہرحال انہیں کوئی معجزہ ہی دکھانا چاہتے ہیں تو پھر اگر آپ کے اندر استطاعت ہے تو آپ زمین میں کوئی سرنگ ڈھونڈلیں یا آسمان تک پہنچنے کے لئے کوئی سیڑھی لگا لیں اور اس طرح ان لوگوں کے سامنے کوئی حیران کن معجزہ پیش کردیں ۔

ان کی ہدایت ‘ حقیقت یہ ہے کہ اس لئے موقوف نہیں ہے کہ تم ان کے سامنے کوئی معجزہ پیش کر دو ۔ صرف یہ کمی نہیں رہ گئی کہ بس کوئی معجزہ صادر ہوا اور وہ ہدایت کو قبول کرلیں ۔ جیسے وہ بالکل تیار بیٹھے ہوں ۔ اس طرح تو اللہ تعالیٰ اگر چاہتا تو انہیں ہدایت پر جمع کردیتا ۔ یا تو اللہ اس طرح کرتا کہ ابتداء ہی سے انہیں اس طرح پیدا کرتا کہ وہ ہدایت کے سوا کوئی اور راستہ قبول ہی نہ کرتے مثلا ملائکہ اور یا یوں کہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کو اپنی قدرت کے ذریعے راہ ہدایت کی طرف موڑ دیتا اور وہ ہدایت کی قبولیت کے لئے آمادہ ہوجاتے اور یا اللہ تعالیٰ کوئی ایسا معجزہ صادر کردے جس کی وجہ سے ان کی گردنیں جھک جائیں اور کسی وجہ سے یا بغیر کسی وسیلہ کے اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت دے دے کیونکہ وہ قادر مطلق ہے ۔

لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی اس حکمت کی وجہ سے جو اس پوری کائنات میں جاری وساری ہے ‘ اس مخلوق مکرم حضرت انسان کو ایک خاص مقصد کے لئے پیدا کیا ۔ اس آسمانی منصوبے کے مطابق اس مقصد کی خاطر اس بات کی ضرورت تھی کہ اس مخلوق کو کچھ متعین صلاحتیں دی جاتیں اور یہ صلاحتیں ان صلاحیتوں سے جدا ہوں جو فرشتوں کو دی گئی تھیں ۔ ان خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ تھی کہ انسانوں کی صلاحیتوں کے درمیان تفاوت رکھی جائے ۔ یہ کہ لوگوں کے اندر ہدایت اور ایمان کی قبولیت کی استعداد بھی مختلف ہو اور لوگوں کے اندر قبولیت حق کے مادے کی مقدار بھی مختلف ہو ۔ یہ کام اللہ کے دائرہ قدرت کے مطابق اللہ کے قانون عدل کے مطابق اور اس کے قانون جزا وسزا کے عین مطابق ہو ۔

یہ وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی جبر کے ذریعے لوگوں کو راہ ہدایت پر جمع نہیں فرمایا ۔ اللہ نے انہیں حکم دیا کہ وہ ہدایت کی راہ لیں اور ماننے نہ ماننے کا اختیار انہیں دے دیا اور آخرت میں اس پر عادلانہ جزاء وسزا کا اجراء فرمایا ۔ اس حقیقت کو جاننا چاہئے اور اس سے غافل نہ ہونا چاہئے ۔

(آیت) ” وَلَوْ شَاء اللّہُ لَجَمَعَہُمْ عَلَی الْہُدَی فَلاَ تَکُونَنَّ مِنَ الْجَاہِلِیْنَ (35) ” اگر اللہ چاہتا تو سب کو ہدایت پر جمع کرسکتا تھا لہذا نادان مت بنو ۔ “

شوکت کلام دیکھنے کے قابل ہے اور فیصلہ ہدایت بھی قابیل دید ہے ‘ لیکن بات کا موقع ومحل ہی ایسا تھا جس کے اندر اس زور دار بات اور دو ٹوک ہدایت کی ضرورت تھی ۔

اس کے بعد یہ بتایا جاتا ہے کہ اللہ نے انسانوں کو کس مزاج اور کس فطرت پر پیدا کیا ہے اور یہ کہ وہ ہدایت کے مقابلے میں کیا موقف اختیار کرتے ہیں حالانکہ دعوت حق کے پاس ثبوت دلیل کی کوئی کمی نہیں ہوتی ۔

131