سورۃ الانبیاء: آیت 45 - قل إنما أنذركم بالوحي ۚ... - اردو

آیت 45 کی تفسیر, سورۃ الانبیاء

قُلْ إِنَّمَآ أُنذِرُكُم بِٱلْوَحْىِ ۚ وَلَا يَسْمَعُ ٱلصُّمُّ ٱلدُّعَآءَ إِذَا مَا يُنذَرُونَ

اردو ترجمہ

اِن سے کہہ دو کہ "میں تو وحی کی بنا پر تمہیں متنبہ کر رہا ہوں" مگر بہرے پکار کو نہیں سنا کرتے جبکہ اُنہیں خبردار کیا جائے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qul innama onthirukum bialwahyi wala yasmaAAu alssummu aldduAAaa itha ma yuntharoona

آیت 45 کی تفسیر

قل انمآ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اذا ماینذرون (54) ” لوگوخیال کرو ‘ کہیں تم بہرے تو نہیں ہو۔ تم کیوں نہیں سنتے۔ ورنہ تمہارے پیروں تلے سے زمین سرک جائے گی اور دست قدرت تمہیں سیکڑ کر رکھ دے گا۔ ان کو دولت کے گھمنڈ اور مالدری کی مستی سے ڈرایا جاتا ہے۔

سیاق کلام اپنی موثر بات مزید بڑھاتا ہے اور عذاب کے وقت خود ان کی تصویری حالت ان کو بتاتا ہے۔

وَلَا یَسْمَعُ الصُّمُّ الدُّعَآءَ اِذَا مَا یُنْذَرُوْنَ ”اگر آپ ایک بہرے کو چلا چلا کر خبردار کر رہے ہوں کہ تمہارے پیچھے سے ایک شیر تم پر حملہ آور ہونے جا رہا ہے تو وہ کہاں خود کو اس خطرے سے بچائے گا۔ یہی مثال ان منکرین کی ہے جو دعوت حق کی آواز سننے کی صلاحیت سے محروم ہوچکے ہیں۔

آیت 45 - سورۃ الانبیاء: (قل إنما أنذركم بالوحي ۚ ولا يسمع الصم الدعاء إذا ما ينذرون...) - اردو