سورۃ الانبیاء (21): آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں۔ - اردو ترجمہ

اس صفحہ میں سورہ Al-Anbiyaa کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الأنبياء کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔

سورۃ الانبیاء کے بارے میں معلومات

Surah Al-Anbiyaa
سُورَةُ الأَنبِيَاءِ
صفحہ 326 (آیات 45 سے 57 تک)

قُلْ إِنَّمَآ أُنذِرُكُم بِٱلْوَحْىِ ۚ وَلَا يَسْمَعُ ٱلصُّمُّ ٱلدُّعَآءَ إِذَا مَا يُنذَرُونَ وَلَئِن مَّسَّتْهُمْ نَفْحَةٌ مِّنْ عَذَابِ رَبِّكَ لَيَقُولُنَّ يَٰوَيْلَنَآ إِنَّا كُنَّا ظَٰلِمِينَ وَنَضَعُ ٱلْمَوَٰزِينَ ٱلْقِسْطَ لِيَوْمِ ٱلْقِيَٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْـًٔا ۖ وَإِن كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا ۗ وَكَفَىٰ بِنَا حَٰسِبِينَ وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا مُوسَىٰ وَهَٰرُونَ ٱلْفُرْقَانَ وَضِيَآءً وَذِكْرًا لِّلْمُتَّقِينَ ٱلَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُم بِٱلْغَيْبِ وَهُم مِّنَ ٱلسَّاعَةِ مُشْفِقُونَ وَهَٰذَا ذِكْرٌ مُّبَارَكٌ أَنزَلْنَٰهُ ۚ أَفَأَنتُمْ لَهُۥ مُنكِرُونَ ۞ وَلَقَدْ ءَاتَيْنَآ إِبْرَٰهِيمَ رُشْدَهُۥ مِن قَبْلُ وَكُنَّا بِهِۦ عَٰلِمِينَ إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِۦ مَا هَٰذِهِ ٱلتَّمَاثِيلُ ٱلَّتِىٓ أَنتُمْ لَهَا عَٰكِفُونَ قَالُوا۟ وَجَدْنَآ ءَابَآءَنَا لَهَا عَٰبِدِينَ قَالَ لَقَدْ كُنتُمْ أَنتُمْ وَءَابَآؤُكُمْ فِى ضَلَٰلٍ مُّبِينٍ قَالُوٓا۟ أَجِئْتَنَا بِٱلْحَقِّ أَمْ أَنتَ مِنَ ٱللَّٰعِبِينَ قَالَ بَل رَّبُّكُمْ رَبُّ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ٱلَّذِى فَطَرَهُنَّ وَأَنَا۠ عَلَىٰ ذَٰلِكُم مِّنَ ٱلشَّٰهِدِينَ وَتَٱللَّهِ لَأَكِيدَنَّ أَصْنَٰمَكُم بَعْدَ أَن تُوَلُّوا۟ مُدْبِرِينَ
326

سورۃ الانبیاء کو سنیں (عربی اور اردو ترجمہ)

سورۃ الانبیاء کی تفسیر (فی ظلال القرآن: سید ابراہیم قطب)

اردو ترجمہ

اِن سے کہہ دو کہ "میں تو وحی کی بنا پر تمہیں متنبہ کر رہا ہوں" مگر بہرے پکار کو نہیں سنا کرتے جبکہ اُنہیں خبردار کیا جائے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qul innama onthirukum bialwahyi wala yasmaAAu alssummu aldduAAaa itha ma yuntharoona

قل انمآ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اذا ماینذرون (54) ” لوگوخیال کرو ‘ کہیں تم بہرے تو نہیں ہو۔ تم کیوں نہیں سنتے۔ ورنہ تمہارے پیروں تلے سے زمین سرک جائے گی اور دست قدرت تمہیں سیکڑ کر رکھ دے گا۔ ان کو دولت کے گھمنڈ اور مالدری کی مستی سے ڈرایا جاتا ہے۔

سیاق کلام اپنی موثر بات مزید بڑھاتا ہے اور عذاب کے وقت خود ان کی تصویری حالت ان کو بتاتا ہے۔

اردو ترجمہ

اور اگر تیرے رب کا عذاب ذرا سا انہیں چھو جائے تو ابھی چیخ اٹھیں کہ ہائے ہماری کم بختی، بے شک ہم خطا وار تھے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Walain massathum nafhatun min AAathabi rabbika layaqoolunna ya waylana inna kunna thalimeena

ولئن مستھم۔۔۔۔۔۔۔۔ انا کنا ظلمین ” ۔ لفظ نفحہ کا اطلاق خیر اور رحمت کے مفہوم میں ہوتا ہے یعنی جھونکا۔ یہاں مراد ہے عذاب الہٰی یعنی عذاب الہیٰ کا ایک ہلکا جھونکا بھی انہیں چھو جائے تو یہ اعتراف گناہ کرلیں گے لیکن اس وقت پھر اعتراف کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ اس سے کقبل اس سورة میں بستیوں والوں کی یہ پکار گزر گئی ہے کہ جب ان پر عذاب آیا تو انہوں نے اعتراف کرلیا۔

یویلنآ۔۔۔۔۔۔ خمدین (51) (12 : 41۔ 51) ” ہائے ہماری کم بختی ‘ بیشک ہم خطا وار تھے اور یہی پکار تے رہے یہاں تک کہ ہم نے ان کو کھلیان کردیا ‘ زندگی کا ایک شرارہ تک ان میں نہ رہا “۔ لیکن یہ اعتراف بعد ازوقت تھا۔ لہٰذا ان کے لیے بہتر ہے کہ اس تنبیہ کو قبل ازوقت قبول کرلیں قبل اسکے کہ عذاب الہی کا ایک جھونکا ان پر آجائے۔

یہ سبق قیامت کے حساب و کتاب کے ایک آخری منظر پر ختم ہوتا ہے۔

اردو ترجمہ

قیامت کے روز ہم ٹھیک ٹھیک تولنے والے ترازو رکھ دیں گے، پھر کسی شخص پر ذرہ برابر ظلم نہ ہو گا جس کا رائی کے دانے کے برابر بھی کچھ کیا دھرا ہو گا وہ ہم سامنے لے آئیں گے اور حساب لگانے کے لیے ہم کافی ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

WanadaAAu almawazeena alqista liyawmi alqiyamati fala tuthlamu nafsun shayan wain kana mithqala habbatin min khardalin atayna biha wakafa bina hasibeena

ونضع الموازین۔۔۔۔۔۔ حسبین (74) ”

رائی کے دانے سیمراد چھوٹی سے چھوٹی چیز ہے جو ترازو میں بہت ہی ہلکی ہو۔ یوم حساب میں اسے بھی نظر انداز نہ کیا جاسکے گا اور اس قدر حساس میزان ہوگا کہ حبہ خرولی سے بھی ترازو اوپر نیچے ہوگا۔

لہٰذا ہر نپس کو کل کے لیے زیادہ سے زیادہ بچت کرنا چاہیے۔ دلوں کو چاہیے کہ وہ ڈرانے والے کی طرف کان لگا کر سنیں۔ غافلوں ‘ منہ موڑنے والوں اور مذاق کرنے والوں کو چاہیے کہ اس سے پہلے سنبھل جائیں کہ دنیا کے عذاب کا کوئی جھونکا انہیں آلے یا آخرت کے عذاب کا کوئی کوڑا ان کی پشت پر چسپاں ہوچکا ہو۔ اگر دنیا کے عذاب سے وہ بچ بھی جائیں تو عذاب آخرت تو ان کے لیے تیار ہے جسکے میزان میں کوئی ظلم نہ ہوگا ‘ رائی کے دانے کے برابر بھی۔

اس طرح آخرت کی نہایت ہی حساس میزان کو اس کائنات کے نہایت ہی حساس قوانین فطرت کیساتھ ہم آہنگ کردیا گیا ہے اسی طرح دعوت کے احوال اور انسانوں کی فطرت کو باہم مربوط کردیا گیا ہے اور ان سب امور کو دست قدرت کی تصرفات قرار دے کر ان سے ادارہ واحد ثابت کیا جو اس کائنات کی پشت پر کام کرتا ہے اور یہی دلیل ہے عقیدہ توحید پر۔

اردو ترجمہ

پہلے ہم موسیٰؑ اور ہارونؑ کو فرقان اور روشنی اور "ذکر" عطا کر چکے ہیں اُن متقی لوگوں کی بھَلائی کے لیے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Walaqad atayna moosa waharoona alfurqana wadiyaan wathikran lilmuttaqeena

درس نمبر 241 ایک نظر میں

اس سورة کا یہ تیسرا سبق تمام رسولوں کے گروہ پر ایک سرسری نظر ہے۔ اس میں تمام رسولوں کا احاطہ تو نہیں کیا گیا لیکن بڑے بڑے رسولوں کا ذکر ہے۔ بعض کی طرف اس میں نہایت ہی مختصر اشارہ ہے اور بعض کے بارے میں ذرا تفصیلی ذکر ہے اور بعض کا مختصر ذکر ہے۔

ان تمام اشارات اور مفصل اور مختصر تذکروں میں یہ بات نظر آتی ہے کہ اللہ نے اپنے رسولوں پر کیا کیا رحمتیں کیں اور جن لوگوں نے تببیہات اور معجزات دیکھ کر بھی ان کی تکذیب کی ان کا انجام کیا ہوا۔ نیز ان میں رسولوں کی آزمائش کے بھی واقعات ہیں۔ بعض اوقات انہیں خیر میں آزمایا گیا اور بعض اوقات شر میں اور یہ کہ وہ ان امتحانوں میں کس طرح کامیاب رہے۔

پھر اس میں یہ بھی بتایا گیا کہ اللہ نے ہمیشہ انسانوں میں سے رسول بھیجے اور ان کا نظریہ بھی ایک ہی رہا۔ عقیدے کے ساتھ ساتھ فریضہ رسالت کی ادائیگی میں ان کا طریقہ کار بھی ایک رہا اور زمان و مکان کے اختلاف کے باوجود یوں نظر آتا ہے کہ وہ ایک ہی امت اور گروہ ہیں۔

رسولوں کا ایک نظریہ اور ایک امت ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ ایک ہے ‘ اس لیے رسولوں کا عقیدہ ایک عقیدہ دینے والا ایک ‘ اس کائنات کی اندر قوانین فطرت پیدا کرنے والا ایک اور ان تمام رسولوں کو ‘ انسانوں کو ‘ کائنات کو ایک ہی جہت میں ایک ہی خدا کیساتھ مربوط کرنا بھی اس سبق سے معلوم ہوتا ہے۔ انا ربکم فاعبدون ” میں تمہارا رب ہوں لہٰذا میری اطاعت کرو “۔

درس نمبر 241 تشریح آیات

84۔۔ تا۔۔۔۔ 29

ولقد اتینا موسی۔۔۔۔۔۔ افانتم لہ منکرون (84 : 05) ”

اس سورة میں یہ بات آئی تھی کہ مشرکین نبی ﷺ کے ساتھ مذاق کرتی تھے کہ آپ رسالت کا دعویٰ کرتے ہیں حالانکہ آپ ہم جیسے بشر ہیں ‘ پھر وہ قرآن مجید کو وحی ماننے کے بجائے یہ کہتے تھے کہ یہ سحر ہے ‘ یا شعر ہے یا افتراء پر دازی ہے۔ چناچہ اس پوریے سبق میں ان کے اس الزام کا جواب ہے کہ رسول اس سے قبل بھی بھیجے گئے اور یہ سنت الہیہ ہے کہ تمام رسول بشر تھے اور کتاب بھیجنا بھی کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ اس سے قبل بھی رسولوں کو کتابیں دی گئی ہیں۔ حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہم السلام) کو کتاب دی گئی تھی۔

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جو کتاب دی گئی تھی وہ بھی فرقان تھی۔ فرقان قرآن کی بھی صفت ہے۔ گویا تمام رسولوں کا سلسلہ بھی ایک ہے ‘ کتابیں بھی ایک ہیں ‘ اور ان کی صفات بھی ایک ہیں ‘ کیونکہ اللہ کی نازل کردہ تمام کتب حق اور باطل کے درمیان فرق کرنے والی تھیں ‘ اس لیے ان کو فرقان کہا گیا۔ یہ ہدایت و ضلالت کی درمیان تمیز کرتی تھیں۔ یہ اسلامی نظام حیات اور جاہلی نظام کے درمیان فرق کرتی تھیں۔ یہاسلامی رحجانات اور غیر اسلامی رحجانات میں فرق کرتی تھیں اس لیے ان کو عمومی طور پر فرقان کہا گیا اور تورات اور قرآن کو صراحت کے ساتھ کہا گیا کہ وہ فرقان ہیں۔

تورات کو یہاں روشنی بھی کہا گیا ‘ اس لیے کہ وہ نظریات و افکار کی ظلمتوں کو روشن کرنے والی تھی ‘ باطل کے اندھیروں کو دور کرنے والی تھی ‘ اور یہ ایسے اندھیرے ہوتے ہیں جن میں عقل و خرد ‘ ٹامک ٹوئیاں مارتے پھرتے ہیں اور انسان کی دلی دنیا پر اس وقت تک سورج طلوع نیں ہوتا جب تک اس کے اندر شعلہ ایمان روشن نہ ہو اور وہ اپنے ماحول کو روشن نہ کرے۔ اس کو زندگی کا منہاج نہ دے دے اور زندگی کے اقدامات کی سمت متعین نہ کردے تاکہ اقدار ‘ منصوبوں اور مطالب کے درمیان اختلاف پیدا نہ ہو۔

تورات بھی قرآن کی طرح متقین کے لیے ذکر اور ہدایت تھی۔ یعنی تورات کے ذریعہ حضرت موسیٰ اور بنی اسرائیل کا ذکر آج تک ہے جبکہ تورات سے قبل بنی اسرائیل کی کیا تاریخی حیثیت تھی ؟ پہلے وہ فرعون کے غلام تھے۔ جو انکے بیٹوں کو ذبح کرتا اور بیٹیوں کو زندہ رکھتا تھا۔ اور انکو ذلت کے ساتھ اور تشدد کے تحت رکھتا ۔ یہاں متقین کے ساتھ یہ صفت بھی لگائی گئی کہ وہ لوگ جو غیب پر ایمان لاتے ہیں اور اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔

اردو ترجمہ

جو بے دیکھے اپنے رب سے ڈریں اور جن کو (حساب کی) اُس گھڑی کا کھٹکا لگا ہُوا ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Allatheena yakhshawna rabbahum bialghaybi wahum mina alssaAAati mushfiqoona

الذین یخشون ربھم بالغیب (12 : 94) ” جو بےدیکھے اپنے رب سے ڈریں “۔ اس لیے کہ جو لوگ اللہ سے ڈریں اور انہوں نے اللہ کو دیکھا ہی نہ ہو اور

وھم من الساعۃ مشفقون (12 : 94) ” اور ان کو اس گھڑی کا کھٹکا لگا ہوا ہو “۔ اور اس کے لیے تیاری اور عمل کرتے ہوں تو ایسے ہی لوگ اس روشنی سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور راہ ہدایت اختیار کرتے ہیں اس لیے ایسے لوگوں کے لیے کتاب نصیحت بن جاتی ۔ یہ ان کو اللہ کی طرف مڑنے کی یاد دہانی کراتی رہتی ہے۔ اس کے ذریعے لوگوں کے اندر ان کا تذکرہ ہوتا ہے گویا وہ ان کی پہچان بن جاتی ہے۔

یہ تھی حضرت موسیٰ اور ہارون کی شان وھذا ذکر مبرک (12 : 05) ” اب یہ بابرکت ذکر ہم نے نازل کیا ہے “۔ یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے ‘ کوئی عجیب چیز نہیں ہے۔ یہ تو ایک ایسا واقعہ ہے جو پہلے ہوتا رہا ہے۔ یہ اللہ کی معلوم و معروف سنت ہے۔

افانتم لہ منکرون (12 : 05) ” پھر کیا تم اسے قبول کرنے سے انکاری ہو “۔ آخر اس میں تمہیں کیا چیز انوکھی لگ رہی ہے۔ کیا اس سے قبل اللہ کے رسول نہیں آتے رہے۔

حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہم السلام) کے قصے پر ایک نہایت ہی سرسری نظر ڈالنے کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصے کی ایک مکمل کڑی یہاں دی جاتی ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) عربوں کے جداکبر ہیں۔ خانہ کعبہ کے بانی ہیں ‘ جس کو قریش نے بتوں سے بھر رکھا تھا اور رات اور دن ان کی بندگی اور پرستش کرتے تھے حالانکہ حضرت ابراہیم تو مشہور ہی اس لیے تھے کہ انہوں نے بت توڑے تھے۔ یہاں ان کے قصے کو پیش کرنے کا مطلب بھی یہ ہے کہ تم بتوں کی پرستش کرتے ہو ‘ جبکہ وہ بت شکن تھے۔

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حالات زندگی کی یہ کڑی بہت ہی مشہور ہے۔ اس کے کئی مناظر یہاں پیش کیے گئے ہیں۔ ان مناظر کے درمیان بیشک چھوٹے چھوٹے گیپ بھی ہیں۔ آغاز اس سے ہوتا ہے کہ ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے رسالت اور ہدایت عطا کردی تھی اور وہ عقیدہ توحید پر قائم تھے۔ ” رشدہ “ سے مراد ہی عقیدہ توحید ہے کیونکہ اس فضا میں سب سے بڑی ہدایت تھی ہی عقیدہ توحید کی طرف ہدایت۔

اردو ترجمہ

اور اب یہ بابرکت "ذکر" ہم نے (تمہارے لیے) نازل کیا ہے پھر کیا تم اِس کو قبول کرنے سے انکاری ہو؟

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wahatha thikrun mubarakun anzalnahu afaantum lahu munkiroona

اردو ترجمہ

اُس سے بھی پہلے ہم نے ابراہیمؑ کو اُس کی ہوش مندی بخشی تھی اور ہم اُس کو خوب جانتے تھے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Walaqad atayna ibraheema rushdahu min qablu wakunna bihi AAalimeena

ولقد اتینآ۔۔۔۔۔۔۔۔ علمین (15) ” ‘۔

ہم نے ان کو ہوشمندی عطا کی تھی ‘ ان کے حالات سے ہم اچھی طرح واقف تھے اور ان کی وہ صلاحیتیں بھی ہماری نظر میں تھیں جو حاملین رسالت کے لیے ضروری ہیں۔

اردو ترجمہ

یاد کرو وہ موقع جبکہ اُس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا تھا کہ "یہ مورتیں کیسی ہیں جن کے تم لوگ گرویدہ ہو رہے ہو؟"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Ith qala liabeehi waqawmihi ma hathihi alttamatheelu allatee antum laha AAakifoona

اذ قال۔۔۔۔۔۔۔۔ عکفون (25) ” “

ان کی یہ بات ہی ان کے رشد و ہدایت کی دلیل ہے۔ آپ نے ان پتھروں اور لکڑیوں اور دوسرے مواد کے لیے بڑا صحیح لفظ استعمال کیا یعنی مورتیاں ‘ تماثیل۔ ان کو انہوں نے الہٰ نہ کہا اور اس بات پر سخت گرفت کی کہ تم لوگ بڑی چاہت سے ان کی پرستش کرتے ہو ‘ عاکف کے مفہوم سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ مسلسل انکے ساتھ جھکے ہوئے رہتے تھے ‘ حالانکہ وہ دوسرے کام بھی کرتے ہوں گے لیکن ان کے دل ان بتوں ہی کے ساتھ تھے۔ اس لیے مصنوعی طور پر گویا وہ ان کے آگے مسلسل جھکے ہوئے تھے۔ اس لیے تعبیر ان الفاظ میں کی گئی کہ تم رات دن ان کے آگے جھکے ہوئے ہو۔

اردو ترجمہ

انہوں نے جواب دیا "ہم نے اپنے باپ دادا کو ان کی عبادت کرتے پایا ہے"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qaloo wajadna abaana laha AAabideena

انکا جواب اور دلیل صرف یہ تھی۔

قالوا وجدنآ ابناء نا لھا عبدین (35) ” اس جواب سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جب کوئی قوم باپ دادا کی تقلید کرتی ہے تو اس کی سوچ اور اس کی عقل کی قوتیں منجمد ہوجاتی ہیں جبکہ ایمان انسان کو آزادی ‘ فکر و نظر کی وسعت ‘ اور ہر چیز اور ہر صورت حال کا حقیقی جائزہ لینے کی تعلیم دیتا ہے اور حکم دیتا ہے کہ ہر بات پر غور کرکے اس کا حقیقی وزن کرو۔ لہٰذا اللہ پر پختہ ایمان کا یہ پہلو بھی بہت اہم ہے۔ یعنی عقیدہ توحید اور شرک کا کہ انسان اوہام ‘ جامد تقلید اور وہی تصورات و عقائد سے چھوٹ جاتا ہے۔ وہ موروثی رواج جن کی پشت پر نہ احادیث ہیں اور نہ دلیل ان کو بسہولت ترک کردیتا ہے۔

اردو ترجمہ

اس نے کہا "تم بھی گمراہ ہو اور تمہارے باپ دادا بھی صریح گمراہی میں پڑے ہوئے تھے؟"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qala laqad kuntum antum waabaokum fee dalalin mubeenin

قال لقد۔۔۔۔۔۔۔ فی ضلل مبین (45) ’ ‘۔

محض آبائو اجداد کی جانب سے بتوں کی پوجا ہونا ‘ ان کی اصل حقیقت اور قدر و قیمت کو نہیں بدل سکتا۔ نہ ان کو وہ تقدس دے سکتا ہے جو دراصل ان کو حاصل نہ ہو۔ کیونکہ قدریں محض آبائو اجداد کے عمل سے وجود میں نہیں آتیں ‘ بلکہ سچائی اور افادیت سے بنتی ہیں اور آزادانہ سوچ سے ان کے بارے میں فیصلہ ہوتا ہے۔

جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نہایت بےباکی سے یہ باتیں کیں اور حقیقت پسندانہ جائزہ لیا اور دو ٹوک بات کی تو ان کے عقائد کی دنیا میں زلزلہ آگیا اور پوچھنے لگے۔

اردو ترجمہ

انہوں نے کہا "کیا تو ہمارے سامنے اپنے اصلی خیالات پیش کر رہا ہے یا مذاق کرتا ہے؟"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qaloo ajitana bialhaqqi am anta mina allaAAibeena

قالوا۔۔۔۔۔۔۔ من اللعبین (55) ” ‘۔

یہ سوال ایک ایسے شخص کا سوال نظر آتا ہے جسے خوداپنے فکرو عمل پر پورا اطمینان نہ ہو۔ کیونکہ وہ جو عقدہ رکھتا ہے ‘ جو عمل کرتا ہے اس پر اس نے کبھی سوچا نہیں تحقیق نہیں کی۔ یہ کام وہ محض وہم اور تقلید اور بےسوچے سمجھے کررہا ے۔ وہ نہیں جانتا کہ حق کیا ہے حالانکہ عقائد و عبادات وہ چیز ہے جو مستند دلائل پر مبنی ہوتی ہے۔ جو افراد و اقوام عقیدہ توحید کے صاف ستھرے تصور سے محروم ہوں وہ اسی طرح کے اوہام کا شکار ہوجاتی ہیں اور ان کے افکار بھی صاف ستھرے اور واضح نہیں ہوتے۔

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ذرا دیکھئے کہ وہ کس قدر اعتماد و یقین سے بات کرتے ہیں۔ ان کو رب کی صحیح معرفت حاصل ہے۔ وہ ایک مومن کی طرح ٹھوس بات کرتے ہیں۔

اردو ترجمہ

اُس نے جواب دیا "نہیں، بلکہ فی الواقع تمہارا رب وہی ہے جو زمین اور آسمانوں کا رب اور اُن کا پیدا کرنے والا ہے اِس پر میں تمہارے سامنے گواہی دیتا ہوں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qala bal rabbukum rabbu alssamawati waalardi allathee fatarahunna waana AAala thalikum mina alshshahideena

قال بل۔۔۔۔۔۔۔ من الشھدین (65) ‘۔

اللہ تو رب واحد ہے۔ وہی آسمانوں اور زمین کا رب ہے ‘ اور وہ اس لیے رب ہے کہ وہ ان کا پیدا کرنے والا ہے یعنی وہ الہٰ واحد ہے۔ دو صفات کی وجہ سے اور ان میں جدائی ممکن نہیں ہے۔ ایک یہ کہ وہ زمین و آسمان کا رب ہے۔ ان کو چلانے والا ہے اور دوسری صفت یہ ہے کہ ان کو پیدا بھی اس نے کیا۔ یہ تو درست عقیدہ ہے لیکن مشرکین عرب کا عقیدہ نہایت ہی معقول ہے کہ وہ اپنے بتوں کو رب تو مانتے تھے لیکن خالق نہ مانتے تھے۔ خالق وہ بھی صرف اللہ کو مانتے تھے۔ لیکن یہ جانتے ہوئے کہ دوسرے الہوں نے کسی چیز کی تخلیق نہیں کی پھر بھی ان کی پوجا کرتے تھے۔

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ایک ایسے گواہ کی طرح گواہی دیتے ہیں جس کوئی شک نہیں ہوتا۔

وانا علی ذلکم من الشھدین (12 : 65) ” اس پر میں تمہارے سامنے گواہی دیتا ہوں “۔ زمین و آسمان کی تخلیق کے وقت حضرت ابراہیم موجود نہ تھے۔ نہ وہ اپنے نفس اور اپنی قوم کی تخلیق پر چشم دید گواہ تھے۔ لیکن یہ معاملہ اس قدر واضح ‘ ثابت شدہ ہے کہ ایک مومن اس پر چشم دید گواہ کی طرح گواہی دے سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کائنات کی ہر چیز وحدت خالق پر ناطق ہے۔ انسانی شخصیت کے جو جو کمالات ہیں ‘ جسمانی و ذہنی وہ سب کے سب برہان ناطق ہیں کہ خالق ایک ہے اور وہی مدبر ہے۔ وہ قانون قدرت بھی ایک ہی ہے جو اس پوری کائنات کو مع انسان کے چلا رہا ہے اور اس میں متصرف ہے ‘ جس طرح چاہیے۔

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم سے جو شخص یہ گفتگو کررہا تھا ‘ اس سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہہ دیا کہ ان کے بتوں کے بارے میں میں نے ایک فیصلہ کرلیا ہے۔ اس پر ضرور عمل ہوگا۔

اردو ترجمہ

اور خدا کی قسم میں تمہاری غیر موجودگی میں ضرور تمہارے بتوں کی خبر لوں گا"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

WataAllahi laakeedanna asnamakum baAAda an tuwalloo mudbireena

وتا للہ۔۔۔۔۔۔۔ مدبرین (75) ” ‘۔

انہوں نے ان بتوں کے بارے میں کیا فیصلہ کیا۔ اسے انہوں نے مبہم چھوڑدیا ‘ اور اس کا ذکر نہ کیا۔ سیاق کلام میں یہ وضاحت بھی نہیں ہے کہ انہوں نے آپ کو جواب کیا دیا۔ شاید وہ مطمئن ہوں کہ یہ ہمارے بتوں کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکے گا۔ اس لیے انہوں نے اسے نظر انداز کردیا۔

326