اب اہل ایمان کے نام یہ آخری پکار ہے اور اس سبق کے آخیر میں ہے۔ یہ پکار اس خاطر ہے کہ وہ تقویٰ اختیار کریں۔ اس لیے کہ اس عظیم ذمہ داری کا حق صرف وہ لوگ ادا کرسکتے ہیں جن کے اندر نور تقویٰ ہو اور اس کے ذریعے وہ شیطانی شبہات اور وسوسوں کا مقابلہ کرسکیں اور اس راہ پر ان کے قدم مضبوط ہوں اور ان کو یہ فکر یکسوئی تب ہی نصیب ہوسکتی ہے جب وہ تقوی کے ذریعے حاصل کردہ ربانی نورانیت اور روشنی کو کام میں لائیں۔
یہ ہے زاد راہ اور حقیقی سامان سفر۔ زاد تقوی جو دلوں کو زندہ کرتا ہے ان کو بیدار کرتا ہے اور ان کے اندر ولولہ پیدا کرتا ہے۔ نیز اس کی وجہ سے دلوں کے اندر احتیاط اور بیداری پیدا ہوتی ہے اور اس کی وجہ سے انسان کو ایسا نور بصیرت ملتا ہے جس کی وجہ سے اس راہ کے نشیب و فراز سب روشن ہوجاتے ہیں۔ انسانی سوچ پر ان شبہات و وساوس کا اثر نہیں ہے جن کی وجہ سے راہ تاریک ہوجاتی ہے نیز تقوی کی وجہ سے انسان کو اس کی کوتاہیوں پر معافی بھی مل جاتی ہے۔ اور انسان کی زندگی میں سنجیدگی اور ثبات پیدا ہوجاتا ہے۔ انسان پر امید ہوتا ہے اور مشکلات اور تقصیرات کی وجہ سے وہ مایوس نہیں ہوتا۔
حقیقت یہ ہے کہ تقویٰ کی وجہ سے انسان کے دل میں وہ دو ٹوک بصیرت پیدا ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے انسان اپنی راہ کی مشکلات میں صحیح فیصلے کرسکتا ہے۔ لیکن یہ وہ حقیقت ہے کہ تمام روحانی تجربات کی طرح اس کو بھی عملاً اپنانے کے بعد ہی اس کی پوری ماہیت انسان پر منکشف ہوتی ہے۔ صرف کلام وبیان سے اس کی ماہیت کو پوری طرح بیان نہیں کیا جاسکتا۔ خصوصاً ان لوگوں پر جن کا کوئی ذوق ہی نہ ہو۔
بعض امور حسن اور عمل کے درمیان پیچیدہ ہوتے ہیں۔ اور انسان کی فکر و نظر ہمیشہ جادہ حق کی نشاندہی میں پیچیدگی کا شکار رہی ہے۔ زندگی کی اہم راہوں پر انسان حق و باطل کے اندر مشکل سے تمیز کرسکتا ہے۔ بڑے بڑے دلائل بھی انسان کو اطمینان قلبی عطا کرنے سے قاصر رہ جاتے ہیں۔ آخر کار خاموشی چھا جاتی ہے اور قلب و نظر مطمئن نہیں ہوتے۔ دلائل وبراہین کا یہ جدل وجدال بےفائدہ ہوتا ہے لیکن آخر کار تقوی ہی سامنے آتا ہے۔ تقوی کے ذریعہ ہی عقل کو روشنی ملتی ہے۔ تقوی ہی حق کی شکل و صورت وضع کرتا ہے اور راستہ منکشف ہوتا ہے ، دل مطمئن ہوتا ہے ، ضمیر کے اندر استراحت آجاتی ہے اور قدم جم جاتے اور انسان راستے پر چل نکلتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ بذات خود سچائی فطرت سے اوجھل نہیں ہوتی ، فطرت کی بنا اور تعمیر سچائی پر ہے اور اس سچائی ہی کے ساتھ زمین و آسمان کو پیدا کیا گیا ہے لیکن انسانی خواہشات سچائی اور فطرت کے درمیان حائل ہوجاتی ہیں۔ ذاتی خواہشات فضا میں آلودگی پیدا کردیتی ہیں اور انسان کی حقیقی نظر کام نہیں کرتی اور انسان کو جادہ حق نظر نہیں آتا۔ محض دلیل وبرہان سے ذاتی خواہشات کو رد نہیں کیا جاسکتا۔ یہ تقویٰ اور خدا خوفی ہی ہے جس کے ذریعے خواہشات کو دبایا جاسکتا ہے۔ اور خوف خدا اور تقویٰ بروقت اپنا کام کرتے ہیں۔ خفیہ حالت میں بھی اور اعلانیہ حالات میں بھی۔ یہی وجہ ہے کہ تقویٰ کو مبداء فرقان بتایا گیا ہے جس سے بصیرت منور ہوتی ہے اور ہر قسم کا التباس اور شک دور ہوجاتا ہے۔
یہ وہ قوت اور صلاحیت ہے جو بازار سے خریدی نہیں جاسکتی۔ یہ اللہ کا فضل عظیم ہی ہوتا ہے جسے چاہتا ہے عطا کردیتا ہے اور اس فضل عظیم ہی کے نتیجے میں خطائیں معاف ہوتی ہیں۔ اور یہ وہ عمومی بخشش ہے جو رب العالمین اپنے خصوصی کرم سے جس پر چاہتا ہے ، کردیتا ہے۔
آیت 29 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ تَتَّقُوا اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّکُمْ فُرْقَانًا اگر تم تقویٰ کی روش اختیار کرو گے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یکے بعد دیگرے تمہارے لیے فرقان آتا رہے گا۔ جیسے پہلا فرقان غزوۂ بدر میں تمہاری فتح کی صورت میں آگیا۔
دنیا و آخرت کی سعادت مندی فرقان سے مراد نجات ہے دنیوی بھی اور اخروی بھی اور فتح و نصرت غلبہ و امتیاز بھی مراد ہے جس سے حق و باطل میں تمیز ہوجائے۔ بات یہی ہے کہ جو اللہ کی فرمانبرداری کرے، نافرمانی سے بچے اللہ اس کی مدد کرتا ہے۔ جو حق و باطل میں تمیز کرلیتا ہے، دنیاو آخرت کی سعادت مندی حاصل کرلیتا ہے اس کے گناہ مٹ جاتے ہیں لوگوں سے پوشیدہ کروئے جات یہیں اور اللہ کی طرف سے اجر وثواب کا وہ کامل مستحق ٹھہر جاتا ہے۔ جیسے فرمان عالی شان ہے یایھا الزین امنو اتقواللہ وامنو ابر سولہ یوتکم کفلین من رحمتہ ویجعل لکم نورا تمشون بہ و یغفر لکم واللہ غفور الرحیم یعنی اے مسلمانو ! اللہ کا ڈر دلوں میں رکھو۔ اس کے رسول پر ایمان لاؤ وہ تمہیں اپنی رحمت کے دوہرے حصے دے گا اور تمہارے لئے ایک نور مہیا کر دے گا جس کے ساتھ تم چلتے پھرتے رہو گے اور تمہیں بخش بھی دے گا، اللہ غفورو رحیم ہے۔