سورۃ الانفال (8): آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں۔ - اردو ترجمہ

اس صفحہ میں سورہ Al-Anfaal کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الأنفال کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔

سورۃ الانفال کے بارے میں معلومات

Surah Al-Anfaal
سُورَةُ الأَنفَالِ
صفحہ 180 (آیات 26 سے 33 تک)

وَٱذْكُرُوٓا۟ إِذْ أَنتُمْ قَلِيلٌ مُّسْتَضْعَفُونَ فِى ٱلْأَرْضِ تَخَافُونَ أَن يَتَخَطَّفَكُمُ ٱلنَّاسُ فَـَٔاوَىٰكُمْ وَأَيَّدَكُم بِنَصْرِهِۦ وَرَزَقَكُم مِّنَ ٱلطَّيِّبَٰتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَخُونُوا۟ ٱللَّهَ وَٱلرَّسُولَ وَتَخُونُوٓا۟ أَمَٰنَٰتِكُمْ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّمَآ أَمْوَٰلُكُمْ وَأَوْلَٰدُكُمْ فِتْنَةٌ وَأَنَّ ٱللَّهَ عِندَهُۥٓ أَجْرٌ عَظِيمٌ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِن تَتَّقُوا۟ ٱللَّهَ يَجْعَل لَّكُمْ فُرْقَانًا وَيُكَفِّرْ عَنكُمْ سَيِّـَٔاتِكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ۗ وَٱللَّهُ ذُو ٱلْفَضْلِ ٱلْعَظِيمِ وَإِذْ يَمْكُرُ بِكَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لِيُثْبِتُوكَ أَوْ يَقْتُلُوكَ أَوْ يُخْرِجُوكَ ۚ وَيَمْكُرُونَ وَيَمْكُرُ ٱللَّهُ ۖ وَٱللَّهُ خَيْرُ ٱلْمَٰكِرِينَ وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ ءَايَٰتُنَا قَالُوا۟ قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَآءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هَٰذَآ ۙ إِنْ هَٰذَآ إِلَّآ أَسَٰطِيرُ ٱلْأَوَّلِينَ وَإِذْ قَالُوا۟ ٱللَّهُمَّ إِن كَانَ هَٰذَا هُوَ ٱلْحَقَّ مِنْ عِندِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ ٱلسَّمَآءِ أَوِ ٱئْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ وَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنتَ فِيهِمْ ۚ وَمَا كَانَ ٱللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ
180

سورۃ الانفال کو سنیں (عربی اور اردو ترجمہ)

سورۃ الانفال کی تفسیر (تفسیر بیان القرآن: ڈاکٹر اسرار احمد)

اردو ترجمہ

یاد کرو وہ وقت جبکہ تم تھوڑے تھے، زمین میں تم کو بے زور سمجھا جاتا تھا، تم ڈرتے رہتے تھے کہ کہیں لوگ تمہیں مٹا نہ دیں پھر اللہ نے تم کو جائے پناہ مہیا کر دی، اپنی مدد سے تمہارے ہاتھ مضبُوط کیے اور تمہیں اچھا رزق پہنچایا، شاید کہ تم شکر گزار بنو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waothkuroo ith antum qaleelun mustadAAafoona fee alardi takhafoona an yatakhattafakumu alnnasu faawakum waayyadakum binasrihi warazaqakum mina alttayyibati laAAallakum tashkuroona

آیت 26 وَاذْکُرُوْٓا اِذْ اَنْتُمْ قَلِیْلٌ مُّسْتَضْعَفُوْنَ فِی الْاَرْضِ تَخَافُوْنَ اَنْ یَّتَخَطَّفَکُمُ النَّاسُ یہ آیت خاص طور پر مسلمانان پاکستان پر بھی منطبق ہوتی ہے۔ برصغیر میں مسلمان اقلیت میں تھے ‘ ہندوؤں کی اکثریت کے مقابلے میں انہیں خوف تھا کہ وہ اپنے حقوق کا تحفظ کرنے میں کمزور ہیں۔ اپنے جان و مال کو درپیش خطرات کے علاوہ انہیں یہ اندیشہ بھی تھا کہ اکثریت کے ہاتھوں ان کا معاشی ‘ سماجی ‘ سیاسی ‘ لسانی ‘ مذہبی وغیرہ ہر اعتبار سے استحاصل ہوگا۔

اردو ترجمہ

اے ایمان لانے والو، جانتے بُوجھتے اللہ اور اس کے رسُولؐ کے ساتھ خیانت نہ کرو، اپنی امانتوں میں غداری کے مرتکب نہ ہو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Ya ayyuha allatheena amanoo la takhoonoo Allaha waalrrasoola watakhoonoo amanatikum waantum taAAlamoona

آیت 27 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَخُوْنُوا اللّٰہَ وَالرَّسُوْلَ اللہ کی امانت میں خیانت یقیناً بہت بڑی خیانت ہے۔ ہمارے پاس اللہ کی سب سے بڑی امانت اس کی وہ روح ہے جو اس نے ہمارے جسموں میں پھونک رکھی ہے۔ اسی کے بارے میں سورة الاحزاب میں فرمایا گیا : اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَۃَ عَلَی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَالْجِبَالِ فَاَبَیْنَ اَنْ یَّحْمِلْنَہَا وَاَشْفَقْنَ مِنْہَا وَحَمَلَہَا الْاِنْسَانُط اِنَّہٗ کَانَ ظَلُوْمًا جَہُوْلً۔ ہم نے اپنی امانت کو آسمانوں ‘ زمین اور پہاڑوں پر پیش کیا تو انہوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کردیا اور وہ اس سے ڈر گئے ‘ مگر انسان نے اسے اٹھا لیا ‘ یقیناً وہ ظالم اور جاہل تھا۔ پھر اس کے بعد دین ‘ قرآن اور شریعت اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی بڑی بڑی امانتیں ہیں جو ہمیں سو نپی گئی ہیں۔ چناچہ ایمان کا دم بھرنا ‘ اللہ کی اطاعت اور اس کے رسول ﷺ کی محبت کا دعویٰ کرنا ‘ لیکن پھر اللہ کے دین کو مغلوب دیکھ کر بھی اپنے کاروبار ‘ اپنی جائیداد ‘ اپنی ملازمت اور اپنے کیرئیر کی فکر میں لگے رہنا ‘ اللہ اور رسول ﷺ کے ساتھ اس سے بڑی بےوفائی ‘ غداری اور خیانت اور کیا ہوگی !

اردو ترجمہ

اور جان رکھو کہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد حقیقت میں سامانِ آزمائش ہیں اور اللہ کے پاس اجر دینے کے لیے بہت کچھ ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

WaiAAlamoo annama amwalukum waawladukum fitnatun waanna Allaha AAindahu ajrun AAatheemun

آیت 28 وَاعْلَمُوْٓا اَنَّمَآ اَمْوَالُکُمْ وَاَوْلاَدُکُمْ فِتْنَۃٌلا فتنہ کے معنی آزمائش اور اس کسوٹی کے ہیں جس پر کسی کو پرکھا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے مال اور اولاد انسان کے لیے بہت بڑی آزمائشیں ہیں۔ یقیناً مال اور اولاد ہی انسان کے پاؤں کی سب سے بڑی بیڑیاں ہیں جو اسے نصرت دین کی جدوجہد سے روک کر اس کی عاقبت خراب کرتی ہیں۔ چناچہ وہ اپنی شعوری اور فعال زندگی کے شب و روز مال کمانے ‘ اسے سینت سینت کر رکھنے اور اولاد کے مستقبل کو محفوظ بنانے میں اس انداز سے کھپا دیتا ہے کہ اس میں اور کو لہو کے بیل میں کوئی فرق نہیں رہ جاتا۔ اس کے بعد اس کے جسم میں زندگی کی کوئی رمق باقی بچتی ہی نہیں جسے وہ دین کی جدو جہد کے لیے پیش کر کے اپنے اللہ کے حضور سرخرو ہو سکے۔

اردو ترجمہ

اے ایمان لانے والو، اگر تم خدا ترسی اختیار کرو گے تو اللہ تمہارے لیے کسوٹی بہم پہنچا دے گا اور تمہاری بُرائیوں کو تم سے دُور کر دے گا، اور تمہارے قصور معاف کر دے گا اللہ بڑا فضل فرمانے والا ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Ya ayyuha allatheena amanoo in tattaqoo Allaha yajAAal lakum furqanan wayukaffir AAankum sayyiatikum wayaghfir lakum waAllahu thoo alfadli alAAatheemi

آیت 29 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ تَتَّقُوا اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّکُمْ فُرْقَانًا اگر تم تقویٰ کی روش اختیار کرو گے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یکے بعد دیگرے تمہارے لیے فرقان آتا رہے گا۔ جیسے پہلا فرقان غزوۂ بدر میں تمہاری فتح کی صورت میں آگیا۔

اردو ترجمہ

وہ وقت بھی یاد کرنے کے قابل ہے جبکہ منکرینِ حق تیرے خلاف تدبیریں سوچ رہے تھے کہ تجھے قید کر دیں یا قتل کر ڈالیں یا جلا وطن کر دیں وہ اپنی چالیں چل رہے تھے اور اللہ اپنی چال چل رہا تھا اور اللہ سب سے بہتر چال چلنے والا ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waith yamkuru bika allatheena kafaroo liyuthbitooka aw yaqtulooka aw yukhrijooka wayamkuroona wayamkuru Allahu waAllahu khayru almakireena

آیت 30 وَاِذْ یَمْکُرُ بِکَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِیُثْبِتُوْکَ اَوْ یَقْتُلُوْکَ اَوْ یُخْرِجُوْکَ ط کہ آپ ﷺ کو قید کردیں یا قتل کردیں یا مکہ سے نکال دیں۔یہ ان سازشوں کا ذکر ہے جو قریش مکہ ہجرت سے پہلے کے زمانے میں رسول اللہ ﷺ کے خلاف کر رہے تھے۔ آپ ﷺ کی مخالفت میں ان کے باقی تمام حربے ناکام ہوگئے تو وہ نعوذ باللہ آپ ﷺ کے قتل کے درپے ہوگئے اور اس بارے میں سنجیدگی سے صلاح مشورے کرنے لگے۔

اردو ترجمہ

جب ان کو ہماری آیات سنائی جاتی تھیں تو کہتے تھے کہ “ہاں سُن لیا ہم نے، ہم چاہیں تو ایسی ہی باتیں ہم بھی بنا سکتے ہیں، یہ تو وہی پُرانی کہانیاں ہیں جو پہلے سے لوگ کہتے چلے آ رہے ہیں "

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waitha tutla AAalayhim ayatuna qaloo qad samiAAna law nashao laqulna mithla hatha in hatha illa asateeru alawwaleena

آیت 31 وَاِذَا تُتْلٰی عَلَیْہِمْ اٰیٰتُنَا قَالُوْا قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَآءُ لَقُلْنَا مِثْلَ ہٰذَآلا اِنْ ہٰذَآ اِلَّآ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ ۔تاریخ اور سیرت کی کتابوں میں یہ قول نضر بن حارث سے منسوب ہے۔ لیکن ان کی اس طرح کی باتیں صرف کہنے کی حد تک تھیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان لوگوں کو بار بار یہ چیلنج دیا گیا کہ اگر تم لوگ اس قرآن کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ نہیں سمجھتے تو تم بھی اسی طرح کا کلام بنا کرلے آؤ اور کسی ثالث سے فیصلہ کرا لو ‘ مگر وہ لوگ اس چیلنج کو قبول کرنے کی کبھی جرأت نہ کرسکے۔ اسی طرح پچھلی صدی تک عام مستشرقین بھی یہ الزام لگاتے رہے ہیں کہ محمد ﷺ نے تورات اور انجیل سے معلومات لے کر قرآن بنایا ہے ‘ مگر آج کل چونکہ تحقیق کا دور ہے ‘ اس لیے ان کے ایسے بےت کے الزامات خود بخود ہی کم ہوگئے ہیں۔

اردو ترجمہ

اور وہ بات بھی یاد ہے جو اُنہوں نے کہی تھی کہ “خدایا اگر یہ واقعی حق ہے اور تیری طرف سے ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا دے یا کوئی درد ناک عذاب ہم پر لے آ"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waith qaloo allahumma in kana hatha huwa alhaqqa min AAindika faamtir AAalayna hijaratan mina alssamai awi itina biAAathabin aleemin

آیت 32 وَاِذْ قَالُوا اللّٰہُمَّ اِنْ کَانَ ہٰذَا ہُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِکَ فَاَمْطِرْ عَلَیْنَا حِجَارَۃً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ اءْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہوچکا ہے کہ سرداران قریش کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ پیدا ہوگیا تھا کہ مکہ کے عام لوگوں کو محمد رسول اللہ ﷺ کی دعوت کے اثرات سے کیسے محفوظ رکھا جائے۔ اس کے لیے وہ مختلف قسم کی تدبیریں کرتے رہتے تھے ‘ جن کا ذکر قرآن میں بھی متعدد بار ہوا ہے۔ اس آیت میں ان کی ایسی ہی ایک تدبیر کا تذکرہ ہے۔ ان کے بڑے بڑے سردار عوام کے اجتماعات میں علی الاعلان اس طرح کی باتیں کرتے تھے کہ اگر یہ قرآن اللہ ہی کی طرف سے نازل کردہ ہے اور ہم اس کا انکار کر رہے ہیں تو ہم پر اللہ کی طرف سے عذاب کیوں نہیں آجاتا ؟ بلکہ وہ اللہ کو مخاطب کر کے دعائیہ انداز میں بھی پکارتے تھے کہ اے اللہ ! اگر یہ قرآن تیرا ہی کلام ہے تو پھر اس کا انکار کرنے کے سبب ہمارے اوپر آسمان سے پتھر برسا دے ‘ یا کسی بھی شکل میں ہم پر اپنا عذاب نازل فرما دے۔ اور اس کے بعد وہ اپنی اس تدبیر کی خوب تشہیر کرتے کہ دیکھا ہماری اس دعا کا کچھ بھی ردِّ عمل نہیں ہوا ‘ اگر یہ واقعی اللہ کا کلام ہوتا تو ہم پر اب تک عذاب آچکا ہوتا۔ چناچہ اس طرح وہ اپنے عوام کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتے تھے۔

اردو ترجمہ

اُس وقت تو اللہ ان پر عذاب نازل کرنے والا نہ تھا جبکہ تو ان کے درمیان موجود تھا اور نہ اللہ کا یہ قاعدہ ہے کہ لوگ استغفار کر رہے ہوں اور وہ ان کو عذاب دیدے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wama kana Allahu liyuAAaththibahum waanta feehim wama kana Allahu muAAaththibahum wahum yastaghfiroona

آیت 33 وَمَا کَان اللّٰہُ لِیُعَذِّبَہُمْ وَاَنْتَ فِیْہِمْ ط اگرچہ وہ لوگ عذاب کے پوری طرح مستحق ہوچکے تھے ‘ لیکن جس طرح کے عذاب کے لیے وہ لوگ دعائیں کر رہے تھے ویسا عذاب سنت الٰہی کے مطابق ان پر اس وقت تک نہیں آسکتا تھا جب تک اللہ کے رسول ﷺ مکہ میں ان کے درمیان موجود تھے ‘ کیونکہ ایسے عذاب کے نزول سے پہلے اللہ تعالیٰ اپنے رسول علیہ السلام اور اہل ایمان کو ہجرت کا حکم دے دیتا ہے اور ان کے نکل جانے کے بعد ہی کسی آبادی پر اجتماعی عذاب آیا کرتا ہے۔ وَمَا کَان اللّٰہُ مُعَذِّبَہُمْ وَہُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ ۔اس لحاظ سے مکہ کی آبادی کا معاملہ بہت گڈ مڈ تھا۔ مکہ میں عوام الناس بھی تھے ‘ سادہ لوح لوگ بھی تھے جو اپنے طور پر اللہ کا ذکر کرتے تھے ‘ تلبیہ پڑھتے تھے اور اللہ سے استغفار بھی کرتے تھے۔ دوسری طرف اللہ کا قانون ہے جس کا ذکر اسی سورت کی آیت 37 میں ہوا ہے کہ جب تک وہ پاک اور ناپاک کو چھانٹ کر الگ نہیں کردیتا لِیَمِیْزَ اللّٰہُ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ اس وقت تک اس نوعیت کا عذاب کسی قوم پر نہیں آتا۔

180