درس نمبر 84 ایک نظر میں
اس سورة میں سلسلہ کلام آگے بڑھتا ہے۔ حالات حاضرہ پر تبصرہ واقعات ماضی کی روشنی میں جاری ہے۔ امت مسلمہ کے سامنے اس عظیم فتح کی تصویر کشی کرکے بتایا جاتا ہے کہ ذرا سوچو کہ تمہارا حال تمہارے ماضی کے مقابلے میں کس قدر بدل چکا ہے۔ کس قدر عظیم انقلاب چشم زدن میں برپا کردیا گیا ہے لیکن یہ کیونکر ہوا۔۔۔ ؟ محض فضل ربی اور تدبیر الہی کے ذریعے۔ اس عظیم انقلاب کو دیکھو ! اس کے مقابلے میں اموال و غنائم کس قدر حقیر ہیں۔ نیز تم نے جو قربانیاں دیں اور جو مشقتیں اٹھائیں وہ تمہیں تو بہت بڑی نظر آتی ہوں گی مگر اب نتائج کے مقابلے میں کس قدر حقیر ہیں۔
درس سابق میں یہ بیان کردیا گیا تھا کہ مکہ میں مسلمانوں کے حالات کس قدر خراب رہتے تھے ، اس جنگ سے قبل مدینہ میں بھی تمہاری پوزیشن کچھ اچھی نہ تھی۔ تم قلیل و ضعیف تھے۔ تم ہر وقت خطرات میں گھرے ہوئے تھے۔ خطرہ تھا کہ تمہیں صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے۔ مدینہ میں آ کر تم مامومن ہوئے اور اس جنگ اور نصرت کے بعد ، محض تدبیر الہی سے تم عزیز اور مقتدر ہوگئے۔
اس سبق میں مشرکین کے موقف کی تصویر کشی کی جاتی ہے اور بتایا جاتا ہے کہ دیکھو یہ لوگ تمہارے خلاف چالیں چل رہے تھے۔ ہجرت سے قدرے پہلے اور یہ دعوے کرتے تھے کہ یہ شخص جو آیات الہی پڑھتا ہے اگر ہم چاہیں تو ایسا کلام گھڑ سکتے ہیں اور وہ بغض وعناد میں اس قدر آگے بڑھ گئے کہ عذاب الہی کا خود مقابلہ کرنے لگے کہ اگر دعوت اسلامی حق ہے تو ہم پر عذاب آجائے۔ اس کے بعد کہا جاتا ہے کہ دیکھو یہ لوگ دعوت اسلامی کی راہ روکنے کے لیے اپنی قیمتی دولت بھی فضول خرچ کر رہے ہیں اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جنگ کے لیے تیاریاں کر رہے ہیں۔ لیکن یہ دنیا میں ناکام ہوں گے۔ اور آخرت میں جہنم کا ایندھن ہوں گے نیز دنیا اور آخرت دونوں میں خسارے سے دوچار ہوں گے۔
آخر میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو یہ حکم دیتے ہیں کہ وہ کافروں سے بات کرکے ان کو یہ اختیار دیں کہ وہ دو امور میں سے ایک کو قبول کرلیں۔ یا تو وہ کفر ، عناد اور اللہ اور رسول کے خلاف صف آرائی سے باز آجائیں ، اگر وہ ایسا کریں تو اللہ ان کی سابقہ کو تاہیاں جو دور جاہلیت میں کی گئیں ان کو معاف کردے گا۔ یا وہ لوٹ کر اس حالت میں چلے جائیں جس میں وہ تھے اور اس برے انجام سے دوچار ہوں جو ہر اس شخص کو نصیب ہوا جس نے اس راہ کو اختیار کیا۔ تب ان پر اللہ کی وہی سنت جاری ہوگی جس کا اللہ ارادہ کریں اور جس میں اس کی رضا ہو۔
آخر میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو یہ ہدایت دیتے ہیں کہ وہ ان ہدایت دیتے ہیں کہ وہ ان کفار کے ساتھ جنگ اس وقت تک جاری رکھیں یہاں تک کہ کفار کے ہاتھ میں ایسی قوت نہ رہے جس میں مسلمانوں کے لیے خطرہ ہو۔ اس جہاں پر اللہ کی الوہیت قائم ہوجائے اور دین پر اللہ کے لیے خالص ہوجائے۔ اگر وہ سر تسلیم خم کردیں تو حضور ان سے یہ قبول کرلیں گے۔ رہی ان کی نیت تو اس پر معاملہ اللہ کے ہاں ہوگا۔ کیو کہ اللہ خبیر وبصیر ہے۔ اگر وہ روگردانی کریں ، اسلام کے خلاف یہ جنگ جاری رکھیں اور اسلام کے خلاف ان کے بغض وعناد کا یہی عالم رہے اور اللہ وحدہ کی حاکمیت کا اعتراف نہ کریں اور اللہ کے اقتدار اعلیٰ کے سانے نہ جھکیں تو مسلمان کے خلاف جہاد جاری رکھیں گے۔ اس میں وہ صرف اللہ پر بھروسہ کریں گے جو ان کا سرپرست ہے۔ وہ اچھا سرپرست اور بہترین مددگار ہے۔
درس نمبر 84 تشریح آیات : 30 ۔۔ تا۔۔ 40
تفسیر آیت 30 ۔
وَاِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لِيُثْبِتُوْكَ اَوْ يَقْتُلُوْكَ اَوْ يُخْرِجُوْكَ ۭوَيَمْكُرُوْنَ وَيَمْكُرُ اللّٰهُ ۭوَاللّٰهُ خَيْرُ الْمٰكِرِيْنَ ۔ وہ وقت بھی یاد کرنے کے قابل ہے جب کہ منکرین حق تیرے خلاف تدبیریں سوچ رہے تھے کہ تجھے قید کرلیں یا قتل کر ڈالیں یا جلا وطن کردیں۔ وہ اپنی چالیں چل رہے تھے اور اللہ اپنی چال چل رہا تھا اور اللہ سب سے بہتر چال چلنے والا ہے۔
اب حالات مکہ معظمہ کی اسکرین پر لائے جاتے ہیں ، جبکہ حالات کے اندر وہ انقلاب برپا نہ ہوا تھا جواب ہوچکا ہے۔ اہل مکہ اپنے موقف پر سختی سے جمے ہوئے تھے مقصد یہ ہے کہ حالات بہت اچھے رخ پر جا رہے ہیں اور مستقبل تابناک ہے ، لیکن اس میں تمہارا کوئی ذاتی کمال نہیں ہے یہ تو اللہ کی تدبیر اور تقدیر کی کارستانیاں ہیں۔ دنیا میں وہی کچھ ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے۔ ابتداء میں جن لوگوں کو مخاطب کیا جا رہا تھا وہ تو حالات کے ان دونوں ادوار کو اچھی طرح جانتے تھے کیونکہ وہ ان ادوار سے ہوکر گزرے تھے۔ ان کے لیے تو سابقہ دور ماضی قریب تھا اور اس دور میں وہ جس خوف قلق میں مبتلا تھے وہ انہیں اچھی طرح یاد تھا حال میں جو اطمینان تھا وہ ان کے سامنے تھا۔ وہ دیکھ رہے تھے کہ ان کے اور رسول اللہ ﷺ کے خلاف کیا مکاریاں کی گئی تھیں اور کی جا رہی ہیں اور کس طرح وہ ان میں سے کامیاب ہوکر گزرے ہیں۔ انہوں نے مشکلات سے نجات ہی نہیں پائی بلکہ ان میں کامیاب بھی رہے ہیں۔
ان کی تدبیر یہ تھی کہ رسول اللہ ﷺ کو قید کرکے بیڑیاں پہنا دیں یہاں تک کہ وہ رحلت کر جائیں یا انہیں قتل کردیں یا آپ کو مکہ سے خارج کردیں۔ انہوں نے ان تمام تجاویز پر غور کیا تھا اور آخر میں وہ اس نتیجے پر پہنچ گئے تھے کہ آپ کو قتل ہی کردیں۔ اس کام کو تمام قبائل کے نوجوان سر انجام دیں تاکہ آپ کا کون تمام قبائل پر منقسم ہوجائے۔ بنو ہاشم آپ کا بدلہ نہ لے سکیں آخر کار دیت پر راضی ہوجائیں۔
امام احمد نے روایت کی ہے۔ عبدالرزاق سے ، معمر سے ، عثمان جریر سے ، ۔۔ مولی عباس سے ، کہتے ہیں کہ ابن عباس نے فرمایا کہ و اذ یمکر بک کی تفسیر یہ ہے کہ ایک رات قریش نے مکہ میں باہم مشورہ کیا تو بعض نے کہا کہ جب وہ صبح نکلیں تو انہیں باندھ دیں یعنی نبی ﷺ کے بارے میں۔ بعض نے کہا اسے قتل کردیا جائے ، بعض نے کہا کہ انہیں جلا وطن کردیا جائے۔ حضور ﷺ کو اس کی اطلاع دے دی گئی۔ حضرت علی رات کو آپ کے بستر پر سوئے اور حضور نکل کر غار میں چھپ گئے لیکن مشرکین رات کو حضور کی چوکی کرتے رہے۔ جب صبح ہوئی تو وہ حملہ آور ہوئے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ بستر پر حضرت علی سوئے ہوئے ہیں اور اللہ نے ان کی اس تدبیر کو ان پر الٹ دیا ہے تو انہوں نے حضرت علی پوچھا کہ تمہارے صاحب کہاں ہیں تو حضرت علی نے فرمایا : ” مجھے معلوم نہیں ہے “۔ چناچہ انہوں نے آپ کی پتہ براری شروع کی اور نقش قدم پر چل پڑے۔ جب وہ پہاڑ کے پاس پہنچے تو ان سے آپ کے قدموں کے آثار خلط ملط ہوگئے۔ وہ پہاڑ پر چڑھ گئے ، غار کے اوپر گئے۔ انہوں نے دیکھا کہ دروازے پر عنکبوت نے تانا بانا بن دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ یہاں داخل ہوئے ہوتے تو یہاں عنکبوت کا جالا نہ ہوتا۔ چناچہ حضور نے وہاں تین راتیں گزر دیں۔
وَيَمْكُرُوْنَ وَيَمْكُرُ اللّٰهُ ۭوَاللّٰهُ خَيْرُ الْمٰكِرِيْنَ : ” وہ اپنی چالیں چل رہے تھے اور اللہ اپنی چال چل رہا تھا ، اور اللہ سب سے بہتر چال چلنے والا ہے “۔ قرآن نے ان حالات کو جن الفاظ میں بیان کیا ، وہ نہایت ہی موثر ہیں جس سے قریش کی مجلس کا نقشہ ذہن میں آجاتا ہے ان کی تدابیر ، تجاویز اور چالیں سامنے آتی ہیں لیکن اللہ ان پر محیط ہے۔ ان کے معاملے میں اللہ کی چالیں سامنے آتی ہیں اور ان کی وجہ سے مشرکین کی تمام چالیں خاک میں مل جاتی ہیں لیکن انہیں آخر دم تک اس کا شعور ہی نہیں ہوتا۔
یہ نہایت ہی مسحور کن تصویر کشی ہے ، اور نہایت خوفناک بھی ، کیونکہ کمزور انسان قادر مطلق کے مقابلے میں کر ہی کیا سکتے ہیں۔ اللہ قہار و جبار ہے اور ہر چیز پر محیط ہے۔ قرآن کریم اس حقیقت کو اپنے مخصوص انداز و طرز پر بیان کرتا ہے کہ اسے پڑھ کر دل لرز اٹھتے ہیں اور انسانی شعور گہرائیوں تک متاثر ہوجاتا ہے۔
آیت 30 وَاِذْ یَمْکُرُ بِکَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِیُثْبِتُوْکَ اَوْ یَقْتُلُوْکَ اَوْ یُخْرِجُوْکَ ط کہ آپ ﷺ کو قید کردیں یا قتل کردیں یا مکہ سے نکال دیں۔یہ ان سازشوں کا ذکر ہے جو قریش مکہ ہجرت سے پہلے کے زمانے میں رسول اللہ ﷺ کے خلاف کر رہے تھے۔ آپ ﷺ کی مخالفت میں ان کے باقی تمام حربے ناکام ہوگئے تو وہ نعوذ باللہ آپ ﷺ کے قتل کے درپے ہوگئے اور اس بارے میں سنجیدگی سے صلاح مشورے کرنے لگے۔
رسول اللہ ﷺ کے قتل کی ناپاک سازش کافروں نے یہی تین ارادے کئے تھے جب ابو طالب نے آپ سے پوچھا کہ آپ کو کفار کے راز اور ان کے پوشیدہ چالیں معلوم بھی ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں وہ تین شور یکر رہے ہیں۔ اس نے تعجب ہو کر پوچھا کہ آپ کو اس کی خبر کس نے دی ؟ آپ نے فرمایا میرے پروردگر نے، اس نے کہا آپ کا پروردگار بہترین پروردگار ہے، تم اس کی خیر خواہی میں ہی رہنا۔ آپ نے فرمایا میں اس کی خیر خواہی کیا کرتا وہ خو دمیری حفاظت اور بھلائی کرتا ہے۔ اسی کا ذکر اس آیت میں ہے لیکن اس واقعہ میں ابو طالب کا ذکر بہت غریب بلکہ منکر ہے اس لئے کہ آیت تو مدینے میں اتری ہے اور کافروں کا یہ مشورہ ہجرت کی رات تھا اور یہ واقعہ ابو طالب کی موت کے تقریباً تین سال کے بعد کا ہے۔ اسی کی موت نے ان کی جراتیں دوبالا کردی تھیں، اس ہمت اور نصرت کے بعد ہی تو کافروں نے آپ کی ایذاء دہی پر کمر باندھی تھی۔ چناچہ مسند احمد میں ہے کہ قریش کے تمام قبیلوں کے سرداروں نے دارالندوہ میں جمع ہونے کا ارادہ کیا۔ ملعون ابلیس انہیں ایک بہت بڑے مقطع بزرگ کی صورت میں ملا۔ انہوں نے پوچھا آپ کون ہیں ؟ اس نے کہا اہل نجد کا شیخ ہوں۔ مجھے معلوم ہوا تھا کہ آپ لوگ آج ایک مشورے کی غرض سے جمع ہونے والے ہیں، میں بھی حاضر ہوا کہ اس مجلس میں شامل ہوجاؤں اور رائے میں اور خیر خواہی میں کوئی کمی نہ کروں۔ آخرمجلس جمع ہوئی تو اس نے کہا اس شخص کے بارے میں پورے غور و خوض سے کوئی صحیہ رائے قائم کرلو۔ واللہ اس نے تو سب کا ناک میں دم کردیا ہے۔ وہ دلوں پر کیسے قبضہ کرلیتا ہے ؟ کوئی نہیں جو اس کی باتوں کا بھوکوں کی طرح مشتاق نہ رہت اہو۔ واللہ اگر تم نے اسے یہاں سے نکالا تو وہ اپنی شیریں زبانی اور آتش بیانی سے ہزارہا ساتھی پیدا کرلے گا اور پھر جو ادھر کا رخ کرے گا تو تمہیں چھٹی کا دودھ یاد آجائے گا پھر تو تمہارے شریفوں کو تہ تیغ کر کے تم سب کو یہاں سے بیک بینی و دوگوش نکال باہر کرے گا۔ سب نے کہا شیخ جی سچ فرماتے ہیں اور کوئی رائے پیش کرو اس پر ابو جہل ملعون نے کہا ایک رائے میری سن لو۔ میرا خیال ہے کہ تم سب کے ذہن میں بھی یہ بات نہ آئی ہوگی، بس یہی رائے ٹھیک ہے، تم اس پر بےکھٹکے عمل کرو۔ سب نے کہا چچا بیان فرما ئیے ! اس نے کہا ہر قبیلے سے ایک نوجوان جری بہادر شریف مانا ہوا شخص چن لو یہ سب نوجوان ایک ساتھ اس پر حملہ کریں اور اپنی تلواروں سے اس کے ٹکڑے اڑا دیں پھر تو اس کے قبیلے کے لوگ یعنی بنی ہاشم کو یہ تو ہمت نہ ہوگی قریش کے تمام قبیلوں سے لڑیں کیونکہ ہر قبیلے کا ایک نوجوان اس کے قتل میں شریک ہوگا۔ اس کا خون تمام قبائل قریش میں بٹا ہوا ہوگا ناچار وہ دیت لینے پر آمادہ ہوجائیں گے، ہم اس بلا سے چھوٹ جائیں گے اور اس شخص کا خاتمہ ہوجائے گا۔ اب تو شیخ تندی اجھل پڑا اور کہنے لگا اللہ جانتا ہے واللہ بس یہی ایک رائے بالکل ٹھیک ہے اس کے سوا کوئی اور بات سمجھ میں نہیں آتی بس یہی کرو اور اس قصے کو ختم کرو اس سے بہتر کوئی صورت نہیں ہوسکتی۔ چناچہ یہ پختہ فیصلہ کر کے یہ مجلس برخاست ہوئی۔ وہیں حضرت جبرائیل آنحضرت ﷺ کے پاس آئے اور آپ سے فرمایا آج کی رات آپ اپنے گھر میں اپنے بسترے پر نہ سوئیں کافروں نے آپ کے خلاف آج میٹنگ میں یہ تجویز طے کی ہے۔ چناچہ آپ نے یہی کیا اس رات آپ اپنے گھر اپنے بستر پر نہ لیٹے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہجرت کی اجازت دے دی اور آپ کے مدینے پہنچ جانے کے بعد اس آیت میں اپنے اس احسان کا زکر فرمایا اور ان کے اس فریب کا ذکر کرتے ہوئے یہ بھی فرمایا ام یقولون شاعر الخ، اس دن کا نام ہی یوم الزحمہ ہوگیا۔ ان کے انہی ارادوں کا ذکر آیت وان کا دو الیستفزونک میں ہے۔ آنحضرت ﷺ مکہ شریف میں اللہ کے حکم کے منتظر تھے یہاں تک کہ قریشیوں نے جمع ہو کر مکر کا ارادہ کیا۔ جبرائیل علیہ اسللام نے آپ کو خبر کردی اور کہا کہ آج آپ اس مکان میں نہ سوئیں جہاں سویا کرتے تھے۔ آپ نے حضرت علی ؓ کو بلا کر اپنے بسترے پر اپنی سبز چادر اوڑھا کر لیٹنے کو فرمایا اور آپ باہر آئے۔ قریش کے مختلف قبیلوں کا مقررہ جتھا آپ کے دراوزے کو گھیرے کھڑا تھا۔ آپ نے زمین سے ایک مٹھی مٹی اور کنکر بھر کر ان کے سروں اور آنکھوں میں ڈال کر سورة یاسین کی فھم لا یبصرون تک کی تلاوت کرتے ہوئے نکل گئے۔ صحیح ابن حبان اور مستدرک ہاکم میں ہے کہ حضرت فاطمہ ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس روتی ہوئی آئیں آپ نے دریافت فرمایا کہ پیاری بیٹی کیوں رو رہی ہو ؟ عرض کیا کہ ابا جی کیسے نہ روؤں یہ قریش خانہ کعبہ میں جمع ہیں لات و عزیٰ کی قسمیں کھا کر یہ طے کیا ہے کہ ہر قبیلے کے لوگ آپ کو دیکھتے ہی اٹھ کھڑے ہوں اور ایک ساتھ حملہ کر کے قتل کردیں تاکہ الزام سب پر آئے اور ایک بلوہ قرارپائے کوئی خاص شخص قاتل نہ ٹھہرے آپ نے فرمایا بیٹی پانی لاؤ پانی آیا رسول اللہ ﷺ نے وضو کیا اور مسجد حرام کی طرف چلے انہوں نے آپ کو دیکھا اور دیکھتے ہی غل مچایا کہ لو وہ آگیا اٹھو اسی وقت ان کے سر جھک گئے ٹھوڑیاں سینے سے لگ گئیں نگاہ اونچی نہ کرسکے آنحضرت ﷺ نے ایک مٹھی مٹی کی بھر کر ان کی طرف پھینکی اور فرمایا یہ منہالٹے ہوجائیں گے یہ چہرے برباد ہوجائیں جس شخص پر ان کنکرکیوں میں سے کوئی کنکر پڑا وہ ہی بدر والے دن کفر کی حالت میں قتل کیا گیا۔ مسند احمد میں ہے کہ مکہ میں رات کو مشرکوں کا مشورہ ہوا۔ کسی نے کہا صبح کو اسے قید کردو، کسی نے کہا مار ڈالو، کسی نے کہا دیس نکالا دے دو ، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی مکرم ﷺ کو اس پر مطلع فرما دیا۔ اس رات حضرت علی آپ کے بسترے پر سوئے اور آپ مکہ سے نکل کھڑے ہوئے۔ غار میں جا کر بیٹھے رہے۔ مشرکین یہ سمجھ کر کہ خود رسول اکرم ﷺ اپنے بسترے پر لیٹے ہوئے ہیں سار رات پہرہ دیتے رہے صبح سب کود کر اندر پہنچے دیکھا تو حضرت علی ہیں ساری تدبیر چوپٹ ہوگئی پوچھا کہ تمہارے ساتھی کہاں ہیں ؟ آپ نے اپنی لا علمی ظاہر کی۔ یہ لوگ قدموں کے نشان دیکھتے ہوئے آپ کے پیچھے پیچھے اس پہاڑ تک پہنچ گئے۔ وہاں سے پھر کوئی پتہ نہ چلا سکا۔ پہاڑ پر چڑھ گئے، اس غار کے پاس سے گذرے لیکن دیکھا کہ وہاں مکڑی کا جالا تنا ہوا ہے کہنے لگے اگر اس میں جاتے تو یہ جالا کیسے ثابت رہ جاتا ؟ حضور ﷺ نے تین راتین اسی غار میں گذاریں۔ پس فرماتا ہے کہ انہوں نے مکر کیا میں بھی ان سے ایسی مضبوط چال چلا کہ آج تجھے ان سے بجا کرلے ہی آیا۔