سورۃ الانفال: آیت 31 - وإذا تتلى عليهم آياتنا قالوا... - اردو

آیت 31 کی تفسیر, سورۃ الانفال

وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ ءَايَٰتُنَا قَالُوا۟ قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَآءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هَٰذَآ ۙ إِنْ هَٰذَآ إِلَّآ أَسَٰطِيرُ ٱلْأَوَّلِينَ

اردو ترجمہ

جب ان کو ہماری آیات سنائی جاتی تھیں تو کہتے تھے کہ “ہاں سُن لیا ہم نے، ہم چاہیں تو ایسی ہی باتیں ہم بھی بنا سکتے ہیں، یہ تو وہی پُرانی کہانیاں ہیں جو پہلے سے لوگ کہتے چلے آ رہے ہیں "

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waitha tutla AAalayhim ayatuna qaloo qad samiAAna law nashao laqulna mithla hatha in hatha illa asateeru alawwaleena

آیت 31 کی تفسیر

اب یہاں سے آگے سیاق کلام میں کفار کے افعال اور احوال بیان کیے جاتے ہیں۔ ان کے دعوے اور ان کے اعترافات کا بیان کیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ ان کا یہ دعویٰ بھی یہاں ریکارڈ کردیا جاتا ہے کہ اگر وہ چاہیں تو وہ اس قسم کا کلام پیش کرسکتے ہیں جبکہ یہ قرآن ان کے زعم میں محض پرانے قصوں پر مشتمل کتاب ہے۔

علامہ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں سعید ، سدی اور ابن جریج وغیرہ سے نقل کیا ہے کہ یہ بات کہنے والا نضر ابن الحارث تھا۔ ” یہ ملعون فارس کے علاقوں میں پھرتا رہا تھا۔ اس نے ملوک فارس کی تاریخ اور رستم و اسفند یار کے قصے یاد کر رکھے تھے۔ جب وہ فارس سے واپس ہوا تو حضور ﷺ کی بعثت ہوگئی تھی اور آپ لوگوں کے سامنے قرآن مجید پڑھتے تھے۔ جب حضور ﷺ کسی مجلس سے تبلیغ کرکے اٹھتے تو وہاں نضر ابن الحارث پہنچ جاتا اور لوگوں کو یہ قصے سناتا اور کہتا تمہیں خدا کی قسم سچ کہو ہم میں سے کن اچھا قصہ گو ہے۔ میں یا محمد ؟ جب بدر کی جنگ پیش آئی تو اللہ نے اسے گرفتار کیا۔ حضور ﷺ نے حکم دیا کہ میرے سامنے اس کی گردن اڑا دی جائے اور ایسا ہی ہوا۔ اسے مقداد ابن الاسود نے گرفتار کیا تھا۔ اس بارے میں ابن جریر محمد ابن بشار سے محمد ابن جعفر سے ، شعبہ سے ، ابو بشر سے ، سعید ابن جبیر سے روایت کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے بدر کے دن ، عقبہ بن ابومعیط ، طعیمہ ابن عدی اور نضر ابن الحارث کی گردن اڑانے کا حکم دیا تھا۔ مقداد نے نضر کو گرفتار کیا تھا۔ جب حضور ﷺ نے اس کے قتل کے احکام صادر کیے تو حضرت مقداد نے کہا ” رسول اللہ ، یہ تو میرا قیدی ہے “ اس پر حضور نے اس کے قتل کا حکم دیا۔ اس پر دوبارہ حضرت مقداد نے کہا حضور یہ میرا قیدی ہے۔ تو حضور ﷺ نے فرمایا ” اے اللہ مقداد کو اپنے فضل سے غنی بنا دے “ اس پر حضرت مقداد نے کہا ” یہی تو میں چاہتا تھا “۔ کہتے ہیں ان ہی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے : وَاِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِمْ اٰيٰتُنَا قَالُوْا قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَاۗءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هٰذَآ ۙ اِنْ هٰذَآ اِلَّآ اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ ۔ جب ان کو ہماری آیات سنائی جاتی تھی تو کہتے تھے کہ ” ہاں سن لیا ہم نے ، ہم چاہیں تو ایسی ہی باتیں ہم بھی بنا سکتے ہیں ، یہ تو وہی پرانی کہانیاں ہیں جو پہلے سے لوگ کہتے چلے آ رہے ہیں “۔

قرآن کریم میں مشرکین کی اس بات کو بار بار لایا گیا ہے کہ قرآن کریم میں پرانے لوگوں کی کہانیاں ہیں :

قالوا اساطیر الاولین اکتتبھا فھی تملی علیہ بکرۃ واصلیا۔ وہ کہتے ہیں یہ پرانی کہانیاں ہیں جو اس نے لکھ لی ہیں اور یہ صبح شام اسے لکھوائی جاتی ہیں “۔

یہ ان رکاوٹوں میں سے ایک ہے جو وہ قرآن کی انقلابی تعلیمات کے مقابلے میں کھڑی کرتے تھے ، حالانکہ قرآن کریم کا خطاب فطرت انسانی سے تھا اور یہ کلمات انسانی فطرت پر ایسا اثر کرتے تھے کہ وہ جھوم اٹھتی اور لبیک کہتی ۔ جب دلوں پر یہ کلمات پڑتے تو وہ لرز اٹھتے اور اس کے مقابلے میں ٹھہر نہ سکتے۔ چناچہ اس کلام کے مقابلے میں قریش کے لیڈر اس قسم کے ہتھکنڈے استعمال کرتے۔ لیکن وہ خود بھی جانتے تھے کہ یہ چالیں کارگر نہ ہوں گی۔ بہرحال انہوں نے کلام الہی میں ایک ایسی چیز تلاش کرلی جو ان کی پرانی کہانیوں کے مشابہ تھی۔ اس سے فائدہ اٹھا کر انہوں نے جاہل عربوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی تاکہ وہ اس انقلابی تحریک سے متاثر نہ ہوجائیں اور عوام جس طرح ان کبراء کی غلامی میں چلے آ رہے تھے ، بدستور چلتے رہیں۔

قریش کے لیڈر یہ بھی جانتے تھے کہ دعوت اسلامی کی حقیقت کیا ہے ، وہ عرب تھے اور قرآن کے مضامین سے اچھی طرح واقف تھے۔ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا مفہوم و رماد کیا ہے ؟ اس کا مقصد یہ ہے کہ شہادت دینے والا تمام انسانوں کے اقتدار اور حاکمیت کا انکار کر رہا ہے۔ یہ اپنے آپ کو تمام انسانوں کی حاکمیت سے نکال رہا ہے اور یہ اعلان کر رہا ہے کہ آج سے وہ صرف اللہ کی بندگی اور حاکمیت میں داخل ہوگیا ہے۔ پھر وہ یہ بھی اعلان کر رہا ہے کہ آج سے نہ صرف اللہ کی بندگی اور حاکمیت میں داخل ہوگیا ہے۔ پھر وہ یہ بھی اعلان کر رہا ہے کہ آج سے وہ صرف اللہ کی بندگی اور حاکمیت میں داخل ہوگیا ہے۔ پھر وہ یہ بھی اعلان کر رہا ہے کہ آج کے بعد وہ ہر قسم کی ہدایات رسول اللہ ﷺ سے اخذ کرے گا۔ اب وہ ان لوگوں سے کوئی ہدایت نہ لے گا جو بتوں کے نام پر بات کرتے ہیں۔ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ جو لوگ یہ شہادت دے دیں وہ کلمہ پڑھتے ہی ریش کی غلامی ، ان کے اثر اور ان کے اقتدار سے کل جاتے ہیں وہ اس اجتماعی نظام کے کل پرزے بن جاتے ہیں جس کی قیادت حضرت محمد ﷺ کے ہاتھ میں ہے۔ یہ حضور کی قیادت و سیادت کے تابع اور مطیع ہوجاتے ہیں۔ خواہ وہ جس قبیلے کے افراد ہوں ان کا تعلق ولدیت اور معاشرت اس قبیلے سے ختم ہوجاتا ہے اور وہ جدید قیادت کے وفادار اور ذمہ دار بن جاتے ہیں جس کا نام قیادت محمدی ہے۔

یہ تھا کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا مفہوم۔ یہ مفہوم انہوں نے مکہ کی گلیوں میں چلتا پھرتا دیکھا تھا۔ وہ رات دن اس مفہوم سے خطرہ محسوس کرتے تھے۔ ان کا اجتماعی نظام ، ان کا قبائلی وجود اور ان کی قیادت و سیادت انہیں ختم ہوتی نظر آتی تھی۔

لا الہ اللہ محمد رسول اللہ کا وہ کمزور ، بےمقصد اور بےاثر مفہوم کبھی بھی نہ تھا جو آج ہم اس کلمے سے سمجھتے ہیں یہ زعم رکھتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں۔ محض اس لیے کہ ہم زبان سے کلمہ شہادت کو ادا کر رہے ہیں ار بعض مراسم عبودیت بھی بجا لاتے ہیں جبکہ زمین پر اقتدار اعلیٰ اور لوگوں کی زندگیوں میں اسلامی نظام کا اتہ پتہ ہی نہیں ہے۔ اسلامی معاشرے پر جاہلی قیادتیں اور جاہلیت کے پیروکار سربراہ حکمران ہیں اور اپنی مرضی سے تمام امور سر انجام دیتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ مکہ میں نہ تو اسلام کی حکومت نہیں ور نہ وہاں شریعت نافذ تھی۔ لیکن جو لوگ کلمہ طیبہ کا اقرار کرتے تھے وہ اپنی پوری قیادت و اختیارات حضور ﷺ کے ہاتھ میں دے دیتے تھے اور ان کی وفاداریاں خود اپنے معاشرے سے کٹ کر جماعت مسلمہ کے ساتھ وابستہ ہوجاتی تھیں۔ یہ لوگ نہ صرف یہ کہ جاہلی قیادت کا جوا اپنی گردنوں سے اتار پھینکتے تھے بلکہ یہ جاہلی اقدار سے باغی ہوجاتے تھے۔ اپنے قبیلے ، اپنے خاندان اور جاہلی قیادت سے فوراً کٹ جاتے تھے وہ کلمہ شہادت پڑھتے ہیں۔ لہذا ان لوگوں کی طرف سے کلمہ طیبہ محض خالی خولی بات ہی نہ تھی بلکہ وہ ایک مفہوم تھا اور وہ مفہوم جماعت مسلمہ کی زنگیوں میں نمودار ہوا کرتا تھا۔

یہ تھی وہ اصل بات جس سے قریش خوفزدہ تھے۔ وہ دیکھتے تھے کہ اسلام سیلاب کی طرح امنڈتا چلا آرہا ہے۔ اس سے قبل حنفاء کی بھی ایک جماعت تھی مشرکین کے عقائد اور اعمال سے علیحدہ رہتے تھے اور ان کی طرح عبادت بھی نہ کرتے تھے۔ اللہ کو وحدہ لا شریک سمجھتے تھے ، صرف اللہ کی عبادت کرتے تھے اور ان میں سے کوئی بھی بتوں کی عبادت نہ کرتا تھا۔ یہاں تک تو جو شخص جو رویہ چاہے اختیار کرے کوئی جاہلی نظام اسے نہ چھیڑے گا کیونکہ اس قدر رویہ اہل جاہلیت کے نظام کے لیے کوئی خطرہ نہ تھا۔ یہ تو محض مخالفانہ عقائد تھے اور ایک علیحدہ طریقہ عبادت تھا لیکن صرف یہ اسلام نہیں ہے جیسا کہ بعض پاکباز اور بھلائی پسند لوگ سمجھتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ وہ اچھے مسلمان بن گئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ بھولے بھالے لوگ ہیں اور انہیں معلوم ہی نہیں ہے کہ اسلام کی حقیقت کیا ہے۔ اسلام صرف درست کلمہ کی تلاوت کا نام نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ایک تحریک کا نام بھی ہے اور تحریک یہ کہ انسان فوراً جاہلی تصورات اور جاہلی معاشرے اور جاہلی قیادت کی گرفت سے باہر نکل آئے اور جاہلی قیادت کے قوانین و شریعت سے نکل کر اپنی پوری وفاداری کو اسلامی قیادت کے ساتھ وابستہ کردے جو کسی خطہ زمین پر اسلام کو عملاً نافذ کرنا چاہتی ہے۔ یہی وہ بات تھی جس کی وجہ سے قریش کے کبراٗ کی نیند حرام تھی اور وہ کانٹوں پر لوٹ رہے تھے۔ اور تحریک اسلامی کے خلاف قسم قسم کے حربے لے کر اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ ان حربوں میں سے ایک حربہ یہ بھی تھا کہ قرآن کریم کے بارے میں یہ شکوک پھیلائے جائیں کہ یہ پرانی کہانیاں ہی تو ہیں اور اگر وہ چاہیں تو ایسی کہانیاں تصنیف کرسکتے ہیں۔ لیکن اس سے قبل قرآن نے ان کو بار بار چیلنج دیا تھا اور وہ ایسا کوئی کلام پشی کرنے سے عاجز ہوگئے تھے۔ اساطیر کا واحد اسطورہ ہے۔ اس سے مراد وہ قصص ہیں جن کے اندر مذہبی خرافات بھی ہوں یعنی خداؤں کی کہانیاں ، پرانے لوگوں کے قصے ، اور مذہبی لیڈروں کی بہادریاں اور ایسے محیر العقول واقعات جو تخیلات پر مشتمل ہوں ، تخیل ان قصوں کا بنیادی عنصر ہوتا ہے۔

قریش قرآن کریم میں بیان کردہ اقوام سابقہ کے قصص کی نشاندہی کرکے ، ان میں سے معجزات کو لیتے اور اللہ تعالیٰ نے سابقہ زمانوں میں جھٹلانے والوں کے ساتھ جو سلوک کیا وہ واقعات لیتے اور مکہ کے غافل اور جاہل لوگوں کو یہ باور کراتے کہ تم خود پڑھو ، یہ پرانے قصے ہیں۔ یہ قصص محمد نے ان لوگوں سے اخذ کیے ہیں جو اس میدان کے باہر ہیں۔ اور مہارین سے لے کر وہ یہاں آ کر تمہارے سامنے پڑھتا ہے۔ اور یقین یہ رکھتا ہے کہ یہ اس پر وحی ہوتے ہیں۔ یوں نضر ابن الحارث خود رسول اللہ کی مجلس میں بیٹھ کر یہ باتیں کرتا یا حضور کی مجلس کے بالمقابل اپنی مجلس جماتا اور اس میں ایسی باتیں کرتا۔ اس میں اہل فارس کے پرانے تاریخی قصے بیان کرتا اور پھر لوگوں کو کہتا یہ دیکھو یہ بھی ویسے ہی قصص ہیں جیسے قرآن کریم بیان کرتا ہے۔ دیکھو ان قصوں کے بل بوتے پر وہ نبوت کا مدعی ہے اور میں یہ دعوی نہیں کرتا لیکن ہیں یہ دونوں صرف پرانے قصے۔

یہ تھی اس ملعون کی تقریر اور ضروری ہے کہ مکہ کے حلقوں میں خصوصاً ابتدائی دور میں ضرور اس کے کچھ اثرات بھی ہوں گے۔ اس ابتدائی دور میں جس میں ابھی تک قرآن کریم کے قصص اور فارس والوں کی پرانی کہانیوں کے درمیان فرق و امتیاز لوگوں کے ذہنوں میں واضح نہ ہوتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ حضور کے منادی نے معرکہ بدر سے قدرے پہلی یہ اعلان کروا دیا تھا کہ نضر ابن الحارث بچنے نہ پائے اور قتل کردیا جائے اور جب وہ اسیر ہو کر آیا تو آپ نے اسے قتل کرادیا اور اس سے فدیہ قبول نہ کیا جس طرح دوسرے قیدیوں سے قبول کیا تھا۔

لیکن ابتدائی حملے کے بعد مکہ میں یہ سب تدابیر بیکار ہوگئیں ، یہ اندر مخالفت جلد ہی ختم ہوگیا۔ اور لوگوں پر اس کی حقیقت کھل گئی۔ قرآن کریم کی چھا جانے والی قوت جو اسے اللہ کی جانب سے دی گئی ہے اور وہ قوت جو اس کے اندر پیش کردہ سچائی کے اندر پوشیدہ ہے وہ انسانی فطرت کو اپنے قبضے میں لے لیتی ہے۔ چناچہ اس کے مقابلے میں جلد ہی اس قسم کے ہتھکنڈے فیل ہوگئے اور اس کے مقابلے میں جلد ہی میدان صاف تھا۔ اب قریش حیرانی و رپیشانی کی حالت میں اپنی پالیسی بدلنے پر مجبور ہوگئے۔ پہلے تو وہ لوگوں کو دعوت موازنہ دیتے تھے۔ اب کہنے لگے لا تسمعوا لھذا القران والغو فیہ لعلکم تغلبون۔ اس قرآن کو مت سنو اور جب وہ پڑھا جا رہا ہو تو شور مچا ، شاید یہ کہ اس طرح تم غلبہ پا لو۔ لیکن ان میں نہایت ہی سرکردہ لوگ مثلاً ابوسفیان ، ابوجہل ، اور اخنس ابن شریق جیسے لوگ بھی اس حکم پر عمل نہ کرسکے اور وہ ایک دوسرے سے چھپ کر رات کو جاتے اور قرآن کی تلاوت سنتے۔ وہ رات کو تلاوت قرآن کے مقررہ وقت میں صبر نہ کرسکتے اور دوسروں سے چھپ کر پہنچ جاتے تھے۔ لیکن جب ان کا راز ایک دوسرے پر کھلا تو پھر انہوں نے کہا نہایت ہی سخت عہد کیا کہ ہر گز نہ آئیں گے ورنہ وہ قرآن کا شکار ہوجائیں گے۔

یہ بات یاد رہے کہ قرآن کے خلاف نضر ابن الحارث کی تحریک ختم نہیں ہوگئی اور نہ ہوگی اور نہ یہ کوئی آخری تحریک تھی۔ یہ تحریک بھی مختلف شکلوں میں انسانی تاریخ میں ہمیشہ رہی ہے۔ دین اسلام کے دشمنوں نے اہل اسلام کو ہمیشہ قرآن سے باز رکھنے کی سعی کی ہے۔ جب وہ اور طریقوں سے قرآن کو ختم نہ کرسکے تو انہوں نے اسے گانا شروع کردیا۔ قراٗ کرام اسے خوش الحانی سے پڑھتے ہیں اور یہ لوگ اس پر جھومتے ہیں اور انہوں نے اس کے احکام و آیا سے گنڈے اور تعویذ بنانے شروع کردیے۔ کسی نے بازو پر باندھ لیا ، کسی نے گلے میں لٹکا لیا اور کسی نے تکیے کے نیچے رک لیا۔ اور سمجھے کہ ہم تو مسلمان ہیں اور ہم نے قرآن کا حق ادا کردیا ہے اور اس طرح اس دین کا حق ادا ہوگیا ہے۔

آج صورت حالات یہ ہے کہ قرآن لوگوں کی زندگی کے لیے مصدر رشد و ہدایت نہیں ہے۔ دشمنان دین نے قرآن کے مقابلے میں بعض اور مصادر اور مراجع وضع کردیے ہیں جہاں سے لوگ ہدایات لیتے ہیں۔ یہ ان نئے مراجع سے اپنے تصورات ، اور مقاصد اخذ کرتے ہیں اور قوانین و ضوابط بھی یہ لوگ ان دوسرے مصادر سے لیتے ہیں۔ اقدار حیات اور حسن و قبح کے پیمانے بھی ان مصادر سے لیتے ہیں لیکن زبان سے یہ لوگ کہتے ہیں کہ دین اسلام محترم ہے۔ قرآن محفوظ ہے اور وہ صبح و شام لوگوں پر پڑھایا جاتا ہے۔ گانے والے اسے گاتے ہیں۔ قراٗ اس کی تلاوت کرتے ہیں اس ترنم اور اس ترتیل کے بعد آخر لوگ اور کیا چاہتے ہیں ؟ رہے تصورات اور مطالب ، حسن و قبح کے پیمانے اور اقدار حیات ، اجتماع نظم اور معاشرتی طور طریقے ، قوانین و ضوابط اور اصول و دستور تو مان کے بارے میں تو مسلمانوں نے کچھ اور قرآن گھڑ رکھے ہیں اور یہ لوگ اصل قرآن کی طرف لوٹتے ہی نہیں

کیا اس ہتھکنڈے اور نضر ابن الحارث کے ہتھکنڈوں میں کوئی فرق ہے ؟ ہاں جدید ہتھکنڈے جدید اسلوب میں ہیں۔ یہ اس کے مقابلے میں زیادہ پیچیدہ اور زیادہ پوشیدہ ہیں اور یہ جدید چالیں جدید پیچیدیگی زندگی میں زیادہ کامیاب ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ بھی ویسی ہی سازشیں ہیں جیسی قریش کرتے تھے یا اسلام کی طویل تاریخ میں ہوتی رہیں۔

لیکن قرآن کے بھی کیا کہنے ؟ یہ ایک عجیب کتاب ہے اس کی طویل تاریخ میں اسکے خلاف یہ کھیل اور پیچیدہ سازشیں ہوتی رہی ہیں لیکن آخر کار فتح قرآن ہی کی ہوتی ہے۔ یاد رکھو ، قآن کریم کی عجیب خصوصیات ہیں ، انسانی فطرت پر اس کی گرفت بہت ہی مضبوط ہے۔ اس کے خلاف یہود و ہنود اور انسانوں اور شیطانوں کی کوئی چال کامیاب نہیں ہوتی۔ آج اس کے خلاف جو عالمی سازشیں ہو رہی ہیں جن کا سر رشتہ عالمی یہودیت اور عالمی صیہونیت کے ہاتھ میں وہ جاری وساری ہیں اور قرآن غالب و ناصر ہے۔

یہ قرآن آج بھی اس پورے کرہ ارض پر اپنے دشمنوں کو شکست دے رہا ہے۔ یہ دشمن مجبور ہیں کہ اس کی تلاوت کو پوری دنیا میں نشر کریں۔ یہود و نصاری اور ہندو وغیرہ اسے اپنے میڈیا سے نشر کرتے ہیں اور یہودیوں اور عیسائیوں کے وہ ایجنٹ حکران بھی اسے نشریات کا حصہ بناتے ہیں ، وہ ایجنٹ جو مسمان ہونے کا دعویٰ بھی کرتے ہیں۔

بیشک یہ لوگ قرآن کو اپنی نشریات کا حصہ تو بناتے ہیں لیکن انہوں نے قرآن مجید کو محض قراٗت اور ترنم اور ترتیل کا ذریعہ بنا دیا ہے یا اس سے آگے اسے تعویذوں اور گنڈوں کے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ قرآن کریم کو انہوں نے مسلم فکر سے نکال دیا ہے اور اسے مسلمانوں کی فکر اور عملی راہنمائی کے مقام سے ہٹا دیا ہے مسلمانوں کی فکری اور عملی راہنمائی کے لیے ان دشمنوں نے جدید فلسفے اور نظریات گھڑ لیے ہیں لیکن یہ کتاب بدستور تمام سازشوں کا مقابلہ کر رہی ہے۔ یہ بدستور اپنا کام کر رہی ہے اور اس دنیا کے ہر حصے ایسے گروہ موجود ہیں جو اس کو اپنا صحیح مقام عطا کرنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ وہ جدوجہد کر رہے ہیں کہ یہ کتاب رشد و ہدایت کا مرجع ہو۔ یہ گروہ ہر جگہ مصروف کار ہیں اور اللہ کی جانب سے تائید و نصر کے طلبگار اور امیدوار ہیں کہ اللہ ان کو اس کرہ ارض کا اقتدار نصیب کرے اور قرآن کریم اپنے اصل مقام کو پالے۔ ایک موقع پہلے اگر یہ کامیاب ہوچکا ہے تو انشاء اللہ دوبارہ بھی ہوکر رہے گا۔ ان شاء اللہ۔

آیت 31 وَاِذَا تُتْلٰی عَلَیْہِمْ اٰیٰتُنَا قَالُوْا قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَآءُ لَقُلْنَا مِثْلَ ہٰذَآلا اِنْ ہٰذَآ اِلَّآ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ ۔تاریخ اور سیرت کی کتابوں میں یہ قول نضر بن حارث سے منسوب ہے۔ لیکن ان کی اس طرح کی باتیں صرف کہنے کی حد تک تھیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان لوگوں کو بار بار یہ چیلنج دیا گیا کہ اگر تم لوگ اس قرآن کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ نہیں سمجھتے تو تم بھی اسی طرح کا کلام بنا کرلے آؤ اور کسی ثالث سے فیصلہ کرا لو ‘ مگر وہ لوگ اس چیلنج کو قبول کرنے کی کبھی جرأت نہ کرسکے۔ اسی طرح پچھلی صدی تک عام مستشرقین بھی یہ الزام لگاتے رہے ہیں کہ محمد ﷺ نے تورات اور انجیل سے معلومات لے کر قرآن بنایا ہے ‘ مگر آج کل چونکہ تحقیق کا دور ہے ‘ اس لیے ان کے ایسے بےت کے الزامات خود بخود ہی کم ہوگئے ہیں۔

عذاب الٰہی نہ آنے کا سبب : اللہ کے رسول اور استغفار اللہ تعالیٰ مشرکوں کے غرور وتکبر، ان کی سرکشی اور ناحق شناسی کی، ان کی ضد اور ہٹ دھرمی کی حالت بیان کرتا ہے کہ جھوٹ موت بک دیتے ہیں کہ ہاں بھئی ہم نے قرآن سن لیا، اس میں رکھا کیا ہے۔ ہم خود قدر ہیں، اگر چاہیں تو اسی جیسا کلام کہہ دیں۔ حالانکہ وہ کہہ نہیں سکتے۔ اپنی عاجزی اور تہی دستی کو خوب جانتے، لیکن زبان سے شیخی بگھارتے تھے۔ جہاں قرآن سنا تو اس کی قدر گھٹانے کیلئے بک دیا جب کہ ان سے زبردست دعوے کے ساتھ کہا گیا کہ لاؤ اس جیسی ایک ہی سورت بنا کر لاؤ تو سب عاجز ہوگئے۔ پس یہ قول صرف جاہلوں کی خوش طبعی کیلئے کہتے تھے۔ کہا گیا ہے کہ یہ کہنے والا نصر بن حارث ملعون تھا۔ یہ خبیث فارس کے ملک گیا تو تھا اور رستم و اسفند یار کے قصے یاد کر آیا تھا۔ یہاں حضور کو نبوت مل چکی تھی آپ لوگوں کو کلام اللہ شریف سنا رہے ہوتے جب آپ فارغ ہوتے تو یہ اپنی مجلس جماتا اور فارس کے قصے سناتا، پھر فخراً کہتا کہو میرا بیان اچھا ہے یا محمد کا ؟ ﷺ۔ یہ بدر کے دن قید ہو کر لا یا گیا اور حضور کے فرمان سے آپ کے سامنے اس کی گردن ماری گئی فالحمدللہ اسے قید کرنے والے حضرت مقداد بن اسود ؓ تھے۔ قبہ بن ابی معیط، طعیمہ بن عدی، نصر بن حارث، یہ تینوں اسی قید میں قتل کئے گئے۔ حضرت مقداد بنے کہا بھی کہ یا رسول اللہ میرا قیدی ؟ آپ نے فرمایا یہ اللہ عزوجل کی کتاب کے بارے میں زبان درازی کرتا تھا۔ انہوں نے بعد از قتل پھر کہا کہ حضور میں جسے باندھ کر لایا ہوں ؟ آپ نے دعا کی کہ یا اللہ اپنے فضل سے مقداد کو غنی کر دے۔ آپ خوش ہوگئے اور عرض کیا کہ حضور یہی میرا مقصد اور مقصود تھا۔ اسی کے بارے میں یہ آیت اتری ہے۔ ایک روایت میں طعیمہ کی بجائے مطعم بن عدی کا نام ہے لیکن یہ غلط ہے بدر والے دن وہ تو زندہ ہی نہ تھا بلکہ حضور کا فرمان مروی ہے کہ اگر آج یہ زندہ ہوتا اور مجھ سے ان قیدیوں کو طلب کرتا تو میں اسے دے دیتا۔ اس لئے کہ طائف سے لوٹتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کو وہی اپنی پناہ میں مکہ میں لے گیا تھا۔ یہ کفار کہتے تھے کہ قرآن میں سوائے پہلے لوگوں کی لکھی ہوئی کہانیوں کے کیا دھرا ہے انہیں کو پڑھ پڑھ کر لوگوں کو سناتا رہتا ہے۔ حالانکہ یہ محض جھوت بات تھی جو انہوں نے گھڑ لی تھی اسی لئے ان کے اس قول کو نقل کر کے جناب باری نے فرمایا ہے کہ انہیں جواب دے کہ اسے تو آسمان و زمین کی تمام غائب باتوں کے جاننے والے نے اتارا ہے جو غفور بھی ہے اور رحیم بھی ہے۔ توبہ کرنے والوں کی خطائیں معاف فرماتا ہے، اپنے سامنے جھکنے والوں پر بڑے کرم کرتا ہے۔ پھر ان کی جہالت کا کرشمہ بیان ہو رہا ہے کہ چاہئے تو یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے کہ یا اللہ اگر یہ حق ہے تو ہمیں اس کی ہدایت دے اور اس کی اتباع کی توفیق نصیب فرما لیکن بجائے اس کے یہ دعا کرنے لگے کہ ہمیں جلد عذاب کر۔ بات یہ ہے کہ اللہ کی طرف سے ہر چیز کا وقت مقرر ہے ورنہ اس پر بھی عذاب آجاتا لیکن اگر تمہارا یہی حال رہا تو پھر بھی وہ دن دور نہیں اچانک ان کی بیخبر ی میں اپنے وقت پر آ ہی جائے گا۔ یہ تو کہا کرتے تھے کہ ہمارا فیصلہ فیصلے کے دن سے پہلے ہی ہوجائے گا بطور مذاق عذاب کے واقع ہونے کی درخوات کرتے تھے جو کافروں پر آنے ولاا ہے، جسے کوئی روک نہیں سکتا، جو اس اللہ کی طرف سے ہوگا جو سیڑھیوں والا ہے۔ اگلی امتوں کے جاہلوں کا بھی یہی وطیرہ رہا۔ قوم شعیب نے کہا تھا کہ اے مدعی نبوت اگر تو سجا ہے تو ہم پر آسمان کو گرا دے۔ اسی طرح ان لوگوں نے کہا۔ ابو جہل وعیرہ نے یہ دعا کی تھی جس کے جواب میں فرمایا گیا کہ رسول اللہ کی موجودگی اور انہی میں سے بعض کا استغفار اللہ کے عذاب کی ڈھال ہے۔ نصر بن حارث بن کلدہ نے بھی یہی دعا کی تھی جس کا ذکر سال سائل میں ہے ان کے اسی قول کا ذکر آیت وقالو ربنا عجل لنا الخ، میں ہے اور آیت ولقد جئتمونا فرادی الخ، میں ہے اور آیت سال سائل الخ، میں ہے۔ غرض دس سے اوپر اوپر آیتیں اس بیان میں ہیں۔ عمرو بن عاص جنگ احد میں اپنے گھوڑے پر سوار تھا اور کہہ رہا تھا کہ اے اللہ اگر محمد ﷺ کا لا یا ہوا دین حق ہے تو مجھے مریے گھورے سمیت زمین میں دھنسا دے گو اس امت کے بع وقوفوں نے یہ تمنا کی لیکن اللہ نے اس امت پر رحم فرمایا اور جواب دیا کہ ایک تو پیغمبر کی موجودگی عام عذاب سے مانع ہے دوسرے تم لوگوں کا استغفار۔ ابن عباس ؓ ما کا بیان ہے کہ مشرک حج میں طواف کے وقت کہتے تھے لبیک اللھم لبیک لبیک لا شریک لک اسی وقت رسول اللہ ﷺ فرماتے بس بس لیکن وہ پھر کہتے الا شریک ھو لک تملیکہ و ما ملک یعنی ہم حاضر ہیں اے اللہ تیرا کوئی شریک نہیں۔ پھر کہتے ہاں وہ شریک جو خود بھی تیری ملکیت میں ہیں اور جن چیزوں کو وہ مالک ہیں ان کا بھی اصل مالک تو ہی ہے اور کہتے غفوانک غفوانک اے اللہ ہم تجھ سے استغفار کرتے ہیں اے اللہ تو ہمیں معاف فرما۔ اسی طلب بخشش کو عذاب کے جلد نہ آنے کا سبب بتایا گیا ہے۔ فرماتے ہیں ان میں دو سبب تھے ایک تو نبی ﷺ دوسرے استغفار پس آپ تو چل دیئے اور استغفار باقی رہ گیا قرشی آپس میں کہا کرتے تھے کہ محمد ﷺ کو اللہ نے ہم میں سے ہم پر بزرگ بنایا اے اللہ اگر یہ سچا ہے تو تو ہمیں عذاب کر۔ جب ایمان لائے تو اپنے اس قول پر بڑا ہی نادم ہوئے اور استغفار کیا اسی کا بیان دوسری آیت میں ہے۔ پس انبیاء کی موجودگی میں قوموں پر عذاب نہیں آتا ہاں وہ نکل جائیں پھر عذاب برس پڑتے ہیں اور چونکہ ان کی قسمت میں ایمان تھا اور بعد از ایمان وہ استغفار اہل مکہ کے لئے باعث امن وامان تھا۔ ان دو وجہ امن میں سے ایک تو اب نہ رہا دوسرا اب بھی موجود ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ مجھ پر دو امن میری امت کیلئے اترے ہیں ایک میری موجودگی دوسرے ان کا استغفار پس جب میں چلا جاؤ گا تو استغفار قیامت تک کیلئے ان میں چھوڑ جاؤں گا۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ شیطان نے کہا اے اللہ مجھے تیری عزت کی قسم میں تو جب تک تیرے بندوں کے جسم میں روح ہے انہیں بہکاتا رہوں گا۔ اللہ عزوجل نے فرمایا مجھے بھی میری جلالت اور میری بزرگی کی قسم جب تک وہ مجھ سے استغفار کرتے رہیں گے میں بھی انہیں بخشتا رہوں گا (مستدرک حاکم) مسند احمد میں ہی رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں بندہ اللہ کے عذابوں سے امن میں رہتا ہے جب تک وہ اللہ عزوجل سے استغفار کرتا ہے۔

آیت 31 - سورۃ الانفال: (وإذا تتلى عليهم آياتنا قالوا قد سمعنا لو نشاء لقلنا مثل هذا ۙ إن هذا إلا أساطير الأولين...) - اردو