اب ذرا ان کفار کے طرز عمل کو دیکھو یہ لوگ اپنے اموال اس مقصد کے لیے صرف کرتے ہیں کہ لوگوں کو راہ خدا سے روکیں۔ بدر میں ان کے مقاصد کیا تھے ، یہی کہ اس جنگ سے ان کے پیش نظر صرف یہ تھا کہ اس گروہ کو ختم کر کے دین داری کی تحریک کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے جس طرح پہلے کیا گیا۔ بدر کے بعد بھی ان کی سوچ یہی رہی۔ اللہ تعالیٰ انہیں خبر دار فرماتے ہیں کہ آخر کار تم نے ناکام ہونا ہے اور تمہیں اپنے رویے پر بےحد افسوس ہوگا اس لیے کہ تم نے دنیا میں شکست سے دوچار ہونا ہے اور آخرت میں تمہارے لیے دردناک عذاب ہوگا۔
محمد بن اسحاق نے زہری وغیرہ سے نقل کیا ہے۔ ان لوگوں نے کہا کہ جب قریش کو بدر میں شکست ہوئی اور ان کا یہ شکست خوردہ لشکر مکہ پہنچا اور ابو سفیان قافلے کو لے کر وہاں پہنچا تو عبداللہ بن ربیعہ ، عکرمہ ابن ابوجہل ، صفوان ابن امیہ چند دوسرے لوگوں کو لے کر ان لوگوں کے گھروں میں گئے جن کے آباء اور اولاد اور بھائی اس جنگ میں قتل ہوئے تھے۔ ان لوگوں نے ابو سفیان ابن حرب اور ان تمام لوگوں سے بات چیت کی جن کے اموال اس قافلے میں تھے۔ انہوں نے کہا کہ اے اہل قریش ، محمد نے تم سے خوب بدلہ لیا اور اس میں حد سے بڑھ گئے۔ اور تمہارے بہترین لوگوں کو قتل کیا۔ لہذا تم قافلہ تجارت کے اموال چندے میں دے دو تاکہ ہم بدر کا بدلہ لے سکیں۔ انہوں نے یہ تجویز قبول کرلی۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ انہی لوگوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے۔
اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ ۔ یہ جو بدر میں ہوا یا بدر کے بعد ہوا یہ دین کے دشمنوں کا معمولی حربہ ہے۔ یہ لوگ اپنے اموال اور اپنی قوتوں کو دین کی بیخ کنی کے لیے خرچ کرتے ہیں۔ لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں۔ دین کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں اور یہ لوگ ہر جگہ اور ہر دور میں اسلام کے خلاف جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
یہ معرکہ ختم نہیں ہوا ہے ، دین کے دشمن کسی بھی وقت آرام سے نہیں بیٹھے اور انہوں نے کبھی ایک لمحہ بھر کے لیے بھی ، حامیان دین کو آرام سے بیٹھنے نہیں دیا۔ اس لیے کہ اس دین کی واحد راہ ہی یہی ہے کہ وہ متحرک رہے اور جاہلیت پر ہجوم کرے۔ اہل دین کی صفت اور نصب العین ہی یہی ہوتا ہے کہ وہ ہر وقت متحرک رہیں اور اہل جاہلیت کی کمر توڑ کر رکھ دیں۔ اللہ کے جھنڈے کو اس قدر بلند اور غالب کردیں کہ کسی دشمن دین کو اس کی طرف دیکھنے کی جرات نہ ہو۔
اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو خبردار فرماتے ہیں جو اپنے مال دین کی راہ روکنے میں صرف کرتے ہیں ان کا یہ فعل ان کے لیے حیرت کا باعث ہوگا۔ یہ تمام نفقات جلد ہی اکارت جائیں گے اور اہل حق اسی دنیا میں غالب و فتح یاب ہوں گے اور آخرت میں تو یہ لوگ جہنم کی طرف رواں دواں ہوں گے اور یہ ان کے لیے عظیم حیرت ہوگی۔
آیت 36 اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَہُمْ لِیَصُدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ط۔قریش کی طرف سے لشکر کی تیاری ‘ سازو سامان کی فراہمی ‘ اسلحہ کی خریداری ‘ اونٹوں ‘ گھوڑوں اور راشن وغیرہ کا بندوبست بھی اس قسم کے انفاق فی سبیل الشیطان اور فی سبیل الشرک کی مثال ہے۔ وہ لوگ گویا شیطان کے راستے کے مجاہدین تھے اور اللہ کی مخلوق کو اس کے راستے سے روکنا ان کا مشن تھا۔ فَسَیُنْفِقُوْنَہَا ثُمَّ تَکُوْنُ عَلَیْہِمْ حَسْرَۃً ثُمَّ یُغْلَبُوْنَ ط۔ یہ خرچ کرنا ان کے لیے موجب حسرت ہوگا اور یہ پچھتاوا ان کی جانوں کا روگ بن جائے گا کہ اپنا مال بھی کھپا دیا ‘ جانیں بھی ضائع کردیں ‘ لیکن اس پوری کوشش کے باوجود محمد ﷺ کا بال بھی بیکا نہ کرسکے۔ ان کی یہ حسرتیں اس وقت اور بھی بڑھ جائیں گی جب وَقُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَزَہَقَ الْبَاطِلُط اِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَہُوْقًا۔ بنی اسرائیل کی تفسیر عملی طور پر ان کے سامنے آجائے گی اور وہ مغلوب ہو کر اہل حق کے سامنے ان کے رحم و کرم کی بھیک مانگ رہے ہوں گے۔وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِلٰی جَہَنَّمَ یُحْشَرُوْنَ یعنی ان میں سے جو لوگ ایمان لے آئیں گے اللہ تعالیٰ انہیں معاف کر دے گا ‘ اور جو کفر پر اڑے رہیں گے اور کفر پر ہی ان کی موت آئے گی تو ایسے لوگ جہنم کا ایندھن بنیں گے۔
شکست خوردہ کفار کی سازشیں قریشیوں کو بدر میں شکست فاش ہوئی، اپنے مردے اور اپنے قیدی مسلمانوں کے ہاتھوں میں چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ ابو سفیان اپنا قافلہ اور مال و متاع لے کر پہنچا تو عبداللہ بن ابی ربیعہ، عکرمہ بن ابی جہل، صفوان بن امیہ اور وہ لوگ جن کے عزیز و اقارب اس لڑائی میں کام آئے تھے ابو افیسان کے پاس پہنچے اور کہا کہ آپ دیکھتے ہیں ہماری کیا درگت ہوئی ؟ اب اگر آپ رضامند ہوں تو یہ سارا مال روک لیا جائے اور اسی خزانے سے دوسری جنگ کی تیاری وسیع پیمانے پر کی جائے اور انہیں مزا چکھا دیا جائے چناچہ یہ بات مان لی گئی اور پختہ ہوگئ، اسی پر یہ آیت اتری کہ خرچ کرو ورنہ یہ بھی غارت جائے گا اور دوبارہ منہ کی کھاؤ گے ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ آیت بھی بدر کے بارے میں اتری ہے۔ الفاظ آیت کے عام ہیں گو سبب نزول خاص ہو حق کو روکنے کے لئے جو بھی مال خرچ کرے وہ آخر ندامت کے ساتھ رہ جائے گا۔ دین کا چراغ انسانی پھونکوں سے بجھ نہیں سکتا۔ اس خواہش کا انجام نامرادی ہی ہے۔ خود اللہ اپنے دین کا ناصر اور حافظ ہے۔ اس کا کلمہ بلند ہوگا، اس کا بول بالا ہوگا، اس کا دین غالب ہوگا کفار منہ دیکھتے رہ جائیں گے۔ دنیا میں الگ رسوائی اور ذلت ہوگی آخرت میں الگ بربادی اور خواری ہوگی۔ جیتے جی یا تو اپنے سامنے اپنی پستی ذلت نکبت و ادبار اور خوری دیکھ لیں گے یا مرنے پر عذاب نار دیکھ لیں گے۔ پستی و غلامی کی مار اور شکست ان کے ماتھے پر لکھ دی گئی ہے۔ پھر آخری ٹھکانا جہنم ہے تاکہ اللہ شقی اور سعید کو الگ الگ کر دے۔ برے اور بھلے کو ممتاز کر دے یہ تفریق اور امتیاز آخرت میں ہوگی اور دنیا میں بھی۔ فرمان ہے ثم نقول للذین اشر کو الخ، قیامت کے دن ہم کافروں سے کہیں گے کہ تم اور تمہارے معبود یہیں اسی جگہ ٹھہرے رہو اور آیت میں ہے قیامت کے دن یہ سب جدا جدا ہوجائیں گے اور آیت میں ہے اس دن یہ ممتاز ہوجائیں گے اور آیت میں ہے وامتازو الیوم ایھا المجرمون اے گنہگارو تم آج نیک کاروں سے الگ ہوجاؤ۔ اسی طرح دنیا میں بھی ایک دوسرے سے بالکل ممتاز تھے۔ مومنوں کے اعمال ان کے اپنے ہیں اور ان سے بالکل جدا گانہ لام لام تو لیل ہوسکتا ہے یعنی کافر اپنے مالوں کو اللہ کی راہ کی روک کیلئے خرچ کرتے ہیں تاکہ مومن و کافر میں علیحدگی ہوجائے کہ کون اللہ کا فرمانبردار ہے اور کون نافرمانی میں ممتاز ہے ؟ چناچہ فرمان ہے وما اصابکم یوم التقی الجمعان الخ، یعنی دونوں لشکروں کی مڈ بھیڑ کے وقت جو کچھ تم سے ہوا وہ اللہ کے حکم سے تھا تاکہ مومنوں اور منافقوں میں تمیز ہوجائے ان سے جب کہا گیا کہ آؤ راہ حق میں جہاد کرو یا دشمنوں کو دفع کرو تو انہوں نے جواب دیا کہ اگر ہم فنون جنگ سے واقف ہوتے تو ضرور تمہارا ساتھ دیتے اور آیت میں ہے ماکان اللہ لیذر المومنین علی ماانتم علیہ الخ، یعنی اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری موجودہ حالتوں پر ہی چھوڑنے والا نہیں وہ پاک اور پلید کو علیحدہ علیحدہ کرنے والا ہے۔ یہ ہی نہیں کہ اللہ تمہیں اپنے غیب پر خبردار کر دے۔ فرمان ہے ام جسبتم ان تدخلوا الجنتہ الخ، کیا تم یہ گمان کئے بیٹھے ہو کہ یونہی جنت میں چلے جاؤ گے حالانکہ اب تک تو اللہ نے تم میں سے مجاہدین کو اور صبر کرنے والوں کو کھلم کھلا نہیں کیا۔ سورة برات میں بھی اسی جیسی آیت موجود ہے تو مطلب یہ ہوا کہ ہم نے تمہیں کافروں کے ہاتھوں میں اس لئے مبتلا کیا ہے اور اس لئے انہیں اپنے مال باطل میں خرچ کرنے پر لگایا ہے کہ نیک و بد کی تمیز ہوجائے۔ خبیث کو خبیث سے ملا کر جمع کر کے جہنم میں ڈال دے۔ دنیا و آخرت میں یہ لوگ برباد ہیں۔