سورۃ الانفال (8): آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں۔ - اردو ترجمہ

اس صفحہ میں سورہ Al-Anfaal کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الأنفال کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔

سورۃ الانفال کے بارے میں معلومات

Surah Al-Anfaal
سُورَةُ الأَنفَالِ
صفحہ 181 (آیات 34 سے 40 تک)

وَمَا لَهُمْ أَلَّا يُعَذِّبَهُمُ ٱللَّهُ وَهُمْ يَصُدُّونَ عَنِ ٱلْمَسْجِدِ ٱلْحَرَامِ وَمَا كَانُوٓا۟ أَوْلِيَآءَهُۥٓ ۚ إِنْ أَوْلِيَآؤُهُۥٓ إِلَّا ٱلْمُتَّقُونَ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ وَمَا كَانَ صَلَاتُهُمْ عِندَ ٱلْبَيْتِ إِلَّا مُكَآءً وَتَصْدِيَةً ۚ فَذُوقُوا۟ ٱلْعَذَابَ بِمَا كُنتُمْ تَكْفُرُونَ إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ يُنفِقُونَ أَمْوَٰلَهُمْ لِيَصُدُّوا۟ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ ۚ فَسَيُنفِقُونَهَا ثُمَّ تَكُونُ عَلَيْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ يُغْلَبُونَ ۗ وَٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ إِلَىٰ جَهَنَّمَ يُحْشَرُونَ لِيَمِيزَ ٱللَّهُ ٱلْخَبِيثَ مِنَ ٱلطَّيِّبِ وَيَجْعَلَ ٱلْخَبِيثَ بَعْضَهُۥ عَلَىٰ بَعْضٍ فَيَرْكُمَهُۥ جَمِيعًا فَيَجْعَلَهُۥ فِى جَهَنَّمَ ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْخَٰسِرُونَ قُل لِّلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ إِن يَنتَهُوا۟ يُغْفَرْ لَهُم مَّا قَدْ سَلَفَ وَإِن يَعُودُوا۟ فَقَدْ مَضَتْ سُنَّتُ ٱلْأَوَّلِينَ وَقَٰتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ ٱلدِّينُ كُلُّهُۥ لِلَّهِ ۚ فَإِنِ ٱنتَهَوْا۟ فَإِنَّ ٱللَّهَ بِمَا يَعْمَلُونَ بَصِيرٌ وَإِن تَوَلَّوْا۟ فَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ مَوْلَىٰكُمْ ۚ نِعْمَ ٱلْمَوْلَىٰ وَنِعْمَ ٱلنَّصِيرُ
181

سورۃ الانفال کو سنیں (عربی اور اردو ترجمہ)

سورۃ الانفال کی تفسیر (تفسیر بیان القرآن: ڈاکٹر اسرار احمد)

اردو ترجمہ

لیکن اب کیوں نہ وہ ان پر عذاب نازل کرے جبکہ وہ مسجد حرام کا راستہ روک رہے ہیں، حالانکہ وہ اس مسجد کے جائز متولی نہیں ہیں اس کے جائز متولی تو صرف اہلِ تقویٰ ہی ہو سکتے ہیں مگر اکثر لوگ اس بات کو نہیں جانتے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wama lahum alla yuAAaththibahumu Allahu wahum yasuddoona AAani almasjidi alharami wama kanoo awliyaahu in awliyaohu illa almuttaqoona walakinna aktharahum la yaAAlamoona

اردو ترجمہ

بیت اللہ کے پاس ان لوگوں کی نماز کیا ہوتی ہے، بس سیٹیاں بجاتے اور تالیاں پیٹتے ہیں پس اب لو، اِس عذاب کا مزہ چکھو اپنے اُس انکارِ حق کی پاداش میں جو تم کرتے رہے ہو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wama kana salatuhum AAinda albayti illa mukaan watasdiyatan fathooqoo alAAathaba bima kuntum takfuroona

آیت 35 وَمَا کَانَ صَلاَتُہُمْ عِنْدَ الْبَیْتِ الاَّ مُکَآءً وَّتَصْدِیَۃً ط۔قریش مکہ نے اپنی عبادات کا حلیہ اس طرح بگاڑا تھا کہ اپنی نماز میں سیٹیوں اور تالیوں جیسی خرافات بھی شامل کر رکھی تھیں۔ اسی طرح خانہ کعبہ کا سب سے اعلیٰ طواف ان کے نزدیک وہ تھا جو بالکل برہنہ ہو کر کیا جاتا۔فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا کُنْتُمْ تَکْفُرُوْنَ ۔یہاں واضح کردیا گیا کہ اللہ کا عذاب صرف آسمان سے پتھروں کی صورت ہی میں نہیں آیا کرتا بلکہ غزوۂ بدر میں ان کی فیصلہ کن شکست ان کے حق میں اللہ کا عذاب ہے۔

اردو ترجمہ

جن لوگوں نے حق کو ماننے سے انکار کیا ہے وہ اپنے مال خدا کے راستے سے روکنے کے لیے صرف کر رہے ہیں اور ابھی اور خرچ کرتے رہیں گے مگر آخر کار یہی کوششیں ان کے لیے پچھتاوے کا سبب بنیں گی، پھر وہ مغلوب ہوں گے، پھر یہ کافر جہنم کی طرف گھیر لائے جائیں گے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Inna allatheena kafaroo yunfiqoona amwalahum liyasuddoo AAan sabeeli Allahi fasayunfiqoonaha thumma takoonu AAalayhim hasratan thumma yughlaboona waallatheena kafaroo ila jahannama yuhsharoona

آیت 36 اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَہُمْ لِیَصُدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ط۔قریش کی طرف سے لشکر کی تیاری ‘ سازو سامان کی فراہمی ‘ اسلحہ کی خریداری ‘ اونٹوں ‘ گھوڑوں اور راشن وغیرہ کا بندوبست بھی اس قسم کے انفاق فی سبیل الشیطان اور فی سبیل الشرک کی مثال ہے۔ وہ لوگ گویا شیطان کے راستے کے مجاہدین تھے اور اللہ کی مخلوق کو اس کے راستے سے روکنا ان کا مشن تھا۔ فَسَیُنْفِقُوْنَہَا ثُمَّ تَکُوْنُ عَلَیْہِمْ حَسْرَۃً ثُمَّ یُغْلَبُوْنَ ط۔ یہ خرچ کرنا ان کے لیے موجب حسرت ہوگا اور یہ پچھتاوا ان کی جانوں کا روگ بن جائے گا کہ اپنا مال بھی کھپا دیا ‘ جانیں بھی ضائع کردیں ‘ لیکن اس پوری کوشش کے باوجود محمد ﷺ کا بال بھی بیکا نہ کرسکے۔ ان کی یہ حسرتیں اس وقت اور بھی بڑھ جائیں گی جب وَقُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَزَہَقَ الْبَاطِلُط اِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَہُوْقًا۔ بنی اسرائیل کی تفسیر عملی طور پر ان کے سامنے آجائے گی اور وہ مغلوب ہو کر اہل حق کے سامنے ان کے رحم و کرم کی بھیک مانگ رہے ہوں گے۔وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِلٰی جَہَنَّمَ یُحْشَرُوْنَ یعنی ان میں سے جو لوگ ایمان لے آئیں گے اللہ تعالیٰ انہیں معاف کر دے گا ‘ اور جو کفر پر اڑے رہیں گے اور کفر پر ہی ان کی موت آئے گی تو ایسے لوگ جہنم کا ایندھن بنیں گے۔

اردو ترجمہ

تاکہ اللہ گندگی کو پاکیزگی سے چھانٹ کر الگ کرے اور ہر قسم کی گندگی کو ملا کر اکٹھا کرے پھر اس پلندے کو جہنم میں جھونک دے یہی لوگ اصلی دیوالیے ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Liyameeza Allahu alkhabeetha mina alttayyibi wayajAAala alkhabeetha baAAdahu AAala baAAdin fayarkumahu jameeAAan fayajAAalahu fee jahannama olaika humu alkhasiroona

اردو ترجمہ

اے نبیؐ، ان کافروں سے کہو کہ اگر اب بھی باز آ جائیں تو جو کچھ پہلے ہو چکا ہے اس سے درگزر کر لیا جائے گا، لیکن اگر یہ اسی پچھلی روش کا اعادہ کریں گے تو گزشتہ قوموں کے ساتھ جو کچھ ہو چکا ہے وہ سب کو معلوم ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qul lillatheena kafaroo in yantahoo yughfar lahum ma qad salafa wain yaAAoodoo faqad madat sunnatu alawwaleena

آیت 38 قُلْ لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِنْ یَّنْتَہُوْا یُغْفَرْ لَہُمْ مَّا قَدْ سَلَفََ ج۔یعنی اب بھی موقع ہے کہ ایمان لے آؤ تو تمہاری پہلی تمام خطائیں معاف کردی جائیں گی۔وَاِنْ یَّعُوْدُوْا فَقَدْ مَضَتْ سُنَّتُ الْاَوَّلِیْنَ ۔انہیں سب معلوم ہے کہ جن قوموں نے اپنے رسولوں کا انکار کیا تھا ان کا کیا انجام ہو اتھا۔ سورة الانفال سے پہلے مکی قرآن تو پورے کا پورا نازل ہوچکا تھا ‘ سورة الانعام اور سورة الاعراف بھی نازل ہوچکی تھیں۔ لہٰذا قوم نوح علیہ السلام ‘ قوم ہود علیہ السلام ‘ قوم صالح علیہ السلام ‘ قوم شعیب علیہ السلام اور قوم لوط علیہ السلام کے عبرتناک انجام کی تفصیلات سب کو معلوم ہوچکی تھیں۔

اردو ترجمہ

اے ایمان لانے والو، ان کافروں سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین پورا کا پورا اللہ کے لیے ہو جائے پھر اگر وہ فتنہ سے رُک جائیں تو ان کے اعمال کا دیکھنے والا اللہ ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waqatiloohum hatta la takoona fitnatun wayakoona alddeenu kulluhu lillahi faini intahaw fainna Allaha bima yaAAmaloona baseerun

آیت 39 وَقَاتِلُوْہُمْ حَتّٰی لاَ تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ وَّیَکُوْنَ الدِّیْنُ کُلُّہٗ لِلّٰہِ ج۔یہی حکم سورة البقرۃ کی آیت 193 میں بھی آچکا ہے۔ البتہ یہاں اس کے الفاظ میں کُلُّہٗکی اضافی شان اور مزید تاکید پائی جاتی ہے۔ یعنی اے مسلمانو ! تمہاری تحریک کو شروع ہوئے پندرہ برس ہوگئے۔ اس دوران میں دعوت ‘ تنظیم ‘ تربیت اور صبر محض کے مراحل کامیابی سے طے ہوچکے ہیں۔ چناچہ اب passive resistance کا دور ختم سمجھو۔ نبی اکرم ﷺ کی طرف سے اقدام active resistance کا آغاز ہوچکا ہے اور اس اقدام کے نتیجے میں اب یہ تحریک مسلح تصادم armed conflict کے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ لہٰذا جب ایک دفعہ تلواریں تلواروں سے ٹکرا چکی ہیں تو تمہاری یہ تلواریں اب واپس نیاموں میں اس وقت تک نہیں جائیں گی جب تک یہ کام مکمل نہ ہوجائے اور اس کام کی تکمیل کا تقاضا یہ ہے کہ فتنہ بالکل ختم ہوجائے۔ فتنہ کسی معاشرے کے اندر باطل کے غلبے کی کیفیت کا نام ہے جس کی وجہ سے اس معاشرے کے لوگوں کے لیے ایمان پر قائم رہنا اور اللہ کے احکامات پر عمل کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ لہٰذا یہ جنگ اب اس وقت تک جاری رہے گی جب تک باطل مکمل طور پر مغلوب اور اللہ کا دین پوری طرح سے غالب نہ ہوجائے۔ اللہ کے دین کا یہ غلبہ جزوی طور پر بھی قابل قبول نہیں بلکہ دین کل کا کل اللہ کے تابع ہونا چاہیے۔

اردو ترجمہ

اور اگر وہ نہ مانیں تو جان رکھو کہ اللہ تمہارا سرپرست ہے اور وہ بہترین حامی و مدد گار ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wain tawallaw faiAAlamoo anna Allaha mawlakum niAAma almawla waniAAma alnnaseeru
181