سورۃ الانفال: آیت 47 - ولا تكونوا كالذين خرجوا من... - اردو

آیت 47 کی تفسیر, سورۃ الانفال

وَلَا تَكُونُوا۟ كَٱلَّذِينَ خَرَجُوا۟ مِن دِيَٰرِهِم بَطَرًا وَرِئَآءَ ٱلنَّاسِ وَيَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ ۚ وَٱللَّهُ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطٌ

اردو ترجمہ

اور اُن لوگوں کے سے رنگ ڈھنگ نہ اختیار کرو جو اپنے گھروں سے اِتراتے اور لوگوں کو اپنی شان دکھاتے ہوئے نکلے اور جن کی روش یہ ہے کہ اللہ کے راستے سے روکتے ہیں جو کچھ وہ کر رہے ہیں وہ اللہ کی گرفت سے باہر نہیں ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wala takoonoo kaallatheena kharajoo min diyarihim bataran wariaa alnnasi wayasuddoona AAan sabeeli Allahi waAllahu bima yaAAmaloona muheetun

آیت 47 کی تفسیر

یہ ہدایات امت مسلمہ اور جماعت مجاہدین کی تطہیر کے لیے دی جا رہی ہیں کہ وہ قتال اور جہاد میں شرکت ایسے حالات میں نہ کریں کہ اپنی قوت اور کثرت پر اترا رہے ہوں اور اپنی قوت کو جو انہیں اللہ نے عطا کی ہے ان راہوں میں خرچ نہ کریں جن کے بارے میں اللہ کا حکم نہیں ہے۔ کیونکہ مومنین کے دستے قتال فی سبیل اللہ کے لیے نکلتے ہیں ، ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کی زندگیوں میں اللہ کی بادشاہت نافذ ہو۔ لوگ صرف اللہ کے غلام ہوں اور یہ اس لیے علم جہاد بلند کرتے ہیں کہ ان تمام طاغوتی طاقتوں کو کرش کرکے رکھ دیں جنہوں نے لوگوں کو اپنا غلام بنا کر رکھا ہوا ہے اور جو طاقتیں زمین پر خدا کے مقابلے میں اپنی الوہیت قائم کر رہی ہیں حالانکہ اللہ کی جانب سے ان کو ایسا کرنے کی کوئی اجازت نہیں ہے۔ نہ اللہ کی شریعت ان کے اس فعل کو تسلیم کرتی ہے۔ یہ علم اس لیے بلند ہوتا ہے کہ پورے کرہ ارض کے تمام انسانوں کو ہر قسم کی غلامی سے آزاد کردیا جائے ، کیونکہ یہ غلامیاں انسان کی کرامت اور شرافت کے خلاف ہیں اور اسلامی دستے جہاد و قتال کے لیے نکلتے ہی اس لیے ہیں کہ لوگوں کی شرافت اور ان کی آزادی کا تحفظ ہو۔ ان کا مقصد اپنا اقتدار قائم کرنا ، زمین میں علو حاصل کرنا نہیں ہوتا۔ نہ ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو اپنا غلام بنائیں یا اتراتے پھریں اور انہیں اللہ نے جو قوت دی ہے اسے غلط مد میں صرف کریں۔ اس طرح اسلامی دستوں کے مقاصد میں ذاتی مقاصد کا کوئی حصہ نہیں ہوتا اور اگر انہیں نصرت نصیب ہوتی ہے اور وہ غالب ہوجاتے ہیں تو انہوں نے امتثال امر کیا ہوتا ہے ، اسلامی نظام حیات قائم کرتے ہیں ، اللہ کا کلمہ بلند کرتے ہیں اور اللہ کے فضل اور اس کی رضا مندی کے طلبگار ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ معرکے کے نتیجے میں جو اموال غنیمت ملتے ہیں ، وہ ان سے بھی بےنیاز ہوتے ہیں۔

کون اترا کر نکلا تھا ، کون لوگوں کے سامنے اپنی قوت کی نمائش کر رہا تھا ؟ اور کون لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتا تھا ، یہ لوگ مسلمانوں کی آنکھوں کے سامنے تھے۔ یہ قریش کے لشکر کی شکل میں موجود تھے۔ جس طرح کہ یہ لشکر نکلا تھا۔ اور جو قریش فخر و مباہات کے ساتھ نکلے تھے ، ان کا انجام بھی مسلمانوں کے سامنے تھا اور جس طرح ذلیل و خوار ٹوٹ پھوٹ کا وہ شکار ہوچکے تے وہ بھی اہل اسلام کے سامنے تھی۔ اللہ تعالیٰ نے خود دستوں سے جو خطاب کیا اس کا مصداق ان کے سامنے تھا۔ ذرا دوبارہ ملاحظہ فرمائیں۔

وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِيَارِهِمْ بَطَرًا وَّرِئَاۗءَ النَّاسِ وَيَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭوَاللّٰهُ بِمَا يَعْمَلُوْنَ مُحِيْطٌ۔ اور ان لوگوں کے سے رنگ ڈھنگ نہ اختیار کرو جو اپنے گھروں سے اتراتے اور لوگوں کو اپنی شان دکھاتے ہوئے نکلے اور جن کی روش یہ ہے کہ اللہ کے راستے سے روکتے ہیں ، جو کچھ وہ کر رہے ہیں ، وہ اللہ کی گرفت سے باہر نہیں ہے۔

اترانا اور شان دکھانا اور اللہ کے راستے سے روکنا ، یہ سب امور ابوجہل کے اس تبصرے سے ظاہر ہوتے ہیں۔ ابوجہل کے پاس جب ابوسفیان کا پیغام آیا ہے کہ میں ساحل کی جانب سے بچ کر نکل آیا ہوں اور آپ اپنے لشکر کو لے کر واپس ہوجائیں اس لیے کہ تمہیں محمد اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ لڑنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ قریش کی حالت یہ تھی کہ وہ ساتھ گانے والی لونڈیوں کو بھی لے کر چلے تھے۔ راستے پر گاتے بجاتے اور مویشی کاٹتے اور شراب و کباب کے دور چلاتے ہوئے آ رہے تھے۔ ابوجہل نے اس پیغام کے جواب میں کہا : " ہم اس وقت تک واپس نہ ہوں گے جب تک ہم بدر کے میدان میں پہنچ نہ جائیں ، تین دن قیام نہ کریں ، جانور نہ کاٹیں ، شراب نہ پئیں اور گانے بجانے کی محفلیں منعقد نہ کریں ، اگر ہم نے ایسا کیا تو تمام عرب ہم سے خوف کھائیں گے۔ جب ابو سفیان کا ایلچی واپس ہوا اور ابوجہل کا جواب پہنچایا تو ابوسفیان نے کہا : " افسوس کہ میری قوم کا کیا بنے گا ! یہ ابوجہل کی حرکت ہے۔ اس نے واپسی کو نہ پسند کیا کیونکہ ہی قوم کا لیڈر تھا ، اور اس نے سرکشی اختیار کی۔ سرکشی بہرحال ایک نقص ہے اور شگون بد ہے۔ اگر محمد نے اس لشکر کو کرش کردیا تو ہم ہمیشہ کے لیے ذلیل ہوجائیں گے۔ ابو سفیان کی فرات درست نکلی۔ حضرت محمد ﷺ اور آپ کے ساتھیوں نے اس لشکر کو تہس نہس کردیا اور اس اترانے کی وجہ سے لشکر کفار ذلیل ہوا ، اس لیے کہ وہ سرکشی ، دکھاوے اور راہ خدا کو روکنے کے مقاصد لیے ہوئے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ بدر میں ان کی کمر ٹوٹ گئی۔ واللہ بما یعملون محیط۔ " جو کچھ وہ کر رہے ہیں وہ اللہ کی گرفت میں ہے " اللہ سے ان کی کوئی تدبیر بچ کر نہیں نکل سکتی۔ ان کی کوئی قوت اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ ان کی قوت اور ان کا علم سب کچھ اس کی گرفت میں ہے۔

اس سے آگے بیان کیا جاتا ہے کہ شیطان مشرکین کو مسلسل ابھار رہا تھا کہ وہ یہ جنگ لڑیں اور چونکہ یہ لوگ شیطان کے دھوکے میں آگئے تھے ، اس لیے ان کو اس طرح ذلیل ہونا پڑا۔ اور وہ شکست و ریخت کا شکار ہوئے۔

آیت 47 وَلاَ تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِہِمْ بَطَرًا وَّرِءَآء النَّاسِ یہ قریش کے لشکر کی طرف اشارہ ہے۔ جب یہ لشکر مکہ سے روانہ ہوا تو اس کی شان و شوکت واقعی مرعوب کن تھی۔ اس کے ساتھ عیش و طرب کا سامان بھی تھا۔ یہی وجہ تھی کہ ابو جہل اور دیگر سرداران قریش اپنے غرور اور تکبر کے باعث اس زعم میں تھے کہ مٹھی بھر مسلمان ہمارے اس طاقتور لشکر کے سامنے خس و خاشاک ثابت ہوں گے اور اہم انہیں کچل کر رکھ دیں گے۔وَیَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِط وَاللّٰہُ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ وہ اپنی ساری کوششیں اور توانائیاں مخلوق خدا کو اللہ کے راستے سے روکنے کے لیے صرف کر رہے تھے ‘ مگر ان کی کوئی تدبیر اللہ کے قابو سے باہر جانے والی تو نہیں تھی۔

میدان بدر میں ابلیس مشرکین کا ہمراہی تھا جہاد میں ثابت قدمی نیک نیتی ذکر اللہ کی کثرت کی نصیحت فرما کر مشرکین کی مشابہت سے روک رہا ہے کہ جیسے وہ حق کو مٹانے اور لوگوں میں اپنی بہادری دھانے کے لئے فخر و غرور کے ساتھ اپنے شہروں سے چلے تم ایسا نہ کرنا۔ چناچہ ابو جہل سے جب کہا گیا کہ قافلہ تو بچ گیا اب لوٹ کر واپس چلنا چاہئے تو اس ملعون نے جواب دیا کہ واہ کس کا لوٹنا بدر کے پانی پر جا کر پڑاؤ کریں گے۔ وہاں شرابیں اڑائیں گے کباب کھائیں گے گانا سنیں گے تاکہ لوگوں میں شہرت ہوجائے۔ اللہ کی شان کے قربان جائیے ان کے ارمان قدرت نے پلٹ دیئے یہیں ان کی لاشیں گریں اور یہیں کے گڑھوں میں ذلت کے ساتھ ٹھونس دیئے گئے۔ اللہ ان کے اعمال کا احاطہ کرنے والا ہے ان کے ارادے اس پر کھلے ہیں اسی لئے انہیں برے وقت سے پالا پڑا۔ پس یہ مشرکین کا ذکر ہے جو اللہ کے رسول ﷺ رسولوں کے سرتاج سے بدر میں لڑنے چلے تھے ان کے ساتھ گانے والیاں بھی تھیں باجے گاجے بھی تھے۔ شیطان لعین ان کا پشت پناہ بنا ہوا تھا انہیں پھسلا رہا تھا۔ ان کے کام کو خوبصورت بھلا دکھا رہا تھا ان کے کانوں میں پھونک رہا تھا کہ بھلا تمہیں کون ہرا سکتا ہے ؟ ان کے دل سے بنوبکر کا مکہ پر چڑھائی کرنے کا خوف نکال رہا تھا اور سراقہ بن مالک بن جعشم کی صورت میں ان کے سامنے کھڑا ہو کر کہہ رہا تھا کہ میں تو اس علاقے کا سردار ہوں بنو مدلج سب میرے تابع ہیں میں تمہارا حمایتی ہوں بےفکر رہو۔ شیطان کا کام بھی یہی ہے کہ جھوٹے وعدے دے، نہ پورا ہونے والی امیدوں کے سبز باغ دکھائے اور دھوکے کے جال میں پھنسائے۔ بدر والے دن یہ اپنے جھنڈے اور لشکر کو ساتھ لے کر مشکوں کی حمایت میں نکلا ان کے دلوں میں ڈالتا رہا کہ بس تم بازی لے گئے میں تمہارا مددگار ہوں۔ لیکن جب مسلمانوں سے مقابلہ شروع ہوا اور اس خبیث کی نظریں فرشتوں پر پڑیں تو پچھلے پیروں بھاگا اور کہنے لگا میں وہ دیکھتا ہوں جس سے تمہاری آنکھیں اندھی ہیں۔ ابن عباس کہتے ہیں بدر والے دن ابلیس اپنا جھنڈا بلند کئے مدلجی شخص کی صورت میں اپنے لشکر سمیت پہنچا اور شیطان سراقہ بن مالک بن جعشم کی صورت میں نمودار ہوا اور مشرکین کے دل بڑھائے ہمت دلائی جب میدان جنگ میں صف بندی ہوگئی تو رسول اللہ ﷺ نے مٹی کی مٹھی بھر کر مشرکوں کے منہ پر ماری اس سے ان کے قدم اکھڑ گئے اور ان میں بھگدڑ مچ گئی۔ حضرت جبرائیل ؑ شیطان کی طرف چلے اس وقت یہ ایک مشرک کے ہاتھ میں ہاتھ دیئے ہوئے تھا آپ کو دیکھتے ہی اس کے ہاتھ سے ہاتھ چھڑا کر اپنے لشکروں سمیت بھاگ کھڑا ہوا اس شخص نے کہا سراقہ تم تو کہہ رہے تھے کہ تم ہمارے حمایتی ہو پھر یہ کیا کر رہے ہو ؟ یہ ملعون چونکہ فرشتوں کو دیکھ رہا تھا کہنے لگا میں وہ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے میں تو اللہ سے ڈرنے والا آدمی ہوں اللہ کے عذاب بڑے بھاری ہیں اور روایت میں ہے کہ اسے پیٹھ پھیرتا دیکھ کر حارث بن ہشام نے پکڑ لیا۔ اس نے اس کے منہ پر تھپڑ مارا جس سے یہ بیہوش ہو کر گرپڑا دوسرے لوگوں نے کہا سراقہ تو اس حال میں ہمیں ذلیل کرتا ہے ؟ اور ایسے وقت ہمیں دھوکہ دیتا ہے وہ کہنے لگا ہاں ہاں میں تم سے بری الذمہ اور بےتعلق ہوں میں انہیں دیکھ رہا ہوں جنہیں تم نہیں دیکھ رہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا بیان ہے کہ حضور ﷺ پر تھوڑی سی دیر کے لئے ایک طرح کی بےخودی سی طاری ہوگئی پھر ہوشیار ہو کر فرمانے لگے صحابیو خوش ہوجاؤ یہ ہیں تمہاری دائیں جانب حضرت جبرائیل ؑ اور یہ ہیں تمہاری بائیں طرف میکائیل ؑ اور یہ ہیں حضرت اسرافیل ؑ تینوں مع اپنی اپنی فوجوں کے آموجود ہوئے ہیں۔ ابلیس سراقہ بن مالک بن جعشم مدلجی کی صورت میں مشرکوں میں تھا ان کے دل بڑھا رہا تھا اور ان میں پشین گوئیاں کر رہا تھا کہ بےفکر رہو آج تمہیں کوئی ہرا نہیں سکتا۔ لیکن فرشتوں کے لشکر کو دیکھتے ہی اس نے تو منہ موڑا اور یہ کہتا ہوا بھاگا کہ میں تم سے بری ہوں میں انہیں دیکھ رہا ہوں جو تمہاری نگاہ میں نہیں آتے۔ حارث بن ہشام چونکہ اسے سراقہ ہی سمجھے ہوئے تھا اس لئے اس نے اس کا ہاتھ تھام لیا اس نے اس کے سینے میں اس زور سے گھونسہ مارا کہ یہ منہ کے بل گرپڑا اور شیطان بھاگ گیا سمندر میں کود پڑا اور اپنا کپڑا اونچا کر کے کہنے لگایا اللہ میں تجھے تیرا وہ وعدہ یاد دلاتا ہوں جو تو نے مجھ سے کیا ہے۔ طبرانی میں حضرت رفاعہ بن رافع سے بھی اسی کے قریب قریب مروی ہے۔ حضرت عروہ بن زبیر کہتے ہیں جب قریشیوں نے مکہ سے نکلنے کا ارادہ کیا تو انہیں بنی بکر کی جنگ یاد آگئی اور خیال کیا کہ ایسا نہ ہو ہماری عدم موجودگی میں یہاں چڑھائی کردیں قریب تھا کہ وہ اپنے ارادے سے دست بردار ہوجائیں اسی وقت ابلیس لعین سراقہ کی صورت میں ان کے پاس آیا جو بنو کنانہ کے سرداروں میں سے تھا کہنے لگا اپنی قوم کا میں ذمہ دار ہوں تم ان کا بےخطر ساتھ دو اور مسلمانوں کے مقابلے کے لئے مکمل تیار ہو کر جاؤ۔ خود بھی ان کے ساتھ چلا ہر منزل میں یہ اسے دیکھتے تھے سب کو یقین تھا کہ سراقہ خود ہمارے ساتھ ہے یہاں تک کہ لڑائی شروع ہوگئی اس وقت یہ مردود دم دبا کر بھاگا۔ حارث بن ہشام یا عمیر بن وہب نے اسے جاتے دیکھ لیا اس نے شور مچا دیا کہ سراقہ کہاں بھاگا جا رہا ہے ؟ شیطان انہیں موت اور دوزخ کے منہ میں دھکیل کر خود فرار ہوگیا۔ کیونکہ اس نے اللہ کے لشکروں کو مسلمانوں کی امداد کے لئے آتے ہوئے دیکھ لیا تھا صاف کہہ دیا کہ میں تم سے بری ہوں میں وہ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے اس بات میں وہ سچا بھی تھا۔ پھر کہتا ہے میں اللہ کے خوف سے ڈرتا ہوں۔ اللہ کے عذاب سخت اور بھاری ہیں۔ اس نے جبرائیل ؑ کو فرشتوں کے ساتھ اترتے دیکھ لیا تھا سمجھ گیا تھا کہ ان کے مقابلے کی مجھ میں یا مشرکوں میں طاقت نہیں وہ اپنے اس قول میں تو جھوٹا تھا کہ میں خوف الٰہی کرتا ہوں یہ تو صرف اس کی زبانی بات تھی دراصل وہ اپنے میں طاقت ہی نہیں پاتا تھا۔ یہی اس دشمن رب کی عادت ہے کہ بھڑکاتا اور بہکاتا ہے حق کے مقابلے میں لاکھڑا کردیتا ہے پھر روپوش ہوجاتا ہے۔ قرآن فرماتا ہے شیطان انسان کو کفر کا حکم دیتا ہے پھر جب وہ کفر کر چکتا ہے تو یہ کہنے لگتا ہے کہ میں تجھ سے بیزار ہوں میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں اور آیت میں ہے کہ جب حق واضح جاتا ہے تو یہ کہتا ہے اللہ کے وعدے سچے ہیں میں خود جھوٹا میرے وعدے بھی سراسر جھوٹے میرا تم پر کوئی زور دعویٰ تو تھا ہی نہیں تم نے تو آپ میری آرزو پر گردن جھکا دی اب مھے سرزنش نہ کرو خود اپنے تئیں ملامت کرو نہ میں تمہیں بچا سکوں گا نہ تم میرے کام آسکو گے۔ اس سے پہلے جو تم مجھے شریک رب بنا رہے تھے میں تو آج اس کا بھی انکاری ہوں۔ یقین مانو کہ ظالموں کے لئے دوزخ کا عذاب ہے۔ حضرت ابو اسید مالک بن ربیعہ ؓ فرماتے ہیں اگر میری آنکھیں آج بھی ہوتیں تو میں تمہیں بدر کے میدان میں وہ گھاٹی دکھا دیتا جہاں سے فرشتے آتے تھے بیشک و شبہ مجھے وہ معلوم ہے انہیں ابلیس نے دیکھ لیا اور اللہ نے انہیں حکم دیا کہ مومنوں کو ثابت قدم رکھو یہ لوگوں کے پاس ان کے جان پہچان کے آدمیوں کی شکل میں آتے اور کہتے خوش ہوجاؤ یہ کافر بھی کوئی چیز ہیں اللہ کی مدد تمہارے ساتھ ہے بےخوفی کے ساتھ شیر کا سا حملہ کردو۔ ابلیس یہ دیکھ کر بھاگ کھڑا ہوا اب تک وہ سراقہ کی شکل میں کفار میں موجود تھا۔ ابو جہل نے یہ حال دیکھ کر اپنے لشکروں میں گشت شروع کیا کہہ رہا تھا کہ گھبراؤ نہیں اس کے بھاگ کھڑے ہونے سے دل تنگ نہ ہوجاؤ، وہ تو محمد ﷺ کی طرف سے سیکھا پڑھا آیا تھا کہ تمہیں عین موقعہ پر بزدل کر دے کوئی گھبرانے کی بات نہیں لات و عزیٰ کی قسم ! آج ان مسلمانوں کو ان کے نبی سمیت گرفتار کرلیں گے نامردی نہ کرو دل بڑھاؤ اور سخت حملہ کرو۔ دیکھو خبردار انہیں قتل نہ کرنا زندہ پکڑنا تاکہ انہیں دل کھول کر سزا دیں۔ یہ بھی اپنے زمانے کا فرعون ہی تھا اس نے بھی جادوگروں کے ایمان لانے کو کہا تھا کہ یہ تو صرف تمہارا ایک مکر ہے کہ یہاں سے تم ہمیں نکال دو۔ اس نے بھی کہا تھا کہ جادوگرو یہ موسیٰ تمہارا استاد ہے حالانکہ یہ محض اس کا فریب تھا۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں عرفے کے دن جس قدر ابلیس حقیر و ذلیل رسوا اور درماندہ ہوتا ہے اتنا کسی اور دن نہیں دیکھا گیا۔ کیونکہ وہ دیکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عام معافی اور عام رحمت اتری ہے ہر ایک کے گناہ عموماً معاف ہوجاتے ہیں ہاں بدر کے دن اس کی ذلت و رسوائی کا کچھ مت پوچھو جب اس نے دیکھا کہ فرشتوں کی فوجیں جبرائیل کی ماتحتی میں آرہی ہیں۔ جب دونوں فوجیں صف بندی کر کے آمنے سامنے آگئیں تو اللہ کی قدرت و حکمت سے مسلمان کافروں کو بہت کم نظر آنے لگے اور کافر مسلمانوں کی نگاہ میں کم جچنے لگے۔ اس پر کافروں نے قہقہہ لگایا کہ دیکھو مسلمان کیسے مذہبی دیوانے ہیں ؟ مٹھی بھر آدمی ہم ایک ہزار کے لشکر سے ٹکرا رہے ہیں ابھی کوئی دم میں ان کا چورا ہوجائے گا پہلے ہی حملے میں وہ چوٹ کھائیں گے کہ سر ہلاتے رہ جائیں۔ رب العالمین فرماتا ہے انہیں نہیں معلوم کہ یہ متوکلین کا گروہ ہے ان کا بھروسہ اس پر ہے جو غلبہ کا مالک ہے، حکمت کا مالک ہے اللہ کے دین کی سختی مسلمانوں میں محسوس کر کے ان کی زبان سے یہ کلمہ نکلا کہ انہیں ذہبی دیوانگی ہے۔ دشمن الٰہی ابو جہل ملعون ٹیلے کے اوپر سے جھانک کر اللہ والوں کی کمی اور بےسروسامانی دیکھ کر گدھے کی طرح پھول گیا اور کہنے لگا لو پالا مار لیا ہے، بس آج سے اللہ کی عبادت کرنے والوں سے زمین خالی نظر آئے گی، ابھی ہم ان میں سے ایک ایک کے دو دو کر کے رکھ دیں گے۔ ابن جریج کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے دین میں طعنہ دینے والے مکہ کے منافق تھے۔ عامر کہتے ہیں یہ چند لوگ تھے جو زبانی مسلمان ہوئے تھے لیکن آج بدر کے میدان میں مشرکوں کے ساتھ تھے۔ انہیں مسلمانوں کی کمی اور کمزوری دیکھ کر تعجب معلوم ہوا اور کہا کہ یہ لوگ تو مذہبی فریب خوردہ ہیں۔ مجاہد کہتے ہیں یہ قریش کی ایک جماعت تھی قیس بن ولید بن مغیرہ، ابو قیس بن فاکہ بن مغیرہ، حارث بن زمعہ بن اسود بن عبدالمطلب اور علی بن امیہ بن خلف اور عاص بن منبہ بن حجاج یہ قریش کے ساتھ تھے لیکن یہ متردد تھے اور اسی میں رکے ہوئے تھے یہاں مسلمانوں کی حالت دیکھ کر کہنے لگے یہ لوگ تو صرف مذہبی مجنوں ہیں ورنہ مٹھی بھر بےرسد اور بےہتھیار آدمی اتنی ٹڈی دل شوکت و شان والی فوجوں کے سامنے کیوں کھڑے ہوجاتے ؟ حسن فرماتے ہیں کہ یہ لوگ بدر کی لڑائی میں نہیں آئے تھے ان کا نام منافق رکھ دیا گیا۔ کہتے ہیں کہ یہ قوم اسلام کا اقرار کرتی تھی لیکن مشرکوں کی رو میں بہہ کر یہاں چلی آئی یہاں آکر مسلمانوں کا قلیل سا لشکر دیکھ کر انہوں نے یہ کہا جناب باری جل شانہ ارشاد فرماتا ہے کہ جو اس مالک الملک پر بھروسہ کرے اسے وہ ذی عزت کردیتا ہے کیونکہ عزت اس کی لونڈی ہے، غلبہ اس کا غلام ہے وہ بلند جناب ہے وہ بڑا ذی شان ہے وہ سچا سلطان ہے۔ وہ حکیم ہے اس کے سب کام حکمت سے ہوتے ہیں وہ ہر چیز کو اس کی ٹھیک جگہ رکھتا ہے۔ مستحقین امداد کی وہ مدد فرماتا ہے اور مستحقین ذلت کو وہ ذلیل کرتا ہے وہ سب کو خوب جانتا ہے۔

آیت 47 - سورۃ الانفال: (ولا تكونوا كالذين خرجوا من ديارهم بطرا ورئاء الناس ويصدون عن سبيل الله ۚ والله بما يعملون محيط...) - اردو