اس صفحہ میں سورہ Al-Anfaal کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الأنفال کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
وَأَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَلَا تَنَٰزَعُوا۟ فَتَفْشَلُوا۟ وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ ۖ وَٱصْبِرُوٓا۟ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلصَّٰبِرِينَ
وَلَا تَكُونُوا۟ كَٱلَّذِينَ خَرَجُوا۟ مِن دِيَٰرِهِم بَطَرًا وَرِئَآءَ ٱلنَّاسِ وَيَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ ۚ وَٱللَّهُ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطٌ
وَإِذْ زَيَّنَ لَهُمُ ٱلشَّيْطَٰنُ أَعْمَٰلَهُمْ وَقَالَ لَا غَالِبَ لَكُمُ ٱلْيَوْمَ مِنَ ٱلنَّاسِ وَإِنِّى جَارٌ لَّكُمْ ۖ فَلَمَّا تَرَآءَتِ ٱلْفِئَتَانِ نَكَصَ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ وَقَالَ إِنِّى بَرِىٓءٌ مِّنكُمْ إِنِّىٓ أَرَىٰ مَا لَا تَرَوْنَ إِنِّىٓ أَخَافُ ٱللَّهَ ۚ وَٱللَّهُ شَدِيدُ ٱلْعِقَابِ
إِذْ يَقُولُ ٱلْمُنَٰفِقُونَ وَٱلَّذِينَ فِى قُلُوبِهِم مَّرَضٌ غَرَّ هَٰٓؤُلَآءِ دِينُهُمْ ۗ وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى ٱللَّهِ فَإِنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ
وَلَوْ تَرَىٰٓ إِذْ يَتَوَفَّى ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ ۙ ٱلْمَلَٰٓئِكَةُ يَضْرِبُونَ وُجُوهَهُمْ وَأَدْبَٰرَهُمْ وَذُوقُوا۟ عَذَابَ ٱلْحَرِيقِ
ذَٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيكُمْ وَأَنَّ ٱللَّهَ لَيْسَ بِظَلَّٰمٍ لِّلْعَبِيدِ
كَدَأْبِ ءَالِ فِرْعَوْنَ ۙ وَٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۚ كَفَرُوا۟ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ فَأَخَذَهُمُ ٱللَّهُ بِذُنُوبِهِمْ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ قَوِىٌّ شَدِيدُ ٱلْعِقَابِ
رہا اللہ کی اطاعت اور اللہ کے رسول کی اطاعت کا حکم تو ان کا مقصد یہ ہے کہ معرکے میں داخل ہوتے ہی انسان سر تسلیم خم کردے اور وہ دواعی ہی ختم ہوجائیں جن کی وجہ سے مسلمانوں کے درمیان باہم نزاع پیدا ہوجاتی ہے۔ اور حکم یہ ہے ولا تنازعوا فتفشلوا و تذھب ریحکم " آپس میں جھگڑو نہیں ورنہ تمہارے اندر کمزوری پیدا ہوجائے گی اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی " لوگوں کے درمیان تنازعات صرف اس وقت سر اٹھاتے ہیں جب ان کی قیادت کے مراجع ایک سے زیادہ ہوجائیں اور وہ مختلف جہتوں سے ہدایات لینے والے ہوں یا وہ صرف اپنی خواہشات کے پیروکار ہوں اور ان کے افکار اور تصورات کا ماخذ صرف ان کے سفلی جذبات ہوں۔ اس کے مقابلے میں جب لوگ صرف اللہ اور رسول اللہ کے مطیع فرمان ہوں تو نزاع کی پہلی بڑی وجہ سرے سے ختم ہوجاتی ہے ، اگرچہ لوگوں کا نقطہ نظر مختلف ہے کیونکہ نزاع صرف اختلاف نقطہ نظر ہی کی وجہ سے پیدا نہیں ہوتا بلکہ اس کا مبدا ہوائے نفس ہوتی ہے۔ ہوائے نفس کی وجہ سے ہر نقطہ نظر رکھنے والا شخص اپنے موقف پر اصرار شروع کردیتا ہے۔ اگرچہ اسے نظر آجائے کہ سچائی دوسری جانب ہے۔ اب ترازو کے ایک پلڑے میں ایک شخص کی ذات ہوتی ہے اور دوسرے پلڑے میں سچائی ہوتی ہے۔ اور ابتداء کے طور پر لوگ اپنی ذات کو سچائی پر ترجیح دے دیتے ہیں لہذا یہاں یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ لوگ جنگ کے وقت اللہ اور رسول کی اطاعت کریں۔ یہ امر ڈسپلن کا تقاضا ہے اور معرکوں میں ڈسپلن اولین فیکٹر ہوتا ہے۔ یعنی اعلی کمان کی اطاعت اور پھر اس امیر کی اطاعت جو اس اعلی کمان کو چلاتا ہے۔ اسلام میں جو اطاعت ہوتی ہے وہ دلی اطاعت ہوتی ہے اور عام دنیاوی افواج کی طرح کی اطاعت نہیں ہوتی ، کیونکہ عام افواج کی معرکہ آرائی اللہ کے لی نہیں ہوتی۔ اور نہ ان کے افراد کے درمیان للہ فی اللہ اخوت ہوتی ہے۔ لہذا اسلامی افواج کے ڈسپلن اور سیکولر افواج کے ڈسپلن کے درمیان بہت بڑا فرق ہوتا ہے۔
رہا صبر تو وہ معرکہ آرائی خصوصا اسلام کے لیے جنگ کرنے والوں کی اہم صفت ہوتی ہے۔ چاہے یہ معرکہ انسانی نفسیات کے اندر حق و باطل کے درمیان ہو یا قتال کے میدانمیں ہو۔ واصبرو ان اللہ مع الصابرین صبر سے کام لینے والوں کے ساتھ ہوتا ہے۔
یہ ہدایات امت مسلمہ اور جماعت مجاہدین کی تطہیر کے لیے دی جا رہی ہیں کہ وہ قتال اور جہاد میں شرکت ایسے حالات میں نہ کریں کہ اپنی قوت اور کثرت پر اترا رہے ہوں اور اپنی قوت کو جو انہیں اللہ نے عطا کی ہے ان راہوں میں خرچ نہ کریں جن کے بارے میں اللہ کا حکم نہیں ہے۔ کیونکہ مومنین کے دستے قتال فی سبیل اللہ کے لیے نکلتے ہیں ، ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کی زندگیوں میں اللہ کی بادشاہت نافذ ہو۔ لوگ صرف اللہ کے غلام ہوں اور یہ اس لیے علم جہاد بلند کرتے ہیں کہ ان تمام طاغوتی طاقتوں کو کرش کرکے رکھ دیں جنہوں نے لوگوں کو اپنا غلام بنا کر رکھا ہوا ہے اور جو طاقتیں زمین پر خدا کے مقابلے میں اپنی الوہیت قائم کر رہی ہیں حالانکہ اللہ کی جانب سے ان کو ایسا کرنے کی کوئی اجازت نہیں ہے۔ نہ اللہ کی شریعت ان کے اس فعل کو تسلیم کرتی ہے۔ یہ علم اس لیے بلند ہوتا ہے کہ پورے کرہ ارض کے تمام انسانوں کو ہر قسم کی غلامی سے آزاد کردیا جائے ، کیونکہ یہ غلامیاں انسان کی کرامت اور شرافت کے خلاف ہیں اور اسلامی دستے جہاد و قتال کے لیے نکلتے ہی اس لیے ہیں کہ لوگوں کی شرافت اور ان کی آزادی کا تحفظ ہو۔ ان کا مقصد اپنا اقتدار قائم کرنا ، زمین میں علو حاصل کرنا نہیں ہوتا۔ نہ ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو اپنا غلام بنائیں یا اتراتے پھریں اور انہیں اللہ نے جو قوت دی ہے اسے غلط مد میں صرف کریں۔ اس طرح اسلامی دستوں کے مقاصد میں ذاتی مقاصد کا کوئی حصہ نہیں ہوتا اور اگر انہیں نصرت نصیب ہوتی ہے اور وہ غالب ہوجاتے ہیں تو انہوں نے امتثال امر کیا ہوتا ہے ، اسلامی نظام حیات قائم کرتے ہیں ، اللہ کا کلمہ بلند کرتے ہیں اور اللہ کے فضل اور اس کی رضا مندی کے طلبگار ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ معرکے کے نتیجے میں جو اموال غنیمت ملتے ہیں ، وہ ان سے بھی بےنیاز ہوتے ہیں۔
کون اترا کر نکلا تھا ، کون لوگوں کے سامنے اپنی قوت کی نمائش کر رہا تھا ؟ اور کون لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتا تھا ، یہ لوگ مسلمانوں کی آنکھوں کے سامنے تھے۔ یہ قریش کے لشکر کی شکل میں موجود تھے۔ جس طرح کہ یہ لشکر نکلا تھا۔ اور جو قریش فخر و مباہات کے ساتھ نکلے تھے ، ان کا انجام بھی مسلمانوں کے سامنے تھا اور جس طرح ذلیل و خوار ٹوٹ پھوٹ کا وہ شکار ہوچکے تے وہ بھی اہل اسلام کے سامنے تھی۔ اللہ تعالیٰ نے خود دستوں سے جو خطاب کیا اس کا مصداق ان کے سامنے تھا۔ ذرا دوبارہ ملاحظہ فرمائیں۔
وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِيَارِهِمْ بَطَرًا وَّرِئَاۗءَ النَّاسِ وَيَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭوَاللّٰهُ بِمَا يَعْمَلُوْنَ مُحِيْطٌ۔ اور ان لوگوں کے سے رنگ ڈھنگ نہ اختیار کرو جو اپنے گھروں سے اتراتے اور لوگوں کو اپنی شان دکھاتے ہوئے نکلے اور جن کی روش یہ ہے کہ اللہ کے راستے سے روکتے ہیں ، جو کچھ وہ کر رہے ہیں ، وہ اللہ کی گرفت سے باہر نہیں ہے۔
اترانا اور شان دکھانا اور اللہ کے راستے سے روکنا ، یہ سب امور ابوجہل کے اس تبصرے سے ظاہر ہوتے ہیں۔ ابوجہل کے پاس جب ابوسفیان کا پیغام آیا ہے کہ میں ساحل کی جانب سے بچ کر نکل آیا ہوں اور آپ اپنے لشکر کو لے کر واپس ہوجائیں اس لیے کہ تمہیں محمد اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ لڑنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ قریش کی حالت یہ تھی کہ وہ ساتھ گانے والی لونڈیوں کو بھی لے کر چلے تھے۔ راستے پر گاتے بجاتے اور مویشی کاٹتے اور شراب و کباب کے دور چلاتے ہوئے آ رہے تھے۔ ابوجہل نے اس پیغام کے جواب میں کہا : " ہم اس وقت تک واپس نہ ہوں گے جب تک ہم بدر کے میدان میں پہنچ نہ جائیں ، تین دن قیام نہ کریں ، جانور نہ کاٹیں ، شراب نہ پئیں اور گانے بجانے کی محفلیں منعقد نہ کریں ، اگر ہم نے ایسا کیا تو تمام عرب ہم سے خوف کھائیں گے۔ جب ابو سفیان کا ایلچی واپس ہوا اور ابوجہل کا جواب پہنچایا تو ابوسفیان نے کہا : " افسوس کہ میری قوم کا کیا بنے گا ! یہ ابوجہل کی حرکت ہے۔ اس نے واپسی کو نہ پسند کیا کیونکہ ہی قوم کا لیڈر تھا ، اور اس نے سرکشی اختیار کی۔ سرکشی بہرحال ایک نقص ہے اور شگون بد ہے۔ اگر محمد نے اس لشکر کو کرش کردیا تو ہم ہمیشہ کے لیے ذلیل ہوجائیں گے۔ ابو سفیان کی فرات درست نکلی۔ حضرت محمد ﷺ اور آپ کے ساتھیوں نے اس لشکر کو تہس نہس کردیا اور اس اترانے کی وجہ سے لشکر کفار ذلیل ہوا ، اس لیے کہ وہ سرکشی ، دکھاوے اور راہ خدا کو روکنے کے مقاصد لیے ہوئے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ بدر میں ان کی کمر ٹوٹ گئی۔ واللہ بما یعملون محیط۔ " جو کچھ وہ کر رہے ہیں وہ اللہ کی گرفت میں ہے " اللہ سے ان کی کوئی تدبیر بچ کر نہیں نکل سکتی۔ ان کی کوئی قوت اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ ان کی قوت اور ان کا علم سب کچھ اس کی گرفت میں ہے۔
اس سے آگے بیان کیا جاتا ہے کہ شیطان مشرکین کو مسلسل ابھار رہا تھا کہ وہ یہ جنگ لڑیں اور چونکہ یہ لوگ شیطان کے دھوکے میں آگئے تھے ، اس لیے ان کو اس طرح ذلیل ہونا پڑا۔ اور وہ شکست و ریخت کا شکار ہوئے۔
یہاں جس واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔ اس کے بارے میں متعدد روایات منقول ہیں۔ لیکن ان میں سے کوئی روایت بھی رسول اللہ ﷺ کی حدیث کا درجہ نہیں رکھتی۔ صرف ایک حدیث ہے جو امام مالک نے موطا میں نقل کی ہے۔ احمد روایت کرتے ہیں ، عبدالمالک ابن عبدالعزیز سے ، ابن الماجشون سے ، مالک سے ، ابراہیم ابن ابو عبلہ سے ، طلحہ ابن عبیداللہ ابن کریز سے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ابلیس یوم عرفہ میں جس قدر چھوٹا سا ، حقیر سا غضبناک ہوتا ہے۔ اس قدر عام حالات میں نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ وہ دیکھتا ہے کہ اس دن رحمت نازل ہوتی ہے۔ اللہ گناہوں کو معاف فرماتے ہیں۔ ہاں یوم بدر کے دن بھی وہ ایسا ہی تھا۔ صحابہ کرام نے دریافت کیا کہ حضور بدر کے دن اس نے کیا دیکھا تھا کہ ایسا تھا۔ اس نے اس دن دیکھا کہ حضرت جبرائیل ملائکہ کو تقسیم کر رہے ہیں۔
یہ حدیث مرسل بھی ہے اور اس میں عبدالمالک ابن عبد العزیز الماجشون راوی ہے جو ضعیف ہے۔
اس کے علاوہ جو آثار ہیں وہ حضرت ابن عباس سے ہیں اور ان سے یہ روایات بذریعہ علی ابن ابو طلحہ اور بذریعہ ابن جریج نقل ہیں۔ یا عروہ ابن زبیر بذریعہ ابن اسحاق ، قتادہ سے بذریعہ سعید ابن جبیر ، حسن اور محمد ابن کعب سے ان سب کو ابن جریر طبری نے روایت کیا ہے۔
مثنی سے ، عبداللہ ابن صالح سے ، معاویہ سے ، علی بن ابو طلحہ سے ، حضرت ابن عباس سے کہتے ہیں کہ ابلیس یوم بدر میں شیاطین کا ایک لشکر لے کر آیا۔ اس کے پاس جھنڈآ بھی تھا۔ یہ شخص بنی مدلج کے ایک شخص کی شکل میں تھا۔ خود شیطان سراقہ بن مالک ابن جعشم کی شکل میں تھا شیطان نے مشرکین سے کہا : " آج تم پر کوئی غآلب نہ ہوگا اور میں تمہارا پڑوسی ہوں " جب لوگوں نے صف آرائی کی تو رسول اللہ ﷺ نے مٹی کی ایک مٹھی لی۔ اور اسے مشرکین کے چہروں پر مارا۔ ان کو شکست ہوئی۔ حضرت جبرئیل ابلیس کی طرف متوجہ ہوئے تو اسکا ہاتھ مشرکین میں سے ایک شخص کے ہاتھ میں تھا تو اس نے اپنا ہاتھ اس مشرک سے چھڑایا اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگا ، اس کے ساتھ بھی بھاگے۔ ایک شخص نے کہا : اے سراقہ ! تم یہ گمان کرتے ہو کہ تم ہمارے پڑوسی ہو۔ تو اس نے جواب دیا : " کہ میں جو کچھ دیکھ رہا ہوں تم نہیں دیکھتے۔ میں اللہ سے ڈرتا ہوں ، بیشک اللہ سخت عذاب دینے والے ہیں " یہ اس نے اس وقت کہا جب اس نے فرشتوں کو دیکھا۔
ابن حمید سے ، سلمہ سے ، ابن اسحاق سے ، یزید ابن رومان سے ، عروہ ابن الزبیر سے ، کہتے ہیں کہ جب قریش جمع ہو کر نکلنے لگے تو میں نے ان کے اور بنی بکر کے درمیان معاملات کا ذکر کیا ، یعنی جنگ کا۔ قریب تھا کہ وہ واپس ہوجائیں ، ہمیں اس وقت ابلیس سراقہ ابن مالک ، ابن جعشم المدلجی کی شکل میں ظاہر ہوا۔ یہ شخص کنانہ کے شرفاء میں سے تاھ۔ اس نے کہا کہ میں تمہارا ساتھی ہوں۔ اگر کنانہ تمہارے پیچھے کچھ اقدام کریں تو تم اسے پسند نہ کروگے۔ اس پر وہ بڑی تیزی سے نکلے۔
بشر ابن معاذ سے ، یزید سے ، سعید سے ، قتادہ سے۔ کہتے ہیں کہ آیت و اذ زین لہم الشیطن اعمالہم۔ سے واللہ شدید العقاب تک کی تفسیر میں یہ بات ذکر ہوئی ہے کہ شیطان نے دیکھا کہ حضرت جبرئیل نازل ہو رہے ہیں اور آپ کے ساتھ اور فرشتے ہیں۔ اس اللہ کے دشمن کو یہ یقین ہوگیا کہ فرشتوں کے مقابلے میں وہ تو کچھ بھی نہیں کرسکتا۔ تو اس نے کہا " میں وہ کچھ دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھ رہے ، میں تو اللہ سے ڈرتا ہوں " یہ الفاظ اس دشمن خدا نے جھوٹ بولے ہیں۔ اس کے دل میں خدا کا خوف نہیں ہے لیکن اس کو یہ بات اچھی طرح معلوم تھی کہ وہ مقابلہ نہیں کرسکتا اور اللہ کے اس دشمن کی عات ہے کہ وہ اپنے پیرو کاروں کی قیادت کرتا ہے لیکن جب حق و باطل کا آمنا سامنا ہوتا ہے تو یہ اپنے ساتھیون کو بری طرح چھوڑ کر بھاگ جاتا ہے اور ان سے اپنی براءت کا اعلان کرتا ہے۔
فی ظلال القرآن میں ہم نے جو منہاج اختیار کیا ہے اس کے مطابق ہم ان غیبی امور کے سات تعرض نہیں کرتے جن کے بارے میں قرآن و سنت میں کوئی تفصیل نہیں دی گئی کیونکہ غیبی امور کا تعلق اعتقادات سے ہوتا ہے اور اعتقادی امور کے لیے ضروری ہے کہ وہ قرآن سے ثابت ہو یا سنت نبوی سے ثابت ہوں لیکن ہمارا یہ طریقہ بھی نہیں ہے کہ ہم ہر غیبی امر کا انکار کردیں اسلیے کہ یہ غیبی ہے۔
یہاں قرآن کریم کی آیت اس بات کی صراحت کرتی ہے کہ شیطان نے مشرکین کے اعمال کو ان کے لیے مزین بنا دیا تھا۔ شیطان نے ان کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ مسلمانوں کے خلاف لشکر کشی کریں اور یہ کہ وہ ان کی امداد کرے گا۔ اور بعدہ جب دونوں لشکر آمنے سامنے ہوئے اور انہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا تو یہ شیطان الٹے پاؤں بھاگا اور کہا کہ میں وہ کچھ دیکھ رہا ہوں جو تم نے نہیں دیکھا۔ میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔ اس طرح شیطان نے ان کو ذلیل کیا اور ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیا۔ تاکہ وہ اپنے انجام تک خود پہنچیں اور اس نے ان کے ساتھ جو عہد کیا اس کو پورا نہ کیا۔
اب یہ کیفیت کیسی ہے کہ شیطان نے ان کے اعمال کو ان کے لیے مزین کیا اور کس طرح اس نے باور کرایا کہ آج مشرکین کے خلاف کوئی غالب و برتر نہیں ہے اور کس طرح اس نے امداد کا وعدہ کیا اور کس طرح وہ بھاگا۔ یہ سب تفصیلات قرآن میں نہیں ہیں۔
یعنی ان واقعات کی تفصیلی کیفیت کے بارے میں ہم جزم کے ساتھ کچھ نہیں کہہ سکتے اس لیے کہ شیطان اور اس کی سرگرمیاں سب کی سب غیبی امور سے متعلق ہیں۔ اور ہم اس کے بارے میں کوئی جزمی اور یقینی بات نہیں کہہ سکے جب تک کوئی صریح نص نہ ہو۔ نص قرآن میں حادثہ اور واقعہ کا ذکر تو ہے لیکن تفصیلی کیفیات یہاں مذکور نہیں ہیں۔
یہاں آکر ہمارا اجتہاد ختم ہوجاتا ہے۔ ہم اس معاملہ میں جناب محمد عبدہ کے مکتب فکر کی رائے کو اختیار نہیں کرتے جو اس قسم کے تمام غیبی امور کے سلسلے میں ایک متعین انداز تاویل اختیار کرتے ہیں کہ ان غیبی جہانوں میں وہ ہر قسم کے حسی اعمال کا انکار کرتے ہیں۔ اس آیت کی تفسیر میں شیخ رشید رضا یہ فرماتے ہیں :
و اذ زین لھم الشیطن اعمالھم " اے پیغمبر مومنین کو یہ بات یاد دلائیں کہ شیطان نے اپنے وسوسوں کے ذریعہ ان مشرکین کے سامنے ان کے اعمال کو خوشنما بنا دیا تھا۔ اور ان کے دلوں میں یہ جذبات ڈال دیے تھے کہ وہ یہ کہتے تھے کہ آج ان پر کوئی غالب نہیں ہے۔ محمد کے ضعیف و ناتواں متبعین بھی اور عربوں کے دوسرے قبائل بھی اس لیے کہ تم تعداد اور سازوسامان میں ان سے زیادہ ہو اور تمہارے فوجی ان سے زیادہ جنگجو ہیں اور ان حالات کے ساتھ ساتھ میں تمہارا مدگار ہوں۔ بیضاوی نے کہا ہے کہ اس نے ان کے وہم میں یہ بات ڈال دی کہ وہ جو اس کی اطاعت کرتے ہیں تو یہ ان کا مددگار ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ وہ یہ دعا کرتے تھے " اے اللہ ان دو گروہوں میں سے جو زیادہ ہدایت پر ہو ، اس کی مدد کر اور ان دو ادیان میں سے جو دین زیادہ حق پر ہو اس کی امداد کر "۔
فَلَمَّا تَرَاۗءَتِ الْفِئَتٰنِ نَكَصَ عَلٰي عَقِبَيْهِ ۔ یعنی جب دونوں لشکر ایک دوسرے کے قریب ہوئے اور وہ ایک دوسرے کو دیکھنے لگے اور حالات کو سمجھنے لگے۔ اس سے پہلے کہ لوگ ایک دوسرے پر وار کریں اور قبل اس کے کہ میدان کارزار گرم ہو ، شیطان بھاگ گیا اور الٹے پاؤں لوٹا یعنی پیچھے کی طرف اور جن مفسرین نے تری کا معنی یہ کیا کہ جب لوگ میدان کارزار میں ٹکرا گئے تو ان کی مراد غلط ہے۔ معنی یہ ہوا کہ شیطان اب ان کے لیے ان کے اعمال کی تزئین بند کردیتا ہے اور اب انہیں ورغلانا ترک کردیتا ہے۔ اب یہ کلام ایک قسم کی تمثیل ہے اور اس میں شیطان کی وسوسہ اندازی کو آنے والے شخص سے تشبیہ دی گئی ہے اور اس وسوسہ اندازی کو ترک کرنے کے فعل کو اس شخص سے تشبیہ دی گئی جو پیچھے کی طرف الٹے پاؤں پھرتا ہے۔ اس پر مستزاد یہ کردیا کہ اس کی جانب سے ان لوگوں کے ساتھ اپنے تعلق کی براءت کا ذکر کردیا اور ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیا۔ وَقَالَ اِنِّىْ بَرِيْۗءٌ مِّنْكُمْ ۔ یعنی اس نے اعلان کردیا کہ وہ ان سے بری الذمہ ہے۔ اور جب اس نے دیکھا کہ فرشتے مسلمانوں کی امداد کر رہے ہیں ، وہ مایوس ہوگیا۔ واللہ شدید العقاب۔ یہ شیطان کا قول بھی ہوسکتا ہے اور جملہ مستانفہ بھی ہوسکتا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ ان سب باتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ شیطان کی فوجیں مشرکین کی صفوں میں پھیلی ہوئی تھیں اور ان کے دلوں میں وسوسے ڈال رہی تھیں یعنی ان کے ارواح سے مل کر ان کو دھوکہ دے رہی تھیں اور دوسری جانب سے فرشتے مسلمانوں کی صفوں میں پھیلے ہوئے تھے اور یہ مسلمانوں کی پاک روحوں میں وہ ڈالتے تھے کہ جس سے ان کے دل مضبوط ہوتے تھے اور اللہ کی جانب سے ان کو نصرت کا جو وعدہ تھا ، اس پر ان کا یقین اور مضبوط ہوجاتا تھا۔
یہ رجحان کہ ملائکہ کے افعال اور ان کا حصہ اس جنگ میں صرف یہی تھا کہ وہ مسلمانوں کو روحانی امداد دیتے تھے۔ مصنف دوسری جگہ صراحت سے یہ اظہار کرتے ہیں کہ یوم بدر میں فرشتوں نے جنگ میں حصہ نہیں لیا۔ یہ ایک غلط رجحان ہے کیونکہ قرآن مجید میں دوسری جگہ آتا ہے۔ فاضربوا فوق الاعناق واضربوا منھم کل بنان۔ " پس تم ان کی گردنوں پر مارو اور ان کے ہر جوڑ پر ضرب لگاؤ " شیطان کے افعال کی ایسی تشریح کہ وہ محض روحانی اتصال ہو یہ معنی محمد عبدہ کہ مکتب فکر کی اہم خصوصیت ہے۔ ایسی ہی تاویل وہ ابابیل سے متعلق بھی کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ دراصل چیچک کے جراثیم تھے اور یہ استاد محمد عبدہ کی تفسیر پارہ عم میں صراحت کے ساتھ مذکور ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان آیات کی تاویل میں یہ بہت ہی مبالغہ ہے اور اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہاں کوئی ایسی بات نہیں ہے کہ جو الفاظ کی ظاہری تفسیر کو ناممکن بناتی ہو۔ ہاں ہم صرف اسی قدر کہہ سکتے ہیں کہ ان آیات میں کوئی ایسی بات نہیں ہے جو ان واقعات کی تفصیلی کیفیت کو ظاہر کرتی ہو اور یہی طریق کار ہم نے اختیار کیا ہے۔
غرض اس طرف شیطان ان مشرکین کو دھوکہ دے رہا تھا جو اتراتے ہوئے اپنے گھروں سے نکلے تھے اور اپنی پوزیشن لوگوں کو دکھاتے آ رہے تھے اور ان کا مقصد یہ تھا کہ وہ لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکیں ، شیطان ان کو لشکر کشی پر آمادہ کر رہا تھا۔ اور پھر عین موقعہ میں ان کو چھوڑ کر بھاگ گیا۔ دوسری جانب مدینہ کے منافقین اور مریض لوگ دل ہی دل میں خوش تھے اور کہتے تھے کہ یہ لشکر تباہی کے راستے پر چل نکلا ہے۔ مشرکین کی عظیم قوت سے اس کا مقابلہ ٹھہرا ہے۔ جبکہ یہ لوگ قلیل تعداد میں ہیں اور ان کی تیار بھی کوئی نہیں ہے۔ یہ لوگ امور کو صرف ظاہری طور پر دیکھتے تھے۔ اور بظاہر یہ بات نظر آتی تھی کہ اہل ایمان نے اپنے آپ کو بڑی تباہی سے دوچار کردیا تھا یہ لوگ اپنے نئے دین کی وجہ سے دھوکے میں تھے اور انہیں اپنی نصرت کا پورا پورا یقین تھا۔ یہ تھے منافقین کے خیالات۔
منافقین جو دل کے مریض ہوتے ہیں یہ تعداد میں اکثر کم ہوتے ہیں۔ یہ وہ لوگ تھے جو مکہ میں تھے اور اسلام کی طرف مائل ہوگئے تھے لیکن ان کے عقائد صحیح نہ تھے اور نہ ہی ان کے دل اسلام پر مطمئن ہوئے تھے۔ یہ لوگ بھی اس مکی لشکر کے ساتھ چلے آئے تھے۔ لیکن یہ مذبذب تھے۔ ڈھل مل یقین۔ یہ تبصرہ ایسے لوگوں کا تھا کہ جنہوں نے دیکھا کہ مسلمان کم ہیں اور مشرکین بہت زیادہ ہیں۔
یہ منافقین جن کے دلوں میں بیماری ہوتی ہے۔ در اصل فتح و نصرت کے حقیقی اسباب سے باخبر ہی نہ تھے۔ یہ صرف ظاہری حالات کو دیکھ پاتے تھے اور ان کو اس قدر بصیرت یہ دی گئی تھی کہ وہ پوشیدہ امور کو یا ان حقائق کو سمجھتے جو بظاہر نظر نہیں آتے۔ ان کو پتہ نہ تھا کہ نظریات کے اندر کس قدر قوت ہوتی ہے۔ مومن کو اللہ پر بھروسہ کس قدر ہوتا ہے۔ وہ کس قدر متوکل ہوتا ہے اور اگر بڑے بڑے لشکر ہوں اور ایمان باللہ نہ ہو تو ان کے اندر کوئی قوت نہیں ہوتی۔ یہ لوگ اگرچہ مسلمانوں کو فریب خوردہ کہتے تھے اور اپنے دین کے بارے میں ان کو مغرور کہتے تھے۔ یہ سمجھتے تھے کہ یہ لوگ اپنے اپ کو ہلاکت کے گڑھے کے دہانے پر لا رہے ہیں کیونکہ مشرکین سیلاب کی طرح بہے چلے آ رہے تھے لیکن ان کا یہ نقطہ نظر غلط تھا۔
ایک نظر آنے والی صورت حال ایک مومن کی نظر میں اور ایک غیر مومن دیکھنے والے کی نظر میں بظاہر یکساں ہوتی ہے۔ رہا باطن اور حقیقی قدر و قیمت تو اس اعتبار سے دونوں کے نزدیک وزن و پیمانے میں فرق ہوجاتا ہے۔ ایک غیر مومن ذہن کو صرف ظاہری صورت حالات ہی نظر آتی ہے اور پس منظر اس کی نظروں سے اوجھل ہوتا ہے۔ لیکن ایک مومن کی نظر دور رس ہوتی ہے اور اسے ظاہری صورت حالات سے آگے بھی کچھ حقائق نظر آتے ہیں۔ مومن ظاہری صورت حال سے وراء اس کی حقیقت کا ادراک بھی رکھتا ہے اور وہ حقیقی وزن اور قدر متعین کرتا ہے۔
وَمَنْ يَّتَوَكَّلْ عَلَي اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ۔ " حالانکہ اگر کوئی اللہ پر بھروسہ کرے تو یقیناً اللہ بڑا زبردست اور دانا ہے۔ یہ ہے وہ بات جسے قلب مومن سمجھ سکتا ہے اور اس حقیقت پر وہ مطمئن ہوجاتا ہے اور جن دلوں میں ایمان نہیں ہوتا ، ان سے یہ حقیقت اوجھل ہوتی ہے۔ اس لیے وہ اس کو کوئی اہمیت نہیں دیتے۔ اس وجہ سے مومن کا پلڑا بھاری ہوتا ہے اور نتیجہ اس کے حق میں ہوتا ہے اور آخر کار ہر معاملے میں یہ حقیقت فیصلہ کن ہوتی ہے۔ ہر دور اور ہر جگہ یہ حقیقت فیصلہ کن ہوتی ہے۔
بدر کے سلسلے میں منافقین اور دل کے روگی جو یہ کہتے ہیں " کہ ان لوگوں کو ان کے دین نے خبط میں مبتلا کردیا ہے " یہ بات ہر دور کے منافقین اور مریض ذہنیت کے لوگ کہتے رہتے ہیں۔ جب وہ دیکھتے ہیں کہ طاغوتی قوتیں زوروں پر ہیں۔ لیکن اس دین کا اصل سازوسامان اس کا یہ عقیدہ ہے جس کے اندر بذات قوت دافعہ ہے۔ یہ کہ جماعت مومن اللہ کی عزت اور برتری کی خاطر لڑ رہی ہوتی ہے۔ اور ظاہر ہے کہ اللہ غیور ہے اور وہ اپنے دوستوں کی ہر وقت مدد کرتا ہے۔
منافقین اور مریض ذہنیت کے لوگ تماشے کر رہے ہیں اور وہ دیکھتے ہیں کہ جماعت مسلمہ طاغوتی قوتوں کا مقابلہ کر رہی ہے۔ یہ لوگ ان کو حقارت آمیز نظر سے دیکھتے ہیں جبکہ جماعت مسلمہ خطرات کا مقابلہ کر رہی ہے اور ان کو ہیچ سمجھتی ہے۔ یہ مریض اور منافقین جب دیکھتے ہیں کہ جماعت مسلمہ خطرات میں کودتی ہے تو ان کو پہلے تعجب ہوتا ہے اور پھر ان پر دہشت طاری ہوجاتی ہے۔ کیونکہ وہ دیکھتے ہیں کہ یہ لوگ واضح خطرات میں کود رہے ہیں۔ اس قدر جرات اور تہور کی کوئی حققی وجہ ان کی سمجھ میں نہیں آتی اور نہ ان کو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ یہ لوگ اپنے آپ کو کیوں ہلاکت میں ڈال رہے ہیں۔ یہ لوگ دین اور نظریہ کو بازار کی تجارت سمجھتے ہیں ، اگر اس میں ان کو واضح فائدہ نظر آئے تو یہ اس میں اقدام کرتے اور اگر واضح فائدہ نظر نہ آئے تو سلامتی میں عافیت سمجھتے ہیں۔ یہ معاملات کو مومنانہ نظر سے نہیں دیکھتے اور نتائج کو بھی ایمان کے پیمانے سے نہیں ناپتے۔ لیکن مومن کے نقطہ نظر سے تو یہ کاروبار ہمیشہ ہی نفع بخش رہتا ہے۔ دو اچھے نتائج میں سے کوئی ایک نتیجہ ضرور ظاہر ہوتا ہے یا تو مومن فتح یاب اور غالب ہوتا ہے اور یا وہ سیدھا جنت میں داخل ہوتا ہے۔ رہی ذات باری تو منافقین اور مریض ذہنیت کے لوگوں کے نزدیک اس کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔
قرآن کریم اہل ایمان کو دعوت دیتا ہے کہ وہ تمام امور کو دین و ایمان کے نقطہ نظر سے دیکھیں اور مومنانہ بصیرت کے ساتھ معاملات کا جائزہ لیں۔ اللہ کے نور اور اس کی ہدایات کی روشنی میں امور کو دیکھیں اور طاغوتی قوتوں کی عظمت کو خاطر میں نہ لائیں اور اپنی قوت اور اپنے وزن کو کم نہ سمجھیں کیونکہ اللہ کی ذات ان کے ساتھ ہے۔ اور ان کے دل میں ہمیشہ یہ بات تازہ رہنی چاہیے کہ " جس نے اللہ پر توکل اور بھروسہ کیا تو یقیناً اللہ بڑا زبردست اور دانا ہے "۔
اب اللہ اس معرکے میں ربانی قوتوں کے عمل و دخل کی ایک مثال پیش کرتا ہے۔ اس منظر میں فرشتے کام کر رہے ہیں۔ چشم بصیرت سے اس منظر کو دیکھو۔ فرشتے اس معرکے میں شریک ہیں۔ اور کفار کی پکڑ دھکڑ انہوں نے شروع کردی ہے۔ ان کی روحوں کو نہایت ہی حقارت سے قبض کر رہے ہیں اور ان کو سخت سے سخت اذیت دے رہے ہیں۔ یہ محض اس لیے کہ یہ لوگ نہایت ہی تکبر سے اتراتے ہوئے شان و شوکت سے آ رہے تھے۔ اس میں ان کو بتایا جاتا ہے کہ اس سخت اور مشکل وقت میں تمہارے ساتھ یہ سلوک تمہارے اعمال بد کی وجہ سے ہورہا ہے اور اس میں تم پر کوئی بھی ظلم نہیں ہے۔ پھر اس منظر کشی کے بعد بتایا جاتا ہے کہ جھٹلانے کی وجہ سے کفار کو جو سزا دی جاتی ہے یہ اللہ کی ایک جاری سنت ہے۔ جس طرح آل فرعون اور ان سے پہلے لوگوں کے ساتھ یہی کچھ ہوتا رہا ہے۔
اور یہ اس اصول کے مطابق کہ اللہ جب کسی قوم پر انعام کرتا ہے تو وہ اس وقت تک اپنے انعامات کو واپس نہیں لیتا ، جب خود ان اقوام کا رویہ بدل نہیں جاتا۔ اسی اصول کے مطابق اللہ نے فرعون اور اس سے پہلے کی اقوام کے ساتھ معاملہ کیا۔ اور آئندہ بھی جو قوم ایسی روشن اختیار کرے گی ، اللہ کا سلوک بھی ویسا ہی ہوگا۔
تفسیر آیت 50 ، 51 ۔
ان دو آیات سے مراد یوم بدر میں کام آنے والے مشرکین سے ہے۔
کیونکہ ملائکہ اس معرکے میں شریک تھے۔ جس طرح کہا گیا : فاضربوا فوق الاعناق واضربوا منہم کل بنان۔ ذلک بانہم شاقوا اللہ ورسولہ و من یشاقق اللہ ورسولہ فان اللہ شدید العقاب : " پس تم ان کی گردنوں پر ضرب اور جوڑ جوڑ پر چوٹ لگاؤ۔ یہ اس لیے کہ ان لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول کا مقابلہ کیا اور جو اللہ اور رسول کا مقابلہ کرے اللہ اس کے لیے نہایت ہی سخت گیر ہے۔
اگرچہ ہمیں اس مار اور جوڑ جوڑ پر ضرب لگانے کی تفصیلی کیفیت کا علم نہیں ہے ، جس طرح نویں پارے میں اس آیت پر بحث کرتے ہوئے ہم نے کہا تھا۔ لیکن اگر ہمیں کسی مفہوم کی تفصیلی کیفیت کا علم نہ ہو یا ہماری سمجھ میں نہ آرہی ہو تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ہم آیت کو اپنے ظاہری مفہوم سے پھیر دیں۔ ظاہری مفہوم یہ ہے کہ اللہ کی طرف سے ملائکہ کو حکم تھا کہ وہ ماریں ، اور ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ ملائکہ اللہ کے کسی حکم سے سرتابی ہی نہٰں کرتے۔ وہ تو وہی کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے۔ تو یہ دونوں آیات گویا واقعات بدر کو یاد رکھنے کی طرف اشارہ ہوگا اور یہ بتانا مقصود ہوگا کہ یہ بات بھی واقعات بدر میں شامل ہے کہ اس دن کفار کے ساتھ یہ یہ سلوک ہوا۔
لیکن یہ آیات بتا رہی ہیں کہ جب بھی کفار پر موت کا وقت آتا ہے تو فرشتے ان کے ساتھ یہی سلوک کرتے ہیں فرشتوں کا یہ سلوک مقتولین بدر کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔ اور یہ خطاب ولوتری گویا تمام اہل ایمان کے لیے ہوگا۔ اور یہ انداز کلام قرآن ہر اس مقام پر اختیار کرتا ہے جہاں لوگوں کو ایک کھلے منظر کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے کہ جسے ہر دیکھنے والا دیکھ سکتا ہو۔
بہرحال ان دو آیات کی جو تفسیر بھی ہو اہل کفر کے قبض روح کا نظارہ نہایت ہی خوفناک ہے۔ ملائکہ ان کے اجسام سے ان کی روح کو نہایت ہی توہین آمیز انداز میں کھینچ لیتے ہیں اور اس حقارت و توہین کے ساتھ ساتھ یہ لوگ عذاب شدید میں مبتلا ہوتے ہیں۔
" کاش تم اس حالت کو دیکھ سکتے جبکہ فرشتے مقتول کافروں کی روحیں قبض کر رہے تھے۔ وہ ان کے چہروں اور ان کے کو لہوں پر ضربیں لگاتے جاتے تھے "
اب یہاں سے آگے بیانیہ انداز کے بجائے براہ راست خطاب شروع ہوتا ہے :
" لو اب جلنے کی سزا بھگتو " اور انداز خطاب اس لیے اختیار کیا گیا ہے کہ یہ منظر آنکھوں کے سامنے آجائے ، گویا جہنم اس کی اگ اور جلنے کے عمل کے ساتھ موجود ہے اور لوگوں کو اس میں پھینکا جا رہا ہے۔ لعنت و پھٹکار بھی ہو رہی ہے۔
" یہ وہ جزاء ہے جس کا سامان تمہارے اپنے ہاتھوں نے پیشگی مہیا کر رکھا تھا " اس لیے تمہیں جو سزا دی جا رہی ہے یہ عادلانہ سزا ہے۔ تم اس کے مستحق ہو اور تمہارے اعمال کا نتیجہ ہے ورنہ " اللہ تو اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے "
یہ آیت جو جہنم کئ جلانے والے عذاب کی تصویر کشی کرتی ہے ، اس کو پڑھ کر ایک سوال ذہن میں اٹھتا ہے کہ آیا یہ تہدید جو ملائکہ کی طرف سے انہیں دی جا رہی ہے آیا اس عذاب کی ہے جو قیامت کے دن انہیں حساب و کتاب کے بعد دیا جائے گا یا کفار کے مجرد قبض روح کے ساتھ ہی جہنم رسید ہوجاتے ہیں۔
یہ دونوں صورتیں ممکن ہیں اور جائز ہیں۔ اور دنوں مفہوم ان آیات سے اخذ کیے جاسکتے ہیں۔ اس سے زیادہ ہم اس پر کوئی بحث نہیں کرتے۔ کیونکہ یہ ایک غیبی امر ہے اور اللہ نے اسے اپنے علم میں محفوظ کرلیا ہے۔ ہم پر فرض یہی ہے کہ ہم اس پر یقین کرلیں۔ ایسا ہوگا اور کوئی بات اس میں مانع نہیں ہے۔ ایسا کب ہوگا۔ مرتے وقت یا بعد الحساب تو یہ اللہ کے علم میں ہے جو علام الغیوب ہے۔
بدر کے حالات پر ایک سرسری نظر ڈالنے کے بعد اب سیاق کلام ایک قاعدہ کلیہ کے بیان کی طرف منتقل ہوجاتا ہے یہ واقعہ اور یہ منظر اسی کلیہ کا ایک جزئیہ ہے۔ یہ کہ اہل کفر کو نہایت ہی توہین آمیز انداز میں گرفت میں لینا ایک جاری وساری سنت ہے اور اس میں کوئی تبدیلی کبھی بھی نہیں ہوتی۔ یہ سلوک اس وقت سے جاری ہے جب سے اللہ نے حق و باطل کی کشمکش کو اس جہاں میں چلایا ہے۔
اللہ تعالیٰ کی یہ سنت نہیں ہے کہ لوگوں کو سمندر کی لہروں کے حوالے کردے یا ان کو اتفاقات زمانہ کے سپرد کردے اور وہ کسی اصول اور ضابطے کے پابند نہ ہوں۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات کو اپنے ضابطہ قضا و قدر کا پابند کیا ہے۔ مشرکین کو یوم بدر میں جو حالات پیش آئے یا آئندہ بھی وہ جن حالات سے دو چار ہوں گے۔ وہ اللہ اور اس کے نظآم قضا و قدر کے مطابق ہیں۔ اور اسی نظام کے مطابق فرعون اور اس سے پہلے کے اہل کفر کے ساتھ ہوا۔
" انہوں نے اللہ کی آیات کو ماننے سے انکار کیا اور اللہ نے ان کے گناہوں پر ان کو پکڑ لیا " اور انہوں نے اللہ کی پکڑ میں اپنی کوئی مدافعت نہ کرسکی اور نہ وہ اس عذاب سے بچ سکے ، اس لیے کہ " بیشک اللہ قوت رکھتا ہے اور سخت سزا دینے والا ہے "
اللہ نے ان لوگوں پر انعامات کی بارش کی۔ ان پر فضل و کرم کرکے انہیں بہت کچھ دیا۔ زمین پر ان کا اقتدار قائم کیا اور وہ اس اقتدار کے وارث بنے ، لیکن اللہ یہ سب چیزیں جسے بھی دیتا ہے وہ برائے امتحان دیتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ یہ لوگ شکر کرتے ہیں یا ناشکری کرتے ہیں لیکن نتیجہ یہ نکلا کہ انہوں نے شکر نہ کیا بلکہ ناشکری کا مظاہر کیا بلکہ انہوں نے بغاوت و سرکشی کا رویہ اختیار کیا۔ ان انعامات اور قوتوں کی وجہ سے وہ جبار وقہار بن گئے۔ اور فسق و فجور میں مبتلا ہو کر اپنے آپ کو طاغوتی قوت کی شکل دے دی۔ ان کے پاس اللہ کی آیات و معجزات آئے تو انہوں نے کفر کا رویہ اختیار کیا۔ لہذا اب وہ اس بات کے مستحق ہوگئے کہ انہیں اس قانون کے تحت پکڑا جائے جو اس کائنات کے لیے سنت جاریہ ہے کہ جب اللہ کی آیات کسی تک پہنچ جاتی ہیں اور لوگ ان کی تکذیب کرتے ہیں تو اللہ انہیں پکڑتا ہے اور ان کو پیش کرکے رکھ دیتا ہے۔