اس صفحہ میں سورہ Al-Anfaal کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الأنفال کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
ذَٰلِكَ بِأَنَّ ٱللَّهَ لَمْ يَكُ مُغَيِّرًا نِّعْمَةً أَنْعَمَهَا عَلَىٰ قَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا۟ مَا بِأَنفُسِهِمْ ۙ وَأَنَّ ٱللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
كَدَأْبِ ءَالِ فِرْعَوْنَ ۙ وَٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۚ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِ رَبِّهِمْ فَأَهْلَكْنَٰهُم بِذُنُوبِهِمْ وَأَغْرَقْنَآ ءَالَ فِرْعَوْنَ ۚ وَكُلٌّ كَانُوا۟ ظَٰلِمِينَ
إِنَّ شَرَّ ٱلدَّوَآبِّ عِندَ ٱللَّهِ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ فَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ
ٱلَّذِينَ عَٰهَدتَّ مِنْهُمْ ثُمَّ يَنقُضُونَ عَهْدَهُمْ فِى كُلِّ مَرَّةٍ وَهُمْ لَا يَتَّقُونَ
فَإِمَّا تَثْقَفَنَّهُمْ فِى ٱلْحَرْبِ فَشَرِّدْ بِهِم مَّنْ خَلْفَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُونَ
وَإِمَّا تَخَافَنَّ مِن قَوْمٍ خِيَانَةً فَٱنۢبِذْ إِلَيْهِمْ عَلَىٰ سَوَآءٍ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ ٱلْخَآئِنِينَ
وَلَا يَحْسَبَنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ سَبَقُوٓا۟ ۚ إِنَّهُمْ لَا يُعْجِزُونَ
وَأَعِدُّوا۟ لَهُم مَّا ٱسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ وَمِن رِّبَاطِ ٱلْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِۦ عَدُوَّ ٱللَّهِ وَعَدُوَّكُمْ وَءَاخَرِينَ مِن دُونِهِمْ لَا تَعْلَمُونَهُمُ ٱللَّهُ يَعْلَمُهُمْ ۚ وَمَا تُنفِقُوا۟ مِن شَىْءٍ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ وَأَنتُمْ لَا تُظْلَمُونَ
۞ وَإِن جَنَحُوا۟ لِلسَّلْمِ فَٱجْنَحْ لَهَا وَتَوَكَّلْ عَلَى ٱللَّهِ ۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيمُ
اللہ نے انہیں تب ہلاک کیا جب انہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا۔ اس سے قبل ان کے خلاف کوئی کاروائی نہ کی۔ باوجودیکہ وہ کافر تھے کیونکہ یہ اللہ کی سنت جاریہ ہے اور اس کا کرم ہے کہ اس نے یہ اصول مقرر کیا ہے۔ وما کنا معذبین حتی نبعث رسولا اور ہم اس وقت تک عذاب نہیں دیتے جب تک رسول نہ بھیج دیں۔ یہاں آل فرعون اور ان سے پہلے یہ اقوام جن کے پاس آیات الہی بھیجی گئیں اور انہوں نے تکذیب کی اور اللہ نے ان پر ہلاکت و بربادی نازل کی۔ یہ کارروائی ان کے خلاف کیون کی گئی ، اس لیے کہ (وہ ظالم تھے) یہاں لفظ ظلم بمعنی کفر یا شرک استعمال ہوا ہے۔ اور قرآن کریم میں یہ لفظ اکثر انہی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔
یہاں اس آیت پر قدے گہرے غور و فکر کی ضرورت ہے :
" یہ اس سنت کے مطابق ہوا کہ وہ کسی نعمت کو جو اس نے کسی قوم کو عطا کی ہو ، اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ قوم خود اپنے طرز عمل کو نہیں بدل دیتی "
اللہ کی جانب سے بندوں کے ساتھ عدل و انصاف کا یہ ایک اہم پہلو ہے۔ اللہ نے جس بندے کو بھی کوئی نعمت دی ہے ، وہ اس سے اللہ اس وقت تک نہیں چھینتا جب خود بندہ اپنی نیت نہیں بدل دیتا۔ اپنے طرز عمل کو نہیں بدل دیتا ، اور اپنے طور طریقوں کو نہیں بدل دیتا۔ اور اپنے آپ کو اس بات کا مستحق نہیں بنا لیتا کہ اللہ ان سے وہ نعمت چھین لے جو ان کو دی گئی۔ کیونکہ یہاں جسے بھی جو کچھ دیا جاتا ہے ، وہ آزمائش اور ابتلا کے لیے دیا جاتا ہے اور جب بندے اس عطا کی قدر نہیں کرتے اور اس کا شکر نہیں بجا لاتے تو وہ ان سے یہ عطا واپس لے لیتا ہے۔ اور اس میں ایک پہلو انسان کی عظمت اور تکریم کا بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نظام قضا و قدر اور اخذ و عطا کو خود انسان کے طرز عمل کے ساتھ منسلک کردیا ہے اور اپنے نظام قضا و قدر کو یوں چلاتا ہے کہ جس طرح انسان چلے اور کرے ویسا بھرے۔ انسان جو عمل اختیار کرے ، اس کی نیت جس طرح کام کرتی ہے اور وہ اپنے لیے جو راہ ، جو طرز عمل اور جو رویہ اختیار کرتے ہیں اس کے مطابق نظام قضاوقدر ان کے ساتھ چلتا رہتا ہے۔ ایک تیسرا پہلو یہ ہے کہ یہاں حضرت انسان پر اس کے اعمال کی عظیم ذمہ داری بھی عائد کی جاتی ہے۔ اور عزت و تکریم کے ساتھ اسے یہ موقعہ بھی دیا جاتا ہے کہ اگر وہ چاہے تو اللہ کے انعامات اور اس کے فضل و کرم کے جواب میں شکر نعمت کرکے ان میں اور اضافہ کرالے جس طرح ناشکری کے نتیجے میں یہ انعامات زائل بھی ہوجاتے ہیں۔
یہ ایک اہم حقیقت ہے اور اسلام کے تصور انسان میں یہ حقیقت تو بہت اہم ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس کائنات میں نظام قضا و قدر کا مقام انسانیت کے ساتھ کیا تعلق ہے ؟ اور انسان کا اس کائنات کے ساتھ کیا رابطہ ہے جس میں وہ رہا ہے ؟ اس نظام قضا و قدر سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے ہاں انسان کی اہمیت کس قدر ہے۔ اور اس پہلو سے اسلام نے انسان کو کس قدر اعزاز بخشا ہے کہ انسان کے اپنے معاملات میں اور اس کائنات میں رونما ہونے والے بڑے بڑے انقلابات میں انسان کی روش کو اہم فیکٹر قرار دیا گیا ہے۔ اور انسان کی اس مثبت روش ہی سے مثبت نتائج اور اس کی منفی روش سے اسے منفی اور ناخوشگوار نتائج سے دوچار ہونا پڑتا ہے جبکہ انسان کے بارے میں آج کا مادی تصور یہ ہے کہ اس میں وہ ایک ذلیل و حقیر مخلوق ہے اور وہ مادیت کے جبری قوانین میں جکڑا ہوا ہے۔ وہ اقتصادی عوامل کے ہاتھوں میں بھی مجبور ہے۔ تاریخ کے حتمی اصولوں کے سامنے بھی مجبور محض ہے ، اور ترقی کے جبری قواعد میں بھی اسے مجبور دکھایا گیا ہے۔ غرض دور جدید کے مادی تصور میں جو جبریات ہیں ، ان کے مقابلے میں انسان کی کوئی حیثیت اور وقعت نہیں ہے۔ اس لیے اس کو یہ تصور دیا جاتا ہے کہ وہ ان طبیعی جبریات کے سامنے ایک بےبس ، ذلیل اور کمزور مخلوق ہے۔
یہ حقیقت یہ تصور دیتی ہے کہ عمل اور جزاء کا باہم تعلق ہے اور اس کائنات میں انسان ایک موثر مخلوق ہے۔ اور اللہ اس کے ساتھ کوئی ظلم نہیں کرتا۔ اللہ کی سنت اور اس کے قوانین طبیعی اس کے نظام قضا و قدر سے کے مطابق چلتے ہیں جن میں انسانوں پر کوئی ظلم نہیں ہوتا۔
وان اللہ لیس بظلام للعبید۔ اللہ بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے۔ اس لیے اللہ نے آل فرعون کو بھی ان کے کرتوتوں کی وجہ سے ہلاک کیا۔ محض بےوجہ ان پر ظلم نہیں کیا ہے۔ ایک بار پھر آیت پر غور فرمائیں۔
" یہ اللہ کی اس سنت کے مطابق ہوا کہ وہ کسی نعمت کو جو اس نے کسی قوم کو عطا کی ہو ، اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک کہ وہ قوم خود اپنے طرز عمل کو نہیں بدل دیتی "
درس نمبر 86 ایک نظر میں
سورت انفال کا یہ چوتھا اور آخری سبق ہے۔ اس میں دوسرے ممالک اور بلاکوں کے ساتھ صلح و جنگ کے کچھ قواعد وضع کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ اسلامی معاشرے کی داخلی تنظیم اور دوسری تنظیموں کے ساتھ اس کے تعلقات کی نوعیت کو منضبط کیا گیا ہے۔ مختلف احوال میں اسلام اور دوسری اقوام کے ساتھ معاہدوں کی نوعیت پر بحث ہے۔ نیز خون رنگ و نسل ، علاقائیت اور قائد و نظریات کے بارے میں اسلام کے نقطہ نظر کو متعین کیا گیا ہے
اس سبق میں ان موضوعات کے بارے میں ایسے احکام بھی دیے گئے ہیں جو اپنے موضوع پر فائنل ہیں۔ اور بعض ایسے ہیں جو اس مرحلے کے لیے تھے جن میں یہ صورت اتری ہے اور متعین حالات کے لیے تھے۔ یا ایک متعین واقعہ کے لیے تھے اور جن میں بعد میں ترمیمیں کی گئیں اور انہوں نے بعد میں آخری صورت اختیار کی۔ یعنی سورت توبہ میں ان احکامات نے آخری شکل اختیار کی۔ سورت توبہ مدنی دور کی آخری سورتوں میں سے ہے۔
ان احکامات نے آخری شکل اختیار کی۔ سورت توبہ مدنی دور کی آخری سورتوں میں سے ہے۔
ان احکامات اور قواعد میں درج ذیل امور شامل ہیں۔
جو لوگ اسلامی بلاک سے معاہدے کرتے ہیں اور بعد میں اپنے عہد کو توڑ دیتے ہیں وہ اس کرہ ارض پر بد ترین جانور ہیں۔ لہذا اسلامی بلاک کے فرائض میں یہ بات شامل ہے کہ وہ ان کی سبق آموز تربیت کرے۔ اور ان کو ایسا سبق سکھائے کہ یہ لوگ اور ان کے بعد آنے والے یا ان کی پشت پر جو قوتیں کھڑی ہوں ان کے لیے بھی وہ اچھی عبرت ہو۔
جن معاہد اقوام سے اسلامی حکومت کو یہ خطرہ لاحق ہو کہ وہ بد عہدی کریں گی یا عہد میں امانت داری کے مقابلے میں خیانت کریں گی تو اسلامی قیادت کا یہ حق ہوگا کہ وہ اس عہد کو ان کے سامنے رکھ دے اور اعلان کردے کہ اس کی اب کوئی حیثیت نہیں ہے اور اس کے بعد اگر اسلامی حکومت ان لوگوں کی سرزنش کرے تو وہ آزاد ہے تاکہ وہ ان لوگوں کو خوفزدہ کرسکے جو اسلامی حکومت کے خلاف سرگرم ہوں اور تیاریاں کر رہے ہوں کہ حملہ کردیں۔
یہ کہ اسلامی بلاک کا فریضہ ہے کہ وہ اپنی دفاعی افواج کو ہر وقت چوکس رکھیں اور انتہائی ممکن حد تک اپنی فوجی قوت کو ترقی دیں۔ اس طرح کہ اس کرہ ارض پر ہدایت یافتہ قوت ہی بڑی قوت ہو اور اس سے تمام باطل قوتیں لرزہ بر اندام ہوں اور ان کی قوت کے بارے میں زمین میں تمام باطل قوتیں جانتی ہوں اور خائف ہوں اور یہ جراءت نہ کرسکیں کہ وہ حملہ آور ہوں اور وہ اللہ کی سلطنت کے سامنے سر تسلیم خم کردیں اور صورت حال یہ ہوجائے کہ پوری دنیا میں کسی داعی اسلام کے لیے کوئی رکاوٹ نہ ہو اور کوئی رکاوٹ ان لوگوں کے سامنے نہ رہے جو دعوت اسلامی کو قبول کرنا چاہتے ہیں اور کوئی قوت سیاسی اقتدار اعلی اپنے لیے مخصوص کرنے والی نہ ہو بلکہ نظام حکومت صرف اللہ کا چلتا ہو۔
٭۔ یہ کہ اگر غیر مسلموں میں سے کوئی اسلامی کمپ کے ساتھ کوئی معاہدہ امن کرنا چاہے اور وہ اسلامی حکومت کی راہ میں رکاوٹ نہ بنے تو اسلامی حکومت کی قیادت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ اسے قبول کرلے اور معاہدہ کرلے۔ اگر وہ کوئی خفیہ سازش کرنا چاہتے ہوں اور بظاہر دھوکے کی کوئی علامت نظر نہ آتی ہو تو ان کا فرض ہے کہ ان کے خفیہ ارادوں کو اللہ پر چھوڑ دے۔ اللہ اس قسم کے فریب کاروں کے شر سے بچانے والا ہے۔
٭۔ جہاد مسلمانوں پر فرض ہے۔ اگرچہ دشمن کی تعداد مسلمانوں کی تعداد سے دوگنا ہو۔ خدا کے فضل سے مسلمانوں کو اپنے دشمنوں پر فتح نصیب ہوگی۔ ان میں سے ایک آدمی بیس کا مقابلہ کرسکتا ہے اور کمزور حالات میں بھی ان میں سے ایک آدمی دو آدمیوں کا مقابلہ کرسکتا ہے۔ لہذا جہاد کا فریضہ اس موقوع کے لیے انتظار کی مہلت نہیں دیتا کہ مومنین اور ان کے دشمن کی تعداد برابر ہو۔ اس لیے مسلمانوں کی تیار قوت ہی کافی ہے اور ان پر فرض ہے کہ زیادہ سے زیادہ قوت تیار رکھیں۔ اللہ پر بھروسہ کریں معرکے میں ثابت قدم رہیں۔ مشکلات میں صبر سے کام لیں اور نتائج اللہ پر چھوڑ دیں۔ اس لیے کہ وہ مادی قوتوں کے علاوہ روحانی قوت بھی رکھتے ہیں۔
٭۔ اسلامی محاذ کا پہلا ہدف یہ ہونا چاہی کہ وہ طاغوتی قوت کے تمام سرچشموں کو پاش پاش کرکے رکھ دے۔ اگر وہ سمجھتے ہوں کہ فوجیوں کو قید کرنا اور پھر تاوان جنگ لے کر چھوڑ دینا مفید مطلب نہیں ہے تو پھر ایسا ہر گزنہ کرنا چاہیے ، اس لیے کہ رسول اور مسلمانوں کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ طاغوتی قوتوں کو اچھی طرح پاش پاش کرنے سے چاہئے ، اس لیے کہ رسول اور مسلمانوں کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ طاغوتی قوتوں کو اچھی طرح پاش پاش کرکے علاقے میں اپنا اقتدار اعلی نافذ کردیں۔ اس سے پہلے قیدی بنا کر فدیہ لینے سے بہتر ہے کہ وہ دشمن کو پیس کر رکھ دیں۔
٭۔ مسلمانوں کے لیے مال غنیمت حلال کردیا گیا ہے اور اسی طرح مسلمانوں کے لیے بھی یہ جائز کردیا گیا ہے کہ وہ قیدیوں کو رہا کرکے جنگی تاوان وصول کریں لیکن اس وقت جب وہ دشمن کی قوت کو اچھی طرح توڑ دیں اور اپنا اقتدار اعلی قائم کردیں اور ان کے اقتدار کی شان و شوکت قائم ہوجائے۔
٭۔ اسلامی کیمپ میں قید ہونے والے کفار سے کہا جاتا ہے کہ وہ اسلام میں دلچسپی لیں اور یاد رکھیں کہ تم سے جو اموال غنیمت لیے گئے ہیں اگر مسلمان ہوجاؤ تو اللہ تمہیں اس سے اچھا دینے والا ہے۔ لیکن اگر تم خیانت کروگے تو جس طرح تمہارا انجام جنگ بدر میں ہوا ہے وہی دوبارہ ہوگا۔
٭۔ اسلامی معاشرہ میں اکٹھ نظریات پر ہوتا ہے لیکن تعلق مولات تو خصوصاً نظریات اور مشترکہ تحریک کی اساس پر ہوتا ہے ، لہذا جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کی اور جن لوگوں نے پناہ دی اور نصرت دی یہی لوگ در اصل ایک دوسرے کے ولی ہیں۔ رہے وہ لوگ جنہوں نے نظریہ تو قبول کرلیا اور ایمان بھی لائے مگر ہجرت نہ کی تو ان اور مومنین مہاجرین کے درمیان کوئی ولایت نہیں ہے۔ یعنی دار الاسلام ان کی نصرت اور ان کی کفالت اور ہمدردی کا پابند نہیں ہے۔ اور ان کی مسلمانوں پر نصرت اور ہمدردی صرف اس وت فرض ہے جبکہ ان کا عقیدہ اور نظریہ زد میں ہو اور نظریات و عقائد کی وجہ سے ان پر ظلم ہو رہا ہو۔ ۔ یکن اس بارے میں بھی ایک مزید شرط ہے اور وہ یہ ہے کہ ظلم اور زیادتی قوم کی طرف سے نہ ہو جن کا اہل اسلام کے ساتھ کوئی معاہدہ ہو۔
٭۔ اسلامی معاشرے کے اندر بھی دوستی اور ہمدردی کا تعلق صرف اس اکٹھ کے دائرے کے اندر ہے جس کا عقیدہ و نظریہ حقیقی ایمان کا ہو اور ان کے اندر اسلامی انقلاب کے لیے مشترکہ تحریک کا تعلق بھی ہو۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ رشتہ دار (اولو الارحام) دوسرے لوگوں کے مقابلے میں ترجیح کے مستحق تصور نہ ہوں گے ، لہذا و ہزیادہ قریب تصور ہوں گے۔ بشرطیکہ یہ رشتہ دار سب کے سب اسلامی نظریہ حیات کے قائل ہوں اور باہم مل کر اسلام کے لیے کام کر رہے ہوں۔ صرف رشتہ داری کافی نہیں ہے ، یعنی ایسی رشتہ داری جس میں نظریات و عقائد کا اشتراک نہ ہو اور جس میں ایک مقصد کے لیے حرکت نہ پائی جاتی ہو۔
اجمالاً اس سبق میں یہی بڑے مضامین ہیں اور یہ مضامین و موضوعات اسلامی معاشرے کی تنظیم کے داخلی اور خارجی موضوعات کے اہم مضامین ہیں۔ اور تفصیلات آیات کی تشریح کے دوران ملاحظہ فرمائیں۔
درس نمبر 86 تشریح آیات۔ 55 ۔ تا۔ 75
تفسیر آیات 55 تا 63:
یہ آیات ایک قسم کی عملی ہدایات ہیں ، اس وقت جبکہ جماعت مسلمہ ایسے حالات سے عملاً دو چار تھی۔ اس وت مدینہ میں اسلامی مملکت کی بیناد رکھی جا رہی تھی۔ ان عملی حالات میں ، امت مسلمہ کو ضروری احکامات دیے گئے۔
ان میں سے اکثر ہدایات اس وقت کی قائم اسلامی مملکت یا اسلامی محاذ اور اس وقت کی اسلامی حکومت کے ارد گرد قائم مملکتوں اور محاذوں کے درمیان قانون بین الممالک کے موضوع پر ہیں۔ ان آیات کے بعد ، قرآن کریم نے ان میں معمولی ترمیمات کی ہیں لیکن یہ ہدایات اسلام کے قانون بین الممالک کے سلسلے کی اساسی ہدایات ہیں۔
ان ہدایات میں اس بات کی گنجائش رکھی گئی ہے کہ مختلف بین الاقوامی گروہوں اور مملکتوں کے درمیان باہم سلامتی کے معاہدات ہوسکتے ہیں ، بشرطیکہ فریقین معاہدہ اس کی شرائط کی نیک دلی کے ساتھ پابندی کرتے ہوں۔ اگر کوئی فریق اس معاہدے کے پردے میں غداری اور خیانت کی تدابیر کر رہا ہو اور حملے اور شر انگیزیوں کی تیار کر رہا ہو تو اسلامی مملکت کے سربراہ کو یہ اختیار ہے کہ وہ ان معاہدوں کو علی الاعلان منسوخ کردے اور اس کی اطلاع فریق مخالف کو بھی دے دے اور پھر اس کا اختیار ہے کہ وہ جس وقت چاہے اس قسم کے خائنوں اور غداروں پر ضرب لگائے اور یہ ضرب اس قدر شدید ہو اور اس قدر سبق آموز ہو کہ کوئی کینہ پرور کھلے طور پر یا خفیہ طور پر اسلامی مملکت کے خلاف کسی راہ میں رکاوٹ بھی نہ بنیں یا یہ کہ وہ ہر شخص تک دعوت اسلامی کے پہنچنے میں مزاحم نہ ہوں تو اسلامی حکومت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ ایسے لوگوں کے ساتھ کوئی معاہدہ کرے اور جب تک ان سے کسی بدنیتی کا ظہور نہ ہو وہ ان کے ساتھ عہد پر قائم رہے۔
پڑوسی مملکتوں کے درمیان عملی حالات کا یہ ایک عملی ضابطہ ہے۔ یہ ضابطہ باہم تعلقات کو اس وقت تک ختم نہیں کرتا جب تک اسلامی مملکت کے پڑوسی ممالک دعوت اسلامی کے پھیلاؤ کی راہ میں کوئی مادی رکاوٹ کھڑی نہیں کردیتے اور لوگوں کے کانوں تک اسلام کی تبلیغ کی رسائی کو ختم نہیں کردیا جاتا۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ تحفظ بھی دیا جاتا ہے کہ یہ معاہدے دشمن کے یے سازشوں اور یشہ دوانیوں کا سبب نہ بن جائیں اور ان معاہدوں کے پس پردہ یہ لوگ اسلامی مملکت پر اچانک اور غدارانہ ضرب لگانے کا ارادہ نہ رکھتے ہوں۔
وہ عملی حالات کیا تھے جن میں یہ ہدایات نازل ہوئیں۔ جب امت مسلمہ ہجرت کرکے مدینہ کو گئی تو اس وقت وہاں مسلمانوں کو جو حالات درپیش تھے ان کی تلخیص امام ابن قیم نے زاد المعاد میں یوں کی ہے : " جب حضور مدینہ تشریف لائے تو ان کے اور کفار کے درمیان تین قسم کے تعلقات تھے۔ ایک قسم کے لوگ وہ تھے جنہوں نے حضور کے ساتھ مصالحت کی اور وعدہ کیا کہ وہ آپ کی مخالفت نہ کریں گے۔ آپ کے ساتھ جنگ نہ کریں گے نہ آپ کے دشمنوں کے ساتھ موالات کریں گے اور امداد دیں گے اور وہ اپنے کفریہ نظریات پر قائم رہیں گے اور پر امن رہیں گے۔ ان کا خون اور مال محفوظ ہوگا۔ دوسری قسم ان لوگوں کی تھی جو آپ کے دشمن اور محارب تھے اور تیسری قسم ان لوگوں کی تھی جنہوں نے نہ تو عہد کیا اور نہ ہی آپ کے ساتھ جنگ کی بلکہ وہ انتظار کرتے رہے کہ دیکھیں اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ ان لوگوں میں سے بعض تو ایسے تھے جو آپ کی کامیابی کے دل سے خواہاں تھے اور بعض ایسے تھے جو آپ کے دشمنوں کی کامیابی اور فتح چاہتے تھے۔ اور بعض ایسے تھے جو مسلمانوں کی صفوں میں بظاہر شریک ہوگئے تھے لیکن فی الباطن وہ دشمنوں کے ساتھ تھے۔ یہ منافقین تھے ، تو حضور نے ان لوگوں کے ساتھ ویسا ہی سلوک کیا جس کا رب تعالیٰ نے حکم دیا۔
جن لوگوں نے آپ کے ساتھ عہد امن کیا اور وعدہ کیا وہ مدینہ کے ارگرد رہنے والے تین یہودی قبائل تھے۔ بنی قینقاع ، بنو النضیر اور بنو قریظہ اور ان کے علاوہ بعض مشرک قبائل بھی تھے جو مدینہ کے ارد گرد بستے تھے۔
بظاہر یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ حالات وقتی حالات تھے اور عملی حالات تھے ، جو مسلمانوں کو درپیش تھے۔ اور اسلامی مملکت یا اسلامی نظام کے مستقل بین الاقوامی ضوابط نہ تھے۔ کیونکہ بعد میں ان کے اندر ترمیمات کی گئیں۔ اور سورت براءت میں جو احکام وارد ہوئے وہ آخری احکام تھے۔
بین الاقوامی تعلقات جن مراحل سے گزرے ان کا ذکر ہم نے امام ابن القیم کی کتاب زاد المعاد سے پارہ نہم میں نقل کیا تھا " یہاں مناسب ہے کہ دوبارہ وہ اقتباس دے دیا جائے۔
" بعثت سے لے کر وفات تک کفار اور منافقین کے ساتھ آپ کا طرز عمل " اس عنوان کے تحت وہ رقم طراز ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے آپ کی طرف یہ وحی نازل کی کہ " آپ اپنے رب کے نام سے پڑھیں " یوں ہوا آپ کی نبوت کا آغاز ، اس وقت جو حکم دیا گیا تھا وہ یہ تھا کہ آپ اپنے دل میں پڑھیں۔ ابھی آپ کو تبلیغ کا حکم نہ ملا تھا ، کچھ عرصہ بعد یہ آیت نازل ہوئی یا ایہا المدثر قم فانذر یعنی اقراء سے آپ کو نبوت ملی اور یا ایہا المدثر سے آپ کو منصب رسالت عطا ہوا اور حکم دیا گیا کہ آپ اپنے رشتہ داروں کو ڈرائیں ، رشتہ داروں کے بعد آپ نے اپنی قوم کو انجام بد سے ڈرایا۔ قوم کے بعد مکہ مکرمہ کے ارگرد پھیلے ہوئے قبائل کو تبلیغ کی۔ اس کے بعد یہ پیغام پوری عرب دنیا تک عام کردیا گیا اور بالآخر اس دعوت کو بین الاقوامی دعوت بنا دیا گیا۔
دعوت اسلامی کا کام شروع کرنے کے بعد نبی ﷺ کئی سال تک صرف وعظ اور تبلیغ کرتے رہے اور طاقت کا استعمال نہ کیا ، بلکہ آپ کو حکم دیا گیا کہ آپ صبر اور درگزر سے کام لیں اور اینٹ کا جواب پتھر سے نہ دیں۔ ایک عرصہ بعد آپ کو ہجرت کی اجازت دی گئی اور ساتھ ہی دشمنوں سے لڑنے کی بھی اجازت دی گئی تاہم یہ اجازت اس حد تک تھی کہ صرف ان لوگوں سے جنگ کی جائے جو لڑنے کے لیے میدان میں اتر آئیں اور دوسروں سے نہ لڑا جائے۔ سب سے آخر میں یہ حکم دیا گیا کہ کفار اور مشرکین سے اس وقت تک جنگ جاری رکھی جائے جب تک دین اللہ کے لیے خالص نہیں ہوجاتا۔ (لیکون الدین کلہ للہ) جس وقت آپ کو جہاد کا حکم دیا گیا ، اس وقت حضور اور کفار کے درمیان تعلقات کی صرف تین شکلیں تھیں ، اہل صلح ، اہل حرب اور اہل ذمہ ، اہل صلح یعنی جن کے ساتھ امن کے معاہدات ہوئے تھے ، ان کے بارے میں حکم ہوا کہ عہد کو آخر تک نبھایا جائے ، لیکن صرف اس صورت میں کہ جانب مخالف اپنے معاہدے کا پابند ہو اور اگر وہ عہد شکنی اور غداری کریں تو آپ بھی معاہدہ ان کے منہ پر دے ماریں ، البتہ ایسے لوگوں کے ساتھ عملاً جنگ اس وقت تک نہ چھیڑی جائے جب تک انہیں باقاعدہ اطلاع نہ دی جائے کہ معاہدہ ختم ہوچکا ہے۔ جب سورة براءت نازل ہوئی تو ان تمام اقسام کے احکام علیحدہ علیحدہ بیان ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے ، نبی ﷺ کو حکم دیا کہ وہ اہل کتاب (یہود و نصاری) سے اس وقت تک لڑیں کہ یا وہ جزیہ قبول کریں اور یا اسلام میں داخل ہوجائیں اور مشرکین اور منافقین سے بھی جہاد کا حکم دیا گیا۔ نیز منافقین سے مزید سختی برتنے کا حکم دیا گیا۔ کفار کے ساتھ آپ کا جہاد مسلح جنگ کی شکل میں تھا اور منافقین کے ساتھ زبان اور دلیل سے۔
سورة براۃ میں یہ حکم بھی دیا گیا کہ کفار کے ساتھ کیے ہوئے تمام معاہدات کو ختم کردیا جائے اور علی الاعلان ان سے براءت کا اظہار کردیا جائے۔ اس اعلان کے بعد اہل عہد کی تین اقسام قرار پائیں ، وہ جن کے ساتھ جنگ کا حکم دیا گیا۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے عہد شکنی کی تھی اور اپنے عہد پر قائم نہیں رہے تھے ، ان لوگوں کے ساتھ حضور نے جنگ کی اور ان پر فتح پائی۔ دوسری قسم ان لوگوں کی تھی جن کے ساتھ عہد تھا اور وہ اسے نبھاتے بھی رہے۔ آپ کو حکم دیا گیا کہ ان کے ساتھ جو معاہدہ ہے اسے مقرر مدت تک برقرار رکھا جائے اور شرائط کی پابندی کی جائے۔ تیسری قسم ایسے لوگوں کی تھی کہ جن کے ساتھ اگرچہ معاہدہ تو نہ تھا لیکن یہ لوگ آپ کے خلاف کسی جنگ میں بھی شریک نہ ہوئے تھے یا ان کے ساتھ تعین مدت کے بغیر معاہدہ طے پا گیا تھا ، ایسے لوگوں کے بارے میں حکم ہوا کہ انہیں چار ماہ کی مہلت دی جائے اور ان سے کہہ دیا جائے کہ اس کے بعد کوئی معاہدہ نہیں کیا جائے گا۔ یا مسلمان ہوجاؤ ورنہ لڑنے کے لیے تیارہ ہوجاؤ۔
چناچہ انہی ہدایات کے مطابق آپ نے عہد شکنوں کے ساتھ جنگ کی ، اور جن کے ساتھ کوئی عہد نہ تھا انہیں چار ماہ کی مہلت دی اور راست باز معاہدین کے ساتھ اپنا عہد پورا کیا اور ایسے تمام لوگ معاہدہ کی مدت پوری ہونے سے پہلے ہی اہل ایمان اور مسلمانوں کا جزو بن گئے اور اہل ذمہ پر جزیہ عائد ہوا۔
جیسا کہ کہا گیا سورة براءت کے نزول کے بعد کفار کے ساتھ آپ کے تعلقات تین قسم کے رہ گئے تھے یعنی محارب ، اہل ذمہ اور اہل عہد اور چونکہ اہل سب کے سب اسلام میں داخل ہوگئے تھے ، اس طرح صرف اہل ذمہ اور اہل حرب ہی باقی رہ گئے۔ اہل حرب کی حالت یہ رہتی تھی کہ آپ کے دور میں وہ ہمیشہ آپ سے خائف رہتے تھے۔
چناچہ حضور ﷺ کی عمر کے آخری دور میں حضور اور تمام انسانوں کے تعلقات کی نوعیت صرف یہ رہ گئی تھی کہ ان میں سے بعض مسلم اور مومن تھے ، بعض آمن اور مسالم تھے اور بعض آپ سے خائف اور محارب تھے۔
منافقین کے ساتھ آپ کا طرز عمل یہ تھا کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا کہ آپ ان کے اعلان اسلام کو قبول فرمائیں اور ان کے باطن کو اللہ کے سپرد کردیں اور ان کے مقابلے میں علم و استدلال کے ہتھیار ہی استعمال کریں اور ان کے ساتھ سرد مہری کا رویہ اختیار کریں اور ان سے سختی برتیں اور ان کی نفسی کیفیات کو ملحوظ رکھتے ہوئے اپنے ارشادات عالیہ سے ان کی اصلاح کی سعی کریں۔ ان کی نماز جنازہ میں شرکت نہ کریں اور نہ حضور ان کی قبر پر کھڑے ہوکر دعا کریں اور یہ کہ اگر آپ ان کے لیے دعائے مغفرت مانگ بھی لیں تو بھی اللہ انہیں ہر گز نہ بخشے گا۔ یہ تھا مختصر بیان حضور کے طرز عمل کا اپنے کفار اور منافق دشمنوں کے ساتھ "
اس تلخیص کے مطالعہ ، واقعات سیر کے مطالعہ اور ان آیات کے شان نزول کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جن حالات میں سورت انفال نازل ہوئی وہ حالات ، مدینہ کے ابتدائی حالات اور سورت توبہ میں پیش کردہ آخری حالات کے درمیان ایک عبوری مرحلہ تھا۔ لہذا ان تاریخی مراحل کو ذہن میں رکھتے ہوئے ان آیات کا مطالعہ ضروری ہے۔ اگرچہ ان میں بعض حتمی اصول بھی موجود ہیں لیکن یہ آخری شکل میں سورت توبہ میں دی گئی اور عملی طور پر ان اصولوں کو حضور ﷺ کی سیرت کے آخری ایام میں نافذ کیا گیا۔
ابن قیم کے اس تفصیلی بیان کی روشنی میں اب ہم ان نصوص قرآنی کی تشریح کرتے ہیں :
اِنَّ شَرَّ الدَّوَاۗبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فَهُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ ۔ اَلَّذِيْنَ عٰهَدْتَّ مِنْهُمْ ثُمَّ يَنْقُضُوْنَ عَهْدَهُمْ فِيْ كُلِّ مَرَّةٍ وَّهُمْ لَا يَتَّقُوْنَ ۔ یقیناً اللہ کے نزدیک زمین پر چلنے والی مخلوق میں سب سے بدتر وہ لوگ ہیں جنہوں نے حق کو ماننے سے انکار کردیا۔ پھر کسی طرح وہ اسے قبول کرنے پر تیار نہیں ہیں۔ (خصوصا) ان میں سے وہ لوگ جن کے ساتھ تونے معاہدہ کیا پھر وہ ہر موقع پر اس کو توڑتے ہیں اور ذرا خدا کا خوف نہیں کرتے۔
لفظ دواب کا اطلاق اگرچہ لغوی طور پر ان تمام چیزوں پر ہوتا ہے جو زمین پر چلتی پھرتی ہیں۔ لہذا انسان پر بھی اس لفظ کا اطلاق ہوتا ہے ، لیکن جب اس کا اطلاق انسانوں پر کیا جائے تو اس وقت بات کو ایک خاص رنگ دینا بھی مطلوب ہوتا ہے۔ یعنی انسانیت کو حیوانیت کا رنگ اور شیڈ دینا مطلوب ہوتا ہے۔ اس طرح جن انسانوں پر اس لفظ کا اطلاق کیا جاتا ہے ، ان کے بارے میں یہ تاثر دے دیا جاتا ہے کہ وہ بدترین بہائم ہیں۔ اور یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے کفر کی روش اختیار کرلی ہے اور ان کے حالات ان کو یہاں تک لے آے ہیں کہ اب وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ کیونکہ ان لوگوں کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ عہد کو تو توڑتے ہیں اور اللہ سے نہیں ڈرتے۔
اس آیت سے مراد کون لوگ ہیں ؟ اس کے بارے میں متعدد روایات وارد ہیں۔ بعض لوگوں نے کہا کہ یہ بنو قریظہ ہیں۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ بنونضیر ہیں۔ بعض روایات میں یہ کہا گیا ہے کہ یہ بنوقینقاع ہیں۔ بعض میں یہ کہا گیا کہ اس سے وہ عرب مراد ہیں جو مدینہ کے اردگرد رہتے تھے۔ اس آیت کے الفاظ اور تاریخی واقعات دونوں بناتے ہیں کہ اس سے مراد یہ سب لوگ ہوسکتے ہیں کیونکہ یہودیوں میں سے ہر گروہ نے اپنی اپنی جگہ حضور کے ساتھ عہد شکنی کی۔ اور مدینہ کے ارد گرد مشرکین نے بھی بار بار عہد شکنی کی۔ حقیقت یہ ہے کہ اس آیت میں بدر سے پہلے اور بعد میں پیش ہونے والے سب واقعات پر تبصرہ کیا ہے۔ لیکن جو حکم دیا گیا ہے وہ قیامت تک کے لیے ہے اور ان تمام لوگوں پر اور تمام حالات پر صادق ہوگا جو قیامت تک اسی نہج پر پیش آئیں گے۔
یہ لوگ جنہوں نے کفر کی راہ اختیار کی یہ لوگ کفر میں دور تک چلے گئے ہیں اور انہوں نے ایسی روش اختیار کی ہے کہ اب ان کے ایمان کا کوئی امکان نہیں رہا ہے۔ اس طرح ان کی فطرت میں بگاڑ داخل ہوگیا ہے۔ اور وہ جانوروں میں سے بدترین جانور بن گئے۔
ان لوگوں کا رویہ یہ ہے کہ یہ جو عہد بھی کرتے ہیں اسے توڑتے ہیں۔ تو اس طرح وہ انسانیت کے ایک اہم خاصہ یعنی وفائے عہد سے پاک ہوگئے ہیں ، یہ ہر قید و بند سے اس طرح آزاد ہوگئے ہیں جس طرح بہائم آزاد ہوتے ہیں ، اگرچہ بہائم تو اپنے فطری ضابطے کے اندر جکڑے ہوئے ہیں اور ان لوگوں کے لیے چونکہ کوئی جبری فطری ضابطہ نہیں اس لیے وہ اللہ کے نزدیک بہائم سے بھی بد تر مخلوق تصور ہوتے ہیں۔
ایسے لوگ کہ جن کے عہد و پیمان پر کوئی مطمئن نہ ہو اور ان کی ہمسائیگی محفوظ نہ ہو۔ ان کے لیے یہی موزوں جزاء و سزا ہے کہ ان کو امن و اطمینان سے محروم کردیا جائے۔ جس طرح خود انہوں نے دوسرے لوگوں کو امن سے محروم کردیا ہے۔ ان کی سزا یہ ہے کہ ان کو خوفزدہ کردیا جائے ، علاقے سے نکال دیا جائے اور ان کے ہاتھ توڑ کر رکھ دیے جائیں۔ ان پر ایسی ضرب لگائی جائے کہ نہ صرف و خوفزدہ ہوجائیں بلکہ ان کے پیچے رہنے والے تمام لوگوں کے لیے یہ ضرب عبرت بن جائے۔ جس طرح رسول اللہ ﷺ کے لیے یہ حکم ہے۔ اسی طرح آپ کے بعد کے آنے والوں کے لیے بھی یہی حکم ہے۔ اگر ان کو ایسے لوگوں سے واسطہ پڑے تو یہی رویہ اختیار کریں۔
یہ ایک عجیب انداز کلام ہے۔ اس میں ایک خوفناک گرفت اور ہولناک رعب و دبدبہ کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ اس کے سنتے ہی انسان بھاگنے اور اپنا مقام چھوڑنے پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔ یہ حال تو ان لوگوں کا ہوجائے گا جو سنیں اور دیکھیں۔ رہے وہ لوگ جن کو یہ سزا دی جائے تو ان کی حالت تو معلوم ہے کہ کیا ہوگی ؟ یہ وہ ضرب ہے جس کا حکم اللہ نے اپنے رسول کو دیا ہے اور خوفناک ہونے کے ساتھ ساتھ وہ ان لوگوں کے لیے عبرتناک بھی ہے جنہوں نے نقص عہد کی تیاری کر رکھی ہو ، جنہوں نے انسانی قواعد و ضوابط کو چھوڑ دیا ہو۔ یہ ہدایات اس لیے دی گئیں تاکہ اسلامی محاذ امن کا سانس لے اور اس کی ہیبت کی وجہ سے خارجی قوتیں ، جو بھی ہوں ، اس قدر سہم جائیں کہ وہ اسلام کے پھیلاؤ کی راہ میں رکاوٹ نہ بنیں خواہ وہ قریب کی ہوں یا دور کی ہوں۔
اسلامی نظام حیات کا یہ مزاج ہے اور اسلامی تحریک کے ذہن میں اسے اچھی طرح بیٹھ جانا چاہیے کہ اس دین کے لیے ہیبت اور رعب ضروری ہے ، اس کے لیے قوت ضروری ہے۔ اس کے لیے خوفناک شان لازمی ہے اور یہ ضروری ہے کہ ان طاغوتی قوتوں کو مرعوب کردیا جائے تاکہ وہ اسلام کے پھیلاؤ کی راہ میں رکاوٹ نہ بنیں ، اس لیے کہ اسلام پورے کرہ ارض پر انسانوں کی آزادی کا علمبردار ہے اور وہ انسان کو ہر طاغوتی قوت سے نجات دینا چاہتا ہے ، جن لوگوں کا خیال یہ ہے کہ اس دین کا طریق کار یہ ہے کہ محض دعوت و تبلیغ سے کام لیا جائے اور ان مادی رکاوٹوں کو نہ چھیڑا جائے جو طاغوت نے کھڑی کردی ہیں ، وہ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے اس دین کے مزاج کو بالکل نہیں سمجھا ہے۔
یہ تو تھا پہلا حکم ان لوگوں کے بارے میں جنہوں نے عملاً نقص عہد کا ارتکاب کرلیا تھا۔ ان کے بارے میں یہ کہا گیا کہ ان کی ایسی خبر لی جائے اور ان پر ایسی فیصلہ کن ضرب لگائی جائے کہ ان کے لیے اور کے بعد دوسرے دیکھنے سننے والوں کے لیے عبرت ہو اور ان کے کیمپوں میں خوف طاری کردے۔
دوسرا حکم ان لوگوں کے بارے میں ہے جس سے نقص عہد کی علامات کا ظہور ہوچکا ہو اور یہ توقع پیدا ہوگئی ہو کہ وہ جلدہی نقص عہد کا ارتکاب کریں گے۔ اور یہ علامات واضح ہوں تو ایسے لوگوں کے بارے میں یہ حکم ہے کہ اور اگر کبھی تمہیں کسی قوم سے خیانت کا اندیشہ ہو تو اس کے معاہدے کو علانیہ اس کے آگے پھینک دو ، یقیناً اللہ خائنوں کو پسند نہیں کرتا۔
اسلام معاہدہ اس لیے کرتا ہے کہ وہ اس پر عمل کرے ، جب فریق دوم عمل کا ارادہ نہ رکھتا ہو تو وہ اس عہد کو منسوخ کرنے کا اعلان اس کے سامنے رکھ دیتا ہے اور علانیہ اس کو ختم ردیتا ہے۔ خیانت اور غداری کا اسلام قائل نہیں ہے۔ دھوکے اور چالبازی کا بھی اسلام روادار نہیں ہے۔ اسلام فریق دوئم کو علانیہ ببانگ دہل کہتا ہے کہ اس نے اس عہد کو منسوخ کردیا ہے لہذا اب کوئی فریق بھی اس عہد کے مشمولات کا پابند نہیں ہے۔ اس طرح اسلام انسانیت شرف اور ثابت قدمی کا مقام و مرتبہ عطا کرتا ہے اور امن و اطمینان کا وسیع دائرہ عطا کرتا ہے۔ اسلام یہ گوارا نہیں کرتا کہ وہ شب خون اور وعدہ خلافی کرکے ایسے لوگوں پر حملہ کردے جو عہد و میثاق کی بنا پر مطمئن بیٹے ہوں اور ان وک یہ نوٹس نہ ہو کہ حملہ آور فریق نے عہد ختم کردیا ہے۔ اسی طرح اسلام ایسے لوگوں کو خوفزدہ کرنا بھی نہیں چاہتا۔ جنہوں نے احتیاطی تدابیر اختیار نہ کی ہوں اور جن سے اسلام کو صرف خیانت کا خطرہ درپیش ہو ، ہاں عہد کے ختم کردیے جانے کے بعد جنگ کے دوران چالیں چلی جاسکتی ہیں کہ جنگ کے دوران جنگی چالیں جائز ہیں کیونکہ دشمن کو نوٹس مل گیا ہے۔ اس نے احتیاطی تدابیر اختیار کرلی ہیں۔ اب اگر اس کے خلاف کوئی جنگی چال چلی جاتی ہے تو وہ معذور نہیں ہے بلکہ غافل ہے اور غافلوں کے خلاف اگر کوئی جنگی چال چلی جاتی ہے تو وہ غداری نہیں ہے۔
اسلام انسانیت کی سطح کو بلند کرنا چاہتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ انسانیت آلودگیوں سے پاک ہو۔ لہذا غلبے کے لیے غداری کو اسلام جائز نہیں سمجھتا۔ جبکہ وہ اعلی مقاصد کے لیے جدوجہد کر رہا ہو ، کیونکہ اعلی مقاصد کے لیے شریفانہ اسلوب اختیار کرنا ضروری ہے۔
اسلام خیانت کے سخت خلاف ہے اور وہ ان لوگوں کو بہت ہی حقیر سمجھتا ہے جو نقص عہد کے مرتکب ہوئے ہیں لہذا اسلام اپنے پیروکاروں کو عہد میں خیانت کی اجازت نہیں دیتا۔ اگرچہ جن اہداف و غآیات کے لیے یہ حرکت کی جارہی ہو ، وہ بہت ہی بلند ہوں۔ نفس انسانی کے حصے بخرے نہیں کیے جاسکتے۔ ایک بار انسان حقیر اور خسیس طریقے کرنا شروع کردے وہ کبھی بھی اعلی اور شریفانہ طرز عمل اختیار نہیں کرسکتا۔ وہ شخص مسلمان نہیں ہے جو اچھے مقاصد کے لی ہر قسم کے ذرائع استعمال کرنے کو جائز سمجھتا ہو۔ لہذا یہ اصول اسلامی سوچ اور اسلامی شعور کے لیے بالکل اجنبی ہے کیونکہ اسلامی ذہنیت میں مقاصد اور وسائل کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے ، کیونکہ ایک مسلمان اگر پاک و صاف جگہ پر پہنچنا چاہتا ہے تو وہ گندے کیچڑ سے ہو کر نہ گزرے گا کیونکہ ان کے گندے پاؤں صاف جگہ کو بھی گندا کردیں گے۔ اگر کوئی اسے جائز سمجھتا ہے تو وہ خائن ہے اور اللہ خائنوں کو پسند نہیں کرتا۔ ان اللہ لایحب الخائنین ہمیں یہاں ذرا یہ غور کرنا چاہیے کہ جن حالات میں یہ احکام نازل ہو رہے تھے۔ ان حالات میں انسانیت کا مقام کیا تھا۔ ان میں انسانیت کے سامنے اس قدر بلند نصب العین نہ تھا۔ اس دور میں باہم لڑنے والے جنگل کے قانون پر عمل پیرا ہوتے تھے۔ اس وقت ڈنڈے کا قانون چل رہا تھا اور ڈنڈے اور لوٹ پر کوئی قید و بند نہ تھا اور اس وقت سے لے کر اٹھارہویں صدی تک دنیا میں یہی جنگل کا قانون مروج رہا ہے اور یورپ تو خصوصاً اس قدر اندھیرے میں تھا کہ اسے اس وقت تک قانون بین الاقوام کا علم ہی نہ تھا۔ یہ روشنی اس نے اس وقت حاصل کی تھی جب اس کا واسطہ اسلامی ممالک سے بڑا اور آج تک بین الاقوامی معاملات میں یورپ اس مقام تک نہیں پہنچ سکا جس تک اسلامی نظام ایک جست میں پہنچا۔ حالانکہ یورپ نے کم از کم بین الاقوامی قانون کا نام سن لیا تھا۔ جو لوگ آج یورپ کی صنعتی ترقی سے مروعب ہیں ان کو اس موضوع پر غور کرنا چاہیے اور اسلام کے بین الاقوامی قانون اور دور جدید کے قانون نظاموں کا تقابلی مطالعہ کرنا چاہیے۔ تاکہ وہ حقیقی صورت حال سے آگاہ ہوں۔
ان ہدایات اور صاف ستھری پالیسی کے نتیجے میں اللہ وعدہ کرتا ہے کہ اس کے نتیجے میں مسلمانوں کو فتح و سرخروئی حاصل ہوگی اور یہ کہ ان کے لیے کفار کی قوت کا مقابلہ بہت ہی آسان ہوجائے گا۔
ان لوگوں کے خفیہ مشورے اور بد عہدی کے ارتکاب کے بارے میں منصوبے ان کو کامیاب اور مسلمانوں پر برتری عطا نہ کرسکیں گے کیونکہ اللہ مسلمانوں کی پشت پر ہے۔ اور خائن لوگ اللہ سے بچ کر نہیں نکل سکتے۔ کفار کو جب اللہ پکڑنا چاہے تو وہ اس کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ اور جب اللہ مسلمانوں کی مدد کرنا چاہے تو یہ ان کو شکست نہیں دے سکتے۔
اس لیے وہ لوگ جو اچھے مقاصد کے لیے اچھے ذرائع اختیار کرتے ہیں ، اگر ان کی نیت درست ہے تو انہیں مطمئن رہنا چاہیے کہ اوچھے ہتھیار استعمال کرنے والے ان سے آگے نہیں بڑھ سکتے۔ اس لیے کہ انہیں اللہ کی امداد حاصل ہے اور وہ اس کراہ ارض پر سنت الہی قائم کرنا چاہتے ہیں ، وہ اللہ کے کلمے کو بلند کرنے کے لیے جدوجہد کررہے ہیں۔ وہ اللہ کا نام لے کر چلتے ہیں اور ان کا نصب العین یہ ہے کہ لوگوں کو تمام غلامیوں سے نکال کر صرف اللہ کی بندگی اور غلامی میں داخل کردیں اور اس میں اللہ کے ساتھ کوئی بھی شریک نہ ہو۔
لیکن اسلام یہ حکم بھی دیتا ہے کہ جماعت مسلمہ کے دائرہ قوت کے اندر جو بھی ہوسکے وہ جائز ذرائع اختیار کرے اور تیاری کرے ، اگرچہ ان کو یہ اطمینان ہے کہ انہیں نصرت خداوندی حاصل ہے ، تاہم پھر بھی ان کا فرض ہے کہ وہ اپنی تیاری مکمل رکھیں اور وہ وسائل فراہم کریں جن کو انسانی فطرت جانتی ہے اور جو انسانوں کے تجربے کے اندر ہیں ، اسلام ان لوگوں کو عالم بالا کی نصرت کی طرف دیکھنے کا مشورہ اس وقت دیتا ہے جب وہ ظاہری اعتبار سے اپنی مکمل تیاری کرلیں اور حقیقت پسندانہ جدوجہد کے لیے تیار ہوں تاکہ وہ اعلی اہداف حاصل کیے جاسکتے ہوں جو اسلام کے پیش نظر ہیں۔
اپنی قوت اور مقدرت کے مطابق تیاری کرنا فریضہ جہاد کے ساتھ ساتھ ضروری ہے۔ یہ آیت حکم دیتی ہے مسلمانوں کو مختلف قسم کی جنگی تیاریاں اور سازوسامان فراہم رکھنا چاہئے اور یہاں خصوصا تیار بندھے رہنے والے گھوڑوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ کیونکہ یہ اس وقت کے جنگی سامان کا اہم حصہ تھے ، جس وقت قرآن کریم نازل ہو رہا تھا۔ اگر قرآن کریم اس وقت گھوڑوں کے بجائے موجودہ دور کے سازوسامان کی تیاری کا حکم دیتا تو یہ ایک نامعلوم اور حیران کن سازوسامان کا حکم ہوتا اور وہ سن کر ہی حیران ہوجاتے۔ اس لیے اللہ نے لوگوں کی ذہنی سطح کے مطابق بات کی اور اللہ سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ ایسی بات کرے جسے مخاطب سمجھ ہی نہ سکیں۔ مناسب بات یہی ہے ، عام حکم دیا جائے اور وہ یہ ہے واعدوا لھم ما استطعتم من قوۃ " اور تم جہاں تک تمہارا بس چلے ، زیادہ سے زیادہ طاقت تیار رکھو "۔ اسلام کے لیے ضروری ہے کہ اس کے پاس ضروری قوت موجود ہو اور وہ اس قوت کے بل بوتے پر آگے بڑھے اور تمام انسانوں کو تمام غلامیوں سے رہا کرائے۔ چناچہ اس قوت کا پہلا فریضہ یہ ہے کہ وہ لوگوں کو اس قدر آزاد کرادے کہ وہ کوئی بھی نظریہ قبول کرنے میں آزاد ہوں۔ انہیں کوئی روکنے والا نہ ہو اور نہ دنیا میں ایسی قوت ہو کہ کسی کسی مخصوص عقیدے کے اختیار پر مجبور کرسکتی ہو۔ دوسرا فریضہ یہ ہے کہ یہ قوت دین اسلام کے دشمنوں کو اس قدر خوفزدہ کردے کہ وہ اسلامی قوت کے مرکز دار الاسلام پر حملے کے بارے میں سوچ ہی نہ سکیں۔ اور تیسرا فریضہ یہ ہے کہ دین اسلام کے دشمنوں کو اس قدر مرعوب کردیا جائے کہ وہ اسلام کی راہ روکنے کے بارے میں کسی بھی وقت نہ سوچیں۔ تاکہ اسلامی تحریک اس کرہ ارض پر بسنے والے تمام انسانوں کو آزاد کرسکے۔ اور چوتھا فریضہ یہ ہے کہ ہی اسلامی قوت ان تمام قوتوں کو پاش پاش کرکے رکھ دے جو اللہ کے مقابلے میں اپنی حاکمیت قائم کرتی ہیں اور لوگوں پر اللہ کے مقابلے میں اپنی حاکمیت اور اپنا قانون جاری کرتی ہیں اور وہ یہ اعتراف نہیں کرتیں کہ حق حاکمیت صرف اللہ کو حاصل ہے۔ کیونکہ وہی الہ ہے ، وحدہ لاشریک۔
اسلام کوئی اس لاہوتی نظام نہیں ہے جس کا تعلق صرف عقائد و نظریات سے ہو ، یا وہ کچھ مراسم عبودیت میں دخیل ہو اور آگے بس اس کا کام ختم ہو۔ بلکہ اسلام پوری زندگی کا ایک عملی نظام ہے اور وہ تمام دوسرے نظاموں کے مقابلے میں آکر کھڑا ہوتا ہے اور وہ ان تمام قوتوں سے برسر پیکار ہوجاتا ہے جو ان باطل نظآموں کی پشت پر کھڑی ہوتی ہیں۔ لہذا اس کے سوا اسلام کے لیے اور کوئی راستہ ہی نہیں ہے کہ وہ اپنی راہ میں حائل ہونے والی تمام قوتوں کو پاش پاش کرکے رکھ دے کیونکہ یہ قوتیں اسلام کی راہ روکتی ہیں اور اسے قائم ہونے نہیں دتیں بلکہ یہ قوتیں ، اسلام کے بالمقابل دوسرے نظآم قائم کرتی ہیں۔
اس عظیم حقیقت کے اعلان کے وقت کسی بھی مسلمان کو شف شف نہیں کرنا چاہئے اور نہ جلدی جلدی سرسری بات کرنا چاہئے کہ کوئی سمجھ بھی نہ سکے۔ پھر اس حقیقت کا اعلان کرتے ہوئے مسلمانوں کو شرم بھی محسوس نہ کرنا چاہیے بلکہ انہیں اس حقیقت کا اعلان سر اٹھا کر کرنا چاہیے اور یہ کہنا چاہیے کہ یہ در اصل انسان کی آزادی کی تحریک ہے اور وہ اس کا علمبردار ہے۔ یہ کسی انسانی نظام حیات کا علمبردار نہیں ہے ، نہ کسی لیڈر کی حکومت کا قیام چاہتا ہے۔ نہ کسی طبقے کی نسلی گروہ اور فرقے کی حکومت چاہتا ہے۔ اس کا نصب العین یہ نہیں ہے کہ وہ مزارعین کو غلام بنائے تاکہ وہ جاگیر داروں کی خدمت کریں جیسا کہ رومی تہذیب والوں کا مقصد تھا ، اور اس کا مقصد یہ بھی نہیں ہے کہ دنیا پر قبضہ کرکے تمام دنیا کے خام مال پر قبضہ کیا جائے اور اپنی صنعتوں کو فیڈ کیا جائے جس طرح مغربی استعمال کا یہ مقصد تھا اور نہ وہ اس لیے اٹھا ہے کہ کسی علاقے میں کسی پارٹی کی ڈکٹیٹر شپ قائم کرکے دوسرے لوگوں کو مویشیوں کی طرح غلام بنا دے جیسا کہ نظام اشتراکیت میں تھا۔ یہ تو علیم وخبیر اور حکیم وبصیر کے اقتدار اعلی کے قیام کا علمبردار ہے۔ وہ اللہ کی حاکمیت کا قیام چاہتا ہے اور دنیا میں تمام انسانوں کو تمام غلامیوں سے نجات دینا چاہتا ہے ۔ اس طرح کہ کوئی بندہ کسی بندے کا غلام نہ ہو۔
یہ ہے وہ عظیم حقیقت جسے شکست خوردہ ذہنیت کے مسلمانوں کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے ، جو دین اسلام اور نظآم اسلامی کی بےجا مدافعت کرتے ہیں اور اس مدافعت میں بھی وہ محض شف شف کرتے ہیں اور کوئی بات صاف ستھری اور واضح نہیں کرسکتے اور اسلام کے نظریہ جہاد کے لیے عذر لنگ تلاش کرتے ہیں۔ ـ(تفصیلات کے لیے دیکھئے ابو الاعلی مودودی امیر جماعت اسلامی پاکستان کا قیمتی رسالہ الجہاد فی الاسلام) نیز ہم نے سورت انفال کے مقدمے میں اسلام کے نظریہ جہاد پر جو تفصیلی بحث کی ہے اس کا مطالعہ بھی ضروری ہے۔
پھر اس آیت میں ہمیں جس حد تک تیاری کرنے کا حکم دیا گیا ہے اس کی حدود کا بھی ہمیں اچھی طرح علم ہونا چاہی کہ و اعدوا لھم ما ستطعتم۔ یعنی جس قدر تمہاری استطاعت میں ہو یعنی تیاری میں اپنی پوری قوت صرف کردو ، یعنی جنگ اور فتح کے تمام وسائل فراہم کیے جائیں یعنی ممکن حد تک۔
پھر اس آیت میں تیار کی غرض وغایت بھی بتا دی گئی ہے کہ اس کی غرض یہ ہے ترھبون بہ عدو اللہ و عدوکم و اخرین من دونہم لا تعلمونہم اللہ یعلمہم۔
تاکہ اس کے ذریعے تم اپنے دشمنوں اور اللہ کے دشمنوں کو اور ان دوسرے اعدا کو خوفزدہ کرسکو جنہیں تم نہیں جانتے مگر اللہ جانتا ہے۔ یعنی اس تیار کے مقاصد یہ ہیں کہ اس سے تمہارے دشمن جو اللہ کے دشمن ہیں ، خوفزہ ہوجائیں۔ ان میں وہ ظاہری دشمن بھی شامل ہیں جن کو مسلمان جانتے ہیں اور کچھ ان کی پشت پر دشمن طاقتیں ہیں جن کا علم مسلمانوں کو تو نہیں ہے لیکن اللہ کو ہے۔ کیونکہ انہوں نے اپنی دشمنی کا اظہار نہیں کیا ہے اور اللہ ان کے دلوں کے بھیدوں سے واقف ہے۔ ان لوگوں کو اسلام کی قوت مرعوب کردے گی۔ اگرچہ ابھی ان کو مسلمانوں کی جنگی قوت عملاً نہ پہنچی ہو۔ غرض مسلمانوں پر یہ بات فرض ہے کہ وہ صاحب قوت ہوں اور ان پر یہ بھی فرض ہے کہ وہ اپنی استطاعت کی حد تک قوت جمع کریں تاکہ وہ زمین کے تمام لوگوں کے لی باعث خوف ہوں اور یہ اس لیے کہ دنیا پر اللہ کا کلمہ بلند ہو اور دین پورے کا پورا اللہ کا ہوجائے۔
اب جنگی تیاریوں کے لیے چونکہ اخراجات ہوں گے اور تھے۔ پھر اس وقت اسلام معاشرہ صرف باہم تکافل پر چل رہا تھا۔ لہذا جنگی تیاریوں کے حکم کے ساتھ ہی حکم دیا گیا کہ اللہ کی راہ میں اپنی دولت کو خرچ کرو۔ وما تنفقوا من شیء فی سبیل اللہ یوف الیکم وانتم لا تظلمون " اور جو کچھ تم اللہ کی راہ میں خرچ کروگے وہ پورے کا پورا تمہیں مل جائے گا اور تم پر ظلم نہ ہوگا " اس طرح اسلام جہاد فی سبیل اللہ اور انفاق فی سبیل اللہ کو تمام دنیاوی اغراض و مقاصد سے پاک کردیتا ہے۔ ان مقاصد کو ذاتی خواہشات سے بلند کردیتا ہے۔ ہر قسم کی قومی ، طبقاتی اور وطنی شعور اور جذابت سے انہیں جدا کردیتا ہے تاکہ وہ محض فی سبیل اللہ ہوں اور اللہ کی رضا مندی کے لیے ہوں۔
یہی وجہ ہے کہ اسلام آغاز ہی سے ان تمام جنگوں کی ممانعت کردیتا ہے جو بعض اشخاص کی برتری کے لیے لڑی جاتی ہیں ، یا بعض حکومتوں کی برتری کے لی لڑی جاتی ہیں یا منڈیوں پر قبضے کے لیے لڑی جاتی ہیں یا لوگوں پر غالب ہونے اور انہیں ذلیل کرنے کے لیے لڑی جاتی ہیں۔ یا ایک ملک کی دوسرے ملک پر برتری کے لیے لڑی جاتی ہیں ، یا ایک قوم کی دوسری قوم پر برتری کے لی لڑی جاتی ہیں یا ایک نسل کی برتری کے لیے یا ایک طبقے کی دوسرے طبقات پر برتری کے لیے لڑی جاتی ہیں اسلام صرف ایک جنگ کی اجازت دیتا ہے یعنی جہاد فی سبیل اللہ۔ اور اللہ یہ نہیں چاہتا کہ کوئی نسل دوسری نسلوں ، یا کوئی وطن اور دوسرے اوطان پر یا کوئی ایک طبقہ دوسرے طبقات پر ، یا فرد دوسرے افراد پر یا کوئی دوسری قوم دوسری اقوام پر غالب ہو کر اپنی حاکمیت ، اپنی حکومت اور اپنا اقتدار اعلی کو قائم کرے۔ وہ تو تمام جہانوں سے بےنیاز ہے۔ وہ تو صرف یہ چاہتا ہے کہ اس کی حاکمیت دنیا میں قائم ہو تاکہ دنیا میں خیر و برکت ، آزادی اور شرافت کا دور دورہ ہو۔ اور یہ صرف اللہ کی حاکمیت کے زیر سایہ ہوسکتا ہے۔
ان آیات میں تیسرا حکم ان اقوام کے بارے میں ہے جو اسلامی کیمپ کے ساتھ دوستی اور امن کا عہد کرنا چاہتے ہیں اور امن و سلامتی کی طرف مائل ہیں اور ان کے ظاہری حالات بھی اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ یہ لوگ فی الواقعہ امن چاہتے ہیں۔
اور اے نبی اگر دشمن صلح و سلامتی کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کے لیے آمادہ ہوجاؤ اور اللہ پر بھروسہ کرو ، یقینا وہی سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے
یہ ایک لطیف انداز تعبیر ہے۔ یعنی پرندے پر امن اور آشتی کی طرف مائل ہیں اور پرندہ اپنے پروں کو نرم کر رہا ہے اور حالت امن اور مصالحت اور موانست کا اظہار ہوتا ہے۔ پھر مصالحت اور موادعت میں توکل علی اللہ کا حکم بھی دیا گیا ہے ، جو سمیع اور علیم ہے وہ ہر بات کو سنتا ہے اور پوشیدہ ارادوں کو دیکھ سکتا ہے اور اللہ پر توکل ایک بہت بڑا ضامن ہے۔
اب ہم ذرا واپس اس تلخیص کی طرف جاتے ہیں جو امام ابن قیم نے اسلامی مملکت کے خارجی تعلقات کے سلسلے میں پیش کی تھی کہ مدینہ کے ابتدائی دور میں حضور کے تعلقات کفار کے ساتھ کیا تھے یعنی جنگ بدر اور ان احکام کے نزول تک۔ تو اس تلخیص سے معلوم ہوتا ہے کہ اس گروہ کا تعلق اس طبقے سے ہے جن کے ساتھ حضور ﷺ نے مسالمت اختیار کرلی تھی اور اس کے ساتھ جہاد و قتال نہ کیا تھا۔ کیونکہ یہ لوگ حضور کے ساتھ صلح پر مائل تھے اور انہوں نے دشمنی کا اظہار نہ کیا تھا۔ اور نہ ہی دعوت اسلامی کی راہ روک کر کھڑے ہوئے تھے۔ نہ وہ اسلامی مملکت کے خلاف کوئی کاروائی کرتے تھے۔ اللہ نے رسول اللہ کو حکم دے دیا تھا کہ ان لوگوں کو اپنے حال پر چھوڑ دیا جائے اور ان کی روشن مصالحت اور امن کو قبول کرلیا جائے (یہ حکم اس وقت تک تھا کہ جب سورت براءت نازل ہوئی اور جن لوگوں کے ساتھ بےقاعدہ معاہدہ نہ تھا ان لوگوں کو ایک متعین مہلت دے دی گئی یا ان لوگوں کے ساتھ عہد تھا مگر اس میں وقت کا تعین نہ کیا گیا تھا اور یہ مدت چار ماہ مقرر کردی گئی تھی اور اس کے اختتام پر بھی تعلقات کا از سر نعین کیا گیا تھا) ۔ لہذا مذکورہ بالا حکم انتہائی اور آخری حکم نہ تھا بلکہ وہ خاص حالات کے اندر مخصوص حکم تھا اور بعد میں آنے والے احکام نے اسے منسوخ کردیا اور خود نبی ﷺ نے بھی اس میں تبدیلیاں کیں۔
ہاں یہ آیت اپنے وقت پر ایک عمومی حکم تھا اور سورت براءت کے نزول تک یہی حکم معمول بہ تھا۔ چھٹی صدی ہجری میں ہونے والا صلح حدیبیہ بھی اس کی ایک مثال تھی۔
بعض فقہاء اس طرف گئے ہیں کہ یہ حکم فائنل اور حتمی ہے اور انہوں نے امن کی طرف میلان جنحوا للسلم کا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ وہ جزیہ ادا کرنے کو قبول کرلیں۔ لیکن یہ رائے تاریخی واقعات کے خلاف ہے۔ کیونکہ جزیہ کے احکام سورت براءت میں نازل ہوئے اور یہ سورت آٹھویں سن ہجری میں نازل ہوئی ہے اور زیر تفسیر آیت تو جنگ بدر کے بعد سن دوئم ہجری میں نازل ہوئی ہے۔ اس وقت جزیہ کے احکام موجود نہ تھے۔ اسلامی نظام حیات کے تحریکی مزاج ، واقعات نزول قرآن اور سیرت کے واقعات کو مد نظر رکھ کر اگر سوچا جائے تو یہ بات قرین قیاس معلوم ہوتی ہے کہ یہ حکم فائنل نہیں ہے۔ اور اس میں سورت براءت میں نازل ہونے والے احکام کے ذریعہ تبدیلی اور ترمیم کی گئی ہے اور جس میں دوسری اقوام کے ساتھ مسلمانوں کے تعلقات کو یوں منضطب کیا گیا ہے کہ یا تو وہ اہل حرب ہوں گے اور مسلمانوں کے خلاف برسر جنگ ہوں گے یا مسلمان ہوں گے اور اللہ کی شریعت کو نافذ کرنے والے ہوں گے یا اہل ذمہ ہوں گے اور جزیہ ادا کرتے ہوں گے۔ اور وہ اس وقت تک اہل ذمہ رہیں گے۔ جب وہ اپنے ذمی ہونے کے عہد پر قائم رہیں گے۔ یہ ہے وہ آخری نوعیت بین الاقوامی تعلقات کی جس پر اسلامی تحریک جہاد منتہی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اگر اور کوئی صورت حال موجود ہو تو وہ دراصل عملی صورت حال ہے اور عملاً موجود ہے لیکن اسلامی نظام اس کی تبدیلی کے لی جدوجہد کرتا ہے اور یہ جدوجہد اس وقت تک جاری رہتی ہے جب تک مذکورہ بالا تین حالات متعین نہیں ہوجاتے جن کا ذکر سورت براءت میں ہوا اور جو آخری احکام ہیں اور یہ آخری احکام مسلم کی روایت میں موجود ہیں جس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔
احمد روایت کرتے ہیں وکیع سے ، سفیان سے ، علقمہ ابن مرثد سے ، سلیمان ابن زید سے ، ان کے باپ سے ، یزید ابن الخطیب اسلمی سے ، یہ کہتے ہیں کہ جب حضور کسی کو لشکر بنا کر بھیجتے یا کسی دستے کا کپتان بنا کر بھیجتے تو اسے نصیحت کرتے کہ خدا خوفی اختیار کرنا اور اپنے ساتھ مسلمانوں کی خیر خواہی کرنا۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا : اللہ کے نام سے جہاد کرو ، اللہ کی راہ میں کرو ، ان لوگوں سے قتال کرو جنہوں نے اللہ کا انکار کیا اور جب تم مشرکوں میں سے اپنے دشمنوں کے ساتھ آمنا سامنا کرو تو انہیں دعوت دو کہ وہ تین پوزیشنوں میں سے کوئی ایک اختیار کریں۔ وہ ان میں سے جو پوزیشن بھی قبول کریں تم اسے منظور کرلو۔ اور ان کو اپنے حال پر چھوڑ دو ۔ ان کو اسلام کی دعوت دو ، اگر وہ مسلمان ہوجائیں تو قبول کرلو۔ پھر ان کو یہ دعوت دو کہ وہ اپنے علاقے سے مہاجرین کے علاقے میں آجائیں۔ اگر وہ یہ پوزیشن قبول کرلیں تو ان کے اور مہاجرین کے حقوق مساوی ہوں گے اور ان پر وہی ذمہ داریاں ہوں گی جو مہاجرین پر ہوں گی۔ اگر وہ انکار کریں اور اپنے ہی علاقے میں رہنا پسند کریں تو ان کو یہ اطلاع کردو کہ ان کی حیثیت ان مسلمانوں کی طرح ہوگی جس طرح اعراب مسلمانوں کی ہے۔ ان پر بھی اللہ کے احکام جاری ہوں گے۔ جس طرح اعراب مسلمانوں پر ہوتے ہیں لیکن فئے اور غنیمت میں ان کا حق نہ ہوگا الا یہ کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ جہاد میں شریک ہوں۔ اگر وہ اس پوزیشن کا بھی انکار کریں تو پھر ان کو یہ پیشکش کرو کہ وہ جزیہ دینا قبول کریں۔ اگر وہ قبول کرلیں تو تم بھی قبول کرلو ، اور جنگ سے باز آجاؤ، اور اگر وہ انکار کردیں تو اللہ کی استعانت لیں اور قتال شروع کردیں۔
اس حدیث میں مشکل بات یہ ہے کہ اس میں ہجرت اور دار المہاجرین کا ذکر ہے اور پھر جزیہ کا بھی ذکر ہے۔ جبکہ جزیہ فتح مکہ کے بعد فرض ہوا تھا اور فتح مکہ کے بعد ہجرت ختم ہوگئی تھی (یعنی پہلی جماعت مسلمہ جب مدینہ آئی اور فتح تک اسے استقلال حاصل ہوگیا تو ہجرت اس وت ختم ہوگئی تھی) اور یہ بات احادیث اور تاریخ سے ثابت ہے کہ جزیہ آٹویں سن ہجرت میں فرض ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ کسی عرب مشرک سے جزیہ نہیں لیا گیا۔ کیونکہ تمام عرب فرضیت جزیہ سے قبل ہی مسلمان ہوگے تھے۔ اس سن کے بعد مجوسیوں سے اور مشرکوں سے جزیہ لیا گیا اور اگر فرضیت جزیہ کے وقت عربوں میں کوئی مشرک ہوتا تو وہ بھی لازماً جزیہ ادا کرتا جیسا کہ امام ابن قیم نے تشریح کی۔ امام ابوحنیفہ اور ایک قول کے مطابق امام احمد کی رائے بھی یہی ہے۔ (قرطبی نے یہ قول امام اوزاعی ، مالک سے بھی نقل کیا ہے)
بہرحال آیت زیر بحث وان جنحوا میں کسی فائنل حکم کا ذکر نہیں ہے۔ اور اس سلسلے کے فائنل احکام بعد میں سورت براءت میں نازل ہوئے۔ اس میں الہ نے رسول اللہ کو حکم دیا کہ وہ ان لوگوں کی طرف سے مسالمت اور صلح کو قبول کرلیں جن کو آپ نے اپنے حال پر چھوڑ دیا تھا۔ اور ان کے ساتھ لڑآئی شروع نہ کی تھی چاہے اس وت تک ان سے کوئی معاہدہ ہوا تھا یا نہیں۔ تو آپ سورت براءت کے نزدیک تک کفار اور اہل کتاب کی جانب سے مسالمت کو قبول کرتے رہے اور براءت کے نزول کے بعد حکم یہ ہوگیا کہ یا تو اسلام قبول کروگے یا جزیہ دو گے اور یہ وہ حال تمسلمات ہے جو اس وقت تک قابل قبول ہوگی جب تک لوگ اپنے عہد پر قائم رہیں گے ورنہ مسلمان ان کے ساتھ جہاد کریں گے جب تک ان کی استطاعت ہو تاکہ دین تمام کا تمام اللہ کے لیے ہوجائے۔
میں نے اس آیت کے بیان اور تفسیر میں قدرے طوالت سے کام لیا ہے اور یہ اس لیے کہ ان لوگوں کے شبہات کو دور کردیا جائے جو ذہنی لحاظ سے شکست خوردہ ہیں۔ اس قسم کے لوگ جب اسلام کے نظریہ جہاد کے موضوع پر لکھنے بیٹھتے ہیں تو موجودہ حالات کے دباؤ میں آجاتے ہیں اور ان کی سوچ اور ان کی روح ان حالات کے دباؤ کے نیچے بیٹھ جاتی ہے۔ وہ اس بات کا یقین ہی نہیں کرسکتے کہ دین اسلام کا یہ کوئی مستقبل قاعدہ ہوسکتا ہے کہ یا اسلام قبول کرو یا جزیہ ادا کرو ورنہ جنگ کے لیے تیار ہوجاؤ۔ یہ لوگ جب دیکھتے ہیں کہ اس وقت جاہلیت اور طاغوت کی تمام قوتیں اسلام کے خلاف برسر پیکار ہیں اور اسلام کا مقابلہ کر رہی ہیں اور اہل اسلام اپنے آپ کو مسلمان تو کہتے ہیں لیکن اسلام کی حقیقت سے بیخبر ہیں اور ان کے قلب و نظر میں اسلام کا حقیقی شعور نہیں ہے اور دوسرے مذاہب کی عظیم قوتوں کے سامنے اپنے آپ کو بہت ہی کمزور محسوس کرتے ہیں۔ دوسری جانب وہ دیکھتے ہیں کہ اسلام کے ہر اول دستے بہت ہی قلیل و نایاب ہیں اور اس کے ساتھ ضعیف و ناتواں ہیں۔ لہذا ان حالات میں یہ لکھنے والے قرآن و سنت کو توڑ موڑ کر ان میں تاویلات کرتے ہیں اور یہ حرکت وہ محض حالات کے دباؤ کے تحت کرتے ہیں۔ لہذا وہ ایسا موقف اختیار کرتے ہیں کہ اسلام اس موقف کا متحمل نہیں ہوسکتا ، نہ اسلامی نصوص سے یہ بات نکلتی ہے۔
یہ لوگ ان آیات سے ستدلال کرتے ہیں جو تحریک اسلامی کے لیے وقتی ہدایات کے طور پر نازل ہوئی ہیں۔ یہ لوگ ان آیات کو فائنل ہدایات تصور کرکے ان آخری ہدایات کی تاویل کرتے ہیں۔ حالانکہ جن آیات سے وہ استدلال کرتے ہیں وہ وقتی اور مفید نصوص تھے۔ یہ کام وہ کیوں کرتے ہیں ؟ اس لیے کہ وہ یہ ثابت کریں کہ اسلام کے نظریہ جہاد کا مقصد صرف یہ ہے کہ وہ صرف دار الاسلام اور جماعت مسلمہ کا دفاع کرتا ہے اور جہاد اس وقت شروع ہوسکتا ہے جب دشمن حملہ آور ہو اور یہ کہ اسلام ہر قسم کے امن وامان کی پیشکش کو قبول کرتا ہے۔ اور ان کے نزدیک امن وامان کا مفہوم صرف یہ ہے کہ کوئی دار الاسلام پر حملے سے باز رہنے کا معاہدہ کرلے۔ ان لوگوں کے تصور کے مطابق اسلام اپنی حدود کے اندر جو چاہے کرے لیکن اسے یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ دوسرے لوگوں سے مطالبہ کرے کہ وہ اسلامی کو قبول کریں۔ اور نہ اسے حق پہنچتا ہے کہ وہ لوگوں سے اسلامی نظام کی اطاعت کرنے کا مطالبہ کرے۔ اسلام صرف تبلیغ کا حق رکھتا ہے۔ رہی وہ قوت ، طاغوتی قوت ، جو جاہلیت کی پشت پر کھڑی ہے تو اسلام کو یہ حق نیں ہے کہ وہ اس قوت کو چیلنج کرے یا اگر یہ قوت اسلام کو چیلنج کرے تو اسلام صرف دفاع کا حق رکھتا ہے۔
اگر اس قسم کے لوگ جنہوں نے موجودہ حالات کے مقابلے میں عقلاً اور روحاً شکست کھالی ہے ، ذرا سوچ کرتے اور موجودہ حالات کے مطابق قرآن و سنت میں اسے احکام تلاش کرتے اور ان تاویلات کا راستہ اختیار نہ کرتے جن میں قرآن و سنت کے نصوص کو توڑ موڑ کر پیش کرتے ہیں تو انہیں ان کے موجودہ حالات کے مماثل حالات کے بارے میں قرآن و سنت کے نصوص مل جاتے کیونکہ اسلام ایک حقیقت پسندانہ متحرک دین رہا ہے اور یہ کہتے کہ ایسے حالات میں اسلام نے یوں فیصلہ کیا تھا اور ہمیں بھی یسا ہی کرنا چاہیے تو ان حضرات کو قرآن کی آخری اور فائنل ہدایات اور نصوص میں اس قسم کی تاویلات کرنے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔ یہ لوگ کہہ سکتے تھے کہ موجودہ حالات میں اسلام کے یہ احکام مناسب ہیں لیکن یہ فائنل احکام نہیں ہیں۔ یہ وقتی تصرفات ہیں۔
اسلام نے فی الواقعہ مختلف حالات میں مختلف حکمت عملی اختیار کی۔ چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں اور یہ مثالیں وقتی ضرورت کے مطابق تھیں۔
جب حضور اکرم ﷺ مدینہ تشریف لائے تو مدینہ کے ارد گرد بسنے والے یہودیوں اور مشرکین کے ساتھ آپ سے ایک میثاق طے کیا جس میں باہم بھائی چارے ، امن اور مشترکہ دفاع کے امور طے کیے گئے اور یہ بھی طے کیا کہ مدینہ میں حق حاکمیت رسول اللہ ﷺ کو حاصل ہوگا اور یہ کہ قریش کے مقابلے میں دفاع میں یہ سب لوگ مسلمانوں کے ساتھ ہوں گے۔ اور یہ کہ مدینہ پر جو کوئی بھی حملہ آور ہوگا یہ لوگ اس کے ساتھ کوئی تعلق نہ رکھیں گے۔ مشرکین کے ساتھ کوئی معاہدہ نہ کریں گے الا یہ کہ حضور ﷺ اس کی اجازت دیں۔ اسی دوران حضور کو اللہ نے حکم دیا تھا کہ جو قوم بھی مسالمت اور امن کا معاہدہ کرے اس کی پیشکش کو قبول کیا جائے۔ اگرچہ وہ باقاعدہ تحریری معاہدہ نہ کریں ، بہرحال جب تک وہ صلح چاہیں ، صلح رکھی جائے۔ اس کے بعد یہ تمام احکام بدل گئے تھے جس طرح ہم نے اوپر تفصیلات دیں۔
اسی طرح جب جنگ خندق کے زمانے میں تمام مشرکین نے حضور کے خلاف اشتراک کرلیا۔ بنو قریظہ نے بھی وعدہ کی خلاف ورزی کردی اور رسول اللہ ﷺ نے یہ خطرہ محسوس کیا کہ مسلمانوں کو ختم ہی نہ کردیا جائے۔ تو حضور نے عیینہ ابن حصن الفزاری اور حارث ابن عوف المری رئیس غطفان کے سامنے مصالحت کی پیشکش کی اور طے کیا کہ وہ مدینہ کی ایک تہائی پیداوار ان کو دیں گے اور آپ لوگ اپنی اقوام کو لے کر واپس ہوجائیں اور قریش کو اکیلے چھوڑ دیں۔ حضور کی پیشکش ان کو خوش کرنے کے لیے تھی کوئی معاہدہ نہ تھا۔ جب حضور نے دیکھا کہ یہ دونوں لوگ راضی ہوگئے ہیں تو آپ نے سعد ابن معاذ اور سعد ابن عبادہ کے ساتھ مشورہ کیا۔ ان دونوں نے کہا کہ حضور یہ کام اگر آپ پسند کرتے ہیں تو ہم آپ کی وجہ سے قبول کرلیں گے اور اگر اللہ کا حکم ہے تو ہم اطاعت کریں گے اور اگر یہ کام آپ ہمارے لی کرتے ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا کہ میں یہ اقدام آپ لوگوں کو بچانے کے لیے کرن ا چاہتا ہوں کیونکہ تمام عرب آپ لوگوں پر ایک ہی کمان سے تیر پھینک رہے ہیں۔ اس پر سعد ابن معاذ نے فرمایا : یا رسول اللہ خدا کی قسم ہم لوگ شرک میں مبتلا تھے ، بت پرست تھے ، اللہ کی عبادت نہ کرتے تھے اور نہ ہمیں اللہ کی معرفت حاصل تھی تو یہ مشرک ہم سے یہ توقع نہ کرتے تھے کہ ہم ان کو ایک کھجور بھی دین ، الا یہ کہ وہ مول لیتے ہام ہم مہمان نوازی کے طور پر دیتے اور جب اللہ نے ہمیں بذریعہ اسلام عزت دے دی اور بذریعہ قرآن ہدایت دے دی اور آپ کے ذریعے ہم معزز ہوگئے تو کیا اب ہم ان کو اپنا مال دے دیں ؟ ہم ان کو تلوار دیں گے تاکہ وہ ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ کردے۔ اس جواب سے حضور بہت خوش ہوئے اور فرمایا (تم جانو اور وہ) اور عیینہ اور حارث سے کہا ، چلو ہمارے پاس تمہارے لیے تلوار کے سوا کچھ نہیں ہے۔ یہ بات جس کے بارے میں حضور نے مخصوص حالات میں سوچا ایک وقت تدبیر تھی جو مخصوص حالات میں ضرورت کے لیے تھی ، یہ کوئی فائنل حکم نہ تھا۔
ایک مثال یہ بھی ہے کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر حضور ﷺ نے قریش کے ساتھ معاہدہ کیا۔ یہ لوگ مشرک تھے اور اس معاہدے میں بعض شرطیں ایسی تھیں جن سے مسلمان خوش نہ تھے۔ مثلا یہ کہ مسلمانوں اور قریش کے درمیان بیس سال تک لڑائی نہ ہوگی۔ لوگ ایک دوسرے سے امن میں رہیں گے۔ مسلمان اس سال عمرہ کے بغیر واپس ہوں گے ، اور اگلے سال وہ مکہ آئیں گے۔ چناچہ انہوں نے اگلے سال مسلمانوں کو مکہ آنے دیا ، صرف تین دن کے لیے۔ اسلحہ وہی لائیں گے جو ایک سوار لاتا ہے اور وہ بھی نیام میں ہوگا اور یہ کہ اگر کوئی مسلمان مدینہ چلا جائے تو اسے واپس کرنا ہوگا اور اگر کوئی مدینہ سے مکہ چلا جائے تو مشرک واپس کرنے کے پابند نہ ہوں گے۔ اسمعاہدے پر حضور راضی ہوگئے کیونکہ حضور کو اللہ نے بذریعہ الہام بتا دیا تھا کہ یہ شرائط اگرچہ بظاہر قریش کے حق میں نظر آتی ہیں لیکن در اصل مسلمانوں کے لیے مفید ہیں۔ اس مثال میں بھی یہ گنجائش موجود ہے کہ اسلام قیادت خاص حالات میں خاص فیصلے کرسکتی ہے۔
اسلام ایک دائمی تحریک ہے اور اس کا طرز عمل بھی تحریکی ہے۔ وہ حالات کے مطابق فیصلے کرتا ہے۔ یہ نہایت ہی واضح ، پختہ اور آزمودہ کار قیادت رکھتا ہے۔ لوگ جن حالات سے بھی دو چار ہوں اور ان کو قرآن و سنت سے حسب حال ہدایت بہرحال ملتی ہے اور ان کو کسی قسم کی تاویل کی کوئی ضرورت پیش نہیں آتی۔ اسلام میں جو چیز مطلوب ہے ، وہ یہ ہے کہ انسان میں تقوی ہو اور وہ اس بات سے محتاط ہو کہ وہ اپنے دین کو جاہلیت کی شرایرانہ قیادت کے حوالے کردے ، وہ شکست خوردہ ہو اور جاہلیت کے مقابلے میں معذرت خواہانہ دفاعی موقف اختیار کرے ، حالانکہ دین اسلام غالب ہے ، چھا جانے والا ہے۔ وہ انسان کی پوری ضروریات اور مسائل کو حل کرتا ہے اور وہ یہ مزاج رکھتا ہے کہ بلند ہو اور ہر کام اور ہر مسئلے کے حل میں اقدامی پوزیشن کا مالک ہو۔
جب اللہ نے حضور ﷺ کو حکم دیا کہ اگر کوئی دوستی کرنا چاہئے تو آپ دوستی قبول کریں اور اگر کوئی امن و سلامتی کی طرف مائل ہو تو آپ بھی اس طرف مائل ہوں ، تو ساتھ ہی یہ حکم بھی دے دیا کہ اللہ پر توکل کریں اور آپ کو مطمئن کردیا کہ اگر اس قسم کے معاہدے کرنے والے دل میں کھوٹے ہوں تو اللہ سے بہرحال ان کی کوئی بات پوشیدہ نہیں ہے۔
وَاِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَتَوَكَّلْ عَلَي اللّٰهِ ۭاِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ ۔