مثل الذین اتخذوا ۔۔۔۔۔۔ وما یعقلھا الا العلمون (41 – 43)
یہ ایک عجیب اور سچی تصویر ہے ، ان تمام قوتوں کی جو اس کائنات میں موجود ہیں۔ اس میں ایک ایسی حقیقت کو نمایاں کیا
گیا ہے جس سے لوگ بالعموم غافل رہتے ہیں اور اس غفلت کی وجہ سے پھر ان کے پیمانے اور اقدار بدل جاتی ہیں۔ پھر وہ غلط رابطے قائم کرلیتے ہیں ۔ ان کو پتہ نہیں ہوتا کہ وہ غلط سمت میں جا رہے ہیں۔ وہ صحیح فیصلہ نہیں کرسکتے کہ کیا لیں اور کیا چھوڑیں۔
اس غلط سوچ کی وجہ سے وہ پھر ریاستی قوت سے بھی دھوکہ کھا جاتے ہیں ، وہ سمجھتے ہیں کہ اس زمین پر ریاستی قوت ہی اصل قوت ہے اور سب کچھ ہے۔ اور ہر جگہ موثر ہے۔ اس لیے وہ اس قوت سے ڈرتے ہیں اور اس کے حصول کے لیے کوشاں رہے ہیں وہ اس ریاستی قوت کی اذیتوں سے اپنے آپ کو بچانا چاہتے ہیں اور اس کی حمایت کے حصول کے لیے کوشاں ہوتے ہیں۔
پھر ایسے لوگوں کو دولت کی قوت سے بھی دھوکہ ہوتا ہے ، وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہی قوت ہے ، جس کے نتیجے میں زندگی کی قدریں حاصل ہوتی ہیں۔ اور تمام اقدار حیات دولت کے تابع ہوتی ہیں۔ چناچہ ایسے لوگ حصول دولت کا شوق رکھتے ہیں اور زوال دولت کا انہیں ہر وقت خوف رہتا ہے۔ اور وہ حصول دولت کے لیے ہر وقت جدوجہد کرتے ہیں تاکہ اس دولت کے ذریعہ وہ لوگوں کی گردنوں پر سوار ہوں اپنے زعم کے مطابق۔
یہ لوگ سائنس کی قوت کو بھی ایک بڑی قوت سمجھتے ہیں۔ اس کو بھی یہ مالی قوت اور تمام قوتوں کی بنیاد تصور کرتے ہیں ، جن کے ذریعہ کوئی شخص گرفت کرتا ہے یا چلتا پھرتا ہے۔ سائنسی قوت کے سامنے بھی لوگ اس طرح جھکتے ہیں جس طرح سائنس کوئی معبود ہے اور لوگ اس کے بندے ہیں۔
غرض انسان کو یہ سب ظاہری قوتیں دھوکہ دیتی ہیں۔ جن افراد کے پاس یہ قوتیں ہیں جن سوسائٹیوں کے پاس یہ وسائل ہیں یا جن حکومتوں کے پاس یہ قوتیں ہیں ان سے دوسرے لوگ ڈرتے ہیں اور ان کا طواف کرتے ہیں اور ان پر لوگ اس طرح فدا ہوتے ہیں جس طرح پروانہ چراغ پر گرتا ہے۔ یا جس طرح وہ آگ میں گرتا ہے۔
ان ظاہری قوتوں سے دھوکہ کھا کر انسان اس اصلی قوت کو بھول جاتا ہے جو ان حقیر قوتوں کو پیدا کرنے والی عظیم قوت ہے۔ جو ان قوتوں کی پیدا کرنے والی ہے ، جو ان سب قوتوں کی مالک ہے ، جو کسی کو یہ قوتیں عطا کرتی ہے ، جو ان قوتوں کی تسخیر کرتی ہے اور ان کا رخ جس طرف چاہتی ہے ، پھیر دیتی ہے۔ لوگ اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ دنیا کی ان حقیر اور ظاہری قوتوں کے پاس پناہ لینا ، خواہ قوتیں افراد کے ہاتھ میں ہوں ، چاہے کسی سوسائٹی میں ہوں ، چاہے کسی حکومت کے پاس ہوں ، اسی طرح ہے جس طرح کوئی تار عنکبوت کا سہارا لے ، یا بیت عنکبوت میں پناہ لے۔ یہ عنکبوت تو ایک کمزور ، حقیر ، اور نہایت نرم کپڑا ہے اس کی ساخت ہی کمزور ہے۔ اور اس کا گھر بھی کمزور گھر ہے۔ وہ کسی کو کیا پناہ دے سکتا ہے۔
یاد رکھو ! کہ حمایت صرف اللہ کی حمایت ہے ، پناہ صرف اللہ کی پناہ ہے جو ایک قوی پناہ دینے والا ہے۔ یہ ایک عظیم حقیقت ہے جو قرآن کریم مومن لوگوں کے دلوں میں بٹھاتا ہے۔ اور ایک بار جب قرآن نے اہل ایمان کے دلوں میں یہ حقیقت بٹھا دی تھی تو وہ گروہ دنیا کا ایک طاقت ور گروہ بن گیا تھا۔ اور اس نے ان تمام ظاہری قوتوں کو روند ڈالا تھا جو اس کی راہ میں کھڑی ہوگئی تھیں۔ زمین کے تمام جباروں اور قہاروں کی گردنیں مروڑ کر جھکا دی تھیں اور بڑے بڑے قلعے مسمار کرکے رکھ دئیے تھے۔
یہ حقیقت قرآن نے اس گروہ میں کس طرح بٹھا دی تھی ؟ یہ حقیقت ہر نفس میں بیٹھ گئی تھی۔ اس سے ہر دل بھر گیا تھا۔ یہ حقیقت ان کے خون میں مل گئی تھی اور یہ ان کو رگوں میں دوڑ رہی تھی۔ یہ حقیقت صرف الفاظ کی ادائیگی تک محدود نہ تھی۔ نہ یہ ایک موضوع بحث تھی جس پر سیمینار ہوتے تھے بلکہ یہ ان نفوس میں واضح طور پر نظر آتی تھی۔ اور ان کے حس و خیال میں اس کے سوا کوئی اور بات نہ تھی۔ یہ کہ اللہ کی قوت ہی واحد قوت ہے اور اللہ کی دوستی ہی واحد دوستی ہے اور اس کے سوا جو کچھ بھی ہے وہ کمزور و ناتواں ہے۔ اگرچہ بظاہر دوسری قوتیں جس قدر بھی ظلم و استبداد کریں۔ اگرچہ انہوں نے ظلم و سرکشی کی حد کردی ہو ، اگرچہ ان کے پاس گرفت اور دست درازی کے تمام وسائل ہوں اور وہ پکڑ دھکڑ کر رہے ہوں۔
یہ سب کچھ بیت عنکبوت ہے۔ یہ تمام قوتیں اور وسائل تار عنکبوت ہیں۔
وان اوھن ۔۔۔ یعلمون (29: 41) ” اور سب گھروں سے کمزور گھر مکڑی کا گھر ہوتا ہے ، کاش کہ یہ لوگ جانتے “
وہ داعی جو فتنوں اور آزمائشوں سے دوچار ہوجاتے ہیں ، جنہیں قید و بند اور تشدد و اذیت سے دوچار ہونا پڑتا ہے ، ان کو چاہئے کہ اس حقیقت پر غور کریں اور ایک لمحے بھر کے لیے بھی اسے نظروں سے اوجھل ہونے نہ دیں ، ان کو تو اس میدان میں مختلف مزاحم قوتوں سے دوچار ہونا ہے۔ یہ قوتیں ان پر وار کرتی ہیں اور ان کو نیست و نابود کرنا چاہتی ہیں۔ بعض ایسی قوتیں ہوتی ہیں جو انہیں خریدنا چاہتی ہیں۔ یہ سب قوتیں تار عنکبوت کی طرح ہوتی ہیں بشرطیکہ کسی کا ایمان و نظریہ مضبوط ہو ، اور کوئی جانتا ہو کہ اصل اور حقیقی قوت ہے کیا ۔
ان اللہ یعلم ۔۔۔۔ من شئ (29: 42) ” یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر جس چیز کو پکارتے ہیں ، اللہ اسے خوب جانتا ہے “۔ یہ لوگ اللہ کے سوا بعض دوسری چیزوں کا سہارا لیتے ہیں۔ اور اللہ جانتا ہے کہ یہ سہارے کے قابل چیزیں نہیں ہیں۔ ان کی حقیقت وہی ہے جو تمثیل سابق میں بیان کی گئی یعنی مکڑی کا جالا۔
وھو العزیز الحکیم (29: 42) ” وہی زبردست اور حکیم ہے “۔ وہی غالب ہے ، وہی قاہر ہے ، وہی حکیم ہے اور وہی اس پوری کائنات کا مدبر ہے۔
وتلک الامثال ۔۔۔۔ الا العلمون (29: 43) ” یہ مثالیں ہم لوگوں کی فہمائش کے لیے دیتے ہیں مگر ان کو وہی لوگ سمجھتے ہیں جو علم رکھتے ہیں “۔ مشرکین کے بعض لوگ ایسے تھے جن کے دلوں پر تالے لگے ہوئے تھے اور ان کی عقل ماری گئی تھی ، وہ لوگ اس تمثیل کے ساتھ یہ مزاح کرتے تھے اور کہتے تھے کہ محمد کے رب مکھیوں اور مچھروں کی بات بھی کرتے ہیں اور اس تمثیل میں جو حقیقت بیان کی گئی تھی ، اس کو وہ سمجھ ہی نہ سکے تھے۔ نہ اس کا ان پر اثر ہوا۔ اس لیے اللہ نے فرمایا کہ
وما یعقلھا الا العلمون (29: 43) ” مگر ان چیزوں کو وہی لوگ سمجھے ہیں جو عقلمند ہیں “۔
اب آخر میں ان تمام حقائق کو اس عظیم حقیقت کے ساتھ مربوط کردیا جاتا ہے جو اس کائنات کے نقشے میں ودیعت کردی گئی ہے ، جس طرح قرآن کریم کا خاص اسلوب ہے۔
آیت 41 مَثَلُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اَوْلِیَآءَ کَمَثَلِ الْعَنْکَبُوْتِج اِتَّخَذَتْ بَیْتًا ط ”اس تمثیل کے اعتبار سے یہ آیت سورت کے اس حصے کی بہت اہم آیت ہے۔ اس تمثیل میں اللہ کے سوا جن مددگاروں کا ذکر ہوا ہے وہ غیر مرئی بھی ہوسکتے ہیں ‘ جیسے کوئی کہے کہ مجھے فلاں دیوی کی کرپا چاہیے یا کوئی کسی ولی اللہ کی نظر کرم کے سہارے کی بات کرے۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ظاہری و معنوی طاقت یا مادی وسائل کی بنیاد پر کوئی شخص کسی فرد ‘ قوم یا چیز پر ایسا بھروسا کرے کہ وہ اللہ کے اختیار اور اس کی قدرت کو بھلا بیٹھے۔ جیسے ہم امریکہ کو اپنا پشت پناہ سمجھ کر اس کی جھولی میں جا بیٹھتے ہیں۔ آیت زیر نظر میں ایسے تمام سہاروں کو مکڑی کے جالے سے تشبیہہ دے کر یہ حقیقت یاد دلائی گئی ہے کہ اصل اختیار اور قدرت و طاقت کا مالک اللہ ہے۔ اس کے سہارے اور اس کے توکلّ کو چھوڑ کر کسی اور کا سہارا ڈھونڈنا گویا مکڑی کے گھر میں پناہ لینے کے مترادف ہے۔
مکڑی کا جالا جو لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا اوروں کی پرستش اور پوجاپاٹ کرتے ہیں ان کی کمزوری اور بےعلمی کا بیان ہو رہا ہے۔ یہ ان سے مدد روزی اور سختی میں کام آنے کے امیدوار رہتے ہیں۔ ان کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی مکڑی کے جالے میں بارش اور دھوپ اور سردی سے پناہ چاہے۔ اگر ان میں علم ہوتا تو یہ خالق کو چھوڑ کر مخلوق سے امیدیں وابستہ نہ کرتے۔ پس ان کا حال ایمانداروں کے حال کے بالکل برعکس ہے۔ وہ ایک مضبوط کڑے کو تھامے ہوئے ہیں اور یہ مکڑی کے جالے میں اپنا سرچھپائے ہوئے ہیں۔ اس کا دل اللہ کی طرف ہے اس کا جسم اعمال صالحہ کی طرف مشغول ہے اور اس کا دل مخلوق کی طرف اور جسم اس کی پرستش کی طرف جھکا ہوا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ مشرکوں کو ڈرا رہا ہے کہ وہ ان سے ان کے شرک سے اور ان کے جھوٹے معبودوں سے خوب آگاہ ہے۔ انہیں ان کی شرارت کا ایسا مزہ چھکائے گا کہ یہ یاد کریں۔ انہیں ڈھیل دینے میں بھی اس کی مصلحت وحکمت ہے۔ نہ یہ کہ وہ علیم اللہ ان سے بیخبر ہو۔ ہم نے تو مثالوں سے بھی مسائل سمجھا دئے۔ لیکن اس کے سوچنے سمجھنے کا مادہ ان میں غور و فکر کرنے کی توفیق صرف باعمل علماء کو ہوتی ہے۔ جو اپنے علم میں پورے ہیں۔ اس آیت سے ثابت ہوا کہ اللہ کی بیان کردہ مثالوں کو سمجھ لینا سچے علم کی دلیل ہے۔ حضرت عمرو بن عاص ؓ فرماتے ہیں میں نے ایک ہزار مثالیں رسول اللہ ﷺ سے سیکھی ہیں (مسند احمد) اس سے آپ کی فضیلت اور آپ کی علمیت ظاہر ہے۔ حضرت عمرو بن مروۃ فرماتے ہیں کہ کلام اللہ شریف کی جو آیت میری تلاوت میں آئے اور اس کا تفصیلی معنوں کا مطلب میری سمجھ میں نہ آئے تو میرا دل دکھتا ہے مجھے سخت تکلیف ہوتی ہے اور میں ڈرنے لگتا ہوں کہ کہیں اللہ کے نزدیک میری گنتی جاہلوں میں تو نہیں ہوگئی کیونکہ فرمان اللہ یہی ہے کہ ہم ان مثالوں کو لوگوں کے سامنے پیش کر رہے ہیں لیکن سوائے عالموں کے انہیں دوسرے سمجھ نہیں سکتے۔