سورہ عنکبوت: آیت 50 - وقالوا لولا أنزل عليه آيات... - اردو

آیت 50 کی تفسیر, سورہ عنکبوت

وَقَالُوا۟ لَوْلَآ أُنزِلَ عَلَيْهِ ءَايَٰتٌ مِّن رَّبِّهِۦ ۖ قُلْ إِنَّمَا ٱلْءَايَٰتُ عِندَ ٱللَّهِ وَإِنَّمَآ أَنَا۠ نَذِيرٌ مُّبِينٌ

اردو ترجمہ

یہ لوگ کہتے ہیں کہ "کیوں نہ اتاری گئی اس شخص پر نشانیاں اِس کے رب کی طرف سے؟" کہو، "نشانیاں تو اللہ کے پاس ہیں اور میں صرف خبردار کرنے والا ہوں کھول کھول کر"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waqaloo lawla onzila AAalayhi ayatun min rabbihi qul innama alayatu AAinda Allahi wainnama ana natheerun mubeenun

آیت 50 کی تفسیر

وقالوا لو لا ۔۔۔۔۔ انا نذیر مبین (50)

” یہ لوگ کہتے ہیں کہ ” کیوں نہ اتاری گئیں اس شخص پر نشانیاں اس کے رب کی طرف سے ؟ “ کہو ” نشانیاں تو اللہ کے پاس ہیں اور میں صرف خبردار کرنے والا ہوں کھول کھول کر “۔

ان معجزات اور نشانیوں سے ان کو مراد وہ معجزات اور نشانیاں ہیں جو آغاز انسانیت بھی انسانیت کے دور طفولیت میں ان کے سامنے پیغمبروں نے پیش کیں ، یعنی مادی معجزات۔ اور یہ معجزات صرف ان لوگوں کے لیے حجت ہوتے تھے جو ان کو دیکھتے تھے۔ جبکہ نبی ﷺ کی رسالت وہ آخری اور دائمی رسالت ہے جو ان تمام لوگوں کے لیے حجت ہے جن تک اس کی دعوت پہنچ جائے اور یہ رسالت اس وقت تک جاری رہے گی جب تک انسانیت موجود ہے اور یہ دنیا قائم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے اس رسالت کو ایک ایسی معجز کتاب دی ہے جو ہمیشہ پڑھی جاتی ہے اور جس کا اعجاز ختم نہیں ہوتا۔ اور جس کے کمالات و عجائبات ختم نہیں ہوتے۔ اللہ کے لیے قرآن کے خزانوں کا علیحدہ ذخیرہ ظاہر ہوتا رہتا ہے اور اس کے یہ معجزات اور دلائل ہر دور کے اہل علم کے سینوں میں موجود رہتے ہیں۔ جب بھی اہل علم اس پر غور کرتے ہیں وہ اس کتاب کے اعجاز اور معجزات کو پاتے ہیں اور وہ اچھی طرح محسوس کرلیتے ہیں کہ قرآن کریم کو یہ عظمت اور شوکت کس سرچشمے سے ملی ہے۔

قل انما الایت عنداللہ (29: 50) ” کہو ، نشانیاں تو اللہ کے پاس ہیں “۔ اور اللہ اپنی نشانیاں اس وقت ظاہر کرتا ہے جب ان کی حاجت اور ضرورت ہو۔ اور یہ سب کام ، اللہ کے نظام تدبیر اور تقدیر کے مطابق ہوتا ہے اس لیے میں اس سلسلے میں نہ کوئی تجویز دے سکتا ہوں اور نہ مطالبہ کرسکتا ہوں ۔ یہ میرے لائق نہیں ہے اور نہ ہی یہ میری عادت ہے۔

وانما انا نذیر مبین (29: 50) ” میں صرف خبردار کرنے والا ہوں ، کھول کھول کر “۔ میں ڈراتا ہوں اور خبردار کرتا ہوں اور لوگوں کے سامنے حقائق کھول کھول کر بیان کرتا ہوں اور یہی میرا فریضہ ہے جس میں ادا کرتا ہوں۔ اس کے بعد جو کچھ ہوگا وہ اللہ کی تقدیر و تدبیر کے مطابق ہوگا۔

اس طرح اللہ اسلامی نظریہ حیات کو ہر شک اور شبہ سے پاک کرتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے منصب اور مقام کی حدود کا تعین کردیا جاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی صفات اور الٰہ واحد وقہار کی صفات کے درمیان امتیاز کردیا جاتا ہے۔ اس طرح رسول اللہ ﷺ کی شخصیت کے ارد گرد سے شبہات کے وہ بادل چھٹ جاتے ہیں جو ان رسولوں کی شخصیات کے ساتھ وابستہ ہوگئے تھے جن کو مادی معجزات دئیے گئے کیونکہ سابقہ رسولوں کی صفات کو خدائی صفات کے ساتھ ملا دیا گیا تھا اور لوگوں نے ان رسولوں کی شخصیات کو اوہام و خرافات سے گھیر لیا تھا جس کی وجہ سے ان کے عقائد کے اندر بہت بڑا انحراف واقعہ ہوگیا۔

یہ لوگ جو مادی معجزات طلب کر رہے ہیں اس بات کو اچھی طرح سمجھ نہیں سکے اور نہ اس کی اہمیت کو سمجھ سکے ہیں کہ اللہ نے تو قرآن نازل کرکے ان پر بہت بڑا احسان کیا ہے۔

آیت 50 وَقَالُوْا لَوْلَآ اُنْزِلَ عَلَیْہِ اٰیٰتٌ مِّنْ رَّبِّہٖ ط ”مشرکین مکہ آئے دن یہ مطالبہ دہراتے رہتے تھے کہ اگر آپ ﷺ نبی ہیں تو آپ ﷺ کو معجزات کیوں نہیں دیے گئے ؟ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں بھی ان کا یہ مطالبہ تکرار کے ساتھ بیان ہوا ہے۔

محاسن کلام کا بےمثال جمال قرآن حکیم کافروں کی ضد، تکبر اور ہٹ دھرمی بیان ہو رہی ہے کہ انہوں نے اللہ کے رسول ﷺ سے ایسی ہی نشانی طلب کی جیسی کہ حضرت صالح سے ان کی قوم نے مانگی تھی۔ پھر اپنے نبی کو حکم دیتا ہے انہیں جواب دیجئے کہ آیتیں معجزے اور نشانات دکھانا میرے بس کی بات نہیں۔ یہ اللہ کے ہاتھ ہے۔ اگر اس نے تمہاری نیک نیتیں معلوم کرلیں تو وہ معجزہ دکھائے گا اور اگر تم اپنی ضد اور انکار سے بڑھ بڑھ کر باتیں ہی بنا رہے ہو تو وہ اللہ تم سے دبا ہوا نہیں کہ اس کی چاہت تمہاری چاہت کے تابع ہوجائے تم جو مانگو وہ کر ہی دکھائے گا۔ جیسے ایک اور روایت میں ہے کہ آیتیں بھیجنے سے ہمیں کوئی مانع نہیں سوائے اس کے کہ گذشتہ لوگ بھی برابر انکار ہی کرتے رہے۔ قوم ثمود کو دیکھو ہماری نشانی اونٹنی جو ان کے پاس آئی انہوں نے اس پر ظلم کیا۔ کہہ دو کہ میں تو صرف ایک مبلغ ہوں پیغمبر ہوں قاصد ہوں میرا کام تمہارے کانوں تک آواز اللہ کو پہنچا دینا ہے میں نے تو تمہیں تمہارا برا بھلا سمجھا دیا نیک بد سمجھا دیا اب تم جانو تمہارا کام جانے۔ ہدایت ضلالت اللہ کی طرف سے ہے وہ اگر کسی کو گمراہ کردے تو اس کی رہبری کوئی نہیں کرسکتا۔ چناچہ ایک اور جگہ ہے تجھ پر ان کی ہدایت کا ذمہ نہیں یہ اللہ کا کام ہے اور اس کی چاہت پر موقوف ہے۔ بھلا اس فضول گوئی کو تو دیکھو کہ کتاب عزیز ان کے پاس آچکی جس کے پاس کسی طرف سے باطل پھٹک نہیں سکتا اور انہیں اب تک نشانی کی طلب ہے۔ حالانکہ یہ تو تمام معجزات سے بڑھ کر معجزہ ہے۔ تمام دنیا کے فصیح وبلیغ اس کے معارضہ سے اور اس جیسا کلام پیش کرنے سے عاجز آگئے۔ پورے قرآن کا تو معارضہ کیا کرتے ؟ دس سورتوں کا بلکہ ایک سورت کا معارضہ بھی چیلنج کے باوجود نہ کرسکے۔ تو کیا اتنا بڑا اور اتنا بھاری معجزہ انہیں کافی نہیں ؟ جو اور معجزے طلب کرنے بیٹھے ہیں۔ یہ تو وہ پاک کتاب ہے جس میں گذشتہ باتوں کی خبر ہے اور ہونے والی باتوں کی پیش گوئی ہے اور جھگڑوں کا فیصلہ ہے اور یہ اس کی زبان سے پڑھی جاتی ہے جو محض امی ہے جس نے کسی سے الف با بھی نہیں پڑھا جو ایک حرف لکھنا نہیں جانتا بلکہ اہل علم کی صحبت میں بھی کبھی نہیں بیٹھا۔ اور وہ کتاب پڑھتا ہے جس سے گزشتہ کتابوں کی بھی صحت وعدم صحت معلوم ہوتی ہے جس کے الفاظ میں حلاوت جس کی نظم میں ملاحت جس کے انداز میں فصاحت جس کے بیان میں بلاغت جس کا طرز دلربا جس کا سیاق دلچسپ جس میں دنیا بھر کی خوبیاں موجود۔ خود بنی اسرائیل کے علماء بھی اس کی تصدیق پر مجبور۔ اگلی کتابیں جس پر شاہد۔ بھلے لوگ جس کے مداح اور قائل وعامل۔ اس اتنے بڑے معجزے کی موجودگی میں کسی اور معجزہ کی طلب محض بدنیتی اور گریز ہے۔ پھر فرماتا ہے اس میں ایمان والوں کے لئے رحمت و نصیحت ہے۔ یہ قرآن حق کا ظاہر کرنے والا باطل کو برباد کرنے والا ہے۔ گزشتہ لوگوں کے واقعات تمہارے سامنے رکھ کر تمہیں نصیحت وعبرت کا موقعہ دیتا ہے گنہگاروں کا انجام دکھاکر تمہیں گناہوں سے روکتا ہے۔ کہہ دو کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے اور اس کی گواہی کافی ہے۔ وہ تمہاری تکذیب و سرکشی کو اور میری سچائی وخیر خواہی کو بخوبی جانتا ہے۔ اگر میں اس پر جھوٹ باندھتا تو وہ ضرور مجھ سے انتقام لیتا وہ ایسے لوگوں کو بغیر انتقام نہیں چھوڑتا۔ جیسے خود اس کا فرمان ہے کہ اگر یہ رسول مجھ پر ایک بات بھی گھڑ لیتا تو میں اس کا داہنا ہاتھ پکڑ کر اس کی رگ جاں کاٹ دیتا اور کوئی نہ ہوتا جو اسے میرے ہاتھ سے چھڑاسکے۔ چونکہ اس پر میری سچائی روشن ہے اور میں اسی کا بھیجا ہوا ہوں اور اس کا نام لے کر اس کی کہی ہوئی تم سے کہتا ہوں اس لئے وہ میری تائید کرتا ہے اور مجھے روز بروز غلبہ دیتا جاتا ہے اور مجھ سے معجزات پر معجزات ظاہر کراتا ہے۔ وہ زمین و آسمان کے غیب کا جاننے والا ہے اس پر ایک ذرہ بھی پوشیدہ نہیں باطل کا ماننے والے اور اللہ کو نہ ماننے والے ہی نقصان یافتہ اور ذلیل ہیں قیامت کے دن انہیں ان کی بد اعمالی کا نتیجہ بھگتنا پڑھے گا اور جو سرکشیاں دنیا میں کی ہیں سب کا مزہ چکھنا پڑے گا۔ بھلا اللہ کو نہ ماننا اور بتوں کو ماننا اس سے بڑھ کر اور ظلم کیا ہوگا ؟ وہ علیم وحکیم اللہ اس کا بدلہ دیئے بغیر ہرگز نہیں رہے گا۔

آیت 50 - سورہ عنکبوت: (وقالوا لولا أنزل عليه آيات من ربه ۖ قل إنما الآيات عند الله وإنما أنا نذير مبين...) - اردو