اس صفحہ میں سورہ Al-Ankaboot کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ العنكبوت کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
۞ وَلَا تُجَٰدِلُوٓا۟ أَهْلَ ٱلْكِتَٰبِ إِلَّا بِٱلَّتِى هِىَ أَحْسَنُ إِلَّا ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ مِنْهُمْ ۖ وَقُولُوٓا۟ ءَامَنَّا بِٱلَّذِىٓ أُنزِلَ إِلَيْنَا وَأُنزِلَ إِلَيْكُمْ وَإِلَٰهُنَا وَإِلَٰهُكُمْ وَٰحِدٌ وَنَحْنُ لَهُۥ مُسْلِمُونَ
وَكَذَٰلِكَ أَنزَلْنَآ إِلَيْكَ ٱلْكِتَٰبَ ۚ فَٱلَّذِينَ ءَاتَيْنَٰهُمُ ٱلْكِتَٰبَ يُؤْمِنُونَ بِهِۦ ۖ وَمِنْ هَٰٓؤُلَآءِ مَن يُؤْمِنُ بِهِۦ ۚ وَمَا يَجْحَدُ بِـَٔايَٰتِنَآ إِلَّا ٱلْكَٰفِرُونَ
وَمَا كُنتَ تَتْلُوا۟ مِن قَبْلِهِۦ مِن كِتَٰبٍ وَلَا تَخُطُّهُۥ بِيَمِينِكَ ۖ إِذًا لَّٱرْتَابَ ٱلْمُبْطِلُونَ
بَلْ هُوَ ءَايَٰتٌۢ بَيِّنَٰتٌ فِى صُدُورِ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْعِلْمَ ۚ وَمَا يَجْحَدُ بِـَٔايَٰتِنَآ إِلَّا ٱلظَّٰلِمُونَ
وَقَالُوا۟ لَوْلَآ أُنزِلَ عَلَيْهِ ءَايَٰتٌ مِّن رَّبِّهِۦ ۖ قُلْ إِنَّمَا ٱلْءَايَٰتُ عِندَ ٱللَّهِ وَإِنَّمَآ أَنَا۠ نَذِيرٌ مُّبِينٌ
أَوَلَمْ يَكْفِهِمْ أَنَّآ أَنزَلْنَا عَلَيْكَ ٱلْكِتَٰبَ يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَرَحْمَةً وَذِكْرَىٰ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ
قُلْ كَفَىٰ بِٱللَّهِ بَيْنِى وَبَيْنَكُمْ شَهِيدًا ۖ يَعْلَمُ مَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۗ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ بِٱلْبَٰطِلِ وَكَفَرُوا۟ بِٱللَّهِ أُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْخَٰسِرُونَ
وکذلک انزلنا الیک ۔۔۔۔۔۔ بایتنا الا الکفرون (47)
” اسی طرح “ یعنی ایک ہی مسلسل اور تاریخی منہاج کے مطابق ، ایک ہی سنت الہیہ کے مطابق جو اٹل ہے اور اسی طریقے کے مطابق جس کے ذریعے اللہ ہمیشہ رسولوں کو ہدایت دیتا رہا ہے۔
وکذلک انزلنا الیک الکتب (29: 47) ” اے نبی ﷺ ، ہم نے اسی طرح تمہاری طرف کتاب نازل کی ہے “۔ اور جب کتاب نازل کی تو لوگ اس کے مقابلے میں دو گروہوں میں تقسیم ہوگئے ۔ ایک تو وہ لوگ تھے جو اہل کتاب میں سے بھی تھے اور قریش میں سے بھی تھے وہ تو ایمان لے آئے اور دوسرا گروہ وہ لوگ ہیں جو اہل کتاب کے ایمان اور شہادت کے بعد بھی اس کو تسلیم نہیں کرتے حالانکہ وہ اس کی سچائی کی تصدیق کرچکے ہیں۔
وما یجحد بایتنا الا الکفرون (29: 47) ” اور ہماری آیات کا انکار صرف کافر ہی کرتے ہیں “۔ یعنی یہ آیات اس قدر واضح ہیں ، اس قدر سیدھی ہیں کہ ان کا انکار وہی شخص کرسکتا ہے جس کی عقل پر پردے پڑگئے ہوں ، جس کی روح مستور ہو ، اور وہ اس قابل ہی نہ رہی ہو کہ سچائی کو دیکھ سکے۔ کفر کے حقیقی معنی ہی چھپانے اور پردوں میں ڈالنے کے ہیں۔ یہاں قرآن نے جو انداز بیان اختیار کیا ہے اس میں کفر کے اصطلاحی معنوں کے ساتھ لغوی معنی بھی ملحوظ رکھے گئے ہیں۔
وما کنت تتلوا ۔۔۔۔۔ لارتاب المبطلون (48)
قرآن کریم کفار کے شبہات کا پیچھا کرتا ہے ، یہاں تک کہ ان کے بچگانہ اعتراضات اور شبہات کا بھی دفعیہ کردیا جاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے زندگی کا طویل ترین حصہ کفار مکہ کے درمیان بسر کیا تھا۔ آپ نہ پڑھ سکتے تھے اور نہ لکھ سکتے تھے۔ اچانک انہوں نے ایسی عجیب کتاب پیش کی جس نے تمام پڑھے لکھے لوگوں اور لکھنے والوں کو عاجز کردیا۔ اگر حضور اکرم ﷺ نزول قرآن سے قبل پڑھے لکھے ہوتے تو کفار مکہ جائز طور پر اعتراض کرتے کہ حضور ﷺ خود تصنیف کر رہے ہیں لہٰذا اب وہ جو اعتراضات کرتے ہیں وہ بےبنیاد ہے۔ میں کہتا ہوں قرآن کریم ان کے لغو اور بچگانہ سوالات کا بھی جواب دیتا ہے۔ ورنہ اگر فرض بھی کرلیا جائے کہ حضور اکرم ﷺ پڑھے لکھے تھے تو پھر بھی قرآن کریم پر ان کے لیے شبہ کرنے کا کوئی جواز نہ تھا۔ کیونکہ اگر قرآن کریم پر بذات خود غور کیا جائے تو یہ ایک معجز کتاب ہے اور انسانوں کی تصنیف کردہ کتاب نہیں ہے۔ یہ انسانی قوت اور معرفت کے حدود سے باہر ہے۔ انسانی علم و معرفت کی حدود سے اس کے مضامین وراء ہیں۔ قرآن کریم میں جو سچائی درج ہے وہ بےقید سچائی ہے جس طرح اس کائنات کے اندر موجود سچائی بےقید ہے۔ انسان جب بھی نصوص قرآنی پر غور کرتا ہے ، اسے معلوم ہوجاتا ہے کہ قرآن کی پشت پر بےپناہ قوت ہے۔ قرآن کریم کی عبادت میں بھی ایک عظیم شوکت ہے اور یہ قوت اور یہ شوکت کلام انسانی طاقت سے وراء ہے
بل ھو ایت بینت ۔۔۔۔۔ بایتنا الا الظلمون (49)
” دراصل یہ روشن نشانیاں ہیں ان لوگوں کے دلوں میں جنہیں علم بخشا گیا ہے ، اور ہماری آیات کا انکار نہیں کرتے مگر وہ جو ظالم ہیں “۔ یہ قرآن اہل علم کے لیے واضح دلائل پر مشتمل ہے جن میں کوئی التباس اور پیچیدگی نہیں ہے نہ کوئی شبہ اور شک ہے۔ یہ ایسے دلائل ہیں جو لوگوں کے سینوں میں موجود ہیں ، لوگوں کے دل ان دلائل پر مطمئن ہیں اس لیے اہل علم قرآن آیات پر کوئی مزید دلیل طلب نہیں کرتے۔ وہ علم جس پر لفظ علم کا اطلاق کیا جاسکتا ہے وہ ان لوگوں کے دلوں میں موجود ہے۔ وہ بصورت ملکہ منتقلاً وہاں بیٹھا ہے۔ وہ دلوں سے پھوٹتا ہے ، وہ دلوں کی راہنمائی کرتا ہے اور سیدھا منزل مقصود تک پہنچاتا ہے۔
وما یجحد بایتنا الا الظلمون (29: 49) ” اور ہماری آیات کا انکار نہیں کرتے مگر وہ لوگ جو ظالم ہیں “۔ جو حقیقت اور معاملات کا صحیح اندازہ نہیں کرتے اور جو صراط مستقیم کو چھوڑ کر ٹیڑھی راہوں پر چلتے ہیں۔
وقالوا لو لا ۔۔۔۔۔ انا نذیر مبین (50)
” یہ لوگ کہتے ہیں کہ ” کیوں نہ اتاری گئیں اس شخص پر نشانیاں اس کے رب کی طرف سے ؟ “ کہو ” نشانیاں تو اللہ کے پاس ہیں اور میں صرف خبردار کرنے والا ہوں کھول کھول کر “۔
ان معجزات اور نشانیوں سے ان کو مراد وہ معجزات اور نشانیاں ہیں جو آغاز انسانیت بھی انسانیت کے دور طفولیت میں ان کے سامنے پیغمبروں نے پیش کیں ، یعنی مادی معجزات۔ اور یہ معجزات صرف ان لوگوں کے لیے حجت ہوتے تھے جو ان کو دیکھتے تھے۔ جبکہ نبی ﷺ کی رسالت وہ آخری اور دائمی رسالت ہے جو ان تمام لوگوں کے لیے حجت ہے جن تک اس کی دعوت پہنچ جائے اور یہ رسالت اس وقت تک جاری رہے گی جب تک انسانیت موجود ہے اور یہ دنیا قائم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے اس رسالت کو ایک ایسی معجز کتاب دی ہے جو ہمیشہ پڑھی جاتی ہے اور جس کا اعجاز ختم نہیں ہوتا۔ اور جس کے کمالات و عجائبات ختم نہیں ہوتے۔ اللہ کے لیے قرآن کے خزانوں کا علیحدہ ذخیرہ ظاہر ہوتا رہتا ہے اور اس کے یہ معجزات اور دلائل ہر دور کے اہل علم کے سینوں میں موجود رہتے ہیں۔ جب بھی اہل علم اس پر غور کرتے ہیں وہ اس کتاب کے اعجاز اور معجزات کو پاتے ہیں اور وہ اچھی طرح محسوس کرلیتے ہیں کہ قرآن کریم کو یہ عظمت اور شوکت کس سرچشمے سے ملی ہے۔
قل انما الایت عنداللہ (29: 50) ” کہو ، نشانیاں تو اللہ کے پاس ہیں “۔ اور اللہ اپنی نشانیاں اس وقت ظاہر کرتا ہے جب ان کی حاجت اور ضرورت ہو۔ اور یہ سب کام ، اللہ کے نظام تدبیر اور تقدیر کے مطابق ہوتا ہے اس لیے میں اس سلسلے میں نہ کوئی تجویز دے سکتا ہوں اور نہ مطالبہ کرسکتا ہوں ۔ یہ میرے لائق نہیں ہے اور نہ ہی یہ میری عادت ہے۔
وانما انا نذیر مبین (29: 50) ” میں صرف خبردار کرنے والا ہوں ، کھول کھول کر “۔ میں ڈراتا ہوں اور خبردار کرتا ہوں اور لوگوں کے سامنے حقائق کھول کھول کر بیان کرتا ہوں اور یہی میرا فریضہ ہے جس میں ادا کرتا ہوں۔ اس کے بعد جو کچھ ہوگا وہ اللہ کی تقدیر و تدبیر کے مطابق ہوگا۔
اس طرح اللہ اسلامی نظریہ حیات کو ہر شک اور شبہ سے پاک کرتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے منصب اور مقام کی حدود کا تعین کردیا جاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی صفات اور الٰہ واحد وقہار کی صفات کے درمیان امتیاز کردیا جاتا ہے۔ اس طرح رسول اللہ ﷺ کی شخصیت کے ارد گرد سے شبہات کے وہ بادل چھٹ جاتے ہیں جو ان رسولوں کی شخصیات کے ساتھ وابستہ ہوگئے تھے جن کو مادی معجزات دئیے گئے کیونکہ سابقہ رسولوں کی صفات کو خدائی صفات کے ساتھ ملا دیا گیا تھا اور لوگوں نے ان رسولوں کی شخصیات کو اوہام و خرافات سے گھیر لیا تھا جس کی وجہ سے ان کے عقائد کے اندر بہت بڑا انحراف واقعہ ہوگیا۔
یہ لوگ جو مادی معجزات طلب کر رہے ہیں اس بات کو اچھی طرح سمجھ نہیں سکے اور نہ اس کی اہمیت کو سمجھ سکے ہیں کہ اللہ نے تو قرآن نازل کرکے ان پر بہت بڑا احسان کیا ہے۔
اولم یکفھم ۔۔۔۔۔ لقوم یؤمنون (51)
یہ ان کی جانب سے اللہ کی نعمتوں اور مہربانیوں کی ناشکری ہے ، حالانکہ اللہ کے انعامات شکر اور قدردانی سے ظاہر ہوتے ہیں۔ کیا ان کے لیے یہ کافی نہیں ہے کہ یہ لوگ اس قرآن کے ساتھ آسمانوں میں پہنچ جائیں اور دیکھیں کہ یہ آسمانوں سے نازل ہو رہا ہے اور آسمانوں سے آکر وہ ان کے دلوں کے تاروں کو چھیڑ رہا ہے۔ ان کے دلوں کی بات کرتا ہے۔ ان کے ماحول کی باتیں کرتا ہے۔ ان کو یہ شعور دلاتا ہے کہ اللہ کی ان پر ہر وقت نظر ہے۔ اللہ کے ہاں تمہاری بہت اہمیت ہے کہ وہ تمہارے امور سے بحث کرتا ہے۔ تمہیں قصص سناتا ہے جبکہ اے انسان تو تو اللہ کی اس وسیع کائنات میں ایک مچھر سے بھی زیادہ کمزور اور چھوٹا ہے۔ بلکہ اے انسان تو ، تمہاری یہ زمین اور تمہارا یہ شمس و قمر تو اللہ کی اس کائنات میں اس طرح ہیں جس طرح پرکاہ اس زمین کے مقابلے میں اور یہ پرکاہ بھی اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے ، لیکن اس کے باوجود اللہ نے تمہیں مکرم بنایا ہے اور وہ رم پر بلندیوں سے یہ قرآن نازل کرتا ہے لیکن تم پھر بھی اس کی قدر نہیں کرتے ہو ؟
ان فی ذلک ۔۔۔۔۔ یومنون (29: 51) ” بیشک اس میں رحمت ہے اور نصیحت ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں “۔ اس لیے کہ جو لوگ ایمان لاتے ہیں وہی لوگ اس رحمت و شفقت کا احساس کرسکتے ہیں۔ اور وہی لوگ اس بات کا شعور حاصل کرسکتے ہیں کہ قرآن کو نازل کرکے اللہ نے اپنے بندوں پر کس قدر رحمت و شفقت فرمائی۔ یہی لوگ اس بات کو سمجھ سکتے ہیں کہ اللہ جو بہت ہی بلند مرتبہ ہے ، جو بہت ہی عظمتوں والا ہے وہ اس ناچیز انسان کو اپنے اس دستر خوان پر بلاتا ہے۔ ایسے ہی لوگ اس قرآن سے نفع حاصل کرسکتے ہیں کیونکہ یہ تو مطالعہ کرنے والے کے لیے آب حیات ہے اور اس کے ذریعہ مومن اور متدبر پر بےپناہ خزانوں کے دروازے کھل جاتے ہیں ، اور ان کی روحوں کے اندر یہ قرآن ایک روشنی اور اشتراق پیدا کردیتا ہے۔
جن لوگوں کو ان امور کا شعور نہیں دیا گیا ، وہ حقیر مادی معجزات طلب کرتے ہیں اور حقیر معجزات کے ذریعے وہ اس عظیم اور ابدی معجزے کو ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ ان لوگوں کی شخصیت مسخ ہوچکی ہے اس لیے ان کے دل اس نور کے لئے نہیں کھلتے لہٰذا ایسے لوگوں پر اپنا وقت نہ ضائع کرو۔ ان کا معاملہ اللہ پر چھوڑ دو ۔ ان کا فیصلہ وہی کرے گا۔
قل کفی باللہ بینی ۔۔۔۔۔ ھم الخسرون (52)
وہ ذات جو جہانوں کے بارے میں سب کچھ جانتی ہے اس کی شہادت سے بڑی شہادت کس کی ہوسکتی ہے اور اللہ اپنے علم سے شہادت دے رہا ہے کہ یہ لوگ باطل پر ہیں۔ والذین امنوا ۔۔۔۔۔ ھم الخسرون (29: 52) ” جو لوگ باطل کو مانتے ہیں اور اللہ سے کفر کرتے ہیں وہی خسارے میں رہنے والے ہیں “۔ یہ مطلقاًخسارے میں ہیں ۔ ہر چیز سے وہ محروم ہوگئے ہیں ۔ دنیاو آخرت دونوں ہار چکے ہیں ۔ اپنی ذلمت ، شخصیت ، ہدایت ، استقا مت ، اطمینان ، سچائی اور نور سب چیزوں سے محروم ہوچکے ہیں ۔
اللہ کی ذات پر ایمان لا نا بھی ایک عمل اور کمائی ہے ۔ یہ بذات خود اچھی کمائی ہے ۔ اس پر اللہ اپنے فضل وکرم سے اجر دیتا ہے ۔ اجردیتا ہے ۔ اجر یہ کہ ایمان سے قلبی اطمینان اور زندگی کی راہوں کا تعین ہوجاتا ہے ۔ جو داقعات بھی اس زندگی میں پیش آئیں ، بندئہ مومن ان کو خندہ پیشانی سے قبول کرتا ہے ، وہ اللہ پر بھروسہ رکھتا ہے۔ اللہ کی حمایت کا طلبگار اور امیدوار ہوتا ہے اور
اسے اچھے انجام کا یقین ہوتا ہے یہ بذات خود ایک کسب ہے ، ایک کمائی ہے جس سے کافر محروم ہوتے ہیں ۔
اولئک ھم الخسرون (29: 52) ” وہی لوگ خسارے میں ہوتے ہیں “۔
اب مشرکین کی بحث ذرا آگے بڑھتی ہے کہ یہ لوگ عذاب کے آنے میں عجلت کرتے ہیں حالانکہ جہنم تو ان کے بہت ہی قریب ہے ۔
ویستعجلونک بالعذاب ۔۔۔۔۔ ویقول ذوقوا ما کنتم تعملون (53 – 55)
مشرکین نبی ﷺ کی جانب سے ڈراوے اور تخویف کی آیات سنتے تھے ، لیکن ان کی سمجھ میں یہ حکمت نہ آتی تھی کہ پھر ان کے کفر کی وجہ سے ان پر یہ عذاب نازل کیوں نہیں ہوتا۔ اس لیے وہ اس مہلت کی وجہ سے بےباک ہو کر نبی ﷺ سے بطور چیلنچ عذاب کا مطالبہ کرتے تھے۔ حالانکہ بسا اوقات یوں ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجرمین کو حد سے گزرنے کی مہلت دیتا ہے تاکہ وہ سرکشی اور فساد کی آخری حدوں کو چھو لیں۔ پھر عذاب آجاتا ہے یا یہ مہلت اس لیے طویل ہوجاتی ہے کہ اللہ اہل ایمان کا امتحان لیان چاہتا ہے تاکہ وہ بہت زیادہ ثابت قدم اور پختہ مومن بن جائیں اور ان کی صفوں سے وہ شخص نکل جائے جو صبر و ثبات نہیں رکھتا۔ یا یہ مہلت اس لیے ہوتی ہے۔ اللہ علیم وخبیر ہے اور اسے معلوم ہے کہ اہل کفر کی صفوں میں ابھی ایسے لوگ موجود ہیں جو حق کی راہیں تلاش کرکے ہدایت پر آجائیں گے یا ان لوگوں کی اولاد میں سے ایسے لوگ پیدا ہونے والے ہوتے ہیں جو راہ ہدایت پالینے والے ہوں گے۔ وہ اللہ کی پارٹی میں شامل ہوں گے اگرچہ ان کے والدین مشرک ہوں۔ ان کے علاوہ بھی اللہ کی مصلحتیں ہوسکتی ہیں جو وہ خود جانتا ہے اور جو ہم سے مستور ہیں۔
ان مشرکین کو ایسا فہم و ادراک حاصل نہ تھا کہ وہ اللہ کی ان حکمتوں اور تدبیروں کو سمجھ سکیں ۔ اس لیے وہ علی سبیل التحدی اور بطور چیلنچ عذاب کا مطالبہ کرتے تھے لیکن
ولولا اجل مسمی لجآءھم العذاب (29: 53) ” اگر ایک وقت مقرر نہ کردیا گیا ہوتا تو ان پر عذاب آچکا ہوتا “۔ چناچہ اللہ تعالیٰ اس حکمت کے بیان کے درمیان میں بھی ان کو متنبہ کرتے ہیں کہ جس عذاب کے بارے میں تمہیں جلدی ہے وہ اچانک ہی تم پر آجائے گا لیکن اس وقت تمہیں اس کا انتظار اور توقع نہ ہوگی اور جب یہ اچانک آجائے گا تو یہ لوگ مبہوث ہو کر رہ جائیں گے۔
ولیاتینھم ۔۔۔۔ لایشعرون (29: 53) ” اور یقیناً وہ آکر رہے گا اچانک اس حال میں کہ انہیں خبر بھی نہ ہوگی “۔
اور بعد میں بدر کے میدان میں ان پر یہ عذاب آیا۔ اللہ کا کہنا سچ ہوکر رہا۔ انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ اللہ کا وعدہ کس قدر سچا ہوتا ہے۔ اللہ نے ان پر ایسا جامع اور ہمہ گیر عذاب نازل نہ کیا جس طرح پہلی اقوام پر آیا اور اللہ نے مادی معجزات کے اظہار کا مطالبہ بھی قبول نہ کیا جس طرح پہلی اقوام کی معجزات دکھائے گئے۔ انہوں نے انکار کیا اور ان پر ہمہ گیر عذاب آیا۔ وہ نیست و نابود ہوئے کیونکہ ان میں ایسے لوگ موجود تھے جو علم الٰہی کے مطابق زمانہ مابعد میں ایمان لانے والے تھی۔ جو اسلامی لشکر کے بہترین لوگ بننے والے تھے اور ان کی نسلوں سے ایسے لوگ پیدا ہونے والے تھے جنہوں نے ازمنہ مابعد میں طویل عرصہ تک اسلام کے جھنڈے اٹھائے رکھے۔ یہ سب کچھ اللہ کی تدبیر و تقدیر کے مطابق ہونا تھا اور ہوا۔
یستعجلونک ۔۔۔۔۔ بالکفرین (29: 54) ” یہ تم سے عذاب جلدی لانے کا مطالبہ کرتے ہیں حالانکہ جہنم ان کافروں کو گھیرے میں لے چکی ہے “۔ یہ قرآن کا مخصوص اور عجیب موثر اسلوب کلام ہے کہ وہ مستقبل موعود کا عالم شہود کی شکل دے دیتا ہے۔ ایسی تصور کشی یہاں کردی گئی ہے کہ گویا جہنم کفار کو گھیرے میں لے چکی ہے جبکہ ابھی وہ مستقبل کے پردوں میں مستور ہے۔ لیکن ان کے کرتوتوں کے اعتبار سے وہ واقعہ ہے جو مشاہدہ میں آچکا ہے اور انسانی احساس کے پردوں پر نظر آتا ہے۔ ان لوگوں کو ایسا خطرناک چیلنچ دینے سے باز رہنا چاہئے۔ کیا وہ لوگ جلدی مچاتے ہیں جن کو جہنم گھیرے میں لے چکی ہے اور کسی بھی وقت گھیرا تنگ کرکے وہ ان کو گرفت میں لے سکتی ہے۔ اب وہاں ان کی صورت حالات کیا ہوگی جس کیلئے یہ بہت سی شتابی کر رہے ہیں۔
یوم یغشھم العذاب ۔۔۔۔۔ کنتم تعملون (29: 55) ” اس روز جبکہ عذاب انہیں اوپر سے بھی ڈھانپ لے گا اور پاؤں کے نیچے سے بھی۔ اور کہے گا کہ اب چکھو مزا ان کو توتوں کا جو تم کرتے تھے “۔ یہ نہایت ہی خوفناک منظر ہوگا۔ نہایت ہی خوفناک حالت میں ان کو یوں طنزیہ سرزنش کی جائے گی۔
ذوقوا ما کنتم تعملون (29: 55) ” اب چکھو مزا ان کرتوتوں کا جو تم کرتے تھے “۔ یہ ہے انجام اس جلد بازی اور عجلت کا جو تم کرتے تھے اور ڈرانے والوں کو تم اہمیت نہ دیتے تھے۔
یہاں سیاق کلام منکرین اور مکذبین اور حد سے گزرنے والوں کو ایک دردناک عذاب کے منظر میں چھوڑ دیتا ہے ، یہ عذاب انہیں اوپر نیچے سے گھیرے ہوئے ہے۔ اب روئے سخن اہل ایمان کی طرف پھرجاتا ہے جن پر یہ مکذبین محض عقائد و نظریات کی وجہ سے مظالم ڈھاتے ہیں اور ان کو ان کے رب کی عبادت سے روکتے ہیں ، ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی زمین وسیع ہے اپنے دین ، اپنے عقائد کو لے کر کہیں اور جابسو۔ یہ نصیحت نہایت ہی پر محبت اور تروتازہ اور نہایت ہی موثر اسلوب میں کی جاتی ہے۔ اس طرح کا یہ نغمہ دل کی تمام تاروں کو چھیڑ دیتا ہے اور ان میں ارتعاش پیدا کردیتا ہے۔