یعنی ، بیشک اللہ کی سنت اٹل ہوتی ہے اور اللہ کی مشیت جاری رہتی ہے۔ اگر اللہ ان لوگوں کے گناہوں کے سبب انہیں اسی طرح پکڑے جس طرح ان کے آباؤ اجداد پکڑے گئے تھے تو انہیں کون بچا سکتا ہے ؟ یا اگر اللہ ان کے دلوں پر مہر لگا دے اور ان سے ہدایت کی توفیق ہی سلب کرلے اور وہ ہدایت سے ہمیشہ ہی کے لئے محروم ہوجائیں اور دلائل ہدایت کی طرف سے ان کا رخ ہی پھرجائے اور ان کی دنیا و آخرت دونوں تباہ ہوجائیں تو کون ان کی مدد کو پہنچ سکے گا۔ سباقہ لوگوں کی ہلاکت اور ان کے بعد ان موجودہ لوگوں کی جانشینی اور اس بارے میں اللہ کی سنت کی کارفرمائیاں یہ سب امور ان کے لئے غور و فکر و ہدایت وتقویٰ کا وافر ساماں مہیا کرتے تھے اور ان سے یہ توقع تھی کہ وہ اللہ سے ڈرتے اور اس عارضی مصنوعی عافیت کو چھوڑ دیتے ہیں جس میں وہ اپنے آپ کو سمجھتے تھے۔ اس لاپرواہی کو ایک طرف چھوڑ دیتے تو وہ اصلاح پذیر ہوجاتے اور ان واقعات سے عبرت لیتے۔ کاش ! کہ وہ ایسا کرتے۔
اس آیت میں جو تنبیہ کی گئی ہے ، اس کا مقصد یہ نہیں ہے کہ لوگ ہر وقت نامعلوم عذاب اور مستقبل کی اچانک تباہی اور بربادی کے خوف سے کانپتے ہی رہیں اور وہ ہر وقت غیر یقینی صورت حالات سے دوچار رہیں کہ کسی بھی وقت ان پر کوئی عذاب نازل ہوسکتا ہے۔ کیونکہ ہر وقت کا جزع و فزع ، کسی بھی وقت آجانے والے عذاب کا ڈر ، اور ہر وقت یہ خطرہ کہ کسی بھی وقت کوئی آفت نازل ہوسکتی ہے ، ایسے امور ہیں جن کی وجہ سے انسانی قوتیں شل ہوجاتی ہیں اور انسان علم و عمل کی خوبی سے محروم ہوسکتا ہے۔ اور اس طرح مایوس ہوکر انسان اس کرۂ ارض کی تعمیر اور ترقی کے مسلسل عمل سے دستکش ہوسکتا ہے۔ اس تنبیہ کی غرض وغایت انسان کو شل کرنا نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ انسان بیدار ہو ، اس کے اندر ہر وقت خدا خوفی کا احساس ہو ، وہ ہر وقت اپنے نفس کے اوپر نگراں رہے ، اور دنیا میں گزرے ہوئے واقعات سے سبق لے وہ انسانی تاریخ کے محرکات کو معلوم کرلے۔ اور اس کا تعلق اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہر وقت قائم رہے اور عیش و عشرت کی زندگی اسے غافل اور مغرور نہ کردے۔
اللہ تعالیٰ کی جانب سے لوگوں کے ساتھ یہ وعدہ ہے کہ وہ انہیں آخرت میں امن ، اطمینان ، اپنی رضا مدنی ، دنیا و آخرت کی رضامندی عطا کرے گا لیکن یہ اس وقت ہوگا جب انہوں نے اللہ کے بارے میں اپنے احساس کو تیز رکھا۔ اور انہوں نے تقویٰ اور خدا خوفی کی وجہ سے اپنے آپ کو آلودگیوں میں ملوث نہ کیا۔ انہوں نے اپنی مادی قوت کے مقابلے میں اللہ پر اعتماد کیا۔ انہوں نے اپنے محدود و مادی وسائل کے مقابلے میں ان وسائل پر بھروسہ کیا جو اللہ کے ہاں موجود ہیں۔ اور جو اللہ کے سوا کسی پر بھروسہ نہ کرتے ، ان کے دل دولت ایمان سے بھرے ہوئے تھے۔ وہ اللہ کے ذکر پر مطمئن تھے ، وہ اپنی خواہشات اور شیطانی حرکات پر کنٹرول کیے ہوئے تھے۔ وہ اس کرہ ارض پر مصلح کے طور پر اللہ کی ہدایات کے مطابق زندگی بسر کر رہے تھے۔ وہ لوگوں سے نہ ڈرتے تھے اور صرف اللہ سے ڈرتے تھے اور اللہ ہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس سے ڈرا جائے۔
اس انداز میں ہم اللہ کے عذاب سے اس دائمی ڈراوے کو اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں ، ایسا عذاب جو اٹل ہوتا ہے اور وہ اللہ کی ان تدابیر کے مطابق ہوتا ہے جس کا ادراک انسان کو نہیں ہوتا۔ اس طرح ہم سمجھ سکتے ہیں کہ قرآن کی ان آیات کا مطلب محض خوف و ہراس پھیلانا نہیں ہے بلکہ لوگوں کے اندر بیداری پیدا کرنا ہے ، لوگوں کے اندر بےچینی پیدا کرنا نہیں بلکہ ان کے اندر احساس زیاں پیدا کرنا مطلوب ہے۔ زندگی کو معطل کرنا مطلوب نہیں ہے ، بلکہ اسے لاپرواہی اور سرکشی سے بچانا مطلوب ہے۔
اسلامی اور قرآنی منہاج تربیت کا یہ طریقہ کار ہے کہ وہ انسانی نفسیات کے بدلتے ہوئے طور طریقوں کی اصلاح بھی کرتا ہے ، اقوام اور سوسائٹیوں کے مسائل واطوار کو بھی درست کرتا ہے۔ اور ہر ایک کا علاج اس کے حالات کے مطابق کرتا ہے۔ کسی کو امن ، اطمینان اور اللہ پر بھروسے کی امید کی دولت دیتا ہے۔ اور کسی کے لئے خوف بیداری اور سٹینڈ ٹو کا نسخہ تجویز کرتا ہے کہ وہ اپنی بد اعمالیوں سے باز آجائے اور اللہ کے عذاب سے ڈرے جو کسی بھی وقت انہیں گھیر سکتا ہے۔ خصوصاً اس وقت جب وہ مادی زندگی پر بھروسہ کرکے غرے میں مبتلا ہوجائے۔ اللہ بہرحال اپنی مخلوق سے اچھی طرح باخبر ہے اللہ لطیف وخبیر ہے۔
یہاں سنت جاریہ کا بیان ختم ہوجاتا ہے۔ انسانی وجدان کو اس سنت کے شعور کا ٹچ دیا گیا اور نہایت ہی اچھے اشارات دئیے گئے۔ اب روئے سخن حضرت نبی ﷺ کی طرف پلٹ جاتا ہے اور آپ کو بتایا جاتا ہے کہ ان بستیوں کے باشندوں کا مجموعی طور پر کیا انجام ہوا اور اس انجام سے کفر کا کیا مزاج سامنے آتا ہے اور ایمان کا مزاج کس رنگ میں سامنے آتا ہے اور اقوام عالم کی تاریخ سے ان دو قسم کے انسانوں کی عمومی روش کیا معلوم ہوتی ہے ؟
آیت 100 اَوَلَمْ یَہْدِ لِلَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْاَرْضَ مِنْم بَعْدِ اَہْلِہَآ اَنْ لَّوْ نَشَآءُ اَصَبْنٰہُمْ بِذُنُوْبِہِمْ ج کیا بعد میں آنے والی قوم نے اپنی پیش رو قوم کی تباہی و بربادی سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا ؟ قوم عاد نے کیوں کوئی سبق نہیں سیکھا قوم نوح کے عذاب سے ؟ اور قوم ثمود نے کیوں عبرت نہیں پکڑی قوم عاد کی بربادی سے ؟ ‘ اور قوم شعیب نے کیوں نصیحت حاصل نہیں کی قوم لوط کے انجام سے ؟
گناہوں میں ڈوبے لوگ ؟ ارشاد ہے کہ ایک گروہ نے ہمارا مقابلہ کیا اور ہم نے انہیں تاخت و تاراج کیا۔ دوسرا گروہ ان کے قائم مقام ہوا تو کیا اس پر بھی یہ بات واضح نہیں ہوتی کہ اگر وہ بداعمالیاں کریں گے تو اپنے سے اگلوں کی طرح کھو دیئے جائیں گے جیسے فرمان ہے آیت (اَفَلَمْ يَهْدِ لَهُمْ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ يَمْشُوْنَ فِيْ مَسٰكِنِهِمْ ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي النُّهٰى01208) 20۔ طه :128) یعنی کیا انہیں اب تک سمجھ نہیں آئی کہ ہم نے ان سے پہلے بہت سی آباد بستیاں اجاڑ کر رکھ دیں جن کے مکانوں میں اب یہ رہتے سہتے ہیں۔ اگر یہ عقل مند ہوتے تو ان کے لئے بہت سی عبرتیں تھیں اور اس بیان کے بعد کی آیت میں ہے کہ اس میں بہت سی نشانیاں ہیں۔ کیا یہ سن نہیں رہے ؟ ایک آیت میں فرمایا تم اس سے پہلے پورے یقین سے کہتے تھے کہ تمہیں زوال آنے کا ہی نہیں حالانکہ تم جن کے گھروں میں تھے وہ خود بھی اپنے مظالم کے سبب تباہ کردیئے گئے تھے۔ خالی گھر رہ گئے۔ ایک اور آیت میں ہے آیت (وَكَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ هُمْ اَحْسَنُ اَثَاثًا وَّرِءْيًا 74) 19۔ مریم :74) ان سے پہلے ہم نے بہت سی بستیاں تباہ کردیں نہ ان میں سے اب کوئی نظر آئے نہ کسی کی آواز سنائی دے اور آیت میں ہے کہ وہ لوگ تو ان سے زیادہ مست تھے، مال دار تھے، عیش و عشرت میں تھے، راحت و آرام میں تھے، اوپر سے ابر برستا تھا نیچے سے چشمے بہتے تھے لیکن گناہوں میں ڈوبے رہے کہ آخر تہس نہس ہوگئے اور دوسرے لوگ ان کے قائم مقام آئے۔ عادیوں کی ہلاکت کا بیان فرما کر ارشاد ہوا کہ ایسے عذاب اچانک آگئے کہ ان کے وجود کی دھجیاں اڑ گئیں، کھنڈر کھڑے رہ گئے اور کسی چیز کا نام و نشان نہ بچا۔ مجرموں کا یہی حال ہوتا ہے۔ حالانکہ دنیوی وجاہت بھی ان کے پاس تھی آنکھ، کان، ھاتھ سب تھا لیکن اللہ جل شانہ کی باتوں کا تمسخر کرنے پر اور ان کے انکار پر جب عذاب آیا تو حیران و ششدر رہ گئے، نہ عقل آئی نہ اسباب بچے۔ اپنے آس پاس کی ویران بستیاں دیکھ کر عبرت حاصل کرو۔ اگلوں نے جھٹلایا تو دیکھ لو کہ کس طرح برباد ہوئے ؟ تم تو ابھی تک ان کے دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچے۔ تم سے پہلے کے منکروں پر میرے عذاب آئے انہیں غور سے سنو۔ ظالموں کی بستیاں میں نے الٹ دیں اور ان کے محلات کھنڈر بنا دیئے۔ زمین میں چل پھر کر، آنکھیں کھول کر، کان لگا کر ذرا عبرت حاصل کرو۔ جس کی آنکھیں نہ ہوں وہی اندھا نہیں بلکہ سچ مچ اندھا وہ ہے جس کی دلی آنکھیں بیکار ہوں۔ اگلے نبیوں کے ساتھ بھی مذاق اڑائے گئے لیکن نتیجہ یہی ہوا کہ ایسے مذاق کرنے والوں کا نشان مٹ گیا۔ ایسے گھیرے آگئے کہ ایک بھی نہ بچا۔ اللہ تعالیٰ کی باتیں سچی ہیں، اس کے وعدے اٹل ہیں وہ ضرور اپنے دوستوں کی مدد کرتا ہے اور اپنے دشمنوں کو نیچا دکھاتا ہے۔