جادوگر اجر کے بارے میں مطمئن ہوگئے اور فرعون کی ہمنشینی کی لالچ میں ان کی گردنیں بلند ہوگئیں اور مقابلے کے لئے تیار ہوگئے۔ اب یہ حضرت موسیٰ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور آپ کو چلینج دیتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں وہ اس مقام بلند تک جا پہنچتے ہیں جو اللہ نے ان کے لئے مقرر کیا تھا اور جس کے بارے میں انہیں تصور بھی نہ تھا اور وہ اس اجر کے مستحق قرار پائے جس کی انہیں توقع ہی نہ تھی۔
قَالُوْا يٰمُوْسٰٓي اِمَّآ اَنْ تُلْقِيَ وَاِمَّآ اَنْ نَّكُوْنَ نَحْنُ الْمُلْقِيْن۔ پھر انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا تم پھینکتے ہو یا ہم پھینکیں ؟ موسیٰ نے جواب دیا۔ تم ہی پھینکو۔
انہوں نے اختیار حضرت موسیٰ کو دے دیا کہ چاہو تو تم اپنا عصا کو پھینکو یا ہم پھینکیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ نہایت اعتماد سے چیلنج کر رہے تھے۔ ان کو اپنی کامیابی کا پورا یقین تھا اور اپنی فنکاری پر اعتماد تھا۔ اس کے مقابلے میں حضرت موسیٰ بھی نہایت ہی پر اعتماد تھے اور انہوں نے لاپرواہی سے جواب دیا۔ تم پھینکو۔ انہوں نے صرف ایک لفظ میں جواب دیا۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ ان کے کرتب کو کوئی اہمیت نہ دیتے تھے۔ حضرت موسیٰ کے نفس کے اندر پورا یقین و اطمینان تھا۔ یہ امور اور یہ معانی قرآن کریم کے طریقہ کلام کے مطابق الفاظ کے استعمال سے ظاہر ہوتے ہیں۔
جادوگروں سے مقابلہ جادوگروں کو اپنی قوت پر بڑا گھمنڈ تھا وہ سب فی الحقیقت اپنے اس فن کے لاجواب استاد تھے اس لئے انہوں نے آتے ہی حضرت موسیٰ کو چیلنج دیا کہ لو ہوشیار ہوجاؤ تمہیں اختیار ہے میدان میں اپنے کرتب پہلے دکاؤ اور اگر کہو تو پہل ہم کردیں۔ آپ نے فرمایا بہتر ہے کہ تمہارے حوصلے نکل جائیں اور لوگ تمہارا کمال فن دیکھ لیں اور پھر اللہ کی قدرت کو بھی دیکھ لیں اور حق و باطل میں دیک بھال کر فیصلہ کرسکیں وہ تو یہ چاہتے ہی تھے انہوں نے جھٹ سے اپنی رسیاں اور لکڑیاں نکال نکال کر میدان میں ڈالنی شروع کر دین ادھر وہ میدان میں پڑتے ہی چلتی پھرتی اور بنی بنائی سانپ معلوم ہونے لگیں۔ یہ صرف نظر بندی تھی۔ فی الواقع خارج میں ان کا وجود بدل نہیں گیا تھا بلکہ اس طرح لوگوں کو دکھائی دیتی تھیں کہ گویا زندہ ہیں۔ حضرت موسیٰ ؑ اپنے دل میں خطرہ محسوس کرنے لگے۔ اللہ کی طرف سے اسی وقت وحی آئی کہ خوف نہ کر تو ہی غالب رہے گا۔ اپنے دائیں ہاتھ کی لکڑی ڈال تو سہی ان کا کیا دھرا یہ تو سب ہڑپ کر جائے گی۔ یہ سب تو جادوگری کا کرشمہ ہے بھلا جادو والے بھی کبھی کامیاب ہوئے ہیں ؟ بڑی موٹی موٹی رسیاں اور لمبی لمبی لکڑیاں انہوں نے ڈالی تھیں جو سب چلتی پھرتی دوڑتی بھاگتی معلوم ہو رہی تھیں، یہ جادوگر پندرہ ہزار یا تیس ہزار سے اوپر اوپر تھے یا ستر ہزار کی تعداد میں تھے، ہر ایک اپنے ساتھ رسیاں اور لکڑیاں لایا تھا صف بستہ کھڑے تھے اور لوگ چاروں طرف موجود تھے ہر ایک ہمہ تن شوق بنا ہوا تھا فرعون اپنے لاؤ لشکر اور درباریوں سمیت بڑے رعب سے اپنے تخت پر بیٹھا ہوا تھا ادھر وقت ہوا ادھر سب کی نگاہوں نے دیکھا کہ ایک درویش صفت اللہ کا نبی اپنے ساتھ اپنے بھائی کو لئے ہوئے لکڑی ٹکاتے ہوئے آ رہے ہیں۔ یہ تھے جن کے مقابلے کی یہ دھوم دھام تھی۔ آپ کے آتے ہی جادوگروں نے صرف یہ دریافت کر کے کہ ابتدا کس کی طرف سے ہونی چاہئے خود ابتدا کردی۔ حضرت موسیٰ ؑ کی پھر فرعون کی پھر تماشائیوں کی آنکھوں پر جادو کر کے سب کو ہیبت زدہ کردیا۔ اب جو اپنی اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں تو ہزار ہا کی تعداد میں پہاڑوں کے برابر سانپ نظر آنے لگے جو اوپر تلے ایک دوسرے سے لپٹ رہے ہیں ادھر ادھر دوڑ رہے ہیں میدان بھر گیا ہے انہوں نے اپنے فن کا پورا مظاہرہ کر دکھایا۔